کچھ نشان قدموں
کے
پاکستان
ایرپورٹ پر اترتے وقت ہم سب بے پناہ خوش اورپرُ جوش تھے۔ ایک عجیب سی مسرت ہم سب کے دلوں میں لہریں
لے رہی تھی کافی عرصے بعد ہمارا یہ خواب پوراہواتھا اور ہم ساری دوستوں کا گروپ پاکستان
کی سرزمین میں اترچکا تھا۔
ہم
سات دوستوں کا یہ گروپ مختلف جگہوں کی سیاحی میں مشغول تھا دارصل ہماری تقریباً ساری
ہی ذمہ داریاں پوری ہو چکی تھیں بچوں کی تعلیم شادیاں اور گھر کی تکمیل اب کچھ حق تو
ہماری اپنی خواہشوں کا تھا۔ ہم لوگ اپنے پورے گروپ کے ساتھ ہندوستان کے مختلف صوبوں
کی سیر کرتے ہوئے اب پاکستان پہنچ چکے تھے
جو کہ اب ہمارا نہیں تھا پھر بھی ہمیں اپنا اپنا سالگتا تھا۔ویسے ہی لوگ وہی زبان وہی
ہنسی ۔
ایر
پورٹ سے ہوٹل پہونچتے پہونچتے سب اپنی اپنی رائے دے رہے تھے اور ہوٹل پہنچ کرہم سب
اونچی آواز میں اپنی پسند کے شہر دیکھنے کا پروگرام بنا رہے تھے ۔کسی کو کراچی دیکھنا
تھا اور کسی کو لاہور دیکھنا تھا ۔ کوئی حیدرآباد سندھ دیکھنا چاہتا تھا اور کسی کوٹکسلا
جانے کی پڑی تھی۔
میں
نے غور کیا کہ مسز روپا کپور کچھ خاموش سی ہیں ان کی عمر تقریباً پنسٹھ بر س کی ہوگی
۔وہ ہم سب میں سینیر تھیں ہم سب ان کی عزت کرتے تھے دارصل اس گروپ کی بنیاد انہوں نے
ہی ڈالی تھی ہم سب تو بیچ میں آکر ان میں شامل ہوتے گئے۔
میں
نے ان سے پوچھا ۔’’آپ کو ن سی جگہ دیکھنا چاہتی ہیں ؟ روپاجی؟ ‘‘
’’میں
پنڈی جانا چاہتی ہوں۔‘‘
’’پنڈی
کس طرف ہے یہ کوئی چھوٹا شہر ہے یا پھر کوئی گاؤں؟‘‘
وہ
میری نادانی پر مسکرائیں اور بولیں
’’میرا
مطلب ہے راولپنڈی ۔جو لوگ یہاں رہتے ہیں وہ اسے پنڈی ہی کہتے ہیں۔
’’آپ
کو کیسے معلوم کیا آپ پہلے آچکی ہیں۔ ‘‘مجھے حیرت سی ہوئی وہ تھوڑی دیر خاموش مجھے
دیکھتی رہیں پھر بولیں۔
’’میں
وہیں پیدا ہوئی ہوں اور وہیں پلی بڑھی ہوں۔ ‘‘
ان
کی آواز بہت نرم اور اداس سی تھی انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ 19برس کی تھیں تب ان کی
شادی ہوگئی اور وہ کیرالہ چلی گئیں اب تو ان کی زبان بھی تامل ہوگئی ہے اور وہ کھانے
بھی ساؤتھ انڈین ہی بنانے لگی ہیں جیسے کہ وہ وہاں کے مقامی لوگ بولتے ہیں اور کھاتے
ہیں ۔ مگر وہ ہمیشہ چاہتی تھی کہ ایک بار وہ وا پس جائیں۔اپنا ملک اور گھر دیکھیں اور اب جاکر انہیں یہ موقعہ
نصیب ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب
ہماری فلائٹ اسلام آبادپہونچی اور ہم سب ایرپورٹ کے باہر آئے تو سردی کی شدّت سے
کانپ گئے ۔ وہاں ایسی سردی تھیں جیسی کہ کسی ہل اسٹیشن پر ہوتی ہے۔ روپا کپور نے ہمیں
بتایا کہ یہ شہر بہت بعد میں بسا ہے ۔ یہ شہر تقسیمِ ملک کے وقت نہیں تھا ۔ پہاڑیوں
کو کاٹ کر بسا یا گیا ہے۔ وہاں کی سڑکیں بہت چوڑی تھیں بے حد خوبصورت شاپنگ مال تھے
