بے نشان ۔
وہ لندن کی ایک کہر بھر شام تھی ۔ارم کی امّی کا شدید بیماری کے بعد کل شام انتقال ہوگیا ۔درو دیوار سے سوگواری ٹپک رہی تھی ۔زندگی کے تمام ہنگامے سرد پڑ چکے تھے ۔سب مریم کو سنبھال رہے تھے مگر وہ ہاتھوں سے نکلی جارہی تھی ۔ دو دن اسی طرح درد برداشت کر تے ہوئے گزر گئے ۔یہاں کام رکتا نہیں تو آج سب اپنے اپنے کام پر نکل رہے تھے اُداسی اور پریشانی اپنی جگہ مگر جینے کے لیئے کام تو کر نا ہی تھا ۔گھر میں بس میں اور ارم ہی رہ گئے تھے جب وہ سسکتی ہوئی میرے کمرے میں آگئی ۔
"چچی پلیز مجھے قبر ستان لے چلیے ۔"
اسکی آواز میں آنسو گھلُ رہے تھے ۔
"ہاں ضرور چلوں گی مگر تم پہلے اپنے آپ کو سنبھالو ۔۔یہ حال جو تم نے بنا یا ہے بھابی ہوتیں تو کتنی پریشان ہوتیں ۔" میں نے اسکا سر سینے سے لگا لیا ۔
"دیکھو بی بی چلے جانے والے کا اتنا غم نہیں کرتے کتنی نیک عبادت گزار تھیں وہ ۔یاد ہے کہ انکا چہرہ کتنا پرُ نور تھا ؟ سب یہی کہہ رہے تھے کہ گو یا سو رہی ہوں ۔انکا سکون بر باد مت کرو ۔ اسطرح دل دکھاتی رہو گی تو انکی روح تڑپتی رہے گی میری بچّی ۔انکے لیئے دعا کرو ۔" میں اسکو دھیرے دھیرے سمجھا رہی تھی اور اسکی سسکیاں میرے اندر تک اتر تی رہیں ۔
بن ماں کی بچّی کس قدر بے بس اور اکیلی ہوتی ہے مجھے اسکا بخوبی اندازہ ہے ۔
دوسرے دن سہ پہر کو علی جب آفس سے آئے تو ہمیں قبرستان لے گئے ۔ارم گاڑی سے اتر تے ہی علی کا ہاتھ تھامے بھاگتی ہوئی اس جگہ تک پہونچ گئی جہاں بھابی آرام کر رہی تھیں ۔وہ وہاں دوزانوں ہوکربیٹھ گئی ۔ بے تہاشہ رو رہی تھی ۔مجھے بھی آنسوں پر قابو نہ رہا ۔کچھ دیر بعد علی کو واپس جا نا تھا مگر ارم ابھی جانے کے لیئے تیّار نہیں تھی ۔میں نے علی کو واپس بھیج دیا ۔انکو کچھ کام کرنے تھے ۔سو چا واپسی پر ہم ٹیکسی کر لیں گے ۔
لندن کا یہ قبرستان گو کہ بہت صاف ستھرا اور روشن اور منّور تھا مگر تھا تو قبرستان ۔ایک عجیب سا سننا ٹا اور وحشت ہر طرف ڈیرا جمائے ہوئے تھی ۔۔کنارے کئی پیڑ لگا ئے گئے تھے ۔بیچ بیچ میں کیا ریوں میں پھول بھی تھے مگر خود رو گھانس کی صفائی روز تو نہیں ہوسکتی تھی ۔
کافی دیر تک ہم دونوں قبر کے پاس بیتھے دعائیں پڑھتے رہے پھر ارم ایک طرف پیڑ سے سر ٹکا کر بیٹھ گئی ۔بہت رولینے سے کچھ دل ہلکا ہوا تھا مگر سر میں درد محسوس ہو رہا تھا ۔دل ہی دل میں شاید ماں کے لیئے دعائیں کر رہی تھی یا باتیں کر رہی ہو ۔۔بند آنکھوں سے بھی آنسوں کے قطرے چہرے پر پھیل رہے تھے ۔
ہر طرف سننّا ٹا چھایا ہوا تھا ایکّا دُکا گاڑیاں آواز کرتی قریب سے نکل جاتی تھیں ۔
درختوں کے کچھ بڑے پتّے قبروں پر سایہ کیئے ہوئے تھے ۔ایک طرف پیڑ کے نارنجی پتّے ایک قبر پر جھکے ہوئے تھے وہیں وہ بیٹھی تھیں ۔
