Wednesday, February 26, 2014

پکّا۔۔۔۔۔۔
ایک بہت بڑا بر گد کا پیڑ تھا وہاں ۔۔۔۔وہ ایک چھو ٹا سا گاؤں تھا ۔۔۔بہت چھوٹا ایک نقطہ سا ۔۔۔۔جہاں نمک کے سوا کچھ بھی نہیں ملتا تھا ۔۔اناج اور سبزیاں کھیتوں میں اگائی جاتی تھیں ،پانی کوئیں سے  گھڑوں میں بھر کے رکھّا جاتا تھا ۔
وہاں اس بر گد کے نیچے ایک اینٹوں کا چبوترا تھا جسے سیمنٹ لگا کر جوڑ دیا گیا تھا ،اسے گاؤں کے لوگ "پکّا " کہتے تھے ۔
اس پر صبح شام مزدور آکر بیٹھتے تھے اور اکثر بچّے کھیلا   کر تے اور ان بچّوں میں میں بھی شامل تھی ۔
وہیں ایک بزرگ آکر بیٹھتے تھے ۔سارے مزدور اور کاشتکار اپنی مشکلیں انھیں سناتے اور ان سے رائے لیتے ۔۔۔وہ سبکی بپتا سنتے اور اکثر انکا حل بھی بتا دیتے تھے تمام محنت کش اپنی پریشانیاں ،لے
 یہیں چھوڑ کر ہلکے پھلکے ہوکر اپنے اپنے گھر چلے جاتے ۔
وہ سارے لوگ ان بزرگ کو بہت ساری دعائیں دے جاتے تھے ۔
مجھے یہ بھیڑ بھاڑ اچھی نہیں لگتی تھی تو اکثر ان سے پوچھتی "آپ کیوں سنتے ہیں سب کی باتیں ۔۔۔۔؟"
مجھے ملال ہوتا ۔۔۔وہ اتنی دیر تک اس طرح کے لوگوں میں کیوں گھرے رہتے ہیں ۔
"بیٹا ۔۔۔"وہ آہستہ آہستہ مجھے سمجھاتے ۔انکی انگلیوں میں تسبیح کے دانوں کی گر دش رک جاتی ۔۔۔
"وہ لوگ مجھے اپنی الجھنیں پر یشانیاں کچھ دیر کے لئے ہی سہی ۔۔۔دے دیتے ہیں انکا بوجھ چند لمحوں کے لیئے ہی سہی ۔۔۔۔۔کم ہوجاتا ہے ،ان سب کی زندگی کئی امتحانوں سے گزر رہی ہے بیٹی ۔۔۔اگر کچھ دیر کے لئے ہی میں ان کو سکون دے سکوں  تو یہ اللہ کی عنایت ہے مجھ پر ۔۔۔۔"
میں انکے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔تو اک نور کا حالا  انکے چہرے کے آس پاس نظر آرہا تھا ۔۔۔۔اور وہ نور کا حالا دن بدن روشن ہوتا  گیا ۔
اب زندگی انکے بغیر گزار رہی ہوں تب بھی وہ نور کا حالا میرے ارد گرد ہے اور اسی سے زندگی کی ہر جدّوجہد کا سامنا بھی کر رہی ہوں ۔زندگی کے مسائل ۔۔۔حوادث ۔اور جدّوجہد کس کے ساتھ نہیں ہوتے ۔۔وقت کی آندھی سوکھے پتّے کی طرح اڑائے اڑائے پھرتی رہی ۔کبھی پڑھائی کی فکر کبھی نوکری ۔۔اور کبھی اپنی ازواجی زندگی کے اتار چڑھاؤ ۔۔۔یہ کسی ایک کا مسئلہ نہیں عام طور سے سبھی اسی طرح زندگی گزار رہے ہیں ۔
بہر حال میں جس کمپنی میں ہوں وہیں نتا شہ بھی کام کرتی ہے ۔پہلی بار جب مینے اسے دیکھا وہ مجھے اچھّی لگی ۔۔۔ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے ۔۔۔اور دوستی کی ابتدا ہوگئی ۔
دوستی کے لئے تو خیر کوئی جدو جہد نہیں کرنی پڑتی ۔۔۔یہ تو ایک کشش ہے جو آپکو خود بخود کسی ہستی کی طرف مائل کر دیتی ہے ۔۔خیر بات نتا شہ کی ہے ہم آفس میں ایک دوسرے سے ملتے اپنی باتیں اپنی پریشا نیاں بھی شیئر کر نے لگے ۔۔۔
کبھی کافی کبھی لنچ ۔۔ساتھ ہونے لگا ۔مجھے محسوس ہوا کہ آفس کے کافی لوگ اس سے ذیادہ قریب ہیں ۔۔۔وہ ذیادہ خوبصورت تھی سب سے ہنس کر ملتی تھی ۔۔میری طر ح لیئے دیئے نہیں رہتی تھی ۔
یہ شاید جلن کا احساس تھا یا احسا س ِ کمتری ۔۔۔۔میں اس سے دور ہونے لگی ۔میں اس سے بلا وجہ خفا رہنے لگی ۔مگر وہ اسی طرح مخلص مسکرا ہٹیں بکھیرتی میرے کیبن میں آجاتی ۔
کبھی کافی لیکر اور کبھی یونہی ہنستی مسکراتی آکر بیٹھ جاتی ۔
ایک دن میں پھٹ پڑی ۔
"تم اپنے گرد جو میلہ لگائے رکھتی ہو ۔۔مجھے اچھّا نہیں لگتا،تمہاری سیٹ کے پاس مستقل لوگ رہتے ہیں وہ لڑکیاں ہوں یا مرد ۔۔ہر کسی سے ہنس کر بتیں کر تی ہو ۔۔۔ہمارے سماج میں یہ سب اچھّا ہے کیا ۔۔؟  ۔۔بہتر ہوگا کہ ۔۔۔"وہ ہنسنے لگی ۔۔جیسے کوئی بڑا کسی بچّے کی بے تکی بات پر ہنس پڑے ۔۔
"تم کیا سمجھتی ہو۔۔۔۔وہ سب میرے حسن کے قصیدے پڑھنے آتے ہیں ۔۔۔؟وہ جو میرے ارد گرد ہوتے ہیں وہ صرف اپنے مسائل سنانے آجاتے ہیں اور میں صرف انکی باتیں یکسوئی سے سن لیتی ہوں ۔۔۔ورنہ کسکے پاس وقت ہے ؟؟ کہ کسی کی الجھنون کو سنے ؟ مناسب رائے بھی دے دیتی ہوں جو بھی مجھ سے ممکن ہو اس مدد کو بھی تیّار رہتی ہوں ۔۔کچھ دیر کو ہی سہی ۔۔۔انھیں اپنی پریشانیوں دکھوں سے نجات مل جاتی ہے ۔۔۔میری سیٹ کے پاس آکر ہی سہی ۔۔۔"وہ خاموش ہوئی ۔۔۔اور مینے دیکھا ۔۔۔ایک نور کا حالا اسکے چہرے کے چاروں طرف روشن تھا ۔۔۔یہ چمک لحظہ بہ لحظہ بڑھ رہی تھی ۔۔۔
تب مجھے ایک بات سمجھ میں آئی کہ ۔۔۔پکّا  کہیں بھی ہوسکتا ہے ۔۔۔اسکول میں گھر میں ۔۔بر گد کے نیچے یا آفس میں ۔۔۔کہیں بھی ۔۔۔۔۔۔۔!
ختم شد 

Saturday, February 22, 2014

وضع دار
لکھنؤ کے ایک پرانے محّلے میں ہمارے کچھ عزیز رہتے تھے یا رہتے ہیں۔ کیونکہ بقول بشیر بدر
انھیں میری کوئی خبر نہیں مجھے انکا کوئی پتہ نہیں ۔           یہ کا فی پہلے کی بات ہے۔
. اس محّلے میں ایک بہت بڑا  پھا ٹک ہوا کر تا تھا ۔جس کے اوپر   دونوں طرف پتّھر کی بڑی بڑی مچھلیا ں بنی ہوئی تھیں ۔پھا ٹک دونوں طرف نیچے اتنی جگہ بنی ہوئی تھی جیسے کہ چھو ٹے چبو ترے جن پر ہم اور رخسانہ بیٹھ کر گٹّے کھیلتے تھے ۔
پھا ٹک کے اندر سامنے بہت بڑا سا کچّا صحن تھا اور بائیں ہاتھ کی طرف  بہت بڑی صحنچی اور کئی درو ں کے دالان تھے ۔غالباً پہلے یہ کسی نواب کا زنان خانہ رہا ہوگا  اسکی بنا ؤٹ ہی کچھ ایسی تھی ۔اور اس لمبے چوڑے صحن اور صحنچیوں میں پورا محلّہ بسا ہوا تھا ۔۔داہنی جانب ایک راستہ تھا  جس میں دونوں طرف کچھ گھر بنے ہوئے تھے  جو نسبتاً اچھے تھے اور ان گھروں میں متوّسط طبقے کے لوگ رہا کر تے تھے ۔
ان ہی گھرو ں میں ایک گھر عالیہ خالا کا تھا ۔۔۔عالیہ خالا ہماری دور کی رشتہ دار تھیں ۔امّاں کے رشتے کے ما موں یا چچا کی بیٹی ۔۔۔اور اس رشتے سے وہ ہماری خالا ہوئیں ۔۔
ان کا گھر کافی کھلا کھلا سا تھا ۔۔۔خوب بڑا سا  صحن جس میں لال اینٹوں کا فر ش ایک نیچی سی دیوار جس میں داخلی دروازہ ،دوسری طرف دالان اور ایک طرف بڑے بڑے دو کمرے اور باورچی خانہ ۔آنگن کے ایک کونے میں بڑا سا امرود کا پیڑ ،جسپر خوب میٹھے امرود آتے تھے ۔
با ورچی خانے کا فرش سیمنٹ کا بنا ہوا تھا  بے حد چکنا اور صا ف شفّاف ۔وہاں لکڑی کی کئی پیڑھیاں رکھٗی ہوئی تھیں ۔
مجھے آج بھی یاد ہے  کہ مٹّی کے لپے پتے چولھے پر آمنہ خالا  باریک باریک چپا تیاں پکا رہی ہوتیں اور بے تکان  امّا ں سے باتیں کر تیں  ہم دونوں تام چینی کی پھول دار پلیٹوں میں وہیں  پیڑھی پر بیٹھ کر کھا نا کھاتے ۔
ارہر کی اصلی گھی میں بگھری دال اور سفید موتی جیسے چاول ۔۔۔کیا ذایئقہ تھا آمنہ خالا کے ہاتھ میں ۔۔۔اس کے بعد آج تک وہ  ذائقہ نصیب نہ ہوا ۔۔۔
آمنہ خالا اچھی خاصی تندر ست خا تون تھیں  سرخ سفید  رنگ ،ناک کے پاس ایک موٹا سا مّسہ ۔۔بے حد گھنے گھونگر والے بال ،جنہیں وہ ربن میں قید کرتیں اور وہ چہرے پر بکھر بکھر جاتے ۔۔۔
خالو دبلے پتلے اور بے حد مسکین شخصیت تھے وہ اکثر آمنہ خالا سے جڑکیاں کھا یا کرتے مگر خا موش رہتے ۔
اس دن کافی گر می تھی اور لا ئٹ ہمیشہ کی طرح غائب ۔۔۔
رخسانہ اور مٰیں باہر صحن میں کھیل رہے تھے تبھی بڑے زور کی بارش شروع ہوگئی ۔۔۔اس شدید گر می کے بعد بارش خدا کے حسین تحفے کی طرح تھی ہم اس بارش میں خوب بھیگتے رہے ۔۔۔مٹی اور پانی سے کھیل کر ہم دونون بری طرح بھیگ چکے تھے ۔بہت ہی گندے لگ رہے ہونگے جب ہی امّاں بار بار دروازہ کھول کر ہمیں ڈانٹتی رہیں ۔۔مگر کون سنتا ہے ۔۔
شام کا اندھیرا پھیلنے لگا تو دل بری طرح گھبرایا اسی وقت امّاں اور آمنہ خالا گھر سے نکلیں خوب عمدہ کپڑے پہنے ہوئے تھیں شاید وہ کہیں گھومنے جارہی تھیں ۔۔
"ہم بھی جائین گے ۔۔۔"ہم دونوں انکے پیچھے دوڑے ۔۔۔مگر وہ رکشہ میں بیٹھ کر آگے چلی گئیں ۔۔۔ہم بے تہا شہ دوڑ تے رہے  مگر رکشہ اور تیز اور تیز ہوتا گیا ۔۔ہم روتے رہے مگر رکشہ نہیں رکا بس امّاں نے نقاب ہٹا کر ہمیں ڈانٹا
'پہلے کہا کہ نہا کر کپڑے بدل لو ۔۔۔تب نہیں سنا ۔۔۔اب گھر جاؤ واپس ۔۔تمہارے خالو ہیں گھر میں ۔"
رکشہ بہت آگے چلا گیا تو ہم روتے ہوئے گھر لوٹے ۔۔اور بغیر بستر کی چار پائیوں پر لیٹ کر سو گئے ۔
ہم کو زور کا بخار چڑھا تھا ۔کب امّا ں آئیں کب ہمیں اٹھا کر دودھ پلا یا دوا کھلائی ،کچھ یاد نہیں ۔صبح  جاگے تو طبیعت بہتر تھی ۔
ہم لو گوں کو واپس جا نا تھا ۔آمنہ خالا نے دعوت کا  اہتما م کر ڈالا ۔۔۔سارے دن وہ انتظام میں لگی رہیں کئی چیزیں ہمارے ساتھ بھیجنے کے لئے تیّا ر کر تی رہیں نئی نئی فارکیں خرید کر مجھے دیں ۔
رات کے کھانے میں بہت اہتمام کیا ساری دو پہر باورچی خانے میں گزار دی ۔
مو سم نسبتاً بہتر تھا ۔آنگن میں پلنگ بچھے تھے جن پر سفید شفّاف بستر لگے تھے ۔میں اور رخسانہ ایک بستر سے دوسرے پر کود رہے تھے ۔چادر خراب ہونے کی وجہ سے امّاں مستقل ڈانٹ رہی تھیں ۔
آنگن میں بڑی سی ڈائینگ ٹیبل لگا کر کر سیاں لگا دی گئی تھیں ۔سبھی بھائی بہن کرسیوں اور پلنگوں پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے ۔خوب لطیفے سنائے جارہے تھے خوب قہقہے لگ رہے تھے ۔
آج خالو بھی کافی دنوں کے بعد سب کے ساتھ آکر بیٹھے تھے اور امّا ں سے باتیں کر رہے تھے ۔
میں اور رخسانہ بچھڑ نے کے خیال سے گھبرا رہے تھے اور نہ جانے کیا کیا عہدو پیماں کر رہے تھے ۔
عشرت باجی اور رفعت باجی نے کھانا لگا نا شروع کیا تو ہم بھی دوڑ دوڑ کر چمچے اور پلیٹیں لانے لگے ۔
تقریباً سارا کھا نا میز پر لگ چکا تھا ۔آمنہ خالا شاہی ٹکڑے نکال رہی تھیں اور مستقل باتیں کر رہی تھیں ۔تب ہی ایک عجیب واقعہ ہوا ۔
دروازے کی زنجیر کسی نے زور سے کھٹکھٹائی ۔۔افضال بھائی نے آگے  بڑھ کر دروازہ کھولا ۔
ایک صا حب ایکدم سے اندر آگئے ۔لمبا قد گورے چٹّے آدمی تھے عمر میں شاید اقبال بھائی کے برا بر ہی ہونگے ۔یا چند برس بڑے ہوں ۔سفید کر تے پایئجامہ ،اسپر سر مئی رنگ کی کافی قیمتی لیکن میلی سی شیر وانی پہنے ہوئے تھے ۔پیروں میں چمڑے کے بد وضع جوتے تھے جو انکے خوبصورت پیروں سے بالکل میچ نہیں کر رہے تھے ۔
وہ بغیر کسی سے ایک لفظ بھی بولے ہوئے کرسی کھینچ کر بیٹھ گئے اور پلیٹ میں کھا نا نکا لا اور جلدی جلدی کھانے لگے ان کی انگلیاں بے قراری سے کپکپا رہی تھیں ۔
سب لوگ ہکّا بکّا سے کھڑے تھے ۔ان کی شخصیت ایسی تھی  کسی میں بولنے کی ہمّت نہیں تھی کہ ان سے کچھ کہے یا گھر سے نکالے ۔
ایک طرف خالو کھڑے ان کو کھانا کھاتے دیکھ رہے تھے دوسری طرف امّاں مبہوت تھیں انھیں اس وقت پر دے کا بھی خیال نہیں تھا ۔
خالا اپنی دھن میں بولتی ہوئی باورچی خانے سے شاہی ٹکڑے کی قاب لئے چلی آرہی تھیں "اؤی اللہ " کہہ کر وہیں تھم گئیں ۔
کھا نا ختم کر کے ان صا حب نے جگ اپنی طرف کیا اور گلاس میں پانی انڈیلنے لگے ۔اس درمیان انھونے کسی کی طرف نظر نہیں ڈالی ۔
کئی گلا س پانی پی گئے ۔پھر انھوں نے سب کی طرف دیکھا ۔اور خالو کی طرف بڑھ کر انکے قدموں میں بیٹھ گئے ۔خالو گھبرا کر دو قدم پیچھے ہٹے تو انھو نے قدم تھام لئے ۔
اور آنسؤ ں سے بھری آواز میں بولے ۔
آپ چاہیں تو ہمیں سزا دیجئے یا پولیس کے حوالے کر دیجئے ۔یا پھر معاف کر دیجئے ۔۔۔آپ کے سامنے ہیں ،
ہم پانچ دن سے مارے مارے پھر رہے ہیں ،پہلے کچھ بھنے چنے تھے پھر وہ بھی ختم ہوگئے بھوک سے ہمارا برا حال تھا ۔
گدا گری ہمارا پیشہ نہیں اور محنت کرنا ہمیں آتا نہیں ۔۔۔اپنا نام بتا کر اپنے اجداد کی روحوں کو شرمندہ نہیں کر نا چاہتے ،         ہو سکے تو ہماری اس جسا رت کو معاف کر دیجئے ،"
ان کی زبان ان کا لہجہ ان کا انداز ،بے حد  رقت امیز تھا ،،
ہر ایک کی آنکھوں میں آنسو تھے ،امّاں نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ لیا تھا ۔اور چہرہ انسوؤں سے تر تھا ۔
آمنہ خالا کے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔۔خالو نے انھیں شانوں سے تھام کر اٹھایا او کر سی پر بٹھا دیا ۔
ان سے اور کچھ کھانے کی درخواست کی مگر وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور ایکدم ہی باہر نکل گئے ۔۔۔۔اور باہر کے اندھیروں میں گم ہوگئے ۔
سب لوگ چند منٹ تک سنّا ٹے میں گھرے کھڑے رہے ۔کسی کو کھانے کا ہوش نہیں تھا ۔سبھی کے ذہنوں میں معصوم صفت ،غریب لیکن بے حد شریف شخص کے دل پزیر الفاظ  گونج رہے تھے ۔۔۔رات آہستہ آہستہ گزر رہی تھی ۔
آج بھی جب گھر میں دعوت کا اہتمام ہوتا ہے تو میری نظریں اچا نک دروازے کی طرف اٹھ جاتی ہیں ۔۔۔۔۔نہ جانے کیو ں ۔۔۔؟
ختم شد



