دل کے رشتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔انجم قدوائی
روز یہی ہوتا تھا روز یہی کرتی تھی وہ ۔سر خ ،سفید یا نیلی کوئی بھی فراک پہن کر آئے ،کتنی بھی فرِش نظر آئے مگر یہی حال ہوتا تھا ۔مالی ڈرایئور گھر کی کام والی کے بچّوں کے ساتھ کھیلنا پسند تھا اسے ۔وہ ہیشہ صبح ایک پھول کی طرح نمودار ہوتی اور شام تک گہنائے ہوئے چاند کی طرح گھر کے اندر غروب ہوجاتی ۔
وہ اس چھوٹے سے اسکول کی کچّی دیوار پر چڑھی بیٹھی مستقل پیر ہلا رہی تھی ۔فراک کی جھالر پھٹ کر اسکے گھٹنے سے الجھی ہوئی اور چپل دھول میں اٹی ہوئی تھی ۔
"حلیہ دیکھا تم نے اپنا ؟؟ اسنے کڑھ کر اسے ڈانٹا
"کیا ہوا ہے ۔۔۔؟ ماہی نے جھک کر اپنے پیروں پر نظر ڈالی ۔۔اور پھر بیفکری سے پیر ہلانے لگی ۔
"کچھ نہیں ہوا ؟؟ کتنی گندی لگ رہی ہو تم گاؤں کے گندے سندے بچوں کے ساتھ کھیلا کر تی ہو "
"وہ بالکل گندے نہیں ہیں ،دن میں دوبار نہاتے ہیں نہر سے ۔۔"
"اچھّا ۔۔۔جہاں بھینسیں نہاتی ہیں وہیں نا ۔۔۔؟
ہاں تو ؟؟
"کچھ نہیں ۔۔۔جاؤ مرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
میں کیوں مروں تم مرو ۔۔" وہ کود کر ادھا کھایا ہوا امرود پھینکتی ہوئی اپنے گھر کی طرف مڑ گئی ۔
وہ وہیں بیٹھا سوچتا رہا کڑھتا رہا ۔
وہ ایسی ہی تھی صبح صبح گلابی فراک پہنے دو چھوٹیاں گوندھے ہوئے صاف ستھری ،گاؤں کے اس پرائیمری اسکول میں آتی اور سب بچوں کے جانے کے بعد بھی جانے کا نام نہ لیتی ۔۔۔۔
وہ اس سے کچھ پوچھ نہیں سکتا تھا تھا نہ جانے کیا جھجھک تھی ان کے درمیان ۔
وہ خاموش اپنے آپ میں کھویا ۔
عمر گزرتی رہی
روز یہی ہوتا تھا روز یہی کرتی تھی وہ ۔سر خ ،سفید یا نیلی کوئی بھی فراک پہن کر آئے ،کتنی بھی فرِش نظر آئے مگر یہی حال ہوتا تھا ۔مالی ڈرایئور گھر کی کام والی کے بچّوں کے ساتھ کھیلنا پسند تھا اسے ۔وہ ہیشہ صبح ایک پھول کی طرح نمودار ہوتی اور شام تک گہنائے ہوئے چاند کی طرح گھر کے اندر غروب ہوجاتی ۔
وہ اس چھوٹے سے اسکول کی کچّی دیوار پر چڑھی بیٹھی مستقل پیر ہلا رہی تھی ۔فراک کی جھالر پھٹ کر اسکے گھٹنے سے الجھی ہوئی اور چپل دھول میں اٹی ہوئی تھی ۔
"حلیہ دیکھا تم نے اپنا ؟؟ اسنے کڑھ کر اسے ڈانٹا
"کیا ہوا ہے ۔۔۔؟ ماہی نے جھک کر اپنے پیروں پر نظر ڈالی ۔۔اور پھر بیفکری سے پیر ہلانے لگی ۔
"کچھ نہیں ہوا ؟؟ کتنی گندی لگ رہی ہو تم گاؤں کے گندے سندے بچوں کے ساتھ کھیلا کر تی ہو "
"وہ بالکل گندے نہیں ہیں ،دن میں دوبار نہاتے ہیں نہر سے ۔۔"
"اچھّا ۔۔۔جہاں بھینسیں نہاتی ہیں وہیں نا ۔۔۔؟
ہاں تو ؟؟
"کچھ نہیں ۔۔۔جاؤ مرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
میں کیوں مروں تم مرو ۔۔" وہ کود کر ادھا کھایا ہوا امرود پھینکتی ہوئی اپنے گھر کی طرف مڑ گئی ۔
وہ وہیں بیٹھا سوچتا رہا کڑھتا رہا ۔
