ہل من
ناصراً
"پگلا گئے ہو کا تیواری ۔۔۔۔بھیا صا حب بے چا رے سے
کا مطلب ؟ او کونو بات ما دخل نہیں دیت ہیں ۔ای سب کیا دھرا تو چھو ٹے با بو صا حب کا ہے ،ان ہی کے ایماء پر ای سب جنے
شیر ہو ئی گئے ہیں "سکھ رام نے انگو چھا جھاڑ کر کا ندھے پر ڈالا اور مو نڈھا
کھینچ کر تیو اری کی کر سی کے پاس لا کر بیٹھ گئے ۔
"ارے بھا ئی ہیا ں کبّؤ کو نو فرق نا ہی رکھا گوا ہے ۔۔۔۔کو نو جات برادری ما ۔۔۔۔بھیا صا حب سب کے گھر جات ہیں سب سے ملت ہیں اور تو اور سبکا اپنے گھر بلا وت ہیں ۔ای جھگڑا لپّا ان کا کام نا ہے ارے بھا ئی ہمارے بھیا صا حب تو دیوتا ہیں ۔۔۔۔دیوتا "
"مگر یار یہ تو بتاؤ یہ سب ہوا کیسے ۔۔۔۔۔؟ہر سال تعزیے اٹھتے ہیں ہر سال محّر م منا یا جا تا ہے پورا گا ؤں مل جل کر سب کام کر تا ہے پھر آخر ۔۔؟"
"اب تم کا کا بتا ئی ۔۔۔۔۔بھیاّ صا حب کے ابّا جون رہے انکے جما نے سے سب کے تعزیہ انکے امام با رے ما رکھّے جات رہے ۔۔نو محر م کا سب جنے اپنا اپنا چوک بنائے کے تعزیہ لیجات رہیں مگر دس محرم کا سب جنے ایک ساتھ اٹھاوت رہے ۔۔سب سے آگے بڑے بھیا صاحب کا تعزیہ ،اور اوکے پیچھے چھو ٹے بھیا صا حب اور پھر گا ؤں والن کے ۔۔۔۔۔۔کبھی کو نو بات نہ بھئی تا جیہ چا ہے چھو ٹا ہو ئے چاہے بڑا ۔۔۔۔ہے تو امام صا حب کا ؟؟ مگر اب جما نہ تون بدل گوا ہے گا ؤ ں کے پا سی چمار ۔۔۔نا ئی دھو بی سب منھ کا آوے لگے ہیں ۔"
"یار میں یہ پو چھ رہا ہو ں کہ انکے آپس کا کیا معا ملہ ہے ۔۔"تیواری نے بات کاٹ کر پو چھا ۔۔۔۔
"دیکھو بھا ئی ہمکا جیادہ تو معلوم نہیں بڑے بھیّا صا حب اپنے چھو ٹے بھا ئی سے پہلن سے الگ رہت رہیں ۔۔مکد مہ چلت رہا جا یئداد کا ۔۔۔۔سامنے کچھ بات نا ہی لاوت رہیں وجہ دار آدمی رہیں ۔اب او تو گئے مر ۔۔۔۔۔ای لڑ کے لو گ ہیں کھون گرم ہے ۔۔بات بے بات لڑائی جھگڑا ۔۔۔۔
تیو اری ای سب چھو ڑو جاؤ بھیا صا حب سے پو چھو او سب قصہ بتا ئے دیہں ۔۔۔بہت عمدہ آدمی ہیں "
تیواری نیا نیا تھا نے میں تعا ئنات ہو کر آیا تھا ۔اتفاق سے سکھ رام اسکا ما موں ذاد بھائی بھی اسی گاؤ ں میں رہتا تھا ۔تیواری گا ؤں اور یہا ں کی سیا ست سے نا واقف تھا اسکو سکھ رام سے کافی مدد ملی ۔۔اور محرم میں اچانک گڑ بڑ کا احساس ہو تے ہی اسنے سارے عملے کو چو کس کیا ۔۔۔اور جلوس میں پہو نچ گیا ۔۔۔۔
