Tuesday, December 6, 2016

چلتی رہے زندگی ۔۔۔۔۔۔
مینے پہلا پاؤں بادلوں پر رکھ دیا ۔۔۔ایک نرم سی ٹھنڈ ک میرے اندر اتر آئی ۔۔ایک خوبصورت احساس سارے وجود میں تیرنے لگا ۔۔۔نرم سفید خنک بادل ۔۔۔وہ ایک خوبصورت شام تھی جب مینے حیدرآباد میں قدم رکھّا ۔۔۔
دنیا کے کئی شہر دیکھے ،سعودی عرب کا شہر ریاض ،امریکہ کا شہر شکاگو ،انگلنڈ کا شہر لندن ۔۔۔۔ایران کا شہر تہران ۔۔۔مگر اپنے ملک کا اتنا خوبصورت شہر پہلی بار دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برسات کا موسم شروع ہورہا تھا ہر طرف بادلوں کی دھند چھائی ہوئی تھی ۔۔۔اور میں چل پڑی تھی ایک لمبی سیر کے لئے حیدرآباد کی سمت ۔۔۔وہ حیدرآباد جسکے بارے میں صرف سنا تھا یا پڑھا تھا ۔۔نظام حیدرآباد کی لائیبرئری کے بارے میں ،حسین ساگر کے بارے میں اور ان شفّاف مو تیو ں کے بارے میں ۔۔۔اور میں سوچ رہی تھی یہ سب کچھ قریب سے دیکھنا کتنا روح پر ور ہوگا ۔۔۔
سب سے پہلے ہم حسین ساگر دیکھنے گئے یہ ایک خوبصورت جھیل ہے جو چاروں طرف شہر سے گھری ہوئی ہے ،اسکے درمیان گوتم بدھ کا بلند مجسمہ استادہ ہے ۔۔۔ایک طرف لمبنی باغ جہاں سبزہ کاٹ کر درمیان سے سڑک نکالی گئی ہے ،ایک طرف بچوں کا پارک ۔۔جہاں ایک چھوٹی سی ٹرین چلتی رہتی ہے ۔۔جھیل میں مستقل کشتیاں رواں دواں تھیں ۔۔۔ہم نے کشتی کا ٹکٹ لیا اور روانہ ہوئے ۔۔۔چند لمحوں کے سفر کے بعد ہم گوتم بدھ کے مجسّمہ کے قریب پہونچ گئے ،جو کہ اک ماہر نقّاش نے تراشا ہے ،طویل القامت  مجسمّہ پانی کے درمیان کھڑا مسکرا کر سبکو دعائیں دیتا دکھائی دیا ۔ آس پاس خوبصورت فوّاروں سے پانی رواں تھا ۔۔۔وہاں سبزے پر کئی لوگ بیٹھے نظر آئے دل کے سکون کے لئے بہترین جگہ تھی یہاں بڑی پر سکون سی خاموشی طاری تھی ۔۔۔
دوسرے دن ہم لوگ سالار جنگ میوزیم پہونچے ۔۔
اس میوزیم کی تعریف کے لئے میر ے پاس الفاظ کم پڑگئے ہیں ۔۔اس عمارت میں ایک پوری دنیا آباد ہے اندر داخل ہوتے ہی احساس ہوا کہ ہم ایک خوبصورت صدی میں آگئے ہیں ۔
میوزیم کا رقبہ کافی طویل تھا یہ ایک دن میں نہیں دیکھا جا سکتا تھا
یہ یقیناً ایک محل رہا ہوگا ۔۔۔بے شمارہال ،طویل راہدریاں   بیچ بیچ میں صحن جن میں طر ح طرح کے پھول اپنی بہار دیکھا رہے تھے  ہرطرف سبزہ پھیلا ہوا تھا ۔۔۔ایک صحن کے سرے پر ایک قدّ ِآدم  ٹی ۔وی لگا ہوا تھا  اسپر ڈرامے نشر کئے جارہے تھے اکثر لوگ وہیں کرسیوں پر بیٹھے محویت سے پروگرام دیکھ رہے تھے ۔۔مگر ہم وہاں نہیں رک سکے کیونکہ وہاں بے شمار چیزیں ایسی تھیں جن کی کشش ہمیں کھیچے لیئے جارہی تھی ۔
روغنی تصویریں ،چینی کے حسین پھولدار ضروف ،سنگ ِمر مر کے حسین ترین مجسّمہ ۔۔۔۔۔۔ہماری توجہ اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔ایک کمرے میں گھڑیوں کا زخیرہ تھا مختلف انداز اور مختلف زمانوں کی بے شمار گھڑیاں وہاں رکھّی ہوئی تھیں  کہیں چینی کے فرشتے وقت اپنی پیٹھ پر اٹھائے کھڑے تھے اور کہیں کانسے کے جوکر وقت کو اپنے پیٹ پر سجائے کھڑے تھے ۔۔۔۔وہاں ایک بہت بڑا ہال تھا جو شاید ڈرایئنگ روم کہا جائے تو ذیادہ بہتر ہوگا ۔۔ہر طرف خوبصورے صوفے لگے تھے  اسکا رقبہ تقریباً 50/50 گز ہوگا چاروں طرف دیوارون پر عمدہ اور قیمتی تصویریں تھیں ۔۔بلکہ پینٹنگس کہنا ذیادہ مناسب ہوگا ،،ان میں مونا لیزا کی تاریخی  پینٹنگ بھی مسکرا رہی رھی ۔۔اسکے علاوہ بھی کئی تاریخی تصویرین تھیں جنکے بارے میں انکے نیچے تاریخ درج تھی ۔درمیان میں جو لکڑی کی منقّش میز رکھّی تھی ان پر بہترین کرسٹل کی شطر نج موجود تھی ،جسکے اوپر ننھے ننھے مہرے  بھی کرسٹل کے بنے ہوئے تھے ۔                                                                            ہال کے آخری سرے پر ایک کانسے کا مجسمہ استادہ تھا اور وہ ڈبل تھا میں شاید سمجھا نہ سکوں ۔۔۔لیکن وہ عجیب و غریب مجسمہ تھا ایک طرف ایک سپاہی بڑی سی تلوار لئے زرہ بکتر پہنے ہوئے  ہوئے تنا ہوا کھڑا تھا اسکے دوسری طرف ایک بڑا آیئنہ لگا ہوا تھا ۔۔اور وہی مجسمہ دوسری طرف سے دیکھئے تو ایک نازک اندام دوشیزہ گھونگھٹ میں سلام کے لئے جھکی نظر آرہی تھی ۔۔۔جسنے پیشواز پہنی ہوئی تھی ۔۔۔اور اپنی مخلوطی انگلیوں سے پیشواز کا دامن تھا ما ہوا تھا ۔حیرت حیرت ۔۔۔۔اور صرف حیرت ۔۔۔۔                                                     ۔۔۔ایک کمرے میں صرف بر تن تھے جن میں چاندی سونے سے لیکر چینی کانسے اور مٹّی تک کے بر تن سجے ہوئے تھے ۔۔چینی کی پیالیوں اور تشتریوں پر فارسی میں اشعار لکھے ہوئے تھے ۔۔۔پلیٹوں میں فارسی کے قطعات موجود تھے ۔چاندی کے کانٹوں چمچوں پر مہارت سے نظام حیدر آباد کے نام کندہ تھے ۔
اب حقّوں کی باری آئی تو دیکھا چینی کے کانچ کے چاندی کے ہر طرح کے حقّے سجے ہوئے تھے ،انکے پیندوں پر اشعار کندہ تھے
چاندی کی نےَ اور کانچ اتنا ہلکا جیسے چاندی کا ورق ۔۔۔حقّوں کے ساتھ ساتھ پائپ بھی سجے ہوئے تھے  طرح طڑھ کے ڈزائین ،طر ح طرح کے مٹریل ۔۔۔ہاتھی دانت کے پائپ بھی موجود تھے اور کانچ کے بھی ۔۔لکڑی کے بے شمار ۔۔۔ان پر مہارت سے نقاشی کی گئی تھی ،بیل بوٹے بنائے گئے تھے ،،سائیز بھی الگ الگ موجود تھے ۔
پوری دنیا کے آرٹ کے نمونے وہاں موجود تھے ،اکثر نقل بھی تھے مگر ایسے کہ انپر اصل کا گماں ہوتا تھا ۔
ایک بہت بڑا ہال کتابوں سےسجا ہوا تھا جہاں اردو فارسی عربی کے قلمی نسخے موجود تھے  سراج دکنی ،اور ولی دکنی کے دیوان سجے ہوئے تھے کچھ کتابیں نظام حیدرآباد کی لکھی ہوئی  تھیں ۔ہر قسم کے رسم الخط موجود تھے ۔قران ِ پاک کی تفسیر قلم اور روشنائی سے لکھی ہوئی ۔۔
پوری دنیا کے آرٹ کے نمونے سجے ہوئے تھے ۔
ایک چیز کا ذکر ضرور کرنا چاہونگی جسے میں آجتک بھول نہ سکی ۔وہ ایک مجسّمہ ہے جو کہ فرانس کے ایک ماہر نقّاش نے تراشا ہے ،یہ ایک قدّ ِآدم مجسمہ جو کہ ابراہیم علہیہ سلام ُکی بہو "ربیکا " کا ہے
سفید اور شفّاف بالکل جیتا جاگتا سا محسوس ہوتا ہے  اس مجسمّے کی خاصیت یہ ہے کہ اسکے جسم پر ایک ہلکا سا روبٹّہ پڑا ہوا ہے ۔۔اور وہ بھی سنگ ِ مر مر سے تراشا ہوا ۔۔۔
ماتھے سے ہونٹوں  تک آتے آتے اس روبٹہّ کی شکنیں اتنی واضع اور حیران کن ہیں کہ جو دیکھتا ہے وہ مبہوت رہ جاتا ہے ۔وہ کپڑا کمر سے نیچے تک جاتا ہے اور جھالر سی بن جاتی ہے ،،وہ حصّہ بھی سنگ ِ مر مر سے بنا ہوا ہے وہ جھالریں پیر کی ایڑیوں تک آتی ہیں اور پیروں میں سینڈل بھی خوبصورتی سے تراش کر بنائی گئی ہے  اس بے مثال مجسّمہ کی تاریخ بھی میں لکھ کر لائی تھی جو مضمون کی طوالت کے پیش ِ نظر ابھی نہیں لکھ رہی ہوں ۔انشاءاللہ  آئیندہ رقم کرونگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لمبنیٰ باغ کی طرح ایٹ اسٹریٹ  بھی حسین ساگر  کا ایک کنارہ ہے ،جسپر خوبصورتی سے ٹورسٹ کے بیٹھنے اور کھانے پینے کا انتظام کیا گیا ہے ۔رنگ برنگی کر سیاں ،سفید جالی کے کنارے نصف دائیرے کی شکل میں لگی ہوئی تھیں ۔اور یہ حصہ حسین ساگر کو چھو رہا تھا لوگ سیڑھیوں پر پانی میں پیر ڈالے بیٹھے تھے ۔۔دوسری طرف کی روشنیوں کا عکس پانی میں جھلملا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور وہ منظر اتنا حسین تھا کہ جو میں بیان نہیں کر سکتی مگر آپ محسوس کر سکتے ہیں ۔
میں اور میری بیٹی کافی لیکر وہاں بیٹھ گئے  اور کنارے پر جلتی بجھتی روشنیوں کا جادو دیکھتے رہے ۔اور پھر رات اتر آئی ۔
حیدراآباد سنڑل مال بھی بیحد خوبصورت ہے مگر اب تو ہر جگہ ایک سے ایک عمدہ مال بن گئے ہیں اسلئے اسکا ذکر نہیں کرونگی ۔۔مگر وہان جو جویلری کی دوکانیں تھیں وہ اسقدر حسین تھیں ،قطار سے سچّے موتیوں کی لائینیں لگی ہوئی تھیں ۔۔اتنے سارے موتی مینے ایک ساتھ کبھی نہیں دیکھے تھے ۔۔۔ایک خوبصورت سجی ہوئی شاپ میں ایک کرسٹل کے بڑے سے پیالے میں سچّے موتی بھرے ہوئے رکھّے تھے ۔۔۔۔وہ میں ابتک نہیں بھول سکی ۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اسدن صبح صبح بیٹی نے جگایا ۔۔۔۔اور بتایا کہ ہم "راموجی فلم سٹی " دیکھنے جارہے ہیں ۔9بجے بس وہاں سے روانہ ہوئی دور دور تک سیاہ پہاڑیاں اور حدّ ِ نگاہ تک سبزہ پھیلا ہوا تھا ۔ایک ڈیڑھ گھنٹے میں ہم اس علاقے میں داخل ہوئے  جہاں ایک اونچی پہاڑی پر دور سے "رامو جی فلم سٹی "کا مخفف آر۔ایف ۔سی ۔نظر آرہا تھا ۔
ہماری بس نہایت آرام دہ تھی اور میری بیٹی فارینا نے بس کے ٹکٹ لیتے وقت فلم سٹی کا ٹکٹ بھی لے لیا تھا اس لئے ہمیں کسی لائین میں نہیں لگنا تھا ۔۔۔آرام سے دوسری کھلی ہوئی بس میں بیٹھ کر آگے بڑھ گئے ۔وہ سرخ رنگ کی کھلی کھلی سی بسیں تھیں جو ہمیں پورا فلم سٹی گھمانے والی تھیں ۔وہ بسیں نہایت آرام دہ،جیسے ہم صوفے پر بیٹھے ہوں اور اوپر سرخ چارد تنی ہو ۔۔۔۔ہر طرف سے پورا علاقہ نظر آرہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سر سبز وشاداب ۔۔۔ایک گائیڈ نے ہمیں تاریخ بتا نا شروع کی ،وہاں پر کئی مغلیہ محلوں کی نقل بنی ہوئی تھی ان محلوں میں فلم کی شوٹنگ ہوتی ہے اور ہمیں نقل پر اصل کا گمان ہوتا ہے ۔۔۔ویسے تو وہا  بہت ساری چیزیں قابلِ ذکر ہیں ایک رستوراں مجھے بیحد پسند آیا جہاں بیرے مغلیہ دور کی سر پگڑی اور سفید پیشواز پہن کر کھانا سرو کر رہے تھے ،کھانے کی پلیٹیں اور گلاس چاندی کے تھے کھانے میں  بھی بہت ذائقہ تھا ۔۔۔ہم دونوں نے خوب کھانا کھایا اور آیس کریم بھی ۔۔
بڑی بڑی سفید سیپیاں بناکر اسمیں سرخ پھول ،سفید ،نارنجی ،پھول لگائے گئے تھے ۔۔۔چاروں طرف  بے حد سجاوٹ تھی ۔