اور بے حد حسین روزگارڈن وہاں کی زینت بڑھا رہے تھے ۔ ہم چاہ رہے تھے کہ اسلام آباد
میں کچھ دن رک جائیں مگر مسز کپور راولپنڈی
جانے کے لئے بے چین تھیں۔راولپنڈی وہاں سے کافی قریب تھا مگر کوئی جانے کے لئے
تیار نہ تھا۔
میں
نے خود ہی یہ فیصلہ کیا کہ مجھے ان کے ساتھ جانا چاہئے۔ وہ بہت زیادہ ایکساٹیڈ تھیں
۔انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ چا لیس برس کے بعد اپنا گھر دیکھیں گی۔ میں نے قریب کی فلاورشاپ سے ایک اچھا سا بکے بنوایا اور ان سے کہا کہ وہ یہ پھول میں اس گھر کے نئے مالک
مکان کو دیں ٹھیک ہے ؟وہ مسکرادیں مجھے لگا
کہ وہ میرے اس خیال سے بہت خوش ہوگئیں۔
جب
ہم ٹیکسی لے کر چلے تو مسز روپا ہمیں اک گائیڈ کی طرح راستہ بتا رہی تھیں۔ اک پرانی
بلڈنگ کو دیکھ کر انہوں نے بتایا کہ یہ ان کے دوست کنول ساہنی کا مکان ہے اور وہ دیوالی
منانے یہاں آیا کرتی تھیں۔ پورے راستے وہ مجھے ایک ایک چیز بتا رہی تھیں ایک بہت بڑی
جو ئیلر شاپ دیکھ کو انہوں نے بتایا کہ بہت چھوٹی سی دوکان تھی ان کے دور کے رشتے دارکی
جن کا نام رتن سا گر تھا اور اب شاید یہ ان کے بچے چلا رہے ہوں گے۔
راستے
میں ایک بہت بڑی اور پرانی حویلی دیکھ کر وہ بے حد خوش ہوئیں۔
’’
یہ مقبول خان چاچاکی حویلی ہے۔ میں اپنے بچپن میں یہاں بہت کھیلی ہوں بہت بڑا باغ ہے
اس حویلی کے پیچھے۔ ‘‘
وہ
اتنی زیادہ خوش تھیں کہ وہ میری طرف دیکھے بغیر ہی ساری باتیں کر رہی تھیں وہ کسی بھی
بلڈنگ سے اپنی نظر ایک لمحے کے لئے بھی ہٹا نا نہیں چاہتی تھیں شائد وہ یہ سوچ رہی
تھیں کہیں یہ منظر پیچھے نہ ہٹ جائے اور وہ دیکھ نہ سکیں ڈرائیور چائے پینے رک گیا
تو وہ ٹیکسی سے اتر گئیں اور میرا ہاتھ پکڑکر
پیدل چلنے لگیں۔ وہ مجھے چپّہ چپّہ دکھا رہی تھیں…………
’’یہ دیکھو ؟ ‘‘ انہوں نے ایک دو منزلہ مکان دکھا
یا یہ میری سہیلی عارفہ کا مکان ہے ہم اورعارفہ یہاں کھیلتے تھے انہوں نے برابر کے پارک
کی طرف اشارہ کیا ایک گھر کے سامنے وہ پھر ٹہر گئیں۔
’’
تمہیں پتہ ہے۔؟ ‘‘وہ میری طرف مڑیں او ر اشارے سے بتانے لگیں ۔’’یہ اللہ بخش چاچا کا
گھر ہے ایک بار مما نے مجھے کھیر کا پیالہ دے کر ان کے لئے بھیجا تھا……‘‘ وہ اک لمحہ
رُکیں،
’’اچانک
اک شخص تیزی سے چاچا کے گھر سے نکلا اور مجھ سے ٹکرا گیا…… ساری کی ساری کھیر ……گرم
کھیر میرے کپڑوں پر گرگئی۔‘‘
’’آپ
ان صاحب کو جانتی تھیں…………؟‘‘
’’نہیں
……اس وقت تو نہیں……وہ مسکرائیں شادی کے بعد اچھی طرح جان گئی ہوں اب وہ میرے شوہر ہیں۔‘‘
ہم
ہنستے ہوئے اور آ گے بڑھ آئے……وہ بتاتی رہیں……’’یہ ڈاکٹر سلیم یہ کاشی دادا…… یہ
پر شاد بھیا…… اور یہ ممتا زچاچا کا گھر ہے ……‘‘
ڈرائیور