اس وقت تو بات بن گئی ۔۔۔مگر انگاروں پر راکھ پڑ جائے تب بھی وہ اندر ہی اندر دھکتے رہتے ہیں ،ذرا سی ہو ا چلتی اور نا جانے کتنے گھر خا کستر ہو جاتے ۔اسی لیئے تیواری گا ؤں کے پرا نے لو گو ں سے ملتا رہا اور سا رے معاملات سمجھنے کی کو شش کر تا رہا ۔
درگا پر شاد گا ؤں کا مکھیا ہو نے کے ساتھ ساتھ اکھا ڑے کا ما سٹر بھی تھا ۔۔۔اسکی دھاک جمی ہو ئی تھی ۔بھیّا صا حب سے بھی بہت دو ستی تھی مگر بات ہی کچھ ایسی تھی کہ وہ جذباتی ہو گیا ۔
ہوا یہ کہ جب پانچ محّر م کو علم کا پھریرا کھیت کے کنارے لگے ہوئے ببول کی شاخ میں الجھا تو کئی جگہ سے مسک گیا ۔۔اور بھیّا صا حب نے اسی وقت ببول کٹوا دیا ۔وہ پیڑ کافی پھیل چکا تھا اور ابھی کئی جلوس نکلنا باقی تھے ۔۔
وہ کھیت درگا پر شاد کا تھا اور اسنے حفاظت کے لیئے ببول لگا رکھّے تھے ۔لیکن اگر اس جگہ وہ ہو تا تو وہ بھی یہی کر تا جو بھیّا صا حب نے کیا ۔
مگر وہ تو تھانہیں اور چھو ٹے با بو صا حب نے جسطرح یہ واقعہ بیان کیا ،وہ بپھر گیا ۔۔
"بھیا صا حب کی نظر میں ہندو ں کی کو ئی وقعت تو ہے نہیں ۔۔آج تمہا را ببو ل کٹوا یا ہے کل با غ کو آگ لگوا دینگے ۔۔۔ہم تو جانتے ہیں نا انکو َ۔۔۔۔
ارے درگا ۔۔۔کیو ں بز دلی دکھا رہے ہو ۔۔؟ مٹھی بھر مسلمان ہیں اس گا ؤں میں ۔اس علاقے میں تم ہی سب سے زیادہ طا قت ور ہو ۔پوج لو ۔۔۔ دکھا دواپنی طاقت ۔۔۔تا کہ آیئندہ ایسا ویسا کچھ نہ ہو سکے ۔۔۔"
"مگر چھو ٹے با بو صا حب ۔۔۔۔"وہ ہچکچا یا
"دیکھو بھئی ہم تو تمہا ری طرف ہی ہیں اب تم اپنے آدمیو ں سے بات کرو ۔۔جو منا سب سمجھو وہ کرو ۔۔۔ہمیں کو ئی ضرورت نہیں تمہا رے معا ملات میں دخل دینے کی ۔۔۔تم خود سمجھدار ہو بھئی ۔۔۔۔
اتنا بڑا تعزیہ رکھتے ہو ۔۔۔پھر بھی پیچھے پیچھے چلنا پڑتا ہے ۔با جے پر پیسہ خرچ کر تے ہو اتنے سا رے لو گو ں کو کھا نا بھی کھلوا تے ہو ۔۔۔پھر بھی ان کے برا بر نہیں ۔۔۔جب چا ہیں تمہا رے پیڑ کٹوا دیں ۔۔۔تمہا رے کھیت اجڑوا دیں یا تمہارا با غ پھنکوا دیں ۔۔۔"
وہ آگ لگا کر اٹھے اور زنان خانے میں چلے گئے ۔۔
درگا پر شاد تھو ڑی دیر بیٹھا ان کی سا ری باتو ں پر غور کر تا رہا ۔۔اسکے اندر شعلے بھڑکنے لگے ۔۔۔وہ یہ بھی بھو ل گیا کہ اسکی ماں نے شادی کے سات برس بچّے کی آس میں کاٹ دیے تھے اور پھر نو محرّم کو امام بارگاہ کے سامنے رو روکر اسے مانگا تھا ۔
اور جب وہ گو د میں آیا تو سب سے پہلے وہا ں لیکر آئی تھیں ۔وہ دونوں میا ں بیو ی ساری رات امام بارگاہ کے صحن میں بیٹھے شکر ادا کرتے رہے تھے ۔وہ سب کچھ بھول گیا ۔۔