پنجرہ

                 پنجرے
اسنے اپنی  جھریوں بھر ے ہاتھ دیکھے ۔۔۔۔
"وہ اچا نک آکر میرے ہاتھوں میں کیا چھپا کر گیا ہے َ۔"
کمزور ہتھیلیوں پر گلاب کی کچھ ادھ کھلی کلیاں تھیں ۔۔۔۔۔گلاب کی وہ کلیاں جو کھلنے کا انتظار کررہی تھیں ۔۔۔پارک کے اس گوشے میں
اور اسنے ان کلیوں کے نہ کھلنے کی آرزو کی ۔۔۔۔۔۔کہ اگر وہ کھلِ گئیں تو بکھر جائینگی ۔۔۔۔۔وہ اس معصوم تحفے کو سنبھال کر رکھنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔اور تحفہ عطا کرنے والا ۔۔۔اپنے ننھے سے پوتے کا ہاتھ تھامے آہستہ آہستہ پارک سے باہر جا رہا تھا ۔۔۔لیکن قدم بتا رہے تھے ۔۔۔کہ وہ خود نہیں جارہا ہے ۔۔۔بلکہ بچّے کے ہاتھ اسے لیئے جارہے ہیں ۔۔۔۔۔شا ید وہ جانا ہی نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پنجرہ کسے پسند ؟؟؟؟ مگر وہ بھی ضروری ۔۔۔۔
اسنے پارک میں بیٹھے بیٹھے پری کی تلاش میں نظر دوڑائی ۔۔۔۔وہ ایک بنچ کے کونے میں اپنے کھلونے لیئے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔مطمین ۔۔۔۔دنیا کے ہر غم ہر فکر سے آزاد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک معصوم چڑیا کی طرح ۔۔۔۔وہ اڑتی پھرتی تھی ۔۔۔جیسے کبھی وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسنے اپنا آنچل پھیلا کر اڑھ لیا ۔وہ اپنے خوابوں کے دائروں سے نکل ہی نہیں سکی کبھی ،
وہ بھی تو کھلِ گئی تھی ۔۔ان کلیوں کی طرح اور اب پتّی پتّی بکھر چکی تھی ،
وہ ابھی تک باغ کے دروازے پر تھے ۔۔مڑ کر اسکی طرف دیکھ رہے تھے ۔۔۔کچھ خواب ۔۔۔کچھ تشنہ تمنّائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہ جانے کیا کیا ۔۔۔


ادھر نانی کی انکھیں بھی نم تھیں ۔۔۔مگر ہونٹون کے گوشے مسکرا رہے تھے زندگی کے آخری پراؤ پر ہی سہی ۔۔۔۔ایک گلاب اسکی مٹھّی میں تو آیا ۔          ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پر چھائیں

اور اس دن میں اپنے آپ سے ملا ۔سڑک پر اکیلا لڑ کھڑا تا ہوا ۔۔۔چہرے پر آنسو ؤں کے دھبّے ۔۔۔میلا یو نی فارم ۔۔اور تب تک میں اپنی کار سے ٹکرا کر گر چکُا تھا ۔
کچھ دیر تک میں اپنے آپ کو کار کی پچھلی سیٹ پر اوندھا لیٹا سسکیاں لیتے دیکھا کیا ۔۔۔۔۔۔۔اور تب میرا جینے کو جی چاہنے لگا ۔۔۔۔
آیئے میں آپکو شروع سے بتا تا ہوں ۔
تیز نیلی چنگھا ڑتی ہوئی آواز سماعت کو دہکا رہی تھی ۔میں بستہ زمین پر وہیں زینہ کے پاس پھینک کر ،پیر لٹکا کر بیٹھ گیا ۔گھنٹی بجانے کی ہمّت نہیں ہورہی تھی ۔گھر کے اندر چیخ پکار اور بر تن پھیکنے کا سلسلہ جاری تھا ۔زور کی بھوک لگ رہی تھی ،نیند بھی آرہی تھی مگر گھر جانے کی ہمّت نہیں تھی ۔یہ روز کا معمول تھا ۔سر جھکا کر نیچے کے زینے کی طرف نظر ڈالی تو دیکھا ،وہ چہرہ اوپر کئے کھڑی تھی ،اسکے چہرے پر تشویش تھی ۔گول نرم چہرہ دو چھوٹی چھوٹی پونیاں بنائے صاف شفّاف گلابی فراک پہنے ہوئے ۔۔شاید ابھی نہا کے آئی تھی ۔اسنے اپنا ننھا سا ہاتھ اٹھا کر مجھے بلا یا ۔ مگر مینے جھنجھلا کر نظریں پھیر لیں ۔نیند سے پلکیں بھاری ہورہی تھی دیوار سے ٹک گیا تھا ۔

