Monday, September 11, 2017

باغبان ۔
ریت کے طویل صحرا پر پھیلا ہوا سننا ٹا ،فضا میں دھوئیں کے ساتھ ساتھ خون کی مہک ۔ایک نامانوس سی جگہ تھی وہ ۔اور مہہ جبین نے اپنی پوری قوت جمع کر کے آنکھیں کھولیں ،چاروں طرف یہاں سے وہاں تک ریت ہی ریت اور اسپربکھرے ہوئے  ننھے ننھے قدموں کے نشان ،ایک نہیں لاتعداد نشان جیسے تمام بچّے ادھر سے بھاگتے ہوئے گئے ہوں ۔کہاں گئے ؟
کدھر گئے ؟؟ اتنے ننھے پاؤں جو خود چل  بھی نہیں سکتے وہ کہاں چلے گئے ؟
کیا افق کے اسُ کنارے تک ۔۔۔یا اس سے بھی آگے ۔۔
آخر کہاں ۔۔وہ بیقراری سے ان قدموں کے نشانوں کے ساتھ بھاگتی رہی کبھی کوئی ننھا نشان اسکے پیروں تلے آجاتا تو وہ کانپ جاتی ۔تھکن سے برا حال تھا ،گلا سوکھ رہا تھا  بدن ٹوٹنے لگا تھا ۔اسکے بالوں میں ریت بھر گئی تھی مگر وہ بھاگ رہی تھی یہ دیکھنے کے لیئے کہ آخر یہ بچّے کہاں چھپ گئے ہیں ۔دوڑتے دوڑتے وہ کسی چیز سے ٹھوکر کھاکرمنھ کے بل گر پڑی تبھی اسکی آنکھ کھلُ گئی ۔ساراجسم پسینے میں شرا بور تھا ۔ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے ۔اسے محسوس ہورہا تھا کہ ابھی تک پیروں کے نیچے ریت سرسرا رہی ہے ۔
کمرہ خالی تھا ۔اکیلے پن کا ڈراونا احساس اسے سہما رہا تھا ۔آواز دینی چاہی مگر گلا بند ،اٹھنا چاہا مگر ہمّت جواب دے گئی ۔
دروازہ کھلا اور ہاتھوں میں سوپ کا پیالہ لیئے ہوئے زیبا اندر آرہی تھی ۔
 بھابی !۔۔اسنے پیالہ میز پر رکھ کر مہہ جبین  کے بال سنوار دیئے ۔
اب کیسی طبیعت ہے آپکی ؟ رات تو آپ بہت بے چین تھیں امیّ دعائیں پڑھتی رہی ہیں ۔اٹھکر سوپ پی لیجئے ۔اگر چائے کا جی چاہے تو ۔۔
مہہ جبین  نے اسکا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا ۔وہ ہونق سی زیبا کا منھ دیکھ رہی تھی اسے لگ رہا تھا کہ ابھی بھی وہ اس ریت کے سمندر پر ننگے پاؤں کھڑی ہے ،اسکے تلوے جل رہے تھے ۔سارا جسم جھلس رہا تھا ۔
کیا ہوا بھابی ۔۔
اسنے آنکھیں بند کر لیں آنسوں کے دو قطرے آنکھ کے گوشوں سے نکل کر تکیہ مین  جذ ب ہوگئے ۔
اتنا مت سوچیئے بھابی ۔۔آپ تو بھیّا کا مزاج جانتی ہیں خوش ہوں تو کتنے مہر بان اور غصّہ آجائے تو ۔۔۔
لاکھ غصّہ کریں ،ماریں جو سزا چاہے دیں مگر ایسا تو نہ کریں ۔۔اسنے بڑی دقتّ سے اپنا جملہ پورا کیا ۔۔
زیبا  سرہانے بیٹھ کر اسکا سر سہلانے لگی ۔
آپکو پتہ ہے نا وہ شروع سے بیٹا چاہتے تھے ،پہلے نتاشہ آگئی اور اب یہ جڑواں کی آمد ۔۔وہ نہیں مانیں گے بھابی آج آپکو لیکر اسپتال جانے کا کہہ کر گئے ہیں ۔