کتنی بار بھیّا صاحب اسکو اپنے گلے سے لگا چکے تھے ۔۔۔وہ ہندو تھا مگر بھیّا صاحب کے ساتھ بیٹھ کر کھا نا کھا چکا تھا ۔
وہ یہ بھی بھول گیا اسکے پتا جی محرم کے تعزیے کس اہتمام سے اٹھوا یا کرتے تھے ۔
عشرے کے دن سہ پہر تک وہ بھی انکے ساتھ بھوکا پیا سا رہتا تھا ۔۔۔وہ سب بھول گیا ۔نفرت غالب آ گئی ،سیا ست اپنا کام کر گئی ۔
چھو ٹے با بو تو اپنے ہر کاروں کو سارا کام سمجھا کر نو محرم ہی کو فیض آباد نکل گئے ۔
وہ صبح بہت اداس تھی ،درگا پر شاد اپنے آدمیو ں سے کئی بار میٹنگ کر چکا تھا ۔۔۔ہتھیار لبا سو ں ۔اور تا زیہ کے نیچے لگی ہو ئی چا در میں چھپائے گئے تھے ۔۔وقتِ ضرورت نکا لے جا سکتے تھے ۔۔
اک سرد سی خا مو شی ہر طرف سنائی دے رہی تھی ۔
گیا رہ بجتے بجتے بھیّا صا حب نے جلو س اٹھوا دیا ۔سب سے پہلے علم امام بارگاہ سے باہر آیا ۔۔۔پھر اور سارے تبرّکات ایک کے بعد ایک اٹھا ئے گئے اور پھر تعزیہ نمو دار ہوا ۔۔۔۔جلو س کر بلا کی سمت روانہ ہوا ۔۔۔
"آج شبّیر پہ کیا عالمِ تنہائی ہے
ظلم کی چاند پہ زہرا کے گھٹا چھا ئی ہے "
مخصوص مر ثیہ کی آواز نے فضا کو اور سو گوار کیا ۔۔
دوسری طرف درگا پرشاد کے سا رے آدمی تیّا ر تھے ،آج اسکے دل میں عقیدت کا کو ئی جزبہ نہ تھا ۔۔۔اگر تھا تو صرف نفرت اور انتقام کا جزبہ ۔۔۔
اچا نک دروازے کے باہر کو ئی بھا گتا ہو ا آتا دکھائی دیا ۔۔۔سا منے کچّی زمین پر دھو ل اڑ رہی تھی ۔۔۔دھول چھٹی تو درگا پرشاد کی نظر اس بچّے پر پڑی جسکا چہرہ جزبات کی شدّت سے سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔۔وہ را حیل تھا ،بھیا صا حب کا سب سے چھو ٹا بیٹا ۔
"درگا چچا ۔۔۔۔انسے پھو لتی سا نسوں کو سمیٹا۔۔۔اور پھر بو لا ۔۔
"درگا چچا ۔۔۔۔امی جان بتا رہی تھیں کہ آپ لڑائی کر نے جا رہے ہیں ؟ ۔۔۔آپ سب کو مار دینگے ۔۔۔"اسنے کر تے کی آستین سے انکھیں صاف کیں ۔۔
"آپکو پتہ ہے ؟ جب کر بلا کے میدان میں امام حسین (علیہ السلام ) اکیلے رہ گئے تھے ۔۔تو ایک چھو ٹا سا بچّہ انکی مدد کر نے آیا تھا ۔۔۔اور جب اسنے اپنے دو نو ں ہاتھ اٹھائے تو دشمنو ں نے اسکی کلا ئیا ں کاٹ دی تھیں ۔۔۔۔مگر لڑائی بند نہیں ہوئی تھی ۔۔۔مگر آج آپ یہ لڑائی بند کر دیجئے ۔"اسنے اپنے دونو ں چھو ٹے چھو ٹے ہا تھ آگے بڑھائے ۔۔۔اور بو لا ۔۔"لیجئے آپ بھی میر ی کلا یئاں کاٹ دیجے ۔۔۔۔۔مگر لڑائی بند کر دیجے ۔۔۔۔چا چی جی بھی امّی کے ساتھ فر یادی ماتم کر ہی ہیں امام باڑے میں ۔۔۔۔۔"وہ بولتے بولتے تھک کر چپ ہو ا اور منّت بھر ی نگا ہو ں سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔
باہر سے اندر کی طرف آتے ہوئے تیواری نے اسے گود میں لینا چا ہا ۔۔۔جبتک درگا پرشاد نے بڑھ کر پہلے اسکے کالے کر تے کی آستینیں برا بر کیں اور پھر اسے گو د میں لیکر زور سے بو لا ۔۔۔
"چلو ۔۔۔اٹھاؤ جلوس ۔۔۔۔پیچھے رہنا خبر دار کوئی آگے نہ نکلے ۔۔۔۔"اپنا جزبات سے دہکتا چہرا اور آنسو را حیل کے با لو ں میں چھپا کر وہ خود بھی آگے بڑھ آیا ۔۔۔
باجے والے آگے پھر ما تم کر تی انجمن اسکے پیچھے گا ؤ ں کے سارے تعزیے ۔۔۔اور آخیر میں درگا پرشا د آہستہ آہستہ گا ؤ ں سے نکالا اور کر بلا کی جانب چل پڑا
نہر پر ہمیشہ کی طرح سب ایک ساتھ چلتے ہو ئے پہونچے ۔۔۔
جلوس خیریت سے کر بلا پہونچا ۔۔۔
تعزیے دفن ہوئے ۔۔۔مٹی ہو گئی
شام ہو نے لگی تھی ایک وحشت ناک سنّا ٹے نے سبکو اپنی گر فت میں لیا ہو اتھا ،
دھول کے بگو لے ادھر ادھر گھوم رہے تھے ،نہر کا پانی اداسی سے بہہ رہا تھا ۔۔۔
لوگ ٹکڑیوں میں واپس جارہے تھے ۔۔۔بھیّا صا حب نے جاتے جاتے مڑ کر دیکھا ۔۔۔درگا پرشاد سر جھکائے ہوئےمنڈیرپر بیٹھا تھا ۔۔
بھیا صا حب واپس پلٹے اور اسکے کا ندھے پر ہاتھ رکھّا اور اپنی نرم آواز میں بولے
"چلو درگا ۔۔۔امّاں فا قہ شکنی کے لیئے انتظار کر تی ہونگی ۔"
ختم شد
"
"ارے بھا ئی ہیا ں کبّؤ کو نو فرق نا ہی رکھا گوا ہے ۔۔۔۔کو نو جات برادری ما ۔۔۔۔بھیا صا حب سب کے گھر جات ہیں سب سے ملت ہیں اور تو اور سبکا اپنے گھر بلا وت ہیں ۔ای جھگڑا لپّا ان کا کام نا ہے ارے بھا ئی ہمارے بھیا صا حب تو دیوتا ہیں ۔۔۔۔دیوتا "
"مگر یار یہ تو بتاؤ یہ سب ہوا کیسے ۔۔۔۔۔؟ہر سال تعزیے اٹھتے ہیں ہر سال محّر م منا یا جا تا ہے پورا گا ؤں مل جل کر سب کام کر تا ہے پھر آخر ۔۔؟"
"اب تم کا کا بتا ئی ۔۔۔۔۔بھیاّ صا حب کے ابّا جون رہے انکے جما نے سے سب کے تعزیہ انکے امام با رے ما رکھّے جات رہے ۔۔نو محر م کا سب جنے اپنا اپنا چوک بنائے کے تعزیہ لیجات رہیں مگر دس محرم کا سب جنے ایک ساتھ اٹھاوت رہے ۔۔سب سے آگے بڑے بھیا صاحب کا تعزیہ ،اور اوکے پیچھے چھو ٹے بھیا صا حب اور پھر گا ؤں والن کے ۔۔۔۔۔۔کبھی کو نو بات نہ بھئی تا جیہ چا ہے چھو ٹا ہو ئے چاہے بڑا ۔۔۔۔ہے تو امام صا حب کا ؟؟ مگر اب جما نہ تون بدل گوا ہے گا ؤ ں کے پا سی چمار ۔۔۔نا ئی دھو بی سب منھ کا آوے لگے ہیں ۔"
