Tuesday, December 6, 2016

چلتی رہے زندگی ۔۔۔۔۔۔
مینے پہلا پاؤں بادلوں پر رکھ دیا ۔۔۔ایک نرم سی ٹھنڈ ک میرے اندر اتر آئی ۔۔ایک خوبصورت احساس سارے وجود میں تیرنے لگا ۔۔۔نرم سفید خنک بادل ۔۔۔وہ ایک خوبصورت شام تھی جب مینے حیدرآباد میں قدم رکھّا ۔۔۔
دنیا کے کئی شہر دیکھے ،سعودی عرب کا شہر ریاض ،امریکہ کا شہر شکاگو ،انگلنڈ کا شہر لندن ۔۔۔۔ایران کا شہر تہران ۔۔۔مگر اپنے ملک کا اتنا خوبصورت شہر پہلی بار دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برسات کا موسم شروع ہورہا تھا ہر طرف بادلوں کی دھند چھائی ہوئی تھی ۔۔۔اور میں چل پڑی تھی ایک لمبی سیر کے لئے حیدرآباد کی سمت ۔۔۔وہ حیدرآباد جسکے بارے میں صرف سنا تھا یا پڑھا تھا ۔۔نظام حیدرآباد کی لائیبرئری کے بارے میں ،حسین ساگر کے بارے میں اور ان شفّاف مو تیو ں کے بارے میں ۔۔۔اور میں سوچ رہی تھی یہ سب کچھ قریب سے دیکھنا کتنا روح پر ور ہوگا ۔۔۔
سب سے پہلے ہم حسین ساگر دیکھنے گئے یہ ایک خوبصورت جھیل ہے جو چاروں طرف شہر سے گھری ہوئی ہے ،اسکے درمیان گوتم بدھ کا بلند مجسمہ استادہ ہے ۔۔۔ایک طرف لمبنی باغ جہاں سبزہ کاٹ کر درمیان سے سڑک نکالی گئی ہے ،ایک طرف بچوں کا پارک ۔۔جہاں ایک چھوٹی سی ٹرین چلتی رہتی ہے ۔۔جھیل میں مستقل کشتیاں رواں دواں تھیں ۔۔۔ہم نے کشتی کا ٹکٹ لیا اور روانہ ہوئے ۔۔۔چند لمحوں کے سفر کے بعد ہم گوتم بدھ کے مجسّمہ کے قریب پہونچ گئے ،جو کہ اک ماہر نقّاش نے تراشا ہے ،طویل القامت  مجسمّہ پانی کے درمیان کھڑا مسکرا کر سبکو دعائیں دیتا دکھائی دیا ۔ آس پاس خوبصورت فوّاروں سے پانی رواں تھا ۔۔۔وہاں سبزے پر کئی لوگ بیٹھے نظر آئے دل کے سکون کے لئے بہترین جگہ تھی یہاں بڑی پر سکون سی خاموشی طاری تھی ۔۔۔
دوسرے دن ہم لوگ سالار جنگ میوزیم پہونچے ۔۔
اس میوزیم کی تعریف کے لئے میر ے پاس الفاظ کم پڑگئے ہیں ۔۔اس عمارت میں ایک پوری دنیا آباد ہے اندر داخل ہوتے ہی احساس ہوا کہ ہم ایک خوبصورت صدی میں آگئے ہیں ۔
میوزیم کا رقبہ کافی طویل تھا یہ ایک دن میں نہیں دیکھا جا سکتا تھا
یہ یقیناً ایک محل رہا ہوگا ۔۔۔بے شمارہال ،طویل راہدریاں   بیچ بیچ میں صحن جن میں طر ح طرح کے پھول اپنی بہار دیکھا رہے تھے  ہرطرف سبزہ پھیلا ہوا تھا ۔۔۔ایک صحن کے سرے پر ایک قدّ ِآدم  ٹی ۔وی لگا ہوا تھا  اسپر ڈرامے نشر کئے جارہے تھے اکثر لوگ وہیں کرسیوں پر بیٹھے محویت سے پروگرام دیکھ رہے تھے ۔۔مگر ہم وہاں نہیں رک سکے کیونکہ وہاں بے شمار چیزیں ایسی تھیں جن کی کشش ہمیں کھیچے لیئے جارہی تھی ۔
روغنی تصویریں ،چینی کے حسین پھولدار ضروف ،سنگ ِمر مر کے حسین ترین مجسّمہ ۔۔۔۔۔۔ہماری توجہ اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔ایک کمرے میں گھڑیوں کا زخیرہ تھا مختلف انداز اور مختلف زمانوں کی بے شمار گھڑیاں وہاں رکھّی ہوئی تھیں  کہیں چینی کے فرشتے وقت اپنی پیٹھ پر اٹھائے کھڑے تھے اور کہیں کانسے کے جوکر وقت کو اپنے پیٹ پر سجائے کھڑے تھے ۔۔۔۔وہاں ایک بہت بڑا ہال تھا جو شاید ڈرایئنگ روم کہا جائے تو ذیادہ بہتر ہوگا ۔۔