Thursday, February 13, 2014

نام لیتے ہی آواز بھرّا نے لگتی ہے ،قلم تھر تھرانے لگتا ہے ۔یہ ایک ایسا نام ہے جو ہر لمحہ دل سے لپٹا ہوا ہے ۔اب تو برس نکل گئے پر لگتا ہے ابھی کی بات ہے ۔"سچ بتایئے کیا ہوا ہے "؟؟
"کیا بتاؤں "؟ ایسے ہی گھومتے گھومتے دل بھر گیا تو پل بھر کو اسپتال میں ٹھہر گیا ۔۔لکھنؤ سنجے گاندھی انسٹی ٹیوٹ والے بھیج رہے ہیں دہلی " وہ ادھر فون پر ہنس رہے تھے ۔۔۔       ۔کھو کھلی ہنسی ۔۔۔۔
"صحیع صحیع بتایئے ۔۔۔دہلی کیو ں جارہے ہیں ؟؟؟"
"بس یونہی گھونمے ۔۔۔قطب مینار نہیں دیکھا ہے ابھی تک "وہ میری باتوں کو ایسے ہی اڑا دیا کرتے تھے ۔پھر کچھ دنو ں بعد سنا کہ آپالو میں اڈمیٹ ہیں ۔
فون پر بات بھی ہوئی ۔
"کیا ہو گیا ہے ؟؟؟ کیو ں اسپتال میں ہیں آپ ؟؟"
"یہا ں کے ڈاکٹر بڑے مہر بان ہیں ۔۔اچھا لگتا ہے انکے درمیان رہنا ۔۔۔تم کب آؤگی ملنے ؟؟"
وہ بات کرتے کرتے ہنس رہے تھے یہا ں میری آنکھو ں سے جھڑی لگی تھی ۔
کس قدر ہر دل عزیز تھے ۔۔۔کیرم کھیلتے تو خوب بے ایمانی کرتے اپنی گو ٹیں پار کر دیتے ۔۔۔اور ہم سب چلّا تے رہ جاتے ۔کیرم کے بورڈ پر سجی ہوئی نو گو ٹیں تھے ہم لوگ ۔۔۔وہ تو بہار تھے  گھر کی ۔۔۔۔
چاہے سر دیا ں ہوں یا گر میاں بر سات ہو یا کڑکتی  دھوپ ۔۔۔انکے ساتھ زندگی ہمیشہ سترنگّی رہی ۔۔۔۔
آدھی رات کو اٹھ کر حلوہ کھانے کو دل چاہنے لگتا انکا ۔۔۔۔
چلو اٹھو سب ۔۔حلوہ بناؤ بھکوک لگی ہے ۔
آج میٹھی ٹکیا ں کھا نی ہیں ۔۔۔بھینس کے دودھ کے پتیلے سے ساری بالائی اتار کر پیالہ بھر لیتے ۔۔۔۔اور کسی کو ایک چمچہ نہ کھانے دیتے ۔۔۔بچپن میں تو سب بتاتے ہیں کہ شکّر کے بو رے میں گھس جایا کرتے تھے ۔۔اور بیٹھے شکّر کھا یا کرتے ۔۔۔۔
صبح صبح سبکو اٹھا کر آنگن میں ہی کر کٹ شروع ہو جاتا ۔۔۔
کڑا کے کی سر دی میں لحاف کھینچ کر اٹھا دیتے
"چلو چلو ۔۔۔کھیل شروع ہو گیا ہے ۔۔۔۔"
مجھے لگتا تھا کہ انھیں دیکھے بنا تو سو رج بھی نھیں نکلے گا یکا یک سر سبز و شاداب ہنستا کھیلتا  جسم یو ں اندر سے ایک پرزہ ٹوٹ جانے سے تباہی کی طرف مائل ہوگا   کسی نے سو چا بھی نہ تھا ۔
مگر سو رج تو آج بھی نکلا ہے  دھوپ کڑی ہے ۔
پتہ چلا گر دے خراب ہو گئے ہیں ۔۔سارے بہن بھائی گردہ دینے کے لیئے ٹسٹ کروا رہے ہیں ۔۔۔میچ نہیں مل رہا ۔۔۔
18 برس کا بیٹا سامنے آگیا ۔۔۔
"ڈاکٹر صا حب ۔۔میرا  ٹسٹ کر لیجئے ۔۔۔میرے ابّو کو بچا لیجئے ۔
نرم چہرے پر بیقراری رقم تھی ۔۔۔وہ تو اولاد ہے ۔۔۔یہا ں تو غیر اسپتال کے باہر کھڑے ہیں قطار میں ۔۔۔۔
میں انکے پاس بیٹھی تھی ۔۔آنسو روکنا مشکل تھا ۔۔بے حد کمزور ہوگئے تھے ۔انکی ساری نسیں دکھائی دے رہی تھیں ۔گول طباق سا چہرہ ایکدم پتلا اور کمزور ہوگیا تھا ۔۔۔مگر پھر بھی ہو نٹو ں پر نر م سی مسکرا ہٹ تھی ۔۔بچّو ں کو بھی لے آتیں ۔۔دیکھ لیتا ۔۔"
سبکو پو چھ رہے تھے ۔۔۔اپنی کمزور ذرد انگلیوں سے میرے آنسو پو چھ دیے ۔۔
"ابھی۔۔ تو مت روؤ ۔۔۔۔۔۔"میری آنکھیں سو ج رہی ہیں کچھ ٹھیک سے دکھائی بھی نہیں دے رہا ہے ۔انکا ۔کھا نا پینا کم ہو گیا ۔   ۔پو چھا تو بولے ۔۔
"اپنے حصّے کا کھا چکا ہو ں " ہونٹو ں پر پھر بھی مسکرا ہٹ قائم ۔۔۔مینے پلیٹ میں سر جھکا لیا ۔۔لقمہ حلق میں اٹک رہا ہے ۔۔وہ کیسے تھے کیا تھے لکھونگی تو ورق کے ورق سیاہ کر دونگی ۔۔۔اور پھر بھی بات پوری نہ ہوگی ۔۔ایک عالم تھے ۔۔ ۔۔۔سیکڑوں کتابوں کے مصنّف تھے ۔۔کئی اسکول انکی وجہ سے چلتے تھے ۔۔۔
کیا کیا لکھ سکتی ہوں ؟ ۔۔میں صرف جدائی کا لمحہ رقم کرتی ہوں ۔
وہ وقت بھی بیت گیا اور ابھی ایک فون آیا ہے ۔۔۔۔
سب ختم ہو گیا ۔۔۔۔کچھ نہیں بچا ۔
کیرم کا اسٹایئکر گم ہو گیا ۔۔۔سارے کھیل رک گئے ۔۔یہ کسنے میرے پیروں میں انگارے باند دیئے ہیں ۔۔میرے دل کے قریب آگ سلگ رہی ہے ۔۔۔
میرا پیارا میرا لاڈلا بھائی ۔۔۔میرا ماں جایا ۔۔سب کو ہرا تا ہوا سب سے آگے نکل گیا ہے ۔۔۔۔