سفید پوشاک پر سیاہ اسکارف لگائے ۔سرخ وسفید چہرہ اور متّورم آنکھیں ۔یہی کوئ چالیس پینتا لیس کی ہونگی ۔سر جھکائے خاموش اور اکیلی قبر کے پاس بیٹھی تھیں ۔میں نے ارم پر نظر ڈالی وہ پیڑ کے تنے سے ٹکی ہوئی کچھ پرُ سکون سی آنکھیں بند کیئے بیٹھی تھی میں اٹھ کر انکی طرف آگئی ۔
پاس بیٹھ کر انکا ٹھنڈا یخ ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر سہلاتی رہی ۔پھر بہت ہمتّ کر کے پوچھا ۔
"کون ہیں یہ بی بی ۔۔۔۔۔۔۔؟"
"میرا اکلوتا بیٹا ۔راحیل ۔۔۔"انھوں نے سسکی لی ۔
وہ ایک پرانی سی بنی قبر تھی اسپر کوئی کتبہ بھی نہ تھا شاید ٹوٹ چکا تھا میں ان سے اب کوئی سوال نہیں کر نا چاہتی تھی کہ انکا دل اورنہ دکھے ۔پہلے فاتحہ پڑھا پھر انکو دیکھ کر آس پاس کی گھانس صاف کر نے لگی وہ قبرپر جمی ہوئی سوکھی گھانس کافی حد تک اپنی کمزور انگلیوں سے صاف کر چکی تھیں اور ایک بیگ میں بھر رہی تھیں ۔
"کیا ہوا تھا بی بی ۔۔۔" میںے خاموشی توڑنے کی کوشش کی ۔
"کچھ نہیں ۔بس اللہ کی مرضی اب تو برسوں بیت گئے ۔آج اس شہر آئی تو ۔۔۔۔۔"انھوں نے اپنے آنچل سے آنسو صاف کئے ۔
قبر کسی حد صاف ہوچکی تھی بس ایک کونہ رہ گیا تھا جسپر سخت گھانس ابھی بھی سر اٹھائے کھڑی تھی انکی انگلیاں شاید زخمی بھی ہوگئی تھیں ۔مجھے واپس بھی جا نا تھا مگر وہ اکیلی تھیں اسلیئے تذذب میں تھی ۔انکے شوہر لینے آنے والے تھے ۔گہرے بادل گھر کر آگئے تھے مجھے پریشانی سی ہونے لگی تھی ۔ارم بھی اٹھ کر ادھر ہی آگئی ۔ایسے موسم میں انکو اکیلا کیسے چھوڑ دیتی ۔تبھی ایک گاڑی گیٹ کے پاس آکر رکی اور انھوں نے اپنا سرخ چہرہ اٹھا کر اُدھر دیکھا ۔نیلے سوٹ میں وہ صاحب تیز تیز چلتے ہوئے ادھر ہی آرہے تھے ۔وہ صاحبہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر آہستہ آہستہ کھڑی ہوگئیں ۔قبر پوری صاف ہوچکی تھی اور انھوں نے ساتھ لائے ہوئے پھول اس پر بچھا دیئے تھے ۔آنے والے صاحب نے پہلے قبر کی طرف دیکھا پھر انکی طرف نگاہ کی اور گویا ہوئے ۔
"زبیدہ یہ تم نے کسکی قبر پر پھول رکھ دیئے ؟ راحیل کی قبر تو یہاں ہے اس درخت کے نیچے ۔ تم سے بتا یا تو تھا " انھوں نے ایک طرف اشارہ کیا جہاں ایک قبر سوکھی ہوئی سخت گھانس سے بھری ہوئی بہت اکیلی اکیلی سی تھی ۔
قبرستان کا دروازہ بند ہورہا تھا ۔اب رکنے کی اجازت بھی نہیں تھی ۔ان بی بی نے بڑی حسرت سے بیٹے کی قبر پر نظر کی ۔پھر ادھر جہاں وہ کئی گھنٹوں سے بیٹھی تھیں اور پھر سر جھکا کرباہر نکلتے ہوئے بولیں ۔