"یار میں یہ پو چھ رہا ہو ں کہ انکے آپس کا کیا معا ملہ ہے ۔۔"تیواری نے بات کاٹ کر پو چھا ۔۔۔۔
"دیکھو بھا ئی ہمکا جیادہ تو معلوم نہیں بڑے بھیّا صا حب اپنے چھو ٹے بھا ئی سے پہلن سے الگ رہت رہیں ۔۔مکد مہ چلت رہا جا یئداد کا ۔۔۔۔سامنے کچھ بات نا ہی لاوت رہیں وجہ دار آدمی رہیں ۔اب او تو گئے مر ۔۔۔۔۔ای لڑ کے لو گ ہیں کھون گرم ہے ۔۔بات بے بات لڑائی جھگڑا ۔۔۔۔
تیو اری ای سب چھو ڑو جاؤ بھیا صا حب سے پو چھو او سب قصہ بتا ئے دیہں ۔۔۔بہت عمدہ آدمی ہیں "
تیواری نیا نیا تھا نے میں تعا ئنات ہو کر آیا تھا ۔اتفاق سے سکھ رام اسکا ما موں ذاد بھائی بھی اسی گاؤ ں میں رہتا تھا ۔تیواری گا ؤں اور یہا ں کی سیا ست سے نا واقف تھا اسکو سکھ رام سے کافی مدد ملی ۔۔اور محرم میں اچانک گڑ بڑ کا احساس ہو تے ہی اسنے سارے عملے کو چو کس کیا ۔۔۔اور جلوس میں پہو نچ گیا ۔۔۔۔
اس وقت تو بات بن گئی ۔۔۔مگر انگاروں پر راکھ پڑ جائے تب بھی وہ اندر ہی اندر دھکتے رہتے ہیں ،ذرا سی ہو ا چلتی اور نا جانے کتنے گھر خا کستر ہو جاتے ۔اسی لیئے تیواری گا ؤں کے پرا نے لو گو ں سے ملتا رہا اور سا رے معاملات سمجھنے کی کو شش کر تا رہا ۔
درگا پر شاد گا ؤں کا مکھیا ہو نے کے ساتھ ساتھ اکھا ڑے کا ما سٹر بھی تھا ۔۔۔اسکی دھاک جمی ہو ئی تھی ۔بھیّا صا حب سے بھی بہت دو ستی تھی مگر بات ہی کچھ ایسی تھی کہ وہ جذباتی ہو گیا ۔
ہوا یہ کہ جب پانچ محّر م کو علم کا پھریرا کھیت کے کنارے لگے ہوئے ببول کی شاخ میں الجھا تو کئی جگہ سے مسک گیا ۔۔اور بھیّا صا حب نے اسی وقت ببول کٹوا دیا ۔وہ پیڑ کافی پھیل چکا تھا اور ابھی کئی جلوس نکلنا باقی تھے ۔۔
وہ کھیت درگا پر شاد کا تھا اور اسنے حفاظت کے لیئے ببول لگا رکھّے تھے ۔لیکن اگر اس جگہ وہ ہو تا تو وہ بھی یہی کر تا جو بھیّا صا حب نے کیا ۔
مگر وہ تو تھانہیں اور چھو ٹے با بو صا حب نے جسطرح یہ واقعہ بیان کیا ،وہ بپھر گیا ۔۔
"بھیا صا حب کی نظر میں ہندو ں کی کو ئی وقعت تو ہے نہیں ۔۔آج تمہا را ببو ل کٹوا یا ہے کل با غ کو آگ لگوا دینگے ۔۔۔ہم تو جانتے ہیں نا انکو َ۔۔۔۔
ارے درگا ۔۔۔کیو ں بز دلی دکھا رہے ہو ۔۔؟ مٹھی بھر مسلمان ہیں اس گا ؤں میں ۔اس علاقے میں تم ہی سب سے زیادہ طا قت ور ہو ۔پوج لو ۔۔۔ دکھا دواپنی طاقت ۔۔۔تا کہ آیئندہ ایسا ویسا کچھ نہ ہو سکے ۔۔۔"
"مگر چھو ٹے با بو صا حب ۔۔۔۔"وہ ہچکچا یا
