Friday, October 20, 2017

تعارف

تعارف
نام ۔انجم قدوائی
سکونت ۔علی گڑھ ۔یوپی ۔انڈیا
والد کا نام ضیغم علی خاں
وطن ۔یوپی کا ایک چھوٹا سا گاوں بہار پور ۔
تعلیم ۔بی ۔اے ۔آنرز
مختلف ڈپلومہ ۔
شوق ۔معیاری کتابیں پڑھنا اور افسانے لکھنا ۔باغبانی  کرنا ۔موسیقی سننا ۔
ایک افسانوں کا مجموعہ شائع ہوا ۔ریت کا ماضی ۔
مختلف رسائیل میں افسانے شائع ہوئے ۔
کا فی عر صے تک ق ۔انجم کے نام سے افسانے کی شروعات کی مگر قارین کے تجّسس سے مجبور ہو کر اپنے پورے نام انجم قدوائی سےافسانے  لکھنے لگی ۔گزشتہ تیس پینتیس سال سے ہِند و بیرون ِ ہند میرے افسانے مختلف رسائل میں شائع ہوتے رہے ہیں ۔اور آخر کار اس سال ان سب کو مجتمع کر کے "ریت کا ماضی "افسانوں کا مجموعہ شائع ہوا

فالتو لڑکی

فالتو لڑکی ۔
کچھ کہا نیاں اور کچھ  ڈرامے پاس سے نکلتے چلے جاتے ہیں ۔مگر کچھ ایسے  بھی ہوتے ہیں جو ہاتھ پکڑ کر پاس بٹھا  لیتے ہیں اور جب تک بات ختم نہ ہوجائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ہاتھ چھوڑتے نہیں ۔بس کچھ ایسی ہی کہانی ہے  اس ڈرامے  "فالتو  لڑ کی " کی ۔۔۔۔۔۔
میں اسوقت کئی ڈرامے  یو ٹیوب پر ایک ساتھ دیکھ رہی تھی  صبح کوئی اور شام کو کوئی اور مگر جب سے  فالتو لڑکی دیکھنا شروع کیا سارے  ڈرامے دیکھنا بند کر دیا ۔۔کہیں اور دل ہی نہیں لگتا تھا ۔
پہلی قسط سے لیکر آخری قسط تک اس
اس  طرح مجھے اس کہانی نے  تھام رکھّا تھا کہ تین روز میں 28 قسطیں دیکھ ڈالیں ۔دلچسپی پہلی قسط سے ہی شروع ہو تی ہے  ۔وہ ایک لڑکی جو ہندوستان سے لائی گئی  اسکے لیئے سبکے خیالات  جان کر دلی  رنج ہوا ۔ کیونکہ مجھے معلوم ہے  وہاں لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ ہم سب  ہندوؤں کے ملک میں ہیں تو ہمارے خیالات ہندوا نا ہی ہونگے ۔۔شاید لوگوں کو یہ اندازہ نہیں کہ یہاں صرف ہندو نہیں ۔سکھ ۔عیسائی ۔پارسی ۔بدھشٹ ۔اور بھی کئی  مذہب کے لوگ رہتے ہیں ۔۔ہاں ہندو بھی ۔۔
لیکن ہر ایک اپنے مذہب  کو دل سے ، شدتّ سے  محسوس کر کے  اس پر قائم ہیں ۔۔ے  
اس لڑکی کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ نارمل تھا ۔۔جہاں حالات بہتر ہوں  اور نہ ہونے کی امید ہو ۔وہاں اضافی خرچ کون کر تا ہے ؟ اگر یہاں بھی کسی کے گھر ایسی کوئی  بے آسرا لڑکی آجائے تو یہی سلوک ہوگا ۔
باقی کر دار بھی اپنی اپنی جگہ بہت موضوع ہیں ۔جسکو جو بھی رول ملا اسنے دیا نت داری سے نبھا یا ۔خواہ وہ  اس  مشترکہ گھر کی خواتین اور مرد ہوں یا معظم جاہ کی  فیملی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
تابش کی فیمیلی بھی بے حد روائیتی اور  بے جا  مذہبی   دکھائی گئی اور سب سے اچھّی بات یہ لگی کہ ہر خاندان میں  الگ روائیتیں رہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ جن کو وہاں کے کرداروں نے بخوبی نبھایا ۔ ذاتی طور پر مجھے روپا کا کردار نبھا نے والی لڑکی ۔۔(جسے کئی ڈراموں میں ہیروین کے  رول میں دیکھ چکی ہوں )کا  م بے حد پسند آیا ۔یہ آسان رول نہیں تھا بہت چیلنجنگ  رول تھا ۔اسکے علاوہ زارقہ  کا کام بھی بہت اچھّا لگا ۔ایک  فرما بردار روائیتی بیوی ، بچوں کی اچھّی تر بیت کرنے والی ماں ، اور دکھے دل والی عورت   ،بہت عمدہ  نبھایا ہے ۔
اس فالتو لڑکی کی  کم ہمتی کے باوجود اتنا بڑا قدم اٹھا لینا ۔۔زبر دست انقلاب  لاتا ہے جسکی امید شروع سے ہر گز نہیں تھی ۔اور سب سے اچھّی  بات یہ تھی کہ پورے ڈرامے میں تجسس  بر قرار رہا ۔بالکل نہیں معلوم تھا کہ اگلی قسط کیا لیکر آئے گی ۔۔یہ بات ڈرامے کی   کامیا  بی کی ضما نت ہے ۔کہانی میں جہاں تجسس بر قرار رہتا ہے وہاں قاری  سانسیں روکے بیٹھا رہتا ہے اور جن ڈراموں میں کہانی دو یا تین   قسط کے بعد کھلنے لگتی ہے وہیں دلچسپی  ختم ہوجاتی ہے ۔
بہت عمدہ  تحریر ۔عمدہ ڈائیرکشن ۔اور لاجواب  اسکرین پلے  ہے ۔۔میں سمجھتی ہوں کہ کافی عرصے کے بعد اتنا  عمدہ ڈرامہ دیکھا ہے ۔حسینہ معین کے  ڈرامے دیکھنے کے بعد کوئی بھی  پلے ابتک مجھے  باندھ نہیں سکا ۔مصنف  اور ڈائیریکٹر ،اسکرین پلے لکھنے والوں کے لیئے بہت مبارکباد ،
سارے آرٹسٹ  مبارکباد کے  قابل ہیں  بلکہ قابل ِ ستائش ہیں ۔
اگر اس ٹیم کا کوئی اور بھی ڈرامہ ہوتو مہر بانی فر ما کر مجھے ضرور  بتا ئیں ۔۔۔

Wednesday, October 18, 2017

'میر وسیم کی باتیں ''
تحریر: میر وسیم 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر لمحے کا اپنا خُدا هوتا هے ، 
جب آپ کو اُونچی عمارتوں اور مضبُوط قلعوں میں بهی پناہ نہ مِل سکے تو ، اُونچی عِمارتوں کے پِیچهے جهونپڑیوں کے دروازے کُهلے مِلیں گے ،
هم لوگ کبهی کبهی زندگی کو شرمندہ کرنے کے لئے ضُرورت سے زیادہ بهی خُوش هوتے ہیں ، آپ اُس شخص کو کیا کہیں گئے جِس کا وجُود تو مندر میں گهنٹیاں بجاتا هے مگر رُوح مسجد میں سجدہ کرتی هے ،
پنچهی کے بغیر پنجرے کی کوئی قیمیت نہیں هوتی ،
هم لوگ دُنیا کے قید خانے میں آزادی کا جشن منا رہیں ہیں ،
ہر لہر ساحلِ سمندر پر آ کر سمندر کی مُخبری کرتی هے ،
آئینہ انسان سے کہتا هے کہ تُم بُزدل هو ، انسان اعتراف کرتا هے ، دونوں اِس راز کو چُهپا لیتے ہیں ، میں نے جب تنہائی کو رونق کی رشوت دی تو تنہائی نے نا قابلِ یقیں بیاں دے ڈالے ، صحرا کے خواب میں پهُول ہی پهُول ، برسات ہی برسات ، خیال کا قحط کوئی بڑی بات نہیں ، احساس کا قحط باعثِ ندامت هے
آج کے انسان کے پاس خُود دُعا کرنے کا بهی وقت نہیں رہا ، وہ ضُرورت کی اور بہت سی چیزوں کے ساتھ دُعا کو بهی خرید لینا چاهتا هے ، خیر خریدنا تو انسان خُدا کو بهی چاهتا هے مگر وہ بِکتا نہیں ، جس کو پایا ہی نہیں ، اُسے کهونے کا ڈر کیسا ؟ دل دهرکتا هے ، ڈرتا هے ، مگر کرتا وہی هے جو چاهتا هے ، میری رُوح نے مُجهے بتایا کہ تُو میرا دُوسرا جِسم هے ،
میں نے کہا ،
ہمارے مُعاشرے میں انگریزی یا تو کتوں کے ساتھ بولی جاتی هے ، یا بزرگوں کے ساتھ ، بڑا حیران هوئے کہنے لگے نہ جانے هم بزرگوں کے ساتھ اُونچی آواز میں بات کیوں کرتے ہیں ، ایک ہی بات کو بار بار کیوں دہراتے ہیں ، جیسے وہ نہ سمجھ یا بہرے هوں ، جبکہ بُڑهاپے میں تنہائی کی بدولت سر گوشیاں بهی صاف سُنائی دیتی ہیں .
میر وسیم کا افسانہ ( منٹُو یار افسانہ پڑھ ) سے اقتباس

Wednesday, October 11, 2017

ماہ ،تمام ۔۔میر وسیم

 

