Thursday, February 13, 2014

نام لیتے ہی آواز بھرّا نے لگتی ہے ،قلم تھر تھرانے لگتا ہے ۔یہ ایک ایسا نام ہے جو ہر لمحہ دل سے لپٹا ہوا ہے ۔اب تو برس نکل گئے پر لگتا ہے ابھی کی بات ہے ۔"سچ بتایئے کیا ہوا ہے "؟؟
"کیا بتاؤں "؟ ایسے ہی گھومتے گھومتے دل بھر گیا تو پل بھر کو اسپتال میں ٹھہر گیا ۔۔لکھنؤ سنجے گاندھی انسٹی ٹیوٹ والے بھیج رہے ہیں دہلی " وہ ادھر فون پر ہنس رہے تھے ۔۔۔       ۔کھو کھلی ہنسی ۔۔۔۔
"صحیع صحیع بتایئے ۔۔۔دہلی کیو ں جارہے ہیں ؟؟؟"
"بس یونہی گھونمے ۔۔۔قطب مینار نہیں دیکھا ہے ابھی تک "وہ میری باتوں کو ایسے ہی اڑا دیا کرتے تھے ۔پھر کچھ دنو ں بعد سنا کہ آپالو میں اڈمیٹ ہیں ۔
فون پر بات بھی ہوئی ۔
"کیا ہو گیا ہے ؟؟؟ کیو ں اسپتال میں ہیں آپ ؟؟"
"یہا ں کے ڈاکٹر بڑے مہر بان ہیں ۔۔اچھا لگتا ہے انکے درمیان رہنا ۔۔۔تم کب آؤگی ملنے ؟؟"
وہ بات کرتے کرتے ہنس رہے تھے یہا ں میری آنکھو ں سے جھڑی لگی تھی ۔
کس قدر ہر دل عزیز تھے ۔۔۔کیرم کھیلتے تو خوب بے ایمانی کرتے اپنی گو ٹیں پار کر دیتے ۔۔۔اور ہم سب چلّا تے رہ جاتے ۔کیرم کے بورڈ پر سجی ہوئی نو گو ٹیں تھے ہم لوگ ۔۔۔وہ تو بہار تھے  گھر کی ۔۔۔۔
چاہے سر دیا ں ہوں یا گر میاں بر سات ہو یا کڑکتی  دھوپ ۔۔۔انکے ساتھ زندگی ہمیشہ سترنگّی رہی ۔۔۔۔
آدھی رات کو اٹھ کر حلوہ کھانے کو دل چاہنے لگتا انکا ۔۔۔۔
چلو اٹھو سب ۔۔حلوہ بناؤ بھکوک لگی ہے ۔
آج میٹھی ٹکیا ں کھا نی ہیں ۔۔۔بھینس کے دودھ کے پتیلے سے ساری بالائی اتار کر پیالہ بھر لیتے ۔۔۔۔اور کسی کو ایک چمچہ نہ کھانے دیتے ۔۔۔بچپن میں تو سب بتاتے ہیں کہ شکّر کے بو رے میں گھس جایا کرتے تھے ۔۔اور بیٹھے شکّر کھا یا کرتے ۔۔۔۔
صبح صبح سبکو اٹھا کر آنگن میں ہی کر کٹ شروع ہو جاتا ۔۔۔
کڑا کے کی سر دی میں لحاف کھینچ کر اٹھا دیتے
"چلو چلو ۔۔۔کھیل شروع ہو گیا ہے ۔۔۔۔"
مجھے لگتا تھا کہ انھیں دیکھے بنا تو سو رج بھی نھیں نکلے گا یکا یک سر سبز و شاداب ہنستا کھیلتا  جسم یو ں اندر سے ایک پرزہ ٹوٹ جانے سے تباہی کی طرف مائل ہوگا   کسی نے سو چا بھی نہ تھا ۔
مگر سو رج تو آج بھی نکلا ہے  دھوپ کڑی ہے ۔
پتہ چلا گر دے خراب ہو گئے ہیں ۔۔سارے بہن بھائی گردہ دینے کے لیئے ٹسٹ کروا رہے ہیں ۔۔۔میچ نہیں مل رہا ۔۔۔
18 برس کا بیٹا سامنے آگیا ۔۔۔
"ڈاکٹر صا حب ۔۔میرا  ٹسٹ کر لیجئے ۔۔۔میرے ابّو کو بچا لیجئے ۔
نرم چہرے پر بیقراری رقم تھی ۔۔۔وہ تو اولاد ہے ۔۔۔یہا ں تو غیر اسپتال کے باہر کھڑے ہیں قطار میں ۔۔۔۔
میں انکے پاس بیٹھی تھی ۔۔آنسو روکنا مشکل تھا ۔۔بے حد کمزور ہوگئے تھے ۔انکی ساری نسیں دکھائی دے رہی تھیں ۔گول طباق سا چہرہ ایکدم پتلا اور کمزور ہوگیا تھا ۔۔۔مگر پھر بھی ہو نٹو ں پر نر م سی مسکرا ہٹ تھی ۔۔بچّو ں کو بھی لے آتیں ۔۔دیکھ لیتا ۔۔"
سبکو پو چھ رہے تھے ۔۔۔اپنی کمزور ذرد انگلیوں سے میرے آنسو پو چھ دیے ۔۔
"ابھی۔۔ تو مت روؤ ۔۔۔۔۔۔"میری آنکھیں سو ج رہی ہیں کچھ ٹھیک سے دکھائی بھی نہیں دے رہا ہے ۔انکا ۔کھا نا پینا کم ہو گیا ۔   ۔پو چھا تو بولے ۔۔
"اپنے حصّے کا کھا چکا ہو ں " ہونٹو ں پر پھر بھی مسکرا ہٹ قائم ۔۔۔مینے پلیٹ میں سر جھکا لیا ۔۔لقمہ حلق میں اٹک رہا ہے ۔۔وہ کیسے تھے کیا تھے لکھونگی تو ورق کے ورق سیاہ کر دونگی ۔۔۔اور پھر بھی بات پوری نہ ہوگی ۔۔ایک عالم تھے ۔۔ ۔۔۔سیکڑوں کتابوں کے مصنّف تھے ۔۔کئی اسکول انکی وجہ سے چلتے تھے ۔۔۔
کیا کیا لکھ سکتی ہوں ؟ ۔۔میں صرف جدائی کا لمحہ رقم کرتی ہوں ۔
وہ وقت بھی بیت گیا اور ابھی ایک فون آیا ہے ۔۔۔۔
سب ختم ہو گیا ۔۔۔۔کچھ نہیں بچا ۔
کیرم کا اسٹایئکر گم ہو گیا ۔۔۔سارے کھیل رک گئے ۔۔یہ کسنے میرے پیروں میں انگارے باند دیئے ہیں ۔۔میرے دل کے قریب آگ سلگ رہی ہے ۔۔۔
میرا پیارا میرا لاڈلا بھائی ۔۔۔میرا ماں جایا ۔۔سب کو ہرا تا ہوا سب سے آگے نکل گیا ہے ۔۔۔۔

مگر مجھے لگتا ہے وہ ہر وقت آس  پاس ہیں ۔۔یہیں کہیں ہیں ۔میرے قریب ہیں ۔
ختم شد 

No comments:

Post a Comment