گاڑی لے کر پیچھے آرہاتھا مگر اب وہ ٹیکسی میں بیٹھنے کو ہاتھ کے اشارے سے منع کر
چکی تھیں میں بھی ان کے ساتھ ساتھ ہی چل رہی تھی……اور اچانک وہ رک گئیں……
’’یہاں
میراگھر ……‘‘
یہ
اک موڑ تھا جہاں پر اچھی خاصی پر رونق مارکٹ تھی بڑی بڑی شاپ ،ویڈیولائبریری اور شاندار
ہوٹل چمک رہے تھے۔ انہوں نے رک کر چاروں طرف دیکھا ڈرائیور ٹیکسی روک کرا ترا آیا
تھا۔
’’
میڈم ۔ آپ کو یقین ہے یہ ہی وہ جگہ ہے……؟‘‘
’’ہاں……
ہاں۔ مجھے یقین ہے ۔ میں یہاں پیدا ہوئی ہون میں نے یہاں 19برس گزارے ہیں تم یہاں نہیں
پیدا ہوئے ہو۔ (انہوں نے ڈارئیور کو جھڑ ک دیا)۔ میں غلطی کیسے کر سکتی ہوں…… ‘‘انہوں
نے بے چینی سے ہر طرف دیکھا عمارتوں کے پیچھے جھانکتی رہیں۔ انہیں یقین تھا کہ ان کا
گھر یہیں پر ہے شاید ان نئی عمارتوں کے پیچھے چھپ گیا ہے ۔ ان کی حالت اس بچّے کی سی
تھی جس کا نیا کھلونا پسند یدہ کھلونا کہیں کھو گیا ہو……وہ حیران پریشان ادھر ادھر
دیکھ رہی تھیں۔ اور بڑ بڑا رہی تھیں……’’ارے میں اپنا گھر نہیں پہچانوں گی میرا گھر……
پتہ ہے ایک بار برامد ے میں فرش بن رہا تھا…… یہاں پور ٹیکو میں…………تو میں دوڑتی ہوئی
آئی اورگیلی سمینٹ…… گیلی سمینٹ پر میرے پیر وں کے نشان بن گئے اور پھر ڈیڈی نے اس
کو ٹھیک نہیں کرنے دیا تھا، انہوں نے کہا یہ روپا کا گھر ہے اور روپا کے پیروں کے نشان
اس گھر کی پہچان ہیں ۔ بالکل انٹرنس پر میرے پیروں کے نشان تھے تم دیکھنا۔‘‘ وہ اس
نئی بلڈنگ کے باہر بے چین کھڑی تھیں ۔
میں
نے بڑھ کر چوکیدار سے پوچھا۔’’ یہ ہوٹل کب بنا ہے۔‘‘
وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور بولا کوئی پانچ چھہ برس ہو گیا جناب۔
’’
تم یہاں کب سے کام کررہے ہو۔‘‘
’’بی
بی صاحبہ جب سے یہ پرانی بلڈنگ توڑی جارہی تھی تو میں مز دور تھا پھر یہاں کام مل گیا
چوکیدار کا۔‘‘
روپا
خاموش رہیں۔
’’کیا
یہاں پر کوئی پیلے رنگ کا دو منزلہ مکان تھا…… ؟‘‘یہ تفصیل روپا مجھے سارے راستے بتاتی
آئی تھیں۔
’’جی
ہاں یہاں پر اس طرح کی عمارت تھی…… کافی پہلے……‘‘
’’
اور اس کے داخلی دروازے پر پیروں کے نشان بھی تھے ‘‘مجھے بھی بہت بے چینی تھی ’’بی
بی صاحب وہ تو ہم نہیں جانتے ……جب وہ عمارت توڑی جارہی تھی تو……‘‘
’’چپ
رہو……چپ ہو جاؤ ‘‘روپا زور سے چلّا ئیں اور ٹیکسی میں جاکر پچھلی سیٹ پر گرگئیں۔ چوکیدار
حیرت سے مجھے دیکھ رہا تھا۔
’’وہ
میری دوست کا مکان تھا۔ ہم انڈیا سے آئے ہیں‘‘ میں نے اس کی حیرت دور کی اور آہستہ
آہستہ ٹیکسی کی طرف بڑھی ……وہ رو رہی تھیں کانپ رہی تھیں کچھ بول بھی رہی تھیں۔
’’
……یہ میرا گھر ہے……میرے دادا جی نے بنا یا تھا…… یہ میری روح ہے……میرے اپنے سب یہاں
پیدا ہوئے یہیں ان کی موت ہوئی یہ زمین یہ پیڑ یہ ہوا یہ پانی یہ سب ہمارا ہے۔…… بس