''
ماہ تمام ''
معززاراکین فورم
سوشل میڈیا کے سب سے بڑے اور معتبر ترین ایونٹ عالمی افسانہ میلہ ( 2017 ) کو کامیاب بنانے میں صدرِ محفِل ، معزز مہمانان ، تخلیق کار خواتین و حضرات اور قارئین نے جس طرح اپنا حصہ ڈالا اس کے لیے ہم آپ سب کے تہہ دل سے شکرگزار ہیں ۔ آپ کی بھرپور شرکت کے بغیر اس قدر شاندار ایونٹ کروانا ممکن نہ هوتا ، اُردُو ادب میں افسانہ نگاری کی روایت بہت پُرانی هے ، ابتدا سے اب تک اِس فن نے طویل مُسافت طے کی هے ، ارتقائی منازل طے کرتے هوئے مغربی ادب سے استفادہ بهی کِیا اور ایک تسلسل سے ترقی کی هے ، ایک مخصوص تہذیبی پس منظر کی وجہ سے اختلاف عین فطری عمل هے ، لیکن ایک بات پر ادیب اور نقاد مُتفق ہیں کہ وہ شاعری هو یا فنِ افسانہ نگاری ادب مُعاشرے میں بے اعتدالیوں اورنا ہمواریوں سے جنم لیتا هے ، اورلکهنے والا اِس فنی شعُور کی پختگی اور بیان کی خُوش اسلوبی کو فن کا رُوپ دے کر دوام بخشتا هے ، اِس تخلیقی عمل کا مقصد اصلاح اور آسُودگی هوتا هے ، افسانہ نگاری کے ارتقاء میں جہاں ادیبوں کے فنی شعُور اور کاوشوں کا دخل هے وہاں بذات خُود اِس صنف میں ترقی کرنے کی صلاحیت موجُود هے ۔
عالمی افسانہ فورم نے دُنیا بهر کے افسانہ نگاروں کو صبر اور برداشت کا درس دینا چاها هے ، تا کہ سِیکهنے اور سِیکهانے کی فضا قائم رهے ، لمحہِ فِکریہ یہ هے کہ ، پهر اُسی بندُوق کی نالی هے میری سِمت کہ جو اِس سے پہلے بهی میری شہہ رگ کا لہو چاٹ چُکی ، کتنے افسانے ہماری نظر سے گُذرے ہیں ، لکهنے والا عُجلت کا شِکار نظر آیا ، پهر قاری سے نقاد سے ، تبصرہ نگار سے کیا شِکوہ کرنا ، اگر آپ اپنی تحریر کو خُود تنقیدی نگاہ سے دیکهتے ، تو اِن لوگوں کو بُرا بننے کی کیا ضرُورت تهی ، میں نے پہلے بهی کہیں کہا تها کہ ( ادب سو مِیٹر کی دوڑ نہیں هے ) آپ نے کبهی کسی بچے کو کہانی سُنائی هے ؟ وہ کہانی کے دوران بہت سے سوال پُوچهتا هے ، قاری بهی بچے کی طرح هوتا هے ، افسانہ پڑهتے هُوئے کئی سوال قاری کے دماغ میں آتے ہیں ، جِس کا جواب بہرحال داستان گو کو دینا هوتا هے ، لہذا لکهنے والے کو چاهیئے کہ نہ صِرف یہ کہ وہ اپنی کہانی بیان کرئے بلکہ ساتھ ساتھ قاری کے دماغ میں اُٹهنے والے سوالوں کا جواب بهی اپنی تحریر میں ( یعنی افسانے میں ) دیتا رهے ، یاد رکهیئے کہ قاری لکهنے والے سے دو قدم آگے هوتا هے ۔
عالمی افسانہ فورم اور اُس کے ایڈمنز اور معتبر تبصرہ نگار آپ کو آئینہ دکها سکتے ہیں ، آپ کی تحریر میں کیا کمی هے وہ بتا سکتے ہیں ، تا کہ آپ اپنی تحریر کو بہتر بنا سکیں ، مگرآپ کا ردِ عمل ہمیں یہ سوچنے پر مجبُور کرتا هے ، کہ هم نے اُن لوگوں کو آئینہ کیوں دِکهایا ؟ جِن کا چہرہ ہی نہیں هے ، زمانہ بدل گیا هے ، ایک وقت تها کہ اُستادوں کے جُوتے سیدهے کرنے پر فخر کِیا جاتا تها ، اُن کے گهر کا پانی بهرا جاتا تها ، پهر کہیں جا کر گیان مِلتا تها ، اُستاد کے پاس خزانہ هو نہ هو ، خزانے تک پہنچنے کا نقشہ ضرُور هوتا هے ، آج چاهے اُستاد نامی گرامی پہلوان کو خُود نہ گِرا سکتا هو ، مگر آپ کو گِرانے کا گُر بتا سکتا هے ، ہارنے والے کے پاس جِیت کے راز هوتے ہیں ، وہ شمع جو رات بهر جلتی رہی ، صُبح کا سُورج اُس سے آنکھ نہیں مِلا سکتا ، هم لوگ اپنی روایت کے قاتل ہیں ، ہمیں سزا ملنی چاهیئے ، کیونکہ شاگرد اپنی کمزور تحریر پر اُستاد سے بد کلامی کر رها هے ،
؎ ایک تو خواب لیئے پِهرتے هو گلیوں گلیوں 
اُس پر تکرار بهی کرتے هو خرِیدار کے ساتھ 
همارا مُعاشرہ تو بیمار هے اور یہ کیسے مُمکن هے کہ ایک بِیمار ٹہنی پر صحت مند گُلاب کِهلے ، لکهنے والے کی یہ عُجلت نہیں تو اور کیا هے ؟ اُردُو زبان میں ایک لفظ کے چار چار مُتبادل هونے کے باوجُود جلد بازی میں انگریزی کے لفظ استمال کر جاتے ہیں ، ایک لمحے کو بهی اُردُو زبان کے خزانے پر نظر نہیں ڈالتے ، گلزار نےکہا کہ 
؎ فقیری میں نوابی کا مزہ دیتی هے اُردُو 
کسی لکهنے والے نے دستک کو نوک لکها ، کہاں دستک ؟ دستک جب آپ لکهتے ہیں تو ایسا معلُوم هوتا هے کہ جیسے کوئی دروازے پر کهڑا هے اور دستک دے رها هے ، نوک پر تو دروازہ بهی کهولنے کو دل نہیں کرتا ، اِسی طرح جب آپ بانسُری لکهتے ہیں تو وہ بجنے بهی لگتی هے ، پائل ، چُوڑیاں ، اپنی مثال آپ ہیں ، قوسِ قزح لکهنے پر جو رنگ سامنے آتے ہیں وہ رین بو میں نمایاں نہیں هوتے ، جہاں مُصنف کی یہ عُجلت باعثِ ندامت هے وہاں لمحہِ فِکریہ بهی ، لکهنے والا موضوع کی بنجر زمیں پر اپنی سوچ کا ہل چلاتا هے ، کتنے افسوس کی بات هے کہ جب زمین هموار هو جاتی هے تو اُس کے پاس بونے کو لفظوں کے خُوبصُورت بِیج نہیں هوتے ، مانگے هوے زیور پہننے سے مُجهے نفرت هے ، میں اپنی خاک اپنی پوشاک پر فخر کرتا هُوں ، 
دُنیا کا کوئی بهی کاریگر اپنے اوزار کے بغیر کام نہیں کر سکتا ، کوئی بهی مصور رنگوں کے بغیر تصویر نہیں بنا سکتا ، تو پهر لکهنے والا بهی نہیں لکھ سکتا جب تک اُس کے پاس لفظوں کا ذخیرہ نہ هو ، یاد رهے کہ عالمی افسانہ فورم ایک درسگاہ هے ، جہاں هم ایک دُوسرے سے سِیکهتے ہیں ، هم لکهنے والوں کا قبیلہ ایک هے ، شوق ایک هے ، میدان ایک هے ، جنگ ایک هے ، تو پهر هم ایک دُوسرے سے سیکهتے کیوں نہیں ، آپ کا اِسلوب اچها هے ، تو مُجهے آپ سے سِیکهنا چاهیے ، اُسکا بیانیہ اچها هے ، تو آپ اُس کے بیانیہ سے سیکهنے میں شرم محُسوس نہ کریں ۔
خاندان کے لوگوں میں لین دین توچلتا ہی هے مُجهے اچهی طرح یاد هے کہ بچپن میں سکول جاتے هوے هم چاروں بهائی تیار هوتے ایک دُوسرے کی بڑی مدد کرتے تهے ، میں اپنی قمیض کے بٹن اُوپر نیچے لگاتا تها ، دُوسرے بهائی بٹن تو ٹهیک لگاتے مگر اُن کو ٹائی باندهنے میں مسئلہ تها ، اور جو بهائی ٹائی باندهنے میں ماهر تهے وہ بُوٹ کے تسمے باندهنے میں مہارت نہ رکهتے تهے ، هم ایک دُوسرے کی بڑی مدد کرتے تهے هم سب نے ایک دُوسرے سے سِیکها ، تو یہاں کیوں نہیں ، میں ادب اور سنجیدگی کے باہمی اور گہرے رشتے کا پوری سنجیدگی سے قائل ہوں، اسی لیے سمجھتا ہوں کہ اعلیٰ ادب میں جس چیز کو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ ہم محسوس کرتے ہیں، وہ اعلیٰ سطح کی سنجیدگی ہے۔ ادب میں سنجیدگی سے مُراد ہے ایک ذمہ دارانہ اور باشعور رویّے کا اظہار۔ یہ اظہار موضوع کے انتخاب میں بھی ہوتا ہے، اُس کے ٹریٹمنٹ کے مرحلے میں بھی ہوتا ہے، اسلوبِ بیان کے ذریعے بھی ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں اس رویّے کا اظہار لفظیات میں اور متن کے سانچے میں بھی ہوتا ہے اور اس کے ساتھ معنی کی سطح پر بھی ہوتا ہے۔ یہی نہیں، بلکہ اس سے آگے معنی کے معنی میں بھی اس کا اظہار ہوتا ہے ۔
همیں ایک دُوسرے سے بس یہ ہی سیکهنا هے ، اس میلہ میں جس طرح آپ سب نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ، تجزیوں اور تبصروں میں شریک ہوئے ۔ اپنے افسانے پیش کیے ۔ اور اس میلہ کو کامیاب بنایا اس کے لیے عالمی افسانہ فورم کی انتظامیہ آپ سب کی بے حد شکرگزار هے ، میں نے کہا تها کہ ، سِلسلہ ٹُوٹا نہیں هے درد کی زنجیر کا ، عالمی افسانہ فورم اپنے سارے رنگ آپ پر نِچهاور کر کے اب چلا هے نئے اُفق کی تلاش میں ، کہ هم اپنا امریکہ خُود دریافت کرتے ہیں ، میر وسیم

میر وسیم کا حرف ِ درمیان



https://scontent.fagr1-1.fna.fbcdn.net/v/t1.0-1/p80x80/21557505_10155036439914786_4880862740253308246_n.jpg?oh=63c1edbd7bb23b0ec301f2a94402c970&oe=5A3C9BBC
Saima Shah
حرفِ درمیان ............. تحریر ، میر وسیم
عجب نہیں کہ میرے لفظ مُجهے معاف کر دیں ..........
خلیل جبران نے کہا کہ ، خاموش رهو یا ایسی بات کرو جو خاموشی سے بہتر هو ، سب سے پہلے تو ہم اپنے معزز مہمانوں ، میلہ میں شامل افسانہ نگاروں اور عام قارئین کے نہایت شکرگزار ہیں کہ وہ اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں سے وقت نکال کر اس میلہ کو رونق بخش رہیں ہیں ، جہاں زمانے نے اپنی ترجِحات بدلی ہیں ، وہاں زمانہ غریب سے غریب تر هو گیا هے ، زمانہ جہاں اپنوں سے بات کرانا ، آسان سے آسان تر بناتا جا رها هے ، وہاں اپنوں سے بات کرنا مُشکل سے مُشکل تر هو گیا هے ، اب یہ کہنے میں کیا شرم کہ رِشتوں کی محفِل میں هم تنہا هو گئے ہیں ، بلکہ اپنی ذات میں بهی تنہا هو گئے ہیں ، مگر خُود سے رابطہ بحال کرنا ضرُوری هوتا هے ، لہذا لکهنے والا خُود کو خط لِکهتا هے ، وہ خط افسانہ کہلاتا هے ، لکهتے رہیئے ، کیونکہ لکهتے رہنا دهڑکتے دل کی علامت هے ، میں جانتا هُوں کہ ایسے حالات میں لکهنا بہت مُشکل هے ، کاغذِ غم پر بوجهل قلم بوجهل دل سے خُوشی کا گِیت لکهنا مُشکل هے ، جہاں حالاتِ زندگی ، ضرُوریاتِ زندگی ، مُصرُوفِیاتِ زندگی لکهنے نہیں دیتے ، وہاں ، خیالاتِ زندگی ، تصوراتِ زندگی ، توقعات ِ زندگی ، خیراتِ زندگی ، آپ کو لکهنے پر مجبُور کرتے ہیں ، وہ تحریر جو آپ کو سوچنے پر مجبُور نہ کرے ، وہ نا پخت هے ، جو تحریر آپ کی سوچ کے دروازے وا نہ کرے کمزور هے ، اپنے دل کی آواز نہ سُننا ، ایک بہت بڑا جُرم هے ، دل وہ بچہ جسے هم نے سچ بولنے پر ، اپنی ذات کے قید خانے میں ڈال دیا ، دل وہ بچہ جو گهر کی قیمیتی چِیز ٹُوٹنے پر گهر میں لگے بهاری پردوں کے پِیچهے جا چُهپا ، دل وہ بچہ جو ارمانوں کے قتل هونے کا چشم دِید گواہ هے ، سو ساری کی ساری دُنیا اُس چشم دِید گواہ کو مِٹانے میں لگی هے ، لہذا لکهنے والا اپنا دریا ، اپنی کشتی ، اپنا کِنارا خُود بناتا هے ، اُس کی تحریر ، اُس کی تصوارتی دُنیا هے اُس کی جائےِ پناہ هے ، وہ دُنیا میں لگے پردوں کے پِیچهے خُود کو چُهپا لیتا هے ، صاحبو ، زندگی انسان کا بہت مذاق اُڑاتی هے ، جب هم زندگی کے سانچے میں ڈهلنے لگتے هیں ، تو یہ اپنا آپ بدل لیتی هے ، اور اُس رُخ پر پڑی نظر آتی هے کہ جس رُخ پرهم اِس سے بہت مُختلف نظر آتے هیں ، جب هم زندگی کو ہتهیلی پر رکهے، موت کی خُواہش میں در بدر بهٹکتے هیں اور زندگی کی خیرات لوٹا دینا چاهتے هیں ، تو زندگی اُس وقت بڑی شان بے نیازی سے آگے بڑھ جاتی هے ....... اور جب هم تهک هار کرآخر جینے کا فیصلہ کر لیتے هیں زندگی پر حق جِتانے لگتے هیں ، زندگی کی ضرورت محسُوس کرنے لگتے هیں ، زندگی کو اپنا سمجهنے لگتے هیں .....زندگی کی خیرات سے کچھ استمعال کرنے لگتے هیں ، تو اُس وقت زندگی اپنا رنگ دِکهاتی هے اور شانِ بے نیازی کو جُهٹلاتے هوے کم ظرف بن جاتی هے .... اور زندگی کی خیرات ایک ایسے وقت پر چهین لیتی هے جب اُس کی اشد ضرُورت هوتی هے ، یہ مذاق نہیں تو اور کیا هے ؟؟؟
فورم کی انتظامیہ افسانے کے اُجڑے شہر کو بسانے میں کوشاں هے ، عالمی افسانہ فورم لکهنے والوں کے راستے میں پهُول بِچهائے نہ بِچهائے مگر اُن کی راہ کے کانٹے ضرور کم کرتا هے ، هم لوگ یہاں بِلا مُعاوضہ اپنی خِدمات پیش کر رهے ہیں ، خُدا کے عظیم نظام کی طرح ، هوا انسان کی زندگی کے لیے پہلی شرط هے ، مُفت هے ، پانی مُفت هے ، سُورج کی روشنی مُفت هے ، چاند کی چاندنی مُفت هے ، رات میں ستاروں کا مُسکرانا مُفت هے ، زندگی کے سارے کهیل ختم هو جانے کے لیئے ہیں ، آپ نے کبهی رگبئی کهیل دیکها هے ، کیسے سارے کے سارے کهلاڑی ایک ہی گیند کے پِیچهے ، مارے مارے ، بهاگے بهاگے پِهرتے ہیں ، جائز نا جائز کر کے اپنا اپنا گول کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، مگر کهیل کے اختتام پر وہی گیند گراونڈ پر تنہا پڑا رہ جاتا هے ، زندگی کا سفر بهی ایسا ہی هے ، آپ یہ سوچئے کہ آپ نے وقتی جِیت کے لیئے کسی کو زخمی تو نہیں کِیا ، انسان کا حساس هونا اُس کی عظمت کی پہچان هے ، سب کچھ ختم هو جائے گا دوستو ، رہ جائے گا لکها هوا لفظ ، مُجهے ایسا کیوں لگتا هے کہ ہمیں کتاب کی طرف لوٹ کر آنا هے ، افتخار عارف نے فرمایا کہ ، ( عجب گهڑی تهی کتاب کِیچڑ میں گِر پڑی تهی ) چمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں الُجھے آنسو بلا رھے تھے ، مگر مجھے ھوش ھی کہاں تھا ، نظر میں ایک اور ھی جہاں تھا ، نئے نئے منظروں کی خواھش میں اپنے منظر سے کٹ گیا ھوں ...... نئے نئے دائروں کی گردش میں اپنے محور سے ھٹ گیا ھوں ...... صلہ ، جزا ، خوف ، نا امیدی ، امید ، امکان ، بے یقینی ، ھزار خانوں میں بٹ گیا ھوں ،
اب اس سے پہلے کہ رات اپنی کُمند ڈالے ، یہ چاھتا ھوں کہ لوٹ جاوُں ،
عجب نہیں کہ وہ کتاب اب بھی وہیں پڑی ھو .... عجب نہیں کہ آج بھی میری راہ دیکھتی ھو .... عجب نہیں کہ میرے لفظ مُجهے معاف کر دیں ..........
کتاب آج بهی آپ کی راہ دیکھ رهی هے ، کتاب کی طرف لوٹ جاو دوستو ، وہ اب بهی وہیں پڑی هے ، تمہاری راہ دیکهتی هے ، عالمی افسانہ فورم اور اُس کے ایڈمنز کا بس یہ ہی پیغام هے ، ، ہم اپنے معزز مہمانوں ، میلہ میں شامل افسانہ نگاروں اور عام قارئین کے نہایت شکرگزار ہیں کہ وہ اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں سے وقت نکال کر اس میلہ کو رونق بخش رہے ہیں ، انتظامیہ عالمی افسانہ فورم


