Tuesday, August 29, 2017

 
آدھی رات ادِھر آدھی رات ادُھرجب سارا شہر سننا ٹے میں ڈوب جا تا ۔
 ۔۔جب ساری روشنیاں بُجھنے لگتیں گہرا اندھیرا چھانے لگتا  تب  ایک ویران قبرستان کچھ قبرنشین سر گو شیوں میں باتیں کرتےہو ئے  نظر آتے    
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
"اسلام علیکم بھیا حضور ! "
"واعلیکم ۔۔۔"نخووت سے جواب ملتا وہ بھی ادھورا ۔حالا نکہ اس سلام اور جواب ِ سلام کی کوئی اہمیت بھی نہ رہی تھی ۔
"یہ سارے پہرے دار کہاں غائب ہیں آج ؟؟ میرا حقّہ بھی تازہ نہیں کیا گیا "وہ خیالی حقّے کی منال منھ سے لگا لی ۔
"بھیّا حضور یہ اُن کے آرام کا وقت ہے ۔ہم تو بس ۔۔۔"
"آپکو ہمیشہ اِن غریب فقیر لوگوں کی ہی فکر رہی ۔ اسی لئے کچھ بن نہ سکے ۔"
یوسف علی نرمی سے مسکراتے اور اندھیرے کے اسُ پار کہیں پرانے دنوں کی طرف دیکھنے لگتے ۔یہ خاندانی قبرستان تھا ورنہ کہاں وہ اور کہاں بڑے بھیا ۔

"آپکو تو یاد نہیں ہوگا ۔کیا خوبصورت شامیں ہوتی تھیں ہماری ،آج امینہ بائی تو کل روشن آرا ۔مگر آپ کو کہاں فرصت تھی اپنی کتا بوں سے جو کبھی ہماری محفل میں آتے "
"بھیّا حضور وہ آپکے شوق تھے اور کتابیں ہمارا شوق ۔"
"کیا  دیا آپکے شوق نے ؟ ایک معمولی زندگی گزاری آپ نے اور ہم ۔۔۔۔"
"جی ۔۔سچ کہا آپ نے ۔۔ہمارے نصیب میں آپ جیسی زندگی کہاں تھی " انکی آواز میں ٹوٹے ہوئے شیشے کی کھنک اور گہری اُداسی جھانک رہی تھی ۔
"آپ نے ہمیں اپنا خاندانی حق بھی نہ ملنے دیا ۔۔۔اور باقی چیزیں تو اضافی تھیں "
"دیکھئے میاں ! حکومت کر نا ہماری قسمت میں لکھا تھا ،آپکو راستے سے نہ ہٹا تا تو کوئی اور ذریعہ بن جاتا ۔اور آپکو بھی ہم نے کہاں ہٹا یا ؟ آپ تو بزدلوں کی طرح محل سے بھاگ نکلے تھے ۔"
"اگر میں اپنی اور اپنے خاندان کی جان بچا کر نہ نکلتا تو ہماری لاشیں نکلتیں اور خود کشی ہمیں منظور نہ تھی بھیّا حضور ! آپ نے تو حد ہی کر دی تھی ۔اگر ابّا حضور ہم کو ولیعہد بنا نا چاہتے تھے تو ہمارا کیا قصور تھا ؟ "
"قصور آپکا ہی تھا میاں ! آپ اتنے نیک اور فرما بردار بنکر سامنے آتے تھے ۔۔۔۔"
"ہم نیک اور فرما بردار بنکر نہیں آتے تھے بھیّا حضور ابّا نے یہ خوبیاں ہم میں خود دیکھی تھیں ۔ہمیں کوئی لالچ نہیں تھا یہ ان ہی کا فیصلہ تھا ۔اور آپ نے بھی تو حد کر دی تھی ۔اب ہم اپنی زبان سے کیا کہیں "

 انھوں نے سر جھکا لیا ۔
"ہاں ہم نے حد کی تھی ۔ہمارے شوق تھے  ۔تعلیم سے ہم دور تھے ۔ہم بازاری عورتوں کو گھر بلاتے تھے ہم ناچ رنگ پسند کرتے تھے ۔اور ابّا حضور ہمارے دشمن بن گئے "
"اور آپ ہمارے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔"

 یوسف آبدیدہ ہوکر قبر سے اٹھ کر ٹہلنے لگے ۔انھیں یاد آگیا کہ کسطرح کسمپرسی کی حالت میں گھر سے بے گھر ہوئے تھے ،تما م واقعات ذہن کے پردے پر سر سرانے لگے ۔۔۔۔