مگر مجھے لگتا ہے وہ ہر وقت آس  پاس ہیں ۔۔یہیں کہیں ہیں ۔میرے قریب ہیں ۔
ختم شد 

Sunday, February 9, 2014

بازیچہ اطفال ہے۔

ہل من ناصراً

        "پگلا گئے ہو کا تیواری ۔۔۔۔بھیا صا حب بے چا رے سے کا مطلب ؟ او کونو بات ما دخل نہیں دیت ہیں ۔ای سب کیا دھرا تو چھو ٹے با بو      صا حب کا ہے ،ان ہی کے ایماء پر ای سب جنے شیر ہو ئی گئے ہیں "سکھ رام نے انگو چھا جھاڑ کر کا ندھے پر ڈالا اور مو نڈھا کھینچ کر تیو اری کی کر سی کے پاس لا کر بیٹھ گئے ۔
"ارے بھا ئی  ہیا ں کبّؤ کو نو فرق  نا ہی رکھا گوا ہے ۔۔۔۔کو نو جات برادری ما ۔۔۔۔بھیا صا حب سب کے گھر جات ہیں سب سے ملت ہیں اور تو اور سبکا اپنے گھر بلا وت ہیں ۔ای جھگڑا لپّا  ان کا کام  نا ہے ارے بھا ئی ہمارے بھیا صا حب تو دیوتا ہیں ۔۔۔۔دیوتا "
"مگر یار یہ تو بتاؤ یہ سب ہوا کیسے ۔۔۔۔۔؟ہر سال تعزیے اٹھتے ہیں ہر سال محّر م منا یا جا تا ہے پورا گا ؤں مل جل کر سب کام کر تا ہے پھر آخر ۔۔؟"
"اب تم کا کا بتا ئی ۔۔۔۔۔بھیاّ صا حب کے ابّا جون رہے انکے جما نے سے سب کے تعزیہ  انکے امام با رے ما رکھّے جات رہے ۔۔نو محر م کا سب جنے اپنا اپنا چوک بنائے کے تعزیہ لیجات رہیں مگر دس محرم کا سب جنے ایک ساتھ اٹھاوت رہے ۔۔سب سے آگے بڑے بھیا صاحب کا تعزیہ ،اور اوکے پیچھے چھو ٹے بھیا صا حب اور پھر گا ؤں والن کے ۔۔۔۔۔۔کبھی کو نو بات نہ بھئی  تا جیہ چا ہے چھو ٹا ہو ئے چاہے بڑا  ۔۔۔۔ہے تو امام صا حب کا ؟؟ مگر اب جما نہ تون بدل گوا ہے  گا ؤ ں کے پا سی چمار ۔۔۔نا ئی دھو بی  سب منھ کا آوے لگے ہیں ۔"
"یار میں یہ پو چھ رہا ہو ں کہ انکے آپس کا کیا معا ملہ ہے ۔۔"تیواری نے بات کاٹ کر پو چھا ۔۔۔۔
"دیکھو بھا ئی ہمکا جیادہ تو معلوم نہیں  بڑے بھیّا صا حب اپنے چھو ٹے بھا ئی سے پہلن سے الگ رہت رہیں ۔۔مکد مہ چلت رہا جا یئداد کا ۔۔۔۔سامنے کچھ بات نا ہی لاوت رہیں وجہ دار آدمی رہیں ۔اب او تو گئے مر ۔۔۔۔۔ای لڑ کے لو گ ہیں کھون گرم ہے ۔۔بات بے بات لڑائی جھگڑا ۔۔۔۔
تیو اری ای سب چھو ڑو جاؤ بھیا صا حب سے پو چھو او سب قصہ بتا ئے دیہں ۔۔۔بہت عمدہ آدمی ہیں "
تیواری نیا نیا تھا نے میں تعا ئنات ہو کر آیا تھا ۔اتفاق سے سکھ رام اسکا ما موں ذاد بھائی بھی اسی گاؤ ں میں رہتا تھا ۔تیواری گا ؤں اور یہا ں کی سیا ست سے نا واقف تھا  اسکو سکھ رام سے کافی مدد ملی ۔۔اور محرم میں اچانک گڑ بڑ کا احساس ہو تے ہی اسنے سارے عملے کو چو کس کیا ۔۔۔اور جلوس میں پہو نچ گیا ۔۔۔۔
اس وقت تو بات بن گئی ۔۔۔مگر انگاروں پر راکھ پڑ جائے تب بھی وہ اندر ہی اندر دھکتے رہتے ہیں ،ذرا سی ہو ا چلتی اور نا جانے کتنے گھر        خا کستر ہو جاتے ۔اسی لیئے تیواری گا ؤں کے پرا نے لو گو ں سے ملتا رہا اور سا رے معاملات سمجھنے کی کو شش کر تا رہا ۔
درگا پر شاد گا ؤں کا مکھیا ہو نے کے ساتھ ساتھ اکھا ڑے کا ما سٹر بھی تھا ۔۔۔اسکی دھاک جمی ہو ئی تھی  ۔بھیّا صا حب سے بھی بہت دو ستی تھی مگر بات ہی کچھ ایسی تھی کہ وہ جذباتی ہو گیا ۔
ہوا یہ کہ جب پانچ محّر م کو علم کا پھریرا  کھیت کے کنارے لگے ہوئے ببول کی شاخ میں الجھا  تو کئی جگہ سے مسک گیا ۔۔اور بھیّا صا حب نے اسی وقت ببول کٹوا دیا ۔وہ پیڑ کافی پھیل چکا تھا اور ابھی کئی جلوس نکلنا باقی تھے ۔۔
وہ کھیت درگا پر شاد کا تھا اور اسنے حفاظت کے لیئے ببول لگا رکھّے تھے ۔لیکن اگر اس جگہ وہ ہو تا تو وہ بھی یہی کر تا جو بھیّا صا حب نے کیا ۔
مگر وہ تو تھانہیں اور  چھو ٹے با بو صا حب نے جسطرح یہ واقعہ بیان کیا ،وہ بپھر گیا ۔۔
"بھیا صا حب کی نظر میں ہندو ں کی کو ئی وقعت تو ہے نہیں  ۔۔آج تمہا را ببو ل کٹوا یا ہے  کل با غ کو آگ لگوا دینگے  ۔۔۔ہم تو جانتے ہیں نا انکو َ۔۔۔۔
ارے درگا ۔۔۔کیو ں بز دلی دکھا رہے ہو ۔۔؟ مٹھی بھر مسلمان ہیں اس گا ؤں میں ۔اس علاقے میں تم ہی سب سے زیادہ طا قت ور ہو ۔پوج لو ۔۔۔ دکھا دواپنی طاقت ۔۔۔تا کہ آیئندہ ایسا ویسا کچھ نہ ہو سکے ۔۔۔"
"مگر چھو ٹے با بو صا حب ۔۔۔۔"وہ ہچکچا یا
"دیکھو بھئی ہم تو تمہا ری طرف ہی ہیں  اب تم اپنے آدمیو ں سے بات کرو ۔۔جو منا سب سمجھو وہ کرو ۔۔۔ہمیں کو ئی ضرورت نہیں تمہا رے معا ملات میں دخل دینے کی ۔۔۔تم خود سمجھدار ہو  بھئی ۔۔۔۔
اتنا بڑا تعزیہ رکھتے ہو ۔۔۔پھر بھی پیچھے پیچھے چلنا پڑتا ہے ۔با جے پر پیسہ خرچ کر تے ہو اتنے سا رے لو گو ں کو کھا نا بھی کھلوا تے ہو ۔۔۔پھر بھی ان کے برا بر نہیں ۔۔۔جب چا ہیں تمہا رے پیڑ کٹوا دیں ۔۔۔تمہا رے کھیت اجڑوا دیں یا تمہارا با غ پھنکوا دیں ۔۔۔"
 وہ آگ لگا کر اٹھے اور زنان خانے میں چلے گئے ۔۔
درگا پر شاد  تھو ڑی دیر بیٹھا ان کی سا ری باتو ں پر غور کر تا رہا ۔۔اسکے اندر شعلے بھڑکنے لگے ۔۔۔وہ یہ بھی بھو ل گیا کہ اسکی ماں نے شادی کے سات برس بچّے کی آس میں کاٹ دیے تھے اور پھر نو محرّم کو امام بارگاہ کے سامنے رو روکر اسے مانگا تھا ۔
اور جب وہ گو د میں آیا تو سب سے پہلے وہا ں لیکر آئی تھیں ۔وہ دونوں میا ں بیو ی ساری رات امام بارگاہ کے صحن میں بیٹھے شکر ادا کرتے رہے تھے ۔وہ سب کچھ بھول گیا ۔۔
کتنی بار بھیّا صاحب اسکو اپنے گلے سے لگا چکے تھے ۔۔۔وہ ہندو تھا مگر بھیّا صاحب کے ساتھ بیٹھ کر کھا نا کھا چکا تھا ۔
وہ یہ بھی بھول گیا اسکے پتا جی محرم کے تعزیے کس اہتمام سے اٹھوا یا کرتے تھے ۔
عشرے کے دن سہ پہر تک وہ بھی انکے ساتھ بھوکا پیا سا رہتا تھا ۔۔۔وہ سب بھول گیا ۔نفرت  غالب آ گئی ،سیا ست اپنا کام کر گئی ۔
چھو ٹے با بو تو اپنے ہر کاروں کو سارا کام سمجھا کر نو محرم ہی کو فیض آباد  نکل گئے ۔
وہ صبح بہت اداس تھی ،درگا پر شاد اپنے آدمیو ں سے کئی بار میٹنگ کر چکا تھا ۔۔۔ہتھیار لبا سو ں ۔اور تا زیہ کے نیچے لگی ہو ئی چا در میں چھپائے گئے تھے ۔۔وقتِ ضرورت نکا لے جا سکتے تھے ۔۔
اک سرد سی خا مو شی ہر طرف سنائی دے رہی تھی ۔
گیا رہ بجتے بجتے بھیّا صا حب نے جلو س اٹھوا دیا ۔سب سے پہلے علم امام بارگاہ سے باہر آیا ۔۔۔پھر اور سارے تبرّکات ایک کے بعد ایک اٹھا ئے گئے اور پھر تعزیہ نمو دار ہوا ۔۔۔۔جلو س    کر بلا کی سمت روانہ ہوا ۔۔۔
"آج شبّیر پہ کیا عالمِ تنہائی ہے
ظلم کی چاند پہ زہرا کے گھٹا چھا ئی ہے "
مخصوص مر ثیہ کی آواز نے فضا کو اور سو گوار کیا ۔۔
دوسری طرف درگا پرشاد کے سا رے آدمی تیّا ر تھے ،آج اسکے دل میں عقیدت کا کو ئی جزبہ نہ تھا ۔۔۔اگر تھا تو صرف نفرت اور انتقام کا جزبہ ۔۔۔
اچا نک دروازے کے باہر کو ئی بھا گتا ہو ا آتا دکھائی دیا ۔۔۔سا منے کچّی زمین پر دھو ل اڑ رہی تھی ۔۔۔دھول چھٹی تو درگا پرشاد کی نظر اس بچّے پر پڑی جسکا چہرہ جزبات کی شدّت سے سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔۔وہ را حیل تھا ،بھیا صا حب کا سب سے چھو ٹا بیٹا ۔