میر وسیم کی باتیں



https://scontent.fagr1-1.fna.fbcdn.net/v/t1.0-1/p80x80/21557505_10155036439914786_4880862740253308246_n.jpg?oh=63c1edbd7bb23b0ec301f2a94402c970&oe=5A3C9BBC
Saima Shah
حرفِ درمیان ............. تحریر ، میر وسیم
عجب نہیں کہ میرے لفظ مُجهے معاف کر دیں ..........
خلیل جبران نے کہا کہ ، خاموش رهو یا ایسی بات کرو جو خاموشی سے بہتر هو ، سب سے پہلے تو ہم اپنے معزز مہمانوں ، میلہ میں شامل افسانہ نگاروں اور عام قارئین کے نہایت شکرگزار ہیں کہ وہ اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں سے وقت نکال کر اس میلہ کو رونق بخش رہیں ہیں ، جہاں زمانے نے اپنی ترجِحات بدلی ہیں ، وہاں زمانہ غریب سے غریب تر هو گیا هے ، زمانہ جہاں اپنوں سے بات کرانا ، آسان سے آسان تر بناتا جا رها هے ، وہاں اپنوں سے بات کرنا مُشکل سے مُشکل تر هو گیا هے ، اب یہ کہنے میں کیا شرم کہ رِشتوں کی محفِل میں هم تنہا هو گئے ہیں ، بلکہ اپنی ذات میں بهی تنہا هو گئے ہیں ، مگر خُود سے رابطہ بحال کرنا ضرُوری هوتا هے ، لہذا لکهنے والا خُود کو خط لِکهتا هے ، وہ خط افسانہ کہلاتا هے ، لکهتے رہیئے ، کیونکہ لکهتے رہنا دهڑکتے دل کی علامت هے ، میں جانتا هُوں کہ ایسے حالات میں لکهنا بہت مُشکل هے ، کاغذِ غم پر بوجهل قلم بوجهل دل سے خُوشی کا گِیت لکهنا مُشکل هے ، جہاں حالاتِ زندگی ، ضرُوریاتِ زندگی ، مُصرُوفِیاتِ زندگی لکهنے نہیں دیتے ، وہاں ، خیالاتِ زندگی ، تصوراتِ زندگی ، توقعات ِ زندگی ، خیراتِ زندگی ، آپ کو لکهنے پر مجبُور کرتے ہیں ، وہ تحریر جو آپ کو سوچنے پر مجبُور نہ کرے ، وہ نا پخت هے ، جو تحریر آپ کی سوچ کے دروازے وا نہ کرے کمزور هے ، اپنے دل کی آواز نہ سُننا ، ایک بہت بڑا جُرم هے ، دل وہ بچہ جسے هم نے سچ بولنے پر ، اپنی ذات کے قید خانے میں ڈال دیا ، دل وہ بچہ جو گهر کی قیمیتی چِیز ٹُوٹنے پر گهر میں لگے بهاری پردوں کے پِیچهے جا چُهپا ، دل وہ بچہ جو ارمانوں کے قتل هونے کا چشم دِید گواہ هے ، سو ساری کی ساری دُنیا اُس چشم دِید گواہ کو مِٹانے میں لگی هے ، لہذا لکهنے والا اپنا دریا ، اپنی کشتی ، اپنا کِنارا خُود بناتا هے ، اُس کی تحریر ، اُس کی تصوارتی دُنیا هے اُس کی جائےِ پناہ هے ، وہ دُنیا میں لگے پردوں کے پِیچهے خُود کو چُهپا لیتا هے ، صاحبو ، زندگی انسان کا بہت مذاق اُڑاتی هے ، جب هم زندگی کے سانچے میں ڈهلنے لگتے هیں ، تو یہ اپنا آپ بدل لیتی هے ، اور اُس رُخ پر پڑی نظر آتی هے کہ جس رُخ پرهم اِس سے بہت مُختلف نظر آتے هیں ، جب هم زندگی کو ہتهیلی پر رکهے، موت کی خُواہش میں در بدر بهٹکتے هیں اور زندگی کی خیرات لوٹا دینا چاهتے هیں ، تو زندگی اُس وقت بڑی شان بے نیازی سے آگے بڑھ جاتی هے ....... اور جب هم تهک هار کرآخر جینے کا فیصلہ کر لیتے هیں زندگی پر حق جِتانے لگتے هیں ، زندگی کی ضرورت محسُوس کرنے لگتے هیں ، زندگی کو اپنا سمجهنے لگتے هیں .....زندگی کی خیرات سے کچھ استمعال کرنے لگتے هیں ، تو اُس وقت زندگی اپنا رنگ دِکهاتی هے اور شانِ بے نیازی کو جُهٹلاتے هوے کم ظرف بن جاتی هے .... اور زندگی کی خیرات ایک ایسے وقت پر چهین لیتی هے جب اُس کی اشد ضرُورت هوتی هے ، یہ مذاق نہیں تو اور کیا هے ؟؟؟
فورم کی انتظامیہ افسانے کے اُجڑے شہر کو بسانے میں کوشاں هے ، عالمی افسانہ فورم لکهنے والوں کے راستے میں پهُول بِچهائے نہ بِچهائے مگر اُن کی راہ کے کانٹے ضرور کم کرتا هے ، هم لوگ یہاں بِلا مُعاوضہ اپنی خِدمات پیش کر رهے ہیں ، خُدا کے عظیم نظام کی طرح ، هوا انسان کی زندگی کے لیے پہلی شرط هے ، مُفت هے ، پانی مُفت هے ، سُورج کی روشنی مُفت هے ، چاند کی چاندنی مُفت هے ، رات میں ستاروں کا مُسکرانا مُفت هے ، زندگی کے سارے کهیل ختم هو جانے کے لیئے ہیں ، آپ نے کبهی رگبئی کهیل دیکها هے ، کیسے سارے کے سارے کهلاڑی ایک ہی گیند کے پِیچهے ، مارے مارے ، بهاگے بهاگے پِهرتے ہیں ، جائز نا جائز کر کے اپنا اپنا گول کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، مگر کهیل کے اختتام پر وہی گیند گراونڈ پر تنہا پڑا رہ جاتا هے ، زندگی کا سفر بهی ایسا ہی هے ، آپ یہ سوچئے کہ آپ نے وقتی جِیت کے لیئے کسی کو زخمی تو نہیں کِیا ، انسان کا حساس هونا اُس کی عظمت کی پہچان هے ، سب کچھ ختم هو جائے گا دوستو ، رہ جائے گا لکها هوا لفظ ، مُجهے ایسا کیوں لگتا هے کہ ہمیں کتاب کی طرف لوٹ کر آنا هے ، افتخار عارف نے فرمایا کہ ، ( عجب گهڑی تهی کتاب کِیچڑ میں گِر پڑی تهی ) چمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں الُجھے آنسو بلا رھے تھے ، مگر مجھے ھوش ھی کہاں تھا ، نظر میں ایک اور ھی جہاں تھا ، نئے نئے منظروں کی خواھش میں اپنے منظر سے کٹ گیا ھوں ...... نئے نئے دائروں کی گردش میں اپنے محور سے ھٹ گیا ھوں ...... صلہ ، جزا ، خوف ، نا امیدی ، امید ، امکان ، بے یقینی ، ھزار خانوں میں بٹ گیا ھوں ،
اب اس سے پہلے کہ رات اپنی کُمند ڈالے ، یہ چاھتا ھوں کہ لوٹ جاوُں ،
عجب نہیں کہ وہ کتاب اب بھی وہیں پڑی ھو .... عجب نہیں کہ آج بھی میری راہ دیکھتی ھو .... عجب نہیں کہ میرے لفظ مُجهے معاف کر دیں ..........
کتاب آج بهی آپ کی راہ دیکھ رهی هے ، کتاب کی طرف لوٹ جاو دوستو ، وہ اب بهی وہیں پڑی هے ، تمہاری راہ دیکهتی هے ، عالمی افسانہ فورم اور اُس کے ایڈمنز کا بس یہ ہی پیغام هے ، ، ہم اپنے معزز مہمانوں ، میلہ میں شامل افسانہ نگاروں اور عام قارئین کے نہایت شکرگزار ہیں کہ وہ اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں سے وقت نکال کر اس میلہ کو رونق بخش رہے ہیں ، انتظامیہ عالمی افسانہ فورم


Monday, September 11, 2017

باغبان ۔
ریت کے طویل صحرا پر پھیلا ہوا سننا ٹا ،فضا میں دھوئیں کے ساتھ ساتھ خون کی مہک ۔ایک نامانوس سی جگہ تھی وہ ۔اور مہہ جبین نے اپنی پوری قوت جمع کر کے آنکھیں کھولیں ،چاروں طرف یہاں سے وہاں تک ریت ہی ریت اور اسپربکھرے ہوئے  ننھے ننھے قدموں کے نشان ،ایک نہیں لاتعداد نشان جیسے تمام بچّے ادھر سے بھاگتے ہوئے گئے ہوں ۔کہاں گئے ؟
کدھر گئے ؟؟ اتنے ننھے پاؤں جو خود چل  بھی نہیں سکتے وہ کہاں چلے گئے ؟
کیا افق کے اسُ کنارے تک ۔۔۔یا اس سے بھی آگے ۔۔
آخر کہاں ۔۔وہ بیقراری سے ان قدموں کے نشانوں کے ساتھ بھاگتی رہی کبھی کوئی ننھا نشان اسکے پیروں تلے آجاتا تو وہ کانپ جاتی ۔تھکن سے برا حال تھا ،گلا سوکھ رہا تھا  بدن ٹوٹنے لگا تھا ۔اسکے بالوں میں ریت بھر گئی تھی مگر وہ بھاگ رہی تھی یہ دیکھنے کے لیئے کہ آخر یہ بچّے کہاں چھپ گئے ہیں ۔دوڑتے دوڑتے وہ کسی چیز سے ٹھوکر کھاکرمنھ کے بل گر پڑی تبھی اسکی آنکھ کھلُ گئی ۔ساراجسم پسینے میں شرا بور تھا ۔ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے ۔اسے محسوس ہورہا تھا کہ ابھی تک پیروں کے نیچے ریت سرسرا رہی ہے ۔
کمرہ خالی تھا ۔اکیلے پن کا ڈراونا احساس اسے سہما رہا تھا ۔آواز دینی چاہی مگر گلا بند ،اٹھنا چاہا مگر ہمّت جواب دے گئی ۔
دروازہ کھلا اور ہاتھوں میں سوپ کا پیالہ لیئے ہوئے زیبا اندر آرہی تھی ۔
 بھابی !۔۔اسنے پیالہ میز پر رکھ کر مہہ جبین  کے بال سنوار دیئے ۔
اب کیسی طبیعت ہے آپکی ؟ رات تو آپ بہت بے چین تھیں امیّ دعائیں پڑھتی رہی ہیں ۔اٹھکر سوپ پی لیجئے ۔اگر چائے کا جی چاہے تو ۔۔
مہہ جبین  نے اسکا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا ۔وہ ہونق سی زیبا کا منھ دیکھ رہی تھی اسے لگ رہا تھا کہ ابھی بھی وہ اس ریت کے سمندر پر ننگے پاؤں کھڑی ہے ،اسکے تلوے جل رہے تھے ۔سارا جسم جھلس رہا تھا ۔
کیا ہوا بھابی ۔۔
اسنے آنکھیں بند کر لیں آنسوں کے دو قطرے آنکھ کے گوشوں سے نکل کر تکیہ مین  جذ ب ہوگئے ۔
اتنا مت سوچیئے بھابی ۔۔آپ تو بھیّا کا مزاج جانتی ہیں خوش ہوں تو کتنے مہر بان اور غصّہ آجائے تو ۔۔۔
لاکھ غصّہ کریں ،ماریں جو سزا چاہے دیں مگر ایسا تو نہ کریں ۔۔اسنے بڑی دقتّ سے اپنا جملہ پورا کیا ۔۔
زیبا  سرہانے بیٹھ کر اسکا سر سہلانے لگی ۔
آپکو پتہ ہے نا وہ شروع سے بیٹا چاہتے تھے ،پہلے نتاشہ آگئی اور اب یہ جڑواں کی آمد ۔۔وہ نہیں مانیں گے بھابی آج آپکو لیکر اسپتال جانے کا کہہ کر گئے ہیں ۔
مجھے معلوم ہے زیبا وہ مجھے اسپتال کیوں لے جائیں گے ۔۔میری بچیوں کو مجھ سے دور کر دیں گے مجھے معلوم ہے ۔۔اسکی آنکھوں میں نمکین پانی کا سیلاب اتر آیا سسکیاں گلے میں پھندا ڈال رہی تھیں َ
زیبا سرہانے بیٹھی اسکا سر سہلاتی رہی بس ایک خاموش تسّلی کے سوا اسکے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا
ایان  کے بے رحم فیصلے کے خلاف بولنے کی ہمّت تو اماں میں بھی نہیں تھی۔
کم عمری میں باپ کے گزر جانے کے بعد ساری ذمہ داری ایان  نے بخوبی سنبھال لی تھی ۔اپنی تعلیم کو خیرباد کہہ کر کپڑے کی دوکان پر بیٹھ گیا تھا ۔
۔اسکے بھی اعلیٰ تعلیم کے خواب ٹوٹے تھے ۔چار بہنوں ماں اور بیوی کی ذمہ داری اٹھاتے اٹھاتے وہ اتنا کرخت ہوچکا تھا کہ اب کوئی آنسو یا آہیں اسے نہیں پگھلاتی تھیں۔  وہ پتھّر ہو چکا تھا ۔اسکا فیصلہ آخری فیصلہ تھا ۔
اسے اب بیٹیاں نہیں چاہیئے تھیں ۔
الٹرا ساؤنڈ سے جب یہ خبر ملی کہ ایک نہیں دوبیٹیاں آنے والی ہیں تو اسنے سختی سے حکم دیا تھا آج شام کو دوکان سے لوٹ کر وہ ڈاکٹر کے پاس لےجائے گا اور یہ قصّہ ختم کرے گا ۔
مہ جبین کو یوں لگ رہا تھا جیسے دونوں ننھی بچیّان باہیں پھیلائے اسکی گود میں آنے کو ہمک رہی ہیں ۔جیسے انکی شفّاف آنکھوں میں ایک التجاء ہے ایک پکار ہے ۔۔۔
ماں ۔۔ہمیں بچالو ۔۔
وہ تڑپ تڑپ کر رورہی تھی مگر ایان کے فیصلے کے خلاف جانے کی اسمیں بالکل ہمّت نہیں تھی ۔۔
مہہ جبین کا نام ہی خوبصورت تھا وقت نے اسکے ساتھ کچھ اچھّا سلوک نہیں کیا تھا ۔کئی بچّوں والے غریب گھر میں پل کر بڑی ہوئی  کسی نہ کسی طرح  بی ۔اے تک تعلیم حاصل کی اور والدین نے بوجھ سمجھ کر یہاں بیاہ دیا جہاں  پہلے ہی مسا ئل کا انبار تھا ۔
تین بہنوں کی شادی کروانے کے بعد ایان خالی ہاتھ رہ گیا تھا ۔دوکان سے بس اتنی آمدنی تھی کہ گھر کسی طرح چل رہا تھا ۔اب وہ اضا فی بوجھ کے لیئے ہر گز تیّار نہ تھا
دوپہر ہوگئی تھی وہ کھا نا کھانے گھر آجایا کر تا تھا اور آج مہہ جبین کو تیاّر ہونے کا حکم دے گیا تھا ۔۔۔وہ جانتی تھی کہ یہ تیاّری کس لیئے ہے ۔۔
جب سے ڈاکٹر نے راز داری کا وعدہ لیکر اسے یہ بات بتائی تھی اسی وقت سے وہ بیزار نظر آرہا تھا ۔۔
چلو ۔۔۔اسپتال جا نا ہے ۔۔ایان  نے جوتے پہنتے ہوئے مڑ کر اسکی طرف دیکھا ۔
اور مہہ جبین نے  اٹھ کر ایان  کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔
نہیں ۔۔ایسا نہیں ہونے دونگی ۔۔مت کرو ایسا ۔۔وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔اسنے کب سوچا تھا اسکی ذات کی یوں تحقیر ہوگی ۔اسکے حوصلے یوں پست ہوجائیں گے
مہہ جبین نے اپنی تمام توا نائیوں کو سمیٹ کر بڑی مشکل سے اپنی بات پوری کی ۔
میں کام کرونگی ایان ۔۔۔میں لوگوں کے کپڑے سیوں گی اگر تم اجازت دوگے تو اسکول میں نوکری بھی کر لونگی ۔
میں نے کبھی تمہاری خدمتوں سے انکار کیا ہے ؟
اتنا بڑا ظلم نہ کرو ایان ۔۔۔
وہ حیران ہوکر اسے دیکھ رہا تھا خاموش اپنے آپ میں رہنے والی مہہ جبین آج اتنی بہادر کیسے ہوگئی ؟ یہ کون سی طاقت آگئی ہے اسکے اندر ۔
مگر وہ۔اتنی جلدی ہار کیسے مان لیتا ۔

