Monday, May 21, 2018


بس ایک نقطہ ۔۔۔
"کا ہو مناّ کے ابّا ۔۔آج کھانا کھائے کھاتر گھر کاہے نا ہی آئیو ؟۔۔"
گنگا نے اپنے سر پر سوتی ،پرانی جگہ جگہ سے پیوند لگی ساری کا آنچل درست کیا ۔اور میلا سا رومال  کھول کر دو جو کی روٹیاں ایک پھانک اچار  نکال کر شہتوت کے نیچے دستر خوان سجا دیا ۔
وجئی نے پھاوڑا درخت کے ایک کنارے رکھّا  اور انگوچھے سے ہاتھ صاف کر تا ہوا بولا ۔
"بچّے کچھو کھائین ۔۔۔؟
ہاں ہاں کھائے لہن ۔تم ای روٹی کھائیے لیو  سارا سارا دن گرمی ما ہیا ں لگے رہت ہو۔کھیہو نہ تو کیسے کریہو ۔۔۔۔۔"
گنگا نے پیتل کی پانی بھری بندھنی ہری گھانس پر جمادی اور خود ایک کنارے بیٹھ کر پیر پھیلا دیئے ۔دور سے چل کر آئی گنگا تھکن سے چور تھی ۔۔ہری گھانس کی ٹھنڈک بھلی لگ رہی تھی ۔
وجئی کی نگاہیں کھیت پر لگی تھیں ۔۔اسکے اندر ایک ابلا سا آرہا تھا جیسے وہ کچھ طے نہ کر پارہا ہو ۔۔
روٹی کی طرف ہاتھ بڑھائے بغیر اسکی نگاہیں گنگا کے ناتواں چہرے پر جمی تھیں ۔
کتنی سندر تھی وہ ۔چاندی کی پایلیں چھن چھن کرتی جب میرے مٹّی کے آنگن میں اتری تھی ۔۔۔
اپسرا جیسی لگتی تھی ۔۔۔میں کچھ نہ دے سکا اسکو ۔۔چار بچّے غریبی فاقہ کشی اور شدید محنت ۔۔۔جس نے اسےُ نچوڑ کر رکھ دیا تھا ۔
وہ پیڑ کے نیچے گٹھری بنی لیٹی تھی ۔اس انتظار میں کہ وہ کھانا ختم کرے تو برتن لیکر گھر جائے ۔
وجئی کا اصلی نام تو وجے پر شاد تھا مگر بگڑتے بگڑتے  سات نقطوں میں بس ایک نقطہ رہ گیا تھا ۔
پہلے تو اچھی خاصی زمین کا مالک تھا وہ اپنی ہی زمین پر مٹّی کا لپا پتُا گھر ،تین بچّے اور اپسرا جیسی گنگا ۔ایک محنتی اور ایمان دار انسان کو اس سے ذیادہ کی خواہش بھی نہیں ہوتی ۔بچّے اسکول میں پڑھ رہے تھے ۔انکے لیئے بڑے خواب دیکھے تھے دونوں نے ۔
سارے دن کی محنت مشّقت کے بعد بھی دونوں خوش رہتے تھے ۔
پچھلی بار کچھ فصل کم ہوئی اور مکھیا نے سرکار سے قرضہ لینے کا راستہ دکھا یا ۔
"ارے کاہے گھبرا ت ہو ۔۔ہم بیٹھے ہیں نا ؟ قرضہ نہ لیہو تو ای بیج اور کھاد کہاں سے ایئہے ؟سیکڑن کسان قرضہ لیئے بیٹھے ہیں کام چلاوت ہیں ۔تم ہو لے لیو ۔۔۔فصل اچھّی ہو جیئہے تو ایکّے بار میں سب قرضہ اتر جیہئے ۔
اور جو فصل اچھّی نہ ہوئی تو ۔۔۔،اسکے ذہن میں خدشے پل رہے تھے ۔
تو کونو بات نہیں تھو ڑا دے دیہو ۔۔تھوڑا اگلی بار ۔۔۔گنگا کا کچھ زیور تو ہوئی ؟؟ رہن رکھ دیو ۔
نا ہی مکھیا جی ۔۔۔ای نہ کہیو ۔۔۔اتنی بے عجتّی نہ سہہ پو بے ۔۔۔"
کچھ جمین نکال دیہو دوئی بگہا بہت ہیں تمکا ۔۔۔باقی نکال دیو ،جب قرضہ واپس ہوجائی تو پھر آپن جمین ۔۔۔ اگلی بار واپس مل جائے ۔۔ہمری مانو تو قرضہ لے لیو ۔۔سب ہوئی جات ہے ۔۔
پھر قرضہ تو ادا نہ ہوسکا ،ایک ایک کرکے کئی زمینوں کے ٹکڑے بک گئے ۔۔سود وہیں کا وہیں رہا ۔اس بار بارش ہو جاتی تو شاید ۔۔۔
اسنے آسمان کی طرف نظر کی ایک بھی بادل کا ٹکڑا دکھائی نہیں دیا ۔گیہوں کی کھڑی فصل بے وقت  بارش  ہوجانے سے پہلے ہی بر باد ہوچکی تھی ۔
ساری زمین یا تو رہن پڑی تھی یا قرضوں کی نذر ہوگئی ۔
وہ بچے ہوئے آخری کھیت کی مینڈ پر بیٹھا خلاؤں میں تکتا رہتا ۔کہیں سے کوئی مدد نہیں ۔۔گاؤں میں تقریباً سبھی کسانوں کا ایک سا حال تھا کون کس کے قرضے اتار تا کون کسکے کاندھے پر سر رکھ کر روتا ۔سب اپنی ہی آستین سے آنسو پوچھتے رہے ۔دھوپ میں جل جل کر کسانوں کی رنگت سیاہ پڑ چکی تھی ۔
لوگ یہ بھی نہیں سوچتے کہ اگر کسان نہ ہو تو انکا دستر خوان کیسے سجے گا ؟
سر کار قرضہ دے دیتی ہے ۔جگنو کی چمک جیسی خوشی ۔۔اور پھروہی اندھیا را ۔قرضے کی وصولی کے نام پر انکا چین سکون یہاں تک کہ انکے خواب بھی ان سے چھین لیتی ہے ۔
جس طرح پانی میں برف گھل کر اپنا وجود کھو دیتی ہے اسی طرح انسانوں کے اس سمندر میں کسان اپنا وجود کھو رہا ہے ۔
بچّوں کی اعلیٰ تعلیم اسکا خواب تھے مگر وہ انکو زمین پر پھاوڑا چلاتے دیکھتا تھا ۔۔وہ تینوں بچے صبح شام آکر اسکا ہاتھ بٹاتے تو وہ کراہ اٹھتا ۔
اسکی ساری خواہشات دم تو ڑچکی تھیں ۔کب تک ؟
آخر کب تک ؟
بس یہ آخری سوال تھا جو اسکے ذہن میں آیا ۔اسنے کمر سے بندھی پڑیا کھول کرزہر پانی کے ساتھ رگوں میں اتارا  تب گنگا ہری گھانس پربے خبر  سورہی تھی ۔
٭٭٭٭٭


