'' ماہ تمام ''
معززاراکین فورم !
سوشل میڈیا کے سب سے بڑے اور معتبر ترین ایونٹ عالمی افسانہ میلہ ( 2017 ) کو کامیاب بنانے میں صدرِ محفِل ، معزز مہمانان ، تخلیق کار خواتین و حضرات اور قارئین نے جس طرح اپنا حصہ ڈالا اس کے لیے ہم آپ سب کے تہہ دل سے شکرگزار ہیں ۔ آپ کی بھرپور شرکت کے بغیر اس قدر شاندار ایونٹ کروانا ممکن نہ هوتا ، اُردُو ادب میں افسانہ نگاری کی روایت بہت پُرانی هے ، ابتدا سے اب تک اِس فن نے طویل مُسافت طے کی هے ، ارتقائی منازل طے کرتے هوئے مغربی ادب سے استفادہ بهی کِیا اور ایک تسلسل سے ترقی کی هے ، ایک مخصوص تہذیبی پس منظر کی وجہ سے اختلاف عین فطری عمل هے ، لیکن ایک بات پر ادیب اور نقاد مُتفق ہیں کہ وہ شاعری هو یا فنِ افسانہ نگاری ادب مُعاشرے میں بے اعتدالیوں اورنا ہمواریوں سے جنم لیتا هے ، اورلکهنے والا اِس فنی شعُور کی پختگی اور بیان کی خُوش اسلوبی کو فن کا رُوپ دے کر دوام بخشتا هے ، اِس تخلیقی عمل کا مقصد اصلاح اور آسُودگی هوتا هے ، افسانہ نگاری کے ارتقاء میں جہاں ادیبوں کے فنی شعُور اور کاوشوں کا دخل هے وہاں بذات خُود اِس صنف میں ترقی کرنے کی صلاحیت موجُود هے ۔
عالمی افسانہ فورم نے دُنیا بهر کے افسانہ نگاروں کو صبر اور برداشت کا درس دینا چاها هے ، تا کہ سِیکهنے اور سِیکهانے کی فضا قائم رهے ، لمحہِ فِکریہ یہ هے کہ ، پهر اُسی بندُوق کی نالی هے میری سِمت کہ جو اِس سے پہلے بهی میری شہہ رگ کا لہو چاٹ چُکی ، کتنے افسانے ہماری نظر سے گُذرے ہیں ، لکهنے والا عُجلت کا شِکار نظر آیا ، پهر قاری سے نقاد سے ، تبصرہ نگار سے کیا شِکوہ کرنا ، اگر آپ اپنی تحریر کو خُود تنقیدی نگاہ سے دیکهتے ، تو اِن لوگوں کو بُرا بننے کی کیا ضرُورت تهی ، میں نے پہلے بهی کہیں کہا تها کہ ( ادب سو مِیٹر کی دوڑ نہیں هے ) آپ نے کبهی کسی بچے کو کہانی سُنائی هے ؟ وہ کہانی کے دوران بہت سے سوال پُوچهتا هے ، قاری بهی بچے کی طرح هوتا هے ، افسانہ پڑهتے هُوئے کئی سوال قاری کے دماغ میں آتے ہیں ، جِس کا جواب بہرحال داستان گو کو دینا هوتا هے ، لہذا لکهنے والے کو چاهیئے کہ نہ صِرف یہ کہ وہ اپنی کہانی بیان کرئے بلکہ ساتھ ساتھ قاری کے دماغ میں اُٹهنے والے سوالوں کا جواب بهی اپنی تحریر میں ( یعنی افسانے میں ) دیتا رهے ، یاد رکهیئے کہ قاری لکهنے والے سے دو قدم آگے هوتا هے ۔
عالمی افسانہ فورم اور اُس کے ایڈمنز اور معتبر تبصرہ نگار آپ کو آئینہ دکها سکتے ہیں ، آپ کی تحریر میں کیا کمی هے وہ بتا سکتے ہیں ، تا کہ آپ اپنی تحریر کو بہتر بنا سکیں ، مگرآپ کا ردِ عمل ہمیں یہ سوچنے پر مجبُور کرتا هے ، کہ هم نے اُن لوگوں کو آئینہ کیوں دِکهایا ؟ جِن کا چہرہ ہی نہیں هے ، زمانہ بدل گیا هے ، ایک وقت تها کہ اُستادوں کے جُوتے سیدهے کرنے پر فخر کِیا جاتا تها ، اُن کے گهر کا پانی بهرا جاتا تها ، پهر کہیں جا کر گیان مِلتا تها ، اُستاد کے پاس خزانہ هو نہ هو ، خزانے تک پہنچنے کا نقشہ ضرُور هوتا هے ، آج چاهے اُستاد نامی گرامی پہلوان کو خُود نہ گِرا سکتا هو ، مگر آپ کو گِرانے کا گُر بتا سکتا هے ، ہارنے والے کے پاس جِیت کے راز هوتے ہیں ، وہ شمع جو رات بهر جلتی رہی ، صُبح کا سُورج اُس سے آنکھ نہیں مِلا سکتا ، هم لوگ اپنی روایت کے قاتل ہیں ، ہمیں سزا ملنی چاهیئے ، کیونکہ شاگرد اپنی کمزور تحریر پر اُستاد سے بد کلامی کر رها هے ،
؎ ایک تو خواب لیئے پِهرتے هو گلیوں گلیوں
اُس پر تکرار بهی کرتے هو خرِیدار کے ساتھ
