Monday, January 8, 2018

پر چھائیاں ۔
آسمان ہلکا نیلا اور ایکا دکا ستارے چمک رہے تھے ۔ پارک میں سیڑیوں پر بیٹھے بیٹھے اوپر دیکھا اور پھر دھیرے سے بولی ۔
"جیسے نیلی ساری پر ستارے ٹنکے ہوں "
"میں لا یا تو تھا تمہارے لئے ،نیلی ساری ۔تم نے پہنی ہی نہیں ۔
"کیونکہ میں آسمان نہیں ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"کچھ دور کھلتے بچوں پر نظر جماتے ہوئے خود کلامی کی ۔۔۔میں تو زمین ہوں

پورے چھے سال کے بعد یہ اسے چھوڑ کر پھر سے میرے پاس آگئے دوبارہ ۔۔کہیں نہ جانے کے لیئے ۔۔۔مگر رات جب میں بستر پر گئی تو وہ مجھے برا بر لیٹی ہوئی صاف دکھائی دی ۔۔۔اسنے سرخ نائیٹی پہنی ہوئی تھی اسکے سنہرے بال کھلے ہوئے تھے ۔اسنے مجھے شرارت سے مسکرا کر دیکھا اور ایک جھٹکے سے انکے سینے میں منھ چھپا لیا ۔۔میں ہونق دیکھتی رہ گئی ۔۔۔دل زور سے دھڑک رہا تھا بدن پسینے میں تر ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں شرمندہ سی برا بر والے کمرے میں چلی آئی  ایک بار انھوں نے پلٹ کر میری جانب دیکھا ۔۔ہاتھ بھی بڑھا یا تھا مگر ۔۔بس یہ تو حد ہوگئی ۔
دوسرے کمرے میں آکر میں بستر کے ایک سائیڈ پر اوندھی گری ۔۔پھر سر اٹھا کر دیکھا ۔۔وہ سویا ہوا تھا ۔۔
آہستہ سے سیدھی ہوکر سونے لیٹ گئی کہ کہیں اسکی نیند نہ ٹوٹ جائے ۔سارے دن نہ جانے کہاں کہاں مارا پھر تا ہے اب آکر سکون سے سویا ہے ۔۔تو نیند تو نہ خراب کروں ۔مگر اسکے پاس ہونے سے دل میں سکون اتر آیا ۔آنسو بھی رکُ گئے اور نیند بھی آگئی ۔
۔صبح دیکھا تو وہ چائے پی رہے تھے ۔
مجھے اٹھنے میں دیر جو ہوگئی اسی نے بنا کر دی ہوگی ۔۔اپنے کمرے میں جھا نکا آئینے کے سامنے بال بنا تی نظر آئی ۔۔سنہرے بالوں کی کچھ بھیگی سی لٹیں آہستہ آہستہ انگلیوں سے سلجھا رہی تھی ۔ کچھ گنگنا بھی رہی تھی
۔مجھے دیکھ کر مسکرائی کنگھا ہاتھ سے رکھ دیا اور میں دروازے سے ہٹ کر کچن میں آگئی ۔اپنے لیئے چائے بنائی ۔گھونٹ گھونٹ پیتی رہی ۔۔یہ اپنی ضروریات سے فارغ ہوکر باہر نکل گئے میں گھر کی چھت پر آکرنیچے سڑک پر  آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھتی رہی ۔دھوپ تیز ہورہی تھی اور نیچے اترنے کا اسکا سامنا کرنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا ۔ایک عجیب سی الجھن اور بے چینی تھی ۔۔مگر نیچے آنا پڑا کئی کام ادھورے پڑے تھے ۔۔کہیں نظر نہیں آئی ۔۔تو سکون کا سانس لیکر کاموں میں لگ گئی ۔
اب دن اسی طرح کٹنے لگے تھے رات کے کھانے کے بعد جب یہ کمرے میں جاتے تو مجھے آواز دیتے میں اندر جھانکتی تو وہ بستر کی ہر سلوٹ مین دکھائی دیتی ۔
پھر دھیرے دھیرے میرا ملال کم ہونے لگا تھا یا یہ کہ میں نے خود حالات سے سمجھوتہ کر لیا تھا ۔۔
ایک دن میرے سر میں شدید درد تھا وہ دھیرے سے آکر پاس بیٹھ گئی اسنے میرے سر پر ہاتھ رکھنا چاہا تو میں نے جھٹک دیا ۔وہ ایکدم باہر نکل گئی ۔۔مگر اس دن کے بعد میں اپنے رویئے پر شرمندہ ہوئی اور جب چائے بناتے ہوئے گرم پانی ہاتھ پر چھلک گیا اور اس نے گھبرا کر ایک دم  اپنے ٹھنڈے یخ ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھے تو میں نہ جھٹک سکی ۔
اسکے ہاتھوں کی ٹھنڈک میں پہلے بھی محسوس کر چکی تھی۔
جب پہلی بار میں اسکے شہر گئی تھی سوچا تھا انکو سمجھا کر گھر لے آؤں گی ۔نوکر ی رہے یا نہ رہے ۔میں آفس میں ان سے ملنے گئی تو کچھ دیر بعد یہ کسی کام سے آئی ۔۔۔سکریٹری تھی نا ۔۔۔کام تو رہتے ہی تھے ۔۔آگے بڑھ کر ہاتھ بڑھا کر بولی
میں نتاشا ۔۔
میں نے اسکا ہاتھ تھام کر کہا
میں مسز خان ۔۔۔
تب اسکے ہاتھ اتنےہی  برف سے ٹھنڈے تھے  ،یا شاید میری بات سنکر ہوگئے تھے ۔شاید اسنے سوچا ہو کہ میں جان کر اسے اپنی حیثیت کا احساس دلا رہی ہوں ۔
وہ جوان تھی ،خوب صورت تھی ،کم عمر تھی ۔۔مجھے سے تو بہت چھوٹی تھی ،مگر ہمارے بیچ ایک ڈر تھا ۔۔مجھے انکو کھونے کا ،اسکو میری حیثیت کا ۔۔
مگر اب میرے ڈر ختم ہورہے تھے  ۔وہ دھیرے دھیرے سہیلی بن گئی تھی ۔دن بھر اکیلے گھر میں وہ میرے ساتھ ہوتی اور شام آتے آتے انکے ساتھ ہوجاتی ۔



