Wednesday, February 5, 2014

ایک پیالی چا ئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبھی کبھی کو ئی نام ذہن سے نکل جاتا ہے اور ہم سو چتے رہ جاتے ہیں  بہت کو فت ہوتی ہے ۔۔۔مگر نام یاد نہیں آتا ۔
انکا نام نہ تو ذہن سے نکلا ہے اور نہ بھلا یا جا سکتا ہے ۔۔۔۔صرف انکی پر داری کی خاطر لکھا نہیں جاسکتا ۔
زندگی میں کچھ ایسے لو گ آتے ہیں جن کی ذات ہمیں اونچائیوں کی طر ف لے جاتی ہے نیئے پنکھ مل جاتے ہیں ،نئی           پر واز عطا ہو جاتی ہے۔۔محض ان لو گوں کی بدولت کئی دریچہ کھل جاتے ہیں ۔اور وہ ہمیں اپنی شخصیت سے اس طرح متا ثر  کر دیتے ہیں کہ ہم چا ہیں بھی تو انھیں تمام عمر فرا موش نہیں کر سکتے ۔۔۔۔
سو ۔۔۔وہ ایسی ہی شخصیت تھے ،ایک عظیم انسان  ،ایک بے مثال مصنف ،با کمال اردو داں ۔اور وہ لو گو ں کے دلو ں کو تسخیر کر نے کے فن سے بھی واقف تھے ۔۔۔وہ ایک عظیم فنکار تھے اور جب پہلی ملاقات ہو ئی ان سے ۔۔۔وہ نہ جانے قبو لیت کی کون سی گھڑی تھی ۔میری ہر تحریر کے لئے اللہ کا انعام تھے وہ ۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
میں ٹو ٹے ہوئے وقت کے کانچ کو جو ڑنے کا جتن کر رہی ہوں اور بیتے ہوئے شب و روز  اپنی بھیگی آنکھو ں سے دیکھ رہی ہوں ۔
وہ شام ۔۔نہ بھو لی ہوں اور نہ بھولنا چاہتی ہوں جب ایک محفل "شامِ افسانہ " سجی ہوئی تھی ۔
علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی  میں تعلیمی سال کے خا تمہ پر ہر     ہو سٹل میں "ہال ویک " کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے ۔یہ روایت اب بھی قا ئم ہے  لیکن اب تو ہر روا یت کا چہرہ بد ل گیا ہے ۔بہر حال یہ بات تو ہر جگہ ، ہر تعلیمی ادارے کے لیئے کہی جاسکتی ہے ۔گو کہ یہ عمل اچا نک نہیں ہوا  اس عمل کے ظہور پزیر ہونے میں کئی بر سوں کا عر صہ لگا ہے لیکن یہ تو ابھی کی بات لگتی ہے کہ جب مشا عروں میں کمنٹس  بھی دئے جاتے تو تہزیب کے دائرے میں رھ کر ،شاعروں کو ان کمنٹس کا انتظار ہو تا تھا ۔
طلبا ء ہو ٹنگ بھی کر تے  تو وہ بھی لطیف انداز میں منا سب اور پر مزاح انداز میں ۔۔۔لیکن اب جو حال ہوا ہے ،جو انداز ِ گفتگو بد لا ہے ،اسکا کوئی تدا رک نہیں صرف ہمارے آپکے دل د کھتے ہیں آنکھیں نم ہوتی ہیں ۔۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
اس ہال ویکس کے پرو گرام میں وہ باکمال شخصیت  مو جود تھی ۔
کچھ لڑ کیو ں اور لڑ کوں نے آگے بڑھ کر ان سے آٹو گراف کی فر مائش کی ۔وہ سر جھکائے ہاتھ بڑھا کر مسکرا کر ۔۔آٹو گراف بک لیتے اپنا دستخط کر تے اور واپس کر دیتے ۔جب مینے اپنی نو ٹ بک بڑھائی تو  کہا ۔
"آپ اسپر اپنی کسی ناول کا کوئی جملہ لکھ دیجیئے "
انھوں نے ایکدم سر اٹھا کر میری جانب دیکھا اور مسکرا کر بولے ۔
"آپ نے  میری کون سی کتاب پڑھی ہے  ۔۔؟"
"مینے آپکی ساری کتا بیں پڑھی ہیں ۔۔۔"میرا اعتماد بحال ہو چکا تھا ۔
"چلیئے پھر آپکا امتحان لے لیتے ہیں ۔۔۔"انھوں نے میرے ہاتھ سے نو ٹ بک لی اور اسمیں ایک جملہ لکھ دیا ۔
مسکرا کر بولے ۔
"بتائیے یہ کس ناول میں ہے ؟؟"