"دیکھو بھئی ہم تو تمہا ری طرف ہی ہیں اب تم اپنے آدمیو ں سے بات کرو ۔۔جو منا سب سمجھو وہ کرو ۔۔۔ہمیں کو ئی ضرورت نہیں تمہا رے معا ملات میں دخل دینے کی ۔۔۔تم خود سمجھدار ہو بھئی ۔۔۔۔
اتنا بڑا تعزیہ رکھتے ہو ۔۔۔پھر بھی پیچھے پیچھے چلنا پڑتا ہے ۔با جے پر پیسہ خرچ کر تے ہو اتنے سا رے لو گو ں کو کھا نا بھی کھلوا تے ہو ۔۔۔پھر بھی ان کے برا بر نہیں ۔۔۔جب چا ہیں تمہا رے پیڑ کٹوا دیں ۔۔۔تمہا رے کھیت اجڑوا دیں یا تمہارا با غ پھنکوا دیں ۔۔۔"
وہ آگ لگا کر اٹھے اور زنان خانے میں چلے گئے ۔۔
درگا پر شاد تھو ڑی دیر بیٹھا ان کی سا ری باتو ں پر غور کر تا رہا ۔۔اسکے اندر شعلے بھڑکنے لگے ۔۔۔وہ یہ بھی بھو ل گیا کہ اسکی ماں نے شادی کے سات برس بچّے کی آس میں کاٹ دیے تھے اور پھر نو محرّم کو امام بارگاہ کے سامنے رو روکر اسے مانگا تھا ۔
اور جب وہ گو د میں آیا تو سب سے پہلے وہا ں لیکر آئی تھیں ۔وہ دونوں میا ں بیو ی ساری رات امام بارگاہ کے صحن میں بیٹھے شکر ادا کرتے رہے تھے ۔وہ سب کچھ بھول گیا ۔۔
کتنی بار بھیّا صاحب اسکو اپنے گلے سے لگا چکے تھے ۔۔۔وہ ہندو تھا مگر بھیّا صاحب کے ساتھ بیٹھ کر کھا نا کھا چکا تھا ۔
وہ یہ بھی بھول گیا اسکے پتا جی محرم کے تعزیے کس اہتمام سے اٹھوا یا کرتے تھے ۔
عشرے کے دن سہ پہر تک وہ بھی انکے ساتھ بھوکا پیا سا رہتا تھا ۔۔۔وہ سب بھول گیا ۔نفرت غالب آ گئی ،سیا ست اپنا کام کر گئی ۔
چھو ٹے با بو تو اپنے ہر کاروں کو سارا کام سمجھا کر نو محرم ہی کو فیض آباد نکل گئے ۔
وہ صبح بہت اداس تھی ،درگا پر شاد اپنے آدمیو ں سے کئی بار میٹنگ کر چکا تھا ۔۔۔ہتھیار لبا سو ں ۔اور تا زیہ کے نیچے لگی ہو ئی چا در میں چھپائے گئے تھے ۔۔وقتِ ضرورت نکا لے جا سکتے تھے ۔۔
اک سرد سی خا مو شی ہر طرف سنائی دے رہی تھی ۔
گیا رہ بجتے بجتے بھیّا صا حب نے جلو س اٹھوا دیا ۔سب سے پہلے علم امام بارگاہ سے باہر آیا ۔۔۔پھر اور سارے تبرّکات ایک کے بعد ایک اٹھا ئے گئے اور پھر تعزیہ نمو دار ہوا ۔۔۔۔جلو س کر بلا کی سمت روانہ ہوا ۔۔۔
"آج شبّیر پہ کیا عالمِ تنہائی ہے
ظلم کی چاند پہ زہرا کے گھٹا چھا ئی ہے "
مخصوص مر ثیہ کی آواز نے فضا کو اور سو گوار کیا ۔۔
دوسری طرف درگا پرشاد کے سا رے آدمی تیّا ر تھے ،آج اسکے دل میں عقیدت کا کو ئی جزبہ نہ تھا ۔۔۔اگر تھا تو صرف نفرت اور انتقام کا جزبہ ۔۔۔