آخر کار انھوں نے مجھے بلا نا بھی چھوڑ دیا ۔۔شاید ایک احساس جرم تھا ۔۔۔یا انکو بھی میری ضرورت نہ تھی ۔۔۔
شام ایک ملال لیکر آتی اور میں دوسرے کمرے میں جاکر لیٹتی جہاں وہ پہلے سے ہی سویا ہوا ہوتا ۔۔بے خبر  اسکے گورے خوبصورت ماتھے پر بال بکھرے ہوتے  سوتے ہوئے بچوں جیسے مسکان بکھری رہتی اسکے چہرے پر ۔۔۔اور اسکی نیند کے خیال سے مین آہستگی سے ایک سائیڈ لیٹی جاگتی رہتی پھر کب آنکھ لگ جاتی پتہ ہی نہ چلتا ۔۔اسکے پاس ایک سکون کا احساس بھی رہا کہ کوئی تو ہے جو میرا ہے ۔۔بالکل میرا ۔۔میرا اپنا ،میری جوان ہوتی ہوئی اولاد ،میرا لاڈلا بیٹا ۔
تیس برس پہلے جب
جب گھر چھوڑا تھا تب کہاں سوچا تھا کہ کبھی ایسا بھی ہوسکتا ہے ۔مگر چیزیں بدلتی رہتی ہیں دن رات ،موسم ، شکلیں ۔۔اور کچھ لوگوں کی محبتّیں بھی ۔۔کیا کر سکتے ہیں ۔کبھی کبھی اپنوں کو چھوڑ آنے کا دکھ ستا تا ۔تو اپنے اپ کو سمجھا لیتی تھی ۔۔مگر ان چھ سالوں میں نہیں سمجھا پاتی تھی ۔۔دل کو ہر لمحہ ملال رہتا کہ غلطی ہے ،اور غلطیوں کا خمیازہ تو بھگتنا پڑتا ہے ۔۔۔پھر سوچتی اور لوگ بھی تو ہوتے ہیں جو محبتوں کے اسیر ہوتے ہیں ۔۔۔اور ساری عمر رہتے ہیں ۔۔تو پھر میں ہی کیوں ۔۔؟
کوئی جواب نہ ملتا ۔
مگر اس دن عجیب بات ہوئی ۔۔۔یہ دوسرے کمرے میں آئے اور ہاتھ پکڑ کر مجھے میرے روم میں لے گئے۔بستر پر بیٹھے اور مجھ سے پوچھنے لگے ۔
" اب کیا چا ہتی ہو ؟ آگیا ہوں نا میں پھر کیوں چھپتی پھر رہی ہو ۔۔کیوں گم سم رہتی ہو ۔۔کیسی حالت بنا لی ہے اپنی شکل دیکھی ہے ؟ کس بات کا سوگ ہے ؟ اگر مین اتنا ہی برا ہوں تو چلا جاتا ہوں کہیں "
تب میں نے دیکھا بستر پر کوئی شکن نہیں تھی جیسی شکنوں سے پاک چادر میں نے بچھائی تھی ویسے ہی تھی تکیہ بھی قرینے سے رکھے تھے ۔۔وہ مجھے ادھر ادھر دیکھتا پاکر پھر بولے
"کیا ڈھونڈتی رہتی ہو ۔۔۔کیا چاہیئے بولو مجھ سے ۔مجھے آئے ہوئے آج ایک برس ہونے کو آیا اور تم ہو کہ ۔"
:وہ ۔۔۔وہ ۔۔۔۔"میرے منھ سے ٹوٹ ٹوٹ کر نکلا
"کون ۔۔؟ کسکی بات کر رہی ہو ۔۔۔؟ اسکی شادی ہوگئی وہ اپنے گھر میں خوش ہے  آئیندہ کبھی اسکی بات مت کرنا ۔۔۔سمجھیں کبھی نہیں ۔۔" وہ میرا ہاتھ چھوڑ کر الگ کھڑے ہوگئے ۔
میں ایک دم زور زور سے روتے ہوئے ان سے لپٹ گئی ۔۔
"کیا ہوگیا کچھ تو بتاؤ ۔۔"وہ پریشان سے میرا سر سہلا رہے تھے ۔
"سارم ۔۔۔آج ہمارا بیٹا زندہ ہوتا تو 24 برس کا ہوگیا ہوتا ۔۔۔ہائے ہم کتنے اکیلے ہیں " ۔
اب ہم دونوں سسک رہے تھے اور گھر مین ہم دونوں کے سوا کوئی نہ تھا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 تیرے وعدے پر ۔۔
نئے سال کا پہلا سورج طلوع ہونے والا ہے ۔۔ہر طرف نئے سال کے استقبال کی تیّاریاں زور و شور پر ہیں ۔۔۔۔سرد ترین موسم میں ایک حرارت کی لہر ہے ۔ اپنے اپنے طریقے سے نئے سال کو خوش آمدید کہا جارہا ہے ۔نوعمر لڑکے لڑکیوں کی پارٹیز اپنے عروج پر ہیں ۔عمر رسیدہ لوگ  آتش دان کے سامنے بیٹھے پرانے زمانوں کو یاد کر رہے ہیں ۔شام کے خوابیدہ دھندھلکے میں وہ اپنے خوابوں کی جانب محوئے سفر ہیں ،جہاں وہ اپنی طرح اس شام کو سجا سنوار کر مناتے تھے آنے والے نئے سال کی شام کا فسوں ہر جانب پھیلا نظر آرہا تھا ۔
 ۔ملازمہ نے سامنے  گرم کافی رکھ دی ہے ،کافی کی سطح پر مجھے اسی کی تصویر نظر آرہی ہے ۔سانولا رنگ کھڑی ناک اور چہرے پر بے شمار جھرُ ریاں لئے ہوئے وہ خوبصورت بوڑھا جو مجھے آفس کی سیڑھیوں کے پاس ایک بوسیدہ چٹائی بچھائے ہوئے بیٹھا ملتا تھا ۔لوگ اسکی چٹائی  کے کنارے پیسے پھینک کر چلے جاتے وہ ہاتھ اٹھا کر دعا دیتا مگر میں نے کبھی اسکو کسی سے کچھ مانگتے نہیں دیکھا ۔۔۔بس خاموش کسی سوچ میں گم ۔۔۔
آج کئی دن سے شدید سردی ہے ،ٹھنڈ کی لہر نے کئی شہروں  کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔کہرے کی وجہ سے سانس لینا دشوار ہے ۔تھوڑی دور تک بھی راستہ صاف دکھائی نہیں دیتا ۔۔۔لوگوں نے بغیر کسی اشد  ضرورت، گھر سے باہر نکلنا بند کر دیا ہے ۔۔۔۔کہیں کہیں کچھ منچلے سگرٹ کا دھواں اڑاتے تیز بائیک چلاتے نظر آتے ہیں ان کے قہقہوں سے ماحول میں کچھ حرارت سی بھر جاتی ہے ۔ورنہ پھر وہی سننا ٹا اور کپکپاتے وجود ۔۔کوئی دبیز کوٹ پہنے ہوئے اور کوئی سو ئیٹر دستانے گرم اونی ٹوپی پہن کر سڑک پر نکل رہا ہے ۔
