Wednesday, February 26, 2014

پکّا۔۔۔۔۔۔
ایک بہت بڑا بر گد کا پیڑ تھا وہاں ۔۔۔۔وہ ایک چھو ٹا سا گاؤں تھا ۔۔۔بہت چھوٹا ایک نقطہ سا ۔۔۔۔جہاں نمک کے سوا کچھ بھی نہیں ملتا تھا ۔۔اناج اور سبزیاں کھیتوں میں اگائی جاتی تھیں ،پانی کوئیں سے  گھڑوں میں بھر کے رکھّا جاتا تھا ۔
وہاں اس بر گد کے نیچے ایک اینٹوں کا چبوترا تھا جسے سیمنٹ لگا کر جوڑ دیا گیا تھا ،اسے گاؤں کے لوگ "پکّا " کہتے تھے ۔
اس پر صبح شام مزدور آکر بیٹھتے تھے اور اکثر بچّے کھیلا   کر تے اور ان بچّوں میں میں بھی شامل تھی ۔
وہیں ایک بزرگ آکر بیٹھتے تھے ۔سارے مزدور اور کاشتکار اپنی مشکلیں انھیں سناتے اور ان سے رائے لیتے ۔۔۔وہ سبکی بپتا سنتے اور اکثر انکا حل بھی بتا دیتے تھے تمام محنت کش اپنی پریشانیاں ،لے
 یہیں چھوڑ کر ہلکے پھلکے ہوکر اپنے اپنے گھر چلے جاتے ۔
وہ سارے لوگ ان بزرگ کو بہت ساری دعائیں دے جاتے تھے ۔
مجھے یہ بھیڑ بھاڑ اچھی نہیں لگتی تھی تو اکثر ان سے پوچھتی "آپ کیوں سنتے ہیں سب کی باتیں ۔۔۔۔؟"
مجھے ملال ہوتا ۔۔۔وہ اتنی دیر تک اس طرح کے لوگوں میں کیوں گھرے رہتے ہیں ۔
"بیٹا ۔۔۔"وہ آہستہ آہستہ مجھے سمجھاتے ۔انکی انگلیوں میں تسبیح کے دانوں کی گر دش رک جاتی ۔۔۔
"وہ لوگ مجھے اپنی الجھنیں پر یشانیاں کچھ دیر کے لئے ہی سہی ۔۔۔دے دیتے ہیں انکا بوجھ چند لمحوں کے لیئے ہی سہی ۔۔۔۔۔کم ہوجاتا ہے ،ان سب کی زندگی کئی امتحانوں سے گزر رہی ہے بیٹی ۔۔۔اگر کچھ دیر کے لئے ہی میں ان کو سکون دے سکوں  تو یہ اللہ کی عنایت ہے مجھ پر ۔۔۔۔"
میں انکے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔تو اک نور کا حالا  انکے چہرے کے آس پاس نظر آرہا تھا ۔۔۔۔اور وہ نور کا حالا دن بدن روشن ہوتا  گیا ۔
اب زندگی انکے بغیر گزار رہی ہوں تب بھی وہ نور کا حالا میرے ارد گرد ہے اور اسی سے زندگی کی ہر جدّوجہد کا سامنا بھی کر رہی ہوں ۔زندگی کے مسائل ۔۔۔حوادث ۔اور جدّوجہد کس کے ساتھ نہیں ہوتے ۔۔وقت کی آندھی سوکھے پتّے کی طرح اڑائے اڑائے پھرتی رہی ۔کبھی پڑھائی کی فکر کبھی نوکری ۔۔اور کبھی اپنی ازواجی زندگی کے اتار چڑھاؤ ۔۔۔یہ کسی ایک کا مسئلہ نہیں عام طور سے سبھی اسی طرح زندگی گزار رہے ہیں ۔
بہر حال میں جس کمپنی میں ہوں وہیں نتا شہ بھی کام کرتی ہے ۔پہلی بار جب مینے اسے دیکھا وہ مجھے اچھّی لگی ۔۔۔ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے ۔۔۔اور دوستی کی ابتدا ہوگئی ۔
دوستی کے لئے تو خیر کوئی جدو جہد نہیں کرنی پڑتی ۔۔۔یہ تو ایک کشش ہے جو آپکو خود بخود کسی ہستی کی طرف مائل کر دیتی ہے ۔۔خیر بات نتا شہ کی ہے ہم آفس میں ایک دوسرے سے ملتے اپنی باتیں اپنی پریشا نیاں بھی شیئر کر نے لگے ۔۔۔
کبھی کافی کبھی لنچ ۔۔ساتھ ہونے لگا ۔مجھے محسوس ہوا کہ آفس کے کافی لوگ اس سے ذیادہ قریب ہیں ۔۔۔وہ ذیادہ خوبصورت تھی سب سے ہنس کر ملتی تھی ۔۔میری طر ح لیئے دیئے نہیں رہتی تھی ۔
یہ شاید جلن کا احساس تھا یا احسا س ِ کمتری ۔۔۔۔میں اس سے دور ہونے لگی ۔میں اس سے بلا وجہ خفا رہنے لگی ۔مگر وہ اسی طرح مخلص مسکرا ہٹیں بکھیرتی میرے کیبن میں آجاتی ۔
کبھی کافی لیکر اور کبھی یونہی ہنستی مسکراتی آکر بیٹھ جاتی ۔
ایک دن میں پھٹ پڑی ۔
"تم اپنے گرد جو میلہ لگائے رکھتی ہو ۔۔مجھے اچھّا نہیں لگتا،تمہاری سیٹ کے پاس مستقل لوگ رہتے ہیں وہ لڑکیاں ہوں یا مرد ۔۔ہر کسی سے ہنس کر بتیں کر تی ہو ۔۔۔ہمارے سماج میں یہ سب اچھّا ہے کیا ۔۔؟  ۔۔بہتر ہوگا کہ ۔۔۔"وہ ہنسنے لگی ۔۔جیسے کوئی بڑا کسی بچّے کی بے تکی بات پر ہنس پڑے ۔۔
"تم کیا سمجھتی ہو۔۔۔۔وہ سب میرے حسن کے قصیدے پڑھنے آتے ہیں ۔۔۔؟وہ جو میرے ارد گرد ہوتے ہیں وہ صرف اپنے مسائل سنانے آجاتے ہیں اور میں صرف انکی باتیں یکسوئی سے سن لیتی ہوں ۔۔۔ورنہ کسکے پاس وقت ہے ؟؟ کہ کسی کی الجھنون کو سنے ؟ مناسب رائے بھی دے دیتی ہوں جو بھی مجھ سے ممکن ہو اس مدد کو بھی تیّار رہتی ہوں ۔۔کچھ دیر کو ہی سہی ۔۔۔انھیں اپنی پریشانیوں دکھوں سے نجات مل جاتی ہے ۔۔۔میری سیٹ کے پاس آکر ہی سہی ۔۔۔"وہ خاموش ہوئی ۔۔۔اور مینے دیکھا ۔۔۔ایک نور کا حالا اسکے چہرے کے چاروں طرف روشن تھا ۔۔۔یہ چمک لحظہ بہ لحظہ بڑھ رہی تھی ۔۔۔
تب مجھے ایک بات سمجھ میں آئی کہ ۔۔۔پکّا  کہیں بھی ہوسکتا ہے ۔۔۔اسکول میں گھر میں ۔۔بر گد کے نیچے یا آفس میں ۔۔۔کہیں بھی ۔۔۔۔۔۔۔!
ختم شد 

No comments:

Post a Comment