آہ ۔۔۔۔
راشدہ آپا !
وہ اس طرح دبے پاؤں بزم سے اٹھ کر چلی گئیں جیسے وقفہ لیا ہو ۔۔۔ذہن یہ ماننے پر آمادہ نہیں کہ اب وہ نہیں ہیں ،لوٹ کر نہیں آئیں گی ۔۔
ماہ کی درمیانی تاریخوں میں انکا فون نہیں آئے گا ۔۔۔پہلے سلام کرتیں ، خیریت دریافت کرتیں پھر لہک کر بتاتیں ۔
"میٹنگ ہے ۔۔۔فلان کے گھر میں ۔۔تم کو پتہ تو معلوم ہے نا ؟ اور نہ معلوم ہو تو اتنی محنت اور محبت سے سمجھاتیں کہ پیار آجاتا ۔۔
جی ۔۔جی ۔میں پہونچ جاؤں گی میرا جواب سنکر فوراً فر مائش کرتیں ۔۔
بھئی پڑھنے کو کچھ ضرور لیتی آنا ۔۔کوئی افسانہ کوئی مضمون کچھ بھی ۔
یہ آوازیں میرے کانوں میں گونجتی ہیں ۔۔۔میں کیا کروں کیسے انھیں بھولوں ؟
اردو باغ میں کیسے رنگا رنگ پودے لگائے اور اپنی محبتوّں سے انکو سیراب کرتی رہیں ۔ایک خواب جو خلیل الرحمنٰ اعظمیٰ صاحب نے دیکھا تھا اسکی تعبیر راشدہ آپا نے اس طرح ڈھونڈ نکالی کہ اپنے اردو باغ کواپنی کاوشوں سے سیراب کیا ۔علی گڑھ ہی نہیں الگ الگ شہروں سے لکھنے والوں کو ڈھونڈ لائیں ۔انکا رسالہ "بزم ادب " خواتین کی تصانیف سے مہکتا رہتا ۔اور دوسرے ملکوں میں بھی لوگ ان سے واقف ہو گئے تھے امریکہ ،کینڈا ،سے بھی تعریفی خطوط آتے ۔سبکو رسالہ پابندی سے پہنچایا کرتیں ۔خلیل الرحمٰن اعظمی نمبر میں د یبا چہ میں لکھتی ہیں ۔
" آج کی عورت ساری دنیا پر چھائی ہوئی ہے ۔کون سامیدان ایسا
ہے جہاں اس نے قدم نہ جمائے ہوں ۔شعر وادب ہو مذہب کا
میدان ہو ،سیاسی سماجی معاشرتی ،قوم کی فلاح وبہبود یا ملک
کی ترقّی کا ،ہر جگہ وہ اپنی فعال حیثیت کا مظاہرہ کر رہی ہے "۔
اپنی تحریروں اور میں اور عملی طور پر بھی عورتوں کو اپنا مقام پہچنوانا چاہتی تھیں ۔اردو زبان کی محبّت انکے ہر عمل سے ظاہر تھی ۔معیاری ادب لکھنے والوں کی انکی نظر میں بے حد عزّت تھی ۔کوئی اچھّا افسانہ یا نظم سنتیں تو دل کھول کر داد دیتیں ۔لکھنے والوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کر تیں ۔انھوں نے اردو کی ترویح کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا تھا ۔
خلوص و محبّت عاجزی اور انکساری انکی طبیعت میں رچی بسی تھی ۔وہ چاہتی تھیں کہ خواتین ارود ادب کی تر ویح میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیں ۔
۔۔اب تو آپکا باغ ہرا بھرا ہوگیا تھا ۔۔۔اب آپ کیوں چلی گئیں ۔؟
بزم ادب کی محفل شروع ہوتی تو بعد تلاوت ِپاک راشدہ آپا رپورٹ پڑھا کرتی تھیں (تھیں لکھتے ہوئے بھی ہاتھ کانپتا ہے )