مجھے معلوم ہے زیبا وہ مجھے اسپتال کیوں لے جائیں گے ۔۔میری بچیوں کو مجھ سے دور کر دیں گے مجھے معلوم ہے ۔۔اسکی آنکھوں میں نمکین پانی کا سیلاب اتر آیا سسکیاں گلے میں پھندا ڈال رہی تھیں َ
زیبا سرہانے بیٹھی اسکا سر سہلاتی رہی بس ایک خاموش تسّلی کے سوا اسکے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا
ایان  کے بے رحم فیصلے کے خلاف بولنے کی ہمّت تو اماں میں بھی نہیں تھی۔
کم عمری میں باپ کے گزر جانے کے بعد ساری ذمہ داری ایان  نے بخوبی سنبھال لی تھی ۔اپنی تعلیم کو خیرباد کہہ کر کپڑے کی دوکان پر بیٹھ گیا تھا ۔
۔اسکے بھی اعلیٰ تعلیم کے خواب ٹوٹے تھے ۔چار بہنوں ماں اور بیوی کی ذمہ داری اٹھاتے اٹھاتے وہ اتنا کرخت ہوچکا تھا کہ اب کوئی آنسو یا آہیں اسے نہیں پگھلاتی تھیں۔  وہ پتھّر ہو چکا تھا ۔اسکا فیصلہ آخری فیصلہ تھا ۔
اسے اب بیٹیاں نہیں چاہیئے تھیں ۔
الٹرا ساؤنڈ سے جب یہ خبر ملی کہ ایک نہیں دوبیٹیاں آنے والی ہیں تو اسنے سختی سے حکم دیا تھا آج شام کو دوکان سے لوٹ کر وہ ڈاکٹر کے پاس لےجائے گا اور یہ قصّہ ختم کرے گا ۔
مہ جبین کو یوں لگ رہا تھا جیسے دونوں ننھی بچیّان باہیں پھیلائے اسکی گود میں آنے کو ہمک رہی ہیں ۔جیسے انکی شفّاف آنکھوں میں ایک التجاء ہے ایک پکار ہے ۔۔۔
ماں ۔۔ہمیں بچالو ۔۔
وہ تڑپ تڑپ کر رورہی تھی مگر ایان کے فیصلے کے خلاف جانے کی اسمیں بالکل ہمّت نہیں تھی ۔۔
مہہ جبین کا نام ہی خوبصورت تھا وقت نے اسکے ساتھ کچھ اچھّا سلوک نہیں کیا تھا ۔کئی بچّوں والے غریب گھر میں پل کر بڑی ہوئی  کسی نہ کسی طرح  بی ۔اے تک تعلیم حاصل کی اور والدین نے بوجھ سمجھ کر یہاں بیاہ دیا جہاں  پہلے ہی مسا ئل کا انبار تھا ۔
تین بہنوں کی شادی کروانے کے بعد ایان خالی ہاتھ رہ گیا تھا ۔دوکان سے بس اتنی آمدنی تھی کہ گھر کسی طرح چل رہا تھا ۔اب وہ اضا فی بوجھ کے لیئے ہر گز تیّار نہ تھا
دوپہر ہوگئی تھی وہ کھا نا کھانے گھر آجایا کر تا تھا اور آج مہہ جبین کو تیاّر ہونے کا حکم دے گیا تھا ۔۔۔وہ جانتی تھی کہ یہ تیاّری کس لیئے ہے ۔۔
جب سے ڈاکٹر نے راز داری کا وعدہ لیکر اسے یہ بات بتائی تھی اسی وقت سے وہ بیزار نظر آرہا تھا ۔۔
چلو ۔۔۔اسپتال جا نا ہے ۔۔ایان  نے جوتے پہنتے ہوئے مڑ کر اسکی طرف دیکھا ۔
اور مہہ جبین نے  اٹھ کر ایان  کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔
نہیں ۔۔ایسا نہیں ہونے دونگی ۔۔مت کرو ایسا ۔۔وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔اسنے کب سوچا تھا اسکی ذات کی یوں تحقیر ہوگی ۔اسکے حوصلے یوں پست ہوجائیں گے
مہہ جبین نے اپنی تمام توا نائیوں کو سمیٹ کر بڑی مشکل سے اپنی بات پوری کی ۔
میں کام کرونگی ایان ۔۔۔میں لوگوں کے کپڑے سیوں گی اگر تم اجازت دوگے تو اسکول میں نوکری بھی کر لونگی ۔
میں نے کبھی تمہاری خدمتوں سے انکار کیا ہے ؟
اتنا بڑا ظلم نہ کرو ایان ۔۔۔
وہ حیران ہوکر اسے دیکھ رہا تھا خاموش اپنے آپ میں رہنے والی مہہ جبین آج اتنی بہادر کیسے ہوگئی ؟ یہ کون سی طاقت آگئی ہے اسکے اندر ۔
مگر وہ۔اتنی جلدی ہار کیسے مان لیتا ۔

تم کیا جانو ۔۔کتنی محنت کر نا پڑتی ہے مجھے ۔باہر نکل کر دیکھو زرا ۔۔
ہاں میں باہر نکل کر دیکھوں گی
۔میں تمہارا ساتھ دونگی ۔میرا زیور بیچ دو مجھے سلائی مشین ۔۔ ۔اسکا جملہ ادھورا ہی رہ گیا ۔
۔
تیزی سے الماری کی طرف بڑھتے ہوئے ایاں کا پیر زمین پر پڑے اخبار سے الجھا اور وہ لڑکھڑا کرپاس رکھّی میز سے ٹکرا تا ہوا زمین پر  گر پڑا ۔
با ااااا بااااااا  ایک تیز چیخ کی صورت میں نتاشا کے منھ سے نکلا ۔
 اسکول سے آکر بیگ رکھتے ہوئے اسنے ایان کو گرتے دیکھا تو  اپنا بیگ دور پھنکا اور دوڑ کر باپ کی کمر سے لپٹ گئی ۔اپنی ننھی ہتھلیوں سے اسکی چوٹ سہلانے لگی۔۔۔ کیا ہوگیا پا پا ۔۔چوٹ تو نہیں لگی نا ۔۔بتائیے  با با ۔؟' وہ بے چینی سے کبھی اسکا ہاتھ پکڑتی اور کبھی پیر سہلاتی ۔۔ایاں حیرت زدہ سا اپنی معصوم بچیّ کی طرف دیکھ رہا تھا جو  آنکھوں میں آنسو   لیئے بے تہا شہ پریشان ہورہی تھی ۔
ایان نے جھک کر اسے گود میں اٹھا یا اور  سینے سے لگا لیا ۔۔آج اسکی دھڑکن بھی معمول سے ذیادہ تیز تھی اور پہلی بار بیٹی کے لیئے درد امنڈ کر آرہا تھا ۔۔نہ جانے کیوں اسکے اندر ہلچل سی مچ گئی مہہ جبین ڈری سہمی التجا ء بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
اور ایک لمحہ ایک درد کا لمحہ انھیں بے حد قریب کر گیا ۔کئی لمحوں تک وہ نتا شا کو سینے سے لگا ئے کھڑا رہا ۔۔
پھر اسے آہستگی سے بستر پر بٹھا یااور پلنگ کے کنارے بیٹھ کر جوتے اتار نے لگا ۔ اسکے انداز میں ایک نرمی ایک حلاوت سی بھر گئی جب اسنے بہن کو پکارا ۔
زیبا ۔۔
۔وہ پہلے ہی سہمی ہوئی دروازے کا پٹ تھامے کھڑی تھی ۔
کہیں نہیں جاتے ۔۔اب شام کو کہیں گھو م کر آئیں گے اور کھا نا بھی باہر ہی کھائیں گے ۔۔
  بازو میں بہن کو  لپٹا کر مہہ جبین کو پیار سے تکتا ہوا وہ مکمل مرد نظر آرہا تھا ۔ ۔
۔




No comments:

Post a Comment