چند لمحوں بعد اسکا نرم سا ہاتھ اپنے کاندھے پر محسوس ہوا ۔
"چلو آؤ میرے ساتھ ۔۔۔" اسنے میرا بستہ اپنے کاندھے پر ٹانگ رکھّا تھا میں آہستہ قد موں سے غنودگی کے عالم میں  اسکے پیچھے چلنے لگا ۔
صاٖف ستھرا  چھوٹا سا فلیٹ ،محبّتوں کی خوشبو سے معمور۔۔۔۔ ۔مجھے اپنے میلے کچیلے کپڑوں سے بڑی کوفت  ہوئی ۔
"تم منھ ہاتھ دھولو ۔۔میں کھا نا لگا تی ہوں " ارم کی امّی نے میرے بکھرے بال اپنی انگلیوں سے  سنوارتے ہو ئے کہا ۔وہ
کھا نا کھا کر  وہیں فرش پر سوگیا ۔ارم وہیں  پر اسکول کا کام کرتی رہی ۔
شام کو گھر میں داخل ہوا تو سب بے فکری سے اپنے اپنے کاموں میں مصروف نظر آئے ۔بھیّا نے کمپیو ٹر سے نظرا اُٹھا کر ذرا کی ذرا مجھے دیکھا اور پھر اپنے کام میں مصروف ہوگئے ۔
ماں نے جھا ڑن لینے کے لئے اسٹور کا دروازہ کھولا اور پھر زور سے بند کیا ۔
وہ  آہستہ آہستہ چلتا ہوا اپنے اور بھیّا کے مشتر کہ کمرے میں آیا جوتے اتار کر ایک طرف رکھّے ۔نہانے کے لئے باتھ روم میں گھس گیا ۔
شاور کی ننھی ننھی بوندیں جسم کی گرد تھکن اور ذہن کی جھنجھلا ہٹ صاف کر تی رہیں ۔
اور چند لمحوں کے لئے وہ شام اسکی اپنی ہوگئی ۔۔۔
اسے  خود بھی نہیں معلوم کہ اسکے  گھر کا ماحول ایسا کیوں تھا ؟ماں کسی بوتیک میں کام کرتی تھی پا پا کاا پنا بزنس تھا ،گھر بھی اپنا تھا ۔وہ  دونوں بھائی ٹھیک ٹھاک پڑھ بھی رہے تھے ۔بظاہر کوئی کمی نہیں نظر آتی تھی ۔اسکا  کچّا ذہن یہ سو چنے سے قاصر تھا کہ لڑائی جھگڑے کی وجہ کیا تھی ۔۔۔۔وہ چاہتا تھا میرا گھر بھی ارم کے گھر جیسا ہو جائے ،صاف ستھرا موتی کی طرح چمکتا دمکتا ۔جہاں اسکی امّی روز تازے پھول سجاتی تھیں اور ہمیشہ مسکرا کر ویل کم کرتی تھیں ۔اسکے گھر پر کھانے بھی بہت معمولی ہوتے ،کبھی کبھی سلائس جیم کے ساتھ ایک کیلا ۔۔۔۔مگر خوشی خوشی کھا کر تسکین ملتی تھی ۔ارم کی امّی کبھی اسے اپنے ہاتھ سے بھی کھا نا کھلا دیتی تھیں ،سادے سے دال چاول ۔۔ وہیں بغیر کارپٹ کے فرش پرپنکھے کے نیچے  سکون کی نیند سوجاتا ۔ٹھنڈا ٹھنڈا ،سفید اور گلابی فرش ۔ایک نرم سی مہک ۔۔۔
اسکی امّی آہستہ آہستہ اپنا کام کرتیں کہ وہ جاگ نہ جا ئے ۔
نیند بھر کے اٹھتا تو تر وتازہ ہوتا ۔ارم کے ساتھ بیٹھ کر اولٹین کا گلاس ختم کرکے کولونی کے بچّوں کے ساتھ کھیلتے کھیلتے نہ جانے کب شام اتر آتی ۔اپنے گھر جانے کا خوف اس کے دل میں ذرد سیّال بنکر دوڑنے لگتا ۔
اس دن پھر کھانے کی میز پر ڈیڈی چیخ کر ما ں کو ڈانٹتے رہے اور کئی بار ماں چلّا چلّا کر اپنا غصّہ اتارتی رہی ۔اسکے گلے میں کھا نا اٹک رہا تھا ،بھیّا اسکیی طرف ہی دیکھ رہے تھے انھوں نے پنیر کا پیالہ اسکی جانب سرکا یا ۔
"یہ لو تمہیں تو بہت پسند ہے نا ۔۔۔۔؟'
بے دلی سے بڑھا ہوا  ہاتھ راستے میں ہی رہ گیا ،ڈیڈی نے پیالہ لے  لیا اور کھینچ کر زمین پر دے مارا ۔
"نہ نمک کا پتہ اور نہ مصالے کا ۔۔۔۔یہ کتّے کا راتب بنا کر رکھّا ہے میرے اور میرے بچّوں کے سامنے ۔۔۔۔جاہل عورت کم از کم ایک وقت کا کھا نا تو پیٹ بھر کھلا دیا کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
 دونوں حیران فرش پر بکھرے سر خ سالن اور پنیر کے براؤن ٹکڑوں کو تک رہے تھے ۔۔۔۔بھوک چمک اٹھی تھی مگر اب کھانے کی میز پر کیا تھا وہ نظر نہیں آرہا تھا ۔۔۔۔۔وہ اٹھ کر تھکے قدموں سے اپنے کمرے میں آگیا ۔۔ مٹھّی میں آدھی روٹی دبی ہوئی تھی ۔اسکو منھ میں ڈال کر جلدی جلدی نگلنے لگا ،آنسو بہہ رہے تھے سسکیاں حلق میں ٹوٹ رہی تھیں ۔۔۔بھوک کی شدّت سے نڈھال نہ جانے کب  سوگیا ۔
صبح بھی کھانے کے لئے بھی ماں نے  کچھ نہیں پکا یا ،اپنے گنی بوکس سے کچھ روپیے نکال کر اسکول کے لئے باہر آگیا ۔۔
سڑک پر ٹھیلے سے ایک سینڈوچ لیا اور وہیں جلدی جلدی کھا لیا ۔سڑک کے کنارے بنے ہوئے ہینڈ پمپ سے پانی پی کر کچھ سکون ہوا ۔کپڑوں پر نگاہ کی ۔۔۔یونی فارم بہت میلا اور دھبّے دار تھا ۔
اسکول جانے کی ہمّت نہیں ہوئی ۔۔۔۔دل میں اک دھوں سا اٹھ رہا تھا ۔۔۔۔۔کہاں جاؤں ؟
کا لونی کے پیچھے چوکیدار کے کواٹر میں اسکی بیوی کپڑے الگنی پر ڈال رہی تھی ،مجھے دیکھ کر مسکرائی تو میں آگئے بڑھ آیا اوربرامدے میں پڑی چارپائی پر بیٹھ گیا ۔
"کا ہوا بٹوا ؟؟ اسکول سے بھاگ آئے ہو کا َ؟؟؟ "
وہ کچھ بول نہیں سکا بس خالی خالی نظروں سے اسے دیکھتا رہا ۔
وہ میرے لئے اندر سے ایک لسّی کا گلاس لے آئی ۔میں گلاس تھام کر جلدی جلدی لسّی پینے لگا ۔۔۔اور وہیں پلنگ پر لیٹ گیا ۔وہ حیران تھی پھر ایک چادر لیکر آگئی
"رُک جاؤ بھیّا ۔۔۔تنی چادر بچھائے دئی ۔۔۔"
"نہیں رہنے دو " چادر اسکے ہاتھ سے لیکر سر ہانے رکھ لی اور گہری نیند سوگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جانے کب تک سوتا رہا
اٹھا تو شام ہورہی تھی ۔چوکیدار کرسی پر بیٹھا حیرت سے مجھے دیکھ رہا تھا ۔
بستہ اٹھا کر بغیر کچھ کہے میں گھر کی جانب چل پڑا ۔
زینہ پر وہ پریشان کھڑی تھی ۔
"تم کہاں تھے دن بھر ؟؟؟
اسکے لہجہ میں فکر بول رہی تھی ۔
" کچھ تو بولو ۔۔اسکول کیوں نہیں آئے ۔۔۔؟"
وہ نے سر اٹھا کر زخمی نظروں سے اسے دیکھا ۔۔۔
"تھوڑی دیر کے لئے تمہارے گھر آجاؤں ؟؟"
اسنے آگے بڑھ کر  تپتا ہوا ہاتھ تھام لیا اور اپنے گھر لے آئی ۔
وہاں اسکے پاس بیٹھ کر میں اپنے طریقے سے اپنے دُکھ سنا تا رہا ۔۔۔و ہ اسکا چہرہ اپنے تولیہ سے صاف کر کے آ ئسکریم نکال لائی ۔۔پھر اپنی تصویروں بھری کتا بیں دکھا تی رہی اور اسنے ایک ڈائری کھول کر اسکے ایک ننھا سا تتلی کا پر دیکھا یا ۔۔۔۔۔۔۔۔کئی رنگوں سے سجا وہ پر ۔۔بیحد خوبصورت تھا ۔ نظرون میں پسندیدگی دیکھ کر اسنے ایک گلابی لفافے مین وہ پر رکھ کر اسکی طرف بڑھا دیا ۔
"یہ تمہارے لئے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب مت رونا ۔۔۔میں ہوں نا تمہارے ساتھ ۔۔۔"
اور وہ پر اسکی زندگی کا قیمتی اثاثہ بن گیا ۔

