Tuesday, December 6, 2016

پر چھائیں

اور اس دن میں اپنے آپ سے ملا ۔سڑک پر اکیلا لڑ کھڑا تا ہوا ۔۔۔چہرے پر آنسو ؤں کے دھبّے ۔۔۔میلا یو نی فارم ۔۔اور تب تک میں اپنی کار سے ٹکرا کر گر چکُا تھا ۔
کچھ دیر تک میں اپنے آپ کو کار کی پچھلی سیٹ پر اوندھا لیٹا سسکیاں لیتے دیکھا کیا ۔۔۔۔۔۔۔اور تب میرا جینے کو جی چاہنے لگا ۔۔۔۔
آیئے میں آپکو شروع سے بتا تا ہوں ۔
تیز نیلی چنگھا ڑتی ہوئی آواز سماعت کو دہکا رہی تھی ۔میں بستہ زمین پر وہیں زینہ کے پاس پھینک کر ،پیر لٹکا کر بیٹھ گیا ۔گھنٹی بجانے کی ہمّت نہیں ہورہی تھی ۔گھر کے اندر چیخ پکار اور بر تن پھیکنے کا سلسلہ جاری تھا ۔زور کی بھوک لگ رہی تھی ،نیند بھی آرہی تھی مگر گھر جانے کی ہمّت نہیں تھی ۔یہ روز کا معمول تھا ۔سر جھکا کر نیچے کے زینے کی طرف نظر ڈالی تو دیکھا ،وہ چہرہ اوپر کئے کھڑی تھی ،اسکے چہرے پر تشویش تھی ۔گول نرم چہرہ دو چھوٹی چھوٹی پونیاں بنائے صاف شفّاف گلابی فراک پہنے ہوئے ۔۔شاید ابھی نہا کے آئی تھی ۔اسنے اپنا ننھا سا ہاتھ اٹھا کر مجھے بلا یا ۔ مگر مینے جھنجھلا کر نظریں پھیر لیں ۔نیند سے پلکیں بھاری ہورہی تھی دیوار سے ٹک گیا تھا ۔

چند لمحوں بعد اسکا نرم سا ہاتھ اپنے کاندھے پر محسوس ہوا ۔
"چلو آؤ میرے ساتھ ۔۔۔" اسنے میرا بستہ اپنے کاندھے پر ٹانگ رکھّا تھا میں آہستہ قد موں سے غنودگی کے عالم میں  اسکے پیچھے چلنے لگا ۔
صاٖف ستھرا  چھوٹا سا فلیٹ ،محبّتوں کی خوشبو سے معمور۔۔۔۔ ۔مجھے اپنے میلے کچیلے کپڑوں سے بڑی کوفت  ہوئی ۔
"تم منھ ہاتھ دھولو ۔۔میں کھا نا لگا تی ہوں " ارم کی امّی نے میرے بکھرے بال اپنی انگلیوں سے  سنوارتے ہو ئے کہا ۔وہ
کھا نا کھا کر  وہیں فرش پر سوگیا ۔ارم وہیں  پر اسکول کا کام کرتی رہی ۔
شام کو گھر میں داخل ہوا تو سب بے فکری سے اپنے اپنے کاموں میں مصروف نظر آئے ۔بھیّا نے کمپیو ٹر سے نظرا اُٹھا کر ذرا کی ذرا مجھے دیکھا اور پھر اپنے کام میں مصروف ہوگئے ۔
ماں نے جھا ڑن لینے کے لئے اسٹور کا دروازہ کھولا اور پھر زور سے بند کیا ۔
وہ  آہستہ آہستہ چلتا ہوا اپنے اور بھیّا کے مشتر کہ کمرے میں آیا جوتے اتار کر ایک طرف رکھّے ۔نہانے کے لئے باتھ روم میں گھس گیا ۔
شاور کی ننھی ننھی بوندیں جسم کی گرد تھکن اور ذہن کی جھنجھلا ہٹ صاف کر تی رہیں ۔
اور چند لمحوں کے لئے وہ شام اسکی اپنی ہوگئی ۔۔۔