وہ بھی کسی کے جگر کا ٹکڑا ہو گا سیّد صاحب ! چلیئے گھر چلیں" اور ہم چاروں آہستہ آہستہ قبرستان سے باہر آ گئے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ لندن کی ایک کہر بھر شام تھی ۔ارم کی امّی کا شدید بیماری کے بعد کل شام انتقال ہوگیا ۔درو دیوار سے سوگواری ٹپک رہی تھی ۔زندگی کے تمام ہنگامے سرد پڑ چکے تھے ۔سب مریم کو سنبھال رہے تھے مگر وہ ہاتھوں سے نکلی جارہی تھی ۔ دو دن اسی طرح درد برداشت کر تے ہوئے گزر گئے ۔یہاں کام رکتا نہیں تو آج سب اپنے اپنے کام پر نکل رہے تھے اُداسی اور پریشانی اپنی جگہ مگر جینے کے لیئے کام تو کر نا ہی تھا ۔گھر میں بس میں اور ارم ہی رہ گئے تھے جب وہ سسکتی ہوئی میرے کمرے میں آگئی ۔
"چچی پلیز مجھے قبر ستان لے چلیے ۔"
اسکی آواز میں آنسو گھلُ رہے تھے ۔
"ہاں ضرور چلوں گی مگر تم پہلے اپنے آپ کو سنبھالو ۔۔یہ حال جو تم نے بنا یا ہے بھابی ہوتیں تو کتنی پریشان ہوتیں ۔" میں نے اسکا سر سینے سے لگا لیا ۔
"دیکھو بی بی چلے جانے والے کا اتنا غم نہیں کرتے کتنی نیک عبادت گزار تھیں وہ ۔یاد ہے کہ انکا چہرہ کتنا پرُ نور تھا ؟ سب یہی کہہ رہے تھے کہ گو یا سو رہی ہوں ۔انکا سکون بر باد مت کرو ۔ اسطرح دل دکھاتی رہو گی تو انکی روح تڑپتی رہے گی میری بچّی ۔انکے لیئے دعا کرو ۔" میں اسکو دھیرے دھیرے سمجھا رہی تھی اور اسکی سسکیاں میرے اندر تک اتر تی رہیں ۔
بن ماں کی بچّی کس قدر بے بس اور اکیلی ہوتی ہے مجھے اسکا بخوبی اندازہ ہے ۔
دوسرے دن سہ پہر کو علی جب آفس سے آئے تو ہمیں قبرستان لے گئے ۔ارم گاڑی سے اتر تے ہی علی کا ہاتھ تھامے بھاگتی ہوئی اس جگہ تک پہونچ گئی جہاں بھابی آرام کر رہی تھیں ۔وہ وہاں دوزانوں ہوکربیٹھ گئی ۔ بے تہاشہ رو رہی تھی ۔مجھے بھی آنسوں پر قابو نہ رہا ۔کچھ دیر بعد علی کو واپس جا نا تھا مگر ارم ابھی جانے کے لیئے تیّار نہیں تھی ۔میں نے علی کو واپس بھیج دیا ۔انکو کچھ کام کرنے تھے ۔سو چا واپسی پر ہم ٹیکسی کر لیں گے ۔
لندن کا یہ قبرستان گو کہ بہت صاف ستھرا اور روشن اور منّور تھا مگر تھا تو قبرستان ۔ایک عجیب سا سننا ٹا اور وحشت ہر طرف ڈیرا جمائے ہوئے تھی ۔۔کنارے کئی پیڑ لگا ئے گئے تھے ۔بیچ بیچ میں کیا ریوں میں پھول بھی تھے مگر خود رو گھانس کی صفائی روز تو نہیں ہوسکتی تھی ۔
کافی دیر تک ہم دونوں قبر کے پاس بیتھے دعائیں پڑھتے رہے پھر ارم ایک طرف پیڑ سے سر ٹکا کر بیٹھ گئی ۔بہت رولینے سے کچھ دل ہلکا ہوا تھا مگر سر میں درد محسوس ہو رہا تھا ۔دل ہی دل میں شاید ماں کے لیئے دعائیں کر رہی تھی یا باتیں کر رہی ہو ۔۔بند آنکھوں سے بھی آنسوں کے قطرے چہرے پر پھیل رہے تھے ۔
ہر طرف سننّا ٹا چھایا ہوا تھا ایکّا دُکا گاڑیاں آواز کرتی قریب سے نکل جاتی تھیں ۔
درختوں کے کچھ بڑے پتّے قبروں پر سایہ کیئے ہوئے تھے ۔ایک طرف پیڑ کے نارنجی پتّے ایک قبر پر جھکے ہوئے تھے وہیں وہ بیٹھی تھیں ۔