"درگا چچا ۔۔۔۔انسے پھو لتی سا نسوں کو سمیٹا۔۔۔اور پھر بو لا ۔۔
"درگا چچا ۔۔۔۔امی جان بتا رہی تھیں کہ آپ لڑائی کر نے جا رہے ہیں ؟ ۔۔۔آپ سب کو مار دینگے ۔۔۔"اسنے کر تے کی آستین سے انکھیں صاف کیں ۔۔
"آپکو پتہ ہے ؟ جب کر بلا کے میدان میں امام حسین (علیہ السلام ) اکیلے رہ گئے تھے ۔۔تو ایک چھو ٹا سا بچّہ انکی مدد کر نے آیا تھا ۔۔۔اور جب اسنے اپنے دو نو ں ہاتھ اٹھائے تو دشمنو ں نے اسکی کلا ئیا ں کاٹ دی تھیں ۔۔۔۔مگر لڑائی بند نہیں ہوئی تھی ۔۔۔مگر آج آپ یہ لڑائی بند کر دیجئے ۔"اسنے اپنے دونو ں چھو ٹے چھو ٹے ہا تھ آگے بڑھائے ۔۔۔اور بو لا ۔۔"لیجئے آپ بھی میر ی کلا یئاں کاٹ دیجے ۔۔۔۔۔مگر لڑائی بند کر دیجے ۔۔۔۔چا چی جی بھی امّی کے ساتھ فر یادی ماتم کر ہی ہیں امام باڑے میں ۔۔۔۔۔"وہ بولتے بولتے تھک کر چپ ہو ا اور منّت بھر ی نگا ہو ں سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔
باہر سے اندر کی طرف آتے ہوئے تیواری نے اسے گود میں لینا چا ہا ۔۔۔جبتک درگا پرشاد نے بڑھ کر پہلے اسکے کالے کر تے کی آستینیں برا بر کیں اور پھر اسے گو د میں لیکر زور سے بو لا ۔۔۔
"چلو ۔۔۔اٹھاؤ جلوس ۔۔۔۔پیچھے رہنا  خبر دار کوئی آگے نہ نکلے ۔۔۔۔"اپنا جزبات سے دہکتا چہرا اور آنسو را حیل کے با لو ں میں چھپا کر وہ خود بھی آگے بڑھ آیا ۔۔۔
باجے والے آگے  پھر ما تم کر تی انجمن  اسکے پیچھے گا ؤ ں کے سارے تعزیے ۔۔۔اور آخیر میں درگا پرشا د آہستہ آہستہ گا ؤ ں سے نکالا اور    کر بلا کی جانب چل پڑا
نہر پر ہمیشہ کی طرح سب ایک ساتھ چلتے ہو ئے پہونچے ۔۔۔
جلوس خیریت سے کر بلا پہونچا ۔۔۔
تعزیے دفن ہوئے ۔۔۔مٹی ہو گئی
شام ہو نے لگی تھی  ایک وحشت ناک سنّا ٹے نے سبکو اپنی گر فت میں لیا ہو اتھا ،
دھول کے بگو لے ادھر ادھر گھوم رہے تھے ،نہر کا پانی اداسی سے بہہ رہا تھا ۔۔۔
لوگ ٹکڑیوں میں واپس جارہے تھے ۔۔۔بھیّا        صا حب نے جاتے جاتے مڑ کر دیکھا ۔۔۔درگا پرشاد سر جھکائے ہوئےمنڈیرپر بیٹھا تھا ۔۔
بھیا صا حب واپس پلٹے اور   اسکے کا ندھے پر ہاتھ رکھّا اور اپنی نرم آواز میں بولے
"چلو درگا ۔۔۔امّاں فا قہ شکنی کے لیئے  انتظار کر تی ہونگی ۔"
ختم شد
"
میلہ۔۔۔۔۔
نمائیش آگئی ۔۔۔۔۔۔۔علی گڑھ میں رہنے والوں کو کسقدر انتظار ہوتا ہے اس آواز کا ۔۔۔اس آواز کا سحر میں کئی بر سوں سے دیکھ رہی ہوں ۔نمائیش نہ ہوئی سچّے خواب ہو گئے ۔۔۔
ایک چھو ٹا سا شہر گنتی کی با زار ۔۔۔نام کے لیئے مال بھی ہیں مگر جو لوگ ان نام نہاد مال میں گئے ہیں وہ اصلیت سے واقف ہیں ۔
یہاں  اگر مسلم یو نیورسٹی نہ ہوتی تو یہ شہر خالی ہاتھ ہوتا ۔
نمائیش کے آجانے سے اس شہر کی رونقیں بڑھ جایا کرتی ہیں ۔۔۔ہر ایک پر امید نظر آتا ہے خا صکر بچّے ۔۔ویسے تو خواہ خاتون ِ خانہ ہوں یا گھر کے بزرگ حضرات سبھی کو نمائیش سے دلچسپی ہوتی ہے ۔کسی کو وہاں آنے والے میرٹھ کے جھنڈا ہوٹل نظیر ہوٹل کے کھانے کا انتظار ہوتا ہے کوئی حلواہ پراٹھا کھانے کے لیئے بےچین ۔۔کپڑوں اور کشمیری شالوں کا شوق رکھنے والی خواتین کئی کئی چکّر لگاتی نظر آتی ہیں وہاں اور وہیں راجستھانی سوٹ کی دوکانوں پر بھی ویسی ہی بھیڑ نظر آتی ہے ۔
کوئی بدایوں کے پیڑے لینے کے لیئے چکّر لگا رہا ہے تو کسی کو وہاں کی نان خطایئاں کھینچ لاتی ہیں ۔۔
قالین پرانا ہو گیا ہو تو بدلنے کے لیئے نمائیش کا انتظار کرتی نظر آتی ہیں تو کوئی وہاں بیڈشیٹ اور لکڑی کے سامان کے لیئے چکّر لگاتا نظر آتا ہے ۔مرادآباد کی جگماگاتی ہوئی دوکانیں تو بس دیکھنے کے لا ئق ہو تی ہیں ۔۔۔آرٹی فیشل جولری کی دوکانیں دور سے چمکتی نظر آتی ہیں ۔اور ان دوکانوں پر لڑ کیو ں اور بچوں کا ہجوم ۔۔۔۔دور سے نظر آتا ہے ۔
بچّے جب ضد پر آتے ہیں تو کوئی تا ویل نہیں سنتے آخر کار مجھے بھی تیّار ہو نا پڑا ،نمائش روانہ ہوئی تو پہلے اے۔ٹی ۔ایم سے اچھّی خا صی رقم بھی نکالنا پڑی ۔اب پہلے والا زمانہ تو رہا نہیں کہ پچاس روپیئے لیکر جاؤ اور دنیا بھر کا سا مان خرید لاؤ ۔
کچھ یاد کر کے آپ ہی آپ مسکرا ہٹ آگئی ۔نمائش کی بھیڑ بھاڑ میں بھی یادوں نے پیچھا نہیں چھو ڑا ۔۔۔ذہن کہیں پیچھے چلا جا رہا تھا ۔۔۔۔اور پیچھے ۔۔۔اور پیچھے ۔۔
اک چھو ٹا سا گا ؤں جہا ں گو متی ندی بہتی ہے ۔۔۔وہیں کنارے ایک پہا ڑی ہے جسپر ستھّن کا میلہ لگتا تھا ۔۔۔ستھّن اس گاؤں کا نام ہے ۔کیا بتا یئں کیسی کیسی یا دیں جڑی ہیں اس میلے سے ۔۔۔جگمگاتی ہوئی روشنیوں کی یادیں ۔۔۔۔کھلکھلاتے ہوئے چہروں کی یادیں میٹھی میٹھی خوشبؤں کی یادیں ۔۔۔بھاگتے دوڑتے قدموں کی ۔۔۔مزار پر جلتی ہوئی اگر بتّی کی خوشبوؤں کی ۔۔۔۔قوالی کی تان میں ایک مسحور کن کیفیت کی یادیں ۔۔۔۔
ستّھن کی اس پہاڑی پر ایک مزار ہے اسی مزار پر ہر برس عرس ہوتا ہے اور زبر دست میلہ لگتا ہے ۔۔۔
تما م دوکانیں بھی اونچی نیچی پہا ڑیوں پر لگتی ہیں ۔۔۔انپر چڑھنے اترنے کا پنا ایک مزا ہے ۔۔اور تب زندگی اتنی تھکی ہوئی نہیں تھی نا ۔۔؟
کیسے مزے سے اڑتے پھرتے تھے ۔
اپنے گھر میں سب سے زیا دہ مجھے میلے کا انتظار رہتا تھا ۔اور جب میلہ لگ جاتا تو پھر جانے کی ضدیں شروع ہو جاتیں ۔۔۔ابّی سمجھاتے بھی "ارے بٹیا ٹھیک طرح سے لگ تو جائے ۔۔پھر بھیج دینگے ۔۔" مگر مجھے تو یہی ڈر رہتا کہ کہیں میرے بغیر گئے میلہ چلا نہ جائے ۔۔۔۔
آخر وہ دن بھی آجاتا جب با با ہمیں میلہ لیکر جاتے ۔۔۔
ہمیں خرچ کر نے کے لیئے پانچ روپیے ملتے تھے ۔صرف پانچ روپے ۔۔۔اور ان سے ہم ڈھیروں چیزیں خرید لیتے تھے ۔کھانے پینے کی چیزیں لینا ہمیں سختی سے منع تھیں ۔
ابّی کا کہنا تھا جو کھانا ہو ہمیں بتا دو ہم کسی معیاری دوکان سے منگوا دینگے ۔میلہ کی دھول میں بکتی چیزیں صحت کے لیئے سخت مضر تھیں ۔
ہم کھلو نے لیتے رنگ برنگے کا غز کے پھول ۔۔چکریا ں پلاسٹک کے ناشتے دان ننھے ننھے چائے کے بر تن ۔چھو ٹی چھو ٹی پلاسٹک کی پیالیا ں جنپر پھول بنے ہوتے ۔مختلف رنگوں کے کلپ ۔۔۔
ہم سب خرید لیتے مگر پیسے ختم نہیں ہوتے تھے ۔
با با مٹھای کی دوکان پر رک جاتے ۔۔۔۔
"کھا ؤگی بٹیا ؟ "
"نہیں ابّی نے منع کیا ہے ۔" میں دوسری طرف دیکھنے لگتی ،،
"ارے انھیں کون بتائے گاَ؟ تم کھا لو جو جی چاہے ۔۔۔پیسے ہیں ہمارے پاس ۔۔۔" وہ سخی ہوتے ۔
مگر دل نہ مانتا ۔۔۔بس غصّہ اس بات پر آتا کہ یہ مٹھا یئوں کی دوکانیں اتنی سجا کر کیو ں رکھتے ہیں ؟
مزار پر قوّا لیاں سننے کھڑی ہوجاتی ۔۔۔
"سہانی رات تھی اور پر سکوں زمانہ تھا ۔۔۔
اثر میں ڈوبا ہوا جزب ِ عا شقانہ تھا ۔۔۔
ہوس تھی دید کی معراج کا بہا نہ تھا ۔۔۔۔
سرِ لا مکاں سے طلب ہو ئی ،سوئے منتہا وہ چلے نبی ۔۔۔۔۔"
ابتک یہ مصرعے بھو ل نہیں سکی ہوں ۔۔۔
خیالوں کی دنیا سے باہر نکلی بچّے سوفٹی کی دوکان پر تھے ۔۔میرے ہاتھوں میں بھی ایک کون تھا ۔۔۔کچھ دیر دیکھتی رہی ۔۔۔پھر اسے سامنے کھڑے ایک لڑکے کو تھما دیا جو حسرت سے دوکان دیکھ رہا تھا ۔
اوہ چو رن تو رھ گیا ۔۔۔بچّوں کو وہیں مصروف چھو ڑ کر  میں واپس فوّارے والی لائیں کی طرف بھاگی ۔جہاں چورن کی کئی دوکانیں تھیں کیونکہ  سال بھر یہ کہیں نہیں ملتا تھا ۔
آلو بخارہ اور انار دانے کا چورن لیکر واپسی کے لیئے چل پڑی اور پرس میں پیسے دیکھنے چاہے تو سارے پیسے ختم ۔۔۔
ایک کونے میں پانچ روپیے کا سکّہ جھانک رہا تھا ۔مطلب میں آرام سے ستّھن کے میلہ جاسکتی ہوں ؟ مجھے ہنسی آگئی اور چال میں بچپن والی مستی اور بے فکری بھر گئی ۔
ختم شد

Friday, February 7, 2014

صدا یئں پیچھا کرتی ہیں                                                                                     


بابا کی یا د بہت آتی ہے ، جیسا کہ نام سے ہی ظا ہر ہے ہمارے والد کے بڑے بھائی تھے ہمارا سارا بچپن انکے سائے میں گز را  ان ہی کی ہدا ئیتیں سن سن کر ہم بڑ ے ہو ئے  کتنی ساری باتیں ہیں جو اکثر یا د آتی ہیں تو ہو نٹو ں پر مسکرا ہٹ آجاتی. ہے ۔  بابا کا ذ ہنی توا زن صحیع نہیں تھا مگر انکی ذات سے کبھی کسی کو کو ئی تکلیف نہیں پہو نچی بلکہ وہ خو د ہی سب کے آرام کا بیحد خیا ل رکھتے تھے با با کی شخصیت بہت پر اثر تھی جو بھی کبھی ایک بار ان سے مل لیتا وہ کبھی نہیں بھو لتا تھا  اچھا خا صہ لمبا قد سفید بال چھو ٹی سی سفید دا ڑھی جو وہ ہر جمعہ کو صحیع کر واتے تھے ،کپڑے پہنے کا بھی انکا الگ ہی انداز تھا ،لایئن یا چک والی لمبی قمیص اور چو ڑے پا یئچو ں کا پا یئجا مہ ،سر دیو ن میں ایک گھر کی سلی واسکٹ پہنتے تھے جسے وہ  "بنڈی "کہتے تھے اسمیں رو ئی بھری  ہو تی تھی ۔سر پر اون کا بنا ہو ا کیپ رہتا تھا جسے وہ "ٹو پا کہتے تھے ۔با با چہرے سے بیحد معصوم نظر آتے تھے  کیو نکہ انکو دنیا داری با لکل نہیں آتی تھی جو کچھ بھی کہتے یا کر تے تھے وہ سچ ہی ہو تا تھا ۔
صبح صبح  فجرکی نماز پڑھ کر جب وہ مسجد سے گھر آتے تو اپنے دا من میں ہا ر سنگھار کے بہت سارے پھو ل بھر کے لے آتے اور ہمارے سو تے ہو ئے چہرو ں پر ٹھنڈے ٹھنڈے پھو ل بر س جاتے  چا رو ں طر ف خو شبو پھیل جا تی  ،ہم ہڑ بڑا کر اٹھتے تو وہ سر ہا نے اپنی معصوم سی مسکرا ہٹ لیئے کھڑے ہو تے ،
"نما ز پڑھ لیجئے بٹیا " وہ نر می سے کہتے
 ذ ہنی کمزو ری کے با وجو د  وہ ایک نا رمل اور شر یعت کی پا بند زند گی گزا ر رہے تھے ،نما ز رو زے کے لیئے وہ ہم پر کافی سختی بھی کر تے اور خو د بھی کبھی لا پر واہی نہیں کر تے تھے مگر کبھی کسی بات پر غصہ آجاتا تو ایک رکعت نماز کے بعد اللہ میا ں سے بھی خفا ہو جاتے
"جاؤ نہیں پڑھتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہہ کر مصّلہ لپیٹ  کر رکھ دیتے  اور مسجد سے تیز تیز چلتے ہو ئے کچھ بڑ بڑا تے ہو ئے نکل جاتے   ہمیں نہیں پتہ چل سکا کہ وہ نا را ض کیو ں ہو تے تھے لیکن یقیاً کو ئی دعا جو فوراً قبو ل نہ ہو ئی ہو ،اس پر انہیں بہت غصہ آتا تھا ۔
قران کی تلا وت بھی روز پا بندی سے کرتے اور اکثر با تو ں با توں میں آیات کو ڈ کیا کرتے تھے  مگر کبھی بھو ل بھی جایا کرتے اور غلط پڑھتے اور کسی کے صحیع کر دینے پر سخت          نا را ض ہو تے تھے ۔اشتعال جلدی آجاتا تھا شا ئد یہ انکی کمزوری تھی پھر بڑی مشکل سے قا بو میں آتے ۔
اگر کوئی مہما ن آجاتا تو بے انتہا خو ش ہو جاتے ،
"آگئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔" وہ ڈیو ڑھی سے بڑی تیز رفتا ری سے نمو دار ہو تے ۔۔۔
"کون آگئے  با با ؟؟؟؟"ہمیں تجسس ہو تا
"ارے وہی ۔۔۔۔۔۔۔انکے لڑ کے ۔۔۔۔۔۔" نام ذہن سے نکل چکا ہو تا
"کسکے لڑ کے با با ؟؟؟؟" گا ؤں میں اوّل تو یو ں بھی پہو نچ پا تے تھے  سوائے گر میو ں کی چھٹیو ں کے  اور ایسے کو ئی آجائے تو بہت خو شی ہو تی تھی  ۔با با نام بھو ل جاتے مگر ہمیں انکے انداز سے پتہ چل جاتا کہ ضرور پھو پی جان کے بیٹے ہو نگے کیو نکہ با با ان لو گو ں کے آنے سے بیتہا شہ خو ش ہو تے تھے محبّت بھی بہت کر تے تھے اور نا راض بھی جلدی ہو تے ۔خیر اسوقت یا تو اندر انے والا اندر ہی آجاتا یا پھر کو ئی نو کر اطلاع لیکر آتا ۔۔(کیو نکہ ہر ایک تو اندر نہیں بلا یا جاتا تھا نا )



کو ئی مہمان آجائے تو بابا اسے جانے نہیں دیتے تھےزبر دستی روک لیتے اور جب آنے والا دوسرے دن جانے کو تیّا ر ہو تو  خفا ہو جا تے "کہ اتنی جلد ی جانا تھا تو پھر آئے ہی کیو ں "اگر مہمان نہ مانتا تو اسکا سامان چھپا دیتے تھے  ہم سبھی گھر آئے مہمان کا سامان ڈھو نڈ تے پریشا ن ہو تے اور با با کھڑ ے کھڑے مسکر اتے رہتے ،کہتے
" اب جاؤ بیٹا ۔۔۔کیسے جاؤگے ۔۔۔۔"
مہمان کی خا طر کر نا تو ہما ری تہزیب میں شا مل ہے مگر  وہ اس جا رہا نا انداز میں خا طر مدا رات کر تے کہ سب لو گ پریشا ن ہو جاتے ، اگر مہمان نے کھانے سے ہا تھ روک لیا  تو        زبر دستی اسکی پلیٹ بھر دیتے  اور کھانے پر مجبو ر کر تے اور اگر وہ نہ کھائے تو  بر ی طر ح بھڑک جاتے ۔۔
"کیسے نہ کھیہو   " وہ غصہ میں پو ربی بو لنے لگتے   
" چلو کھاؤ چپ چاپ " غصہ میں اپنا کھانا چھو ڑ کر اسکے پیچھے پڑ جاتے ،ابّی سمجھاتے کہ "بڑے بھیّا آپ ا پنا کھانا تو ختم کیجیئے" مگر وہ غصہ میں کسی کی نہیں سنتے تھے ۔
سارے عزیز ،رشتہ دار انکے اس عا دت سے آگاہ تھے اس لیئے پہلے ہی انکو کسی دو سری با ت میں الجھا لیتے اورکوئی ایسا مو ضوع چھیڑ دیتے  کہ انکے ذہن سے
خاطر کا خیال محو     ہو جا تا  اور مہمان اس جا رہا نا خا طر سے بچ جاتا ۔
گر میو ں کی چھٹیوں میں خا ص طو ر پر ہمارے گھر میں رو نق رہتی تھی ،مہما نو ں کی آمد ذ یا دہ رہتی تھی کیونکہ ابّی کو آم کی دعو ت کر نے کا بیحد شو ق تھا ،انکے دوست احباب اور رشتہ داروں کا آنا جانا لگا رہتا تھا ابّی کے اپنے ہا تھ کے لگائے ہو ئے باغ میں بہا ر آجاتی تھی طرح طرح کے آم اپنی بہار دکھاتے تھے کہیں ذ رد آلو مہک رہا ہے تو کہیں لنگڑا نخرے دکھا رہا ہے ،کہیں لکھنئو کا سفیدہ اور کہیں ملیحہ آبادی سفیدہ ،چونسا اور کالا پہا ڑ تو آخر مین آتے تھے مگر تب تک کافی لو گ گھر آجاتے اور بہت رونق ہو جاتی ،پوری آم کی فصل میں کو ئی نہ کو ئی آ تا ہی رہتا تھا ۔
 

