Wednesday, March 19, 2014

عید ِ سعید 
عید کی ساری شاپنگ بستر پر بکھری پڑی تھی ،عالیہ نے ایک نظر سامنے رکھّے ہوئے بیگس پر ڈالی ابھی تو بہت سارا سامان بیگ میں ہی پڑا تھا ،ڈیکو ریشن پیسز ،کشن کور ،کٹ گلاس کا سامان ۔۔۔اسکے کھلنے کی تو ابھی باری ہی نہیں آئی تھی ۔
وحید کے آنے میں بس اب دو دن ہی باقی تھے وہ چاہتی تھی کہ اسکے آنے سے پہلے سارا گھر سج جائے ،اک نئی تازگی اک نیا احساس  جو وحید کو اسکے  پاس ذیادہ سے ذیادہ  دن گزارنے پر مجبو ر کر دے ۔
اسکے لیئے تو عالیہ سارا عالم خرید لینا چا ہتی تھی ۔کپڑوں کی الماری نیئے ڈیزاین والے منہگے بوتیک سے خریدے ہوئے کپڑے بھر ے پڑے تھے مگر پھر بھی وہ ڈھیر سارے نیئے کپڑے خرید لائی تھی ۔اسٹایئلش جوتے ،برانڈیڈ کمپنیوں سے میک آپ کا سامان اور نہ جانے کیا کیا الم غلّم  ۔۔۔۔۔ اور ابھی بھی دل نہیں بھرا تھا ۔۔۔
دروازے کی گھنٹی بجی تو وہ چونک گئی ۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
"وہ مدرسے والے آئے ہیں چندہ لینے " شبّو نے روبٹّے سے ہاتھ صاف کر تے ہوئے بتا یا ۔
"ارے بھئی کہہ دو گھر پر کوئی نہیں ہے بعد میں آئیں "اسنے جھنجھلا کر کشن دوسری طرف پھینکا ،
اور ڈریسنگ ٹیبل کا سامان سیٹ کر نے لگی ۔۔
بر سات کی شامیں ویسے ہی اداس ہوتی ہیں ۔تیز بارش سے   جل تھل ہورہاتھا ۔ایک سیلی سی ٹھنڈک ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔اسنے باہر آکر گاڑی نکالی ہی تھی کہ سامنے گیٹ کے پاس بیٹھے ہوئے علیم الدین پر نظر گئی ۔وہ بری طرح کھانس رہے تھے ۔عالیہ نے ایک نظر ان پر ڈالی اور گاڑی تیزی سے باہر نکال لے گئی ،علیم الدین اسے دیکھ کر الر ٹ ہوگئے تھے ۔
کافی سامان لیکر جب وہ واپس آئی تو رات کی سیا ہی پھیلنے لگی تھی ۔شبّو لیونگ روم میں کارپٹ پر بیٹھی اونگ رہی تھی ۔اسے دیکھتے ہی ایک دم سے اٹھ کھڑی ہوئی ،
"بی بی جی ! ابّا کی طبیعت بہت خراب ہے "اسکی آواز میں آنسوبول رہے تھے ۔
"ہاں ۔۔تو کسی ڈاکٹر کو دیکھا لینا کل جاکر ۔۔۔۔یہاں کیا ہوسکتا ہے "مگر بی بی جی ۔۔۔پیسے ۔۔۔"اس معصوم کو تو مانگنے کا بھی سلیقہ نہ تھا ۔۔بس بھکاریوں کی طر ح ہاتھ پھیلا دیے ۔
عالیہ نے چند نوٹ اسکے ہاتھوں پر رّکھے اور اپنے بیڈ روم کی طرف بڑھ گئی ۔
اف ۔۔۔۔کیا مصیبت ہے ہر وقت مانگنے کی عادت پڑ گئی ہے ان لوگوں کو "اسنے کوفت سے سر جھٹکا اور اندر جاکر اپنا لایا ہوا سامان سیٹ کر نے بیٹھ گئی ۔
صبح صبح وحید کے آجانے سے گھر میں رونق سی ہوگئی ۔بچّوں نے پورے گھر میں ادھم مچایا ہوا تھا ۔وہ خود بھی      بچو ن کے ساتھ بچّہ بن بیٹھا تھا ۔۔۔ایک خوشگوار سی چہل پہل ہر طرف نظر آرہی تھی ۔
شبو بار بار چائے بنا رہی تھی حالانکہ خود اسکا روزہ تھا مگر مالک لوگوں کو جو بھی چاہیئے وہ اسکی ڈیوٹی میں شامل تھا ۔