ایک دن کوئی لائن کھینچ دیتا ہے۔
ایک۔
صرف ایک لائن…… ایک سنگل لائن مجھے اجنبی بنادیتی ہے۔ ایک لکیر ملک کو کاٹ دیتی ہے……
دو ملک بنا دیتی ہے …… مجھے فارنر بنا دیتی ہے میں اپنی ہی زمین پر فارنر ہو گئی ،
غیرملکی ہو گئی۔ کوئی سمجھ نہیں سکتا میرا دکھ میرا درد ……‘‘آنسو ان کے بوڑھے رخسار
پر بہ رہے تھے ۔
میں
خاموش تھی ۔ بالکل خاموش ۔میں نے انہیں تھام لیا تھا وہ کانپ رہی تھیں۔وہ ٹیکسی کی
پچھلی سیٹ پر بیقرا ری سے رو رہی تھیں ۔۔میں نے انکو گلے لگا یا ۔۔۔میری آنکھیں بھی
انکی بے بسی پر بھیگ رہی تھیں ۔
اور
تب میں نے دیکھا کہ وہ پھول جومیں لے کر آئی تھی میں نے بے خیالی میں روپا کی گود
میں رکھ دیئے تھے ۔ گھر کی پرانی مالکن کی گود میں پھول مسکرا رہے تھے مگر وہ گھر جس
کے داخلی دروازے پر ان کے قدموں کے نشان تھے وہ اب نہیں تھا…… کہیں بھی نہیں تھا……!
آزادی کے خواب
سنا
تم نے …… ؟ اس نے میرے سامنے چائے کا کپ رکھتے ہوئے پوچھا ’’صبح سے اسکول کا ہر بچہ
ننھا سا جھنڈا لئے ننھی منی آواز میں آزادی کی گیت گاتا جا رہا ہے……‘‘
ارمین
کے لہجے میں اک معصوم سی مسرت اور اشتیاق ہلکورے لے رہا تھا اس نے ہاتھ بڑھا کر ریموٹ
اٹھا یا اور T.Vآن کر دیا …… ہم دونوں ناشتے کی ٹیبل پر تھے ……چائے کا بھاپ اُڑاتا کپ میرے سامنے
تھا مگر دل میں اک بے کلی سی تھی۔
اب
T.Vپر آزادی کے پروگرام شروع ہو چکے تھے۔ اک مشہور سنگر کی آواز گونج رہی تھی۔
’’اب
کوئی گلشن نہ اجڑے اب وطن آزاد ہے ‘‘
اور
میں…… اپنے خیالات میں گم ہوگیا، میرا دل نہ جانے کیوں دکھا دکھا سا ہے۔ فضا میں آج
بھی جب اس گیت کے بول گونجتے ہیں تو ذہن و دل اک نئی کیفیت سے روشناس ہوتے ہیں اک جوش
اک جنون، اک دلولہ اور آزادی کا احساس……
لیکن
…… دل اداس کیوں ہے…… ؟مجھے اس کے پس منظر میں کچھ اور کیو ں دکھائی دے رہا ہے……؟
گولیوں
کی آوازیں بچوں کی چیخ پکار ، بم کے دھما کے اور لوگوں کے بکھرتے وجود ……بے بسی لاچاری
…… دکھ …… کرب ……کیا واقعی اب کوئی گلشن نہیں
اجڑے گا……؟
کیا
آزادی کے متوالوں نے اپنی جانیں دے کر یہ آزادی اس لئے مانگی تھی کہ آزادی اک خواب
بن جائے ……اک سنہرا خواب اور اس خواب کی تعبیر اس صورت میں سامنے آئی کہ ایک گھر کے
آنگن میں ایک کمزور سی دیوار اٹھا دی گئی…… اور اک ماں…… یہ کہاں برداشت کر پاتی ہے
کہ اس کے بچوں میں دوریا ں ہوں……چولھے الگ ہو جائیں ……کون ماں برداشت کرتی ہے یہ دکھ……؟
کیا
آزادی کی جنگ میں حصّہ لینے والوں……اپنی جانیں نچھاو ر کرنے والوں کو یہ معلوم تھا
کہ دھرتی کویہ کرب سہنا پڑے گا اور وہ اس طرح خون سے لال ہوتی رہے گی۔؟
آزادی
کے 69انہتر برس بعد بھی لہو سے تر ہے یہ زمین ……کاش آزادی کے نام سینوں پرگولیاں کھانے
