Sunday, February 9, 2014

میلہ۔۔۔۔۔
نمائیش آگئی ۔۔۔۔۔۔۔علی گڑھ میں رہنے والوں کو کسقدر انتظار ہوتا ہے اس آواز کا ۔۔۔اس آواز کا سحر میں کئی بر سوں سے دیکھ رہی ہوں ۔نمائیش نہ ہوئی سچّے خواب ہو گئے ۔۔۔
ایک چھو ٹا سا شہر گنتی کی با زار ۔۔۔نام کے لیئے مال بھی ہیں مگر جو لوگ ان نام نہاد مال میں گئے ہیں وہ اصلیت سے واقف ہیں ۔
یہاں  اگر مسلم یو نیورسٹی نہ ہوتی تو یہ شہر خالی ہاتھ ہوتا ۔
نمائیش کے آجانے سے اس شہر کی رونقیں بڑھ جایا کرتی ہیں ۔۔۔ہر ایک پر امید نظر آتا ہے خا صکر بچّے ۔۔ویسے تو خواہ خاتون ِ خانہ ہوں یا گھر کے بزرگ حضرات سبھی کو نمائیش سے دلچسپی ہوتی ہے ۔کسی کو وہاں آنے والے میرٹھ کے جھنڈا ہوٹل نظیر ہوٹل کے کھانے کا انتظار ہوتا ہے کوئی حلواہ پراٹھا کھانے کے لیئے بےچین ۔۔کپڑوں اور کشمیری شالوں کا شوق رکھنے والی خواتین کئی کئی چکّر لگاتی نظر آتی ہیں وہاں اور وہیں راجستھانی سوٹ کی دوکانوں پر بھی ویسی ہی بھیڑ نظر آتی ہے ۔
کوئی بدایوں کے پیڑے لینے کے لیئے چکّر لگا رہا ہے تو کسی کو وہاں کی نان خطایئاں کھینچ لاتی ہیں ۔۔
قالین پرانا ہو گیا ہو تو بدلنے کے لیئے نمائیش کا انتظار کرتی نظر آتی ہیں تو کوئی وہاں بیڈشیٹ اور لکڑی کے سامان کے لیئے چکّر لگاتا نظر آتا ہے ۔مرادآباد کی جگماگاتی ہوئی دوکانیں تو بس دیکھنے کے لا ئق ہو تی ہیں ۔۔۔آرٹی فیشل جولری کی دوکانیں دور سے چمکتی نظر آتی ہیں ۔اور ان دوکانوں پر لڑ کیو ں اور بچوں کا ہجوم ۔۔۔۔دور سے نظر آتا ہے ۔
بچّے جب ضد پر آتے ہیں تو کوئی تا ویل نہیں سنتے آخر کار مجھے بھی تیّار ہو نا پڑا ،نمائش روانہ ہوئی تو پہلے اے۔ٹی ۔ایم سے اچھّی خا صی رقم بھی نکالنا پڑی ۔اب پہلے والا زمانہ تو رہا نہیں کہ پچاس روپیئے لیکر جاؤ اور دنیا بھر کا سا مان خرید لاؤ ۔
کچھ یاد کر کے آپ ہی آپ مسکرا ہٹ آگئی ۔نمائش کی بھیڑ بھاڑ میں بھی یادوں نے پیچھا نہیں چھو ڑا ۔۔۔ذہن کہیں پیچھے چلا جا رہا تھا ۔۔۔۔اور پیچھے ۔۔۔اور پیچھے ۔۔
اک چھو ٹا سا گا ؤں جہا ں گو متی ندی بہتی ہے ۔۔۔وہیں کنارے ایک پہا ڑی ہے جسپر ستھّن کا میلہ لگتا تھا ۔۔۔ستھّن اس گاؤں کا نام ہے ۔کیا بتا یئں کیسی کیسی یا دیں جڑی ہیں اس میلے سے ۔۔۔جگمگاتی ہوئی روشنیوں کی یادیں ۔۔۔۔کھلکھلاتے ہوئے چہروں کی یادیں میٹھی میٹھی خوشبؤں کی یادیں ۔۔۔بھاگتے دوڑتے قدموں کی ۔۔۔مزار پر جلتی ہوئی اگر بتّی کی خوشبوؤں کی ۔۔۔۔قوالی کی تان میں ایک مسحور کن کیفیت کی یادیں ۔۔۔۔
ستّھن کی اس پہاڑی پر ایک مزار ہے اسی مزار پر ہر برس عرس ہوتا ہے اور زبر دست میلہ لگتا ہے ۔۔۔