امیروں کی بات کی جائے تو وہ اپنی ایر کنڈیشنر کاروں میں یوں زوں کر کے نکلتے ہیں گو یا باقی سب کا مزاق اڑا رہے ہوں ۔۔۔اور اپنے ایر کنڈیشن گھروں میں آرام سے ہر موسم سے نپٹنے کے لئے تّیار۔۔
عام آدمی اپنی ضروریات پہن اوڑھ کر پوری کر تا نظر آتا ہے ۔
سردی اپنے عروج پر ہے کچھ درد مند انسان غریبوں میں چادریں تقسیم کر تے نظر آئے کچھ چائے والوں نے اپنے ارد گرد بیٹھے فقیروں کو مفت چائے پلا نی شروع کر دی تھی ۔
شہر کے نیتا اکثر غریبوں کو چادریں اور چائے بانٹتے بھی نظر آئے ۔انکے ساتھ خاص بات انکا فوٹو گرا فر ہوتا ہے جو ہمیشہ انکے ہاتھ سے کچھ دیتے ہوئے تصویر ضرور کھنچتا ہے ۔
انکا فوٹو گرافرانکے لیئے بہت کچھ کرتا ہے ۔ایک بار ایسا ہی قصّہ سنا تھا کہ کسی لیڈر نے بلڈ ڈونشن کی  خبر اخبار اور ٹی وی میں بھیجی تھی بعد میں پتہ چلا کہ انکے سامنے رکھی ہوئی تمام بوتلوں میں گہرا سرخ رنگ تھا ۔اور ایک شخص  کمپونڈربنا ہوا  انجکشن لیئے کھڑا ہوتا وہ اپنے کرتے کی آستین چڑھا تے اور انجکشن کی نوک انکی نس پر رکھ دی جاتی ۔۔تصویریں کھٹا کھٹ کھینچ لی جاتیں ۔۔ویڈیو اپ لوڈ ہوجاتے ۔۔۔پھر تماشہ ختم ۔۔بوتلیں پھنک دی جاتیں سب اپنے اپنے پیسے لیتے اور نیتا جی مشہور ہوجاتے ۔۔خیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں بوڑھے با با کی کہانی سنارہی تھی ۔اسکو میں نے ہمیشہ ایک پرانے موٹے مگر جگہ جگہ سے پھٹے کمبل میں لپٹا دیکھا ۔کئی بر سوں سے وہی کمبل لپیٹے وہ اسی جگہ گم سم بیٹھا ہوا تھا ۔۔
لوگ ترس کھاکر کچھ کھانے کو دے دیتے کبھی ہوٹل والا صبح اسے چائے پلا دیتا ۔کئی بار میں نے سوچا اسکو کچھ کپڑے بنوا دونگی ۔مگر میری اپنی اتنی ذمہ داریاں ہیں کہ نہ وقت نکال سکی نہ پیسے ۔
سردیوں کی شام بڑی خوب صورت ہوتی ہے جگہ جگہ جب سڑ ک پر لگی روشنیاں کہرے سے گھر جاتیں تو ہلکی نیلی سی روشنی اپنے آپ میں دھنک کے رنگ دکھانے لگتی ۔۔سورج ڈوبتے ڈوبتے دوسرے دن آنے کا وعدہ کرتے ہوئے گہرا  نارنجی ہوجاتا ۔۔۔۔اور پھر آسمان کا سر مئی رنگ کھل اٹھتا  ۔تیز ہوا اور کہرہ مل کر ایک نیا ساماحول بنا دیتے ۔۔۔کبھی کبھی آفس سے واپسی پر میں اس موسم اور ماحول کا مزا لینے کے لئے ایک بس چھوڑ دیا کرتی اور دس منٹ بعد آنے والی دوسری بس کا انتظار کرتی ۔۔ہلکی ٹھنڈی ہوا جب چہرے کو چھوتی تو ایک تازگی کا احساس ہوتا ۔۔
آج نئے سال کی پہلی صبح تھی ۔رات کے ہنگاموں کے بعد لوگ نیند کے مزے لے رہے تھے۔مجھے آفس پہنچنا ضروری تھا اسلیئے شدید سر دی کے باوجود تیزی سے تیا رہوکر بلڈنگ سے نیچے آگئی ۔۔بس اسٹینڈ پر ذیادہ بھیڑ بھی نہیں ملی ۔بس میں بیٹھ کر بیتی رات دوستوں کے ساتھ مزے دار پارٹی یاد کرتے کرتے آنکھیں بند ہونے لگیں نیند کے جھونکے آنے لگے تبھی میرا اسٹاپ آگیا ۔بہت بے دلی سے اتر کر پیدل ہی آفس کی سڑک پر چلتی گئی ۔۔موٹے کوٹ ،سوئیٹر اور دستانوں کے باوجود بس سے اتر کر شدید سر دی کا احساس ہوا ۔
 آفس کے باہر ایک بھیڑ لگی دیکھی تو قدم خود بخود ادھر اٹھ گئے ۔بوڑھا با با اپنی میلی چٹائی پر لیٹا ہوا تھا  کئی لوگ آس پاس کھڑے تھے ۔
مگر کل تک تو بالکل ٹھیک تھا ۔؟ مجھے چائے والے نے وہاں سے  ہٹ جانے کو کہا تو میں سڑھیوں کی طرف بڑھ گئی وہ بھی میرے ساتھ ادھر ہی آگیا ۔
"کیا ہوا با با کو ؟"
"بی بی کل نیتا جی کی طرف سے غریبوں کو کمبل بانٹے گئے ۔۔با با بہت خوش تھا ۔ایک کمبل مجھے بھی ملا تھا ۔۔کیمرہ اخبار والے ٹی وی والے سب آگئے تھے ۔
۔۔یہ جو سامنے فٹ پاتھ پر کئی لوگ لیٹے رہتے ہیں نا وہ سب بہت خوش تھے ۔۔" وہ کچھ دیر کے لئے  چپ ہوگیا ۔میری نظر پھر ادھر اٹھ گئی ۔مگر با با کے اوپر تو اسکا وہی پرا نا کمبل ہے ؟
"پھر بی بی جی رات کو کچھ لوگ آئے اور سبکے کمبل یہ کہہ کر واپس لے گئے کہ یہ غلط آگئے ہیں ابھی دوسرے بڑے کمبل دیئے جائیں گے ۔۔وہ لوگ کمبل کی دوکان والے تھے ۔میرا دوست انکو جانتا ہے وہ یہیں میری دوکان پر پان کھانے آیا ہوا تھا اس نے انھیں پہچان لیا ۔
"پھر ؟؟؟"
پھر کچھ نہیں بی بی ۔۔ کوئی کمبل نہیں آئے ۔بوڑھا با با سردی سے نہیں مرا ، آس سے مر گیا ۔۔"
کچھ دیر اور کھڑی رہتی تو شاید کھڑے رہنے کی سکت بھی ختم ہوجاتی ۔تیزی سے سیڑھیاں چڑھ کر آفس کے اندر آگئی ۔
٭٭٭٭٭