ابّی اپنے ہا تھوں سےعمدہ عمدہ  آم کاٹ کر کھلاتے  ،ایک مر تبہ ہمارے یہا ں لکھنئو کے ایک نو اب صا حب تشریف لائے ،بیحد نفیس طبعیت کے مالک تھے پر وقار شخصیت ،جسم بھاری ،عمر کو ئی سا ٹھ پینسٹھ  کے  درمیان رہی ہو گی  بہترین سفید ململ کا کرتا ،پائیجامہ  شیروانی میں ملبو س ،وہ ہمارے دور کے رشتہ دار بھی تھے اور پہلی بار ہمارے گھر آئے تھے ۔
انکے کھانے کا بھی خا ص اہتمام کیا گیا تھا  با ہر کے تخت پر کھا نا لگایا گیا  کھانے کے درمیان تو کو ئی بد مزگی نہیں ہو ئی  لیکن جب آم کی باری آئی اور ابّی اپنے ہا تھوں سے انھیں آم کھلا نے بیٹھے تو ایک قا ش لینے کے بعد انھوں نے 'بس جنا ب" کہا اور اٹھنے لگے ،ہما رے با با کہا ں تک بر داشت کر تے ۔۔بو لے
"چپ چا پ کھا یئے ابھی بہت آم ہیں "نواب صا حب اس طرز ِتخا طب کے کہا ں عا دی تھے ،حیران ہو کر با با کو دیکھا پھر مر وتاً  ایک قا ش اور لے لی ۔اسکے بعد وہ اٹھے تو با با بھی کھڑے ہو گئے  ملا زم لو ٹا سنبھال کر انکا ہا تھ دھلا نے لگا  تو با با نے ڈانٹا ،
"ابھی کیسے ہا تھ دھو رہے ہیں ؟ آم کھا یئے پہلے ۔۔۔۔۔"
وہ پلٹ کر مسکرائے اور با با دیکھا پھر بو لے
" جناب ہما رہ معدہ اس قابل نہیں کہ ۔۔۔۔۔"مگر با با نے بات پو ری نہ ہو نے دی اور ایک آم کی گٹھلی لیکر انکے پا س آگئے " کھا یئے ۔۔۔" وہ گھبرا کر کبھی ابّی کو دیکھتے اور کبھی گٹھلی کو انھو نے زندگی میں ایسی دعوت کبھی نہیں دیکھی تھی ۔۔۔با با انکے پا س آگئے تو وہ بھاگے ۔۔۔با با انکے پیچھے دو ڑے  اب منظر یہ تھا  کہ نواب صا حب آگے آگے اور با با بڑی سی رسیلی گٹھلی لیئے پیچھے پیچھے  ۔ابْی با با کو آوازیں دیتے رھ گئے
"بڑے بھیّا ۔۔۔۔رکئے ۔۔۔سنئے تو ۔۔۔۔" مگر با با کہا ں سنتے تھے وہ ان کو دوڑا رہے تھے ساتھ ہی ساتھ بولتے جا رہے تھے
"چلو ۔۔۔کھائو چپ چاپ ۔۔۔۔کھا ؤ گے کیسے نہیں ۔۔۔۔" نواب صا حب نے اب با قا ئدہ چیخنا چلاّنا  شروع کر دیا تھا ،
"ارے ضیغم صا حب بچا یئے مجھے ۔۔۔۔۔"وہ ابّی کوآوازیں دے رہے تھے ،مگر با با کو پکڑنا آسان نہیں تھا  وہ   اشتعا ل  میں آچکے تھے اور نو اب صا حب کی شا ن میں گستا خی کر تے ہو ئے انکے سفید کر تے کا برا حال کر چکے تھے ۔ابّی نے کسی طر ح انہیں قا بو میں کیا  سمجھا یا مگر وہ سمجھنے کو تیاّر نہین ۔۔۔۔۔نو اب صا حب سے بھی بہت معزرت کی مگر وہ کچھ سنّے کو تیا ر نہیں وہ اسی وقت جا نے کے لیئے بضد تھے مگر نو بجے رات کو تب آدھی رات ہو جاتی تھی سواری کا انتظام کیو نکر ہو تا ۔بہت مشکل سے انہیں سمجھا بجھا کر کپڑے وغیرہ بد لوا ئے گئے اور سلا یا گیا ،مگر وہ صبح ہو تے ہی وا پس چلے گئے اور پھر کبھی نہیں آئے ۔
کچھ عزیز ایسے بے تکّلف تھے جو اکثر آجایا کر تے  انکو گا ؤں کی بیفکر زندگی بیحد پسند تھی ،مگر وہ با با کو پر یشا ن کر دیتے تھے اس لیئے با با کو انکا آنا پسند نہیں تھا، با با خو ش تو بہت ہو تے مگر ان لو گو ں کے زیا دہ رکنے سے گھبرا جاتے تھے ایک ایسے ہی صا حب تھے جو رشتہ دار ہو نے کے ساتھ بھیّا کے بہت گہر ے دوست بھی تھے ،جو اکثر آجایا کر تے کافی دن رہکر جاتے ،اور پھر کچھ دن بعد دوبارہ آتے تو با با کہتے
"پر کا گو ڑ بھو سیلے ٹھاڑ ۔۔۔۔"(جو جا نور ایک بار کسی بھوسے والی جگہ پر بھو سا کھا لیتا ہے ،بار بار وہیں آجاتا ہے )مگر وہ صا حب شر مندہ ہو نے والو ں میں نہیں تھے ہنستے رہے ۔۔۔۔اور با با بھی ہنس دیے ۔
مہا ورے استمعال کر نے کا ان کو بیحد شو ق تھا اور مہاورے کسی بھی زبان کے ہو ں وہ ان میں پو ربی زبا ن فٹ کر دیا کرتے ،مثلاً کو ئی بہت دیر تک ابّی کے پا س بیٹھا رہتا اور اندر ہم کھانے پر انتظا ر کر رہے ہو تے تو با با کو بہت غصہ آتا کہتے
"منھ چڑھی ڈومنی گا وے تال بے تال ،ٹھاکر مو کا مو سی کہین ۔(منھ چڑھے لوگ الٹی سیدھی با تیں کر کے خو ش ہو رہے ہیں کہ ما لک نے ان کو منھ لگا یا )


اگران کو یہ پتہ چلتا کہ کو ئی کسی کی جا ئیداد پر قا بض ہو رہا ہے تو بہت خفا ہو تے کہتے
"جھیگر بیٹھا بنیا کی جیب پر ،گا ئے بجائے سب مو راے ہے "(جھینگر جب بنیا کی جیب پر بیٹھ جاتا ہے تو سمجھتا ہے کہ جتنا بھی اسنے کما یا سب میرا ہے )
جب وہ کسی سے کو ئی کام کہتے تو چا ہتے کہ فو را ً  ہو جائے اگر وہ کو ئی توجیہ پیش کرتا تو کہتے
"نا چے نا جانے انگنوا ٹیڑھ ،کہو ں انگنؤ ٹیڑھ ہو ت ہے نا چے کے گن چا ہی "( نا چ نا جانے آنگن ٹیھڑا کہیں آنگن بھی ٹیڑھا ہو تا ہے ؟ناچنے کا فن آنا چا ہیئے )
انھیں با تو ں سے انھو نے اپنی سو نی زندگی میں رنگ بھر رکھّا تھا ۔باتیں اور بھی بہت ساری ہیں کیا کہو ں اور کیا نہ کہو ں ۔ہم سب سے انھیں بیحد محبْت تھی ،جب ہم چھو ٹے تھے تو ہم سے کہتے کہ کھر پی لیکر لان کی گھاس کاٹو  اور ہم سے نہ ہو تا تو بہت خفا ہو تے تھے کہتے
"سسرال جا کر کیا کرو گی ؟سب کہیں گے کہ کسی نے گھاس کاٹنا    بھی نہیں سکھا یا ؟"
آخر عمر میں کا فی بیمار رہنے لگے تھے ۔اتفاق سے ان دنو ں میں ہی اکیلی تھی ابّی کے ساتھ گھر میں ۔
وہ دن بھی عجیب سا تھا ہر طرف عجیب سا سنّا ٹا سا چھایا  ہو ا تھا،گر میو ں کی گھبرا دینے والی دو پہر تھی وہ ۔میں با با کے لیئے دلیا بنا چکی تھی  اپنے اور ابّی کے لیئے رو ٹیا ں بنا رہی تھی جب با با نے دالان سے آواز دی ،
"بٹیا "
"جی با با "
"سر میں تھو ڑا تیل لگا دیجئے " وہ اپنا کام یو نہی لجا جت سے کہتے تھے ۔
"جی با با ۔۔۔ بس دو رو ٹیا ں رہ گئی ہیں  پکا کر آتی ہو ں "
"اچھا " بس یہ آخری آواز تھی جو مینے سنی ۔۔۔مجھے کیا پتہ تھا ورنہ میں فو راً بھاگ کے آتی ۔
با ورچی خانے سے نکل کر مینے ہا تھ دھوئے اور سر اٹھا کر دالان کی طر ف دیکھا  وہ با لکل سیدھے لیٹے ہو ئے تھے  اور انکا ایک ہا تھ پلنگ سے نیچے لٹک رہا تھا  ،میں گھبرا کر
دو ڑی
" با با ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" مینے کئی آوا زیں دیں پر انھو نے آنکھیں نہیں کھو لیں ۔مینے بیقرا ری سے انکا ہا تھ تھام کر بستر پر رکھنے کی کو شش کی تو اف میر ے اللہ ۔۔۔۔۔ہا تھ با لکل ٹھنڈا تھا ۔ میں بھاگ کر ڈیو ڑ ھی میں گئی  دروا زے کی زنجیر زور زور سے کھٹکھٹا نے لگی ابّی بھاگتے ہو ئے اندر آئے  انھوں نے با با کو دیکھا پھر میر ی طر ف دیکھ کر مجھے اندر جانے کا اشارہ کیا  اور باہر سے کئی لو گو ں کو بلا لائے ۔
 با با کے آ خری سفر کی تیّا ریا ں شروع ہو گئیں ۔
وہ دن اور وہ اندھیری شا م جبکہ سب انھیں لیکر چلے گئے  میں اکیلی پلنگ پر بیٹھی تھی گا ؤن کی عو رتیں آکر جا چکی تھیں  ،تنہا ئی کے وہ لمحات  جب مجھے یا د آتے ہیں تو میرا دل ڈو بنے لگتا ہے اس دن آسمان پر پو را چا ند تھا ،چا ندنی میں چھت پر بنے ہو ئے با با کے کمرے کا عکس  بھو ت کی
طر ح سیا ہ تھا ، لا لٹین بھڑک
بھڑک کر جل رہی تھی ،
جب میں تنہا ہو تی ہو ں وہ شا م میر ے ساتھ چلنے لگتی ہے  تنہا یئا ں بہت ڈرا تی ہیں  ،با با بہت یا د آتے ہیں ۔
ختم شد
 