ہر طرف خوبصورے صوفے لگے تھے  اسکا رقبہ تقریباً 50/50 گز ہوگا چاروں طرف دیوارون پر عمدہ اور قیمتی تصویریں تھیں ۔۔بلکہ پینٹنگس کہنا ذیادہ مناسب ہوگا ،،ان میں مونا لیزا کی تاریخی  پینٹنگ بھی مسکرا رہی رھی ۔۔اسکے علاوہ بھی کئی تاریخی تصویرین تھیں جنکے بارے میں انکے نیچے تاریخ درج تھی ۔درمیان میں جو لکڑی کی منقّش میز رکھّی تھی ان پر بہترین کرسٹل کی شطر نج موجود تھی ،جسکے اوپر ننھے ننھے مہرے  بھی کرسٹل کے بنے ہوئے تھے ۔                                                                            ہال کے آخری سرے پر ایک کانسے کا مجسمہ استادہ تھا اور وہ ڈبل تھا میں شاید سمجھا نہ سکوں ۔۔۔لیکن وہ عجیب و غریب مجسمہ تھا ایک طرف ایک سپاہی بڑی سی تلوار لئے زرہ بکتر پہنے ہوئے  ہوئے تنا ہوا کھڑا تھا اسکے دوسری طرف ایک بڑا آیئنہ لگا ہوا تھا ۔۔اور وہی مجسمہ دوسری طرف سے دیکھئے تو ایک نازک اندام دوشیزہ گھونگھٹ میں سلام کے لئے جھکی نظر آرہی تھی ۔۔۔جسنے پیشواز پہنی ہوئی تھی ۔۔۔اور اپنی مخلوطی انگلیوں سے پیشواز کا دامن تھا ما ہوا تھا ۔حیرت حیرت ۔۔۔۔اور صرف حیرت ۔۔۔۔                                                     ۔۔۔ایک کمرے میں صرف بر تن تھے جن میں چاندی سونے سے لیکر چینی کانسے اور مٹّی تک کے بر تن سجے ہوئے تھے ۔۔چینی کی پیالیوں اور تشتریوں پر فارسی میں اشعار لکھے ہوئے تھے ۔۔۔پلیٹوں میں فارسی کے قطعات موجود تھے ۔چاندی کے کانٹوں چمچوں پر مہارت سے نظام حیدر آباد کے نام کندہ تھے ۔
اب حقّوں کی باری آئی تو دیکھا چینی کے کانچ کے چاندی کے ہر طرح کے حقّے سجے ہوئے تھے ،انکے پیندوں پر اشعار کندہ تھے
چاندی کی نےَ اور کانچ اتنا ہلکا جیسے چاندی کا ورق ۔۔۔حقّوں کے ساتھ ساتھ پائپ بھی سجے ہوئے تھے  طرح طڑھ کے ڈزائین ،طر ح طرح کے مٹریل ۔۔۔ہاتھی دانت کے پائپ بھی موجود تھے اور کانچ کے بھی ۔۔لکڑی کے بے شمار ۔۔۔ان پر مہارت سے نقاشی کی گئی تھی ،بیل بوٹے بنائے گئے تھے ،،سائیز بھی الگ الگ موجود تھے ۔
پوری دنیا کے آرٹ کے نمونے وہاں موجود تھے ،اکثر نقل بھی تھے مگر ایسے کہ انپر اصل کا گماں ہوتا تھا ۔
ایک بہت بڑا ہال کتابوں سےسجا ہوا تھا جہاں اردو فارسی عربی کے قلمی نسخے موجود تھے  سراج دکنی ،اور ولی دکنی کے دیوان سجے ہوئے تھے کچھ کتابیں نظام حیدرآباد کی لکھی ہوئی  تھیں ۔ہر قسم کے رسم الخط موجود تھے ۔قران ِ پاک کی تفسیر قلم اور روشنائی سے لکھی ہوئی ۔۔
پوری دنیا کے آرٹ کے نمونے سجے ہوئے تھے ۔
ایک چیز کا ذکر ضرور کرنا چاہونگی جسے میں آجتک بھول نہ سکی ۔وہ ایک مجسّمہ ہے جو کہ فرانس کے ایک ماہر نقّاش نے تراشا ہے ،یہ ایک قدّ ِآدم مجسمہ جو کہ ابراہیم علہیہ سلام ُکی بہو "ربیکا " کا ہے
سفید اور شفّاف بالکل جیتا جاگتا سا محسوس ہوتا ہے  اس مجسمّے کی خاصیت یہ ہے کہ اسکے جسم پر ایک ہلکا سا روبٹّہ پڑا ہوا ہے ۔۔اور وہ بھی سنگ ِ مر مر سے تراشا ہوا ۔۔۔