Thursday, March 8, 2018




بستہ۔
از زارا قدوائی
جوائینس برگ ۔افریقہ
کوئی ڈھونڈ کے دیتا مجھکو تو
ایک عمر کی زحمت کم ہوتی ۔
کہیں بھول کے بیٹھی ہوں اسکو
بستہ جو کتا بوں والا تھا ۔

کچھ بات لکھی تھی پر چوں پر
کچھ ٹوٹی پینسل رکھّی تھیں
اسُ بستے میں میری سارے
بچپن کی یادیں رکھّی  تھیں

کچھ ٹوفی کے کاغذ سے بھی
گڑ یوں کی فرا کیں بنُ لی تھیں
ایک پینسل کے ڈبّے میں وہ
چاکیں کھریاں سب رکھیّ تھیں

بدماشی کے قصّوں کا بھی
اک بکسہ تھا اسمیں شاید
کچھ دوست پرانے تھے جو تب
نمبر انکا بھی تھا شاید

ہر چیز کہیں تو جیسے اب
کچھ ہاتھ سے چھُٹتی جاتی ہے
اس بستے کی اب مجھکو تو
بس یاد بہت ہی آتی ہے

کوئی ڈھونڈ کے لا دیتا مجھکو
ایک عمر کی زحمت کم ہوتی
کہیں بھول کے بیٹھی ہو ں اسکو
بستہ جو کتا بوں والا تھا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


پر چھائیاں ۔
آسمان ہلکا نیلا  تھا اور ایکا دکا ستارے چمک رہے تھے ۔ پارک میں سیڑیوں پر بیٹھے بیٹھے اوپر دیکھا اور پھر دھیرے سے بولی ۔
"جیسے نیلی ساری پر ستارے ٹنکے ہوں "
"میں لا یا تو تھا تمہارے لئے ،نیلی ساری ۔تم نے پہنی ہی نہیں ۔
"کیونکہ میں آسمان نہیں ہوں ۔"کچھ دور کھیلتے بچوں پر نظر جماتے ہوئے خود کلامی کی ۔۔۔میں تو زمین ہوں۔

پورے چھے سال کے بعد یہ اسے چھوڑ کر پھر سے میرے پاس آگئے دوبارہ ۔۔کہیں نہ جانے کے لیئے ۔مگر رات جب میں بستر پر گئی تو وہ مجھے برا بر لیٹی ہوئی صاف دکھائی دی ۔۔۔اسنے سرخ نائیٹی پہنی ہوئی تھی اسکے سنہرے بال کھلے ہوئے تھے ۔اسنے مجھے شرارت سے مسکرا کر دیکھا اور ایک جھٹکے سے انکے سینے میں منھ چھپا لیا ۔۔میں ہونق دیکھتی رہ گئی ۔دل زور سے دھڑک رہا تھا بدن پسینے میں تر ہوگیا ۔میں شرمندہ سی برا بر والے کمرے میں چلی آئی  ایک بار انھوں نے پلٹ کر میری جانب دیکھا ۔ہاتھ بھی بڑھا یا تھا مگر ۔بس یہ تو حد ہوگئی ۔
دوسرے کمرے میں آکر میں بستر کے ایک سائیڈ پر اوندھی گری ۔پھر سر اٹھا کر دیکھا ۔وہ سویا ہوا تھا ۔
آہستہ سے سیدھی ہوکر سونے لیٹ گئی کہ کہیں اسکی نیند نہ ٹوٹ جائے ۔سارے دن نہ جانے کہاں کہاں مارا پھر تا ہے اب آکر سکون سے سویا ہے تو نیند تو نہ خراب کروں ۔مگر اسکے پاس ہونے سے دل میں سکون اتر آیا ۔آنسو بھی رکُ گئے اور نیند بھی آگئی ۔
۔صبح دیکھا تو وہ چائے پی رہے تھے ۔
مجھے اٹھنے میں دیر جو ہوگئی اسی نے بنا کر دی ہوگی ۔۔اپنے کمرے میں جھا نکا آئینے کے سامنے بال بنا تی نظر آئی ۔۔سنہرے بالوں کی کچھ بھیگی سی لٹیں آہستہ آہستہ انگلیوں سے سلجھا رہی تھی ۔ کچھ گنگنا بھی رہی تھی
۔مجھے دیکھ کر مسکرائی کنگھا ہاتھ سے رکھ دیا اور میں دروازے سے ہٹ کر کچن میں آگئی ۔اپنے لیئے چائے بنائی ۔گھونٹ گھونٹ پیتی رہی ۔یہ اپنی ضروریات سے فارغ ہوکر باہر نکل گئے ۔ناشتہ کے لئے نہ  انھوں نے کہا نہ میں  نے بنا یا ۔ گھر کی چھت پر آکرنیچے سڑک پر  آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھتی رہی ۔دھوپ تیز ہورہی تھی اور نیچے اترنے کا اسکا سامنا کرنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا ۔ایک عجیب سی الجھن اور بے چینی تھی ۔مگر نیچے آنا پڑا کئی کام ادھورے پڑے تھے ۔کہیں نظر نہیں آئی ۔۔تو سکون کا سانس لیکر کاموں میں لگ گئی ۔
اب دن اسی طرح کٹنے لگے تھے رات کے کھانے کے بعد جب یہ کمرے میں جاتے تو مجھے آواز دیتے میں اندر جھانکتی تو وہ بستر کی ہر سلوٹ میں دکھائی دیتی ۔
پھر دھیرے دھیرے میرا ملال کم ہونے لگا تھا یا یہ کہ میں نے خود حالات سے سمجھوتہ کر لیا تھا ۔
ایک دن میرے سر میں شدید درد تھا وہ دھیرے سے آکر پاس بیٹھ گئی اسنے میرے سر پر ہاتھ رکھنا چاہا تو میں نے جھٹک دیا ۔وہ ایکدم باہر نکل گئی ۔۔مگر اس دن کے بعد میں اپنے رویئے پر شرمندہ ہوئی اور جب چائے بناتے ہوئے گرم پانی ہاتھ پر چھلک گیا اور اس نے گھبرا کر ایک دم  اپنے ٹھنڈے یخ ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھے تو میں نہ جھٹک سکی ۔
اسکے ہاتھوں کی ٹھنڈک میں پہلے بھی محسوس کر چکی تھی۔
جب پہلی بار میں اسکے شہر گئی تھی سوچا تھا انکو سمجھا کر گھر لے آؤں گی ۔نوکر ی رہے یا نہ رہے ۔میں آفس میں ان سے ملنے گئی تو کچھ دیر بعد یہ کسی کام سے آئی ۔سکریٹری تھی نا ۔کام تو رہتے ہی تھے ۔آگے بڑھ کرآگئی  اور  ہاتھ بڑھا کر بولی
میں نتاشا  سیٹھ ۔
میں نے اسکا ہاتھ تھام کر کہا
مسز خان ۔
تب اسکے ہاتھ اتنےہی  برف سے ٹھنڈے تھے  ،یا شاید میری بات سنکر ہوگئے تھے ۔شاید اسنے سوچا ہو کہ میں جان کر اسے اپنی حیثیت کا احساس دلا رہی ہوں ۔
وہ جوان تھی ،خوب صورت تھی ،کم عمر تھی ۔مجھ  سے تو بہت چھوٹی تھی ،مگر ہمارے بیچ ایک ڈر تھا ۔مجھے ان   کو کھونے  دینے کا ،اسکو میری حیثیت کا ۔۔
مگر اب میرے ڈر ختم ہورہے تھے  ۔وہ دھیرے دھیرے سہیلی بن گئی تھی ۔دن بھر اکیلے گھر میں وہ میرے ساتھ ہوتی اور شام آتے آتے ان   کے ساتھ ہوجاتی ۔