اور مینے تو جیسے انکی ساری کتا بیں حفظ کر رکھّی تھیں ۔فوراً بتا دیا ۔
پھر تو وہ ایک گیم کی طرح اپنی ناولوں کے جملے پو چھتے گئے اور میں نام بتا تی گئی ۔
وہ کچھ حیرت اور مسرّت سے مجھے دیکھتے رہے ۔۔۔
انکی وہ نظر آج بھی مجھے یاد ہے ۔
کس قدر ہنس مکھ انسان تھے سیکڑوں لطا ئف ازبر تھے انھیں ۔
جب بھی محفل سجتی انکے ساتھ ادبی گفتگو ہو تی اور قہقہوں کا دریا بہتا رہتا ۔
دعوتیں کر نے کا بھی خاص شو ق تھا ان کو شام کو اکثر نشست جمتی ۔ہم لڑکیوں کو تو ہو سٹل سے اجازت نہ ملتی  مگر کلاس کے لڑکے جو انکے پسندیدہ اسٹو ڈنٹ تھے وہ ضرور مد عو ہو تے ۔
دوسرے دن کلاس میں یہی باتیں ہو تیں کہ آج فلاں افسانہ سنا آج چائے اور پیسٹری کی دعوت اڑائی ۔۔۔۔آج یہ آج وہ ۔۔۔
کبھی پائے کبھی بر یانی ۔۔
انسے نہ مل سکنے  کی بڑی کوفت ہوتی مگر جب انکا نیا افسانہ ہاتھ میں آجاتا تو ساری کو فت دور ہو جاتی ۔
ایک ایک کر کے سارے افسانے اور ناول جمع ہو گئے ۔
تعلیمی مدارج ختم ہوئے ۔۔۔اور پھر زندگی کے تقا ضے ۔۔۔دنیا کافی بدل گئی ۔سنا انھوں نے اپنی پہلی بیوی کو چھو ڑ کر دوسری شادی کر لی  کا فی ہنگا مہ رہا افسوس بھی ہوا ۔
مگر جو عزّت دلو ں میں تھی وہ بر قرار رہی ۔
ابھی کچھ دنو ں پہلے یہ طے ہوا کہ انکا  انٹر ویو ٹی ۔وی ۔پر آنا چا ہیئے ۔انھیں اردو اکاڈمی کی طرف سے بلند پایہ ایوارڈ سے نوزا گیا تھا ۔۔۔۔
ماس کمینی کیشن اور جرنلزم میں ایم ۔اے کر نے کے بعد مینے کئی شاعروں اور ادیبوں سے انٹرویو لئے تھے ۔۔۔مگر آج دل کسی اور ہی انداز میں دھڑک رہا تھا ۔۔۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭  ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
ہم اپنی ٹیم لیکر انکے دروازے پر کھڑے تھے ۔کا فی دیر ڈرور بیل بجانے کے با وجود کو ئی دروازے پر نہیں آیا ۔
ہم مایوس ہو گئے تھے تبھی ایک  خا تون نے دروازہ کھول دیا ۔
وہ کا فی جھنجھلائی ہوئی تھیں ۔دروازہ کھل گیا تھا مگر ہم باہر کھڑے حیرت سے ان صا حبہ کو دیکھ رہے تھے جو مشکل سے 22 یا 23 برس کی خاتون تھیں اور چہرے پر کر ختگی نمایاں تھی ۔
" کیا بات ہے ۔۔۔؟کیو ں پر یشان کر تے ہیں بے وقت ۔۔۔۔جب دیکھو گھنٹی بج رہی ہے ۔۔۔کو ئی نہ کوئی شاعر ادیب  دروازے پر مو جود ۔۔۔۔آپ لو گوں کو اپنے گھر پہ قرار نہیں ہے ۔۔۔؟ "
"محتر مہ ۔۔۔محتر مہ ۔۔" مینے کچھ بو لنے کی کو شش کی مگر وہ کچھ سننے پر تیّا ر کہاں تھیں ۔
"کس کی سنوں ۔۔۔۔کس کس کی سنو ں ۔۔۔کیا ہے ؟انھوں نے اندر چہرہ گھماکر ڈانٹ کر کسی سے کچھ کہا ۔اور پھر پیر پٹختی غصّے میں دروازہ کھلا چھو ڑ کر اندر چلی گئیں ۔۔۔
ہم شر مندہ سے کھڑے رہے ۔۔
وہ پھر پلٹیں ۔۔۔
" اب کیا سوا ری بھیجو ں آپ لو گوں کو اند ر آنے کے لیئے ؟؟؟؟
ہم پانچ لوگ تھے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے اندر داخل ہوئے ۔ایک داخلی دروازہ اور اسکے برا بر ایک چھو ٹا سا کمرہ  ۔۔۔۔
ایک کونے میں  لکڑی کی میز اور کرسی  ،میز پر کتابوں اور کا غزوں کا انبار ۔۔۔ایک دیوار میں کھلی الماری ، جہاں دھول میں اٹی  بے شمار  ان ہی کی تخلیقات ۔۔ایک کنارے  کی دیوار سے لگا ہوا پتلا سا پلنگ ۔۔۔اسپر نحیف و نزار سا وجود ۔۔۔۔
ان پر پڑی ہوئی  میلی سی رضائی اپنا حال خود بیان کر رہی رھی ۔۔۔ہلکی ہلکی سا نسوں کی ڈوبتی ابھر تی آواز ۔۔۔
میں بیقرار ہو کر آگے بڑھی ۔۔۔۔ہا ں ۔۔بستر پر وہی تھے ۔۔بے حد نحیف ۔۔۔۔کمزور  انکی خوبصورت انگلیا ں  کپکپا کر ہمیں بیٹھنے کا اشا رہ کر رہی تھیں ۔۔۔پاس پڑی میلی میلی کرسیوں پر ہم انکی خا طر بیٹھ گئے ۔۔باقی لوگ میز سے ٹک کر کھڑے رہے ۔۔۔
کیمرہ مین نے کیمرہ فٹ کیا ۔مجھے ان سے سوالات کر نے تھے مگر آنسوؤ ں سے  آواز رندھ رہی تھی ، ہاتھ اٹھا کر کیمرے کو چند لمحے رکنے کو کہا اور اٹھ کر سر ہانے گئی ۔۔۔بڑی بڑی ذہین آنکھیں حلقوں میں ڈوب رہی تھیں ۔۔۔سر خ رہنے والے ہونٹ سفید تھے  اور ان پر بھو ری پپڑیاں جم رہی تھیں دونوں ہاتھوں کی سفید انگلیا ں اضطراری حالت میں کپکپا رہی تھیں ۔     انھوں نے کچھ کہا تھا مینے جھک کر سننے کی کوشش کی مگر وہ شاید ملا زمہ سے کہہ رہے تھے جو دروازے پر استادہ تھی ۔
مینے اسے اندر بلا لیا اسنے انکی بات سنی اور "انہہ  ۔۔۔۔" کہکر اندر چلی گئی ۔
اندر سے آوازیں آرہی تھیں ۔
"اب یہ جو پیسے ملے ہیں انھیں جبتک اڑا نہیں لینگے چین سے تھو ڑا ہی آیئگا  ۔۔۔اسی طر ح کے آنے جانے والوں پر خرچ کر دینگے ۔۔۔"