اسے  خود بھی نہیں معلوم کہ اسکے  گھر کا ماحول ایسا کیوں تھا ؟ماں کسی بوتیک میں کام کرتی تھی پا پا کاا پنا بزنس تھا ،گھر بھی اپنا تھا ۔وہ  دونوں بھائی ٹھیک ٹھاک پڑھ بھی رہے تھے ۔بظاہر کوئی کمی نہیں نظر آتی تھی ۔اسکا  کچّا ذہن یہ سو چنے سے قاصر تھا کہ لڑائی جھگڑے کی وجہ کیا تھی ۔۔۔۔وہ چاہتا تھا میرا گھر بھی ارم کے گھر جیسا ہو جائے ،صاف ستھرا موتی کی طرح چمکتا دمکتا ۔جہاں اسکی امّی روز تازے پھول سجاتی تھیں اور ہمیشہ مسکرا کر ویل کم کرتی تھیں ۔اسکے گھر پر کھانے بھی بہت معمولی ہوتے ،کبھی کبھی سلائس جیم کے ساتھ ایک کیلا ۔۔۔۔مگر خوشی خوشی کھا کر تسکین ملتی تھی ۔ارم کی امّی کبھی اسے اپنے ہاتھ سے بھی کھا نا کھلا دیتی تھیں ،سادے سے دال چاول ۔۔ وہیں بغیر کارپٹ کے فرش پرپنکھے کے نیچے  سکون کی نیند سوجاتا ۔ٹھنڈا ٹھنڈا ،سفید اور گلابی فرش ۔ایک نرم سی مہک ۔۔۔
اسکی امّی آہستہ آہستہ اپنا کام کرتیں کہ وہ جاگ نہ جا ئے ۔
نیند بھر کے اٹھتا تو تر وتازہ ہوتا ۔ارم کے ساتھ بیٹھ کر اولٹین کا گلاس ختم کرکے کولونی کے بچّوں کے ساتھ کھیلتے کھیلتے نہ جانے کب شام اتر آتی ۔اپنے گھر جانے کا خوف اس کے دل میں ذرد سیّال بنکر دوڑنے لگتا ۔
اس دن پھر کھانے کی میز پر ڈیڈی چیخ کر ما ں کو ڈانٹتے رہے اور کئی بار ماں چلّا چلّا کر اپنا غصّہ اتارتی رہی ۔اسکے گلے میں کھا نا اٹک رہا تھا ،بھیّا اسکیی طرف ہی دیکھ رہے تھے انھوں نے پنیر کا پیالہ اسکی جانب سرکا یا ۔
"یہ لو تمہیں تو بہت پسند ہے نا ۔۔۔۔؟'
بے دلی سے بڑھا ہوا  ہاتھ راستے میں ہی رہ گیا ،ڈیڈی نے پیالہ لے  لیا اور کھینچ کر زمین پر دے مارا ۔
"نہ نمک کا پتہ اور نہ مصالے کا ۔۔۔۔یہ کتّے کا راتب بنا کر رکھّا ہے میرے اور میرے بچّوں کے سامنے ۔۔۔۔جاہل عورت کم از کم ایک وقت کا کھا نا تو پیٹ بھر کھلا دیا کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
 دونوں حیران فرش پر بکھرے سر خ سالن اور پنیر کے براؤن ٹکڑوں کو تک رہے تھے ۔۔۔۔بھوک چمک اٹھی تھی مگر اب کھانے کی میز پر کیا تھا وہ نظر نہیں آرہا تھا ۔۔۔۔۔وہ اٹھ کر تھکے قدموں سے اپنے کمرے میں آگیا ۔۔ مٹھّی میں آدھی روٹی دبی ہوئی تھی ۔اسکو منھ میں ڈال کر جلدی جلدی نگلنے لگا ،آنسو بہہ رہے تھے سسکیاں حلق میں ٹوٹ رہی تھیں ۔۔۔بھوک کی شدّت سے نڈھال نہ جانے کب  سوگیا ۔
صبح بھی کھانے کے لئے بھی ماں نے  کچھ نہیں پکا یا ،اپنے گنی بوکس سے کچھ روپیے نکال کر اسکول کے لئے باہر آگیا ۔۔