"ہم آپ سے ان سب با توں کے لئے قطعی شر مندہ نہیں ہیں میاں ۔جو آپ کو ملنا تھا ملا جوہم نے حاصل کر نا تھا کیا ۔ "
بڑے بھیا اب بھی اسی طرح غرور میں مبتلا نظر آئے ۔
قبرستان کے سننا ٹے کچھ اور بڑھ گئے ۔سوکھے پتّوں پر شبنم کا گر نا جاری رہا ۔۔۔ٹپ ۔۔ٹپ ۔۔۔پتّے اپنے سینوں پر شبنم کا وار سہتے رہے ۔۔۔کسما تے رہے ۔
اجڑی ریاستوں کے سینے میں نہ جانے کتنے راز دفن تھے ۔
یہ بھی ایک طویل وعریض رقبہ پر مشتمل ریاست کی داستان ہے جہاں ظلم و ستم کے ساتھ کچھ معصوم رعا یا بھی تھی ۔
کچھ بے لوث   درد مند انسان بھی تھے ۔جن کو اپنے لیئے نہیں اپنی رعا یا کے لیئے کچھ کر نا تھا ۔۔جو اسکول اور اسپتال بنواتے تھے ۔جو سڑکوں اور کھیتوں کے ٹیکس معاف کر دینا چاہتے تھے  جو سبکو ساتھ لیکر چلنا چاہتے تھے ۔۔۔مگر زمانے کو یہ منظور نہ تھا ۔۔
انکی یہ درد مند طبیعت انکے لیئے عذاب بن گئی ۔۔۔۔۔۔ان پر ستم توڑے گئے ۔
٭٭٭٭٭
گھوڑا ہواؤں سے باتیں کر رہا تھا  ہر علاقے سے وہ اس تیزی سے گزر جاتا گویا ایک شرا را ایک پارہ ۔۔۔۔ابھی یہان نظر آیا اور ابھی وہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھوڑا اور سوار دونوں دھول میں اٹ چکے تھے ۔
انھوں نے گھوڑے کا سر سہلاتے ہوئے ہمت دلا ئی اور اسنے اسی زور وشور سے اپنا سفر جاری رکھا ۔درختوں کی چھاؤں سے نکل کر جب سوار کڑی دھوپ میں آتا تو اپنا چہرہ گھوڑے کی ایال میں چھپا  لیتا ۔اور گھوڑا اپنے مالک کی حالت محسوس کر کے درختوں کے جھنڈ کی تلاش میں سر گر داں ہوجاتا ۔سوار  اللہ کے حضور سرجھکا کر  شکر ادا کرنے لگتا  کہ اسکے بچّے اور بیوی محفوط جگہ پر ہیں ۔
آخر کا ر منزل نظر آنے لگی ۔مسافر نے چہرے کی دھول صاف کی ۔
بلند وبالا آہنی  پھاٹک کے دروازے پر کئی لوگوں کے ہجوم کے ساتھ راجہ صاحب خود موجود تھے ۔ایک ملازم نے انکے سر پر چھتّر کا سایہ کیا ہوا تھا اور ایک ملازم مور کے پروں کا بنا ہوا   پنکھا لئے ہوئے مسلسل انکو جھل رہا تھا ۔
راجہ صاحب نے گھوڑے کو قریب آتے دیکھا تو خود آگے بڑھ کر داماد  کو بازو کا سہارا دیکر اتارا اورپھر شانوں سے تھام کر  سینے سے لگا لیا ۔کئی لمحے یونہی بیت گئے ۔
انھوں نے اپنے معطّر رومال سے انکا  کا چہرہ صاف کیا اور بازوں میں لیکر حویلی کے اندر کی طرف بڑھ گئے ۔
گھوڑے کے لئے پانی کا انتظام موجود تھا ایک ملازم محبت سے اسکی صفائی میں لگ گیا ۔سامنے چنے کی بھیگی ہوئی دال اور اور گڑ کا ملیدہ لگا دیا گیا ۔
محل کے اندر بڑی بڑی سینیوں میں صدقے کا سامان نکالا جارہا تھا
۔اناج ،گوشت اور چاندی کے سکوّں سے بھری سینی یوسف علی خان کے سامنے آتی رہیں اور وہ انھیں انگلیوں سے چھو کر اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے جہاں خدمت گار ایک بڑے پیتل کے لوٹے میں پانی اور دوسرا تانبے کی سلفچی لیئے کھڑا تھا ۔وہ ہاتھ دھلا کر نرمی سے صاف شفّاف تولیہ سے  مس کر تا ۔
راجہ صاحب نے اپنی آرام گاہ میں صاحبزادے یوسف علی خاں کو اپنے بستر پر جگہ دی اور خود پاس رکھے ایک طویل مخمل کے صوفے پر بیٹھ گئے ۔