آواز دھیر دھیرے دور ہوتی جارہی تھی ۔
غالباً یہ انکی بیگم کی آواز تھی ۔یہ آوازیں ہماری سماعتوں میں زہر پھیلا رہی تھیں ۔انکی معصوم آنکھوں میں آنسو جھلملا رہے تھے وہ کتنے بے بس اور مجبور نظر آرہے تھے اتنی عمدہ زندگی گزارنے والے شخص کی یہ حالت ۔۔۔۔ہم سو چ بھی نہیں سکتے تھے ۔
"ہم ابھی ابھی چائے پی کر آئے ہیں "مینے جھک کر ان سے یہ کہا ۔۔تو میرے آنسو انکی پیشا نی بھگو گئے ،شاید
وہ اٹھنا چا ہتے تھے اپنے مہمانوں کی خا طر کر نا چا ہتے تھے  چائے پلا نا چاہتے تھے ۔ انکا وجود زلزلوں کی ذد میں تھا ۔
معزوری اور مجبو ری کا احساس انکی انکھوں میں صاف دکھائی دے رہا تھا ۔
غم کا ایک اتھاہ سمند ر تھا جو انکے وجود میں ہچکو لے کھا رہا تھا ۔
پتہ نہیں وہ کیا کہنا اور کیا سنا نا چا ہتے تھے  ۔ہم انکی خا موش آواز سن رہے تھے ،سمجھ رہے تھے ۔
لیکن جواب دینے سے قا صر تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
 

No comments:

Post a Comment