تم کیا جانو ۔۔کتنی محنت کر نا پڑتی ہے مجھے ۔باہر نکل کر دیکھو زرا ۔۔
ہاں میں باہر نکل کر دیکھوں گی
۔میں تمہارا ساتھ دونگی ۔میرا زیور بیچ دو مجھے سلائی مشین ۔۔ ۔اسکا جملہ ادھورا ہی رہ گیا ۔
۔
تیزی سے الماری کی طرف بڑھتے ہوئے ایاں کا پیر زمین پر پڑے اخبار سے الجھا اور وہ لڑکھڑا کرپاس رکھّی میز سے ٹکرا تا ہوا زمین پر  گر پڑا ۔
با ااااا بااااااا  ایک تیز چیخ کی صورت میں نتاشا کے منھ سے نکلا ۔
 اسکول سے آکر بیگ رکھتے ہوئے اسنے ایان کو گرتے دیکھا تو  اپنا بیگ دور پھنکا اور دوڑ کر باپ کی کمر سے لپٹ گئی ۔اپنی ننھی ہتھلیوں سے اسکی چوٹ سہلانے لگی۔۔۔ کیا ہوگیا پا پا ۔۔چوٹ تو نہیں لگی نا ۔۔بتائیے  با با ۔؟' وہ بے چینی سے کبھی اسکا ہاتھ پکڑتی اور کبھی پیر سہلاتی ۔۔ایاں حیرت زدہ سا اپنی معصوم بچیّ کی طرف دیکھ رہا تھا جو  آنکھوں میں آنسو   لیئے بے تہا شہ پریشان ہورہی تھی ۔
ایان نے جھک کر اسے گود میں اٹھا یا اور  سینے سے لگا لیا ۔۔آج اسکی دھڑکن بھی معمول سے ذیادہ تیز تھی اور پہلی بار بیٹی کے لیئے درد امنڈ کر آرہا تھا ۔۔نہ جانے کیوں اسکے اندر ہلچل سی مچ گئی مہہ جبین ڈری سہمی التجا ء بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
اور ایک لمحہ ایک درد کا لمحہ انھیں بے حد قریب کر گیا ۔کئی لمحوں تک وہ نتا شا کو سینے سے لگا ئے کھڑا رہا ۔۔
پھر اسے آہستگی سے بستر پر بٹھا یااور پلنگ کے کنارے بیٹھ کر جوتے اتار نے لگا ۔ اسکے انداز میں ایک نرمی ایک حلاوت سی بھر گئی جب اسنے بہن کو پکارا ۔
زیبا ۔۔
۔وہ پہلے ہی سہمی ہوئی دروازے کا پٹ تھامے کھڑی تھی ۔
کہیں نہیں جاتے ۔۔اب شام کو کہیں گھو م کر آئیں گے اور کھا نا بھی باہر ہی کھائیں گے ۔۔
  بازو میں بہن کو  لپٹا کر مہہ جبین کو پیار سے تکتا ہوا وہ مکمل مرد نظر آرہا تھا ۔ ۔
۔




Tuesday, August 29, 2017

 
آدھی رات ادِھر آدھی رات ادُھرجب سارا شہر سننا ٹے میں ڈوب جا تا ۔
 ۔۔جب ساری روشنیاں بُجھنے لگتیں گہرا اندھیرا چھانے لگتا  تب  ایک ویران قبرستان کچھ قبرنشین سر گو شیوں میں باتیں کرتےہو ئے  نظر آتے    
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
"اسلام علیکم بھیا حضور ! "
"واعلیکم ۔۔۔"نخووت سے جواب ملتا وہ بھی ادھورا ۔حالا نکہ اس سلام اور جواب ِ سلام کی کوئی اہمیت بھی نہ رہی تھی ۔
"یہ سارے پہرے دار کہاں غائب ہیں آج ؟؟ میرا حقّہ بھی تازہ نہیں کیا گیا "وہ خیالی حقّے کی منال منھ سے لگا لی ۔
"بھیّا حضور یہ اُن کے آرام کا وقت ہے ۔ہم تو بس ۔۔۔"
"آپکو ہمیشہ اِن غریب فقیر لوگوں کی ہی فکر رہی ۔ اسی لئے کچھ بن نہ سکے ۔"
یوسف علی نرمی سے مسکراتے اور اندھیرے کے اسُ پار کہیں پرانے دنوں کی طرف دیکھنے لگتے ۔یہ خاندانی قبرستان تھا ورنہ کہاں وہ اور کہاں بڑے بھیا ۔

"آپکو تو یاد نہیں ہوگا ۔کیا خوبصورت شامیں ہوتی تھیں ہماری ،آج امینہ بائی تو کل روشن آرا ۔مگر آپ کو کہاں فرصت تھی اپنی کتا بوں سے جو کبھی ہماری محفل میں آتے "
"بھیّا حضور وہ آپکے شوق تھے اور کتابیں ہمارا شوق ۔"
"کیا  دیا آپکے شوق نے ؟ ایک معمولی زندگی گزاری آپ نے اور ہم ۔۔۔۔"
"جی ۔۔سچ کہا آپ نے ۔۔ہمارے نصیب میں آپ جیسی زندگی کہاں تھی " انکی آواز میں ٹوٹے ہوئے شیشے کی کھنک اور گہری اُداسی جھانک رہی تھی ۔
"آپ نے ہمیں اپنا خاندانی حق بھی نہ ملنے دیا ۔۔۔اور باقی چیزیں تو اضافی تھیں "
"دیکھئے میاں ! حکومت کر نا ہماری قسمت میں لکھا تھا ،آپکو راستے سے نہ ہٹا تا تو کوئی اور ذریعہ بن جاتا ۔اور آپکو بھی ہم نے کہاں ہٹا یا ؟ آپ تو بزدلوں کی طرح محل سے بھاگ نکلے تھے ۔"
"اگر میں اپنی اور اپنے خاندان کی جان بچا کر نہ نکلتا تو ہماری لاشیں نکلتیں اور خود کشی ہمیں منظور نہ تھی بھیّا حضور ! آپ نے تو حد ہی کر دی تھی ۔اگر ابّا حضور ہم کو ولیعہد بنا نا چاہتے تھے تو ہمارا کیا قصور تھا ؟ "
"قصور آپکا ہی تھا میاں ! آپ اتنے نیک اور فرما بردار بنکر سامنے آتے تھے ۔۔۔۔"
"ہم نیک اور فرما بردار بنکر نہیں آتے تھے بھیّا حضور ابّا نے یہ خوبیاں ہم میں خود دیکھی تھیں ۔ہمیں کوئی لالچ نہیں تھا یہ ان ہی کا فیصلہ تھا ۔اور آپ نے بھی تو حد کر دی تھی ۔اب ہم اپنی زبان سے کیا کہیں "

 انھوں نے سر جھکا لیا ۔
"ہاں ہم نے حد کی تھی ۔ہمارے شوق تھے  ۔تعلیم سے ہم دور تھے ۔ہم بازاری عورتوں کو گھر بلاتے تھے ہم ناچ رنگ پسند کرتے تھے ۔اور ابّا حضور ہمارے دشمن بن گئے "
"اور آپ ہمارے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔"

 یوسف آبدیدہ ہوکر قبر سے اٹھ کر ٹہلنے لگے ۔انھیں یاد آگیا کہ کسطرح کسمپرسی کی حالت میں گھر سے بے گھر ہوئے تھے ،تما م واقعات ذہن کے پردے پر سر سرانے لگے ۔۔۔۔

"ہم آپ سے ان سب با توں کے لئے قطعی شر مندہ نہیں ہیں میاں ۔جو آپ کو ملنا تھا ملا جوہم نے حاصل کر نا تھا کیا ۔ "
بڑے بھیا اب بھی اسی طرح غرور میں مبتلا نظر آئے ۔
قبرستان کے سننا ٹے کچھ اور بڑھ گئے ۔سوکھے پتّوں پر شبنم کا گر نا جاری رہا ۔۔۔ٹپ ۔۔ٹپ ۔۔۔پتّے اپنے سینوں پر شبنم کا وار سہتے رہے ۔۔۔کسما تے رہے ۔
اجڑی ریاستوں کے سینے میں نہ جانے کتنے راز دفن تھے ۔
یہ بھی ایک طویل وعریض رقبہ پر مشتمل ریاست کی داستان ہے جہاں ظلم و ستم کے ساتھ کچھ معصوم رعا یا بھی تھی ۔
کچھ بے لوث   درد مند انسان بھی تھے ۔جن کو اپنے لیئے نہیں اپنی رعا یا کے لیئے کچھ کر نا تھا ۔۔جو اسکول اور اسپتال بنواتے تھے ۔جو سڑکوں اور کھیتوں کے ٹیکس معاف کر دینا چاہتے تھے  جو سبکو ساتھ لیکر چلنا چاہتے تھے ۔۔۔مگر زمانے کو یہ منظور نہ تھا ۔۔
انکی یہ درد مند طبیعت انکے لیئے عذاب بن گئی ۔۔۔۔۔۔ان پر ستم توڑے گئے ۔
٭٭٭٭٭
گھوڑا ہواؤں سے باتیں کر رہا تھا  ہر علاقے سے وہ اس تیزی سے گزر جاتا گویا ایک شرا را ایک پارہ ۔۔۔۔ابھی یہان نظر آیا اور ابھی وہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھوڑا اور سوار دونوں دھول میں اٹ چکے تھے ۔
انھوں نے گھوڑے کا سر سہلاتے ہوئے ہمت دلا ئی اور اسنے اسی زور وشور سے اپنا سفر جاری رکھا ۔درختوں کی چھاؤں سے نکل کر جب سوار کڑی دھوپ میں آتا تو اپنا چہرہ گھوڑے کی ایال میں چھپا  لیتا ۔اور گھوڑا اپنے مالک کی حالت محسوس کر کے درختوں کے جھنڈ کی تلاش میں سر گر داں ہوجاتا ۔سوار  اللہ کے حضور سرجھکا کر  شکر ادا کرنے لگتا  کہ اسکے بچّے اور بیوی محفوط جگہ پر ہیں ۔
آخر کا ر منزل نظر آنے لگی ۔مسافر نے چہرے کی دھول صاف کی ۔
بلند وبالا آہنی  پھاٹک کے دروازے پر کئی لوگوں کے ہجوم کے ساتھ راجہ صاحب خود موجود تھے ۔ایک ملازم نے انکے سر پر چھتّر کا سایہ کیا ہوا تھا اور ایک ملازم مور کے پروں کا بنا ہوا   پنکھا لئے ہوئے مسلسل انکو جھل رہا تھا ۔
راجہ صاحب نے گھوڑے کو قریب آتے دیکھا تو خود آگے بڑھ کر داماد  کو بازو کا سہارا دیکر اتارا اورپھر شانوں سے تھام کر  سینے سے لگا لیا ۔کئی لمحے یونہی بیت گئے ۔
انھوں نے اپنے معطّر رومال سے انکا  کا چہرہ صاف کیا اور بازوں میں لیکر حویلی کے اندر کی طرف بڑھ گئے ۔
گھوڑے کے لئے پانی کا انتظام موجود تھا ایک ملازم محبت سے اسکی صفائی میں لگ گیا ۔سامنے چنے کی بھیگی ہوئی دال اور اور گڑ کا ملیدہ لگا دیا گیا ۔
محل کے اندر بڑی بڑی سینیوں میں صدقے کا سامان نکالا جارہا تھا
۔اناج ،گوشت اور چاندی کے سکوّں سے بھری سینی یوسف علی خان کے سامنے آتی رہیں اور وہ انھیں انگلیوں سے چھو کر اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے جہاں خدمت گار ایک بڑے پیتل کے لوٹے میں پانی اور دوسرا تانبے کی سلفچی لیئے کھڑا تھا ۔وہ ہاتھ دھلا کر نرمی سے صاف شفّاف تولیہ سے  مس کر تا ۔
راجہ صاحب نے اپنی آرام گاہ میں صاحبزادے یوسف علی خاں کو اپنے بستر پر جگہ دی اور خود پاس رکھے ایک طویل مخمل کے صوفے پر بیٹھ گئے ۔

