Wednesday, October 11, 2017

میر وسیم کا حرف ِ درمیان



https://scontent.fagr1-1.fna.fbcdn.net/v/t1.0-1/p80x80/21557505_10155036439914786_4880862740253308246_n.jpg?oh=63c1edbd7bb23b0ec301f2a94402c970&oe=5A3C9BBC
Saima Shah
حرفِ درمیان ............. تحریر ، میر وسیم
عجب نہیں کہ میرے لفظ مُجهے معاف کر دیں ..........
خلیل جبران نے کہا کہ ، خاموش رهو یا ایسی بات کرو جو خاموشی سے بہتر هو ، سب سے پہلے تو ہم اپنے معزز مہمانوں ، میلہ میں شامل افسانہ نگاروں اور عام قارئین کے نہایت شکرگزار ہیں کہ وہ اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں سے وقت نکال کر اس میلہ کو رونق بخش رہیں ہیں ، جہاں زمانے نے اپنی ترجِحات بدلی ہیں ، وہاں زمانہ غریب سے غریب تر هو گیا هے ، زمانہ جہاں اپنوں سے بات کرانا ، آسان سے آسان تر بناتا جا رها هے ، وہاں اپنوں سے بات کرنا مُشکل سے مُشکل تر هو گیا هے ، اب یہ کہنے میں کیا شرم کہ رِشتوں کی محفِل میں هم تنہا هو گئے ہیں ، بلکہ اپنی ذات میں بهی تنہا هو گئے ہیں ، مگر خُود سے رابطہ بحال کرنا ضرُوری هوتا هے ، لہذا لکهنے والا خُود کو خط لِکهتا هے ، وہ خط افسانہ کہلاتا هے ، لکهتے رہیئے ، کیونکہ لکهتے رہنا دهڑکتے دل کی علامت هے ، میں جانتا هُوں کہ ایسے حالات میں لکهنا بہت مُشکل هے ، کاغذِ غم پر بوجهل قلم بوجهل دل سے خُوشی کا گِیت لکهنا مُشکل هے ، جہاں حالاتِ زندگی ، ضرُوریاتِ زندگی ، مُصرُوفِیاتِ زندگی لکهنے نہیں دیتے ، وہاں ، خیالاتِ زندگی ، تصوراتِ زندگی ، توقعات ِ زندگی ، خیراتِ زندگی ، آپ کو لکهنے پر مجبُور کرتے ہیں ، وہ تحریر جو آپ کو سوچنے پر مجبُور نہ کرے ، وہ نا پخت هے ، جو تحریر آپ کی سوچ کے دروازے وا نہ کرے کمزور هے ، اپنے دل کی آواز نہ سُننا ، ایک بہت بڑا جُرم هے ، دل وہ بچہ جسے هم نے سچ بولنے پر ، اپنی ذات کے قید خانے میں ڈال دیا ، دل وہ بچہ جو گهر کی قیمیتی چِیز ٹُوٹنے پر گهر میں لگے بهاری پردوں کے پِیچهے جا چُهپا ، دل وہ بچہ جو ارمانوں کے قتل هونے کا چشم دِید گواہ هے ، سو ساری کی ساری دُنیا اُس چشم دِید گواہ کو مِٹانے میں لگی هے ، لہذا لکهنے والا اپنا دریا ، اپنی کشتی ، اپنا کِنارا خُود بناتا هے ، اُس کی تحریر ، اُس کی تصوارتی دُنیا هے اُس کی جائےِ پناہ هے ، وہ دُنیا میں لگے پردوں کے پِیچهے خُود کو چُهپا لیتا هے ، صاحبو ، زندگی انسان کا بہت مذاق اُڑاتی هے ، جب هم زندگی کے سانچے میں ڈهلنے لگتے هیں ، تو یہ اپنا آپ بدل لیتی هے ، اور اُس رُخ پر پڑی نظر آتی هے کہ جس رُخ پرهم اِس سے بہت مُختلف نظر آتے هیں ، جب هم زندگی کو ہتهیلی پر رکهے، موت کی خُواہش میں در بدر بهٹکتے هیں اور زندگی کی خیرات لوٹا دینا چاهتے هیں ، تو زندگی اُس وقت بڑی شان بے نیازی سے آگے بڑھ جاتی هے ....... اور جب هم تهک هار کرآخر جینے کا فیصلہ کر لیتے هیں زندگی پر حق جِتانے لگتے هیں ، زندگی کی ضرورت محسُوس کرنے لگتے هیں ، زندگی کو اپنا سمجهنے لگتے هیں .....