اس رپورٹ میں بزم ِ ادب کی پوری تفصیل ، محفل کس کے گھر پر رہی کس ممبر نے کیا سنایا حتٰیّ یہاں تک بتاتیں کہ ضیافت کن مزے دار پکوانوں سے ہوئی ۔
سب سے عجیب اور حیران کن بات یہ ہے کہ ہر ممبر سمجھتا ہے کہ راشدہ آپا کو ان سے "سب سے "ذیادہ محبت تھی ۔انکا اخلاق ایسا تھا کہ آج کے دور میں یہ جذبہ نا پید ہے ۔۔بے لوث محبّت کرتی تھیں ،انکی محبت میں کوئی غرض پوشیدہ نہیں تھی۔وہ جب مجھے "میرا فوٹو گرافر " کہہ کر پکارتیں تو میرا خوشی سے عجب عالم ہوتا ۔
کچھ گم نام خواتین کو اپنی ادبی محفل مین اسطرح شامل کیا کہ انکے نام سامنے آگئے ۔وہ تاعمر ادب کی خدمت کرتی رہیں ،جوت جلاتی رہیں ۔
وہ ہمیں ایک خواب دے گئی ہیں ۔۔۔اور ہمیں اس خواب کو پورا کرنا ہے ۔یہ ایک نسائی ادب کی تحریک ہے جو انھوں نے ہماری آنکھوں ،ہمارے قلم ،ہمارے جذبوں میں پنہا کر دی ہے ۔اور ہمکو یہ کوشش کرنی ہے کہ یہ بزم یوں ہی قائم رہے ۔۔یہ چراغ یوں ہی جلتے رہیں ما شاء اللہ ۔وہ اپنے چمن کو بھی ہرا بھرا چھوڑ گئی ہیں انکے بچّے بھی ادبی ذوق سے ما لا مال ہیں سب بچّوں کے زخمی دلوں کو صبر اور سکون عطا ہو ۔انکی کاوشوں کو اللہ کامیاب فر مائے ۔اس طرح انکی روح کو سکون عطا ہوگا ۔
اردو باغ ہمیشہ مہکتا رہے ۔۔آمین ۔
وہ اس طرح دبے پاؤں بزم سے اٹھ کر چلی گئیں جیسے وقفہ لیا ہو ۔۔۔ذہن یہ ماننے پر آمادہ نہیں کہ اب وہ نہیں ہیں ،لوٹ کر نہیں آئیں گی ۔۔
ماہ کی درمیانی تاریخوں میں انکا فون نہیں آئے گا ۔۔۔پہلے سلام کرتیں ، خیریت دریافت کرتیں پھر لہک کر بتاتیں ۔
"میٹنگ ہے ۔۔۔فلان کے گھر میں ۔۔تم کو پتہ تو معلوم ہے نا ؟ اور نہ معلوم ہو تو اتنی محنت اور محبت سے سمجھاتیں کہ پیار آجاتا ۔۔
جی ۔۔جی ۔میں پہونچ جاؤں گی میرا جواب سنکر فوراً فر مائش کرتیں ۔۔
بھئی پڑھنے کو کچھ ضرور لیتی آنا ۔۔کوئی افسانہ کوئی مضمون کچھ بھی ۔
یہ آوازیں میرے کانوں میں گونجتی ہیں ۔۔۔میں کیا کروں کیسے انھیں بھولوں ؟
اردو باغ میں کیسے رنگا رنگ پودے لگائے اور اپنی محبتوّں سے انکو سیراب کرتی رہیں ۔ایک خواب جو خلیل الرحمنٰ اعظمیٰ صاحب نے دیکھا تھا اسکی تعبیر راشدہ آپا نے اس طرح ڈھونڈ نکالی کہ اپنے اردو باغ کواپنی کاوشوں سے سیراب کیا ۔علی گڑھ ہی نہیں الگ الگ شہروں سے لکھنے والوں کو ڈھونڈ لائیں ۔انکا رسالہ "بزم ادب " خواتین کی تصانیف سے مہکتا رہتا ۔اور دوسرے ملکوں میں بھی لوگ ان سے واقف ہو گئے تھے امریکہ ،کینڈا ،سے بھی تعریفی خطوط آتے ۔سبکو رسالہ پابندی سے پہنچایا کرتیں ۔خلیل الرحمٰن اعظمی نمبر میں د یبا چہ میں لکھتی ہیں ۔