سڑک پر ٹھیلے سے ایک سینڈوچ لیا اور وہیں جلدی جلدی کھا لیا ۔سڑک کے کنارے بنے ہوئے ہینڈ پمپ سے پانی پی کر کچھ سکون ہوا ۔کپڑوں پر نگاہ کی ۔۔۔یونی فارم بہت میلا اور دھبّے دار تھا ۔
اسکول جانے کی ہمّت نہیں ہوئی ۔۔۔۔دل میں اک دھوں سا اٹھ رہا تھا ۔۔۔۔۔کہاں جاؤں ؟
کا لونی کے پیچھے چوکیدار کے کواٹر میں اسکی بیوی کپڑے الگنی پر ڈال رہی تھی ،مجھے دیکھ کر مسکرائی تو میں آگئے بڑھ آیا اوربرامدے میں پڑی چارپائی پر بیٹھ گیا ۔
"کا ہوا بٹوا ؟؟ اسکول سے بھاگ آئے ہو کا َ؟؟؟ "
وہ کچھ بول نہیں سکا بس خالی خالی نظروں سے اسے دیکھتا رہا ۔
وہ میرے لئے اندر سے ایک لسّی کا گلاس لے آئی ۔میں گلاس تھام کر جلدی جلدی لسّی پینے لگا ۔۔۔اور وہیں پلنگ پر لیٹ گیا ۔وہ حیران تھی پھر ایک چادر لیکر آگئی
"رُک جاؤ بھیّا ۔۔۔تنی چادر بچھائے دئی ۔۔۔"
"نہیں رہنے دو " چادر اسکے ہاتھ سے لیکر سر ہانے رکھ لی اور گہری نیند سوگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جانے کب تک سوتا رہا
اٹھا تو شام ہورہی تھی ۔چوکیدار کرسی پر بیٹھا حیرت سے مجھے دیکھ رہا تھا ۔
بستہ اٹھا کر بغیر کچھ کہے میں گھر کی جانب چل پڑا ۔
زینہ پر وہ پریشان کھڑی تھی ۔
"تم کہاں تھے دن بھر ؟؟؟
اسکے لہجہ میں فکر بول رہی تھی ۔
" کچھ تو بولو ۔۔اسکول کیوں نہیں آئے ۔۔۔؟"
وہ نے سر اٹھا کر زخمی نظروں سے اسے دیکھا ۔۔۔
"تھوڑی دیر کے لئے تمہارے گھر آجاؤں ؟؟"
اسنے آگے بڑھ کر  تپتا ہوا ہاتھ تھام لیا اور اپنے گھر لے آئی ۔
وہاں اسکے پاس بیٹھ کر میں اپنے طریقے سے اپنے دُکھ سنا تا رہا ۔۔۔و ہ اسکا چہرہ اپنے تولیہ سے صاف کر کے آ ئسکریم نکال لائی ۔۔پھر اپنی تصویروں بھری کتا بیں دکھا تی رہی اور اسنے ایک ڈائری کھول کر اسکے ایک ننھا سا تتلی کا پر دیکھا یا ۔۔۔۔۔۔۔۔کئی رنگوں سے سجا وہ پر ۔۔بیحد خوبصورت تھا ۔ نظرون میں پسندیدگی دیکھ کر اسنے ایک گلابی لفافے مین وہ پر رکھ کر اسکی طرف بڑھا دیا ۔
"یہ تمہارے لئے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب مت رونا ۔۔۔میں ہوں نا تمہارے ساتھ ۔۔۔"
اور وہ پر اسکی زندگی کا قیمتی اثاثہ بن گیا ۔

تعلیمی مدارج طے کرتا رہا ۔ہوسٹل  بھی رہا اور عزیزوں کے ساتھ بھی مگر وہ پرَ اسکے ساتھ ساتھ رہا ۔زندگی کئی برس آگئے بڑھ آئی ۔دہلی میں ایک اچھّا فلیٹ لیکر وہ واپس اپنوں سے ملنے بھی گیا ،سوچا تھا اس گلابی پرَ کی طرح اپنی زندگی بھی گلابی ہوجائے گی مگر ۔۔۔وہاں بھی قسمت سے ہار گیا ۔
