Monday, January 8, 2018

 تیرے وعدے پر ۔۔
نئے سال کا پہلا سورج طلوع ہونے والا ہے ۔۔ہر طرف نئے سال کے استقبال کی تیّاریاں زور و شور پر ہیں ۔۔۔۔سرد ترین موسم میں ایک حرارت کی لہر ہے ۔ اپنے اپنے طریقے سے نئے سال کو خوش آمدید کہا جارہا ہے ۔نوعمر لڑکے لڑکیوں کی پارٹیز اپنے عروج پر ہیں ۔عمر رسیدہ لوگ  آتش دان کے سامنے بیٹھے پرانے زمانوں کو یاد کر رہے ہیں ۔شام کے خوابیدہ دھندھلکے میں وہ اپنے خوابوں کی جانب محوئے سفر ہیں ،جہاں وہ اپنی طرح اس شام کو سجا سنوار کر مناتے تھے آنے والے نئے سال کی شام کا فسوں ہر جانب پھیلا نظر آرہا تھا ۔
 ۔ملازمہ نے سامنے  گرم کافی رکھ دی ہے ،کافی کی سطح پر مجھے اسی کی تصویر نظر آرہی ہے ۔سانولا رنگ کھڑی ناک اور چہرے پر بے شمار جھرُ ریاں لئے ہوئے وہ خوبصورت بوڑھا جو مجھے آفس کی سیڑھیوں کے پاس ایک بوسیدہ چٹائی بچھائے ہوئے بیٹھا ملتا تھا ۔لوگ اسکی چٹائی  کے کنارے پیسے پھینک کر چلے جاتے وہ ہاتھ اٹھا کر دعا دیتا مگر میں نے کبھی اسکو کسی سے کچھ مانگتے نہیں دیکھا ۔۔۔بس خاموش کسی سوچ میں گم ۔۔۔
آج کئی دن سے شدید سردی ہے ،ٹھنڈ کی لہر نے کئی شہروں  کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔کہرے کی وجہ سے سانس لینا دشوار ہے ۔تھوڑی دور تک بھی راستہ صاف دکھائی نہیں دیتا ۔۔۔لوگوں نے بغیر کسی اشد  ضرورت، گھر سے باہر نکلنا بند کر دیا ہے ۔۔۔۔کہیں کہیں کچھ منچلے سگرٹ کا دھواں اڑاتے تیز بائیک چلاتے نظر آتے ہیں ان کے قہقہوں سے ماحول میں کچھ حرارت سی بھر جاتی ہے ۔ورنہ پھر وہی سننا ٹا اور کپکپاتے وجود ۔۔کوئی دبیز کوٹ پہنے ہوئے اور کوئی سو ئیٹر دستانے گرم اونی ٹوپی پہن کر سڑک پر نکل رہا ہے ۔
امیروں کی بات کی جائے تو وہ اپنی ایر کنڈیشنر کاروں میں یوں زوں کر کے نکلتے ہیں گو یا باقی سب کا مزاق اڑا رہے ہوں ۔۔۔اور اپنے ایر کنڈیشن گھروں میں آرام سے ہر موسم سے نپٹنے کے لئے تّیار۔۔
عام آدمی اپنی ضروریات پہن اوڑھ کر پوری کر تا نظر آتا ہے ۔
سردی اپنے عروج پر ہے کچھ درد مند انسان غریبوں میں چادریں تقسیم کر تے نظر آئے کچھ چائے والوں نے اپنے ارد گرد بیٹھے فقیروں کو مفت چائے پلا نی شروع کر دی تھی ۔
شہر کے نیتا اکثر غریبوں کو چادریں اور چائے بانٹتے بھی نظر آئے ۔انکے ساتھ خاص بات انکا فوٹو گرا فر ہوتا ہے جو ہمیشہ انکے ہاتھ سے کچھ دیتے ہوئے تصویر ضرور کھنچتا ہے ۔
انکا فوٹو گرافرانکے لیئے بہت کچھ کرتا ہے ۔ایک بار ایسا ہی قصّہ سنا تھا کہ کسی لیڈر نے بلڈ ڈونشن کی  خبر اخبار اور ٹی وی میں بھیجی تھی بعد میں پتہ چلا کہ انکے سامنے رکھی ہوئی تمام بوتلوں میں گہرا سرخ رنگ تھا ۔اور ایک شخص  کمپونڈربنا ہوا  انجکشن لیئے کھڑا ہوتا وہ اپنے کرتے کی آستین چڑھا تے اور انجکشن کی نوک انکی نس پر رکھ دی جاتی ۔۔تصویریں کھٹا کھٹ کھینچ لی جاتیں ۔۔ویڈیو اپ لوڈ ہوجاتے ۔۔۔پھر تماشہ ختم ۔۔بوتلیں پھنک دی جاتیں سب اپنے اپنے پیسے لیتے اور نیتا جی مشہور ہوجاتے ۔۔خیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں بوڑھے با با کی کہانی سنارہی تھی ۔اسکو میں نے ہمیشہ ایک پرانے موٹے مگر جگہ جگہ سے پھٹے کمبل میں لپٹا دیکھا ۔کئی بر سوں سے وہی کمبل لپیٹے وہ اسی جگہ گم سم بیٹھا ہوا تھا ۔۔