آہ ۔۔۔۔  راشدہ آپا !
وہ اس طرح دبے پاؤں بزم سے اٹھ کر چلی گئیں جیسے وقفہ لیا ہو ۔۔۔ذہن یہ ماننے پر آمادہ نہیں کہ اب وہ نہیں ہیں ،لوٹ کر نہیں آئیں گی ۔۔
ماہ کی درمیانی تاریخوں میں انکا فون نہیں آئے گا ۔۔۔پہلے سلام کرتیں ، خیریت دریافت کرتیں پھر لہک کر بتاتیں ۔
"میٹنگ ہے ۔۔۔فلان کے گھر میں ۔۔تم کو پتہ تو معلوم ہے نا ؟ اور نہ معلوم ہو تو اتنی محنت اور محبت سے سمجھاتیں کہ پیار آجاتا ۔۔
جی ۔۔جی ۔میں پہونچ جاؤں گی میرا جواب سنکر فوراً فر مائش کرتیں ۔۔
بھئی پڑھنے کو کچھ ضرور لیتی آنا ۔۔کوئی افسانہ کوئی مضمون  کچھ بھی ۔
یہ آوازیں میرے کانوں میں گونجتی ہیں ۔۔۔میں کیا کروں کیسے انھیں بھولوں ؟
اردو باغ میں کیسے رنگا رنگ پودے لگائے اور اپنی محبتوّں سے انکو سیراب کرتی رہیں ۔ایک خواب جو خلیل الرحمنٰ  اعظمیٰ صاحب نے دیکھا تھا اسکی تعبیر راشدہ آپا نے اس طرح ڈھونڈ نکالی کہ اپنے اردو باغ کواپنی کاوشوں سے سیراب کیا ۔علی گڑھ ہی نہیں الگ الگ شہروں سے لکھنے والوں کو ڈھونڈ لائیں ۔انکا رسالہ "بزم ادب " خواتین کی تصانیف سے مہکتا رہتا ۔اور دوسرے ملکوں میں بھی لوگ ان سے واقف ہو گئے تھے امریکہ ،کینڈا ،سے بھی تعریفی خطوط آتے ۔سبکو رسالہ پابندی سے پہنچایا کرتیں ۔خلیل الرحمٰن اعظمی نمبر میں د یبا چہ میں لکھتی ہیں ۔
       " آج کی عورت ساری دنیا پر چھائی ہوئی ہے ۔کون سامیدان ایسا
         ہے جہاں اس نے قدم نہ جمائے ہوں ۔شعر وادب ہو مذہب کا
         میدان ہو ،سیاسی سماجی معاشرتی ،قوم کی فلاح وبہبود یا ملک
         کی ترقّی کا ،ہر جگہ وہ اپنی فعال حیثیت کا مظاہرہ کر رہی ہے "۔
اپنی تحریروں اور میں اور عملی طور پر بھی عورتوں کو اپنا مقام پہچنوانا چاہتی تھیں ۔اردو زبان کی محبّت انکے ہر عمل سے ظاہر تھی ۔معیاری ادب لکھنے والوں کی انکی نظر میں بے حد عزّت تھی ۔کوئی اچھّا افسانہ یا نظم سنتیں تو دل کھول کر داد دیتیں ۔لکھنے والوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کر تیں ۔انھوں نے اردو کی ترویح کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا تھا ۔
خلوص و محبّت عاجزی اور انکساری انکی طبیعت میں رچی بسی تھی ۔وہ چاہتی تھیں کہ خواتین ارود ادب کی تر ویح میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیں ۔
۔۔اب تو آپکا باغ ہرا بھرا ہوگیا تھا ۔۔۔اب آپ کیوں چلی گئیں ۔؟
بزم ادب کی محفل شروع ہوتی تو بعد تلاوت ِپاک  راشدہ آپا رپورٹ پڑھا کرتی تھیں (تھیں لکھتے ہوئے بھی ہاتھ کانپتا ہے )
اس رپورٹ میں بزم ِ ادب کی پوری تفصیل ، محفل کس کے  گھر پر رہی کس ممبر نے کیا سنایا حتٰیّ یہاں تک بتاتیں کہ ضیافت کن مزے دار پکوانوں  سے ہوئی ۔
سب سے عجیب اور حیران کن بات یہ ہے کہ ہر ممبر سمجھتا ہے کہ راشدہ آپا کو ان سے "سب سے "ذیادہ محبت تھی ۔انکا اخلاق ایسا تھا کہ آج کے دور میں یہ جذبہ نا پید ہے ۔۔بے لوث محبّت کرتی تھیں ،انکی محبت میں کوئی غرض پوشیدہ نہیں تھی۔وہ جب مجھے "میرا فوٹو گرافر " کہہ کر پکارتیں تو میرا خوشی سے عجب عالم ہوتا ۔
کچھ گم نام خواتین کو اپنی ادبی محفل مین اسطرح شامل کیا کہ انکے نام سامنے آگئے ۔وہ تاعمر ادب کی خدمت کرتی رہیں ،جوت جلاتی رہیں ۔
وہ ہمیں ایک خواب دے گئی ہیں ۔۔۔اور ہمیں اس خواب کو پورا کرنا ہے ۔یہ ایک نسائی ادب کی تحریک ہے جو انھوں نے ہماری آنکھوں ،ہمارے قلم ،ہمارے جذبوں میں پنہا کر دی ہے ۔اور ہمکو یہ کوشش کرنی ہے کہ یہ بزم یوں ہی قائم رہے ۔۔یہ چراغ یوں ہی جلتے رہیں  ما شاء اللہ ۔وہ اپنے چمن  کو بھی ہرا بھرا چھوڑ گئی ہیں انکے بچّے بھی ادبی ذوق سے ما لا مال ہیں  سب بچّوں کے زخمی دلوں کو صبر اور سکون عطا ہو ۔انکی کاوشوں کو اللہ کامیاب فر مائے ۔اس طرح انکی روح کو سکون عطا ہوگا ۔
اردو باغ ہمیشہ مہکتا رہے ۔۔آمین ۔