وہ ایسی ہی تھی صبح صبح گلابی فراک پہنے دو چھوٹیاں گوندھے ہوئے صاف ستھری ،گاؤں کے اس پرائیمری اسکول میں آتی اور سب بچوں کے جانے کے بعد بھی جانے کا نام نہ لیتی ۔۔۔۔
وہ اس سے کچھ پوچھ نہیں سکتا تھا تھا نہ جانے کیا جھجھک تھی ان کے درمیان ۔
وہ خاموش اپنے آپ میں کھویا ۔
عمر گزرتی رہی
حالات بدلتے رہے ۔اب وہ بہت بدل گئی تھی اپنے آپ کو سجا نا سنوارنا
آگیا تھا شہر کے ہوسٹل میں رھ کر اسے اپنے
چاروں طرف اجا لا پھیلائے رکھنے کا ہنر بھی ۔
وہ اب بھی کچھ نہ کہہ سکا اور وہ دور ہوتی چلی گئی ۔۔۔اور دور ۔۔اور دور ۔
خبریں ملتی رہتیں ۔اسکا میاں بڑا بزنس مین ہے وہ بہت خوش ہے ۔بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھ کر میکے آتی ۔لش لش کرتے لباس پہنتی اسکے جانے کے بعد بھی گاؤں میں کئی دن اسکا چر چا رہتا اور وہ کتاب میں منھ چھپائے بظاہر لاپر واہ اسکی دائیمی خوشیوں کی دعائیں کرتا رہتا ۔
ایک نازک سی ہمسفر کے آجانے سے زندگی بہت بدل گئی ۔وہ بے حد مخلص اور بر داشت والی لڑکی تھی ۔اسمیں زرا بھی بچپنا نہیں تھا ۔وہ سنجیدگی سے مسکراتے ہوئے اسکی ساری ضروریات پوری کرتی مگر ایک خلا تھا ۔۔۔۔۔۔۔جو پرُ ہی نہ ہوتا تھا
ہلکی ہلکی بوندیں پڑ رہی تھیں وہ کاہلی سے لیٹا رہا ۔اینٹوں کے بنے ہوئے آنگن میں دونوں بچّے شور مچاتے ہوئے بھیگ رہے تھے ۔وہ برامدے میں بیٹھا اُداسی سے انھیں کھیلتے دیکھتا رہا ۔
اذان کی آواز سے چونک کر کرتے کی آستین الٹتے ہوئے اسنے بیٹے کو پکارا ۔
وہ اب بھی کچھ نہ کہہ سکا اور وہ دور ہوتی چلی گئی ۔۔۔اور دور ۔۔اور دور ۔
خبریں ملتی رہتیں ۔اسکا میاں بڑا بزنس مین ہے وہ بہت خوش ہے ۔بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھ کر میکے آتی ۔لش لش کرتے لباس پہنتی اسکے جانے کے بعد بھی گاؤں میں کئی دن اسکا چر چا رہتا اور وہ کتاب میں منھ چھپائے بظاہر لاپر واہ اسکی دائیمی خوشیوں کی دعائیں کرتا رہتا ۔
ایک نازک سی ہمسفر کے آجانے سے زندگی بہت بدل گئی ۔وہ بے حد مخلص اور بر داشت والی لڑکی تھی ۔اسمیں زرا بھی بچپنا نہیں تھا ۔وہ سنجیدگی سے مسکراتے ہوئے اسکی ساری ضروریات پوری کرتی مگر ایک خلا تھا ۔۔۔۔۔۔۔جو پرُ ہی نہ ہوتا تھا
ہلکی ہلکی بوندیں پڑ رہی تھیں وہ کاہلی سے لیٹا رہا ۔اینٹوں کے بنے ہوئے آنگن میں دونوں بچّے شور مچاتے ہوئے بھیگ رہے تھے ۔وہ برامدے میں بیٹھا اُداسی سے انھیں کھیلتے دیکھتا رہا ۔
اذان کی آواز سے چونک کر کرتے کی آستین الٹتے ہوئے اسنے بیٹے کو پکارا ۔
چلو علی وضو کرو ۔۔۔
بس بابا تھوڑا سا اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسنے دور پڑی ہوئی بال اٹھائی ۔
کل کھیلنا بیٹے مغرب کی اذان نہیں سنی آپ نے ۔۔۔؟"
وہ خود اُداس اُداس سا وضو کرتا رہا ۔
نہ جانے آج کیوں یاد آرہی ہے رنج سے میرا اتنا گہرا رشتہ کیوں ہے ۔۔۔