تعلیمی مدارج طے کرتا رہا ۔ہوسٹل  بھی رہا اور عزیزوں کے ساتھ بھی مگر وہ پرَ اسکے ساتھ ساتھ رہا ۔زندگی کئی برس آگئے بڑھ آئی ۔دہلی میں ایک اچھّا فلیٹ لیکر وہ واپس اپنوں سے ملنے بھی گیا ،سوچا تھا اس گلابی پرَ کی طرح اپنی زندگی بھی گلابی ہوجائے گی مگر ۔۔۔وہاں بھی قسمت سے ہار گیا ۔
اسنے جھک کر بالکونی میں رکھّے اپنے پیار سے لگائے ہوئے   پھولوں کو دیکھا ،گہرے ہرے کنارے پیلے پڑ گئے تھے ۔۔۔گرد و غبار سے پودے نڈھال اور بے رونق ہوچکے تھے ۔وہ تڑپ اٹھا ۔۔۔پانی کا پائپ لیکر سارے پودوں کو شفّاف کرنے میں جٹ گیا ۔۔۔۔۔۔دونوں ہاتھوں کے پیالے میں اس گلُ داؤدی کے پودے کو لیکر وہ زارو قطار رو رہا تھا ۔۔۔۔
"سوری دوست ۔۔۔۔۔۔۔۔ویری سوری ۔۔۔میں بہت خود غرض ہوگیا تمکو بھول گیا تھا ۔۔۔اپنے غموں میں ایسا جکڑ گیا کہ تمہارا احساس بھی نہ کر سکا ۔۔۔میرے دوستو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک ایک پودے سے معفیاں مانگ رہا تھا کوئی اسے دیکھتا تو پاگل ہی سمجھتا ۔
وہ جانتا تھا کہ وہ پاگل نہیں ہے ۔یہ پھول پودے یہ بے زبان ہمیشہ اس کی اُداسی دور کرتے رہے اور اب وہ ان کو بھول کیسے گیا ؟
اسکا غم ساری دنیا پر محیط کیوں ہوگیا ۔۔۔۔
ارم کی شادی ہوگئی تھی بس یہ خبر برداشت کر نا اسکے لئے سخت مشکل بن گئی تھی ۔سارے خواب ایک چھناکے سے ٹوٹ کر ادھر ادھُر بکھر گئے تھے ۔۔۔
کمرے میں آکر میز پر رکھّی ڈائیری کھولی تو ہتھیلی پر ننھا سا گلابی پر کپکپا نے لگا ۔۔۔
آنسو بے آواز گرتے رہے ۔۔۔تھوڑی دیر یوں ہی کمرے میں بے مقصد گھومتا رہا ۔۔شام کمرے کے باہر ٹہل رہی تھی ۔کھڑکی بند کر کے پردے گرا تے ہی اے سی کی ٹھنڈک اثر انداز ہونے لگی اور وہ بے خبر سو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوابوں میں ارم کا گھر ،اسکے گھر کا سکون اور اسکی ماں کی شفقت اسے بہلاتے رہے ۔
صبح روز سے ذیادہ روشن تھی ۔ہلکا اجُا لا پھیل رہا تھا تب ہی وہ اٹھکر باہر نکل آیا سر سبز پودے خوشی سے جھوم رہے تھے ،فضا میں خنکی باقی تھی ۔۔گُل داؤدی کے پتّت گہرے ہرے ہوگئے تھے اور اُن پتّوں سے ننھی سی گلابی کلی شر ما کر جھانک رہی تھی ۔
اس کی ساری کلفت دور ہونے لگی ۔۔۔۔سارا دکھُ سارا غصّہ ساری کوفت ایک ایک کر کے رخصت ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ مسکراتا ہوا گھٹنوں کے بل وہیں بیٹھ گیا ۔
"تھینکس یار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" اسنے پیار سے ان پتّوں پر ہاتھ پھیرا ۔۔سامنےکی بالکونی میں  دیکھا تو بھٹیا جی اکسر سایئز کرتے نظر آئے ۔۔اسّے دیکھتے ہی مسکرائے اور خشدلی سے بولے ۔
"ہیلو جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہاں رہے اتنے دن ؟ بڑے دنوں بعد شکل دیکھا ئی ہے ۔۔" انھیں کیا پتہ کہ وہ اس کمرے میں رھ کر بھی یہاں نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"بس ایسے ہی جناب ۔۔۔آؤنگا  ملونگا کسی دن ۔۔۔ایک کام بھی تھا آپ سے ۔۔۔۔"
"ہاں جی بولو ۔۔۔آپ جیسے پڑوسیوں کے لئے تو جان بھی حاضر ہے ۔۔حکم کرو ۔۔۔"
"ارے نہیں صاحب ۔۔۔اپنی جان ہی نہیں سنبھلتی ۔۔۔"وہ ہنس پڑا ۔
"اب کہیں جاؤن گا تو میرے پو دوں کی دیکھ بھال آپکے سپرد  ۔۔۔۔آپکی بالکونی میں رکھ دونگا ۔۔۔اگر آپکو برُا نہ لگے ۔"
"تُسی فکر ہی نہ کرو ۔۔یہ تو اپنے بچّوں جیسے ہیں ۔۔اور آپکے تو ہمارے گھر مہمان ہوئے نا ۔۔۔۔۔۔۔۔ہماری تو بالکونی سج جائے گی جی ۔۔۔۔۔۔۔۔" انھوں نے حسب عادت زور دار قہقہہ لگا یا ۔
اسکے دل کا بوجھ اتر گیا ۔
ان بے کراں خیا لات کے سمندر میں تیرتے ہوئے اسے یہ اندازہ بھی نہ ہوا کہ اسکے ہاتھ اسٹیرنگ پر بہک رہے ہیں ۔اچانک ایک جھٹکے سے اسنے گاڑی روک دی سڑک پر لوگ جمع ہونے لگے تھے ۔وہ گھبرا کر نیچے اتر آیا ۔۔۔وہ اگلے پہیئے کے پاس اوندھا پڑا ہوا تھا ۔۔ایک خوف ناک خیال نے راہل کو  اپنی لپیٹ میں لے لیا   اسنے کانپتے ہاتھوں سے اس بچّے کو سیدھا کیا ،اسکو کچھ خاص چوٹ نہیں آئی تھی   وہ شاید خوف سے گر گیا تھا ۔۔۔اسے سہارا دیکر گاڑی کے اندر بیٹھا نے تک وہ نہیں سمجھ سکا کہ وہ کیا کرے گا ۔۔۔۔
بچّے کے گھٹنو پر دوا لگا کر اسنے اسے پانی پلایا ۔

۔ "۔کہاں جاؤ گے میں چھوڑ دیتا ہوں "
وہ سہمی نظروں سے اسے تکنے لگا ۔۔۔ پھر دھیرے سے بو لا ۔۔۔"کہیں ۔۔نہیں ۔۔۔کوئی گھر نہیں ہے میرا ۔۔۔کہاں جاؤنگا ۔۔۔مجھے پتہ نہیں "
اسکے سامنے اپنا بچپن پوری جزّیات کے ساتھ سامنے آکر کھڑا ہو گیا ۔۔۔
بچّے نے بتا یا اسکے ما ں باپ حاد ثے کا شکار ہوئے ۔۔چا چا نے گھر پر قبضہ کر کے اسے نکال باہر کیا ۔۔۔
وہ دھکّے کھاتا ہوا  بھوکا پیا سہ نہ جانے کہاں کہاں بھٹکتا رہا ۔۔۔اور اب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب اسکی باری تھی ۔۔اسے محسوس ہوا وہ ایک بار پھر  اس درد کے سمندر کا پار کر نے نکلا ہے ۔۔۔۔
اسنے اپنا محبّت بھرا ہاتھ بچّے کے سر پر  رکھ دیا اور اب وہ دونوں گہرے دوستوں کی طرح  زندگی سے نپٹنے کے لئے تیّا ر تھے ۔


سہارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زاراقدوائی
جب مجھے میٹرو میں لگا یا گیا تھا تب میٹرو اتنی مشہور نہیں تھی ۔کچھ سا ل لگے اسٹیشن بڑھانے کے ساتھ ساتھ کوچ بھی بڑھائے گئے ۔میری ڈیوٹی سب سے پہلے کوچ میں تھی ۔شروع شروع میں میں بہت پریشان رہا کیونکہ زیادہ تر لڑکے شراب کے نشے میں آکر مجھے تھام لیتے تھے اور لپٹ لپٹ کر کھڑے ہو جایا کرتے تھے ۔اتنا غصّہ آتا تھا کہ انھیں اپنے آپ سے دور کیسے پھینکوں ۔
پہلے تو میں یہی سمجھ نہ سکا کہ میرا کام کیا ہوگا ۔نہ مجھ میں ہنڈل کی طرح اسپرنگ ہے اور نہ ہی پائے ۔میں تو بس کھڑا ہوں دونوں گیٹ کے بیچوں بیچ ۔پر جب میری ڈیمانڈ شروع ہوئی تو ہینڈل کو بھی مجھ سے جلن ہونے لگی ۔لوگ ہاتھ اونچا کر کے ہینڈل پکڑنے کے بجائے سائیڈ میں کھڑے میرے ساتھ ہی ٹک جایا کرتے ،اور مجھے تھام کر پورا سفر کاٹ دیتے ۔
پھر کچھ وقت گزرا تو یہ کوچ لڑکیوں کے لیئے ریزرو کر دیا گیا اس دن سے میری زندگی ہی بدل گئی پوری ٹرین میں چاہے کتنی بھی بد بوؤیں ہوں میرا کوچ ہمیشہ مہکتا رہتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پورے کوچ میں اتنی طرح کی خوشبوئیں پھیلی رہتیں کہ میں یہ بھی بھول گیا کہ فضا کی اصلی خوشبو کیا ہے ۔
یوں تو کئی ہاتھوں نے مجھے تھا ما تھا ۔مگر چار ہاتھ میرے ذریعہ ہی ملے تھے ۔اسمیں ایک ہاتھ منہدی لگائے نئی نویلی دلھن کا تھا ،جسنے شادی کے بعد اب شاید کام پر جا نا شروع کر دیا تھا ۔دوسرا ہاتھ گھر کی ذمہ داروں سے جوجھتا ہوا ۔تیسرا ہاتھ ایک بڑی عمر کی خاتون کا تھا جو نہ جانے کیوں روز اسی اسٹیشن سے سوار ہوتیں شاید اس عمر میں بھی انکو کام کرنا پڑرہا تھا ۔چوتھا ہاتھ ایک معصوم سی لڑکی کا تھا جو شاید کسی اسکول یا کالج میں پڑھ تی ہوگی ۔۔
چاروں کی ملاقات میرے ہی کوچ میں میرے ہی پاس آکر ہوئی تھی ۔وہ چاروں میرے پاس میرے سہارے کھڑی رہتی تھیں ۔کچھ دیر بعد چوڑیوں والے ہاتھ نے کہا ۔
"کیا ہم اپنے آپ گھومے جارہے ہیں َ۔"تب سے ان سب کی ہنسی اور دوستی کی ابتدا ہوئی ۔
ایک دن میری میٹرو میں کسی خرابی کی وجہ سے کسی اور میٹرو کو اس لایئن پر بھیج دیا گیا ۔
یقین جانیئے ایسا لگ رہا تھا جیسے دوسری میٹرو کی وہ کوچ مجھے چِڑِھا رہی ہو ۔۔کہ آج تو میرا سارا دن کارخانے میں جانے والا ہے ۔کارخانے میں میری خوب مرمت ہوئی
ہوتے ہوتے شام ہوگئی شام کے قریب ایک بہت زور کی آواز آئی پوچھنے پر ساتھ والے کوچ نے بتا یا ۔کہ شاید کہیں آتش بازی ہو رہی ہے اسکی آواز ہے ۔
کارخانے سے میری میٹرو کو چھ دن کے بعد نکالا گیا میں وہاں پڑے پڑے بہت بور ہوگیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آخر کو ایک پڑوس کی کوچ نے بتا یا کہ کرفیو لگ گیا ہے ۔۔شاید وہ دھماکا کسی نے بم سے کیا تھا ۔میں بہت اُداس ہو گیا ۔۔۔
ساتویں دن میری میٹرو کو چلا یا گیا ۔ہم پھر اسی اسٹیشن پر پہنچے ،پر آج نہ وہ چوڑیوں والے ہاتھ تھے نہ ہی وہ معصوم چھوٹے ہاتھ ،نہ بڑی عمر کی خاتوں کے اور نہ ہی ذمہ داریوں سے سجے ہاتھ ۔
کچھ بھی پہلے جیسا نہیں تھا پھر بھی سب کچھ ویسا ہی تھا ۔وہ چار ہاتھ میں نے کبھی نہیں پائے ۔
اس کوچ میں نئی ہنسی ،نئی خوشبوؤیں اور نئیے قصّے گونج رہے تھے اور میں نیا ہاتھ تھام کر پھر سے سفر پر نکل گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بے نشا ں