"ہاں   اب مجھے یہ بتا ئیے کہ واقعہ کیا تھا ؟ آخر کس سبب سے صاحبزادے وقار علی خان نے یہ قدم اٹھا ؟ "
یوسف یوں خاموش رہے گویا اپنے آنسوؤں کو اندر ڈھکیل رہے ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"با با جان  !  ناراض تو بھائی جان مجھ سے ہمیشہ رہے " وہ اپنی بھرّائی ہوئی آواز کو قابو میں  کر تے ہوئے بولے ۔
خدا معلوم انکو مجھ سے کیا پر خاش ہے ۔ہم نے تو ان سے کبھی انچی آواز میں بات بھی نہیں کی ۔ابّا حضور کے گزر جانے کے بعد ان کے روّیے میں  ہما رے لیئے کچھ ذیادہ ہی تلخی آگئی تھی ۔
مگر وہ اس حد تک چلے جائینگے کبھی سو چانہیں  تھا ۔جیسا کہ ملازموں  نے بتایا ۔۔اگر ہم اس وقت  بستر پر موجود ہو تے  ؟؟
ہم موت سے نہیں ڈرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر با باجان ۔۔میرا سارا خاندان تباہ ہوجاتا ۔ادھر یہ معصوم    ۔۔۔"انھوں نے سامنے دالان میں کھیلتے ہوئے دونوں بیٹوں پر نظر کی ۔تو انکی آنکھوں میں شفاّف پانی کی چمک راجہ صاحب نے محسوس کرلی ۔
"اور دوسری طرف انکی اپنی اولاد ۔پولیس والے  مسلسل اس کوشش میں ہیں  کہ کوئی ایسا واقعہ ملے اور ہم سب کی بد نامی ہو ۔صرف بستر پر ایک گولی چلنے سے پولیس کا آنا جانا شروع  ہوگیا  ہے ۔
۔ملا زم ہمیں  برا بر خبر دیتے رہے ۔۔کس طرح ہم چھپ کر رہے اور کیسے آپ کے پاس آسکے  ۔۔آپکو کیا بتائیں  ۔۔" وہ سر جھکا کر خا موش ہو گئے ۔
"خیر اب جو ہوا سوہوا ۔اب آپ ایسا کیجئے کہ  ،انھوں نے اٹھکر الماری سے کچھ کاغذات نکا ل کر انکی طرف بڑھائے 
بسم اللہ  کر کے یہاں جائیے اور اپنا علا قہ سنبھالیئے ۔
یہ بات میں شروع سے آپ سے کہہ رہا ہوں ۔کیونکہ میں نے صاحبزادے کے  تیور پہلے ہی دن سے بھانپ لیئے تھے  ۔راجہ اقبال علی خاں آپکے والد کے بعد وہ آپکو بر داشت نہیں کرینگے ۔حالانکہ محل اور باغات ۔کھیتوں پر آپکا حق ہے  وہ ہر صورت آپکو ملنا چاہیئے ۔آپ چاہیں تو مقدمہ دائر  کروا سکتے ہیں ۔مگر فی الحال میں آپکو یہ رائے نہیں دونگا بلکہ یہ فیصلہ آپکو خود ہی لینا   ہوگا ۔
اس وقت آپ آرام کیجئے اس موضوع پر شام کو آپ سے بات ہوگی ۔
انھوں نے تعظیماً کھڑے ہوتے ہوئے یوسف کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر انھیں دوبارہ بٹھا دیا اور کمرے سے نکل گئے ۔
ہلکے آسمانی لباس میں خوشبوؤں سے معطّر نگار آرا آئیں اور انکے بازو وں پر اپنا سر ٹکا دیا ۔۔وہ بے آواز رورہی تیں اور یوسف کے پاس بھی کوئی الفاظ نہیں تھے ۔وہ خاموشی کی زبان میں ایک دوسرے کا غم بانٹتے رہے  ۔
بچوّں کے چہرے پر وہ اپنا مستقبل دیکھتے رہے ۔۔۔
آخر کار انھیں راجہ صاحب کی بات ماننی پڑی اور ایک نئی جگہ استقلال کے ساتھ  نئیے  مرحلے سر کرنے نکل پڑے ۔۔۔
وہ ذیادہ نہیں جی سکے اپنے بچّوں کو جوان دیکھنے کی خواہش لیئے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔
اس شہر ِ خموشاں میں رات دھیرے دھیرے گزر رہی تھی ۔دونوں کے پاس کہنے کو اب شاید کچھ نہیں بچا تھا ۔
تب وقار علی خان  نے انکی طرف نگاہ اور تجسس سے بولے ۔                              

     ایک بات بتائیے آپ کی قبر میں اتنی روشنی اور خوشبو کسطرح ہے ؟"
یوسف  نے سر اٹھا کر گہری سانس لی اور طما نیت بھری نظروں سے اپنی قبر کی طرف دیکھا اور مسکرا کر قبر کی طرف بڑھ گئے ۔
۔
 وہ جھنجھلا کر اٹھے صبح ہونے والی تھی اپنی بے رونق اجاڑ قبر کی طرف بڑھے مگر انکی آنکھیں بھیگ رہی تھیں ۔انکی قبر پر بے رونقی اور اندھیرا بڑھ آیا تھا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Sunday, May 14, 2017