همارا مُعاشرہ تو بیمار هے اور یہ کیسے مُمکن هے کہ ایک بِیمار ٹہنی پر صحت مند گُلاب کِهلے ، لکهنے والے کی یہ عُجلت نہیں تو اور کیا هے ؟ اُردُو زبان میں ایک لفظ کے چار چار مُتبادل هونے کے باوجُود جلد بازی میں انگریزی کے لفظ استمال کر جاتے ہیں ، ایک لمحے کو بهی اُردُو زبان کے خزانے پر نظر نہیں ڈالتے ، گلزار نےکہا کہ
؎ فقیری میں نوابی کا مزہ دیتی هے اُردُو
کسی لکهنے والے نے دستک کو نوک لکها ، کہاں دستک ؟ دستک جب آپ لکهتے ہیں تو ایسا معلُوم هوتا هے کہ جیسے کوئی دروازے پر کهڑا هے اور دستک دے رها هے ، نوک پر تو دروازہ بهی کهولنے کو دل نہیں کرتا ، اِسی طرح جب آپ بانسُری لکهتے ہیں تو وہ بجنے بهی لگتی هے ، پائل ، چُوڑیاں ، اپنی مثال آپ ہیں ، قوسِ قزح لکهنے پر جو رنگ سامنے آتے ہیں وہ رین بو میں نمایاں نہیں هوتے ، جہاں مُصنف کی یہ عُجلت باعثِ ندامت هے وہاں لمحہِ فِکریہ بهی ، لکهنے والا موضوع کی بنجر زمیں پر اپنی سوچ کا ہل چلاتا هے ، کتنے افسوس کی بات هے کہ جب زمین هموار هو جاتی هے تو اُس کے پاس بونے کو لفظوں کے خُوبصُورت بِیج نہیں هوتے ، مانگے هوے زیور پہننے سے مُجهے نفرت هے ، میں اپنی خاک اپنی پوشاک پر فخر کرتا هُوں ،
دُنیا کا کوئی بهی کاریگر اپنے اوزار کے بغیر کام نہیں کر سکتا ، کوئی بهی مصور رنگوں کے بغیر تصویر نہیں بنا سکتا ، تو پهر لکهنے والا بهی نہیں لکھ سکتا جب تک اُس کے پاس لفظوں کا ذخیرہ نہ هو ، یاد رهے کہ عالمی افسانہ فورم ایک درسگاہ هے ، جہاں هم ایک دُوسرے سے سِیکهتے ہیں ، هم لکهنے والوں کا قبیلہ ایک هے ، شوق ایک هے ، میدان ایک هے ، جنگ ایک هے ، تو پهر هم ایک دُوسرے سے سیکهتے کیوں نہیں ، آپ کا اِسلوب اچها هے ، تو مُجهے آپ سے سِیکهنا چاهیے ، اُسکا بیانیہ اچها هے ، تو آپ اُس کے بیانیہ سے سیکهنے میں شرم محُسوس نہ کریں ۔
خاندان کے لوگوں میں لین دین توچلتا ہی هے مُجهے اچهی طرح یاد هے کہ بچپن میں سکول جاتے هوے هم چاروں بهائی تیار هوتے ایک دُوسرے کی بڑی مدد کرتے تهے ، میں اپنی قمیض کے بٹن اُوپر نیچے لگاتا تها ، دُوسرے بهائی بٹن تو ٹهیک لگاتے مگر اُن کو ٹائی باندهنے میں مسئلہ تها ، اور جو بهائی ٹائی باندهنے میں ماهر تهے وہ بُوٹ کے تسمے باندهنے میں مہارت نہ رکهتے تهے ، هم ایک دُوسرے کی بڑی مدد کرتے تهے هم سب نے ایک دُوسرے سے سِیکها ، تو یہاں کیوں نہیں ، میں ادب اور سنجیدگی کے باہمی اور گہرے رشتے کا پوری سنجیدگی سے قائل ہوں، اسی لیے سمجھتا ہوں کہ اعلیٰ ادب میں جس چیز کو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ ہم محسوس کرتے ہیں، وہ اعلیٰ سطح کی سنجیدگی ہے۔ ادب میں سنجیدگی سے مُراد ہے ایک ذمہ دارانہ اور باشعور رویّے کا اظہار۔ یہ اظہار موضوع کے انتخاب میں بھی ہوتا ہے، اُس کے ٹریٹمنٹ کے مرحلے میں بھی ہوتا ہے، اسلوبِ بیان کے ذریعے بھی ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں اس رویّے کا اظہار لفظیات میں اور متن کے سانچے میں بھی ہوتا ہے اور اس کے ساتھ معنی کی سطح پر بھی ہوتا ہے۔ یہی نہیں، بلکہ اس سے آگے معنی کے معنی میں بھی اس کا اظہار ہوتا ہے ۔
همیں ایک دُوسرے سے بس یہ ہی سیکهنا هے ، اس میلہ میں جس طرح آپ سب نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ، تجزیوں اور تبصروں میں شریک ہوئے ۔ اپنے افسانے پیش کیے ۔ اور اس میلہ کو کامیاب بنایا اس کے لیے عالمی افسانہ فورم کی انتظامیہ آپ سب کی بے حد شکرگزار هے ، میں نے کہا تها کہ ، سِلسلہ ٹُوٹا نہیں هے درد کی زنجیر کا ، عالمی افسانہ فورم اپنے سارے رنگ آپ پر نِچهاور کر کے اب چلا هے نئے اُفق کی تلاش میں ، کہ هم اپنا امریکہ خُود دریافت کرتے ہیں ، میر وسیم
No comments:
Post a Comment