ماتھے سے ہونٹوں  تک آتے آتے اس روبٹہّ کی شکنیں اتنی واضع اور حیران کن ہیں کہ جو دیکھتا ہے وہ مبہوت رہ جاتا ہے ۔وہ کپڑا کمر سے نیچے تک جاتا ہے اور جھالر سی بن جاتی ہے ،،وہ حصّہ بھی سنگ ِ مر مر سے بنا ہوا ہے وہ جھالریں پیر کی ایڑیوں تک آتی ہیں اور پیروں میں سینڈل بھی خوبصورتی سے تراش کر بنائی گئی ہے  اس بے مثال مجسّمہ کی تاریخ بھی میں لکھ کر لائی تھی جو مضمون کی طوالت کے پیش ِ نظر ابھی نہیں لکھ رہی ہوں ۔انشاءاللہ  آئیندہ رقم کرونگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لمبنیٰ باغ کی طرح ایٹ اسٹریٹ  بھی حسین ساگر  کا ایک کنارہ ہے ،جسپر خوبصورتی سے ٹورسٹ کے بیٹھنے اور کھانے پینے کا انتظام کیا گیا ہے ۔رنگ برنگی کر سیاں ،سفید جالی کے کنارے نصف دائیرے کی شکل میں لگی ہوئی تھیں ۔اور یہ حصہ حسین ساگر کو چھو رہا تھا لوگ سیڑھیوں پر پانی میں پیر ڈالے بیٹھے تھے ۔۔دوسری طرف کی روشنیوں کا عکس پانی میں جھلملا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور وہ منظر اتنا حسین تھا کہ جو میں بیان نہیں کر سکتی مگر آپ محسوس کر سکتے ہیں ۔
میں اور میری بیٹی کافی لیکر وہاں بیٹھ گئے  اور کنارے پر جلتی بجھتی روشنیوں کا جادو دیکھتے رہے ۔اور پھر رات اتر آئی ۔
حیدراآباد سنڑل مال بھی بیحد خوبصورت ہے مگر اب تو ہر جگہ ایک سے ایک عمدہ مال بن گئے ہیں اسلئے اسکا ذکر نہیں کرونگی ۔۔مگر وہان جو جویلری کی دوکانیں تھیں وہ اسقدر حسین تھیں ،قطار سے سچّے موتیوں کی لائینیں لگی ہوئی تھیں ۔۔اتنے سارے موتی مینے ایک ساتھ کبھی نہیں دیکھے تھے ۔۔۔ایک خوبصورت سجی ہوئی شاپ میں ایک کرسٹل کے بڑے سے پیالے میں سچّے موتی بھرے ہوئے رکھّے تھے ۔۔۔۔وہ میں ابتک نہیں بھول سکی ۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اسدن صبح صبح بیٹی نے جگایا ۔۔۔۔اور بتایا کہ ہم "راموجی فلم سٹی " دیکھنے جارہے ہیں ۔9بجے بس وہاں سے روانہ ہوئی دور دور تک سیاہ پہاڑیاں اور حدّ ِ نگاہ تک سبزہ پھیلا ہوا تھا ۔ایک ڈیڑھ گھنٹے میں ہم اس علاقے میں داخل ہوئے  جہاں ایک اونچی پہاڑی پر دور سے "رامو جی فلم سٹی "کا مخفف آر۔ایف ۔سی ۔نظر آرہا تھا ۔
ہماری بس نہایت آرام دہ تھی اور میری بیٹی فارینا نے بس کے ٹکٹ لیتے وقت فلم سٹی کا ٹکٹ بھی لے لیا تھا اس لئے ہمیں کسی لائین میں نہیں لگنا تھا ۔۔۔آرام سے دوسری کھلی ہوئی بس میں بیٹھ کر آگے بڑھ گئے ۔وہ سرخ رنگ کی کھلی کھلی سی بسیں تھیں جو ہمیں پورا فلم سٹی گھمانے والی تھیں ۔وہ بسیں نہایت آرام دہ،جیسے ہم صوفے پر بیٹھے ہوں اور اوپر سرخ چارد تنی ہو ۔۔۔۔ہر طرف سے پورا علاقہ نظر آرہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سر سبز وشاداب ۔۔۔ایک گائیڈ نے ہمیں تاریخ بتا نا شروع کی ،وہاں پر کئی مغلیہ محلوں کی نقل بنی ہوئی تھی ان محلوں میں فلم کی شوٹنگ ہوتی ہے اور ہمیں نقل پر اصل کا گمان ہوتا ہے ۔۔۔ویسے تو وہا  بہت ساری چیزیں قابلِ ذکر ہیں ایک رستوراں مجھے بیحد پسند آیا جہاں بیرے مغلیہ دور کی سر پگڑی اور سفید پیشواز پہن کر کھانا سرو کر رہے تھے ،کھانے کی پلیٹیں اور گلاس چاندی کے تھے کھانے میں  بھی بہت ذائقہ تھا ۔۔۔ہم دونوں نے خوب کھانا کھایا اور آیس کریم بھی ۔۔
بڑی بڑی سفید سیپیاں بناکر اسمیں سرخ پھول ،سفید ،نارنجی ،پھول لگائے گئے تھے ۔۔۔چاروں طرف  بے حد سجاوٹ تھی ۔





No comments:

Post a Comment