" آج کی عورت ساری دنیا پر چھائی ہوئی ہے ۔کون سامیدان ایسا
ہے جہاں اس نے قدم نہ جمائے ہوں ۔شعر وادب ہو مذہب کا
میدان ہو ،سیاسی سماجی معاشرتی ،قوم کی فلاح وبہبود یا ملک
کی ترقّی کا ،ہر جگہ وہ اپنی فعال حیثیت کا مظاہرہ کر رہی ہے "۔
اپنی تحریروں اور میں اور عملی طور پر بھی عورتوں کو اپنا مقام پہچنوانا چاہتی تھیں ۔اردو زبان کی محبّت انکے ہر عمل سے ظاہر تھی ۔معیاری ادب لکھنے والوں کی انکی نظر میں بے حد عزّت تھی ۔کوئی اچھّا افسانہ یا نظم سنتیں تو دل کھول کر داد دیتیں ۔لکھنے والوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کر تیں ۔انھوں نے اردو کی ترویح کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا تھا ۔
خلوص و محبّت عاجزی اور انکساری انکی طبیعت میں رچی بسی تھی ۔وہ چاہتی تھیں کہ خواتین ارود ادب کی تر ویح میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیں ۔
۔۔اب تو آپکا باغ ہرا بھرا ہوگیا تھا ۔۔۔اب آپ کیوں چلی گئیں ۔؟
بزم ادب کی محفل شروع ہوتی تو بعد تلاوت ِپاک راشدہ آپا رپورٹ پڑھا کرتی تھیں (تھیں لکھتے ہوئے بھی ہاتھ کانپتا ہے )
اس رپورٹ میں بزم ِ ادب کی پوری تفصیل ، محفل کس کے گھر پر رہی کس ممبر نے کیا سنایا حتٰیّ یہاں تک بتاتیں کہ ضیافت کن مزے دار پکوانوں سے ہوئی ۔
سب سے عجیب اور حیران کن بات یہ ہے کہ ہر ممبر سمجھتا ہے کہ راشدہ آپا کو ان سے "سب سے "ذیادہ محبت تھی ۔انکا اخلاق ایسا تھا کہ آج کے دور میں یہ جذبہ نا پید ہے ۔۔بے لوث محبّت کرتی تھیں ،انکی محبت میں کوئی غرض پوشیدہ نہیں تھی۔وہ جب مجھے "میرا فوٹو گرافر " کہہ کر پکارتیں تو میرا خوشی سے عجب عالم ہوتا ۔
کچھ گم نام خواتین کو اپنی ادبی محفل مین اسطرح شامل کیا کہ انکے نام سامنے آگئے ۔وہ تاعمر ادب کی خدمت کرتی رہیں ،جوت جلاتی رہیں ۔
وہ ہمیں ایک خواب دے گئی ہیں ۔۔۔اور ہمیں اس خواب کو پورا کرنا ہے ۔یہ ایک نسائی ادب کی تحریک ہے جو انھوں نے ہماری آنکھوں ،ہمارے قلم ،ہمارے جذبوں میں پنہا کر دی ہے ۔اور ہمکو یہ کوشش کرنی ہے کہ یہ بزم یوں ہی قائم رہے ۔۔یہ چراغ یوں ہی جلتے رہیں ما شاء اللہ ۔وہ اپنے چمن کو بھی ہرا بھرا چھوڑ گئی ہیں انکے بچّے بھی ادبی ذوق سے ما لا مال ہیں سب بچّوں کے زخمی دلوں کو صبر اور سکون عطا ہو ۔انکی کاوشوں کو اللہ کامیاب فر مائے ۔اس طرح انکی روح کو سکون عطا ہوگا ۔
اردو باغ ہمیشہ مہکتا رہے ۔۔آمین ۔
No comments:
Post a Comment