ساتھ ہی ساتھ وہ صبح کے لیئے شیر خرمہ اور بر یانی کا مصالحہ بھی بناتی جارہی تھی ۔اسکی آنکھیں متوّرم اور رنگ پیلا پڑ رہا تھا ۔لیکن کسی کے پاس اسکی ادا سی کا سبب جاننے کے لیئے وقت نہیں تھا ۔شام ہوتے ہوتے وحید کے دوستوں سے لیونگ روم بھر چکا تھا ۔علیم الدین گیٹ پر نظر نہیں آرہا تھا ۔اندر چاند رات کی خوشی میں عبادتوں کے بجائے جام چھلک رہے تھے ۔
ہر ایک اپنے آپ میں مگن تھا ۔بلند وبانگ قہقہوں سے سارا گھر گونج رہا تھا ۔
شبّونے کئی بار آکر بات  کرنے کی کوشش کی مگر مایوس ہوکر اپنے کواٹر میں چلی گئی ۔
ایک بار عا لیہ نے وحید سے ہلکی آواز میں بتایا کہ علیم کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ایکبا ر اسے دیکھ لیں مگر وہ اپنے ایک پرانے دوست سے ہاتھ ملاتے ہوئے بولے "ارے ہزار دوہزار دے دو جاکر کسی کو دکھالے ۔۔۔وقت کس کے پاس ہے جانم " اور بے ہنگم ہنسی ہنستے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گئے ۔
٭٭٭٭٭٭
وحید چودھری  اپنے گاؤں سے شہر پڑھنے کے لیئے آئے تھے اسی وقت سے علیم الدین انکی خدمت پر معمور تھے جب وحید نے شادی کی تو گھر میں ایک عورت کام کے لیئے چاہیئے تھی اس لیئے ۔ اسنے اپنی بیوی اور بچی کو بھی یہیں بلا لیا تھا ۔بیوی کے انتقال کے بعد وہ اور بھی اکیلا ہوگیا ۔شبّو اسکی زندگی کا سہارا تھی اور اسکا بھی دنیا میں کوئی نہین تھا ۔بس باپ بیٹی ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی بن گئے ۔
وحید چودھری  اپنی تعلیم ختم کر کے ملک سے باہر چلے گئے تو عا لیہ کے لیئے وقت گزارنا مشکل ہوگیا ایسے میں شبّو نے ان کا بہت ساتھ دیا ۔
٭٭٭٭٭
مگر اسکا ساتھ دینے والا اس وقت کوئی نہ تھا ۔۔وہ اپنے باپ کو قطرہ قطرہ مر تے دیکھ رہی تھی ۔اور ادھر عید کا جشن چل رہا تھا ۔
عید کی صبح آسمان بادلوں سے بھرا تھا ۔پھر زور شور سے بارش شروع ہوگئی ۔اسکے باوجود ہر طرف عید کی نماز کی تیاریاں ہو رہی تھیں ۔لوگ مجمع کی صورت میں مسجد کا رخ کررہے تھے ۔خطبہ شروع ہوچکا تھا ۔
"رمضان کے اس مبارک مہینے میں ہر رات آسمان سے ندا آتی ہے کہ خیر چاہنے والے خوش ہوجا اور برائی کے طالب رک جا اور اپنے نفس کو گناہوں سے باز رکھ ،اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں حضور ِ پاک کے طریقے پر چلنے کی توفیق عطافرما ،عید کی خو شیاں منانے سے پہلے ہم اپنے آس پاس دیکھ لیں کوئی غریب بے سہارا تو نہیں ۔۔۔۔پڑوسی بھوکا تو نہیں ۔۔۔صدقہ فطرہ اور ذکواۃ اسی لیئے عائد کی گئی کہ کوئی مسلمان بھا ئی        کم از کم عید کے دن رنج کی حالت میں نہ رہے ۔"بارش نے زور پکڑ لیا تھا ۔علیم الدین کی سفید جالی دار ٹوپی جو شبّو نے کل دھوکر ڈالی تھی الگنی سے اڑکر کیچڑ میں جا پڑی تھی ۔
علیم الدین نے جب آخری ہچکی لی تو نماز شروع ہوچکی تھی ۔شبّو سرونٹ کواٹر کے دروازے کو تھامے سسکیاں لے رہی تھی ۔مالکوں کو نیند سے جگانے کی ہمّت نہیں تھی اسمیں ۔
وحید چودھری کے گھر والے سکون کی نیند سورہے تھے ۔دوپہر کو اٹھ کر تیّار ہی تو ہونا تھا ۔۔۔۔۔عید کے لیئے ۔
ختم شد
 

No comments:

Post a Comment