یہ رابطے دل کے ۔۔۔۔
"صاحبزادی لوٹ کر گھر آگئی ہیں "چچا نے ہاتھ دھوکر کھانے کے لئے تخت پر بیٹھتے ہوئی اطلاعً زور سے کہا ۔
روٹی کی ڈلیا کھولتے ہوئے چچی جان کا ہاتھ دم بھر کو کانپ گیا ۔
"حد ہوتی ہے بے غیرتی کی ۔ہنہہ ۔۔" چچا نے سالن کا ڈونگا اپنی طرف کھسکایا ۔اور پلیٹ سیدھی کی ۔
'آپکو اسقدر غصّہ کیوں ہے ۔۔۔۔۔"چچی جان نے "آپکو "پر زور دیتے ہوئے انکی جانب نگاہ کی ۔
انھو ں نے قہر بر ساتی نظروں سے چچی جان کو دیکھا ،انکا چہرہ سر خ ہوگیا تھا اور آنکھوں میں بے انتہا نفرت کا احساس تھا ۔
"کیوں ہے ۔۔؟ آپکو نہیں معلوم رضیہ بیگم غصّہ کیوں ہے۔۔۔؟غیرت دار آدمی ہوں بے غیرت نہیں ہوں اور لوگوں کی طرح ۔۔۔"انھوں نے چمچہ دستر خوان پر پٹخا ۔
"باپ دادا کی پگڑی اچھال کر وہ بے غیرت ۔۔۔۔اور باقی لوگ صبر کئے بیٹھے ہیں ،میری بیٹی کرتی ایسا ۔۔یہیں اسی جگہ زمین میں دفن نہ کر دیتا تب کہتیں ۔۔۔"
"اللہ نہ کرے ۔۔" چچی جان نے دہل کر سینے پر ہاتھ رکھ لیا ۔
"اور تم پر تو انہی لوگوں کا رنگ چڑھا ہے غیرت اور عزّت جیسے الفاظ تم کیا سمجھو گی ۔۔۔"حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اپنی بات میں اضافہ کیا ۔
"اور خبردار جو یہاں سے کوئی ملنے گیا ۔۔یا وہ اس چوکھٹ پر چڑھی ۔۔۔۔"
٭٭٭٭٭٭٭
دکھ سا دکھ تھا انکو ۔۔؟ ننھی سی جان انکے ہاتھون میں پل کر تو جوان ہوئی تھی وہ ۔۔۔
پرانے زمینداروں کی طرح ظہیر علی خاں اور فیصل علی خان میں مقدمہ بازی تو چلتی رہتی تھی ۔زمین جائیداد کے قصّے کس جاگیر دار خاندان میں نہیں ہوتے ؟بڑی بڑی باتیں ہوجاتیں ،قتل تک ہوجایا کرتے تھے ۔
ان دونوں بھائیوں میں بھی بر سوں سے مقدمے چل رہے تھے ۔آگ میں تیل ڈالنے کا کام گاؤں والے بہت مہارت سے کرتے اور فایئدہ اٹھاتے ۔باتیں ادھر کی ادھر کرنے میں دیگر لوگوں کا بڑا ہاتھ تھا اور باتیں بھی اس طرح پیش کی جاتیں کہ دونوں بھائی کھول کر رہ جاتے مگر وضع داری کا یہ عالم تھا کہ جب مقدمے کی تاریخ پڑتی تو ایک دوسرے کو کہلوا بھیجتے کہ
"ہم نے گاڑی نکلوالی ہے ساتھ ہی چلئیے گا ۔۔"
اور دونوں بھائی ساتھ بیٹھ کر دنیا بھر کی سیاست پر باتیں کرتے کچہری پہونچتے ۔۔۔بحث ہوتی وہ بھی کرتے ۔۔۔پھر تاریخ پڑ جاتی تو دونوں ایک ساتھ واپس بھی اسی گاڑی میں آجاتے ۔
آم کی فصل میں ایک دوسرے کے گھر آمون کی دعوت ہوتی۔ اہتمام سے نذریں ہوتیں ،تو ایک دوسرے کو بلایا جاتا ۔عقیدت سے کھانا کھایا جاتا ۔کسی بچّے کی تقریب ہوتی تب بھی سب ملکر مناتے ۔عید کی نماز دونوں بھائی ساتھ ہی ادا کرتے اور سب بچّوں کو عیدی دیکر ہی فیصل علی خان اپنے گھر جاتے ،وہ اپنے بڑے بھائی کی بے حد عزّت کرتے تھے اور بچّوں سے بے پناہ محبّت بھی ۔۔۔جب سے بڑے بھائ کی بیوئی کا انتقال ہوا تب سے چچی جان کا ذیادہ تر وقت ان بچّون کی دیکھ بھال میں گزرنے لگا ۔
خاص کر ارم تو انکی لا ڈ لی تھی ۔
دکھ سا دکھ تھا انکو؟؟
٭٭٭٭٭٭٭
ننھی سی ارم بن ماں کی بچی،جب انکی اپنی بیٹیاں نہائی دھوئی صاف ستھری فرا کیں پہنے اڑتی پھرتیں تو وہ آجاتی ۔میلی کچیلی فراک پیروں میں دھول سر میں جوئیں ۔۔۔
وہ اسکا سر صاف کرتیں نہلاتیں نئی فراک پہنا کر بنا سنوار دیتیں ۔
اسکی حالت دیکھ کر انکا دل پھٹتا  تھا کیسے ٹوٹی چپل پہنے پھرا کرتی۔
کس چیز کی کمی تھی وہاں ؟سوا ایک عورت کے ۔
اسکی چپل اتروا کے اسے سینے بیٹھ جاتیں ۔
"ارے کیا کر رہی ہو ؟دوسری چپل پہنا دو اسکو ۔۔"وہ اخبار ہٹاکر محبّت سے اسے تکتے ۔۔۔
"رہنے دیجیے ۔۔بھائی جان کو اچھّا نہیں لگے گا ۔میں ابھی ٹھیک کیئے دیتی ہوں ۔"
ایسا نہیں تھا کہ وہاں کسی چیز کی کمی تھی ۔کپڑے صندوقوں میں بھرے تھے جوتے چپل بے شمار ۔۔۔کوئی معاشی مسئلہ نہیں تھا ۔مسئلہ تو بس اتنا تھا کہ ظہیر علی خان اور طرح کے آدمی تھے وہ بچّو ں کو دیکھ نہیں سکتے تھے سب نو کروں کے ہاتھ میں تھا ۔
جب ارم کے کان چھدے اور خیال نہ ہونے کی وجہ سے پک گئے تو وہ انہیں کے پاس دوڑی آئی
"بہت درد ہورہا ہے چچی جان ۔۔۔"
اور چچی جان نے بزرگوں کا بتایا ہوا نسخہ آزمایا ۔
اس وقت ارسل سب سے چھوٹا بیٹا پیدا ہوا تھا ۔انھوں نے جھٹ ارم کو گود میں لیکر لٹا لیا اور اسکے کانوں کی لوؤں پر دودھ کی دھاریں ڈا لیں ،وہ سکون سے انکی گود میں ہی سوگئی اور وہ کئی گھنٹوں تک گھٹنا ہلائے بغیر بیٹھی رہیں ۔
صبح کی اوس جمع کر کے کانون پر لگائی ۔۔ہومیو پیتھی کی دوائیں کھلائیں ،جب تک اسکے کان ٹھیک نہیں ہوئے بے قرار رہیں ۔
"وہاں کسی کو فکر نہیں تو تم کیوں دبلی ہوئی جاتی ہو  فکریں کر کر کے ؟"
"سبھی بچّے ہیں وہاں بھائیجان کے پاس وقت کہاں ۔۔۔جو یہ سب دیکھیں ۔۔۔کیا ہوا جو میں ۔۔۔۔بن ماں کی بچّی ہے "
بولتے بولتے انکی آنکھیں آنسوں سے بھر جاتیں سر جھک جاتا ۔۔۔۔
"ٹھیک ہے ۔۔کرو خدمتیں ۔۔کوئی ماننے والا نہین ہے وہاں تمہاری بے لوث محبّت کو "
"میں کسی کو منوانے کے لیئے نہیں کرتی یہ تو دل کے رابطے ہیں ۔۔۔"انکی آواز دھیمی ہوتی چلی جاتی ۔
کنگھی کر کے چوٹی گوندھ دیتیں وہ صاف ستھری ہوکر چمک اٹھتی۔۔۔۔
 آ نگن میں لگے بیلے اور موگرے کے پھولوں کو گوندھ کر گجرے بنا لاتی ۔۔۔کبھی انکے بالوں میں اور کبھی ہاتھوں میں پہنا دیتی اور وہ اس خوشبو سے مسحور بیٹھی رہتیں ۔
وقت گزر تا رہا ۔عامر کی تعلیم اب ختم ہوگئی تھی اسنے ایک فلیٹ شہر میں لے لیا تھا اور نوکری کی تگ و دو میں مشغول تھا ۔
چچی جان کی نظر کے زاویئہ بدل گئے تھے وہ ارم کو اپنی بہو بنانے کے خواب دیکھنے لگی  تھیں ۔وہ عامر کا ہر انداز پہچانتی تھیں کہ ارم کو دیکھ کر اسکی انکھون میں جو معصوم سی چمک د ر آتی اسکا کیا مطلب ہے وہ اسکے انداز خوب پہچانتی تھیں ۔اپنے بچّوں میں سب سے ذیادہ پیارا تھا انھیں ۔۔۔
وہ بس عامر کی ملازمت کے انتظار میں تھیں ۔وہ گاؤں میں نہیں رہنا چاہتا تھا ،حالانکہ اب گاؤں پہلے جیسا تاریک نہ رہا تھا ۔ہتھیلیوں سے چراغ ،انگلیوں سے لالٹینیں نکل کر دیواروں پر بلب اور سی ۔ایف ۔ایل بنکر اجالے بکھیر رہے تھے ۔ہاتھوں کے بنے رنگ برنگے پنکھّے اب سیلنگ فین بن گئے تھے ،گھڑونچی کی جگہ اب واٹر کولر اور ایکوا گارڈ نے لے لی تھی بڑی خوبصورت تبدیلی تھی مگر عامر جانتا تھا کہ حالات بدل گئے ہیں اب ملازمت کے بغیر کام نہیں چل سکتا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اور جب انھیں ارم کی شادی کی خبر ملی تو وہ دل پر ہاتھ رکھ کرزمین پر بیٹھتی چلی گئیں ۔ بڑی عجیب ناقابل ِاعتبار بات تھی ۔کہ اسنے خود کسی کو پسند کر لیا اور بھائیوں بہنوں کی مر ضی کے خلاف  نکاح ہو گیا ۔
۔ عامر آکر خاموشی سے انکی مامتا بھری گود میں لیٹ گیا ۔وہ اپنی کانپتی انگلیوں سے اسکی پلکوں سے دکھ چنتی رہیں ۔وہ اسکے غم سے خوب واقف تھیں ۔
اسکے لب خاموش تھے اور انکھیں نو حہ کناں ۔
دکھ اور اذیت کے یہ دوسال بڑی مشکل سے کٹے بیان کر نا بیحد مشکل تھا اور وہ موگرے ،بیلے کے پیڑوں کو پانی دیے جاتیں ۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭
"بھائیجان کو تو برا حال ہوگا ۔۔۔"
وہ پھر حال میں آگئیں ۔۔۔
"برا حال ؟؟؟ خود بلایا ہے انھوں نے ۔۔۔۔دعوت کی ہے داماد کی ۔۔۔جاکے دیکھو کسقدر آؤ بھگت ہو رہی ہے ۔بیٹی داماد کی ۔۔
غصہ میں پانی کا گلاس پٹخا اور چیخ کر بولے ۔
"خود گئے تھے بلانے اس بد ذات وبے حیا کو ۔۔۔۔۔"
"چلیئے ٹھیک ہے اب ۔۔۔شادی ہونی تھی ہوگئی " چچی جان   صلح جو تھیں ۔
"ایسے ہوتی ہیں شادیاں ؟؟؟ بیٹی صاحبہ نے پسند کیا اور آپ نے جاکر نکا ح کروادیا ؟؟ نہ کسی سے رائے نہ مشورہ ۔۔۔خود انکے بڑے صاحب ذادے خلاف ہیں ۔۔گھر نہیں آئے ۔۔۔اچھّا ہے پھوٹ پڑے باپ بیٹے میں " وہ طنزیہ مسکرائے
چچی جان خاموش بیٹھی رضائی کی گوٹ پر انگلیاں پھیرا کیں ۔
عامر کو لڑکیاں دکھا دکھا کر تھک ئیں مگر اسکی ایک نا ۔۔۔ہاں میں نہیں بدلی ۔۔۔وہ سب جانتی تھیں مجبور تھیں ۔۔۔افسردہ تھیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭
شام ہورہی تھی ڈیوڑ ھی میں اندھیرا سا تھا ۔۔تب انھوں نے دو برس کے بعد اسے دیکھا ۔۔۔
وہ سر جھکائے کھڑی تھی ہلکا نیلا سوٹ ہاتھوں میں کانچ کی چوڑیاں ہلکے ہلکے لرز رہی تھیں ۔چچی جان نے گھبرا کر اندر کی طرف نظر کی ۔وہ شاید مطا لعے میں مشغول تھے کمرے کا دروازہ بھڑا ہوا تھا لائٹ جل رہی تھی ۔
دالان میں عامر لیٹا ہوا تھا ۔وہ سلام کر کے خاموش کھڑی رہی ۔انھوں نے بغور اسے دیکھا بہت کمزور نظر آئی اپنے آنسو چھپا کر اسے گلے لگا لیا ۔
پھر اسے وہیں چھوڑ کر جلدی سے باورچی خانے میں گئیں ۔رواج کے مطابق کچھ چیزیں لیکر آئیں اسکا انچل تھام کر ارد کی دال ،چاول ۔ایک بھیلی گڑ اور ایک سو کا نوٹ اسکے پلّو میں ڈالا پھر اپنا کپکپا تا ہوا ہاتھ اسکے  سر پر رکھ کربہت تکلیف سے بولیں ۔۔
"جیتی رہو خوش رہو ۔۔مگر اب یہاں کبھی مت آنا ۔۔۔"
اور دروازہ بند کر دیا ۔
واپس آکر آنگن میں بیٹھ گئیں اور کھر پی لیکر بیلے اور موگرے کے پیڑوں کو بے دردی سے کاٹنے لگیں آنسو بہتے جاتے تھے اور وہ پیڑوں کو گہرائی سے کھودتی جارہی تھیں ۔برامدے میں لیٹے ہوئے عامر نے سارا منظر نم آنکھوں سے دیکھا پھر ننگے پیر چلتے ہوئے آکر ماں کے پاس زمین میں بیٹھ گئے اور انکو ۔۔اپنے بازوں میں لپٹا لیا ۔
دروازے کی کنڈی ایک بار پھر کھڑ کی دونوں نے ایک ساتھ ا ۔ دیکھا۔چچا باہر سے آرہے تھے انکی باہوں کے گھیرے میں  لپٹی سسکتی  ماہ گل کو دیکھ کر وہ گھبرا کر گھڑی ہوگئیں ۔وہ ہنستے ہوئے بولے ۔" لو دیکھو باہر سے ہی چلی جارہی تھی  میں نہ دیکھتا تو تم سے ملے بنا ہی چلی جاتی "
۔ انکی آنکھوں میں شفقت چھلک رہی تھی اور آنسو چمک رہے تھے ۔
لاؤ کچھ چائے ناشتہ کر وائو میری بیٹی اتنے دنوں بعد گھر آئی ہے " وہ اسے لیئے ہوئے تخت پر بیٹھ گئے ۔اور چچی جان کو  حواس میں واپس آنے میں کافی دیر لگی ۔
٭٭٭
 


بے نشان ۔
وہ لندن کی ایک کہر بھر شام تھی ۔ارم کی امّی کا شدید بیماری کے بعد کل شام انتقال ہوگیا ۔درو دیوار سے سوگواری ٹپک رہی تھی ۔زندگی کے تمام ہنگامے سرد پڑ چکے تھے ۔سب مریم کو سنبھال رہے تھے مگر وہ ہاتھوں سے نکلی جارہی تھی ۔ دو دن اسی طرح درد برداشت کر تے ہوئے گزر گئے ۔یہاں کام رکتا نہیں تو آج سب اپنے اپنے کام پر نکل رہے تھے اُداسی اور پریشانی اپنی جگہ مگر جینے کے لیئے کام تو کر نا ہی تھا ۔گھر میں بس میں اور ارم ہی رہ گئے تھے جب وہ سسکتی ہوئی میرے کمرے میں آگئی ۔
"چچی  پلیز  مجھے قبر ستان لے چلیے ۔"
اسکی آواز میں آنسو گھلُ رہے تھے ۔
"ہاں ضرور چلوں گی مگر تم پہلے اپنے آپ کو سنبھالو ۔۔یہ حال جو تم نے بنا یا ہے بھابی ہوتیں تو کتنی پریشان ہوتیں ۔" میں نے اسکا سر سینے سے لگا لیا ۔
"دیکھو بی بی  چلے جانے والے کا اتنا غم نہیں کرتے کتنی نیک عبادت گزار تھیں وہ ۔یاد ہے کہ انکا چہرہ کتنا پرُ نور تھا ؟ سب یہی کہہ رہے تھے کہ گو یا سو رہی ہوں ۔انکا سکون بر باد مت کرو ۔ اسطرح دل دکھاتی رہو گی تو انکی روح تڑپتی رہے گی میری بچّی ۔انکے لیئے دعا کرو ۔" میں اسکو دھیرے دھیرے سمجھا رہی تھی اور اسکی سسکیاں میرے اندر تک اتر تی رہیں ۔
بن ماں کی بچّی کس قدر بے بس اور اکیلی ہوتی ہے مجھے اسکا بخوبی اندازہ ہے ۔
دوسرے دن سہ پہر کو علی جب آفس سے آئے تو ہمیں قبرستان لے گئے ۔ارم گاڑی سے اتر تے ہی علی کا ہاتھ تھامے بھاگتی ہوئی اس جگہ تک پہونچ گئی جہاں بھابی آرام کر رہی تھیں ۔وہ وہاں دوزانوں ہوکربیٹھ گئی ۔ بے تہاشہ رو رہی تھی ۔مجھے بھی آنسوں پر قابو نہ رہا ۔کچھ دیر بعد علی کو واپس جا نا تھا مگر ارم ابھی جانے کے لیئے تیّار نہیں تھی ۔میں نے علی کو واپس بھیج دیا ۔انکو کچھ کام کرنے تھے ۔سو چا واپسی پر ہم ٹیکسی کر لیں گے ۔
لندن کا یہ قبرستان گو کہ بہت صاف ستھرا اور روشن اور منّور تھا مگر تھا تو قبرستان ۔ایک عجیب سا سننا ٹا اور وحشت  ہر طرف ڈیرا جمائے ہوئے تھی ۔۔کنارے کئی پیڑ لگا ئے گئے تھے ۔بیچ بیچ میں کیا ریوں میں پھول بھی تھے  مگر خود رو گھانس کی صفائی روز تو نہیں ہوسکتی تھی ۔
کافی دیر تک ہم دونوں قبر کے پاس بیتھے دعائیں پڑھتے رہے پھر ارم ایک طرف پیڑ سے سر ٹکا کر بیٹھ گئی ۔بہت رولینے سے کچھ دل ہلکا ہوا تھا مگر سر میں درد محسوس ہو رہا تھا ۔دل ہی دل میں شاید ماں کے لیئے دعائیں کر رہی تھی یا باتیں کر رہی ہو ۔۔بند آنکھوں سے بھی آنسوں کے قطرے چہرے پر پھیل رہے تھے ۔
ہر طرف سننّا ٹا چھایا ہوا تھا ایکّا دُکا گاڑیاں آواز کرتی قریب سے  نکل جاتی تھیں ۔
درختوں کے کچھ بڑے پتّے قبروں پر سایہ کیئے ہوئے تھے ۔ایک طرف پیڑ کے نارنجی پتّے ایک قبر پر جھکے ہوئے تھے وہیں وہ بیٹھی تھیں ۔
سفید پوشاک پر سیاہ اسکارف لگائے ۔سرخ وسفید چہرہ اور متّورم آنکھیں ۔یہی کوئ چالیس پینتا لیس کی ہونگی ۔سر جھکائے خاموش اور اکیلی  قبر کے پاس  بیٹھی تھیں ۔میں نے ارم پر نظر ڈالی وہ پیڑ کے تنے سے ٹکی ہوئی کچھ پرُ سکون سی آنکھیں بند کیئے بیٹھی تھی میں اٹھ کر انکی طرف آگئی ۔
پاس بیٹھ کر انکا ٹھنڈا یخ ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر سہلاتی رہی ۔پھر بہت ہمتّ کر کے پوچھا ۔
"کون ہیں یہ بی بی ۔۔۔۔۔۔۔؟"
"میرا اکلوتا بیٹا ۔راحیل ۔۔۔"انھوں نے سسکی لی ۔
وہ ایک پرانی سی بنی قبر تھی اسپر کوئی کتبہ بھی نہ تھا شاید ٹوٹ چکا تھا میں ان سے اب کوئی سوال نہیں کر نا چاہتی تھی کہ انکا دل اورنہ دکھے ۔پہلے فاتحہ پڑھا پھر انکو دیکھ کر آس پاس کی گھانس صاف کر نے لگی وہ قبرپر جمی ہوئی  سوکھی گھانس کافی حد تک اپنی کمزور انگلیوں سے صاف کر چکی تھیں اور ایک بیگ میں بھر رہی تھیں ۔
"کیا ہوا تھا بی بی ۔۔۔" میںے خاموشی توڑنے کی کوشش کی ۔
"کچھ نہیں ۔بس اللہ کی مرضی  اب تو برسوں بیت گئے ۔آج اس شہر آئی تو ۔۔۔۔۔"انھوں نے اپنے آنچل سے آنسو صاف کئے ۔
قبر کسی حد صاف ہوچکی تھی بس ایک کونہ رہ گیا تھا جسپر سخت گھانس ابھی بھی سر اٹھائے کھڑی تھی  انکی انگلیاں شاید زخمی بھی ہوگئی تھیں ۔مجھے واپس بھی جا نا تھا مگر وہ اکیلی تھیں اسلیئے تذذب میں تھی ۔انکے شوہر لینے آنے والے تھے ۔گہرے بادل گھر کر آگئے تھے مجھے پریشانی سی ہونے لگی تھی ۔ارم بھی اٹھ کر ادھر ہی آگئی  ۔ایسے موسم میں انکو اکیلا کیسے چھوڑ دیتی ۔تبھی ایک گاڑی گیٹ کے پاس آکر رکی اور انھوں نے اپنا سرخ چہرہ اٹھا کر اُدھر دیکھا ۔نیلے سوٹ میں وہ صاحب تیز تیز چلتے ہوئے  ادھر ہی آرہے تھے ۔وہ صاحبہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر آہستہ آہستہ کھڑی ہوگئیں ۔قبر پوری صاف ہوچکی تھی اور انھوں نے ساتھ لائے ہوئے پھول اس پر بچھا دیئے تھے ۔آنے والے صاحب نے پہلے قبر کی طرف دیکھا پھر انکی طرف نگاہ کی اور گویا ہوئے ۔
"زبیدہ یہ تم نے کسکی قبر پر پھول رکھ دیئے ؟ راحیل کی قبر تو یہاں ہے اس درخت کے نیچے ۔ تم سے بتا یا تو تھا " انھوں نے ایک طرف اشارہ کیا جہاں ایک  قبر سوکھی ہوئی سخت گھانس سے بھری ہوئی بہت اکیلی اکیلی سی تھی ۔
قبرستان کا دروازہ بند ہورہا تھا ۔اب رکنے کی اجازت بھی نہیں تھی ۔ان بی بی نے بڑی حسرت سے بیٹے کی قبر پر نظر کی ۔پھر ادھر جہاں وہ کئی گھنٹوں سے بیٹھی تھیں اور پھر سر جھکا کرباہر نکلتے ہوئے  بولیں ۔
وہ بھی کسی کے جگر کا ٹکڑا ہو گا سیّد صاحب ! چلیئے گھر چلیں" اور ہم چاروں آہستہ آہستہ قبرستان سے باہر  آ گئے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 