آخر کار انھوں نے مجھے بلا نا بھی چھوڑ دیا ۔۔شاید ایک احساس جرم تھا ۔یا  اب  میری ضرورت نہ تھی ۔
شام ایک ملال لے کر آتی اور میں دوسرے کمرے میں جاکر لیٹتی جہاں وہ پہلے سے ہی سویا ہوا ہوتا ،بے خبر  اس  کےگورے خوبصورت ماتھے پر بال بکھرے ہوتے  سوتے ہوئے بچوں جیسے مسکان بکھری رہتی اس کے چہرے پر ۔۔۔اور اس  کی نیند کے خیال سے مین آہستگی سے ایک سائیڈ لیٹی جاگتی رہتی پھر کب آنکھ لگ جاتی پتہ ہی نہ چلتا ۔ ایک سکون کا احساس بھی رہا کہ کوئی تو ہے جو میرا ہے ۔بالکل میرا ۔میرا اپنا ،میری جوان ہوتی ہوئی اولاد ،میرا لاڈلا بیٹا ۔
تیس برس پہلے جب
جب گھر چھوڑا تھا تب کہاں سوچا تھا کہ کبھی ایسا بھی ہوسکتا ہے ۔مگر چیزیں بدلتی رہتی ہیں دن رات ،موسم ، شکلیں ۔۔اور کچھ لوگوں کی محبتّیں بھی ۔۔کیا کر سکتے ہیں ۔کبھی کبھی اپنوں کو چھوڑ آنے کا دکھ ستا تا ۔تو اپنے اپ کو سمجھا لیتی تھی ۔
مگر ان چھ سالوں میں نہیں سمجھا پاتی تھی ۔دل کو ہر لمحہ ملال رہتا کہ غلطی ہے ،اور غلطیوں کا خمیازہ تو بھگتنا پڑتا ہے ۔پھر سوچتی اور لوگ بھی تو ہوتے ہیں جو محبتوں کے اسیر ہوتے ہیں اور ساری عمر رہتے ہیں ۔۔تو پھر میں ہی کیوں ۔۔؟
کوئی جواب نہ ملتا ۔
مگر اس دن عجیب بات ہوئی ۔یہ دوسرے کمرے میں آئے اور ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے  ساتھ  ہمارے مشتر کہ کمرے میں لے گئے ۔بستر پر بیٹھے اور مجھ سے پوچھنے لگے ۔
" اب کیا چا ہتی ہو ؟ آگیا ہوں نا میں پھر کیوں چھپتی پھر رہی ہو ۔کیوں گم سم رہتی ہو ۔کیسی حالت بنا لی ہے اپنی شکل دیکھی ہے ؟ کس بات کا سوگ ہے ؟ اگر مین اتنا ہی برا ہوں تو چلا جاتا ہوں کہیں "
تب میں نے دیکھا بستر پر کوئی شکن نہیں تھی جیسی شکنوں سے پاک چادر میں نے بچھائی تھی ویسے ہی تھی تکیہ بھی قرینے سے رکھے تھے ۔وہ مجھے ادھر ادھر دیکھتا پاکر پھر بولے
"کیا ڈھونڈتی رہتی ہو ۔کیا چاہیئے بولو مجھ سے ۔مجھے آئے ہوئے آج ایک برس ہونے کو آیا اور تم ہو کہ ۔"
:وہ ۔۔۔وہ ۔۔۔۔"میرے منھ سے ٹوٹ ٹوٹ کر نکلا
"کون ۔۔؟ کس کی بات کر رہی ہو ؟  کون ؟
نتا شا ۔۔۔میرے منھ سے ٹوٹ ٹوٹ کر نکلا ۔۔
وہ یہاں کہاں ؟کیسی باتیں کر تی ہو ۔کیا الٹی سیدھی سوچتی ہو ۔
اسکی شادی ہوگئی وہ اپنے گھر میں خوش ہے  آئیندہ کبھی اس کی بات مت کرنا ۔سمجھیں کبھی نہیں ۔" وہ میرا ہاتھ چھوڑ کر الگ کھڑے ہوگئے ۔
اب بولنے کی میری باری تھی ۔
وہاں   بمبئی میں تم دونوں ساتھ تھے خوش تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تکلیف میں تھی  مرنے جینے کی قسمیں  کھائی تھیں تمہارے ساتھ  مگر اب میں اکیلی رہ گئی ۔واپس تو آگئی تھی مگر درد ایسا تھا کہ ایک پل چین نہیں تھا ۔
"تم دونوں کو وہاں ساتھ  خوش وخرم  دیکھ کر ایک دعا کی تھی میں نے ، دل ٹوٹ گیا تھا ،ریزہ ریزہ ہوگیا تھا روتے روتے تھک چکی تھی ۔تب کہا تھا اللہ سے  کہ یاتو  وہ تمہیں   میرے پاس واپس بھیج دے  یا میرے دل سے تمہاری محبّت نکال دے ۔اور اللہ نے میری سن لی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جانتے ہو کیا ہوا ؟
اللہ نے دونوں پوری کردیں ۔
"سنو !آج ہمارا بیٹا زندہ ہوتا تو 24 برس کا ہوگیا ہوتا  ۔۔۔نا ؟"
اب ہم دونوں سسک رہے تھے اور گھر مین ہم دونوں کے سوا کوئی نہ تھا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭




نالئہ شب گیر ۔
ذوقی صاحب !ناول تو کئی دن پہلے ختم ہوگیا تھا مگر گونج باقی رہ گئی ہے ۔میں تو یہی کہوں گی کہ غضب کا مشاہدہ ہے عورت کی نفسیات ،کم  سن لڑکیوں کی ذہنی حالت ۔آسان نہیں ہے لکھنا مگر آپ نے لکھا ۔کوئی تو منصور آئے کوئی تویہ  زہر ہونٹوں تو سے لگائے ۔بے حد متاثر ہوئی ہوئی ہوں
    آپ لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"
اور یہ وارداتیں ہر سطح پر ہورہی ہیں ۔یہاں تک کہ تہذیب کی اتنی  صد یاں  گزارنے کے بعد بھی ایک تعلیم یافتہ لڑکی رات کے اندھیرے میں سڑکوں پر سفر نہیں کر سکتی ۔دفتروں میں کام کر تے ہوئے اسے چوکنا رہنا ہوتا ہے ۔وہ گھر میں بھی محفوظ نہیں ۔"

افف کیسا جگر تک کاٹتا ہوا جملہ ہے ۔اور یہ نظام برسوں سے اسی طرح چلا ارہا ہے جس نے بھی بدلنے کی یا آواز اٹھانے کی  کوشش کی اسے نکہت کی طرح خاموش کر دیا گیا ۔
ایک جگہ لکھتے ہیں ۔
دکش پر جا پتی کی بیٹی اوما کی شادی شیو سے ہوئی تھی لیکن دکش شیو کو پسند نہیں کرتے تھے ۔۔
اور یہ وہ مقدس جگہ ہے جہاں اوما کے نین گرے نین کے گرتے ہی یہاں تال بن گیا ۔آج بھی یہاں کے باشندے  نینا دیوی کی آرادھنا کرتے ہیں ۔"
نینی تال کی اس تاریخی پس ِ منظر سے پہلی بار واقفیت ہوئی ۔
ایک جگہ  اس حویلی کی لڑکی غصّہ اور بے بسی سے جب یہ جملہ کہتی ہے تو دل دہل جاتا ہے ۔
"خدا ہے ہی نہیں ۔۔۔یہاں کے مردوں نے مذہب کو اپنی اپنی لنگیوں ،داڑھیوں اور ٹوپیوں میں سی لیا ہے ۔

"تیز آگ برس رہی ہے ۔۔۔
لو کے جھکڑ بھی ہیں
مگر گھبرا نا نہیں ہے ۔"
ایسے وقت میں ناہید کی ماں کا رویہ جادوئی انداز میں بدل جانا بھی عورت کی فتح کے رمزے میں آتا ہے ۔
"اماں اچانک ابو بن گئی تھیں ۔
"آپ کے اٹھائی گیرے رشتہ دار اب یہاں نہیں رہیں گے ۔
یہ جملے پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ آگ نہ جانے کب سے دبی ہوئی تھی اور بیٹی کا ساتھ دینے سے شعلہ بنکر بھڑک اٹھی ۔یہ ایک مثبت تبدیلی تھی ۔
"یہاں واشنگٹن  ارونگ کی وہ کہانی یاد آرہی تھی ،جہا ں ایک کر دار  بیس سال تک سوتا رہا اور جب وہ جاگا تو پوری دنیا تبدیل ہوچکی تھی ۔"
گو کہ یہ بات مصنّف نے کئی صفحات کے بعد کسی دوسری جگہ استعمال کی ہے مگر اس حویلی میں بھی لوگ اسی طرح سوئے ہوئے تھے اور اچانک ہی جاگ اٹھے ۔ابو،  اماں کی بات کے جواب میں "جی " کہنے لگے جو انھیں جوتیوں کی نوک پر رکھتے تھے ۔یہ تبدیلی بھی اچانک نہیں آئی بلکہ کئی معصوم لڑکیوں کا لہو چاٹ کر آئی ،مگر آئی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہی کیا کم ہے ۔
اس وقت مسلمان خواتین اور لڑکیوں کی تعلیمی حالت افسوس ناک تھی ،اور اب بھی کئی مقامات ایسے ہیں جہاں اچھّے خاصے با اثر لوگ بھی لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ہیں ۔
اور یہی وجہ ہے کہ وہ ان پستیوں کا شکار ہوئی ۔خود اعتمادی کی کمی اور ایک "لڑکی " ہونے کی شرمندگی ،ان کو ایسی میلی کچیلی زندگی گزارنے پر مجبور کرتی رہی ۔عورتوں پر صدیوں ظلم و ستم ہوئے انکا استحصال کیا گیا ۔مگر وہ خاموش رہیں ۔مگر ناہید ناز خاموش نہیں رہی تو کچھ کہہ بھی نہ سکی ۔ذہنی حالت بگڑنے کی ذمہ داری بھی ان سماج کے ٹھیکے داروں کی ہے جھنوں نے اسکی انا کو کچل کر ،انکو بے بس کیا گیا

انکو ناقص العقل کہا گیا ،انکے اندر احساس کمتری ٹھونس ٹھونس کر ڈالی گئی کہ تم عورت ہو یہی تمہاری سزا ہے ۔
وہ شعور اور اپنے وجود سے بھی بے نیاز ہوگئیں ۔
آپکی ناول پڑھ کر میں ابتک اپنے آپ کو سنبھال نہیں سکی ۔جب آپ نے پوچھا تھا تو کوئی جواب بھی واضع طور پر نہ دے سکی ۔آپ نے آواز اٹھائی ہے کاش کچھ لوگ جاگ اٹھیں ۔

Monday, January 8, 2018

پر چھائیاں ۔
آسمان ہلکا نیلا اور ایکا دکا ستارے چمک رہے تھے ۔ پارک میں سیڑیوں پر بیٹھے بیٹھے اوپر دیکھا اور پھر دھیرے سے بولی ۔
"جیسے نیلی ساری پر ستارے ٹنکے ہوں "
"میں لا یا تو تھا تمہارے لئے ،نیلی ساری ۔تم نے پہنی ہی نہیں ۔
"کیونکہ میں آسمان نہیں ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"کچھ دور کھلتے بچوں پر نظر جماتے ہوئے خود کلامی کی ۔۔۔میں تو زمین ہوں