Friday, October 20, 2017

تعارف

تعارف
نام ۔انجم قدوائی
سکونت ۔علی گڑھ ۔یوپی ۔انڈیا
والد کا نام ضیغم علی خاں
وطن ۔یوپی کا ایک چھوٹا سا گاوں بہار پور ۔
تعلیم ۔بی ۔اے ۔آنرز
مختلف ڈپلومہ ۔
شوق ۔معیاری کتابیں پڑھنا اور افسانے لکھنا ۔باغبانی  کرنا ۔موسیقی سننا ۔
ایک افسانوں کا مجموعہ شائع ہوا ۔ریت کا ماضی ۔
مختلف رسائیل میں افسانے شائع ہوئے ۔
کا فی عر صے تک ق ۔انجم کے نام سے افسانے کی شروعات کی مگر قارین کے تجّسس سے مجبور ہو کر اپنے پورے نام انجم قدوائی سےافسانے  لکھنے لگی ۔گزشتہ تیس پینتیس سال سے ہِند و بیرون ِ ہند میرے افسانے مختلف رسائل میں شائع ہوتے رہے ہیں ۔اور آخر کار اس سال ان سب کو مجتمع کر کے "ریت کا ماضی "افسانوں کا مجموعہ شائع ہوا

فالتو لڑکی

فالتو لڑکی ۔
کچھ کہا نیاں اور کچھ  ڈرامے پاس سے نکلتے چلے جاتے ہیں ۔مگر کچھ ایسے  بھی ہوتے ہیں جو ہاتھ پکڑ کر پاس بٹھا  لیتے ہیں اور جب تک بات ختم نہ ہوجائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ہاتھ چھوڑتے نہیں ۔بس کچھ ایسی ہی کہانی ہے  اس ڈرامے  "فالتو  لڑ کی " کی ۔۔۔۔۔۔
میں اسوقت کئی ڈرامے  یو ٹیوب پر ایک ساتھ دیکھ رہی تھی  صبح کوئی اور شام کو کوئی اور مگر جب سے  فالتو لڑکی دیکھنا شروع کیا سارے  ڈرامے دیکھنا بند کر دیا ۔۔کہیں اور دل ہی نہیں لگتا تھا ۔
پہلی قسط سے لیکر آخری قسط تک اس
اس  طرح مجھے اس کہانی نے  تھام رکھّا تھا کہ تین روز میں 28 قسطیں دیکھ ڈالیں ۔دلچسپی پہلی قسط سے ہی شروع ہو تی ہے  ۔وہ ایک لڑکی جو ہندوستان سے لائی گئی  اسکے لیئے سبکے خیالات  جان کر دلی  رنج ہوا ۔ کیونکہ مجھے معلوم ہے  وہاں لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ ہم سب  ہندوؤں کے ملک میں ہیں تو ہمارے خیالات ہندوا نا ہی ہونگے ۔۔شاید لوگوں کو یہ اندازہ نہیں کہ یہاں صرف ہندو نہیں ۔سکھ ۔عیسائی ۔پارسی ۔بدھشٹ ۔اور بھی کئی  مذہب کے لوگ رہتے ہیں ۔۔ہاں ہندو بھی ۔۔
لیکن ہر ایک اپنے مذہب  کو دل سے ، شدتّ سے  محسوس کر کے  اس پر قائم ہیں ۔۔ے  
اس لڑکی کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ نارمل تھا ۔۔جہاں حالات بہتر ہوں  اور نہ ہونے کی امید ہو ۔وہاں اضافی خرچ کون کر تا ہے ؟ اگر یہاں بھی کسی کے گھر ایسی کوئی  بے آسرا لڑکی آجائے تو یہی سلوک ہوگا ۔
باقی کر دار بھی اپنی اپنی جگہ بہت موضوع ہیں ۔جسکو جو بھی رول ملا اسنے دیا نت داری سے نبھا یا ۔خواہ وہ  اس  مشترکہ گھر کی خواتین اور مرد ہوں یا معظم جاہ کی  فیملی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
تابش کی فیمیلی بھی بے حد روائیتی اور  بے جا  مذہبی   دکھائی گئی اور سب سے اچھّی بات یہ لگی کہ ہر خاندان میں  الگ روائیتیں رہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ جن کو وہاں کے کرداروں نے بخوبی نبھایا ۔ ذاتی طور پر مجھے روپا کا کردار نبھا نے والی لڑکی ۔۔(جسے کئی ڈراموں میں ہیروین کے  رول میں دیکھ چکی ہوں )کا  م بے حد پسند آیا ۔یہ آسان رول نہیں تھا بہت چیلنجنگ  رول تھا ۔اسکے علاوہ زارقہ  کا کام بھی بہت اچھّا لگا ۔ایک  فرما بردار روائیتی بیوی ، بچوں کی اچھّی تر بیت کرنے والی ماں ، اور دکھے دل والی عورت   ،بہت عمدہ  نبھایا ہے ۔