Tuesday, April 25, 2017

تاج محل ۔
رنگ و نور کا ایک سیلاب تھا ہر طرف رنگین آنچل سر سرا رہے تھے قہقہے آبشار کی صورت بہہ رہے تھے ۔ہوسٹل کے ہرے بھرے لان میں فنکشن کا انتظام کیا گیا تھا ۔ہر طرف زندگی تھی ہر جانب ایک جوش ایک ولولہ تھا اور ایسے میں جب وہ ملے تو تاج محل خود بخود  بننے لگا  ۔وہ نازک جزبوں کا کنوارے سپنوں کا ایک نرم احساس کا  تاج محل ہی تو تھا جو دعا اور شاہ جہاں بنا رہے تھے
 گویا دنیا انکے کہے پر چلنے لگی تھی ہر بات میں کتنی زندگی تھی اور زندگی کتنی بھر پور تھی ۔سب کچھ تو تھا اسکے پاس  ہاں ! جب کسی کے پاس ایک صرف ایک چاہنے والا ہو جو ہر لمحہ ہر سانس میں محبّتوں کا نذرانہ پیش کرے تو پھر کسی چیز کی کمی کہاں رہتی ہے ۔
جذبے انمول ہوجاتے ہیں لمحے سر سراتے ہوئے گزر جاتے ہیں اور وقت کا تو احساس ہی نہیں رہتا کچھ یاد نہیں رہتا کچھ بھی نہیں ۔
اور رہے بھی کیسے جب کوئی ایسا کہے ۔۔
"تم جس طرف دیکھ لو راہیں جی اٹھیں ۔۔۔تم ہو تو سب کچھ ہے ۔۔تم میری تکمیل ہو ۔۔میں ابتک کیسے جی رہا تھا مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا کہ دنیا اسقدر حسین ہے ۔
تمہارے ساتھ بتائے ہوئے پل تو میری زندگی کا حاصل ہیں ۔
تم ہو تو زندگی ہے خواب ہیں اور خواب کی تعبیریں ہیں اور میں اپنے اس خواب کی تعبیر ضرور حاصل کرونگا خواہ مجھے اسکے لئے کچھ بھی کر نا پڑے ۔ ہاں کچھ بھی ۔میں جان سے گزر جاؤنگا تمہیں پانے کے لئے ۔میرا کوئی نہیں بس تم ہو صرف تم ۔۔مجھے کبھی اکیلا نہ کر دینا ۔۔۔بکھر جاؤنگا میں ۔"
کون ایسا بے حس ہوگا جو یہ سب سنکر پگھل نہ جائے ۔شاید بے جان سنگِ مر مر کے سامنے دو زانوں ہوکر کوئی روز اسطرح کے جملے دہرائے تو وہ بھی پگھل کر آنسو بن جائے ۔وہ ضد وہ محبّت  یا جو کچھ بھی تھی جیت گئی کہ اسے جیتنا ہی تھا جب دو دل ایک ساتھ دحڑکنے لگیں تو اور کوئی آواز سنائی کہاں دیتی ہے ؟
اور جب یہ بات دعا کے گھر تک پہونچی تو ایک طوفان سا آگیا ۔
"مجھے یقین ہے کہ یہ بات غلط ہوگی " بہن کا اعتماد بول رہا تھا ۔
"میں اسے جان سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"بھائی کا جلال دہاڑ رہا تھا ۔
"مگر مجھے وہ پسند ہے  میں اسکے بنا نہیں جی سکوں گی ۔۔"وہ باپ کے زانوں پر سر رکھّے سسک رہی تھی ۔
وہ خاموش افسردہ اسکے آنسوؤں بھرے چہرے کو تک رہے تھے گویا سارے آنسو اپنے دل پر لے رہے ہوں ۔
"آخر تم وہاں پڑھنے گئی تھیں یا یہ سب کرنے  ہم زندہ ہیں نا تمہارے لئے سوچنے کو " بڑی بہن نے ایک تھپّڑ رسید کیا ۔
مگر باپ نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا ۔
"نہ مارو ۔۔بن ماں کی بچّی ہے "انھوں نے اپنے آنسوں کرتے کی آستین سے صاف کئے ۔
"فکر مت کرو انھوں نے دعا کا سر سینے سے لگا یا ۔۔۔بس مجھے کچھ وقت دے دو ۔۔"
مگر اسے صبر کہاں تھا ۔
ان ساری مشکلوں کو طے کرتی ہوئی ،اپنوں کے دلوں کو روندتی ہوئی آگے بڑھ گئی دعا ۔
نئی زندگی تھی ۔۔۔نئے نئے رنگ تھے وہاں پرانے آنسو یاد بھی کہاں آتے کسی کے ،خواہ وہ بہن کے ہوں بھائی کے یا اپنے شفیق باپ کے ۔شادی ہوگئی تاج محل کی بنیاد رکھ دی گئی ۔
مگر ایک درار تھی  ایک گرہ تھی  یا شاید احساسِ جرم ۔۔خوشیان کترا نے لگی تھیں ۔
بیفکری کی زندگی ختم ہوچکی تھی ۔بہت کچھ بر داشت  کر نا پڑ رہا تھا ۔
اور پھر قدرت کا ایک تماچہ ایسا تھا جس نے اسے بے حال کردیا ۔
"میں نے تو اسے گود میں بھی نہیں لیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔"وہ چیخ چیخ کر رورہی تھی ۔
مگر وہاں کوئی نہیں تھا جو انکے آنسو ؤں کو اپنی پوروں میں سمیٹ لیتا وہ آنسو جو دعا اپنی پہلی اولاد کے لئے بہا رہی تھی وہ اسکا اپنا دامن ،اپنا گریبان بھگو رہے تھے ما متا کے درد نے اسے بے حال کردیا تھا ۔
یہ اسکی  پہلی دعا تھی جو ٹوٹ کر بکھر رہی تھی ۔ننھا ساوجود جھولے میں ہنستا کھیلتا خاموش ہوگیا ۔اور وہ کچھ نہ کر سکی ۔۔
ایک طوفان تھا جسنے تاج محل کو دھندلا کر دیا تھا  وہ تکلیف جس سے دعا گزری کوئی تصورّ نہیں کر سکتا تھا ۔۔اسکا ساتھی  بھی نہیں ۔
اور تب پتہ چلا کہ اولاد کا  درد کیسا ہوتا ہے
۔اور تب پتہ چلا کہ باپ بھائیوں کا سایہ کیا ہوتا ہے
۔۔اور تب سمجھ میں آیا کہ اکیلا پن کیا ہوتا ہے آنسو کیا ہوتے ہیں چیخیں کیا ہوتی ہیں ۔
دو برس کے بعد خالی گود کے ساتھ اپنے گھر کے در ودیوار دیکھے ۔
"آگیئں منھ کالا کر کے ۔۔" منھ پھیر لیا گیا ۔
"وہ شادی کر کے گئی تھی " کوئی ہمدرد بھی موجود تھا ۔
"ہنھ ۔۔   شادی ۔۔۔۔۔گھر والوں کی مرضی کے خلاف ۔۔"
"باپ تو راضی تھے ۔۔"ہمدرد کا دل دکھا شاید ۔
"راضی نہیں مجبور تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

 طنز کے سلسلے قائم رہے وہ دیواروں سے لپٹ کر روئی ۔
دوستوں نے منھ پھیر لیا عزیزوں نے اپنی محفلوں میں بلا نا چھوڑ دیا ۔اسکے دل میں کانٹے چبھتے ۔۔۔مگر ایک چپ تھی بس ایک چپ ۔
دبلا بدن کانٹے جیسا ہو گیا تھا ۔پیلا چہرہ ، خالی آنکھیں ۔ ۔لوگ اس پر ترس کھانے لگے تھے
۔کبھی کبھی تو اسکا شاہ جہاں بھی پوچھ بیٹھتا ۔۔
"تمہاری آنکھوں کی چمک کہاں کھو گئی ہے دعا ؟"
وقت کے بہت سارے ورق الٹ گئے ۔اللہ نے اپنی رحمت سے نواز دیا تھا ۔دعا کی گود بھر گئی تھی ۔۔
مگر تبھی دوسرا تماچہ اسکی زندگی کو روندتا چلا گیا ۔چاہنے والے ابّا کی میّت پر بھی نہ جاسکی ۔۔ہزاروں میل کی دوری ۔۔پر دیس میں اسنے دکھ اکیلے ہی منا یا جہاں نہ آسمان اپنا تھا نہ زمین ۔سمندر کا نمکین پانی اسکے آنسوں میں ملکر بہتا رہا ۔
تاج محل پر دھول تو بہت پہلے پڑنے لگی تھی مگر اب بھی کبھی دھندلا  دھندلا نظر آجاتا تھا ۔
اچھّی بیوی بننے کی کوشش میں اپنے آپ کو مٹا دیا اسنے ۔ہر حال میں خوش رہ کر دکھا یا اسنے ،گھر کو سجا یا سنوارا ۔اسکے دوستوں کی دعوتیں کرتی گرمی میں بے حال ہوکر بھی اپنے آپ کو سجا سنوار کر پیش کرتی ۔فر مائیشوں کے کھانے پکاتی کبھی تھکن کی شکایت بھی لبوں پر نہ آنے دیتی ۔
اب اور کیا چاہیئے تھا زندگی سے ۔مگر ابھی قدرت کے پاس کچھ تیر باقی تھے ۔
پر دیس تو سبھی جاتے ہیں مگر یوں جاکر وہاں کے باسی ہوجانا ؟ جبکہ بچّے یہاں منتظر ۔۔۔بیوی یہاں آس میں اور یہ میلوں کی دوری دلون کی دوری بن رہی تھی ۔اس زندگی کو جسے بڑے شوق سے جینے کے لیئے گھر والوں سے چھین کر لائے تھے ۔۔وہ یہاں مہینوں خط اور فون کے انتظار میں بے چین رہتی  ۔
سکوت ِ فکر میں ایک اور سال بیت گیا ۔دو سال ۔۔۔تین سال ۔۔چار ۔۔مگر دعا کا اعتبار اب بھی قائم
ادھر ادھُر کی گفتگو سنائی دیتی مگر دعا کی سما عت میں تو اسکی شہد جیسی باتیں گھلی تھیں ۔عرصہ ریت کی طرح اسکے اوپر سے گزر گیا
وہ ایک قیامت کی شام تھی ۔جب اسنے بے قرار ہوکر فون کیا ۔
"بہت یاد آرہی ہے تمہاری ۔۔بڑا عجیب خواب دیکھا ہے ۔۔" وہ بے چینی سے بیان کر رہی تھی اور ادھر ہان ہوں سے پتہ چل رہا تھا کہ فون ناگوار ہو رہا ہے ۔
"کچھ بولو۔۔۔"
کیا بولوں ؟ تمہارے خوابوں سے میرا کیا تعلق ۔۔۔۔؟"وہ ششدر رہ گئی ۔
'ارے کیا ہے یار جلدی بولو ۔۔یہاں میٹنگ چل رہی ہے ۔۔" پیچھے سے دبی دبی ہنسی سنائی دی ۔
"گیارہ بجے رات      کو    میٹنگ ؟؟ "تجسس تو فطری جذبہ ہے دل کی بات ٹوٹ کر ہونٹوں پہ آئی ۔
"ایک خوبصرت لڑکی کے ساتھ بیٹھا ہو ں مصروف ہوں ۔۔اب بولو ۔"
وہ دکھ اور بے یقینی سے کانپنے لگی ۔۔تبھی ادھر کسی نے اٹھلا کر کہا ۔
"بس بہت ہوگیا اب بند کرو فون ۔"
وہاں نئی ممتاز محل ہنس رہی تھی ۔۔ایک نئی تعمیر جاری تھی ۔
اڑا ڑا ڑا دھڑام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پرا نا مکان گر تا ہے نیا مکان اٹھتا ہے ۔۔بڑھیا اپنے ارتن برتن اٹھاؤ ۔۔۔۔۔تاج ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہا تھا وہ ملبے میں دبی جارہی تھی جیسے کوئی   تاج محل کے پتھّروں سے  سنگسار کر رہا ہو اسے ۔
:٭ :٭ :٭