پورے چھے سال کے بعد یہ اسے چھوڑ کر پھر سے میرے پاس آگئے دوبارہ ۔۔کہیں نہ جانے کے لیئے ۔۔۔مگر رات جب میں بستر پر گئی تو وہ مجھے برا بر لیٹی ہوئی صاف دکھائی دی ۔۔۔اسنے سرخ نائیٹی پہنی ہوئی تھی اسکے سنہرے بال کھلے ہوئے تھے ۔اسنے مجھے شرارت سے مسکرا کر دیکھا اور ایک جھٹکے سے انکے سینے میں منھ چھپا لیا ۔۔میں ہونق دیکھتی رہ گئی ۔۔۔دل زور سے دھڑک رہا تھا بدن پسینے میں تر ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں شرمندہ سی برا بر والے کمرے میں چلی آئی  ایک بار انھوں نے پلٹ کر میری جانب دیکھا ۔۔ہاتھ بھی بڑھا یا تھا مگر ۔۔بس یہ تو حد ہوگئی ۔
دوسرے کمرے میں آکر میں بستر کے ایک سائیڈ پر اوندھی گری ۔۔پھر سر اٹھا کر دیکھا ۔۔وہ سویا ہوا تھا ۔۔
آہستہ سے سیدھی ہوکر سونے لیٹ گئی کہ کہیں اسکی نیند نہ ٹوٹ جائے ۔سارے دن نہ جانے کہاں کہاں مارا پھر تا ہے اب آکر سکون سے سویا ہے ۔۔تو نیند تو نہ خراب کروں ۔مگر اسکے پاس ہونے سے دل میں سکون اتر آیا ۔آنسو بھی رکُ گئے اور نیند بھی آگئی ۔
۔صبح دیکھا تو وہ چائے پی رہے تھے ۔
مجھے اٹھنے میں دیر جو ہوگئی اسی نے بنا کر دی ہوگی ۔۔اپنے کمرے میں جھا نکا آئینے کے سامنے بال بنا تی نظر آئی ۔۔سنہرے بالوں کی کچھ بھیگی سی لٹیں آہستہ آہستہ انگلیوں سے سلجھا رہی تھی ۔ کچھ گنگنا بھی رہی تھی
۔مجھے دیکھ کر مسکرائی کنگھا ہاتھ سے رکھ دیا اور میں دروازے سے ہٹ کر کچن میں آگئی ۔اپنے لیئے چائے بنائی ۔گھونٹ گھونٹ پیتی رہی ۔۔یہ اپنی ضروریات سے فارغ ہوکر باہر نکل گئے میں گھر کی چھت پر آکرنیچے سڑک پر  آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھتی رہی ۔دھوپ تیز ہورہی تھی اور نیچے اترنے کا اسکا سامنا کرنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا ۔ایک عجیب سی الجھن اور بے چینی تھی ۔۔مگر نیچے آنا پڑا کئی کام ادھورے پڑے تھے ۔۔کہیں نظر نہیں آئی ۔۔تو سکون کا سانس لیکر کاموں میں لگ گئی ۔
اب دن اسی طرح کٹنے لگے تھے رات کے کھانے کے بعد جب یہ کمرے میں جاتے تو مجھے آواز دیتے میں اندر جھانکتی تو وہ بستر کی ہر سلوٹ مین دکھائی دیتی ۔
پھر دھیرے دھیرے میرا ملال کم ہونے لگا تھا یا یہ کہ میں نے خود حالات سے سمجھوتہ کر لیا تھا ۔۔
ایک دن میرے سر میں شدید درد تھا وہ دھیرے سے آکر پاس بیٹھ گئی اسنے میرے سر پر ہاتھ رکھنا چاہا تو میں نے جھٹک دیا ۔وہ ایکدم باہر نکل گئی ۔۔مگر اس دن کے بعد میں اپنے رویئے پر شرمندہ ہوئی اور جب چائے بناتے ہوئے گرم پانی ہاتھ پر چھلک گیا اور اس نے گھبرا کر ایک دم  اپنے ٹھنڈے یخ ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھے تو میں نہ جھٹک سکی ۔
اسکے ہاتھوں کی ٹھنڈک میں پہلے بھی محسوس کر چکی تھی۔
جب پہلی بار میں اسکے شہر گئی تھی سوچا تھا انکو سمجھا کر گھر لے آؤں گی ۔نوکر ی رہے یا نہ رہے ۔میں آفس میں ان سے ملنے گئی تو کچھ دیر بعد یہ کسی کام سے آئی ۔۔۔سکریٹری تھی نا ۔۔۔کام تو رہتے ہی تھے ۔۔آگے بڑھ کر ہاتھ بڑھا کر بولی
میں نتاشا ۔۔
میں نے اسکا ہاتھ تھام کر کہا
میں مسز خان ۔۔۔
تب اسکے ہاتھ اتنےہی  برف سے ٹھنڈے تھے  ،یا شاید میری بات سنکر ہوگئے تھے ۔شاید اسنے سوچا ہو کہ میں جان کر اسے اپنی حیثیت کا احساس دلا رہی ہوں ۔
وہ جوان تھی ،خوب صورت تھی ،کم عمر تھی ۔۔مجھے سے تو بہت چھوٹی تھی ،مگر ہمارے بیچ ایک ڈر تھا ۔۔مجھے انکو کھونے کا ،اسکو میری حیثیت کا ۔۔
مگر اب میرے ڈر ختم ہورہے تھے  ۔وہ دھیرے دھیرے سہیلی بن گئی تھی ۔دن بھر اکیلے گھر میں وہ میرے ساتھ ہوتی اور شام آتے آتے انکے ساتھ ہوجاتی ۔