سفید پوشاک پر سیاہ اسکارف لگائے ۔سرخ وسفید چہرہ اور متّورم آنکھیں ۔یہی کوئ چالیس پینتا لیس کی ہونگی ۔سر جھکائے خاموش اور اکیلی قبر کے پاس بیٹھی تھیں ۔میں نے ارم پر نظر ڈالی وہ پیڑ کے تنے سے ٹکی ہوئی کچھ پرُ سکون سی آنکھیں بند کیئے بیٹھی تھی میں اٹھ کر انکی طرف آگئی ۔
پاس بیٹھ کر انکا ٹھنڈا یخ ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر سہلاتی رہی ۔پھر بہت ہمتّ کر کے پوچھا ۔
"کون ہیں یہ بی بی ۔۔۔۔۔۔۔؟"
"میرا اکلوتا بیٹا ۔راحیل ۔۔۔"انھوں نے سسکی لی ۔
وہ ایک پرانی سی بنی قبر تھی اسپر کوئی کتبہ بھی نہ تھا شاید ٹوٹ چکا تھا میں ان سے اب کوئی سوال نہیں کر نا چاہتی تھی کہ انکا دل اورنہ دکھے ۔پہلے فاتحہ پڑھا پھر انکو دیکھ کر آس پاس کی گھانس صاف کر نے لگی وہ قبرپر جمی ہوئی سوکھی گھانس کافی حد تک اپنی کمزور انگلیوں سے صاف کر چکی تھیں اور ایک بیگ میں بھر رہی تھیں ۔
"کیا ہوا تھا بی بی ۔۔۔" میںے خاموشی توڑنے کی کوشش کی ۔
"کچھ نہیں ۔بس اللہ کی مرضی اب تو برسوں بیت گئے ۔آج اس شہر آئی تو ۔۔۔۔۔"انھوں نے اپنے آنچل سے آنسو صاف کئے ۔
قبر کسی حد صاف ہوچکی تھی بس ایک کونہ رہ گیا تھا جسپر سخت گھانس ابھی بھی سر اٹھائے کھڑی تھی انکی انگلیاں شاید زخمی بھی ہوگئی تھیں ۔مجھے واپس بھی جا نا تھا مگر وہ اکیلی تھیں اسلیئے تذذب میں تھی ۔انکے شوہر لینے آنے والے تھے ۔گہرے بادل گھر کر آگئے تھے مجھے پریشانی سی ہونے لگی تھی ۔ارم بھی اٹھ کر ادھر ہی آگئی ۔ایسے موسم میں انکو اکیلا کیسے چھوڑ دیتی ۔تبھی ایک گاڑی گیٹ کے پاس آکر رکی اور انھوں نے اپنا سرخ چہرہ اٹھا کر اُدھر دیکھا ۔نیلے سوٹ میں وہ صاحب تیز تیز چلتے ہوئے ادھر ہی آرہے تھے ۔وہ صاحبہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر آہستہ آہستہ کھڑی ہوگئیں ۔قبر پوری صاف ہوچکی تھی اور انھوں نے ساتھ لائے ہوئے پھول اس پر بچھا دیئے تھے ۔آنے والے صاحب نے پہلے قبر کی طرف دیکھا پھر انکی طرف نگاہ کی اور گویا ہوئے ۔
"زبیدہ یہ تم نے کسکی قبر پر پھول رکھ دیئے ؟ راحیل کی قبر تو یہاں ہے اس درخت کے نیچے ۔ تم سے بتا یا تو تھا " انھوں نے ایک طرف اشارہ کیا جہاں ایک قبر سوکھی ہوئی سخت گھانس سے بھری ہوئی بہت اکیلی اکیلی سی تھی ۔
قبرستان کا دروازہ بند ہورہا تھا ۔اب رکنے کی اجازت بھی نہیں تھی ۔ان بی بی نے بڑی حسرت سے بیٹے کی قبر پر نظر کی ۔پھر ادھر جہاں وہ کئی گھنٹوں سے بیٹھی تھیں اور پھر سر جھکا کرباہر نکلتے ہوئے بولیں ۔
وہ بھی کسی کے جگر کا ٹکڑا ہو گا سیّد صاحب ! چلیئے گھر چلیں" اور ہم چاروں آہستہ آہستہ قبرستان سے باہر آ گئے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
No comments:
Post a Comment