اچا نک دروازے کے باہر کو ئی بھا گتا ہو ا آتا دکھائی دیا ۔۔۔سا منے کچّی زمین پر دھو ل اڑ رہی تھی ۔۔۔دھول چھٹی تو درگا پرشاد کی نظر اس بچّے پر پڑی جسکا چہرہ جزبات کی شدّت سے سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔۔وہ را حیل تھا ،بھیا صا حب کا سب سے چھو ٹا بیٹا ۔
"درگا چچا ۔۔۔۔انسے پھو لتی سا نسوں کو سمیٹا۔۔۔اور پھر بو لا ۔۔
"درگا چچا ۔۔۔۔امی جان بتا رہی تھیں کہ آپ لڑائی کر نے جا رہے ہیں ؟ ۔۔۔آپ سب کو مار دینگے ۔۔۔"اسنے کر تے کی آستین سے انکھیں صاف کیں ۔۔
"آپکو پتہ ہے ؟ جب کر بلا کے میدان میں امام حسین (علیہ السلام ) اکیلے رہ گئے تھے ۔۔تو ایک چھو ٹا سا بچّہ انکی مدد کر نے آیا تھا ۔۔۔اور جب اسنے اپنے دو نو ں ہاتھ اٹھائے تو دشمنو ں نے اسکی کلا ئیا ں کاٹ دی تھیں ۔۔۔۔مگر لڑائی بند نہیں ہوئی تھی ۔۔۔مگر آج آپ یہ لڑائی بند کر دیجئے ۔"اسنے اپنے دونو ں چھو ٹے چھو ٹے ہا تھ آگے بڑھائے ۔۔۔اور بو لا ۔۔"لیجئے آپ بھی میر ی کلا یئاں کاٹ دیجے ۔۔۔۔۔مگر لڑائی بند کر دیجے ۔۔۔۔چا چی جی بھی امّی کے ساتھ فر یادی ماتم کر ہی ہیں امام باڑے میں ۔۔۔۔۔"وہ بولتے بولتے تھک کر چپ ہو ا اور منّت بھر ی نگا ہو ں سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔
باہر سے اندر کی طرف آتے ہوئے تیواری نے اسے گود میں لینا چا ہا ۔۔۔جبتک درگا پرشاد نے بڑھ کر پہلے اسکے کالے کر تے کی آستینیں برا بر کیں اور پھر اسے گو د میں لیکر زور سے بو لا ۔۔۔
"چلو ۔۔۔اٹھاؤ جلوس ۔۔۔۔پیچھے رہنا خبر دار کوئی آگے نہ نکلے ۔۔۔۔"اپنا جزبات سے دہکتا چہرا اور آنسو را حیل کے با لو ں میں چھپا کر وہ خود بھی آگے بڑھ آیا ۔۔۔
باجے والے آگے پھر ما تم کر تی انجمن اسکے پیچھے گا ؤ ں کے سارے تعزیے ۔۔۔اور آخیر میں درگا پرشا د آہستہ آہستہ گا ؤ ں سے نکالا اور کر بلا کی جانب چل پڑا
نہر پر ہمیشہ کی طرح سب ایک ساتھ چلتے ہو ئے پہونچے ۔۔۔
جلوس خیریت سے کر بلا پہونچا ۔۔۔
تعزیے دفن ہوئے ۔۔۔مٹی ہو گئی
شام ہو نے لگی تھی ایک وحشت ناک سنّا ٹے نے سبکو اپنی گر فت میں لیا ہو اتھا ،
دھول کے بگو لے ادھر ادھر گھوم رہے تھے ،نہر کا پانی اداسی سے بہہ رہا تھا ۔۔۔
لوگ ٹکڑیوں میں واپس جارہے تھے ۔۔۔بھیّا صا حب نے جاتے جاتے مڑ کر دیکھا ۔۔۔درگا پرشاد سر جھکائے ہوئےمنڈیرپر بیٹھا تھا ۔۔
بھیا صا حب واپس پلٹے اور اسکے کا ندھے پر ہاتھ رکھّا اور اپنی نرم آواز میں بولے
"چلو درگا ۔۔۔امّاں فا قہ شکنی کے لیئے انتظار کر تی ہونگی ۔"
ختم شد
"
No comments:
Post a Comment