لوگ ترس کھاکر کچھ کھانے کو دے دیتے کبھی ہوٹل والا صبح اسے چائے پلا دیتا ۔کئی بار میں نے سوچا اسکو کچھ کپڑے بنوا دونگی ۔مگر میری اپنی اتنی ذمہ داریاں ہیں کہ نہ وقت نکال سکی نہ پیسے ۔
سردیوں کی شام بڑی خوب صورت ہوتی ہے جگہ جگہ جب سڑ ک پر لگی روشنیاں کہرے سے گھر جاتیں تو ہلکی نیلی سی روشنی اپنے آپ میں دھنک کے رنگ دکھانے لگتی ۔۔سورج ڈوبتے ڈوبتے دوسرے دن آنے کا وعدہ کرتے ہوئے گہرا  نارنجی ہوجاتا ۔۔۔۔اور پھر آسمان کا سر مئی رنگ کھل اٹھتا  ۔تیز ہوا اور کہرہ مل کر ایک نیا ساماحول بنا دیتے ۔۔۔کبھی کبھی آفس سے واپسی پر میں اس موسم اور ماحول کا مزا لینے کے لئے ایک بس چھوڑ دیا کرتی اور دس منٹ بعد آنے والی دوسری بس کا انتظار کرتی ۔۔ہلکی ٹھنڈی ہوا جب چہرے کو چھوتی تو ایک تازگی کا احساس ہوتا ۔۔
آج نئے سال کی پہلی صبح تھی ۔رات کے ہنگاموں کے بعد لوگ نیند کے مزے لے رہے تھے۔مجھے آفس پہنچنا ضروری تھا اسلیئے شدید سر دی کے باوجود تیزی سے تیا رہوکر بلڈنگ سے نیچے آگئی ۔۔بس اسٹینڈ پر ذیادہ بھیڑ بھی نہیں ملی ۔بس میں بیٹھ کر بیتی رات دوستوں کے ساتھ مزے دار پارٹی یاد کرتے کرتے آنکھیں بند ہونے لگیں نیند کے جھونکے آنے لگے تبھی میرا اسٹاپ آگیا ۔بہت بے دلی سے اتر کر پیدل ہی آفس کی سڑک پر چلتی گئی ۔۔موٹے کوٹ ،سوئیٹر اور دستانوں کے باوجود بس سے اتر کر شدید سر دی کا احساس ہوا ۔
 آفس کے باہر ایک بھیڑ لگی دیکھی تو قدم خود بخود ادھر اٹھ گئے ۔بوڑھا با با اپنی میلی چٹائی پر لیٹا ہوا تھا  کئی لوگ آس پاس کھڑے تھے ۔
مگر کل تک تو بالکل ٹھیک تھا ۔؟ مجھے چائے والے نے وہاں سے  ہٹ جانے کو کہا تو میں سڑھیوں کی طرف بڑھ گئی وہ بھی میرے ساتھ ادھر ہی آگیا ۔
"کیا ہوا با با کو ؟"
"بی بی کل نیتا جی کی طرف سے غریبوں کو کمبل بانٹے گئے ۔۔با با بہت خوش تھا ۔ایک کمبل مجھے بھی ملا تھا ۔۔کیمرہ اخبار والے ٹی وی والے سب آگئے تھے ۔
۔۔یہ جو سامنے فٹ پاتھ پر کئی لوگ لیٹے رہتے ہیں نا وہ سب بہت خوش تھے ۔۔" وہ کچھ دیر کے لئے  چپ ہوگیا ۔میری نظر پھر ادھر اٹھ گئی ۔مگر با با کے اوپر تو اسکا وہی پرا نا کمبل ہے ؟
"پھر بی بی جی رات کو کچھ لوگ آئے اور سبکے کمبل یہ کہہ کر واپس لے گئے کہ یہ غلط آگئے ہیں ابھی دوسرے بڑے کمبل دیئے جائیں گے ۔۔وہ لوگ کمبل کی دوکان والے تھے ۔میرا دوست انکو جانتا ہے وہ یہیں میری دوکان پر پان کھانے آیا ہوا تھا اس نے انھیں پہچان لیا ۔
"پھر ؟؟؟"
پھر کچھ نہیں بی بی ۔۔ کوئی کمبل نہیں آئے ۔بوڑھا با با سردی سے نہیں مرا ، آس سے مر گیا ۔۔"
کچھ دیر اور کھڑی رہتی تو شاید کھڑے رہنے کی سکت بھی ختم ہوجاتی ۔تیزی سے سیڑھیاں چڑھ کر آفس کے اندر آگئی ۔
٭٭٭٭٭

No comments:

Post a Comment