اسنے جھک کر بالکونی میں رکھّے اپنے پیار سے لگائے ہوئے   پھولوں کو دیکھا ،گہرے ہرے کنارے پیلے پڑ گئے تھے ۔۔۔گرد و غبار سے پودے نڈھال اور بے رونق ہوچکے تھے ۔وہ تڑپ اٹھا ۔۔۔پانی کا پائپ لیکر سارے پودوں کو شفّاف کرنے میں جٹ گیا ۔۔۔۔۔۔دونوں ہاتھوں کے پیالے میں اس گلُ داؤدی کے پودے کو لیکر وہ زارو قطار رو رہا تھا ۔۔۔۔
"سوری دوست ۔۔۔۔۔۔۔۔ویری سوری ۔۔۔میں بہت خود غرض ہوگیا تمکو بھول گیا تھا ۔۔۔اپنے غموں میں ایسا جکڑ گیا کہ تمہارا احساس بھی نہ کر سکا ۔۔۔میرے دوستو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک ایک پودے سے معفیاں مانگ رہا تھا کوئی اسے دیکھتا تو پاگل ہی سمجھتا ۔
وہ جانتا تھا کہ وہ پاگل نہیں ہے ۔یہ پھول پودے یہ بے زبان ہمیشہ اس کی اُداسی دور کرتے رہے اور اب وہ ان کو بھول کیسے گیا ؟
اسکا غم ساری دنیا پر محیط کیوں ہوگیا ۔۔۔۔
ارم کی شادی ہوگئی تھی بس یہ خبر برداشت کر نا اسکے لئے سخت مشکل بن گئی تھی ۔سارے خواب ایک چھناکے سے ٹوٹ کر ادھر ادھُر بکھر گئے تھے ۔۔۔
کمرے میں آکر میز پر رکھّی ڈائیری کھولی تو ہتھیلی پر ننھا سا گلابی پر کپکپا نے لگا ۔۔۔
آنسو بے آواز گرتے رہے ۔۔۔تھوڑی دیر یوں ہی کمرے میں بے مقصد گھومتا رہا ۔۔شام کمرے کے باہر ٹہل رہی تھی ۔کھڑکی بند کر کے پردے گرا تے ہی اے سی کی ٹھنڈک اثر انداز ہونے لگی اور وہ بے خبر سو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوابوں میں ارم کا گھر ،اسکے گھر کا سکون اور اسکی ماں کی شفقت اسے بہلاتے رہے ۔
صبح روز سے ذیادہ روشن تھی ۔ہلکا اجُا لا پھیل رہا تھا تب ہی وہ اٹھکر باہر نکل آیا سر سبز پودے خوشی سے جھوم رہے تھے ،فضا میں خنکی باقی تھی ۔۔گُل داؤدی کے پتّت گہرے ہرے ہوگئے تھے اور اُن پتّوں سے ننھی سی گلابی کلی شر ما کر جھانک رہی تھی ۔
اس کی ساری کلفت دور ہونے لگی ۔۔۔۔سارا دکھُ سارا غصّہ ساری کوفت ایک ایک کر کے رخصت ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ مسکراتا ہوا گھٹنوں کے بل وہیں بیٹھ گیا ۔
"تھینکس یار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" اسنے پیار سے ان پتّوں پر ہاتھ پھیرا ۔۔سامنےکی بالکونی میں  دیکھا تو بھٹیا جی اکسر سایئز کرتے نظر آئے ۔۔اسّے دیکھتے ہی مسکرائے اور خشدلی سے بولے ۔