اس فالتو لڑکی کی  کم ہمتی کے باوجود اتنا بڑا قدم اٹھا لینا ۔۔زبر دست انقلاب  لاتا ہے جسکی امید شروع سے ہر گز نہیں تھی ۔اور سب سے اچھّی  بات یہ تھی کہ پورے ڈرامے میں تجسس  بر قرار رہا ۔بالکل نہیں معلوم تھا کہ اگلی قسط کیا لیکر آئے گی ۔۔یہ بات ڈرامے کی   کامیا  بی کی ضما نت ہے ۔کہانی میں جہاں تجسس بر قرار رہتا ہے وہاں قاری  سانسیں روکے بیٹھا رہتا ہے اور جن ڈراموں میں کہانی دو یا تین   قسط کے بعد کھلنے لگتی ہے وہیں دلچسپی  ختم ہوجاتی ہے ۔
بہت عمدہ  تحریر ۔عمدہ ڈائیرکشن ۔اور لاجواب  اسکرین پلے  ہے ۔۔میں سمجھتی ہوں کہ کافی عرصے کے بعد اتنا  عمدہ ڈرامہ دیکھا ہے ۔حسینہ معین کے  ڈرامے دیکھنے کے بعد کوئی بھی  پلے ابتک مجھے  باندھ نہیں سکا ۔مصنف  اور ڈائیریکٹر ،اسکرین پلے لکھنے والوں کے لیئے بہت مبارکباد ،
سارے آرٹسٹ  مبارکباد کے  قابل ہیں  بلکہ قابل ِ ستائش ہیں ۔
اگر اس ٹیم کا کوئی اور بھی ڈرامہ ہوتو مہر بانی فر ما کر مجھے ضرور  بتا ئیں ۔۔۔

Wednesday, October 18, 2017

'میر وسیم کی باتیں ''
تحریر: میر وسیم 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر لمحے کا اپنا خُدا هوتا هے ، 
جب آپ کو اُونچی عمارتوں اور مضبُوط قلعوں میں بهی پناہ نہ مِل سکے تو ، اُونچی عِمارتوں کے پِیچهے جهونپڑیوں کے دروازے کُهلے مِلیں گے ،
هم لوگ کبهی کبهی زندگی کو شرمندہ کرنے کے لئے ضُرورت سے زیادہ بهی خُوش هوتے ہیں ، آپ اُس شخص کو کیا کہیں گئے جِس کا وجُود تو مندر میں گهنٹیاں بجاتا هے مگر رُوح مسجد میں سجدہ کرتی هے ،
پنچهی کے بغیر پنجرے کی کوئی قیمیت نہیں هوتی ،
هم لوگ دُنیا کے قید خانے میں آزادی کا جشن منا رہیں ہیں ،
ہر لہر ساحلِ سمندر پر آ کر سمندر کی مُخبری کرتی هے ،
آئینہ انسان سے کہتا هے کہ تُم بُزدل هو ، انسان اعتراف کرتا هے ، دونوں اِس راز کو چُهپا لیتے ہیں ، میں نے جب تنہائی کو رونق کی رشوت دی تو تنہائی نے نا قابلِ یقیں بیاں دے ڈالے ، صحرا کے خواب میں پهُول ہی پهُول ، برسات ہی برسات ، خیال کا قحط کوئی بڑی بات نہیں ، احساس کا قحط باعثِ ندامت هے
آج کے انسان کے پاس خُود دُعا کرنے کا بهی وقت نہیں رہا ، وہ ضُرورت کی اور بہت سی چیزوں کے ساتھ دُعا کو بهی خرید لینا چاهتا هے ، خیر خریدنا تو انسان خُدا کو بهی چاهتا هے مگر وہ بِکتا نہیں ، جس کو پایا ہی نہیں ، اُسے کهونے کا ڈر کیسا ؟ دل دهرکتا هے ، ڈرتا هے ، مگر کرتا وہی هے جو چاهتا هے ، میری رُوح نے مُجهے بتایا کہ تُو میرا دُوسرا جِسم هے ،
میں نے کہا ،
ہمارے مُعاشرے میں انگریزی یا تو کتوں کے ساتھ بولی جاتی هے ، یا بزرگوں کے ساتھ ، بڑا حیران هوئے کہنے لگے نہ جانے هم بزرگوں کے ساتھ اُونچی آواز میں بات کیوں کرتے ہیں ، ایک ہی بات کو بار بار کیوں دہراتے ہیں ، جیسے وہ نہ سمجھ یا بہرے هوں ، جبکہ بُڑهاپے میں تنہائی کی بدولت سر گوشیاں بهی صاف سُنائی دیتی ہیں .
میر وسیم کا افسانہ ( منٹُو یار افسانہ پڑھ ) سے اقتباس