Sadaf e rayegan

دہلی کا نقشہ اسنے اپنی اسکول کی کتا بوں میں ہی دیکھا تھا ،اور وہ راستہ کب اسکے پیروں تلے گزر گیا اسے پتہ ہی نہیں چلا ۔انکا سفر رات ہوتے ہوتے ختم ہوا ۔
وہ ایک بلند وبالا جگمگاتی ہوئی عمارت کے سامنے کھڑی آنکھیں پٹپٹا رہی تھی ۔اسکے لیئے یہ سب ایک خواب سے ذیادہ کچھ نہ تھا ۔
وہ ایک خوبصورت پانچ ستارہ ہو ٹل تھا جہا ں انھیں اسکے پاسپورٹ بنّے تک قیام کر نا تھا ۔وہ بہت خوش تھی ۔۔۔
مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب رات آئی تو اپنے ساتھ قیا مت لیکر آئی ۔وہ تو ابھی ان باتوں سے واقف بھی نہ تھی ۔۔۔ایک بچّی تھی وہ ۔
رات گزرتی رہی خواب ٹوٹتے رہے ،صبح ہوتے ہوتے  وہ حقیقت کی دنیا میں سو رج کی روشنی سے آنکھیں چرا ئے بیٹھی تھی ۔اسے فطری طور پر گھر کی یاد ستانے لگی ۔
٭ ٭ ٭
کون آرہا ہے امّا ں " اسنے اسکول کا بستہ پھینکا اور پلنگ پر رکھّی ڈلیا سے ایک سیب اٹھا لیا ۔
"ارے رک تو سہی ۔۔۔رکھ دے یہ سیب " امّا ں باورچی خانے سے چلّائی ۔
" کیا اسمیں کچھ ہے ؟ " اسنے گھبرا کر سیب واپس ڈلیا میں رکھ دیا ۔
"نہیں بٹیا ۔۔۔! تیر ے ابّا کے کوئی ملنے والے آرہے ہیں تو تھوڑے سے یہ پھل ۔۔۔۔۔۔"
انھوں نے چینی کا اکلوتا ڈونگا دھو کر ایک طرف رکھّا اور اسکی طرف دیکھ کر بو لیں
" تو نہا دھو لے زرا ۔۔۔۔اپنا عید والا جو ڑا پہن لے ۔۔مہمان آرہے ہیں نا ؟؟"
"عید والا ؟" اسنے حیرت سے امّا ں کی طرف دیکھا کہیں مزاق تو نہیں کر رہی ہیں ۔وہ جو ڑا تو امّاں چھو نے بھی نہیں دیتی تھیں کئی بار اسنے اپنی سہیلی کے گھر جاتے وقت پہنّے کی کو شش کی مگر ہر بار پھٹکار ہی ملی ۔
"اچھا ۔۔۔سلمیٰ سے کہہ آؤں ۔۔۔؟ وہ پھر باہر بھاگی ۔۔
"نہیں رک جا ۔۔۔۔سن تو ۔۔"امّا ں پھر بے چین ہو کر پکاریں ۔
"مگر امّا ں ۔۔۔چائے کا سیٹ تو وہیں سے آیئگا نا ؟
"نہیں آیئگا ۔۔۔۔مینے تیر ے لیئے جو رکھا تھا وہ نکال لیا ہے " وہ سر جھکا کر واپس با ورچی خانے میں چلی گیئں ۔
وہ کچھ حیران حیران سی امّا ں کو دیکھے گئی ۔۔۔
اسکو یاد تھا کہ  بچپن سے ابّا کی قلیل آمدنی اور امّا ں کے صبر سے یہ گھر چل رہا تھا نہ تو امّا ں اپنے لیئے کو ئی                فر ما ئش کر تیں نہ ان دونوں بہنو ں کے لیئے ۔وہ سب کچھ محسوس کر نے لگی تھی مگر اپنی ساری حسرتیں دل میں رکھکر چپ چاپ دال چاول کھا کر سو جاتی ۔
سلمیٰ اور سویرا کی امّی اکثر اسے دو پہر کے کھانے کے لیئے روکتیں مگر اسکی انا کو گوارہ نہ ہوتا ۔
انکے گھر پر پکنے والے سا لن کی خوشبو اسے کبھی کبھی بہت بے چین کر دیتی تھی مگر وہ کوئی نہ کوئی بہانہ کر کے وہا ں سے بھاگ آتی ۔
٭٭٭
ابّا کے دوست آگئے تھے آج اسکے گھر پہ بھی سالن کی بہت اچھی سی خوشبو آرہی تھی ۔کھیر بھی ایک عر صے کے بعد امّا ں نے پکائی تھی مگر نہ جانے کیوں امّا ں کی آنکھیں سرخ تھیں ۔۔۔شاید دھویں سے َ؟
جی بھر کے سالن روٹی کھا ئی اسنے ۔۔۔ایک پیالہ کھیر بھی امّاں نے اسکا پیالہ دوبارہ بھر نا چا ہا تو اسنے منع کردیا ۔۔۔۔کتنا کھا سکتی تھی وہ ؟
اسکی طلبی ہوگئی ۔۔۔کمرے میں ابّا نہیں تھے وہ جاکر خاموشی سے بیٹھ گئی ۔
"کیا نام ہے تہما را ؟انھوں نے اسے گھورتے ہوئے مسکرا کر پوچھا ۔
"انیسہ ۔۔۔"اسنے چائے کا کپ انکی طرف بڑھایا ۔
"بہت اچھا نام ہے ۔۔۔" پیالی تھما تے ہوئے  اسکی انگلیاں انکی مو ٹی بھدّی انگلیو ں سے الجھ گئیں ۔اسنے کچھ شر مندہ ہو کر کچھ گھبرا کر اپنا ہاتھ کھینچا ۔
ہنھ ۔۔۔۔اچھا نام ہے ۔۔۔بالکل اچھا نہیں اسنے کڑھ کر سوچا ۔نازش ،سلمیٰ سویرا ۔۔۔۔یہ ہوتے ہیں اچھّے نا م ۔۔۔میرا نام تو کتنا پرا نا پرا نا سا ہے ۔
'آپ کہا ں رہتے ہیں ۔۔۔" اسنے یونہی بے تکا سا سوال کیا ۔
وہ مسکرائے پیالی ہاتھ سے رکھّی ۔۔۔
"دبئی میں ۔۔۔" تب ہی اسے دوسرا سوال سوجھ گیا ۔۔۔
"میں گڑ یاں بنا نا سیکھ تی ہو ں دکھا ؤں آپکو ۔۔۔۔؟ "
" ہا ں دکھا ؤ ۔۔'انھوں نے اسے بغور سر سے پاؤں تک دیکھا ،
وہ تو بھاگنے کا بہا نہ ڈھونڈ رہی تھی  جھٹ پٹ بھا گی ۔۔
٭٭٭٭٭
"امّا ں کون ہیں یہ ؟ عجیب طرح سے دیکھ رہے ہیں ۔۔۔میں نہیں بیٹھو نگی وہا ں ۔۔۔"وہ امّا ں سے سٹ کر وہیں بیٹھ گئی ۔
انھوں نے اسے ایکدم لپٹا لیا ۔۔"بیٹی اچھّے آدمی ہیں ۔۔مسلمان ہیں اور تیرے ابّا کو کام بھی دلوا رہے ہیں دوبئی میں ۔۔۔" پیار سے اسکے بال سنوارے پھر بولیں ۔
" عامرہ اچھّے اسکول جانے لگے گی ۔۔تیرے لیئے بھی کل جاکر اچھے سوٹ لیکر آؤنگی ۔۔۔یہ سب انھو ں نے کیا ہے ۔۔   ۔بر ے آدمی نہین ہیں بیٹا ۔۔ہر آدمی کا اپنا مزاج ہو تا ہے نا ؟
تو تو میر بڑی سمجھدار بیٹی ہے ۔پھل کھائے گی ؟ لے لے " انھوں نے کئی پھل اسکے سامنے رکھ دیئے انکی آنکھیں جھلملا رہی تھیں ۔
" ہا ں ہا ں ٹھیک ہے پر تم رونے کیو ں لگیں امّاں ؟"
"ارے کچھ نہیں یہ بس یہا ں دھواں ہو رہا ہے نا ۔۔۔"
آج گھر میں سلمیٰ کے گھر جیسی خوشبو آرہی تھی ۔۔اچھّے    کھا نوں کی خوشبو ،پھلوں کی خوشبو ۔۔اچھّے دنوں کی خوشبو ۔
٭٭٭٭
شام کو چند لوگوں کی موجود گی میں اس تیرا برس کی بچّی کا نکاح ساٹھ برس کے عبدل مجید کے ساتھ ہو گیا ۔اور شام ہی کو وہ لوگ دہلی کے لئے روانہ ہوگئے ۔چلتے وقت جب امّا ن اسکی ضرورت کی چیزیں ایک سوٹکیس میں رکھ رہی تھیں تو وہ اپنے جمع کیئے ہوئے وہ موتی لینے دوڑی جو وہ اکثر ٹو ٹے ہوئے ہار اور بندوں سے جمع کیا کر تی تھی ۔ ایک چھو ٹا سا ڈبہ جسکا ڈھکن ٹھیک سے بند بھی نہیں ہوتا تھا ۔۔۔۔اسنے جلد سے اٹھا نا چا ہا ۔۔۔ڈبّہ کھل گیا اور سارے مو تی ۔۔۔فرش پر بکھر گئے ۔۔۔۔ابّا اسے پکار رہے تھے ۔۔۔وہ حسرت سے ان گرے ہوئے مو تیوں کو دیکھتی ہوئی آکر باہر کھڑی ٹیکسی میں بیٹھ گئی ۔ وہ راستہ کب اسکے پیروں تلے گزر گیا  اسے پتہ ہی نہیں چلا ۔۔۔
اوررات میں نجانے کون ساوقت تھا جب ساٹھ بر س کے عبدل مجید اس پر چھا گئے اور اسکی چیخیں نکل نے لگیں ۔۔۔۔نہ جانے کب تک وہ بے ہوشی کے سمندر میں تیر تی رہی اور کب ہوش میں آئی ۔یہ سب کچھ اسکی نازک ذہنیت کے لیئے ایک           کر بناک عذاب تھا ۔ہو ٹل کے سامنے اس لٹی پٹی حالت میں جب شا زیہ نے اسے دیکھا تو چونک گئی ۔۔۔اس چھو ٹے سے اسکول کی یہ ذہین بچّی اب بھی کہیں اسکی یاد داشت میں تھی ۔اسکول کی نوکری چھو ڑ کر اسنے اب ایک این جی او کا کام سنبھالا تھا ۔
"کیا بات ہے بے بی ۔۔۔؟وہ قریب آگئی اور انیسہ کو خبر بھی نہ ہوئی وہ دل ہی دل میں اماں اور ابّا سے فر یاد کرتی رہی ۔
"ہیلو ۔۔۔۔"شازیہ اسکے پاس ہی سیڑھیوں پر بیٹھ گئی اسنے           چو نک کر دیکھا ۔
"ڈر کیو ں گئیں ؟ مجھے پہچانا نہیں ؟ میں تمہاری شازیہ میم ۔۔۔بھول گئیں ؟"وہ بے یقینی سے اسے دیکھتی رہی ۔۔۔
"انکل نہیں آئے تمھارے َ۔۔؟
"وہ انکل نہیں ہیں ۔۔۔۔۔"اسکے ہونٹوں سے چیخ کی صورت میں نکلا ۔۔۔
"کون ہیں پھر َ؟؟؟"
"پتہ نہیں کون ہیں ۔۔۔مجھے بچا لیجئے میم ۔۔وہ مار ڈالینگے مجھے ۔۔'اسکے آنسوؤں میں روانی آگئی ۔
شازیہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی ۔اسنے بے  اختار انیسہ کو گلے سے لگا لیا ۔
"اچھا تم رؤ نہیں ۔۔ڈرو نہیں بتا ؤ مجھے تم یہا ن کیسے آگئیں "
پانی پیکر اسکے حواس بجا ہوئے تو اسنے جو بتا سکی وہ شازیہ کے گوش گزار کیا ۔
"میم وہ بہت خراب ہیں ۔۔۔گندے آدمی ہیں ۔۔مجھے نہیں رہنا انکے پاس انھوں نے بہت برا کیا میرے ساتھ "وہ شازیہ سے لپٹی جا رہی تھی ۔
"اچھا سنو سب ٹھیک ہو جائے گا تم گھبرا ؤ مت مین کو شش کر تی ہوں " وہ اسے گلے سے لگائے سو چتی رہی ۔اسکا واحد حل یہی تھا کہ پولیس میں شکایت کی جائے بچّی بہت چھو ٹی تھی ۔کیس کا فی مضبوط تھا ۔بس تھو ڑا وقت چاہیئے تھا ۔۔۔وہ اسے اپنے کمرے میں سلا کر باہر آگئی ۔کئی لو گو ں سے فون پر بات کرتی رہی ۔کا میا بی کی  کا فی امید تھی ۔
دوپہر تک  گہری نیند لیکر وہ اٹھی تو ایک برے خواب کی طرح اسے ساری باتیں یاد آگئیں ۔
اسے شا زیہ میم پر پورا بھروسہ تھا وہ کمرے میں لیٹے لیٹے اپنے کو آذاد تصور کر تی رہی ۔۔۔
اچا نک اسکے ننھے سے ذہن میں ایک بجلی سی کوندھ گئی ۔ابّو کو دبئی میں نوکری نہیں ملے گی ،عامرہ کا اچھے اسکول میں داخلہ نہیں ہوگا ۔۔۔گھر میں سالن نہیں پکّے گا ۔۔
اور جو کوئی دوسرے "انکل " آئے اور انکے ساتھ پھر آنا پڑا تو ؟؟
وہ شازیہ کے بستر سے اٹھی اور آہستہ آہستہ چلتی ہوئی باہر آگئی ۔۔۔سامنے اسکا کمرے کا دروازہ کھلا تھا ۔عبدل مجید حیران سے ادھر ادھر دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔اسے ایکھ کر جلدی سے اسکے قریب آگئے ۔
"کہاں چلی گئیں تھیں ؟؟؟ انھوں نے نر می سے اسکا ہاتھ تھام لیا۔اور وہ انکے ساتھ کمرے میں آئی اور دروازہ بند کر دیا ۔
ختم شد
صد ف ِ رائیگا ں