"ہاں   اب مجھے یہ بتا ئیے کہ واقعہ کیا تھا ؟ آخر کس سبب سے صاحبزادے وقار علی خان نے یہ قدم اٹھا ؟ "
یوسف یوں خاموش رہے گویا اپنے آنسوؤں کو اندر ڈھکیل رہے ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"با با جان  !  ناراض تو بھائی جان مجھ سے ہمیشہ رہے " وہ اپنی بھرّائی ہوئی آواز کو قابو میں  کر تے ہوئے بولے ۔
خدا معلوم انکو مجھ سے کیا پر خاش ہے ۔ہم نے تو ان سے کبھی انچی آواز میں بات بھی نہیں کی ۔ابّا حضور کے گزر جانے کے بعد ان کے روّیے میں  ہما رے لیئے کچھ ذیادہ ہی تلخی آگئی تھی ۔
مگر وہ اس حد تک چلے جائینگے کبھی سو چانہیں  تھا ۔جیسا کہ ملازموں  نے بتایا ۔۔اگر ہم اس وقت  بستر پر موجود ہو تے  ؟؟
ہم موت سے نہیں ڈرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر با باجان ۔۔میرا سارا خاندان تباہ ہوجاتا ۔ادھر یہ معصوم    ۔۔۔"انھوں نے سامنے دالان میں کھیلتے ہوئے دونوں بیٹوں پر نظر کی ۔تو انکی آنکھوں میں شفاّف پانی کی چمک راجہ صاحب نے محسوس کرلی ۔
"اور دوسری طرف انکی اپنی اولاد ۔پولیس والے  مسلسل اس کوشش میں ہیں  کہ کوئی ایسا واقعہ ملے اور ہم سب کی بد نامی ہو ۔صرف بستر پر ایک گولی چلنے سے پولیس کا آنا جانا شروع  ہوگیا  ہے ۔
۔ملا زم ہمیں  برا بر خبر دیتے رہے ۔۔کس طرح ہم چھپ کر رہے اور کیسے آپ کے پاس آسکے  ۔۔آپکو کیا بتائیں  ۔۔" وہ سر جھکا کر خا موش ہو گئے ۔
"خیر اب جو ہوا سوہوا ۔اب آپ ایسا کیجئے کہ  ،انھوں نے اٹھکر الماری سے کچھ کاغذات نکا ل کر انکی طرف بڑھائے 
بسم اللہ  کر کے یہاں جائیے اور اپنا علا قہ سنبھالیئے ۔
یہ بات میں شروع سے آپ سے کہہ رہا ہوں ۔کیونکہ میں نے صاحبزادے کے  تیور پہلے ہی دن سے بھانپ لیئے تھے  ۔راجہ اقبال علی خاں آپکے والد کے بعد وہ آپکو بر داشت نہیں کرینگے ۔حالانکہ محل اور باغات ۔کھیتوں پر آپکا حق ہے  وہ ہر صورت آپکو ملنا چاہیئے ۔آپ چاہیں تو مقدمہ دائر  کروا سکتے ہیں ۔مگر فی الحال میں آپکو یہ رائے نہیں دونگا بلکہ یہ فیصلہ آپکو خود ہی لینا   ہوگا ۔
اس وقت آپ آرام کیجئے اس موضوع پر شام کو آپ سے بات ہوگی ۔
انھوں نے تعظیماً کھڑے ہوتے ہوئے یوسف کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر انھیں دوبارہ بٹھا دیا اور کمرے سے نکل گئے ۔
ہلکے آسمانی لباس میں خوشبوؤں سے معطّر نگار آرا آئیں اور انکے بازو وں پر اپنا سر ٹکا دیا ۔۔وہ بے آواز رورہی تیں اور یوسف کے پاس بھی کوئی الفاظ نہیں تھے ۔وہ خاموشی کی زبان میں ایک دوسرے کا غم بانٹتے رہے  ۔
بچوّں کے چہرے پر وہ اپنا مستقبل دیکھتے رہے ۔۔۔
آخر کار انھیں راجہ صاحب کی بات ماننی پڑی اور ایک نئی جگہ استقلال کے ساتھ  نئیے  مرحلے سر کرنے نکل پڑے ۔۔۔
وہ ذیادہ نہیں جی سکے اپنے بچّوں کو جوان دیکھنے کی خواہش لیئے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔
اس شہر ِ خموشاں میں رات دھیرے دھیرے گزر رہی تھی ۔دونوں کے پاس کہنے کو اب شاید کچھ نہیں بچا تھا ۔
تب وقار علی خان  نے انکی طرف نگاہ اور تجسس سے بولے ۔                              

     ایک بات بتائیے آپ کی قبر میں اتنی روشنی اور خوشبو کسطرح ہے ؟"
یوسف  نے سر اٹھا کر گہری سانس لی اور طما نیت بھری نظروں سے اپنی قبر کی طرف دیکھا اور مسکرا کر قبر کی طرف بڑھ گئے ۔
۔
 وہ جھنجھلا کر اٹھے صبح ہونے والی تھی اپنی بے رونق اجاڑ قبر کی طرف بڑھے مگر انکی آنکھیں بھیگ رہی تھیں ۔انکی قبر پر بے رونقی اور اندھیرا بڑھ آیا تھا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

No comments:

Post a Comment