آخر کار انھوں نے مجھے بلا نا بھی چھوڑ دیا ۔۔شاید ایک احساس جرم تھا ۔۔۔یا انکو بھی میری ضرورت نہ تھی ۔۔۔
شام ایک ملال لیکر آتی اور میں دوسرے کمرے میں جاکر لیٹتی جہاں وہ پہلے سے ہی سویا ہوا ہوتا ۔۔بے خبر  اسکے گورے خوبصورت ماتھے پر بال بکھرے ہوتے  سوتے ہوئے بچوں جیسے مسکان بکھری رہتی اسکے چہرے پر ۔۔۔اور اسکی نیند کے خیال سے مین آہستگی سے ایک سائیڈ لیٹی جاگتی رہتی پھر کب آنکھ لگ جاتی پتہ ہی نہ چلتا ۔۔اسکے پاس ایک سکون کا احساس بھی رہا کہ کوئی تو ہے جو میرا ہے ۔۔بالکل میرا ۔۔میرا اپنا ،میری جوان ہوتی ہوئی اولاد ،میرا لاڈلا بیٹا ۔
تیس برس پہلے جب
جب گھر چھوڑا تھا تب کہاں سوچا تھا کہ کبھی ایسا بھی ہوسکتا ہے ۔مگر چیزیں بدلتی رہتی ہیں دن رات ،موسم ، شکلیں ۔۔اور کچھ لوگوں کی محبتّیں بھی ۔۔کیا کر سکتے ہیں ۔کبھی کبھی اپنوں کو چھوڑ آنے کا دکھ ستا تا ۔تو اپنے اپ کو سمجھا لیتی تھی ۔۔مگر ان چھ سالوں میں نہیں سمجھا پاتی تھی ۔۔دل کو ہر لمحہ ملال رہتا کہ غلطی ہے ،اور غلطیوں کا خمیازہ تو بھگتنا پڑتا ہے ۔۔۔پھر سوچتی اور لوگ بھی تو ہوتے ہیں جو محبتوں کے اسیر ہوتے ہیں ۔۔۔اور ساری عمر رہتے ہیں ۔۔تو پھر میں ہی کیوں ۔۔؟
کوئی جواب نہ ملتا ۔
مگر اس دن عجیب بات ہوئی ۔۔۔یہ دوسرے کمرے میں آئے اور ہاتھ پکڑ کر مجھے میرے روم میں لے گئے۔بستر پر بیٹھے اور مجھ سے پوچھنے لگے ۔
" اب کیا چا ہتی ہو ؟ آگیا ہوں نا میں پھر کیوں چھپتی پھر رہی ہو ۔۔کیوں گم سم رہتی ہو ۔۔کیسی حالت بنا لی ہے اپنی شکل دیکھی ہے ؟ کس بات کا سوگ ہے ؟ اگر مین اتنا ہی برا ہوں تو چلا جاتا ہوں کہیں "
تب میں نے دیکھا بستر پر کوئی شکن نہیں تھی جیسی شکنوں سے پاک چادر میں نے بچھائی تھی ویسے ہی تھی تکیہ بھی قرینے سے رکھے تھے ۔۔وہ مجھے ادھر ادھر دیکھتا پاکر پھر بولے
"کیا ڈھونڈتی رہتی ہو ۔۔۔کیا چاہیئے بولو مجھ سے ۔مجھے آئے ہوئے آج ایک برس ہونے کو آیا اور تم ہو کہ ۔"
:وہ ۔۔۔وہ ۔۔۔۔"میرے منھ سے ٹوٹ ٹوٹ کر نکلا
"کون ۔۔؟ کسکی بات کر رہی ہو ۔۔۔؟ اسکی شادی ہوگئی وہ اپنے گھر میں خوش ہے  آئیندہ کبھی اسکی بات مت کرنا ۔۔۔سمجھیں کبھی نہیں ۔۔" وہ میرا ہاتھ چھوڑ کر الگ کھڑے ہوگئے ۔
میں ایک دم زور زور سے روتے ہوئے ان سے لپٹ گئی ۔۔
"کیا ہوگیا کچھ تو بتاؤ ۔۔"وہ پریشان سے میرا سر سہلا رہے تھے ۔
"سارم ۔۔۔آج ہمارا بیٹا زندہ ہوتا تو 24 برس کا ہوگیا ہوتا ۔۔۔ہائے ہم کتنے اکیلے ہیں " ۔
اب ہم دونوں سسک رہے تھے اور گھر مین ہم دونوں کے سوا کوئی نہ تھا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 تیرے وعدے پر ۔۔
نئے سال کا پہلا سورج طلوع ہونے والا ہے ۔۔ہر طرف نئے سال کے استقبال کی تیّاریاں زور و شور پر ہیں ۔۔۔۔سرد ترین موسم میں ایک حرارت کی لہر ہے ۔ اپنے اپنے طریقے سے نئے سال کو خوش آمدید کہا جارہا ہے ۔نوعمر لڑکے لڑکیوں کی پارٹیز اپنے عروج پر ہیں ۔عمر رسیدہ لوگ  آتش دان کے سامنے بیٹھے پرانے زمانوں کو یاد کر رہے ہیں ۔شام کے خوابیدہ دھندھلکے میں وہ اپنے خوابوں کی جانب محوئے سفر ہیں ،جہاں وہ اپنی طرح اس شام کو سجا سنوار کر مناتے تھے آنے والے نئے سال کی شام کا فسوں ہر جانب پھیلا نظر آرہا تھا ۔
 ۔ملازمہ نے سامنے  گرم کافی رکھ دی ہے ،کافی کی سطح پر مجھے اسی کی تصویر نظر آرہی ہے ۔سانولا رنگ کھڑی ناک اور چہرے پر بے شمار جھرُ ریاں لئے ہوئے وہ خوبصورت بوڑھا جو مجھے آفس کی سیڑھیوں کے پاس ایک بوسیدہ چٹائی بچھائے ہوئے بیٹھا ملتا تھا ۔لوگ اسکی چٹائی  کے کنارے پیسے پھینک کر چلے جاتے وہ ہاتھ اٹھا کر دعا دیتا مگر میں نے کبھی اسکو کسی سے کچھ مانگتے نہیں دیکھا ۔۔۔بس خاموش کسی سوچ میں گم ۔۔۔
آج کئی دن سے شدید سردی ہے ،ٹھنڈ کی لہر نے کئی شہروں  کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔کہرے کی وجہ سے سانس لینا دشوار ہے ۔تھوڑی دور تک بھی راستہ صاف دکھائی نہیں دیتا ۔۔۔لوگوں نے بغیر کسی اشد  ضرورت، گھر سے باہر نکلنا بند کر دیا ہے ۔۔۔۔کہیں کہیں کچھ منچلے سگرٹ کا دھواں اڑاتے تیز بائیک چلاتے نظر آتے ہیں ان کے قہقہوں سے ماحول میں کچھ حرارت سی بھر جاتی ہے ۔ورنہ پھر وہی سننا ٹا اور کپکپاتے وجود ۔۔کوئی دبیز کوٹ پہنے ہوئے اور کوئی سو ئیٹر دستانے گرم اونی ٹوپی پہن کر سڑک پر نکل رہا ہے ۔