ریت کا ماضی
ہمیشہ کی طرح آج پھر امّاں اپنی رام راج کی باتوں میں مشغول تھیں اور آج بھی ہمیشہ کی طرح دل برداشتہ نظر آرہی تھیں۔ کئی بار انھوں نے یا دوں کی بو چھار میں بھیگ بھیگ کر اپنی حو یلی کے بلند دالانوں اور طویل کمروں کی باتیں دہرایں کئی بار  جب اپنی زاتی ملازمہ کو یاد کیا جسنے انھیں اپنی ہتھیلی کا چھالا بنا کر رکھا تھا اور امّاں جب بولنے پر آتیں تو بولے ہی جاتیں وہ ہندوستان میں تھیں تو انھوں نے کیا کیا آرام کیےء کتنی بیفکر زندگی گزاری اور پھر یہ پاکستان کا محض چار کمروں کا گھرجہاں سانس لینے میں بھی دم گھٹتا تھا انکا۔ اخترمیاں سر جھکائے انکی باتیں سنتے رہے انہیں کبھی کبھی ایسا لگتا کہ جیسےوہ خود ہندوستان کی اس عظیم الشان حو یلی میں پہنچ گئے ہیں اپنے نانا کے پاس مسند پر گائو تکیہ لگائے بیتھے ہیں، سامنے ملازم نے حققہ تازہ کر کے رکھ دیا ہے اور وہ قصبہ کے غریبوں کی کتھا سن رہے ہیں ان کا تصفیہ کروا رہے ہیں -اور پھر خوا ب ٹوٹ جاتا، وہ نانا کی شاندارحویلی سے واپاس اپنے کراچی کے گنجان علاقے میں پہنچ جاتے جہان انکا چا ر کمروں کا ایک چھوٹآ سا مکان تھا۔
 امّاں کہتی تھیں اختر میاں کے ابّا بے چارے کو ہندوستان کی اتنی بڑی جاگیر کے عیوض بس یہ چھوٹا سا مکا ن ہی ملا اور وہ اللہ کا شکر کر کے بیتھ گئے یہ نہیں کہ کو شش کرتے لو گوں نے کیسے کیسے مکانات ہتھیا لیئے کیسی کیسی حویلیاں الاٹ کروا لیں مگر وہ بہت سیدھے سا دے تھے نا؟ اختر میاں تو اس وقت صرف 2 برس کے تھے انھین کیا ملوم کہ ان کے خاندان والوں نے کیا کیا عزاب سہے کیسی کیسی مصیبتیں اٹھائیں تب جا کے سر چھپانے کو یہ آسرا ملا مگر ان کو افسوس ضرور ہوتا کہ کاش ابّا بھی کوئی حویلی یا بنگلے کے لیئے کوشش کر تے امّاں کے دکھڑے تو ختم ہوتے۔
 خیر اللہ کی مرضی وہ تو ہر طرح خوش رہنے والوں میں تھے، ان سے جو ہو پاتا وہ امّا ں کی خدمت کرتے حتّی المقدور ان کی خواہشات پوری کرتے مگر امّاں ہر آنے جانے والے کے سامنے اپنی حویلی کا احوال اور اپنا اقتدار جتانا نا بھولتیں۔ اختر میاں اور ان کی معصوم سی بیوی ثریّا کو کبھی کبھی بہت کوفت کا سامنا کرنا پڑتا کہ اب امّا ں بھول کیوں نہیں جاتیں جو بیت گیا سو بات گئی اب گزرے ہوئے وقت کے لیے اپنا اور بہو بیٹے کا دل کیوں جلاتی ہیں انھیں صبر کیوں نھیں اتا۔ یہا بھی تو اپنا گھر ہے، چاہنے والا بیٹا، خیال رکھنے والی بہو ہے دونوں پوتے پوتی بھی ہر وقت انسے لپٹے رہتے پھر بھی۔۔۔ محلّے میں بہت عزّت تھی، سارے ہی لوگ دکھ سکھ کے ساتھی تھے پھر کیوں سب کو پرانی داستان سنا کر اداس ہوتی ہیں،  ہمدردیاں سمیٹتی ہیں اور اختر میاں اور ثریّا کی دکھتی رگ کو چھیڑتی ہیں۔۔۔ مگر ینسے کون کہتا  -
اختر میاں تو امّاں کے دیوانے تھے، ثریّا بھی بس گھٹ کر رہ جاتیں -زندگی ایسے ہی گزر رہی تھی اچانک اختر میاں کو ہندوستان جانے کا موقع مل جاتا ہے انکے کسی بہت عزیزدوست کے بیٹے کی شادی تھی وہ پیچھے پڑ گیاکہ چلنا ہی پڑےگا اوراخترمیاں کی دلی مراد پوری ہوئی وہ اس دن بھت خوش گھر ائے اور امّاں سے لپٹ گئے۔۔
 "امّا ں میں ہندوستان جا رہا ہوں۔ اب میں اپنے پرانے گھر ضرور جاوںگا سب سے ملوںگا سب کتنے خوش ہونگے۔ امّاں میں بھی بہت خوش ہوں۔۔۔۔۔ آپ بھی خوش ہیں نا ؟"
 اور امّا ں ہکّا بکّا سی ان کی شکل دیکھے گئیں پھر بڑی مشکل سے کھنکھار کے بولیں۔۔
 "ائے ہئے اب وہاں کیا دھرا ہے آدھے پکستان آگئے آدھے مر کھپ گئے اب وہاں کون ہے جس کے پا س جاو گے ہاں میر ی چھوٹی بہن، ارے تیری مہرو خالا، جو لکھنئو میں رہتی ہے اسکے پاس جا یئو اور کچھ سامان بہی دونگی وہ بھی مہرو کو پنہوچا دیجیو۔ دہلی میں شادی ہے تو بس جلدی واپس آئیو یہاں میری صحت خراب، ثریّا اکیلی ۔۔۔" وہ پلّو سے انکھیں پو چھنے لگیں۔
 "ارے امّاں اب پہلی بار جا رہے ہیں تو کچھ گھومیں گے پھریں گے۔ آپ یہاں کی فکر مت کیجئے میں امین بھائی سے کہ جاوںگا وہ خیال رکھیںگے"۔
 آختر میاں سدھارے تو پہلی بار گھر میں تنہا یئوں نے ڈیرا ڈالا دونوں بچّے صبح اسکول چلے جاتے ثریّا اپنے کا موں میں مصروٖ ف ہوجاتی امّاں کو نا جانے کیا ہوگیا تھا وہ لیٹی رہتیں ثریّا کئی بار انھیں آوازیں دیتی باتیں کرنے کی کوشش کر تی مگر وہ خاموش لیٹی نا جا نے کیا سوچا کر تیں۔ اماّں کی طبیعت دیکھکر ثریا پریشان ہوگئی وہ کھانا بھی برائے نام ہی کھاتیں ثریّا سو چتی انھیں کچھ ہو گیا تو وہ اختر کو کیا جواب دیگی –
 دہلی پہنچکر اختر میاں نے اپنی خیریت بتا دی تھی اور پھر وہ لکھنئو کے لئے روانا ہو گئے۔ مہرو خالا سے ملکر انھیں بھت اچّھا لگا وہ بھت دیر تک انھیں گلے سے لگائے رو تی رہیں ان کے آنسو بھی بلکل امّا ں کی طرح تھے کئی دن اخترمیاں وہاں رہے پھر انھوں نے اپنے وطن مرادآباد جانے کی ٹھان لی اور نکل پڑے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حدّ نگاہ تک سبزہ بکھرا تھا سرسوں کے پیلے پیلے پھولوں سے کھیت سجے ہوئے تھے۔ وہ ٹیکسی میں بیٹھے خواب دیکھتے رہے۔ انکے پہونچنے پرگھر میں کیا ہنگا مہ ہوجائے گا، سب کتنے خوش ہونگے، اور نا جانے کیا کیا جس محلّے کا نام آماں بتاتی تھین وہاں پہونچتے پہنچتے شام اتر آئی تھی وہاں پر بنے ہوئے تمام گھروں میں افلاس کی چادر تنی تھی ۔ مطلوبہ گھر کا دروازہ چوپٹ کھلا تھا اور اس پر ایک میلا کچیلا سا پردا پھڑپھڑا رہا تھا ۔انھوں نے سرا سیمہ ہوکر دروازہ بجایا تو ایک کرخت اواز سنائی دی ۔۔
"کون ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟"
 "میں ہوں اختر۔۔۔۔پاکستان سے آیا ہوں" ۔
اندرکچھ کھٹ پٹ ہوئی پھر ایک کمزور سے وجودنے باہر جھانکا اس آدمی کے جسم پر ایک میلی بنیان اور پھٹی سی تہمد تھی اس نے انکھوں پر انگلیوں کا چھجّا سا بنا کر باہر دیکھا اور دانٹ کر پوچھا۔۔۔
 "کون اختر؟؟؟"
" جی میں پا کستان سے آیا ہوں، عطیہ بیگم کا بیٹا" ۔۔
تب وہ صاحب باہر آئے اور انھیں اندر آنے کی جگہ دی۔۔۔
"عطیہ کے بیٹے ہو ؟"
تھوڑا جھجھک کر انھونے گلے لگالیا کھپریل کے ٹوٹے پھوٹے گھر میں دو بو سیدہ چارپایئوں کے سوا کچھ نہ تھا
"بیٹھو میا ں۔۔۔۔"
وہ دھم سے چار پائی پر بیٹھ گئے
"کیسی ہے عطیہ ؟؟"
"آپ۔۔۔ میرا مطلب آپ امّی کے کون ہیں ؟؟"اختر میاں نے ڈرتے ڈرتے پو چھا ۔
"بتایا نہیں تمہاری امّاں نے ؟؟ میں ان کا چچا زاد بھا ئی شاکر ہوں تمہارا ما موں۔۔۔ کیسی ہے عطیہ؟؟"
"جی ٹھیک ہیں بس ۔۔۔آپ سب کو یاد کرتی ہیں ۔۔"
"ارے یہاں یاد کرنے والی کیا بات ہے! اللہ کا شکر ہے عیش سے رہ رہی ہے، یہاں کیا تھا جو وہ یا د کرنے کوچھوڑ گئی ۔۔"
ان کی آواز میں ٹوٹے کانچ کی چبھن تھی ۔
"پھر بھی سب لوگ۔۔۔۔ ابّا کی حویلی ؟؟" اختر میاں اٹک اٹک کر بولے۔
"حویلی ؟؟؟۔۔۔ کون سی حویلی۔۔۔ کسکی حویلی؟۔۔۔ میاں ہم پشتینی قلعئی گر ہیں، ہما رے سر پر جو چھت ہے وہ غنیمت ہے۔ اب تو کوئی قلعی بھی نھی کرواتا، ایسے ایسے برتن آگئے ہیں بازار میں کہ قلعی کی ضرورت ہی نہیں پڑتی -عطیہ کے ابّا تو بہت غریبی میں مرے ۔۔کوئی پوچھنے والا نہ تھا ہم ہی کبھی روٹی پانی دیتے تھے اور اسکے سسر تو غدر میں ہی مارے گئے۔ کون پوچھنے والا تھا۔ وہ بھی یہی کام کرتے تھے انکا تو چھپر بھی نھیں بچا۔ اب آج کل ہماری امّاں پڑی ہیں۔ جاوء سلام کر آو تمہاری تو نانی ہوئیں ۔۔"
میلی سی گٹھری میں حرکت ہوئی
 "کوں ہےشاکر؟؟۔۔۔
 گھر کے ایک ایک زرّے سے غربت ٹپک رہی تھی۔ ہر طرف افلاس اور بیچارگی تڑپ رہی تھی۔
 "ماموں ایک گلاس پانی ملےگا ؟"
"ہاں ابھی لو" ۔۔انھونے المونیم کے گندے پچکے سے گلاس میں گھڑے سے پا نی انڈیل کر میری طرف بڑاھا یا۔
 ''۔۔اچھا اب اجازت دیجے ۔۔اختر میاں کھڑے ہوگیے" ٹیکسی کھڑی ہے" ۔۔
"گاڑی سے آئے ہؤ؟؟؟"
 ماموں بےاختیآر باہر نکل آئے ۔۔اختر میاں ان کو سلام کرکے ٹیکسی میں بیٹھ گئے ۔
"مگر صا حب آپ تو ٹھہرنے والے تھے؟" ٹیکسی ڈرایئور نے دل دکھانے والا سوال کر ہی دیا ۔۔
"جن صا حب سے ملنا تھا وہ نہیں ملے چلو واپس" ۔۔۔۔۔
 جس وقت اختر میاں واپس پاکستان پہونچے سورج ڈوب رہا تھا، اک اداسی سی چھائی ہوئی تھی مگر ان کے گھر آنے سے ایک دم چہل پہل سی ہو گئی بچّے دوڑ کر لپٹ گئے۔ امّاں خا موش خاموش سی انھیں دیکھے گئیں، ان کے چہرے پر ایک ہی سوال تھا۔۔۔
 "کیا تم وہاں گئے تھے ؟؟۔۔۔ کیا تم ؟؟۔۔۔۔"
 اور تبھی اختر میاں آکر ان سے لپٹ گئے ۔۔۔۔
"کیسی ہیں آمّاں آپ؟؟۔۔ارے میرے پیچھے تو آپ دبلی ہو گئی امّا ں۔ میں تو اپنے کا موں میں اتنا مصروف ہو گیا کہ مرادآباد جا ہی نہی سکا۔ ہاں مہروخالہ نے یہ سامان بھیجا ہے وہ بہت یا دکرتی ہیں آپ کو ۔"

امّاں نے ایک گہری سی اطمینان کی سانس لی اور اٹھکر مہرو خالا کا بھیجا ہوا سامان کھولنے لگیں ۔ 

Wednesday, February 5, 2014

روٹی کپڑا اور مکان
بھورا کھر دھرا میلا کچیلا کمبل اسکو کاٹنے لگا تھا ۔
مگر پھر بھی اسنے اسے چا روں طرف لپیٹ لیا ۔ہٹ جانے پر مچھّر بری طر ھ بھنبھو ڑ نے لگتے تھے ننید نہ پوری ہونے سے اسے چکّر آتے اور پھر رات کی ڈیو ٹی سے ہا تھ ٹو ٹنے لگتے ،پیروں میں جان نہیں رہتی ۔اس لیئے وہ چا ہتا تھا کہ کسی طرح ننید کو ان مچھّرو ں سے بچا لے ۔وہ بار بار اپنا کمبل پیروں پر برا بر کرتا اور اسکے پھٹے ہوئے حصّے سے پھر مچھّر اندر آنے لگتے ۔ایک عجیب سی بے بسی اسپر طاری ہوئی ۔۔اور تبھی اک خیا ل اچا نک اسے چھو گیا ۔
کل اسکی قید کا آخری دن ہے اور پھر آذا دی ۔۔۔۔۔نہ جان تو ڑ محنت نہ مچھّر نہ بھوک ۔۔نہ ننید کا غم ۔۔
آہ ۔۔۔۔۔اسنے کراہ کر کر وٹ بدلی ۔آخر ننید آکیو ں نہیں جاتی ؟
وہ کمبل جھٹک کر بیٹھ گیا ۔
کل سے یہ سب ختم ۔۔۔یہ تکلیف دہ راتیں اور دن ۔بیکار کی جھڑکیا ں ۔۔ڈانٹ پھٹکار ۔۔۔۔سب کچھ ختم ۔۔۔۔۔
وہ اٹھ کر ٹہلنے لگا ۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭رات کا آخری پہر سست روی سے گزر رہا تھا ۔سا رے قیدی ننید میں ڈوبے ہوئے تھے اپنی اپنی تکلیفوں سے آذاد سبھی ننید کے مزے لوٹ رہے تھے ۔۔۔اک وہی تھا جس کا دل بے چین تھا جسے کسی صورت قرار نہ تھا اسکے سامنے وہ سارے دن اپنی تقدیر کی سیا ہیا ں لیئے کھڑے تھے جھنہیں چھو ڑ کر وہ یہا ں آیا تھا ۔
دن بھر کام کی تلا ش میں بھٹکنا ،شا م ڈھلے خالی ہاتھ واپس گھر آنا ،بیوی کی جھنجھلا ہٹ۔۔۔۔بچوں کی رحم کی بھیک مانگتی آنکھیں ۔۔۔۔
پھیلے ہاتھ ۔۔۔۔ٹھنڈا چو لھا ۔
اف ۔۔کہا ں تک ۔۔؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
چھو ٹی چھوٹی چو ریا ں کر نے سے بھی حالات کچھ نہ بدلے ۔
کچھ نہ ملا ۔۔۔۔اور ملی بھی تو یہ جیل ۔۔وہ بھی جب ایک سیٹھ کی جیب کا ٹتے وقت اسکے چیخنے چلّا نے سے پو لیس آگئی اور وہ رنگے ہاتھ پکڑا گیا ۔
مار بھی خوب پڑی اور جیل بھی ہوئی تین ماہ کی ۔
ایک ماہ بعد جب جگّو جیل میں آیا جو اسکا جگری دوست اور ماسٹر بھی تھا ۔اسی نے اس کام میں ماہر کیا تھا ،اسنے بتا یا کہ اسکی بیوی کو اسکا بھائی آکر لے گیا ۔بچّے اب ماموں کے پاس چین سے ہیں ۔
گھر پر مکان مالک کا قبضہ ہو گیا ہے ۔
اب کیا بچا ؟؟؟؟کچھ بھی نہیں ۔بس وہ اور اسکی حسرتیں ۔۔گھر میں سکون اور آسودگی سے  رہنے کا ایک خواب ۔
اور اب جیل سے چھّٹی ہو رہی تھی ۔تو کہا ں جانا ہے ؟ روٹی کے لیئے ترسنا ۔۔۔کام نہ ملنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سب کی جھڑکیاں  جیل سے نکلنے کا لیبل ۔۔۔چور کا لیبل ماتھے پر سجا کر کام ڈھونڈنا ۔

