Friday, February 7, 2014

Sadaf e rayegan

دہلی کا نقشہ اسنے اپنی اسکول کی کتا بوں میں ہی دیکھا تھا ،اور وہ راستہ کب اسکے پیروں تلے گزر گیا اسے پتہ ہی نہیں چلا ۔انکا سفر رات ہوتے ہوتے ختم ہوا ۔
وہ ایک بلند وبالا جگمگاتی ہوئی عمارت کے سامنے کھڑی آنکھیں پٹپٹا رہی تھی ۔اسکے لیئے یہ سب ایک خواب سے ذیادہ کچھ نہ تھا ۔
وہ ایک خوبصورت پانچ ستارہ ہو ٹل تھا جہا ں انھیں اسکے پاسپورٹ بنّے تک قیام کر نا تھا ۔وہ بہت خوش تھی ۔۔۔
مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب رات آئی تو اپنے ساتھ قیا مت لیکر آئی ۔وہ تو ابھی ان باتوں سے واقف بھی نہ تھی ۔۔۔ایک بچّی تھی وہ ۔
رات گزرتی رہی خواب ٹوٹتے رہے ،صبح ہوتے ہوتے  وہ حقیقت کی دنیا میں سو رج کی روشنی سے آنکھیں چرا ئے بیٹھی تھی ۔اسے فطری طور پر گھر کی یاد ستانے لگی ۔
٭ ٭ ٭
کون آرہا ہے امّا ں " اسنے اسکول کا بستہ پھینکا اور پلنگ پر رکھّی ڈلیا سے ایک سیب اٹھا لیا ۔
"ارے رک تو سہی ۔۔۔رکھ دے یہ سیب " امّا ں باورچی خانے سے چلّائی ۔
" کیا اسمیں کچھ ہے ؟ " اسنے گھبرا کر سیب واپس ڈلیا میں رکھ دیا ۔
"نہیں بٹیا ۔۔۔! تیر ے ابّا کے کوئی ملنے والے آرہے ہیں تو تھوڑے سے یہ پھل ۔۔۔۔۔۔"
انھوں نے چینی کا اکلوتا ڈونگا دھو کر ایک طرف رکھّا اور اسکی طرف دیکھ کر بو لیں
" تو نہا دھو لے زرا ۔۔۔۔اپنا عید والا جو ڑا پہن لے ۔۔مہمان آرہے ہیں نا ؟؟"
"عید والا ؟" اسنے حیرت سے امّا ں کی طرف دیکھا کہیں مزاق تو نہیں کر رہی ہیں ۔وہ جو ڑا تو امّاں چھو نے بھی نہیں دیتی تھیں کئی بار اسنے اپنی سہیلی کے گھر جاتے وقت پہنّے کی کو شش کی مگر ہر بار پھٹکار ہی ملی ۔
"اچھا ۔۔۔سلمیٰ سے کہہ آؤں ۔۔۔؟ وہ پھر باہر بھاگی ۔۔
"نہیں رک جا ۔۔۔۔سن تو ۔۔"امّا ں پھر بے چین ہو کر پکاریں ۔
"مگر امّا ں ۔۔۔چائے کا سیٹ تو وہیں سے آیئگا نا ؟
"نہیں آیئگا ۔۔۔۔مینے تیر ے لیئے جو رکھا تھا وہ نکال لیا ہے " وہ سر جھکا کر واپس با ورچی خانے میں چلی گیئں ۔
وہ کچھ حیران حیران سی امّا ں کو دیکھے گئی ۔۔۔
اسکو یاد تھا کہ  بچپن سے ابّا کی قلیل آمدنی اور امّا ں کے صبر سے یہ گھر چل رہا تھا نہ تو امّا ں اپنے لیئے کو ئی                فر ما ئش کر تیں نہ ان دونوں بہنو ں کے لیئے ۔وہ سب کچھ محسوس کر نے لگی تھی مگر اپنی ساری حسرتیں دل میں رکھکر چپ چاپ دال چاول کھا کر سو جاتی ۔
سلمیٰ اور سویرا کی امّی اکثر اسے دو پہر کے کھانے کے لیئے روکتیں مگر اسکی انا کو گوارہ نہ ہوتا ۔
انکے گھر پر پکنے والے سا لن کی خوشبو اسے کبھی کبھی بہت بے چین کر دیتی تھی مگر وہ کوئی نہ کوئی بہانہ کر کے وہا ں سے بھاگ آتی ۔
٭٭٭
ابّا کے دوست آگئے تھے آج اسکے گھر پہ بھی سالن کی بہت اچھی سی خوشبو آرہی تھی ۔کھیر بھی ایک عر صے کے بعد امّا ں نے پکائی تھی مگر نہ جانے کیوں امّا ں کی آنکھیں سرخ تھیں ۔۔۔شاید دھویں سے َ؟