امیروں کی بات کی جائے تو وہ اپنی ایر کنڈیشنر کاروں میں یوں زوں کر کے نکلتے ہیں گو یا باقی سب کا مزاق اڑا رہے ہوں ۔۔۔اور اپنے ایر کنڈیشن گھروں میں آرام سے ہر موسم سے نپٹنے کے لئے تّیار۔۔
عام آدمی اپنی ضروریات پہن اوڑھ کر پوری کر تا نظر آتا ہے ۔
سردی اپنے عروج پر ہے کچھ درد مند انسان غریبوں میں چادریں تقسیم کر تے نظر آئے کچھ چائے والوں نے اپنے ارد گرد بیٹھے فقیروں کو مفت چائے پلا نی شروع کر دی تھی ۔
شہر کے نیتا اکثر غریبوں کو چادریں اور چائے بانٹتے بھی نظر آئے ۔انکے ساتھ خاص بات انکا فوٹو گرا فر ہوتا ہے جو ہمیشہ انکے ہاتھ سے کچھ دیتے ہوئے تصویر ضرور کھنچتا ہے ۔
انکا فوٹو گرافرانکے لیئے بہت کچھ کرتا ہے ۔ایک بار ایسا ہی قصّہ سنا تھا کہ کسی لیڈر نے بلڈ ڈونشن کی  خبر اخبار اور ٹی وی میں بھیجی تھی بعد میں پتہ چلا کہ انکے سامنے رکھی ہوئی تمام بوتلوں میں گہرا سرخ رنگ تھا ۔اور ایک شخص  کمپونڈربنا ہوا  انجکشن لیئے کھڑا ہوتا وہ اپنے کرتے کی آستین چڑھا تے اور انجکشن کی نوک انکی نس پر رکھ دی جاتی ۔۔تصویریں کھٹا کھٹ کھینچ لی جاتیں ۔۔ویڈیو اپ لوڈ ہوجاتے ۔۔۔پھر تماشہ ختم ۔۔بوتلیں پھنک دی جاتیں سب اپنے اپنے پیسے لیتے اور نیتا جی مشہور ہوجاتے ۔۔خیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں بوڑھے با با کی کہانی سنارہی تھی ۔اسکو میں نے ہمیشہ ایک پرانے موٹے مگر جگہ جگہ سے پھٹے کمبل میں لپٹا دیکھا ۔کئی بر سوں سے وہی کمبل لپیٹے وہ اسی جگہ گم سم بیٹھا ہوا تھا ۔۔
لوگ ترس کھاکر کچھ کھانے کو دے دیتے کبھی ہوٹل والا صبح اسے چائے پلا دیتا ۔کئی بار میں نے سوچا اسکو کچھ کپڑے بنوا دونگی ۔مگر میری اپنی اتنی ذمہ داریاں ہیں کہ نہ وقت نکال سکی نہ پیسے ۔
سردیوں کی شام بڑی خوب صورت ہوتی ہے جگہ جگہ جب سڑ ک پر لگی روشنیاں کہرے سے گھر جاتیں تو ہلکی نیلی سی روشنی اپنے آپ میں دھنک کے رنگ دکھانے لگتی ۔۔سورج ڈوبتے ڈوبتے دوسرے دن آنے کا وعدہ کرتے ہوئے گہرا  نارنجی ہوجاتا ۔۔۔۔اور پھر آسمان کا سر مئی رنگ کھل اٹھتا  ۔تیز ہوا اور کہرہ مل کر ایک نیا ساماحول بنا دیتے ۔۔۔کبھی کبھی آفس سے واپسی پر میں اس موسم اور ماحول کا مزا لینے کے لئے ایک بس چھوڑ دیا کرتی اور دس منٹ بعد آنے والی دوسری بس کا انتظار کرتی ۔۔ہلکی ٹھنڈی ہوا جب چہرے کو چھوتی تو ایک تازگی کا احساس ہوتا ۔۔
آج نئے سال کی پہلی صبح تھی ۔رات کے ہنگاموں کے بعد لوگ نیند کے مزے لے رہے تھے۔مجھے آفس پہنچنا ضروری تھا اسلیئے شدید سر دی کے باوجود تیزی سے تیا رہوکر بلڈنگ سے نیچے آگئی ۔۔بس اسٹینڈ پر ذیادہ بھیڑ بھی نہیں ملی ۔بس میں بیٹھ کر بیتی رات دوستوں کے ساتھ مزے دار پارٹی یاد کرتے کرتے آنکھیں بند ہونے لگیں نیند کے جھونکے آنے لگے تبھی میرا اسٹاپ آگیا ۔بہت بے دلی سے اتر کر پیدل ہی آفس کی سڑک پر چلتی گئی ۔۔موٹے کوٹ ،سوئیٹر اور دستانوں کے باوجود بس سے اتر کر شدید سر دی کا احساس ہوا ۔
 آفس کے باہر ایک بھیڑ لگی دیکھی تو قدم خود بخود ادھر اٹھ گئے ۔بوڑھا با با اپنی میلی چٹائی پر لیٹا ہوا تھا  کئی لوگ آس پاس کھڑے تھے ۔
مگر کل تک تو بالکل ٹھیک تھا ۔؟ مجھے چائے والے نے وہاں سے  ہٹ جانے کو کہا تو میں سڑھیوں کی طرف بڑھ گئی وہ بھی میرے ساتھ ادھر ہی آگیا ۔
"کیا ہوا با با کو ؟"
"بی بی کل نیتا جی کی طرف سے غریبوں کو کمبل بانٹے گئے ۔۔با با بہت خوش تھا ۔ایک کمبل مجھے بھی ملا تھا ۔۔کیمرہ اخبار والے ٹی وی والے سب آگئے تھے ۔
۔۔یہ جو سامنے فٹ پاتھ پر کئی لوگ لیٹے رہتے ہیں نا وہ سب بہت خوش تھے ۔۔" وہ کچھ دیر کے لئے  چپ ہوگیا ۔میری نظر پھر ادھر اٹھ گئی ۔مگر با با کے اوپر تو اسکا وہی پرا نا کمبل ہے ؟
"پھر بی بی جی رات کو کچھ لوگ آئے اور سبکے کمبل یہ کہہ کر واپس لے گئے کہ یہ غلط آگئے ہیں ابھی دوسرے بڑے کمبل دیئے جائیں گے ۔۔وہ لوگ کمبل کی دوکان والے تھے ۔میرا دوست انکو جانتا ہے وہ یہیں میری دوکان پر پان کھانے آیا ہوا تھا اس نے انھیں پہچان لیا ۔
"پھر ؟؟؟"
پھر کچھ نہیں بی بی ۔۔ کوئی کمبل نہیں آئے ۔بوڑھا با با سردی سے نہیں مرا ، آس سے مر گیا ۔۔"
کچھ دیر اور کھڑی رہتی تو شاید کھڑے رہنے کی سکت بھی ختم ہوجاتی ۔تیزی سے سیڑھیاں چڑھ کر آفس کے اندر آگئی ۔
٭٭٭٭٭