 کچھ نشان قدموں کے
        پاکستان ایرپورٹ پر اترتے وقت ہم سب بے پناہ خوش اورپرُ جوش  تھے۔ ایک عجیب سی مسرت ہم سب کے دلوں میں لہریں لے رہی تھی کافی عرصے بعد ہمارا یہ خواب پوراہواتھا اور ہم ساری دوستوں کا گروپ پاکستان کی سرزمین میں اترچکا تھا۔
        ہم سات دوستوں کا یہ گروپ مختلف جگہوں کی سیاحی میں مشغول تھا دارصل ہماری تقریباً ساری ہی ذمہ داریاں پوری ہو چکی تھیں بچوں کی تعلیم شادیاں اور گھر کی تکمیل اب کچھ حق تو ہماری اپنی خواہشوں کا تھا۔ ہم لوگ اپنے پورے گروپ کے ساتھ ہندوستان کے مختلف صوبوں کی سیر کرتے ہوئے اب پاکستان پہنچ  چکے تھے جو کہ اب ہمارا نہیں تھا پھر بھی ہمیں اپنا اپنا سالگتا تھا۔ویسے ہی لوگ وہی زبان وہی ہنسی ۔
        ایر پورٹ سے ہوٹل پہونچتے پہونچتے سب اپنی اپنی رائے دے رہے تھے اور ہوٹل پہنچ کرہم سب اونچی آواز میں اپنی پسند کے شہر دیکھنے کا پروگرام بنا رہے تھے ۔کسی کو کراچی دیکھنا تھا اور کسی کو لاہور دیکھنا تھا ۔ کوئی حیدرآباد سندھ دیکھنا چاہتا تھا اور کسی کوٹکسلا جانے کی پڑی تھی۔
        میں نے غور کیا کہ مسز روپا کپور کچھ خاموش سی ہیں ان کی عمر تقریباً پنسٹھ بر س کی ہوگی ۔وہ ہم سب میں سینیر تھیں ہم سب ان کی عزت کرتے تھے دارصل اس گروپ کی بنیاد انہوں نے ہی ڈالی تھی ہم سب تو بیچ میں آکر ان میں شامل ہوتے گئے۔
        میں نے ان سے پوچھا ۔’’آپ کو ن سی جگہ دیکھنا چاہتی ہیں ؟ روپاجی؟ ‘‘
        ’’میں پنڈی جانا چاہتی ہوں۔‘‘
        ’’پنڈی کس طرف ہے یہ کوئی چھوٹا شہر ہے یا پھر کوئی گاؤں؟‘‘
        وہ میری نادانی پر مسکرائیں اور بولیں
        ’’میرا مطلب ہے راولپنڈی ۔جو لوگ یہاں رہتے ہیں وہ اسے پنڈی ہی کہتے ہیں۔
        ’’آپ کو کیسے معلوم کیا آپ پہلے آچکی ہیں۔ ‘‘مجھے حیرت سی ہوئی وہ تھوڑی دیر خاموش مجھے دیکھتی رہیں پھر بولیں۔
        ’’میں وہیں پیدا ہوئی ہوں اور وہیں پلی بڑھی ہوں۔ ‘‘
        ان کی آواز بہت نرم اور اداس سی تھی انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ 19برس کی تھیں تب ان کی شادی ہوگئی اور وہ کیرالہ چلی گئیں اب تو ان کی زبان بھی تامل ہوگئی ہے اور وہ کھانے بھی ساؤتھ انڈین ہی بنانے لگی ہیں جیسے کہ وہ وہاں کے مقامی لوگ بولتے ہیں اور کھاتے ہیں ۔ مگر وہ ہمیشہ چاہتی تھی کہ ایک بار وہ وا پس جائیں۔اپنا  ملک اور گھر دیکھیں اور اب جاکر انہیں یہ موقعہ نصیب ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
        جب ہماری فلائٹ اسلام آبادپہونچی اور ہم سب ایرپورٹ کے باہر آئے تو سردی کی شدّت سے کانپ گئے ۔ وہاں ایسی سردی تھیں جیسی کہ کسی ہل اسٹیشن پر ہوتی ہے۔ روپا کپور نے ہمیں بتایا کہ یہ شہر بہت بعد میں بسا ہے ۔ یہ شہر تقسیمِ ملک کے وقت نہیں تھا ۔ پہاڑیوں کو کاٹ کر بسا یا گیا ہے۔ وہاں کی سڑکیں بہت چوڑی تھیں بے حد خوبصورت شاپنگ مال تھے اور بے حد حسین روزگارڈن وہاں کی زینت بڑھا رہے تھے ۔ ہم چاہ رہے تھے کہ اسلام آباد میں کچھ دن رک جائیں مگر مسز کپور راولپنڈی  جانے کے لئے بے چین تھیں۔راولپنڈی وہاں سے کافی قریب تھا مگر کوئی جانے کے لئے تیار نہ تھا۔
        میں نے خود ہی یہ فیصلہ کیا کہ مجھے ان کے ساتھ جانا چاہئے۔ وہ بہت زیادہ ایکساٹیڈ تھیں ۔انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ چا لیس برس کے بعد اپنا گھر دیکھیں گی۔ میں نے قریب کی  فلاورشاپ سے ایک اچھا سا بکے بنوایا اور  ان سے کہا کہ وہ یہ پھول میں اس گھر کے نئے مالک مکان کو دیں  ٹھیک ہے ؟وہ مسکرادیں مجھے لگا کہ وہ میرے اس خیال سے بہت خوش ہوگئیں۔
        جب ہم ٹیکسی لے کر چلے تو مسز روپا ہمیں اک گائیڈ کی طرح راستہ بتا رہی تھیں۔ اک پرانی بلڈنگ کو دیکھ کر انہوں نے بتایا کہ یہ ان کے دوست کنول ساہنی کا مکان ہے اور وہ دیوالی منانے یہاں آیا کرتی تھیں۔ پورے راستے وہ مجھے ایک ایک چیز بتا رہی تھیں ایک بہت بڑی جو ئیلر شاپ دیکھ کو انہوں نے بتایا کہ بہت چھوٹی سی دوکان تھی ان کے دور کے رشتے دارکی جن کا نام رتن سا گر تھا اور اب شاید یہ ان کے بچے چلا رہے ہوں گے۔
        راستے میں ایک بہت بڑی اور پرانی حویلی دیکھ کر وہ بے حد خوش ہوئیں۔
        ’’ یہ مقبول خان چاچاکی حویلی ہے۔ میں اپنے بچپن میں یہاں بہت کھیلی ہوں بہت بڑا باغ ہے اس حویلی کے پیچھے۔ ‘‘
        وہ اتنی زیادہ خوش تھیں کہ وہ میری طرف دیکھے بغیر ہی ساری باتیں کر رہی تھیں وہ کسی بھی بلڈنگ سے اپنی نظر ایک لمحے کے لئے بھی ہٹا نا نہیں چاہتی تھیں شائد وہ یہ سوچ رہی تھیں کہیں یہ منظر پیچھے نہ ہٹ جائے اور وہ دیکھ نہ سکیں ڈرائیور چائے پینے رک گیا تو وہ ٹیکسی سے اتر گئیں اور  میرا ہاتھ پکڑکر پیدل چلنے لگیں۔ وہ مجھے چپّہ چپّہ دکھا رہی تھیں…………
         ’’یہ دیکھو ؟ ‘‘ انہوں نے ایک دو منزلہ مکان دکھا یا یہ میری سہیلی عارفہ  کا مکان ہے ہم  اورعارفہ یہاں کھیلتے تھے انہوں نے برابر کے پارک کی طرف اشارہ کیا ایک گھر کے سامنے وہ پھر ٹہر گئیں۔
        ’’ تمہیں پتہ ہے۔؟ ‘‘وہ میری طرف مڑیں او ر اشارے سے بتانے لگیں ۔’’یہ اللہ بخش چاچا کا گھر ہے ایک بار مما نے مجھے کھیر کا پیالہ دے کر ان کے لئے بھیجا تھا……‘‘ وہ اک لمحہ رُکیں،
        ’’اچانک اک شخص تیزی سے چاچا کے گھر سے نکلا اور مجھ سے ٹکرا گیا…… ساری کی ساری کھیر ……گرم کھیر میرے کپڑوں پر گرگئی۔‘‘
        ’’آپ ان صاحب کو جانتی تھیں…………؟‘‘
        ’’نہیں ……اس وقت تو نہیں……وہ مسکرائیں شادی کے بعد اچھی طرح جان گئی ہوں اب وہ میرے شوہر ہیں۔‘‘
        ہم ہنستے ہوئے اور آ گے بڑھ آئے……وہ بتاتی رہیں……’’یہ ڈاکٹر سلیم یہ کاشی دادا…… یہ پر شاد بھیا…… اور یہ ممتا زچاچا کا گھر ہے ……‘‘
        ڈرائیور گاڑی لے کر پیچھے آرہاتھا مگر اب وہ ٹیکسی میں بیٹھنے کو ہاتھ کے اشارے سے منع کر چکی تھیں میں بھی ان کے ساتھ ساتھ ہی چل رہی تھی……اور اچانک وہ رک گئیں……
        ’’یہاں میراگھر ……‘‘
        یہ اک موڑ تھا جہاں پر اچھی خاصی پر رونق مارکٹ تھی بڑی بڑی شاپ ،ویڈیولائبریری اور شاندار ہوٹل چمک رہے تھے۔ انہوں نے رک کر چاروں طرف دیکھا ڈرائیور ٹیکسی روک کرا ترا آیا تھا۔ 
        ’’ میڈم ۔ آپ کو یقین ہے یہ ہی وہ جگہ ہے……؟‘‘
        ’’ہاں…… ہاں۔ مجھے یقین ہے ۔ میں یہاں پیدا ہوئی ہون میں نے یہاں 19برس گزارے ہیں تم یہاں نہیں پیدا ہوئے ہو۔ (انہوں نے ڈارئیور کو جھڑ ک دیا)۔ میں غلطی کیسے کر سکتی ہوں…… ‘‘انہوں نے بے چینی سے ہر طرف دیکھا عمارتوں کے پیچھے جھانکتی رہیں۔ انہیں یقین تھا کہ ان کا گھر یہیں پر ہے شاید ان نئی عمارتوں کے پیچھے چھپ گیا ہے ۔ ان کی حالت اس بچّے کی سی تھی جس کا نیا کھلونا پسند یدہ کھلونا کہیں کھو گیا ہو……وہ حیران پریشان ادھر ادھر دیکھ رہی تھیں۔ اور بڑ بڑا رہی تھیں……’’ارے میں اپنا گھر نہیں پہچانوں گی میرا گھر…… پتہ ہے ایک بار برامد ے میں فرش بن رہا تھا…… یہاں پور ٹیکو میں…………تو میں دوڑتی ہوئی آئی اورگیلی سمینٹ…… گیلی سمینٹ پر میرے پیر وں کے نشان بن گئے اور پھر ڈیڈی نے اس کو ٹھیک نہیں کرنے دیا تھا، انہوں نے کہا یہ روپا کا گھر ہے اور روپا کے پیروں کے نشان اس گھر کی پہچان ہیں ۔ بالکل انٹرنس پر میرے پیروں کے نشان تھے تم دیکھنا۔‘‘ وہ اس نئی بلڈنگ کے باہر بے چین کھڑی تھیں ۔
        میں نے بڑھ کر چوکیدار سے پوچھا۔’’ یہ ہوٹل کب بنا ہے۔‘‘
         وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور بولا کوئی پانچ چھہ  برس ہو گیا جناب۔
        ’’ تم یہاں کب سے کام کررہے ہو۔‘‘
        ’’بی بی صاحبہ جب سے یہ پرانی بلڈنگ توڑی جارہی تھی تو میں مز دور تھا پھر یہاں کام مل گیا چوکیدار کا۔‘‘
        روپا خاموش رہیں۔
        ’’کیا یہاں پر کوئی پیلے رنگ کا دو منزلہ مکان تھا…… ؟‘‘یہ تفصیل روپا مجھے سارے راستے بتاتی آئی تھیں۔
        ’’جی ہاں یہاں پر اس طرح کی عمارت تھی…… کافی پہلے……‘‘
        ’’ اور اس کے داخلی دروازے پر پیروں کے نشان بھی تھے ‘‘مجھے بھی بہت بے چینی تھی ’’بی بی صاحب وہ تو ہم نہیں جانتے ……جب وہ عمارت توڑی جارہی تھی تو……‘‘
        ’’چپ رہو……چپ ہو جاؤ ‘‘روپا زور سے چلّا ئیں اور ٹیکسی میں جاکر پچھلی سیٹ پر گرگئیں۔ چوکیدار حیرت سے مجھے دیکھ رہا تھا۔
        ’’وہ میری دوست کا مکان تھا۔ ہم انڈیا سے آئے ہیں‘‘ میں نے اس کی حیرت دور کی اور آہستہ آہستہ ٹیکسی کی طرف بڑھی ……وہ رو رہی تھیں کانپ رہی تھیں کچھ بول بھی رہی تھیں۔
        ’’ ……یہ میرا گھر ہے……میرے دادا جی نے بنا یا تھا…… یہ میری روح ہے……میرے اپنے سب یہاں پیدا ہوئے یہیں ان کی موت ہوئی یہ زمین یہ پیڑ یہ ہوا یہ پانی یہ سب ہمارا ہے۔…… بس ایک دن کوئی لائن کھینچ دیتا ہے۔
        ایک۔ صرف ایک لائن…… ایک سنگل لائن مجھے اجنبی بنادیتی ہے۔ ایک لکیر ملک کو کاٹ دیتی ہے…… دو ملک بنا دیتی ہے …… مجھے فارنر بنا دیتی ہے میں اپنی ہی زمین پر فارنر ہو گئی ، غیرملکی ہو گئی۔ کوئی سمجھ نہیں سکتا میرا دکھ میرا درد ……‘‘آنسو ان کے بوڑھے رخسار پر بہ رہے تھے ۔
        میں خاموش تھی ۔ بالکل خاموش ۔میں نے انہیں تھام لیا تھا وہ کانپ رہی تھیں۔وہ ٹیکسی کی پچھلی سیٹ پر بیقرا ری سے رو رہی تھیں ۔۔میں نے انکو گلے لگا یا ۔۔۔میری آنکھیں بھی انکی بے بسی پر بھیگ رہی تھیں ۔
        اور تب میں نے دیکھا کہ وہ پھول جومیں لے کر آئی تھی میں نے بے خیالی میں روپا کی گود میں رکھ دیئے تھے ۔ گھر کی پرانی مالکن کی گود میں پھول مسکرا رہے تھے مگر وہ گھر جس کے داخلی دروازے پر ان کے قدموں کے نشان تھے وہ اب نہیں تھا…… کہیں بھی نہیں تھا……!
       

