Wednesday, October 11, 2017

ماہ ،تمام ۔۔میر وسیم

 

''
ماہ تمام ''
معززاراکین فورم
سوشل میڈیا کے سب سے بڑے اور معتبر ترین ایونٹ عالمی افسانہ میلہ ( 2017 ) کو کامیاب بنانے میں صدرِ محفِل ، معزز مہمانان ، تخلیق کار خواتین و حضرات اور قارئین نے جس طرح اپنا حصہ ڈالا اس کے لیے ہم آپ سب کے تہہ دل سے شکرگزار ہیں ۔ آپ کی بھرپور شرکت کے بغیر اس قدر شاندار ایونٹ کروانا ممکن نہ هوتا ، اُردُو ادب میں افسانہ نگاری کی روایت بہت پُرانی هے ، ابتدا سے اب تک اِس فن نے طویل مُسافت طے کی هے ، ارتقائی منازل طے کرتے هوئے مغربی ادب سے استفادہ بهی کِیا اور ایک تسلسل سے ترقی کی هے ، ایک مخصوص تہذیبی پس منظر کی وجہ سے اختلاف عین فطری عمل هے ، لیکن ایک بات پر ادیب اور نقاد مُتفق ہیں کہ وہ شاعری هو یا فنِ افسانہ نگاری ادب مُعاشرے میں بے اعتدالیوں اورنا ہمواریوں سے جنم لیتا هے ، اورلکهنے والا اِس فنی شعُور کی پختگی اور بیان کی خُوش اسلوبی کو فن کا رُوپ دے کر دوام بخشتا هے ، اِس تخلیقی عمل کا مقصد اصلاح اور آسُودگی هوتا هے ، افسانہ نگاری کے ارتقاء میں جہاں ادیبوں کے فنی شعُور اور کاوشوں کا دخل هے وہاں بذات خُود اِس صنف میں ترقی کرنے کی صلاحیت موجُود هے ۔
عالمی افسانہ فورم نے دُنیا بهر کے افسانہ نگاروں کو صبر اور برداشت کا درس دینا چاها هے ، تا کہ سِیکهنے اور سِیکهانے کی فضا قائم رهے ، لمحہِ فِکریہ یہ هے کہ ، پهر اُسی بندُوق کی نالی هے میری سِمت کہ جو اِس سے پہلے بهی میری شہہ رگ کا لہو چاٹ چُکی ، کتنے افسانے ہماری نظر سے گُذرے ہیں ، لکهنے والا عُجلت کا شِکار نظر آیا ، پهر قاری سے نقاد سے ، تبصرہ نگار سے کیا شِکوہ کرنا ، اگر آپ اپنی تحریر کو خُود تنقیدی نگاہ سے دیکهتے ، تو اِن لوگوں کو بُرا بننے کی کیا ضرُورت تهی ، میں نے پہلے بهی کہیں کہا تها کہ ( ادب سو مِیٹر کی دوڑ نہیں هے ) آپ نے کبهی کسی بچے کو کہانی سُنائی هے ؟ وہ کہانی کے دوران بہت سے سوال پُوچهتا هے ، قاری بهی بچے کی طرح هوتا هے ، افسانہ پڑهتے هُوئے کئی سوال قاری کے دماغ میں آتے ہیں ، جِس کا جواب بہرحال داستان گو کو دینا هوتا هے ، لہذا لکهنے والے کو چاهیئے کہ نہ صِرف یہ کہ وہ اپنی کہانی بیان کرئے بلکہ ساتھ ساتھ قاری کے دماغ میں اُٹهنے والے سوالوں کا جواب بهی اپنی تحریر میں ( یعنی افسانے میں ) دیتا رهے ، یاد رکهیئے کہ قاری لکهنے والے سے دو قدم آگے هوتا هے ۔
عالمی افسانہ فورم اور اُس کے ایڈمنز اور معتبر تبصرہ نگار آپ کو آئینہ دکها سکتے ہیں ، آپ کی تحریر میں کیا کمی هے وہ بتا سکتے ہیں ، تا کہ آپ اپنی تحریر کو بہتر بنا سکیں ، مگرآپ کا ردِ عمل ہمیں یہ سوچنے پر مجبُور کرتا هے ، کہ هم نے اُن لوگوں کو آئینہ کیوں دِکهایا ؟ جِن کا چہرہ ہی نہیں هے ، زمانہ بدل گیا هے ، ایک وقت تها کہ اُستادوں کے جُوتے سیدهے کرنے پر فخر کِیا جاتا تها ، اُن کے گهر کا پانی بهرا جاتا تها ، پهر کہیں جا کر گیان مِلتا تها ، اُستاد کے پاس خزانہ هو نہ هو ، خزانے تک پہنچنے کا نقشہ ضرُور هوتا هے ، آج چاهے اُستاد نامی گرامی پہلوان کو خُود نہ گِرا سکتا هو ، مگر آپ کو گِرانے کا گُر بتا سکتا هے ، ہارنے والے کے پاس جِیت کے راز هوتے ہیں ، وہ شمع جو رات بهر جلتی رہی ، صُبح کا سُورج اُس سے آنکھ نہیں مِلا سکتا ، هم لوگ اپنی روایت کے قاتل ہیں ، ہمیں سزا ملنی چاهیئے ، کیونکہ شاگرد اپنی کمزور تحریر پر اُستاد سے بد کلامی کر رها هے ،
؎ ایک تو خواب لیئے پِهرتے هو گلیوں گلیوں 
اُس پر تکرار بهی کرتے هو خرِیدار کے ساتھ 
