فالتو لڑکی ۔
کچھ کہا نیاں اور کچھ ڈرامے پاس سے نکلتے چلے جاتے ہیں ۔مگر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہاتھ پکڑ کر پاس بٹھا لیتے ہیں اور جب تک بات ختم نہ ہوجائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ہاتھ چھوڑتے نہیں ۔بس کچھ ایسی ہی کہانی ہے اس ڈرامے "فالتو لڑ کی " کی ۔۔۔۔۔۔
میں اسوقت کئی ڈرامے یو ٹیوب پر ایک ساتھ دیکھ رہی تھی صبح کوئی اور شام کو کوئی اور مگر جب سے فالتو لڑکی دیکھنا شروع کیا سارے ڈرامے دیکھنا بند کر دیا ۔۔کہیں اور دل ہی نہیں لگتا تھا ۔
پہلی قسط سے لیکر آخری قسط تک اس اس طرح مجھے اس کہانی نے تھام رکھّا تھا کہ تین روز میں 28 قسطیں دیکھ ڈالیں ۔دلچسپی پہلی قسط سے ہی شروع ہو تی ہے ۔وہ ایک لڑکی جو ہندوستان سے لائی گئی اسکے لیئے سبکے خیالات جان کر دلی رنج ہوا ۔ کیونکہ مجھے معلوم ہے وہاں لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ ہم سب ہندوؤں کے ملک میں ہیں تو ہمارے خیالات ہندوا نا ہی ہونگے ۔۔شاید لوگوں کو یہ اندازہ نہیں کہ یہاں صرف ہندو نہیں ۔سکھ ۔عیسائی ۔پارسی ۔بدھشٹ ۔اور بھی کئی مذہب کے لوگ رہتے ہیں ۔۔ہاں ہندو بھی ۔۔
لیکن ہر ایک اپنے مذہب کو دل سے ، شدتّ سے محسوس کر کے اس پر قائم ہیں ۔۔ے
اس لڑکی کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ نارمل تھا ۔۔جہاں حالات بہتر ہوں اور نہ ہونے کی امید ہو ۔وہاں اضافی خرچ کون کر تا ہے ؟ اگر یہاں بھی کسی کے گھر ایسی کوئی بے آسرا لڑکی آجائے تو یہی سلوک ہوگا ۔
باقی کر دار بھی اپنی اپنی جگہ بہت موضوع ہیں ۔جسکو جو بھی رول ملا اسنے دیا نت داری سے نبھا یا ۔خواہ وہ اس مشترکہ گھر کی خواتین اور مرد ہوں یا معظم جاہ کی فیملی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
تابش کی فیمیلی بھی بے حد روائیتی اور بے جا مذہبی دکھائی گئی اور سب سے اچھّی بات یہ لگی کہ ہر خاندان میں الگ روائیتیں رہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ جن کو وہاں کے کرداروں نے بخوبی نبھایا ۔ ذاتی طور پر مجھے روپا کا کردار نبھا نے والی لڑکی ۔۔(جسے کئی ڈراموں میں ہیروین کے رول میں دیکھ چکی ہوں )کا م بے حد پسند آیا ۔یہ آسان رول نہیں تھا بہت چیلنجنگ رول تھا ۔اسکے علاوہ زارقہ کا کام بھی بہت اچھّا لگا ۔ایک فرما بردار روائیتی بیوی ، بچوں کی اچھّی تر بیت کرنے والی ماں ، اور دکھے دل والی عورت ،بہت عمدہ نبھایا ہے ۔
اس فالتو لڑکی کی کم ہمتی کے باوجود اتنا بڑا قدم اٹھا لینا ۔۔زبر دست انقلاب لاتا ہے جسکی امید شروع سے ہر گز نہیں تھی ۔اور سب سے اچھّی بات یہ تھی کہ پورے ڈرامے میں تجسس بر قرار رہا ۔بالکل نہیں معلوم تھا کہ اگلی قسط کیا لیکر آئے گی ۔۔یہ بات ڈرامے کی کامیا بی کی ضما نت ہے ۔کہانی میں جہاں تجسس بر قرار رہتا ہے وہاں قاری سانسیں روکے بیٹھا رہتا ہے اور جن ڈراموں میں کہانی دو یا تین قسط کے بعد کھلنے لگتی ہے وہیں دلچسپی ختم ہوجاتی ہے ۔
بہت عمدہ تحریر ۔عمدہ ڈائیرکشن ۔اور لاجواب اسکرین پلے ہے ۔۔میں سمجھتی ہوں کہ کافی عرصے کے بعد اتنا عمدہ ڈرامہ دیکھا ہے ۔حسینہ معین کے ڈرامے دیکھنے کے بعد کوئی بھی پلے ابتک مجھے باندھ نہیں سکا ۔مصنف اور ڈائیریکٹر ،اسکرین پلے لکھنے والوں کے لیئے بہت مبارکباد ،
سارے آرٹسٹ مبارکباد کے قابل ہیں بلکہ قابل ِ ستائش ہیں ۔
اگر اس ٹیم کا کوئی اور بھی ڈرامہ ہوتو مہر بانی فر ما کر مجھے ضرور بتا ئیں ۔۔۔