تما م دوکانیں بھی اونچی نیچی پہا ڑیوں پر لگتی ہیں ۔۔۔انپر چڑھنے اترنے کا پنا ایک مزا ہے ۔۔اور تب زندگی اتنی تھکی ہوئی نہیں تھی نا ۔۔؟
کیسے مزے سے اڑتے پھرتے تھے ۔
اپنے گھر میں سب سے زیا دہ مجھے میلے کا انتظار رہتا تھا ۔اور جب میلہ لگ جاتا تو پھر جانے کی ضدیں شروع ہو جاتیں ۔۔۔ابّی سمجھاتے بھی "ارے بٹیا ٹھیک طرح سے لگ تو جائے ۔۔پھر بھیج دینگے ۔۔" مگر مجھے تو یہی ڈر رہتا کہ کہیں میرے بغیر گئے میلہ چلا نہ جائے ۔۔۔۔
آخر وہ دن بھی آجاتا جب با با ہمیں میلہ لیکر جاتے ۔۔۔
ہمیں خرچ کر نے کے لیئے پانچ روپیے ملتے تھے ۔صرف پانچ روپے ۔۔۔اور ان سے ہم ڈھیروں چیزیں خرید لیتے تھے ۔کھانے پینے کی چیزیں لینا ہمیں سختی سے منع تھیں ۔
ابّی کا کہنا تھا جو کھانا ہو ہمیں بتا دو ہم کسی معیاری دوکان سے منگوا دینگے ۔میلہ کی دھول میں بکتی چیزیں صحت کے لیئے سخت مضر تھیں ۔
ہم کھلو نے لیتے رنگ برنگے کا غز کے پھول ۔۔چکریا ں پلاسٹک کے ناشتے دان ننھے ننھے چائے کے بر تن ۔چھو ٹی چھو ٹی پلاسٹک کی پیالیا ں جنپر پھول بنے ہوتے ۔مختلف رنگوں کے کلپ ۔۔۔
ہم سب خرید لیتے مگر پیسے ختم نہیں ہوتے تھے ۔
با با مٹھای کی دوکان پر رک جاتے ۔۔۔۔
"کھا ؤگی بٹیا ؟ "
"نہیں ابّی نے منع کیا ہے ۔" میں دوسری طرف دیکھنے لگتی ،،
"ارے انھیں کون بتائے گاَ؟ تم کھا لو جو جی چاہے ۔۔۔پیسے ہیں ہمارے پاس ۔۔۔" وہ سخی ہوتے ۔
مگر دل نہ مانتا ۔۔۔بس غصّہ اس بات پر آتا کہ یہ مٹھا یئوں کی دوکانیں اتنی سجا کر کیو ں رکھتے ہیں ؟
مزار پر قوّا لیاں سننے کھڑی ہوجاتی ۔۔۔
"سہانی رات تھی اور پر سکوں زمانہ تھا ۔۔۔
اثر میں ڈوبا ہوا جزب ِ عا شقانہ تھا ۔۔۔
ہوس تھی دید کی معراج کا بہا نہ تھا ۔۔۔۔
سرِ لا مکاں سے طلب ہو ئی ،سوئے منتہا وہ چلے نبی ۔۔۔۔۔"
ابتک یہ مصرعے بھو ل نہیں سکی ہوں ۔۔۔
خیالوں کی دنیا سے باہر نکلی بچّے سوفٹی کی دوکان پر تھے ۔۔میرے ہاتھوں میں بھی ایک کون تھا ۔۔۔کچھ دیر دیکھتی رہی ۔۔۔پھر اسے سامنے کھڑے ایک لڑکے کو تھما دیا جو حسرت سے دوکان دیکھ رہا تھا ۔
اوہ چو رن تو رھ گیا ۔۔۔بچّوں کو وہیں مصروف چھو ڑ کر  میں واپس فوّارے والی لائیں کی طرف بھاگی ۔جہاں چورن کی کئی دوکانیں تھیں کیونکہ  سال بھر یہ کہیں نہیں ملتا تھا ۔
آلو بخارہ اور انار دانے کا چورن لیکر واپسی کے لیئے چل پڑی اور پرس میں پیسے دیکھنے چاہے تو سارے پیسے ختم ۔۔۔
ایک کونے میں پانچ روپیے کا سکّہ جھانک رہا تھا ۔مطلب میں آرام سے ستّھن کے میلہ جاسکتی ہوں ؟ مجھے ہنسی آگئی اور چال میں بچپن والی مستی اور بے فکری بھر گئی ۔
ختم شد

No comments:

Post a Comment