همارا مُعاشرہ تو بیمار هے اور یہ کیسے مُمکن هے کہ ایک بِیمار ٹہنی پر صحت مند گُلاب کِهلے ، لکهنے والے کی یہ عُجلت نہیں تو اور کیا هے ؟ اُردُو زبان میں ایک لفظ کے چار چار مُتبادل هونے کے باوجُود جلد بازی میں انگریزی کے لفظ استمال کر جاتے ہیں ، ایک لمحے کو بهی اُردُو زبان کے خزانے پر نظر نہیں ڈالتے ، گلزار نےکہا کہ 
؎ فقیری میں نوابی کا مزہ دیتی هے اُردُو 
کسی لکهنے والے نے دستک کو نوک لکها ، کہاں دستک ؟ دستک جب آپ لکهتے ہیں تو ایسا معلُوم هوتا هے کہ جیسے کوئی دروازے پر کهڑا هے اور دستک دے رها هے ، نوک پر تو دروازہ بهی کهولنے کو دل نہیں کرتا ، اِسی طرح جب آپ بانسُری لکهتے ہیں تو وہ بجنے بهی لگتی هے ، پائل ، چُوڑیاں ، اپنی مثال آپ ہیں ، قوسِ قزح لکهنے پر جو رنگ سامنے آتے ہیں وہ رین بو میں نمایاں نہیں هوتے ، جہاں مُصنف کی یہ عُجلت باعثِ ندامت هے وہاں لمحہِ فِکریہ بهی ، لکهنے والا موضوع کی بنجر زمیں پر اپنی سوچ کا ہل چلاتا هے ، کتنے افسوس کی بات هے کہ جب زمین هموار هو جاتی هے تو اُس کے پاس بونے کو لفظوں کے خُوبصُورت بِیج نہیں هوتے ، مانگے هوے زیور پہننے سے مُجهے نفرت هے ، میں اپنی خاک اپنی پوشاک پر فخر کرتا هُوں ، 
دُنیا کا کوئی بهی کاریگر اپنے اوزار کے بغیر کام نہیں کر سکتا ، کوئی بهی مصور رنگوں کے بغیر تصویر نہیں بنا سکتا ، تو پهر لکهنے والا بهی نہیں لکھ سکتا جب تک اُس کے پاس لفظوں کا ذخیرہ نہ هو ، یاد رهے کہ عالمی افسانہ فورم ایک درسگاہ هے ، جہاں هم ایک دُوسرے سے سِیکهتے ہیں ، هم لکهنے والوں کا قبیلہ ایک هے ، شوق ایک هے ، میدان ایک هے ، جنگ ایک هے ، تو پهر هم ایک دُوسرے سے سیکهتے کیوں نہیں ، آپ کا اِسلوب اچها هے ، تو مُجهے آپ سے سِیکهنا چاهیے ، اُسکا بیانیہ اچها هے ، تو آپ اُس کے بیانیہ سے سیکهنے میں شرم محُسوس نہ کریں ۔
خاندان کے لوگوں میں لین دین توچلتا ہی هے مُجهے اچهی طرح یاد هے کہ بچپن میں سکول جاتے هوے هم چاروں بهائی تیار هوتے ایک دُوسرے کی بڑی مدد کرتے تهے ، میں اپنی قمیض کے بٹن اُوپر نیچے لگاتا تها ، دُوسرے بهائی بٹن تو ٹهیک لگاتے مگر اُن کو ٹائی باندهنے میں مسئلہ تها ، اور جو بهائی ٹائی باندهنے میں ماهر تهے وہ بُوٹ کے تسمے باندهنے میں مہارت نہ رکهتے تهے ، هم ایک دُوسرے کی بڑی مدد کرتے تهے هم سب نے ایک دُوسرے سے سِیکها ، تو یہاں کیوں نہیں ، میں ادب اور سنجیدگی کے باہمی اور گہرے رشتے کا پوری سنجیدگی سے قائل ہوں، اسی لیے سمجھتا ہوں کہ اعلیٰ ادب میں جس چیز کو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ ہم محسوس کرتے ہیں، وہ اعلیٰ سطح کی سنجیدگی ہے۔ ادب میں سنجیدگی سے مُراد ہے ایک ذمہ دارانہ اور باشعور رویّے کا اظہار۔ یہ اظہار موضوع کے انتخاب میں بھی ہوتا ہے، اُس کے ٹریٹمنٹ کے مرحلے میں بھی ہوتا ہے، اسلوبِ بیان کے ذریعے بھی ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں اس رویّے کا اظہار لفظیات میں اور متن کے سانچے میں بھی ہوتا ہے اور اس کے ساتھ معنی کی سطح پر بھی ہوتا ہے۔ یہی نہیں، بلکہ اس سے آگے معنی کے معنی میں بھی اس کا اظہار ہوتا ہے ۔
همیں ایک دُوسرے سے بس یہ ہی سیکهنا هے ، اس میلہ میں جس طرح آپ سب نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ، تجزیوں اور تبصروں میں شریک ہوئے ۔ اپنے افسانے پیش کیے ۔ اور اس میلہ کو کامیاب بنایا اس کے لیے عالمی افسانہ فورم کی انتظامیہ آپ سب کی بے حد شکرگزار هے ، میں نے کہا تها کہ ، سِلسلہ ٹُوٹا نہیں هے درد کی زنجیر کا ، عالمی افسانہ فورم اپنے سارے رنگ آپ پر نِچهاور کر کے اب چلا هے نئے اُفق کی تلاش میں ، کہ هم اپنا امریکہ خُود دریافت کرتے ہیں ، میر وسیم