ابتک تو وہ ٹھیک بھی ہوگئی ہو گی اسکی طبیعت کی خرابی تو کافی پہلے کی بات ہے ۔اس گرمی میں تو وہ نینی تال یا کشمیر میں گھوم رہی ہوگی ۔۔بوٹنگ کر تی پھر رہی ہوگی ۔شاید آج اسنے گہری ہری ساری پہنی ہو ۔
وہ اپنی ذمہ داریاں دل وجان سے پوری کرتا رہا تھا پھر بھی دل کی یہ خلش کبھی کبھی بہت بے چین سا کر دیتی ۔اور جب چھوٹی بہن عاصمہ نے اسکی بیماری کا بتا یا تو اور بھی بے چین ہوگیا ۔کہتے ہیں وقت ایک سا نہیں رہتا ۔اب اسکی ہنسی میں آنسو ؤں کی نمی بھی در آئی ہے آج عا صمہ کی باتیں اسکو دہلا رہی تھیں ۔ماہ رخ دو بچوں کی ماں ہے ۔ابتو کئی کئی دن اسکے گھر کی دہلیز سونی رہتی ہے وہ بچوّں کے ساتھ راہ دیکھتی رہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔پھر سنا وہ شہر چھوڑ گیا ۔تنہائیاں اسے نچوڑ رہی تھیں وہ دروازے پر آس لیئے بیٹھی رہتی ہے مایوسی نے اسکے جسم میں اپنے پنجے گاڑ دیئے ہیں ۔یہ بتا تے بتا تے عاصمہ کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں ۔اور پھر جب بیماری کی خبر آئی تو وہ ساری مصلحتیں بھول کر پہلی ٹرین سے دہلی میں تھا ۔
ہاسٹل کا سر چکرا تا ہوا ماحول عجیب سی وحشت وہ سارے مراحل سے گزرتا ہوا اسکے کمرے میں پہونچا تو اسکا دل پھٹنے لگا
کہاں تھی وہ ؟؟ یہ تو سایہ تھا اسکا گہری ویران آنکھیں مایوس نظر ۔
ہونٹوں پر مسکراہٹ نام کو نہیں تھی سر سراتی ہوئی تنہائی اسکے آس پاس ڈول رہی تھی ۔
اچانک کمرے میں خوشبو کا ایک بھپکا آیا ۔گرے سوٹ ہاتھ میں قیمتی موبائیل تھامے ہوئے وہ اندر داخل ہوئے تو وہ گھبرا کر کھڑا ہوگیا ۔ہاتھ ملانے کے لیئے آگے بڑھا اور برُی طرح نظر انداز کیا گیا ۔رعونت بھری نظروں میں اسے باہر نکل جانے کا حکم تھا اور وہ باہر نکل گیا ۔
"اب تو ٹھیک بھی ہوگئی ہوگی ۔"۔۔اسنے خود کلامی کی ۔
اسنے برامدے کے ساتھ بنے چھوٹے سے باورچی خانے میں کام کرتی اپنی بیوی پر نظر ڈالی ۔اسکے سوتی کپڑے گنجلے ہوئے سے تھے چہرے پر پسینے کے ساتھ ساتھ ایک آسودگی اور اطمینان بھی تھا ۔
دور کہیں ہاسپٹل کے اسپیشل وارڈ میں لیٹی ماہ رخ نے کروٹ بدلی تو ہاتھ میں لگی ہوئی ڈرپ کی سوئی نے بے چین کر دیا ۔
"آہ ۔۔۔۔۔"اسنے کراہ کر اپنا ہاتھ تھام لیا ۔
کمرے کے باہر کھڑا ہوا اسکا باوقار شوہر ڈاکٹر پر برس رہا تھا ۔
"آخر آپ بتا تے کیوں نہیں آپکو پرا بلم کیا ہے ۔۔۔؟"
"سر ۔۔پرابلم مجھے نہیں آپکی مسز کو ہے ۔"ڈاکٹر شاید اسکے انداز سے متا ثر تھا ۔
ہم لوگ اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں باقی اللہ کی مرضی ۔"
"عجیب باتیں کر رہے ہیں آپ ۔میں پروگرس کی بات کر رہا ہوں اور آپ مجھے واعظ دے رہے ہیں ۔آپکو اندازہ بھی ہے کہ کتنی اہم میٹنگس چھوڑ کر یہاں بیٹھا ہوں ۔۔؟ "
"سر ۔۔ہم یقینی طور پر کیسے کچھ کہہ سکتے ہیں ہمارے ہاتھ میں جو ہے وہ کر رہے ہیں ۔اگر انکی زندگی ہے تو ضرور بچ جائینگی ورنہ حالت بہت خراب ہو چکی ہے ۔بہت دیر کر دی گئی علاج میں ۔"