Monday, April 24, 2017

دل کے رشتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔انجم قدوائی
روز یہی ہوتا تھا روز یہی کرتی تھی وہ ۔سر خ ،سفید یا نیلی کوئی بھی فراک پہن کر آئے ،کتنی بھی فرِش نظر آئے مگر یہی حال ہوتا تھا ۔مالی ڈرایئور گھر کی کام والی کے بچّوں کے ساتھ  کھیلنا پسند تھا اسے ۔وہ ہیشہ صبح ایک پھول کی طرح نمودار ہوتی اور شام تک گہنائے ہوئے چاند کی طرح گھر کے اندر غروب ہوجاتی ۔
وہ اس چھوٹے سے اسکول کی کچّی دیوار پر چڑھی بیٹھی مستقل پیر ہلا رہی تھی ۔فراک کی جھالر پھٹ کر اسکے گھٹنے سے الجھی ہوئی  اور چپل دھول میں اٹی ہوئی تھی ۔
"حلیہ دیکھا تم نے اپنا ؟؟  اسنے کڑھ کر اسے ڈانٹا
"کیا ہوا ہے ۔۔۔؟  ماہی نے جھک کر اپنے پیروں پر نظر ڈالی ۔۔اور پھر بیفکری سے پیر ہلانے لگی ۔
"کچھ نہیں ہوا ؟؟ کتنی گندی لگ رہی ہو تم گاؤں کے گندے سندے بچوں کے ساتھ  کھیلا کر تی ہو "
"وہ بالکل گندے نہیں ہیں ،دن میں دوبار نہاتے ہیں نہر سے ۔۔"
"اچھّا ۔۔۔جہاں بھینسیں نہاتی ہیں وہیں نا ۔۔۔؟
ہاں تو ؟؟
"کچھ نہیں ۔۔۔جاؤ مرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
میں کیوں مروں   تم مرو ۔۔" وہ کود کر ادھا کھایا ہوا امرود پھینکتی ہوئی اپنے گھر کی طرف مڑ گئی ۔
وہ وہیں بیٹھا سوچتا رہا  کڑھتا رہا ۔
وہ ایسی ہی تھی صبح صبح  گلابی فراک پہنے دو چھوٹیاں گوندھے ہوئے  صاف ستھری ،گاؤں  کے اس پرائیمری اسکول میں آتی اور سب بچوں کے جانے کے بعد بھی جانے کا نام نہ لیتی ۔۔۔۔
وہ اس سے کچھ پوچھ نہیں سکتا تھا تھا نہ جانے کیا جھجھک تھی ان کے درمیان ۔
وہ خاموش اپنے آپ میں کھویا ۔
عمر گزرتی رہی       
حالات بدلتے رہے  ۔اب وہ بہت بدل گئی تھی اپنے آپ کو سجا نا سنوارنا آگیا تھا  شہر کے ہوسٹل میں رھ کر اسے اپنے چاروں طرف اجا لا پھیلائے رکھنے کا ہنر بھی ۔
وہ اب بھی کچھ نہ کہہ سکا اور وہ دور ہوتی چلی گئی ۔۔۔اور دور ۔۔اور دور ۔
خبریں ملتی رہتیں ۔اسکا میاں بڑا بزنس مین ہے  وہ بہت خوش ہے ۔بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھ کر میکے آتی ۔لش لش کرتے لباس پہنتی اسکے جانے کے بعد بھی گاؤں میں کئی دن اسکا چر چا رہتا اور وہ کتاب میں منھ چھپائے بظاہر لاپر واہ اسکی دائیمی خوشیوں کی دعائیں کرتا  رہتا ۔
ایک نازک سی ہمسفر کے آجانے سے زندگی بہت بدل گئی ۔وہ بے حد مخلص اور بر داشت والی لڑکی تھی ۔اسمیں زرا بھی بچپنا نہیں تھا ۔وہ سنجیدگی سے مسکراتے ہوئے اسکی ساری ضروریات پوری کرتی  مگر ایک خلا تھا ۔۔۔۔۔۔۔جو پرُ ہی نہ ہوتا تھا
ہلکی ہلکی بوندیں پڑ رہی تھیں وہ کاہلی سے لیٹا رہا  ۔اینٹوں کے بنے ہوئے آنگن  میں دونوں  بچّے  شور مچاتے ہوئے بھیگ رہے تھے ۔وہ برامدے میں بیٹھا اُداسی سے انھیں کھیلتے دیکھتا رہا ۔
اذان کی آواز سے چونک کر کرتے کی آستین الٹتے ہوئے اسنے بیٹے کو پکارا ۔

چلو علی وضو کرو ۔۔۔
بس بابا تھوڑا سا اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسنے دور پڑی ہوئی بال اٹھائی ۔
کل کھیلنا بیٹے مغرب کی اذان نہیں سنی آپ نے ۔۔۔؟"
وہ خود اُداس اُداس سا وضو کرتا رہا ۔
نہ جانے آج کیوں یاد آرہی ہے   رنج سے میرا  اتنا گہرا  رشتہ کیوں ہے ۔۔۔
ابتک تو وہ ٹھیک بھی ہوگئی ہو گی  اسکی طبیعت کی خرابی تو کافی پہلے کی بات ہے ۔اس گرمی میں تو وہ نینی تال یا کشمیر میں گھوم رہی ہوگی ۔۔بوٹنگ کر تی پھر رہی ہوگی ۔شاید آج اسنے گہری ہری ساری پہنی ہو ۔
وہ اپنی ذمہ داریاں دل وجان سے پوری کرتا رہا تھا پھر بھی دل کی یہ خلش کبھی کبھی بہت بے چین سا کر دیتی ۔اور جب چھوٹی بہن عاصمہ نے اسکی بیماری کا بتا یا تو اور بھی بے چین ہوگیا ۔کہتے ہیں وقت ایک سا نہیں رہتا ۔اب اسکی ہنسی میں آنسو ؤں کی نمی بھی در آئی ہے  آج عا صمہ کی باتیں اسکو دہلا رہی تھیں ۔ماہ رخ دو بچوں کی ماں ہے ۔ابتو کئی کئی دن اسکے گھر کی دہلیز سونی رہتی ہے  وہ بچوّں کے ساتھ راہ دیکھتی رہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔پھر سنا وہ شہر چھوڑ گیا ۔تنہائیاں اسے نچوڑ رہی تھیں وہ دروازے پر آس لیئے بیٹھی رہتی ہے مایوسی نے اسکے جسم میں اپنے پنجے گاڑ دیئے ہیں ۔یہ بتا تے بتا تے عاصمہ کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں ۔اور پھر جب بیماری کی خبر آئی تو وہ ساری مصلحتیں بھول کر پہلی ٹرین سے دہلی میں تھا ۔
ہاسٹل کا سر چکرا تا ہوا ماحول عجیب سی وحشت وہ سارے مراحل سے گزرتا ہوا اسکے کمرے میں پہونچا تو اسکا دل پھٹنے لگا
کہاں تھی وہ ؟؟ یہ تو سایہ تھا اسکا  گہری ویران آنکھیں  مایوس نظر  ۔
ہونٹوں پر مسکراہٹ نام کو نہیں تھی  سر سراتی ہوئی تنہائی اسکے آس پاس ڈول رہی تھی ۔
اچانک کمرے میں خوشبو کا ایک بھپکا آیا ۔گرے سوٹ  ہاتھ میں قیمتی موبائیل تھامے ہوئے وہ اندر داخل ہوئے تو وہ گھبرا کر کھڑا ہوگیا ۔ہاتھ ملانے کے لیئے آگے بڑھا اور برُی طرح نظر انداز کیا گیا ۔رعونت بھری نظروں میں اسے باہر نکل جانے کا حکم تھا اور وہ باہر نکل گیا ۔
"اب تو ٹھیک بھی ہوگئی ہوگی ۔"۔۔اسنے خود کلامی کی ۔
اسنے برامدے کے ساتھ بنے چھوٹے سے باورچی خانے میں کام کرتی اپنی بیوی پر نظر ڈالی ۔اسکے سوتی  کپڑے گنجلے ہوئے  سے  تھے چہرے پر پسینے کے ساتھ ساتھ ایک آسودگی اور اطمینان بھی تھا ۔
دور کہیں ہاسپٹل کے اسپیشل وارڈ میں لیٹی ماہ رخ نے کروٹ بدلی تو ہاتھ میں لگی ہوئی ڈرپ کی سوئی نے بے چین کر دیا ۔
"آہ ۔۔۔۔۔"اسنے کراہ کر اپنا ہاتھ تھام لیا ۔
کمرے کے باہر کھڑا ہوا اسکا باوقار شوہر ڈاکٹر پر برس رہا تھا ۔
"آخر آپ بتا تے کیوں نہیں آپکو پرا بلم کیا ہے ۔۔۔؟"
"سر ۔۔پرابلم مجھے نہیں آپکی مسز کو ہے ۔"ڈاکٹر شاید اسکے انداز سے متا ثر تھا ۔
ہم لوگ اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں باقی اللہ کی مرضی ۔"
"عجیب باتیں کر رہے ہیں آپ ۔میں پروگرس کی بات کر رہا ہوں اور آپ مجھے واعظ دے رہے ہیں ۔آپکو اندازہ بھی ہے کہ کتنی اہم میٹنگس چھوڑ کر یہاں بیٹھا ہوں ۔۔؟ "
"سر ۔۔ہم یقینی طور پر کیسے کچھ کہہ سکتے ہیں ہمارے ہاتھ میں جو ہے وہ کر رہے ہیں ۔اگر انکی زندگی ہے تو ضرور بچ جائینگی ورنہ حالت بہت خراب ہو چکی ہے ۔بہت دیر کر دی گئی علاج میں ۔"
"ہنھ ۔۔۔۔۔زندگی ہے تو بچ ہی جائینگی اسمیں آپکا کیا کمال ہے ۔۔" وہ بڑ بڑا تا ہوا کمرے کے اندر آگیا اور بیڈ کے قریب پڑے ہوئے صوفے پر ڈھیر ہو گیا ۔۔
سامنے پڑے اخبار کو اٹھاتے ہوئے اسنے پلنگ پر لیٹی ماہ رخ پر نظر ڈالی اور بڑ بڑانے لگا
"ایک ایک منٹ قیمتی ہے میرا ۔۔۔اور یہ ڈاکٹر ۔ہنھ ۔۔۔" اسنے جھٹکے سے اخبار کا صفحہ پلٹا ۔۔۔کاغذ کی کھڑ کھڑا ہٹ اور اسکے لہجہ کی ٹھنڈک ماہ رخ کے اندر تک گئی ۔اسنے بڑی دقّت سے آنکھیں کھول کر اپنے خوبرو شوہر پر نظر ڈالی ۔وہ آج بھی ویسا ہی خوبصورت تھا  لمبا قد  کھُلتا ہوا رنگ اور پھر اسکا اپنا رکھ رکھاؤ جسکی وجہ سے وہ لاکھوں میں الگ پہچا نہ جاتا تھا ۔اسکے بات کرنے کا ڈھنگ  اسکی مسکراہٹ اور ۔۔۔اور ۔۔۔اسکی بے وفائیاں ۔
شاید یہ آخری ہچکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دور کہیں دوسری رکعت پڑھتے پڑھتے اسے جھر جھری سی آئی آنکھوں کے آگئے اندھیرا سا چھا گیا ۔وہ مصّلے پر بیٹھ گیا ۔"یا اللہ اسکی حفاظت کر نا ۔" اسنے کانپ کر دعا کی اور چہرہ ہاتھوں سے چھپا کر نہ جانے کیوں آنسو بہا نے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