Tuesday, December 6, 2016

سہارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زاراقدوائی
جب مجھے میٹرو میں لگا یا گیا تھا تب میٹرو اتنی مشہور نہیں تھی ۔کچھ سا ل لگے اسٹیشن بڑھانے کے ساتھ ساتھ کوچ بھی بڑھائے گئے ۔میری ڈیوٹی سب سے پہلے کوچ میں تھی ۔شروع شروع میں میں بہت پریشان رہا کیونکہ زیادہ تر لڑکے شراب کے نشے میں آکر مجھے تھام لیتے تھے اور لپٹ لپٹ کر کھڑے ہو جایا کرتے تھے ۔اتنا غصّہ آتا تھا کہ انھیں اپنے آپ سے دور کیسے پھینکوں ۔
پہلے تو میں یہی سمجھ نہ سکا کہ میرا کام کیا ہوگا ۔نہ مجھ میں ہنڈل کی طرح اسپرنگ ہے اور نہ ہی پائے ۔میں تو بس کھڑا ہوں دونوں گیٹ کے بیچوں بیچ ۔پر جب میری ڈیمانڈ شروع ہوئی تو ہینڈل کو بھی مجھ سے جلن ہونے لگی ۔لوگ ہاتھ اونچا کر کے ہینڈل پکڑنے کے بجائے سائیڈ میں کھڑے میرے ساتھ ہی ٹک جایا کرتے ،اور مجھے تھام کر پورا سفر کاٹ دیتے ۔
پھر کچھ وقت گزرا تو یہ کوچ لڑکیوں کے لیئے ریزرو کر دیا گیا اس دن سے میری زندگی ہی بدل گئی پوری ٹرین میں چاہے کتنی بھی بد بوؤیں ہوں میرا کوچ ہمیشہ مہکتا رہتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پورے کوچ میں اتنی طرح کی خوشبوئیں پھیلی رہتیں کہ میں یہ بھی بھول گیا کہ فضا کی اصلی خوشبو کیا ہے ۔
یوں تو کئی ہاتھوں نے مجھے تھا ما تھا ۔مگر چار ہاتھ میرے ذریعہ ہی ملے تھے ۔اسمیں ایک ہاتھ منہدی لگائے نئی نویلی دلھن کا تھا ،جسنے شادی کے بعد اب شاید کام پر جا نا شروع کر دیا تھا ۔دوسرا ہاتھ گھر کی ذمہ داروں سے جوجھتا ہوا ۔تیسرا ہاتھ ایک بڑی عمر کی خاتون کا تھا جو نہ جانے کیوں روز اسی اسٹیشن سے سوار ہوتیں شاید اس عمر میں بھی انکو کام کرنا پڑرہا تھا ۔چوتھا ہاتھ ایک معصوم سی لڑکی کا تھا جو شاید کسی اسکول یا کالج میں پڑھ تی ہوگی ۔۔
چاروں کی ملاقات میرے ہی کوچ میں میرے ہی پاس آکر ہوئی تھی ۔وہ چاروں میرے پاس میرے سہارے کھڑی رہتی تھیں ۔کچھ دیر بعد چوڑیوں والے ہاتھ نے کہا ۔
"کیا ہم اپنے آپ گھومے جارہے ہیں َ۔"تب سے ان سب کی ہنسی اور دوستی کی ابتدا ہوئی ۔
ایک دن میری میٹرو میں کسی خرابی کی وجہ سے کسی اور میٹرو کو اس لایئن پر بھیج دیا گیا ۔
یقین جانیئے ایسا لگ رہا تھا جیسے دوسری میٹرو کی وہ کوچ مجھے چِڑِھا رہی ہو ۔۔کہ آج تو میرا سارا دن کارخانے میں جانے والا ہے ۔کارخانے میں میری خوب مرمت ہوئی
ہوتے ہوتے شام ہوگئی شام کے قریب ایک بہت زور کی آواز آئی پوچھنے پر ساتھ والے کوچ نے بتا یا ۔کہ شاید کہیں آتش بازی ہو رہی ہے اسکی آواز ہے ۔
کارخانے سے میری میٹرو کو چھ دن کے بعد نکالا گیا میں وہاں پڑے پڑے بہت بور ہوگیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آخر کو ایک پڑوس کی کوچ نے بتا یا کہ کرفیو لگ گیا ہے ۔۔شاید وہ دھماکا کسی نے بم سے کیا تھا ۔میں بہت اُداس ہو گیا ۔۔۔
ساتویں دن میری میٹرو کو چلا یا گیا ۔ہم پھر اسی اسٹیشن پر پہنچے ،پر آج نہ وہ چوڑیوں والے ہاتھ تھے نہ ہی وہ معصوم چھوٹے ہاتھ ،نہ بڑی عمر کی خاتوں کے اور نہ ہی ذمہ داریوں سے سجے ہاتھ ۔
کچھ بھی پہلے جیسا نہیں تھا پھر بھی سب کچھ ویسا ہی تھا ۔وہ چار ہاتھ میں نے کبھی نہیں پائے ۔
اس کوچ میں نئی ہنسی ،نئی خوشبوؤیں اور نئیے قصّے گونج رہے تھے اور میں نیا ہاتھ تھام کر پھر سے سفر پر نکل گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

No comments:

Post a Comment