کچھ کہا نیاں اور کچھ ڈرامے پاس سے نکلتے چلے جاتے ہیں ۔مگر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہاتھ پکڑ کر پاس بٹھا لیتے ہیں اور جب تک بات ختم نہ ہوجائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ہاتھ چھوڑتے نہیں ۔بس کچھ ایسی ہی کہانی ہے اس ڈرامے "فالتو لڑ کی " کی ۔۔۔۔۔۔
میں اسوقت کئی ڈرامے یو ٹیوب پر ایک ساتھ دیکھ رہی تھی صبح کوئی اور شام کو کوئی اور مگر جب سے فالتو لڑکی دیکھنا شروع کیا سارے ڈرامے دیکھنا بند کر دیا ۔۔کہیں اور دل ہی نہیں لگتا تھا ۔
پہلی قسط سے لیکر آخری قسط تک اس اس طرح مجھے اس کہانی نے تھام رکھّا تھا کہ تین روز میں 28 قسطیں دیکھ ڈالیں ۔دلچسپی پہلی قسط سے ہی شروع ہو تی ہے ۔وہ ایک لڑکی جو ہندوستان سے لائی گئی اسکے لیئے سبکے خیالات جان کر دلی رنج ہوا ۔ کیونکہ مجھے معلوم ہے وہاں لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ ہم سب ہندوؤں کے ملک میں ہیں تو ہمارے خیالات ہندوا نا ہی ہونگے ۔۔شاید لوگوں کو یہ اندازہ نہیں کہ یہاں صرف ہندو نہیں ۔سکھ ۔عیسائی ۔پارسی ۔بدھشٹ ۔اور بھی کئی مذہب کے لوگ رہتے ہیں ۔۔ہاں ہندو بھی ۔۔
لیکن ہر ایک اپنے مذہب کو دل سے ، شدتّ سے محسوس کر کے اس پر قائم ہیں ۔۔ے
اس لڑکی کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ نارمل تھا ۔۔جہاں حالات بہتر ہوں اور نہ ہونے کی امید ہو ۔وہاں اضافی خرچ کون کر تا ہے ؟ اگر یہاں بھی کسی کے گھر ایسی کوئی بے آسرا لڑکی آجائے تو یہی سلوک ہوگا ۔
باقی کر دار بھی اپنی اپنی جگہ بہت موضوع ہیں ۔جسکو جو بھی رول ملا اسنے دیا نت داری سے نبھا یا ۔خواہ وہ اس مشترکہ گھر کی خواتین اور مرد ہوں یا معظم جاہ کی فیملی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
تابش کی فیمیلی بھی بے حد روائیتی اور بے جا مذہبی دکھائی گئی اور سب سے اچھّی بات یہ لگی کہ ہر خاندان میں الگ روائیتیں رہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ جن کو وہاں کے کرداروں نے بخوبی نبھایا ۔ ذاتی طور پر مجھے روپا کا کردار نبھا نے والی لڑکی ۔۔(جسے کئی ڈراموں میں ہیروین کے رول میں دیکھ چکی ہوں )کا م بے حد پسند آیا ۔یہ آسان رول نہیں تھا بہت چیلنجنگ رول تھا ۔اسکے علاوہ زارقہ کا کام بھی بہت اچھّا لگا ۔ایک فرما بردار روائیتی بیوی ، بچوں کی اچھّی تر بیت کرنے والی ماں ، اور دکھے دل والی عورت ،بہت عمدہ نبھایا ہے ۔
اس فالتو لڑکی کی کم ہمتی کے باوجود اتنا بڑا قدم اٹھا لینا ۔۔زبر دست انقلاب لاتا ہے جسکی امید شروع سے ہر گز نہیں تھی ۔اور سب سے اچھّی بات یہ تھی کہ پورے ڈرامے میں تجسس بر قرار رہا ۔بالکل نہیں معلوم تھا کہ اگلی قسط کیا لیکر آئے گی ۔۔یہ بات ڈرامے کی کامیا بی کی ضما نت ہے ۔کہانی میں جہاں تجسس بر قرار رہتا ہے وہاں قاری سانسیں روکے بیٹھا رہتا ہے اور جن ڈراموں میں کہانی دو یا تین قسط کے بعد کھلنے لگتی ہے وہیں دلچسپی ختم ہوجاتی ہے ۔
بہت عمدہ تحریر ۔عمدہ ڈائیرکشن ۔اور لاجواب اسکرین پلے ہے ۔۔میں سمجھتی ہوں کہ کافی عرصے کے بعد اتنا عمدہ ڈرامہ دیکھا ہے ۔حسینہ معین کے ڈرامے دیکھنے کے بعد کوئی بھی پلے ابتک مجھے باندھ نہیں سکا ۔مصنف اور ڈائیریکٹر ،اسکرین پلے لکھنے والوں کے لیئے بہت مبارکباد ،
سارے آرٹسٹ مبارکباد کے قابل ہیں بلکہ قابل ِ ستائش ہیں ۔
اگر اس ٹیم کا کوئی اور بھی ڈرامہ ہوتو مہر بانی فر ما کر مجھے ضرور بتا ئیں ۔۔۔
No comments:
Post a Comment