زندگی کی خیرات سے کچھ استمعال کرنے لگتے هیں ، تو اُس وقت زندگی اپنا رنگ دِکهاتی هے اور شانِ بے نیازی کو جُهٹلاتے هوے کم ظرف بن جاتی هے .... اور زندگی کی خیرات ایک ایسے وقت پر چهین لیتی هے جب اُس کی اشد ضرُورت هوتی هے ، یہ مذاق نہیں تو اور کیا هے ؟؟؟
فورم کی انتظامیہ افسانے کے اُجڑے شہر کو بسانے میں کوشاں هے ، عالمی افسانہ فورم لکهنے والوں کے راستے میں پهُول بِچهائے نہ بِچهائے مگر اُن کی راہ کے کانٹے ضرور کم کرتا هے ، هم لوگ یہاں بِلا مُعاوضہ اپنی خِدمات پیش کر رهے ہیں ، خُدا کے عظیم نظام کی طرح ، هوا انسان کی زندگی کے لیے پہلی شرط هے ، مُفت هے ، پانی مُفت هے ، سُورج کی روشنی مُفت هے ، چاند کی چاندنی مُفت هے ، رات میں ستاروں کا مُسکرانا مُفت هے ، زندگی کے سارے کهیل ختم هو جانے کے لیئے ہیں ، آپ نے کبهی رگبئی کهیل دیکها هے ، کیسے سارے کے سارے کهلاڑی ایک ہی گیند کے پِیچهے ، مارے مارے ، بهاگے بهاگے پِهرتے ہیں ، جائز نا جائز کر کے اپنا اپنا گول کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، مگر کهیل کے اختتام پر وہی گیند گراونڈ پر تنہا پڑا رہ جاتا هے ، زندگی کا سفر بهی ایسا ہی هے ، آپ یہ سوچئے کہ آپ نے وقتی جِیت کے لیئے کسی کو زخمی تو نہیں کِیا ، انسان کا حساس هونا اُس کی عظمت کی پہچان هے ، سب کچھ ختم هو جائے گا دوستو ، رہ جائے گا لکها هوا لفظ ، مُجهے ایسا کیوں لگتا هے کہ ہمیں کتاب کی طرف لوٹ کر آنا هے ، افتخار عارف نے فرمایا کہ ، ( عجب گهڑی تهی کتاب کِیچڑ میں گِر پڑی تهی ) چمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں الُجھے آنسو بلا رھے تھے ، مگر مجھے ھوش ھی کہاں تھا ، نظر میں ایک اور ھی جہاں تھا ، نئے نئے منظروں کی خواھش میں اپنے منظر سے کٹ گیا ھوں ...... نئے نئے دائروں کی گردش میں اپنے محور سے ھٹ گیا ھوں ...... صلہ ، جزا ، خوف ، نا امیدی ، امید ، امکان ، بے یقینی ، ھزار خانوں میں بٹ گیا ھوں ،
اب اس سے پہلے کہ رات اپنی کُمند ڈالے ، یہ چاھتا ھوں کہ لوٹ جاوُں ،
عجب نہیں کہ وہ کتاب اب بھی وہیں پڑی ھو .... عجب نہیں کہ آج بھی میری راہ دیکھتی ھو .... عجب نہیں کہ میرے لفظ مُجهے معاف کر دیں ..........
کتاب آج بهی آپ کی راہ دیکھ رهی هے ، کتاب کی طرف لوٹ جاو دوستو ، وہ اب بهی وہیں پڑی هے ، تمہاری راہ دیکهتی هے ، عالمی افسانہ فورم اور اُس کے ایڈمنز کا بس یہ ہی پیغام هے ، ، ہم اپنے معزز مہمانوں ، میلہ میں شامل افسانہ نگاروں اور عام قارئین کے نہایت شکرگزار ہیں کہ وہ اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں سے وقت نکال کر اس میلہ کو رونق بخش رہے ہیں ، انتظامیہ عالمی افسانہ فورم


No comments:

Post a Comment