صبح کا اجا لا اپنا اثر دکھا رہا تھا ۔اسنے ایک گلاس پانی پیا ۔
چا روں طرف چڑ یوں کی چہکار تھی ۔اب قیدی کام کے لیئے جگائے جا رہے تھے ۔
ایک گارڈ ڈنڈے مار مار کر سب کو اٹھا رہا تھا ۔اسنے نہ جانے کیا سوچکر پاس پڑی لو ہے کی راڈ اٹھا لی ۔اور گارڈ کے سر پر بھر پور وار کیا ۔
وہ چکرا کر گر گیا ۔شاید مر چکا تھا ۔ہر طرف شور مچ گیا قیدیوں نے اسے گھیر لیا ۔گا رڈ اسکو مارتے ہوئے جیلر کے پاس لیجا رہے تھے ۔
مگر اسنے اپنے سر چھپانے اور روٹی کپڑے کا انتظام کر لیا تھا ۔ختم شد 
ایک پیالی چا ئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبھی کبھی کو ئی نام ذہن سے نکل جاتا ہے اور ہم سو چتے رہ جاتے ہیں  بہت کو فت ہوتی ہے ۔۔۔مگر نام یاد نہیں آتا ۔
انکا نام نہ تو ذہن سے نکلا ہے اور نہ بھلا یا جا سکتا ہے ۔۔۔۔صرف انکی پر داری کی خاطر لکھا نہیں جاسکتا ۔
زندگی میں کچھ ایسے لو گ آتے ہیں جن کی ذات ہمیں اونچائیوں کی طر ف لے جاتی ہے نیئے پنکھ مل جاتے ہیں ،نئی           پر واز عطا ہو جاتی ہے۔۔محض ان لو گوں کی بدولت کئی دریچہ کھل جاتے ہیں ۔اور وہ ہمیں اپنی شخصیت سے اس طرح متا ثر  کر دیتے ہیں کہ ہم چا ہیں بھی تو انھیں تمام عمر فرا موش نہیں کر سکتے ۔۔۔۔
سو ۔۔۔وہ ایسی ہی شخصیت تھے ،ایک عظیم انسان  ،ایک بے مثال مصنف ،با کمال اردو داں ۔اور وہ لو گو ں کے دلو ں کو تسخیر کر نے کے فن سے بھی واقف تھے ۔۔۔وہ ایک عظیم فنکار تھے اور جب پہلی ملاقات ہو ئی ان سے ۔۔۔وہ نہ جانے قبو لیت کی کون سی گھڑی تھی ۔میری ہر تحریر کے لئے اللہ کا انعام تھے وہ ۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
میں ٹو ٹے ہوئے وقت کے کانچ کو جو ڑنے کا جتن کر رہی ہوں اور بیتے ہوئے شب و روز  اپنی بھیگی آنکھو ں سے دیکھ رہی ہوں ۔
وہ شام ۔۔نہ بھو لی ہوں اور نہ بھولنا چاہتی ہوں جب ایک محفل "شامِ افسانہ " سجی ہوئی تھی ۔
علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی  میں تعلیمی سال کے خا تمہ پر ہر     ہو سٹل میں "ہال ویک " کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے ۔یہ روایت اب بھی قا ئم ہے  لیکن اب تو ہر روا یت کا چہرہ بد ل گیا ہے ۔بہر حال یہ بات تو ہر جگہ ، ہر تعلیمی ادارے کے لیئے کہی جاسکتی ہے ۔گو کہ یہ عمل اچا نک نہیں ہوا  اس عمل کے ظہور پزیر ہونے میں کئی بر سوں کا عر صہ لگا ہے لیکن یہ تو ابھی کی بات لگتی ہے کہ جب مشا عروں میں کمنٹس  بھی دئے جاتے تو تہزیب کے دائرے میں رھ کر ،شاعروں کو ان کمنٹس کا انتظار ہو تا تھا ۔
طلبا ء ہو ٹنگ بھی کر تے  تو وہ بھی لطیف انداز میں منا سب اور پر مزاح انداز میں ۔۔۔لیکن اب جو حال ہوا ہے ،جو انداز ِ گفتگو بد لا ہے ،اسکا کوئی تدا رک نہیں صرف ہمارے آپکے دل د کھتے ہیں آنکھیں نم ہوتی ہیں ۔۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
اس ہال ویکس کے پرو گرام میں وہ باکمال شخصیت  مو جود تھی ۔
کچھ لڑ کیو ں اور لڑ کوں نے آگے بڑھ کر ان سے آٹو گراف کی فر مائش کی ۔وہ سر جھکائے ہاتھ بڑھا کر مسکرا کر ۔۔آٹو گراف بک لیتے اپنا دستخط کر تے اور واپس کر دیتے ۔جب مینے اپنی نو ٹ بک بڑھائی تو  کہا ۔
"آپ اسپر اپنی کسی ناول کا کوئی جملہ لکھ دیجیئے "
انھوں نے ایکدم سر اٹھا کر میری جانب دیکھا اور مسکرا کر بولے ۔
"آپ نے  میری کون سی کتاب پڑھی ہے  ۔۔؟"
"مینے آپکی ساری کتا بیں پڑھی ہیں ۔۔۔"میرا اعتماد بحال ہو چکا تھا ۔
"چلیئے پھر آپکا امتحان لے لیتے ہیں ۔۔۔"انھوں نے میرے ہاتھ سے نو ٹ بک لی اور اسمیں ایک جملہ لکھ دیا ۔
مسکرا کر بولے ۔
"بتائیے یہ کس ناول میں ہے ؟؟"

اور مینے تو جیسے انکی ساری کتا بیں حفظ کر رکھّی تھیں ۔فوراً بتا دیا ۔
پھر تو وہ ایک گیم کی طرح اپنی ناولوں کے جملے پو چھتے گئے اور میں نام بتا تی گئی ۔
وہ کچھ حیرت اور مسرّت سے مجھے دیکھتے رہے ۔۔۔
انکی وہ نظر آج بھی مجھے یاد ہے ۔
کس قدر ہنس مکھ انسان تھے سیکڑوں لطا ئف ازبر تھے انھیں ۔
جب بھی محفل سجتی انکے ساتھ ادبی گفتگو ہو تی اور قہقہوں کا دریا بہتا رہتا ۔
دعوتیں کر نے کا بھی خاص شو ق تھا ان کو شام کو اکثر نشست جمتی ۔ہم لڑکیوں کو تو ہو سٹل سے اجازت نہ ملتی  مگر کلاس کے لڑکے جو انکے پسندیدہ اسٹو ڈنٹ تھے وہ ضرور مد عو ہو تے ۔
دوسرے دن کلاس میں یہی باتیں ہو تیں کہ آج فلاں افسانہ سنا آج چائے اور پیسٹری کی دعوت اڑائی ۔۔۔۔آج یہ آج وہ ۔۔۔
کبھی پائے کبھی بر یانی ۔۔
انسے نہ مل سکنے  کی بڑی کوفت ہوتی مگر جب انکا نیا افسانہ ہاتھ میں آجاتا تو ساری کو فت دور ہو جاتی ۔
ایک ایک کر کے سارے افسانے اور ناول جمع ہو گئے ۔
تعلیمی مدارج ختم ہوئے ۔۔۔اور پھر زندگی کے تقا ضے ۔۔۔دنیا کافی بدل گئی ۔سنا انھوں نے اپنی پہلی بیوی کو چھو ڑ کر دوسری شادی کر لی  کا فی ہنگا مہ رہا افسوس بھی ہوا ۔
مگر جو عزّت دلو ں میں تھی وہ بر قرار رہی ۔
ابھی کچھ دنو ں پہلے یہ طے ہوا کہ انکا  انٹر ویو ٹی ۔وی ۔پر آنا چا ہیئے ۔انھیں اردو اکاڈمی کی طرف سے بلند پایہ ایوارڈ سے نوزا گیا تھا ۔۔۔۔
ماس کمینی کیشن اور جرنلزم میں ایم ۔اے کر نے کے بعد مینے کئی شاعروں اور ادیبوں سے انٹرویو لئے تھے ۔۔۔مگر آج دل کسی اور ہی انداز میں دھڑک رہا تھا ۔۔۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭  ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
ہم اپنی ٹیم لیکر انکے دروازے پر کھڑے تھے ۔کا فی دیر ڈرور بیل بجانے کے با وجود کو ئی دروازے پر نہیں آیا ۔
ہم مایوس ہو گئے تھے تبھی ایک  خا تون نے دروازہ کھول دیا ۔
وہ کا فی جھنجھلائی ہوئی تھیں ۔دروازہ کھل گیا تھا مگر ہم باہر کھڑے حیرت سے ان صا حبہ کو دیکھ رہے تھے جو مشکل سے 22 یا 23 برس کی خاتون تھیں اور چہرے پر کر ختگی نمایاں تھی ۔
" کیا بات ہے ۔۔۔؟کیو ں پر یشان کر تے ہیں بے وقت ۔۔۔۔جب دیکھو گھنٹی بج رہی ہے ۔۔۔کو ئی نہ کوئی شاعر ادیب  دروازے پر مو جود ۔۔۔۔آپ لو گوں کو اپنے گھر پہ قرار نہیں ہے ۔۔۔؟ "
"محتر مہ ۔۔۔محتر مہ ۔۔" مینے کچھ بو لنے کی کو شش کی مگر وہ کچھ سننے پر تیّا ر کہاں تھیں ۔
"کس کی سنوں ۔۔۔۔کس کس کی سنو ں ۔۔۔کیا ہے ؟انھوں نے اندر چہرہ گھماکر ڈانٹ کر کسی سے کچھ کہا ۔اور پھر پیر پٹختی غصّے میں دروازہ کھلا چھو ڑ کر اندر چلی گئیں ۔۔۔
ہم شر مندہ سے کھڑے رہے ۔۔
وہ پھر پلٹیں ۔۔۔
" اب کیا سوا ری بھیجو ں آپ لو گوں کو اند ر آنے کے لیئے ؟؟؟؟
ہم پانچ لوگ تھے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے اندر داخل ہوئے ۔ایک داخلی دروازہ اور اسکے برا بر ایک چھو ٹا سا کمرہ  ۔۔۔۔
ایک کونے میں  لکڑی کی میز اور کرسی  ،میز پر کتابوں اور کا غزوں کا انبار ۔۔۔ایک دیوار میں کھلی الماری ، جہاں دھول میں اٹی  بے شمار  ان ہی کی تخلیقات ۔۔ایک کنارے  کی دیوار سے لگا ہوا پتلا سا پلنگ ۔۔۔اسپر نحیف و نزار سا وجود ۔۔۔۔
ان پر پڑی ہوئی  میلی سی رضائی اپنا حال خود بیان کر رہی رھی ۔۔۔ہلکی ہلکی سا نسوں کی ڈوبتی ابھر تی آواز ۔۔۔
میں بیقرار ہو کر آگے بڑھی ۔۔۔۔ہا ں ۔۔بستر پر وہی تھے ۔۔بے حد نحیف ۔۔۔۔کمزور  انکی خوبصورت انگلیا ں  کپکپا کر ہمیں بیٹھنے کا اشا رہ کر رہی تھیں ۔۔۔پاس پڑی میلی میلی کرسیوں پر ہم انکی خا طر بیٹھ گئے ۔۔باقی لوگ میز سے ٹک کر کھڑے رہے ۔۔۔
کیمرہ مین نے کیمرہ فٹ کیا ۔مجھے ان سے سوالات کر نے تھے مگر آنسوؤ ں سے  آواز رندھ رہی تھی ، ہاتھ اٹھا کر کیمرے کو چند لمحے رکنے کو کہا اور اٹھ کر سر ہانے گئی ۔۔۔بڑی بڑی ذہین آنکھیں حلقوں میں ڈوب رہی تھیں ۔۔۔سر خ رہنے والے ہونٹ سفید تھے  اور ان پر بھو ری پپڑیاں جم رہی تھیں دونوں ہاتھوں کی سفید انگلیا ں اضطراری حالت میں کپکپا رہی تھیں ۔     انھوں نے کچھ کہا تھا مینے جھک کر سننے کی کوشش کی مگر وہ شاید ملا زمہ سے کہہ رہے تھے جو دروازے پر استادہ تھی ۔
مینے اسے اندر بلا لیا اسنے انکی بات سنی اور "انہہ  ۔۔۔۔" کہکر اندر چلی گئی ۔
اندر سے آوازیں آرہی تھیں ۔
"اب یہ جو پیسے ملے ہیں انھیں جبتک اڑا نہیں لینگے چین سے تھو ڑا ہی آیئگا  ۔۔۔اسی طر ح کے آنے جانے والوں پر خرچ کر دینگے ۔۔۔"

آواز دھیر دھیرے دور ہوتی جارہی تھی ۔
غالباً یہ انکی بیگم کی آواز تھی ۔یہ آوازیں ہماری سماعتوں میں زہر پھیلا رہی تھیں ۔انکی معصوم آنکھوں میں آنسو جھلملا رہے تھے وہ کتنے بے بس اور مجبور نظر آرہے تھے اتنی عمدہ زندگی گزارنے والے شخص کی یہ حالت ۔۔۔۔ہم سو چ بھی نہیں سکتے تھے ۔
"ہم ابھی ابھی چائے پی کر آئے ہیں "مینے جھک کر ان سے یہ کہا ۔۔تو میرے آنسو انکی پیشا نی بھگو گئے ،شاید
وہ اٹھنا چا ہتے تھے اپنے مہمانوں کی خا طر کر نا چا ہتے تھے  چائے پلا نا چاہتے تھے ۔ انکا وجود زلزلوں کی ذد میں تھا ۔
معزوری اور مجبو ری کا احساس انکی انکھوں میں صاف دکھائی دے رہا تھا ۔
غم کا ایک اتھاہ سمند ر تھا جو انکے وجود میں ہچکو لے کھا رہا تھا ۔
پتہ نہیں وہ کیا کہنا اور کیا سنا نا چا ہتے تھے  ۔ہم انکی خا موش آواز سن رہے تھے ،سمجھ رہے تھے ۔
لیکن جواب دینے سے قا صر تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد