Friday, February 7, 2014

ریت کا ماضی
ہمیشہ کی طرح آج پھر امّاں اپنی رام راج کی باتوں میں مشغول تھیں اور آج بھی ہمیشہ کی طرح دل برداشتہ نظر آرہی تھیں۔ کئی بار انھوں نے یا دوں کی بو چھار میں بھیگ بھیگ کر اپنی حو یلی کے بلند دالانوں اور طویل کمروں کی باتیں دہرایں کئی بار  جب اپنی زاتی ملازمہ کو یاد کیا جسنے انھیں اپنی ہتھیلی کا چھالا بنا کر رکھا تھا اور امّاں جب بولنے پر آتیں تو بولے ہی جاتیں وہ ہندوستان میں تھیں تو انھوں نے کیا کیا آرام کیےء کتنی بیفکر زندگی گزاری اور پھر یہ پاکستان کا محض چار کمروں کا گھرجہاں سانس لینے میں بھی دم گھٹتا تھا انکا۔ اخترمیاں سر جھکائے انکی باتیں سنتے رہے انہیں کبھی کبھی ایسا لگتا کہ جیسےوہ خود ہندوستان کی اس عظیم الشان حو یلی میں پہنچ گئے ہیں اپنے نانا کے پاس مسند پر گائو تکیہ لگائے بیتھے ہیں، سامنے ملازم نے حققہ تازہ کر کے رکھ دیا ہے اور وہ قصبہ کے غریبوں کی کتھا سن رہے ہیں ان کا تصفیہ کروا رہے ہیں -اور پھر خوا ب ٹوٹ جاتا، وہ نانا کی شاندارحویلی سے واپاس اپنے کراچی کے گنجان علاقے میں پہنچ جاتے جہان انکا چا ر کمروں کا ایک چھوٹآ سا مکان تھا۔
 امّاں کہتی تھیں اختر میاں کے ابّا بے چارے کو ہندوستان کی اتنی بڑی جاگیر کے عیوض بس یہ چھوٹا سا مکا ن ہی ملا اور وہ اللہ کا شکر کر کے بیتھ گئے یہ نہیں کہ کو شش کرتے لو گوں نے کیسے کیسے مکانات ہتھیا لیئے کیسی کیسی حویلیاں الاٹ کروا لیں مگر وہ بہت سیدھے سا دے تھے نا؟ اختر میاں تو اس وقت صرف 2 برس کے تھے انھین کیا ملوم کہ ان کے خاندان والوں نے کیا کیا عزاب سہے کیسی کیسی مصیبتیں اٹھائیں تب جا کے سر چھپانے کو یہ آسرا ملا مگر ان کو افسوس ضرور ہوتا کہ کاش ابّا بھی کوئی حویلی یا بنگلے کے لیئے کوشش کر تے امّاں کے دکھڑے تو ختم ہوتے۔
 خیر اللہ کی مرضی وہ تو ہر طرح خوش رہنے والوں میں تھے، ان سے جو ہو پاتا وہ امّا ں کی خدمت کرتے حتّی المقدور ان کی خواہشات پوری کرتے مگر امّاں ہر آنے جانے والے کے سامنے اپنی حویلی کا احوال اور اپنا اقتدار جتانا نا بھولتیں۔ اختر میاں اور ان کی معصوم سی بیوی ثریّا کو کبھی کبھی بہت کوفت کا سامنا کرنا پڑتا کہ اب امّا ں بھول کیوں نہیں جاتیں جو بیت گیا سو بات گئی اب گزرے ہوئے وقت کے لیے اپنا اور بہو بیٹے کا دل کیوں جلاتی ہیں انھیں صبر کیوں نھیں اتا۔ یہا بھی تو اپنا گھر ہے، چاہنے والا بیٹا، خیال رکھنے والی بہو ہے دونوں پوتے پوتی بھی ہر وقت انسے لپٹے رہتے پھر بھی۔۔۔ محلّے میں بہت عزّت تھی، سارے ہی لوگ دکھ سکھ کے ساتھی تھے پھر کیوں سب کو پرانی داستان سنا کر اداس ہوتی ہیں،  ہمدردیاں سمیٹتی ہیں اور اختر میاں اور ثریّا کی دکھتی رگ کو چھیڑتی ہیں۔۔۔ مگر ینسے کون کہتا  -
اختر میاں تو امّاں کے دیوانے تھے، ثریّا بھی بس گھٹ کر رہ جاتیں -زندگی ایسے ہی گزر رہی تھی اچانک اختر میاں کو ہندوستان جانے کا موقع مل جاتا ہے انکے کسی بہت عزیزدوست کے بیٹے کی شادی تھی وہ پیچھے پڑ گیاکہ چلنا ہی پڑےگا اوراخترمیاں کی دلی مراد پوری ہوئی وہ اس دن بھت خوش گھر ائے اور امّاں سے لپٹ گئے۔۔
 "امّا ں میں ہندوستان جا رہا ہوں۔ اب میں اپنے پرانے گھر ضرور جاوںگا سب سے ملوںگا سب کتنے خوش ہونگے۔ امّاں میں بھی بہت خوش ہوں۔۔۔۔۔ آپ بھی خوش ہیں نا ؟"
 اور امّا ں ہکّا بکّا سی ان کی شکل دیکھے گئیں پھر بڑی مشکل سے کھنکھار کے بولیں۔۔
 "ائے ہئے اب وہاں کیا دھرا ہے آدھے پکستان آگئے آدھے مر کھپ گئے اب وہاں کون ہے جس کے پا س جاو گے ہاں میر ی چھوٹی بہن، ارے تیری مہرو خالا، جو لکھنئو میں رہتی ہے اسکے پاس جا یئو اور کچھ سامان بہی دونگی وہ بھی مہرو کو پنہوچا دیجیو۔ دہلی میں شادی ہے تو بس جلدی واپس آئیو یہاں میری صحت خراب، ثریّا اکیلی ۔۔۔" وہ پلّو سے انکھیں پو چھنے لگیں۔
 "ارے امّاں اب پہلی بار جا رہے ہیں تو کچھ گھومیں گے پھریں گے۔ آپ یہاں کی فکر مت کیجئے میں امین بھائی سے کہ جاوںگا وہ خیال رکھیںگے"۔
 آختر میاں سدھارے تو پہلی بار گھر میں تنہا یئوں نے ڈیرا ڈالا دونوں بچّے صبح اسکول چلے جاتے ثریّا اپنے کا موں میں مصروٖ ف ہوجاتی امّاں کو نا جانے کیا ہوگیا تھا وہ لیٹی رہتیں ثریّا کئی بار انھیں آوازیں دیتی باتیں کرنے کی کوشش کر تی مگر وہ خاموش لیٹی نا جا نے کیا سوچا کر تیں۔ اماّں کی طبیعت دیکھکر ثریا پریشان ہوگئی وہ کھانا بھی برائے نام ہی کھاتیں ثریّا سو چتی انھیں کچھ ہو گیا تو وہ اختر کو کیا جواب دیگی –
 دہلی پہنچکر اختر میاں نے اپنی خیریت بتا دی تھی اور پھر وہ لکھنئو کے لئے روانا ہو گئے۔ مہرو خالا سے ملکر انھیں بھت اچّھا لگا وہ بھت دیر تک انھیں گلے سے لگائے رو تی رہیں ان کے آنسو بھی بلکل امّا ں کی طرح تھے کئی دن اخترمیاں وہاں رہے پھر انھوں نے اپنے وطن مرادآباد جانے کی ٹھان لی اور نکل پڑے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حدّ نگاہ تک سبزہ بکھرا تھا سرسوں کے پیلے پیلے پھولوں سے کھیت سجے ہوئے تھے۔ وہ ٹیکسی میں بیٹھے خواب دیکھتے رہے۔ انکے پہونچنے پرگھر میں کیا ہنگا مہ ہوجائے گا، سب کتنے خوش ہونگے، اور نا جانے کیا کیا جس محلّے کا نام آماں بتاتی تھین وہاں پہونچتے پہنچتے شام اتر آئی تھی وہاں پر بنے ہوئے تمام گھروں میں افلاس کی چادر تنی تھی ۔ مطلوبہ گھر کا دروازہ چوپٹ کھلا تھا اور اس پر ایک میلا کچیلا سا پردا پھڑپھڑا رہا تھا ۔انھوں نے سرا سیمہ ہوکر دروازہ بجایا تو ایک کرخت اواز سنائی دی ۔۔
"کون ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟"
 "میں ہوں اختر۔۔۔۔پاکستان سے آیا ہوں" ۔
اندرکچھ کھٹ پٹ ہوئی پھر ایک کمزور سے وجودنے باہر جھانکا اس آدمی کے جسم پر ایک میلی بنیان اور پھٹی سی تہمد تھی اس نے انکھوں پر انگلیوں کا چھجّا سا بنا کر باہر دیکھا اور دانٹ کر پوچھا۔۔۔
 "کون اختر؟؟؟"
" جی میں پا کستان سے آیا ہوں، عطیہ بیگم کا بیٹا" ۔۔
تب وہ صاحب باہر آئے اور انھیں اندر آنے کی جگہ دی۔۔۔
"عطیہ کے بیٹے ہو ؟"
تھوڑا جھجھک کر انھونے گلے لگالیا کھپریل کے ٹوٹے پھوٹے گھر میں دو بو سیدہ چارپایئوں کے سوا کچھ نہ تھا
"بیٹھو میا ں۔۔۔۔"
وہ دھم سے چار پائی پر بیٹھ گئے
"کیسی ہے عطیہ ؟؟"
"آپ۔۔۔ میرا مطلب آپ امّی کے کون ہیں ؟؟"اختر میاں نے ڈرتے ڈرتے پو چھا ۔
"بتایا نہیں تمہاری امّاں نے ؟؟ میں ان کا چچا زاد بھا ئی شاکر ہوں تمہارا ما موں۔۔۔ کیسی ہے عطیہ؟؟"
"جی ٹھیک ہیں بس ۔۔۔آپ سب کو یاد کرتی ہیں ۔۔"
"ارے یہاں یاد کرنے والی کیا بات ہے! اللہ کا شکر ہے عیش سے رہ رہی ہے، یہاں کیا تھا جو وہ یا د کرنے کوچھوڑ گئی ۔۔"
ان کی آواز میں ٹوٹے کانچ کی چبھن تھی ۔
"پھر بھی سب لوگ۔۔۔۔ ابّا کی حویلی ؟؟" اختر میاں اٹک اٹک کر بولے۔
"حویلی ؟؟؟۔۔۔ کون سی حویلی۔۔۔ کسکی حویلی؟۔۔۔ میاں ہم پشتینی قلعئی گر ہیں، ہما رے سر پر جو چھت ہے وہ غنیمت ہے۔ اب تو کوئی قلعی بھی نھی کرواتا، ایسے ایسے برتن آگئے ہیں بازار میں کہ قلعی کی ضرورت ہی نہیں پڑتی -عطیہ کے ابّا تو بہت غریبی میں مرے ۔۔کوئی پوچھنے والا نہ تھا ہم ہی کبھی روٹی پانی دیتے تھے اور اسکے سسر تو غدر میں ہی مارے گئے۔ کون پوچھنے والا تھا۔ وہ بھی یہی کام کرتے تھے انکا تو چھپر بھی نھیں بچا۔ اب آج کل ہماری امّاں پڑی ہیں۔ جاوء سلام کر آو تمہاری تو نانی ہوئیں ۔۔"
میلی سی گٹھری میں حرکت ہوئی
 "کوں ہےشاکر؟؟۔۔۔
 گھر کے ایک ایک زرّے سے غربت ٹپک رہی تھی۔ ہر طرف افلاس اور بیچارگی تڑپ رہی تھی۔
 "ماموں ایک گلاس پانی ملےگا ؟"
"ہاں ابھی لو" ۔۔انھونے المونیم کے گندے پچکے سے گلاس میں گھڑے سے پا نی انڈیل کر میری طرف بڑاھا یا۔
 ''۔۔اچھا اب اجازت دیجے ۔۔اختر میاں کھڑے ہوگیے" ٹیکسی کھڑی ہے" ۔۔
"گاڑی سے آئے ہؤ؟؟؟"
 ماموں بےاختیآر باہر نکل آئے ۔۔اختر میاں ان کو سلام کرکے ٹیکسی میں بیٹھ گئے ۔
"مگر صا حب آپ تو ٹھہرنے والے تھے؟" ٹیکسی ڈرایئور نے دل دکھانے والا سوال کر ہی دیا ۔۔
"جن صا حب سے ملنا تھا وہ نہیں ملے چلو واپس" ۔۔۔۔۔
 جس وقت اختر میاں واپس پاکستان پہونچے سورج ڈوب رہا تھا، اک اداسی سی چھائی ہوئی تھی مگر ان کے گھر آنے سے ایک دم چہل پہل سی ہو گئی بچّے دوڑ کر لپٹ گئے۔ امّاں خا موش خاموش سی انھیں دیکھے گئیں، ان کے چہرے پر ایک ہی سوال تھا۔۔۔
 "کیا تم وہاں گئے تھے ؟؟۔۔۔ کیا تم ؟؟۔۔۔۔"
 اور تبھی اختر میاں آکر ان سے لپٹ گئے ۔۔۔۔
"کیسی ہیں آمّاں آپ؟؟۔۔ارے میرے پیچھے تو آپ دبلی ہو گئی امّا ں۔ میں تو اپنے کا موں میں اتنا مصروف ہو گیا کہ مرادآباد جا ہی نہی سکا۔ ہاں مہروخالہ نے یہ سامان بھیجا ہے وہ بہت یا دکرتی ہیں آپ کو ۔"

امّاں نے ایک گہری سی اطمینان کی سانس لی اور اٹھکر مہرو خالا کا بھیجا ہوا سامان کھولنے لگیں ۔ 

No comments:

Post a Comment