آزادی کے خواب
        سنا تم نے …… ؟ اس نے میرے سامنے چائے کا کپ رکھتے ہوئے پوچھا ’’صبح سے اسکول کا ہر بچہ ننھا سا جھنڈا لئے ننھی منی آواز میں آزادی کی گیت گاتا جا رہا ہے……‘‘
        ارمین کے لہجے میں اک معصوم سی مسرت اور اشتیاق ہلکورے لے رہا تھا اس نے ہاتھ بڑھا کر ریموٹ اٹھا یا اور T.Vآن کر دیا …… ہم دونوں ناشتے کی ٹیبل پر تھے ……چائے کا بھاپ اُڑاتا کپ میرے سامنے تھا مگر دل میں اک بے کلی سی تھی۔
        اب T.Vپر آزادی کے پروگرام شروع ہو چکے تھے۔ اک مشہور سنگر کی آواز گونج رہی تھی۔
        ’’اب کوئی گلشن نہ اجڑے اب وطن آزاد ہے ‘‘
        اور میں…… اپنے خیالات میں گم ہوگیا، میرا دل نہ جانے کیوں دکھا دکھا سا ہے۔ فضا میں آج بھی جب اس گیت کے بول گونجتے ہیں تو ذہن و دل اک نئی کیفیت سے روشناس ہوتے ہیں اک جوش اک جنون، اک دلولہ اور آزادی کا احساس……
        لیکن …… دل اداس کیوں ہے…… ؟مجھے اس کے پس منظر میں کچھ اور کیو ں دکھائی دے رہا ہے……؟
        گولیوں کی آوازیں بچوں کی چیخ پکار ، بم کے دھما کے اور لوگوں کے بکھرتے وجود ……بے بسی لاچاری ……  دکھ …… کرب ……کیا واقعی اب کوئی گلشن نہیں اجڑے گا……؟
        کیا آزادی کے متوالوں نے اپنی جانیں دے کر یہ آزادی اس لئے مانگی تھی کہ آزادی اک خواب بن جائے ……اک سنہرا خواب اور اس خواب کی تعبیر اس صورت میں سامنے آئی کہ ایک گھر کے آنگن میں ایک کمزور سی دیوار اٹھا دی گئی…… اور اک ماں…… یہ کہاں برداشت کر پاتی ہے کہ اس کے بچوں میں دوریا ں ہوں……چولھے الگ ہو جائیں ……کون ماں برداشت کرتی ہے یہ دکھ……؟
        کیا آزادی کی جنگ میں حصّہ لینے والوں……اپنی جانیں نچھاو ر کرنے والوں کو یہ معلوم تھا کہ دھرتی کویہ کرب سہنا پڑے گا اور وہ اس طرح خون سے لال ہوتی رہے گی۔؟
        آزادی کے 69انہتر برس بعد بھی لہو سے تر ہے یہ زمین ……کاش آزادی کے نام سینوں پرگولیاں کھانے والے …… آئیں اور دیکھیں ملک کے مختلف علاقے۔ وہ دیکھیں دہلی کی تباہی، گجرات پر نظر ڈالیں ،بمبئی کا منظر دیکھیں …… یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ کشمیر میں روز چند جوان مار دیے جاتے ہیں یہ کہہ کر کہ وہ دہشت گرد تھے ۔ سچائی پر کھنے کا کسی کا پاس وقت نہیں ۔
        دہلی کے بازار وں میں کس طرح موت کا بازار گرم ہوا۔ گجرات کے لوگ آج بھی بے سہارا ہیں …… دہلی میں کیسی تباہی آئی کتنے گھر خالی ہوگئے……
        ہندوستان آزاد کروانے والے آئیں اور تاج ہوٹل کے اندر حیوانیت کا ننگا ناچ دیکھیں۔
        اک بے قصور رپوٹر جو کسی ایک کمرے میں بند تھی آخری وقت تک S.M.Sکرتی رہی……وہ تاج ہوٹل کے ایک کمرے میں بند تھی اور چاروں طرف ہولناک آوازیں بم دھماکے باردو کی بو…… اس لڑکی کا آخر ی میسج یہ تھا کہ ’’بس اب کوئی باتھ روم میں کو د کر آیا ہے ‘‘ اور پھر لائن ڈیڈ ہوگئی ۔ کیا ہوا ہوگا اس کے بعد۔؟
        کون سوچ سکتا ہے ۔ کچھ لوگ مرنے والو ں کی گنتی مذہب اور فرقے کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ انسانیت کی بنیا د پر نہیں ۔ مرنے والے کوئی بھی ہو ں ،ہیں تو انسان ہی ۔
       
        پھر ہم کون ہیں انسانوں میں فرق کرنے والے ۔
        کہاں ہیں دارپرچڑھنے والے آئیں اور ہندوستان کا یہ منظر دیکھیں کیسا کرب ہے کہ جگر کٹا جاتا ہے…… کتنے دلوں کے اندرآگ جل رہی ہے اور اس کی تپش سے سارا علاقہ سلگ رہا ہے۔
        حملہ سرحد پر نہیں ہوتا ہے گھروں پر ہوتا ہے اسٹیشنوں پر ہوتا ہے بازاروں میں ہوٹلوں میں ہوتا ہے کیا اس دن کے لئے پورے پورے خاندان کے لوگوں نے اپنے آپ کو دار کے حوالے کیا تھا۔
        سر حدوں پرسر کٹا نے والے دیکھیں ………… گھروں کے اندر چین سے رہنے والوں نے خود اذنِ حیوانیت دیا ۔آؤ ہمارے عوام کے سینے حاضر ہیں۔ چاہے وہ گجرات کا منظر ہو ، دہلی کا یا پھر بمبئی کا ………… بچوں کی آہیں ان نام نہاد نگراں لیڈران کے شراب کے جام میں ڈوب رہی ہیں جوان اور بیواؤں کی سسکیاں ان کے ناچ رنگ میں دھند لائی ہیں ماؤں کی چیخیں ان گھر کے بھیدیوں کے کانوں تک ہی نہیں پہونچ رہی ہیں کہ کانوں پر ہیڈفون چڑھے ہیں جس میں تیز موسیقی ہے لطف وانبساط ہے لوگوں کا اعتماد  ریزہ ریزہ ہو رہا ہے…………
        کہا ں تھیں وہ نگراں نگاہیں۔ وہ سیکورٹی جو معصوم عوام کو پریشان کرنے کے لئے ہے، نام کے لئے ہے۔
        پوری دنیا کی بات کریں ۔تب بھی دلوں کو قرار کہاں ہے جب نگاہ اٹھتی ہے کشمیر،سربیا،لبنا ن، شام ،عراق  ہر طرف کے حالات و واقعات سامنے ہیں پوری دنیا میں ظلم و بربریت سفاکی، آبرو ریزی ،قتل و غارت گری کے گدھ کیو ں منڈلارہے ہیں؟ امن وسکون کہاں ہے ؟ انصاف اور طمانیت اوررحم کے پودے کیوں خشک ہو گئے ہیں اور پھر جب یہ سب کچھ ہر خطے سے معدوم ہو گیا۔ امن ہتھیاروں تلے دب کر سسک سسک کر سو گیا ، انصاف کے معنی
 جانب داری کے لئے جانے لگے مسرت ، طمانیت ،ر خصت ہو چکی تو اس حالت میں کون آزاد ہے؟ کہاں آزاد ہے؟
بارش نے زور پکڑ لیا تھا ۔۔۔۔تیز ہواؤں میں بوچھار برامدے تک آکر پیر بھگورہی تھی ۔۔۔کوئی جیسے تسلّی کے حرف دل پر رکھ رہا تھا ۔۔۔جیسے یہ بوندیں نئی زندگی کی ،نئی منزلوں کی ،نئے اردوں اور نئے پُر عظم حوصلوں کو دعوت دے رہی تھی ۔۔۔جیسے کہ رہی ہو ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا ہے ۔۔۔دوستی اور صلح وآتشی لیکر سب سے گلے ملکر ایک نیا جہاں بسا نے کی جستجو کرنا ہے ۔۔۔۔سبکو ملکر اک نیا جہان بنا نا ہے ۔۔۔آگئے بڑھو اور سب ملکر ایک نئے جہان کی تشکیل میں لگ جاؤ،ابھی کچھ نہیں بگڑا ہے ۔۔دل میں کونپل سی پھوٹ رہی تھی ۔۔۔۔۔امید کی کونپل ،دوستی کی کونپل ۔
        ’’کاش ……کاش……ریموٹ میرے ہاتھ میں ہوتا‘‘
        بے ساختہ یہ جملہ میرے منہ سے نکل گیا…………
        ’’ پھر تم کیا کرتے ۔۔‘‘ارمین ابھی تک چینل سرچ کر رہی تھی ۔
        ’’میں اک ایسا چینل فکس کر دیتا جو کبھی نہ بدل سکتا۔‘‘
        ’’ کون سا چینل ؟‘‘ اس کی آنکھوں میں حیرت تھی۔
        ’’محبت، امن ،بھائی چارے اور مسرت کا ۔اک ایسی مسرت کا جو محبت کی خوشبو سے پھوٹتی ہے ، اک ایسی مسرت جو دوست کو گلے لگا کر ملتی ہے ۔ ایک ایسی مسرت جو کسی ضعیف کا ہاتھ پکڑکر سڑک پار کروانے میں ملتی ہے۔‘‘
         ارمین نے حیرت سے مجھے دیکھا …… اس نے پھر چینل چینج کیا یہاں اک اور نغمہ آ رہا تھا۔
کر چلے ہم فدا جان و تن ساتھیو
اب تمہارے حوالے وطن ساتھیو