آہ ۔۔۔۔  راشدہ آپا !
وہ اس طرح دبے پاؤں بزم سے اٹھ کر چلی گئیں جیسے وقفہ لیا ہو ۔۔۔ذہن یہ ماننے پر آمادہ نہیں کہ اب وہ نہیں ہیں ،لوٹ کر نہیں آئیں گی ۔۔
ماہ کی درمیانی تاریخوں میں انکا فون نہیں آئے گا ۔۔۔پہلے سلام کرتیں ، خیریت دریافت کرتیں پھر لہک کر بتاتیں ۔
"میٹنگ ہے ۔۔۔فلان کے گھر میں ۔۔تم کو پتہ تو معلوم ہے نا ؟ اور نہ معلوم ہو تو اتنی محنت اور محبت سے سمجھاتیں کہ پیار آجاتا ۔۔
جی ۔۔جی ۔میں پہونچ جاؤں گی میرا جواب سنکر فوراً فر مائش کرتیں ۔۔
بھئی پڑھنے کو کچھ ضرور لیتی آنا ۔۔کوئی افسانہ کوئی مضمون  کچھ بھی ۔
یہ آوازیں میرے کانوں میں گونجتی ہیں ۔۔۔میں کیا کروں کیسے انھیں بھولوں ؟
اردو باغ میں کیسے رنگا رنگ پودے لگائے اور اپنی محبتوّں سے انکو سیراب کرتی رہیں ۔ایک خواب جو خلیل الرحمنٰ  اعظمیٰ صاحب نے دیکھا تھا اسکی تعبیر راشدہ آپا نے اس طرح ڈھونڈ نکالی کہ اپنے اردو باغ کواپنی کاوشوں سے سیراب کیا ۔علی گڑھ ہی نہیں الگ الگ شہروں سے لکھنے والوں کو ڈھونڈ لائیں ۔انکا رسالہ "بزم ادب " خواتین کی تصانیف سے مہکتا رہتا ۔اور دوسرے ملکوں میں بھی لوگ ان سے واقف ہو گئے تھے امریکہ ،کینڈا ،سے بھی تعریفی خطوط آتے ۔سبکو رسالہ پابندی سے پہنچایا کرتیں ۔خلیل الرحمٰن اعظمی نمبر میں د یبا چہ میں لکھتی ہیں ۔
       " آج کی عورت ساری دنیا پر چھائی ہوئی ہے ۔کون سامیدان ایسا
         ہے جہاں اس نے قدم نہ جمائے ہوں ۔شعر وادب ہو مذہب کا
         میدان ہو ،سیاسی سماجی معاشرتی ،قوم کی فلاح وبہبود یا ملک
         کی ترقّی کا ،ہر جگہ وہ اپنی فعال حیثیت کا مظاہرہ کر رہی ہے "۔
اپنی تحریروں اور میں اور عملی طور پر بھی عورتوں کو اپنا مقام پہچنوانا چاہتی تھیں ۔اردو زبان کی محبّت انکے ہر عمل سے ظاہر تھی ۔معیاری ادب لکھنے والوں کی انکی نظر میں بے حد عزّت تھی ۔کوئی اچھّا افسانہ یا نظم سنتیں تو دل کھول کر داد دیتیں ۔لکھنے والوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کر تیں ۔انھوں نے اردو کی ترویح کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا تھا ۔
خلوص و محبّت عاجزی اور انکساری انکی طبیعت میں رچی بسی تھی ۔وہ چاہتی تھیں کہ خواتین ارود ادب کی تر ویح میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیں ۔
۔۔اب تو آپکا باغ ہرا بھرا ہوگیا تھا ۔۔۔اب آپ کیوں چلی گئیں ۔؟
بزم ادب کی محفل شروع ہوتی تو بعد تلاوت ِپاک  راشدہ آپا رپورٹ پڑھا کرتی تھیں (تھیں لکھتے ہوئے بھی ہاتھ کانپتا ہے )
اس رپورٹ میں بزم ِ ادب کی پوری تفصیل ، محفل کس کے  گھر پر رہی کس ممبر نے کیا سنایا حتٰیّ یہاں تک بتاتیں کہ ضیافت کن مزے دار پکوانوں  سے ہوئی ۔
سب سے عجیب اور حیران کن بات یہ ہے کہ ہر ممبر سمجھتا ہے کہ راشدہ آپا کو ان سے "سب سے "ذیادہ محبت تھی ۔انکا اخلاق ایسا تھا کہ آج کے دور میں یہ جذبہ نا پید ہے ۔۔بے لوث محبّت کرتی تھیں ،انکی محبت میں کوئی غرض پوشیدہ نہیں تھی۔وہ جب مجھے "میرا فوٹو گرافر " کہہ کر پکارتیں تو میرا خوشی سے عجب عالم ہوتا ۔
کچھ گم نام خواتین کو اپنی ادبی محفل مین اسطرح شامل کیا کہ انکے نام سامنے آگئے ۔وہ تاعمر ادب کی خدمت کرتی رہیں ،جوت جلاتی رہیں ۔
وہ ہمیں ایک خواب دے گئی ہیں ۔۔۔اور ہمیں اس خواب کو پورا کرنا ہے ۔یہ ایک نسائی ادب کی تحریک ہے جو انھوں نے ہماری آنکھوں ،ہمارے قلم ،ہمارے جذبوں میں پنہا کر دی ہے ۔اور ہمکو یہ کوشش کرنی ہے کہ یہ بزم یوں ہی قائم رہے ۔۔یہ چراغ یوں ہی جلتے رہیں  ما شاء اللہ ۔وہ اپنے چمن  کو بھی ہرا بھرا چھوڑ گئی ہیں انکے بچّے بھی ادبی ذوق سے ما لا مال ہیں  سب بچّوں کے زخمی دلوں کو صبر اور سکون عطا ہو ۔انکی کاوشوں کو اللہ کامیاب فر مائے ۔اس طرح انکی روح کو سکون عطا ہوگا ۔
اردو باغ ہمیشہ مہکتا رہے ۔۔آمین ۔