جی بھر کے سالن روٹی کھا ئی اسنے ۔۔۔ایک پیالہ کھیر بھی امّاں نے اسکا پیالہ دوبارہ بھر نا چا ہا تو اسنے منع کردیا ۔۔۔۔کتنا کھا سکتی تھی وہ ؟
اسکی طلبی ہوگئی ۔۔۔کمرے میں ابّا نہیں تھے وہ جاکر خاموشی سے بیٹھ گئی ۔
"کیا نام ہے تہما را ؟انھوں نے اسے گھورتے ہوئے مسکرا کر پوچھا ۔
"انیسہ ۔۔۔"اسنے چائے کا کپ انکی طرف بڑھایا ۔
"بہت اچھا نام ہے ۔۔۔" پیالی تھما تے ہوئے  اسکی انگلیاں انکی مو ٹی بھدّی انگلیو ں سے الجھ گئیں ۔اسنے کچھ شر مندہ ہو کر کچھ گھبرا کر اپنا ہاتھ کھینچا ۔
ہنھ ۔۔۔۔اچھا نام ہے ۔۔۔بالکل اچھا نہیں اسنے کڑھ کر سوچا ۔نازش ،سلمیٰ سویرا ۔۔۔۔یہ ہوتے ہیں اچھّے نا م ۔۔۔میرا نام تو کتنا پرا نا پرا نا سا ہے ۔
'آپ کہا ں رہتے ہیں ۔۔۔" اسنے یونہی بے تکا سا سوال کیا ۔
وہ مسکرائے پیالی ہاتھ سے رکھّی ۔۔۔
"دبئی میں ۔۔۔" تب ہی اسے دوسرا سوال سوجھ گیا ۔۔۔
"میں گڑ یاں بنا نا سیکھ تی ہو ں دکھا ؤں آپکو ۔۔۔۔؟ "
" ہا ں دکھا ؤ ۔۔'انھوں نے اسے بغور سر سے پاؤں تک دیکھا ،
وہ تو بھاگنے کا بہا نہ ڈھونڈ رہی تھی  جھٹ پٹ بھا گی ۔۔
٭٭٭٭٭
"امّا ں کون ہیں یہ ؟ عجیب طرح سے دیکھ رہے ہیں ۔۔۔میں نہیں بیٹھو نگی وہا ں ۔۔۔"وہ امّا ں سے سٹ کر وہیں بیٹھ گئی ۔
انھوں نے اسے ایکدم لپٹا لیا ۔۔"بیٹی اچھّے آدمی ہیں ۔۔مسلمان ہیں اور تیرے ابّا کو کام بھی دلوا رہے ہیں دوبئی میں ۔۔۔" پیار سے اسکے بال سنوارے پھر بولیں ۔
" عامرہ اچھّے اسکول جانے لگے گی ۔۔تیرے لیئے بھی کل جاکر اچھے سوٹ لیکر آؤنگی ۔۔۔یہ سب انھو ں نے کیا ہے ۔۔   ۔بر ے آدمی نہین ہیں بیٹا ۔۔ہر آدمی کا اپنا مزاج ہو تا ہے نا ؟
تو تو میر بڑی سمجھدار بیٹی ہے ۔پھل کھائے گی ؟ لے لے " انھوں نے کئی پھل اسکے سامنے رکھ دیئے انکی آنکھیں جھلملا رہی تھیں ۔
" ہا ں ہا ں ٹھیک ہے پر تم رونے کیو ں لگیں امّاں ؟"
"ارے کچھ نہیں یہ بس یہا ں دھواں ہو رہا ہے نا ۔۔۔"
آج گھر میں سلمیٰ کے گھر جیسی خوشبو آرہی تھی ۔۔اچھّے    کھا نوں کی خوشبو ،پھلوں کی خوشبو ۔۔اچھّے دنوں کی خوشبو ۔
٭٭٭٭
شام کو چند لوگوں کی موجود گی میں اس تیرا برس کی بچّی کا نکاح ساٹھ برس کے عبدل مجید کے ساتھ ہو گیا ۔اور شام ہی کو وہ لوگ دہلی کے لئے روانہ ہوگئے ۔چلتے وقت جب امّا ن اسکی ضرورت کی چیزیں ایک سوٹکیس میں رکھ رہی تھیں تو وہ اپنے جمع کیئے ہوئے وہ موتی لینے دوڑی جو وہ اکثر ٹو ٹے ہوئے ہار اور بندوں سے جمع کیا کر تی تھی ۔ ایک چھو ٹا سا ڈبہ جسکا ڈھکن ٹھیک سے بند بھی نہیں ہوتا تھا ۔۔۔۔اسنے جلد سے اٹھا نا چا ہا ۔۔۔ڈبّہ کھل گیا اور سارے مو تی ۔۔۔فرش پر بکھر گئے ۔۔۔۔ابّا اسے پکار رہے تھے ۔۔۔وہ حسرت سے ان گرے ہوئے مو تیوں کو دیکھتی ہوئی آکر باہر کھڑی ٹیکسی میں بیٹھ گئی ۔ وہ راستہ کب اسکے پیروں تلے گزر گیا  اسے پتہ ہی نہیں چلا ۔۔۔
اوررات میں نجانے کون ساوقت تھا جب ساٹھ بر س کے عبدل مجید اس پر چھا گئے اور اسکی چیخیں نکل نے لگیں ۔۔۔۔نہ جانے کب تک وہ بے ہوشی کے سمندر میں تیر تی رہی اور کب ہوش میں آئی ۔یہ سب کچھ اسکی نازک ذہنیت کے لیئے ایک           کر بناک عذاب تھا ۔ہو ٹل کے سامنے اس لٹی پٹی حالت میں جب شا زیہ نے اسے دیکھا تو چونک گئی ۔۔۔اس چھو ٹے سے اسکول کی یہ ذہین بچّی اب بھی کہیں اسکی یاد داشت میں تھی ۔اسکول کی نوکری چھو ڑ کر اسنے اب ایک این جی او کا کام سنبھالا تھا ۔
"کیا بات ہے بے بی ۔۔۔؟وہ قریب آگئی اور انیسہ کو خبر بھی نہ ہوئی وہ دل ہی دل میں اماں اور ابّا سے فر یاد کرتی رہی ۔
"ہیلو ۔۔۔۔"شازیہ اسکے پاس ہی سیڑھیوں پر بیٹھ گئی اسنے           چو نک کر دیکھا ۔
"ڈر کیو ں گئیں ؟ مجھے پہچانا نہیں ؟ میں تمہاری شازیہ میم ۔۔۔بھول گئیں ؟"وہ بے یقینی سے اسے دیکھتی رہی ۔۔۔
"انکل نہیں آئے تمھارے َ۔۔؟
"وہ انکل نہیں ہیں ۔۔۔۔۔"اسکے ہونٹوں سے چیخ کی صورت میں نکلا ۔۔۔
"کون ہیں پھر َ؟؟؟"
"پتہ نہیں کون ہیں ۔۔۔مجھے بچا لیجئے میم ۔۔وہ مار ڈالینگے مجھے ۔۔'اسکے آنسوؤں میں روانی آگئی ۔
شازیہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی ۔اسنے بے  اختار انیسہ کو گلے سے لگا لیا ۔
"اچھا تم رؤ نہیں ۔۔ڈرو نہیں بتا ؤ مجھے تم یہا ن کیسے آگئیں "
پانی پیکر اسکے حواس بجا ہوئے تو اسنے جو بتا سکی وہ شازیہ کے گوش گزار کیا ۔
"میم وہ بہت خراب ہیں ۔۔۔گندے آدمی ہیں ۔۔مجھے نہیں رہنا انکے پاس انھوں نے بہت برا کیا میرے ساتھ "وہ شازیہ سے لپٹی جا رہی تھی ۔
"اچھا سنو سب ٹھیک ہو جائے گا تم گھبرا ؤ مت مین کو شش کر تی ہوں " وہ اسے گلے سے لگائے سو چتی رہی ۔اسکا واحد حل یہی تھا کہ پولیس میں شکایت کی جائے بچّی بہت چھو ٹی تھی ۔کیس کا فی مضبوط تھا ۔بس تھو ڑا وقت چاہیئے تھا ۔۔۔وہ اسے اپنے کمرے میں سلا کر باہر آگئی ۔کئی لو گو ں سے فون پر بات کرتی رہی ۔کا میا بی کی  کا فی امید تھی ۔
دوپہر تک  گہری نیند لیکر وہ اٹھی تو ایک برے خواب کی طرح اسے ساری باتیں یاد آگئیں ۔
اسے شا زیہ میم پر پورا بھروسہ تھا وہ کمرے میں لیٹے لیٹے اپنے کو آذاد تصور کر تی رہی ۔۔۔
اچا نک اسکے ننھے سے ذہن میں ایک بجلی سی کوندھ گئی ۔ابّو کو دبئی میں نوکری نہیں ملے گی ،عامرہ کا اچھے اسکول میں داخلہ نہیں ہوگا ۔۔۔گھر میں سالن نہیں پکّے گا ۔۔
اور جو کوئی دوسرے "انکل " آئے اور انکے ساتھ پھر آنا پڑا تو ؟؟
وہ شازیہ کے بستر سے اٹھی اور آہستہ آہستہ چلتی ہوئی باہر آگئی ۔۔۔سامنے اسکا کمرے کا دروازہ کھلا تھا ۔عبدل مجید حیران سے ادھر ادھر دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔اسے ایکھ کر جلدی سے اسکے قریب آگئے ۔
"کہاں چلی گئیں تھیں ؟؟؟ انھوں نے نر می سے اسکا ہاتھ تھام لیا۔اور وہ انکے ساتھ کمرے میں آئی اور دروازہ بند کر دیا ۔
ختم شد
صد ف ِ رائیگا ں




No comments:

Post a Comment