'' عرضی ''
انجم قدوائی ۔ علی گڑھ انڈیا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تم سے بہت دور امریکہ کے اس انجان سے شہر میں اپنے گاؤ ں کی یادوں سے زخمی میرا وجود اچانک جیسے بہت بوڑھا ہوگیا ہے ۔جب میں اپنی جیب میں ہاتھ ڈالتا ہوں اور انگلیاں ایک تہہ کئے ہوئے کاغذ سے ٹکراتی ہیں تو میں سہم کر اپنا ہاتھ باہر نکال لیتا ہوں ۔۔۔۔اس بے رنگ کا غذ کے ٹکڑے میں یادوں کے ناگ چھپے بیٹھے ہیں جو لمحہ لمحہ مجھے ڈستے رہتے ہیں ۔
پچھلی بار جب کافی مشکل سے چند دن کی چھٹیاں ملیں اور میں وطن آیا تو تم سے ملنے اوراپنے گاؤں کو ایک نظر دیکھنے کو دل مچل گیا اورمیں گاؤں روانہ ہوگیا ۔راستے میں ہرے بھرے باغ اور لہلہاتے کھیتوں کو دیکھ کر میری آنکھوں کی روشنی بڑھ گئی تھی ۔۔اسٹیشن پر میری نظریں تمہیں ڈھونڈ رہی تھیں اور پھر تم مجھے نظر آئے ۔
تمہا را نرم سا چہرہ ، تانبے کی رنگت ہوگیا تھا تمہاری کالی سیاہ جگمگا تی آنکھیں حلقوں میں آکر بجھ سی گئی تھیں ۔گھنے سیاہ بال کہیں کہیں سے سفید ہو کر مجھے وقت گزر جانے کا پتہ دے رہے تھے ۔مگر پھر بھی تم ویسے ہی لمبے مضبوط اور خوش لباس تھے ۔ہاتھوں میں وہی چکنی سی لاٹھی جو تمہاری شخصیت کا خاصہ ہے چمک رہی تھی تم مجھے دیکھے جارہے تھے آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے ۔۔تمہارے وجود میں خوشی کی گنگنا ہٹ تھی ۔مجھ سے اس طرح لپٹ گئے جیسے اب کبھی جدا نہ ہوگے ۔
میں کبھی روتا نہیں ہوں مگر اسُ دن تمہاری محبّت مجھے رلاُ رہی تھی ۔۔۔نہ جانے کتنی دیر ہم ایک دوسرے سے لپٹے یوں ہی روتے رہے ۔مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ کوئی اب بھی مجھ سے اتنی محبّت کر سکتا ہے ۔
وہی بڑا سا چھپّر والا برامدہ وہی کھُلا کھُلا کچّا آنگن وہی بان کی چوڑے چوڑے پلنگ جن پر چھینٹ کی نئی چادریں میرے اعزاز میں بچھائی گئی تھیں ۔آنگن میں بنی ہوئی کیا ریوں میں پھولوں کے رنگ بکھرے ہوئے تھے اور ایک کونے میں لگا ہوا وہی پرا نا نیم کا پیڑ تن کر کھڑا تھا جسکی شاخوں پر جھول کر ہم بڑے ہوئے ۔ایک خواب ناک سا ماحول تھا جہاں میں اپنے آپ کو بھول سا گیا تھا ۔
تمہاری سانولی سلونی سی بیوی مٹّی کے چولھے پر میرے لئے آلو کے پراٹھے بنا رہی تھی اور دونوں معصوم سی لڑکیاں تخت پردستر خوان لگا رہی تھیں ۔کونے میں رکھّے گھڑے سے ٹھنڈا پانی نکال کر جب میں نے اپنے ہونٹو ں سے لگا یا تو جیسے زندہ ہو گیا ۔
زندگی تو جیسے کہیں کھو چکی تھی ۔آج یہان آکر احساس ہوا کہ میں ہوں ۔
جب ہم دونوں سر سوں کا ساگ اور آلو کے پراٹھے اچار کے ساتھ کھا رہے تھے ،بھابی میری تعریفوں سے لال ہوئی جارہی تھیں تمہارے بلند وبانگ قہقے مجھے میرے ہونے کا احساس دلا رہے تھے تب تم میری واپسی کا سنکر اُداس ہو گئے ۔
"آج ہی کیوں ؟کچھ دن رک جاؤ میرے یار ابھی تو تجھے جی بھر کے دیکھا بھی نہیں ۔۔۔۔"تمہاری آواز میں التجاء تھی ۔
"پرسوں واپسی کی فلایئٹ ہے یار ۔۔۔جا نا تو پڑے گا ۔آج کا یہ دن بڑی مشکل سے نکا لا ہے میں نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
ہم گھر سے باہر آگئے ۔ سامنے یوکلپٹس کی قطار میں چلتے ہوئے ہم ڈھیروں باتیں کر تے رہے ۔بچپن کی نہ جانے کتنی ساری یادیں میرے آس پاس کھلکھلاتی ہوئی گھوم رہی تھیں ۔شام ہونے لگی تھی ۔ہم ڈیوڑھی سے ہوتے ہوئے گھر کے اندر آگئے ۔۔۔پھر اچانک ہی تم نے میرا ہاتھ تھام لیا ۔
"میرے لئے بھی کوئی کام ڈھو نڈو یار وہاں ۔۔۔"
میری حیران نظروں کے جواب میں تم شر مندگی سے مسکرائے ۔
"دسیوں کلاس سے آگے تو پڑھ نہیں سکا تھا ۔۔تجھے تو سب معلوم ہی ہے ۔کوئی چھوٹا موٹا کام ۔۔کیسا بھی ہو ۔۔کر لوں گا یار مجھے بھی وہیں بلا لے "
"لیکن تو نوکری کرے گا ؟ تجھے نوکری کی کیا ضرورت ہے دوست ؟ سب ٹھیک ٹھاک تو ہے "
"نہیں یار اب کچھ ٹھیک نہیں ہے زمینیں مقدموں کی نظر ہوگئیں اور تو تو جانتا ہے یہ کبھی ختم نہیں ہوتے ۔لڑکیاں بڑی ہوگئی ہیں گھر کے حالات کیا بتا ؤں تجھے ۔بس کام چل رہا ہے ۔میرے لئے کوئی کام دیکھ لے ادھر ۔۔بلا لے مجھے "
تمہاری آنکھوں میں ندامت کے آنسو تھے اسی لئے آواز بھّرا رہی تھی ۔مڑ کر بھا بی کی طرف دیکھا ان کے گلابی آنچل میں آس کا اُجا لا تھا ۔
بچپن کے ڈھیر سارے دن آگے بڑھے اور ایک ایک کر کے مجھے گلے لگا نے لگے ۔
۔میں شروع ہی سے جسمانی طور سے کمزور تھا ۔اور ہمّت بھی کم تھی مجھ میں ۔جلد ٹوٹ جا یا کر تا تھا ۔ تم ہی تھے جو آگے بڑھ کر مجھے سہارا دیتے تھے ،میری طاقت بن جاتے تھے ۔ تم نے پڑھنا چھوڑ دیا مگر میرا سایہ بنے رہے ۔ہاتھ میں یہی چمکتی لاٹھی اور چہرے پر بے پناہ حوصلہ ۔مجھے اپنے حصار میں لئے رہے تم میرا غرور تھے میرے دوست میرے ساتھی ۔
۔جب با با نے میرا داخلہ شہر کے اسکول میں کر وا دیا تو تم کتنا اُداس ہوئے تھے ۔مجھ سے چھپ کر روئے بھی تھے اور جب میں شہر کے لئے روانہ ہوا ۔تم گاڑی کے ساتھ ساتھ بھاگتے ہوئے کتنی دور تک چلے آئے تھے ،تمہارے چہرے کی سر خی بتا رہی تھی کہ تم خود پر کتنا جبر کر کے مسکرا رہے ہو ۔گاؤن کے آخری موڑ تک ہاتھ ہلا یا تھا تم نے ۔
اور پھر زندگی سوکھے پتّے کی طرح مجھکو یہاں وہاں اڑائے پھری ۔
اس اجنبی دیس میں اپنے آپ کو کتنا پرا یا لگتا ہوں میں۔۔۔
بھلا تمکو کیسے بلاُ سکتا ہوں جسکے پاس اپنا کہنے کو کچھ نہیں ۔بیوی جسنے یہاں کی شہریت دلوائی اور ایک معمولی نوکری جسکا کوئی مستقبل نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم تو بے حد ریئس ہو ایک نیم کا پیڑ ایک چھپّپر تو تمہارا اپنا ہے نا ؟
میری جیب میں رکھّی ہوئی تمہاری وہ عرضی جو چلتے وقت تم نے مجھے دی تھی اسکا کاغذ دن گزرنے کے ساتھ پیلا ہو گیا ہے اور میں اس بے بسی کے بوجھ تلے بو ڑھا ہو تا جارہا ہوں 

Tuesday, October 18, 2016





میری کتاب پر مشہور ہستیوں کے دستخط اور جملے-
پروفیسر غضنفر علی
مشتاق احمد نوری
ڈائریکٹر جامیہ ملیہ اسلامیہ
پروفیسر صغیر ابراہیم
شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
پروفیسر عبدالرحیم قدوائ
ڈائریکٹر یو جی سی

"اپنی پیاری بہن کو جو آج بھی لوگوں کو باورچی خانہ بتا رہی ہیں بہت ساری دعاؤں کے ساتھ"
مجاہد قدوائ
وزیرِ مملکت اتر پردیش سرکار



"میں نے انجم قدوائ کے افسانے پڑھے' خدا ان کو مزید شہرت و مقبولیت عطا کرے"
قاضی عبدالستار


محترمہ انجم  قدوائ صاحبہ کو بہت بہت مبارک باد""
ڈاکٹر اشتیاق احمد
سماجی کارکن'لکھنو

بہت بہت مبارکباد'بہت اچھا کام کر رہی ہیں-""
عارف غوری
برطانوی صلاح کار'برٹش ہائ کمیشن'نئ دہلی
بے حد پیاری انجم  بہت بہت مبارک باد ،اللہ کرے زورِ قلم اور ز یادہ۔۔۔۔
آصف  اظہار ۔
"بہت پیاری دوست اور افسانہ نگار انجم کے لئے بہت محبتّیں ۔
ڈاکٹر افشاں ملک