Thursday, March 8, 2018



نالئہ شب گیر ۔
ذوقی صاحب !ناول تو کئی دن پہلے ختم ہوگیا تھا مگر گونج باقی رہ گئی ہے ۔میں تو یہی کہوں گی کہ غضب کا مشاہدہ ہے عورت کی نفسیات ،کم  سن لڑکیوں کی ذہنی حالت ۔آسان نہیں ہے لکھنا مگر آپ نے لکھا ۔کوئی تو منصور آئے کوئی تویہ  زہر ہونٹوں تو سے لگائے ۔بے حد متاثر ہوئی ہوئی ہوں
    آپ لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"
اور یہ وارداتیں ہر سطح پر ہورہی ہیں ۔یہاں تک کہ تہذیب کی اتنی  صد یاں  گزارنے کے بعد بھی ایک تعلیم یافتہ لڑکی رات کے اندھیرے میں سڑکوں پر سفر نہیں کر سکتی ۔دفتروں میں کام کر تے ہوئے اسے چوکنا رہنا ہوتا ہے ۔وہ گھر میں بھی محفوظ نہیں ۔"

افف کیسا جگر تک کاٹتا ہوا جملہ ہے ۔اور یہ نظام برسوں سے اسی طرح چلا ارہا ہے جس نے بھی بدلنے کی یا آواز اٹھانے کی  کوشش کی اسے نکہت کی طرح خاموش کر دیا گیا ۔
ایک جگہ لکھتے ہیں ۔
دکش پر جا پتی کی بیٹی اوما کی شادی شیو سے ہوئی تھی لیکن دکش شیو کو پسند نہیں کرتے تھے ۔۔
اور یہ وہ مقدس جگہ ہے جہاں اوما کے نین گرے نین کے گرتے ہی یہاں تال بن گیا ۔آج بھی یہاں کے باشندے  نینا دیوی کی آرادھنا کرتے ہیں ۔"
نینی تال کی اس تاریخی پس ِ منظر سے پہلی بار واقفیت ہوئی ۔
ایک جگہ  اس حویلی کی لڑکی غصّہ اور بے بسی سے جب یہ جملہ کہتی ہے تو دل دہل جاتا ہے ۔
"خدا ہے ہی نہیں ۔۔۔یہاں کے مردوں نے مذہب کو اپنی اپنی لنگیوں ،داڑھیوں اور ٹوپیوں میں سی لیا ہے ۔

"تیز آگ برس رہی ہے ۔۔۔
لو کے جھکڑ بھی ہیں
مگر گھبرا نا نہیں ہے ۔"
ایسے وقت میں ناہید کی ماں کا رویہ جادوئی انداز میں بدل جانا بھی عورت کی فتح کے رمزے میں آتا ہے ۔
"اماں اچانک ابو بن گئی تھیں ۔
"آپ کے اٹھائی گیرے رشتہ دار اب یہاں نہیں رہیں گے ۔
یہ جملے پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ آگ نہ جانے کب سے دبی ہوئی تھی اور بیٹی کا ساتھ دینے سے شعلہ بنکر بھڑک اٹھی ۔یہ ایک مثبت تبدیلی تھی ۔
"یہاں واشنگٹن  ارونگ کی وہ کہانی یاد آرہی تھی ،جہا ں ایک کر دار  بیس سال تک سوتا رہا اور جب وہ جاگا تو پوری دنیا تبدیل ہوچکی تھی ۔"
گو کہ یہ بات مصنّف نے کئی صفحات کے بعد کسی دوسری جگہ استعمال کی ہے مگر اس حویلی میں بھی لوگ اسی طرح سوئے ہوئے تھے اور اچانک ہی جاگ اٹھے ۔ابو،  اماں کی بات کے جواب میں "جی " کہنے لگے جو انھیں جوتیوں کی نوک پر رکھتے تھے ۔یہ تبدیلی بھی اچانک نہیں آئی بلکہ کئی معصوم لڑکیوں کا لہو چاٹ کر آئی ،مگر آئی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہی کیا کم ہے ۔
اس وقت مسلمان خواتین اور لڑکیوں کی تعلیمی حالت افسوس ناک تھی ،اور اب بھی کئی مقامات ایسے ہیں جہاں اچھّے خاصے با اثر لوگ بھی لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ہیں ۔
اور یہی وجہ ہے کہ وہ ان پستیوں کا شکار ہوئی ۔خود اعتمادی کی کمی اور ایک "لڑکی " ہونے کی شرمندگی ،ان کو ایسی میلی کچیلی زندگی گزارنے پر مجبور کرتی رہی ۔عورتوں پر صدیوں ظلم و ستم ہوئے انکا استحصال کیا گیا ۔مگر وہ خاموش رہیں ۔مگر ناہید ناز خاموش نہیں رہی تو کچھ کہہ بھی نہ سکی ۔ذہنی حالت بگڑنے کی ذمہ داری بھی ان سماج کے ٹھیکے داروں کی ہے جھنوں نے اسکی انا کو کچل کر ،انکو بے بس کیا گیا

انکو ناقص العقل کہا گیا ،انکے اندر احساس کمتری ٹھونس ٹھونس کر ڈالی گئی کہ تم عورت ہو یہی تمہاری سزا ہے ۔
وہ شعور اور اپنے وجود سے بھی بے نیاز ہوگئیں ۔
آپکی ناول پڑھ کر میں ابتک اپنے آپ کو سنبھال نہیں سکی ۔جب آپ نے پوچھا تھا تو کوئی جواب بھی واضع طور پر نہ دے سکی ۔آپ نے آواز اٹھائی ہے کاش کچھ لوگ جاگ اٹھیں ۔

No comments:

Post a Comment