"ہیلو جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہاں رہے اتنے دن ؟ بڑے دنوں بعد شکل دیکھا ئی ہے ۔۔" انھیں کیا پتہ کہ وہ اس کمرے میں رھ کر بھی یہاں نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"بس ایسے ہی جناب ۔۔۔آؤنگا  ملونگا کسی دن ۔۔۔ایک کام بھی تھا آپ سے ۔۔۔۔"
"ہاں جی بولو ۔۔۔آپ جیسے پڑوسیوں کے لئے تو جان بھی حاضر ہے ۔۔حکم کرو ۔۔۔"
"ارے نہیں صاحب ۔۔۔اپنی جان ہی نہیں سنبھلتی ۔۔۔"وہ ہنس پڑا ۔
"اب کہیں جاؤن گا تو میرے پو دوں کی دیکھ بھال آپکے سپرد  ۔۔۔۔آپکی بالکونی میں رکھ دونگا ۔۔۔اگر آپکو برُا نہ لگے ۔"
"تُسی فکر ہی نہ کرو ۔۔یہ تو اپنے بچّوں جیسے ہیں ۔۔اور آپکے تو ہمارے گھر مہمان ہوئے نا ۔۔۔۔۔۔۔۔ہماری تو بالکونی سج جائے گی جی ۔۔۔۔۔۔۔۔" انھوں نے حسب عادت زور دار قہقہہ لگا یا ۔
اسکے دل کا بوجھ اتر گیا ۔
ان بے کراں خیا لات کے سمندر میں تیرتے ہوئے اسے یہ اندازہ بھی نہ ہوا کہ اسکے ہاتھ اسٹیرنگ پر بہک رہے ہیں ۔اچانک ایک جھٹکے سے اسنے گاڑی روک دی سڑک پر لوگ جمع ہونے لگے تھے ۔وہ گھبرا کر نیچے اتر آیا ۔۔۔وہ اگلے پہیئے کے پاس اوندھا پڑا ہوا تھا ۔۔ایک خوف ناک خیال نے راہل کو  اپنی لپیٹ میں لے لیا   اسنے کانپتے ہاتھوں سے اس بچّے کو سیدھا کیا ،اسکو کچھ خاص چوٹ نہیں آئی تھی   وہ شاید خوف سے گر گیا تھا ۔۔۔اسے سہارا دیکر گاڑی کے اندر بیٹھا نے تک وہ نہیں سمجھ سکا کہ وہ کیا کرے گا ۔۔۔۔
بچّے کے گھٹنو پر دوا لگا کر اسنے اسے پانی پلایا ۔

۔ "۔کہاں جاؤ گے میں چھوڑ دیتا ہوں "
وہ سہمی نظروں سے اسے تکنے لگا ۔۔۔ پھر دھیرے سے بو لا ۔۔۔"کہیں ۔۔نہیں ۔۔۔کوئی گھر نہیں ہے میرا ۔۔۔کہاں جاؤنگا ۔۔۔مجھے پتہ نہیں "
اسکے سامنے اپنا بچپن پوری جزّیات کے ساتھ سامنے آکر کھڑا ہو گیا ۔۔۔
بچّے نے بتا یا اسکے ما ں باپ حاد ثے کا شکار ہوئے ۔۔چا چا نے گھر پر قبضہ کر کے اسے نکال باہر کیا ۔۔۔
وہ دھکّے کھاتا ہوا  بھوکا پیا سہ نہ جانے کہاں کہاں بھٹکتا رہا ۔۔۔اور اب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب اسکی باری تھی ۔۔اسے محسوس ہوا وہ ایک بار پھر  اس درد کے سمندر کا پار کر نے نکلا ہے ۔۔۔۔
اسنے اپنا محبّت بھرا ہاتھ بچّے کے سر پر  رکھ دیا اور اب وہ دونوں گہرے دوستوں کی طرح  زندگی سے نپٹنے کے لئے تیّا ر تھے ۔


No comments:

Post a Comment