"ہنھ ۔۔۔۔۔زندگی ہے تو بچ ہی جائینگی اسمیں آپکا کیا کمال ہے ۔۔" وہ بڑ بڑا تا ہوا کمرے کے اندر آگیا اور بیڈ کے قریب پڑے ہوئے صوفے پر ڈھیر ہو گیا ۔۔
سامنے پڑے اخبار کو اٹھاتے ہوئے اسنے پلنگ پر لیٹی ماہ رخ پر نظر ڈالی اور بڑ بڑانے لگا
"ایک ایک منٹ قیمتی ہے میرا ۔۔۔اور یہ ڈاکٹر ۔ہنھ ۔۔۔" اسنے جھٹکے سے اخبار کا صفحہ پلٹا ۔۔۔کاغذ کی کھڑ کھڑا ہٹ اور اسکے لہجہ کی ٹھنڈک ماہ رخ کے اندر تک گئی ۔اسنے بڑی دقّت سے آنکھیں کھول کر اپنے خوبرو شوہر پر نظر ڈالی ۔وہ آج بھی ویسا ہی خوبصورت تھا لمبا قد کھُلتا ہوا رنگ اور پھر اسکا اپنا رکھ رکھاؤ جسکی وجہ سے وہ لاکھوں میں الگ پہچا نہ جاتا تھا ۔اسکے بات کرنے کا ڈھنگ اسکی مسکراہٹ اور ۔۔۔اور ۔۔۔اسکی بے وفائیاں ۔
شاید یہ آخری ہچکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دور کہیں دوسری رکعت پڑھتے پڑھتے اسے جھر جھری سی آئی آنکھوں کے آگئے اندھیرا سا چھا گیا ۔وہ مصّلے پر بیٹھ گیا ۔"یا اللہ اسکی حفاظت کر نا ۔" اسنے کانپ کر دعا کی اور چہرہ ہاتھوں سے چھپا کر نہ جانے کیوں آنسو بہا نے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس بابا تھوڑا سا اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسنے دور پڑی ہوئی بال اٹھائی ۔
کل کھیلنا بیٹے مغرب کی اذان نہیں سنی آپ نے ۔۔۔؟"
وہ خود اُداس اُداس سا وضو کرتا رہا ۔
نہ جانے آج کیوں یاد آرہی ہے رنج سے میرا اتنا گہرا رشتہ کیوں ہے ۔۔۔
ابتک تو وہ ٹھیک بھی ہوگئی ہو گی اسکی طبیعت کی خرابی تو کافی پہلے کی بات ہے ۔اس گرمی میں تو وہ نینی تال یا کشمیر میں گھوم رہی ہوگی ۔۔بوٹنگ کر تی پھر رہی ہوگی ۔شاید آج اسنے گہری ہری ساری پہنی ہو ۔
وہ اپنی ذمہ داریاں دل وجان سے پوری کرتا رہا تھا پھر بھی دل کی یہ خلش کبھی کبھی بہت بے چین سا کر دیتی ۔اور جب چھوٹی بہن عاصمہ نے اسکی بیماری کا بتا یا تو اور بھی بے چین ہوگیا ۔کہتے ہیں وقت ایک سا نہیں رہتا ۔اب اسکی ہنسی میں آنسو ؤں کی نمی بھی در آئی ہے آج عا صمہ کی باتیں اسکو دہلا رہی تھیں ۔ماہ رخ دو بچوں کی ماں ہے ۔ابتو کئی کئی دن اسکے گھر کی دہلیز سونی رہتی ہے وہ بچوّں کے ساتھ راہ دیکھتی رہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔پھر سنا وہ شہر چھوڑ گیا ۔تنہائیاں اسے نچوڑ رہی تھیں وہ دروازے پر آس لیئے بیٹھی رہتی ہے مایوسی نے اسکے جسم میں اپنے پنجے گاڑ دیئے ہیں ۔یہ بتا تے بتا تے عاصمہ کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں ۔اور پھر جب بیماری کی خبر آئی تو وہ ساری مصلحتیں بھول کر پہلی ٹرین سے دہلی میں تھا ۔
ہاسٹل کا سر چکرا تا ہوا ماحول عجیب سی وحشت وہ سارے مراحل سے گزرتا ہوا اسکے کمرے میں پہونچا تو اسکا دل پھٹنے لگا
کہاں تھی وہ ؟؟ یہ تو سایہ تھا اسکا گہری ویران آنکھیں مایوس نظر ۔
ہونٹوں پر مسکراہٹ نام کو نہیں تھی سر سراتی ہوئی تنہائی اسکے آس پاس ڈول رہی تھی ۔
اچانک کمرے میں خوشبو کا ایک بھپکا آیا ۔گرے سوٹ ہاتھ میں قیمتی موبائیل تھامے ہوئے وہ اندر داخل ہوئے تو وہ گھبرا کر کھڑا ہوگیا ۔ہاتھ ملانے کے لیئے آگے بڑھا اور برُی طرح نظر انداز کیا گیا ۔رعونت بھری نظروں میں اسے باہر نکل جانے کا حکم تھا اور وہ باہر نکل گیا ۔
"اب تو ٹھیک بھی ہوگئی ہوگی ۔"۔۔اسنے خود کلامی کی ۔
اسنے برامدے کے ساتھ بنے چھوٹے سے باورچی خانے میں کام کرتی اپنی بیوی پر نظر ڈالی ۔اسکے سوتی کپڑے گنجلے ہوئے سے تھے چہرے پر پسینے کے ساتھ ساتھ ایک آسودگی اور اطمینان بھی تھا ۔
دور کہیں ہاسپٹل کے اسپیشل وارڈ میں لیٹی ماہ رخ نے کروٹ بدلی تو ہاتھ میں لگی ہوئی ڈرپ کی سوئی نے بے چین کر دیا ۔
"آہ ۔۔۔۔۔"اسنے کراہ کر اپنا ہاتھ تھام لیا ۔
کمرے کے باہر کھڑا ہوا اسکا باوقار شوہر ڈاکٹر پر برس رہا تھا ۔
"آخر آپ بتا تے کیوں نہیں آپکو پرا بلم کیا ہے ۔۔۔؟"
"سر ۔۔پرابلم مجھے نہیں آپکی مسز کو ہے ۔"ڈاکٹر شاید اسکے انداز سے متا ثر تھا ۔
ہم لوگ اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں باقی اللہ کی مرضی ۔"
"عجیب باتیں کر رہے ہیں آپ ۔میں پروگرس کی بات کر رہا ہوں اور آپ مجھے واعظ دے رہے ہیں ۔آپکو اندازہ بھی ہے کہ کتنی اہم میٹنگس چھوڑ کر یہاں بیٹھا ہوں ۔۔؟ "
"سر ۔۔ہم یقینی طور پر کیسے کچھ کہہ سکتے ہیں ہمارے ہاتھ میں جو ہے وہ کر رہے ہیں ۔اگر انکی زندگی ہے تو ضرور بچ جائینگی ورنہ حالت بہت خراب ہو چکی ہے ۔بہت دیر کر دی گئی علاج میں ۔"
"ہنھ ۔۔۔۔۔زندگی ہے تو بچ ہی جائینگی اسمیں آپکا کیا کمال ہے ۔۔" وہ بڑ بڑا تا ہوا کمرے کے اندر آگیا اور بیڈ کے قریب پڑے ہوئے صوفے پر ڈھیر ہو گیا ۔۔
سامنے پڑے اخبار کو اٹھاتے ہوئے اسنے پلنگ پر لیٹی ماہ رخ پر نظر ڈالی اور بڑ بڑانے لگا
"ایک ایک منٹ قیمتی ہے میرا ۔۔۔اور یہ ڈاکٹر ۔ہنھ ۔۔۔" اسنے جھٹکے سے اخبار کا صفحہ پلٹا ۔۔۔کاغذ کی کھڑ کھڑا ہٹ اور اسکے لہجہ کی ٹھنڈک ماہ رخ کے اندر تک گئی ۔اسنے بڑی دقّت سے آنکھیں کھول کر اپنے خوبرو شوہر پر نظر ڈالی ۔وہ آج بھی ویسا ہی خوبصورت تھا لمبا قد کھُلتا ہوا رنگ اور پھر اسکا اپنا رکھ رکھاؤ جسکی وجہ سے وہ لاکھوں میں الگ پہچا نہ جاتا تھا ۔اسکے بات کرنے کا ڈھنگ اسکی مسکراہٹ اور ۔۔۔اور ۔۔۔اسکی بے وفائیاں ۔
شاید یہ آخری ہچکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دور کہیں دوسری رکعت پڑھتے پڑھتے اسے جھر جھری سی آئی آنکھوں کے آگئے اندھیرا سا چھا گیا ۔وہ مصّلے پر بیٹھ گیا ۔"یا اللہ اسکی حفاظت کر نا ۔" اسنے کانپ کر دعا کی اور چہرہ ہاتھوں سے چھپا کر نہ جانے کیوں آنسو بہا نے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
No comments:
Post a Comment