بستہ۔
از زارا قدوائی
جوائینس برگ ۔افریقہ
کوئی ڈھونڈ کے دیتا مجھکو تو
ایک عمر کی زحمت کم ہوتی ۔
کہیں بھول کے بیٹھی ہوں اسکو
بستہ جو کتا بوں والا تھا ۔
کچھ بات لکھی تھی پر چوں پر
کچھ ٹوٹی پینسل رکھّی تھیں
اسُ بستے میں میری سارے
بچپن کی یادیں رکھّی تھیں
کچھ ٹوفی کے کاغذ سے بھی
گڑ یوں کی فرا کیں بنُ لی تھیں
ایک پینسل کے ڈبّے میں وہ
چاکیں کھریاں سب رکھیّ تھیں
بدماشی کے قصّوں کا بھی
اک بکسہ تھا اسمیں شاید
کچھ دوست پرانے تھے جو تب
نمبر انکا بھی تھا شاید
ہر چیز کہیں تو جیسے اب
کچھ ہاتھ سے چھُٹتی جاتی ہے
اس بستے کی اب مجھکو تو
بس یاد بہت ہی آتی ہے
کوئی ڈھونڈ کے لا دیتا مجھکو
ایک عمر کی زحمت کم ہوتی
کہیں بھول کے بیٹھی ہو ں اسکو
بستہ جو کتا بوں والا تھا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
No comments:
Post a Comment