Wednesday, October 18, 2017

'میر وسیم کی باتیں ''
تحریر: میر وسیم 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر لمحے کا اپنا خُدا هوتا هے ، 
جب آپ کو اُونچی عمارتوں اور مضبُوط قلعوں میں بهی پناہ نہ مِل سکے تو ، اُونچی عِمارتوں کے پِیچهے جهونپڑیوں کے دروازے کُهلے مِلیں گے ،
هم لوگ کبهی کبهی زندگی کو شرمندہ کرنے کے لئے ضُرورت سے زیادہ بهی خُوش هوتے ہیں ، آپ اُس شخص کو کیا کہیں گئے جِس کا وجُود تو مندر میں گهنٹیاں بجاتا هے مگر رُوح مسجد میں سجدہ کرتی هے ،
پنچهی کے بغیر پنجرے کی کوئی قیمیت نہیں هوتی ،
هم لوگ دُنیا کے قید خانے میں آزادی کا جشن منا رہیں ہیں ،
ہر لہر ساحلِ سمندر پر آ کر سمندر کی مُخبری کرتی هے ،
آئینہ انسان سے کہتا هے کہ تُم بُزدل هو ، انسان اعتراف کرتا هے ، دونوں اِس راز کو چُهپا لیتے ہیں ، میں نے جب تنہائی کو رونق کی رشوت دی تو تنہائی نے نا قابلِ یقیں بیاں دے ڈالے ، صحرا کے خواب میں پهُول ہی پهُول ، برسات ہی برسات ، خیال کا قحط کوئی بڑی بات نہیں ، احساس کا قحط باعثِ ندامت هے
آج کے انسان کے پاس خُود دُعا کرنے کا بهی وقت نہیں رہا ، وہ ضُرورت کی اور بہت سی چیزوں کے ساتھ دُعا کو بهی خرید لینا چاهتا هے ، خیر خریدنا تو انسان خُدا کو بهی چاهتا هے مگر وہ بِکتا نہیں ، جس کو پایا ہی نہیں ، اُسے کهونے کا ڈر کیسا ؟ دل دهرکتا هے ، ڈرتا هے ، مگر کرتا وہی هے جو چاهتا هے ، میری رُوح نے مُجهے بتایا کہ تُو میرا دُوسرا جِسم هے ،
میں نے کہا ،
ہمارے مُعاشرے میں انگریزی یا تو کتوں کے ساتھ بولی جاتی هے ، یا بزرگوں کے ساتھ ، بڑا حیران هوئے کہنے لگے نہ جانے هم بزرگوں کے ساتھ اُونچی آواز میں بات کیوں کرتے ہیں ، ایک ہی بات کو بار بار کیوں دہراتے ہیں ، جیسے وہ نہ سمجھ یا بہرے هوں ، جبکہ بُڑهاپے میں تنہائی کی بدولت سر گوشیاں بهی صاف سُنائی دیتی ہیں .
میر وسیم کا افسانہ ( منٹُو یار افسانہ پڑھ ) سے اقتباس

No comments:

Post a Comment