والے …… آئیں اور دیکھیں ملک کے مختلف علاقے۔ وہ دیکھیں دہلی کی تباہی، گجرات پر نظر
ڈالیں ،بمبئی کا منظر دیکھیں …… یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ کشمیر میں روز چند جوان مار دیے
جاتے ہیں یہ کہہ کر کہ وہ دہشت گرد تھے ۔ سچائی پر کھنے کا کسی کا پاس وقت نہیں ۔
دہلی
کے بازار وں میں کس طرح موت کا بازار گرم ہوا۔ گجرات کے لوگ آج بھی بے سہارا ہیں
…… دہلی میں کیسی تباہی آئی کتنے گھر خالی ہوگئے……
ہندوستان
آزاد کروانے والے آئیں اور تاج ہوٹل کے اندر حیوانیت کا ننگا ناچ دیکھیں۔
اک
بے قصور رپوٹر جو کسی ایک کمرے میں بند تھی آخری وقت تک S.M.Sکرتی رہی……وہ تاج ہوٹل کے ایک کمرے میں
بند تھی اور چاروں طرف ہولناک آوازیں بم دھماکے باردو کی بو…… اس لڑکی کا آخر ی میسج
یہ تھا کہ ’’بس اب کوئی باتھ روم میں کو د کر آیا ہے ‘‘ اور پھر لائن ڈیڈ ہوگئی ۔
کیا ہوا ہوگا اس کے بعد۔؟
کون
سوچ سکتا ہے ۔ کچھ لوگ مرنے والو ں کی گنتی مذہب اور فرقے کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ انسانیت
کی بنیا د پر نہیں ۔ مرنے والے کوئی بھی ہو ں ،ہیں تو انسان ہی ۔
پھر
ہم کون ہیں انسانوں میں فرق کرنے والے ۔
کہاں
ہیں دارپرچڑھنے والے آئیں اور ہندوستان کا یہ منظر دیکھیں کیسا کرب ہے کہ جگر کٹا
جاتا ہے…… کتنے دلوں کے اندرآگ جل رہی ہے اور اس کی تپش سے سارا علاقہ سلگ رہا ہے۔
حملہ
سرحد پر نہیں ہوتا ہے گھروں پر ہوتا ہے اسٹیشنوں پر ہوتا ہے بازاروں میں ہوٹلوں میں
ہوتا ہے کیا اس دن کے لئے پورے پورے خاندان کے لوگوں نے اپنے آپ کو دار کے حوالے کیا
تھا۔
سر
حدوں پرسر کٹا نے والے دیکھیں ………… گھروں کے اندر چین سے رہنے والوں نے خود اذنِ حیوانیت
دیا ۔آؤ ہمارے عوام کے سینے حاضر ہیں۔ چاہے وہ گجرات کا منظر ہو ، دہلی کا یا پھر
بمبئی کا ………… بچوں کی آہیں ان نام نہاد نگراں لیڈران کے شراب کے جام میں ڈوب رہی
ہیں جوان اور بیواؤں کی سسکیاں ان کے ناچ رنگ میں دھند لائی ہیں ماؤں کی چیخیں ان گھر
کے بھیدیوں کے کانوں تک ہی نہیں پہونچ رہی ہیں کہ کانوں پر ہیڈفون چڑھے ہیں جس میں
تیز موسیقی ہے لطف وانبساط ہے لوگوں کا اعتماد
ریزہ ریزہ ہو رہا ہے…………
کہا
ں تھیں وہ نگراں نگاہیں۔ وہ سیکورٹی جو معصوم عوام کو پریشان کرنے کے لئے ہے، نام کے
لئے ہے۔
پوری
دنیا کی بات کریں ۔تب بھی دلوں کو قرار کہاں ہے جب نگاہ اٹھتی ہے کشمیر،سربیا،لبنا
ن، شام ،عراق ہر طرف کے حالات و واقعات سامنے
ہیں پوری دنیا میں ظلم و بربریت سفاکی، آبرو ریزی ،قتل و غارت گری کے گدھ کیو ں منڈلارہے
ہیں؟ امن وسکون کہاں ہے ؟ انصاف اور طمانیت اوررحم کے پودے کیوں خشک ہو گئے ہیں اور
پھر جب یہ سب کچھ ہر خطے سے معدوم ہو گیا۔ امن ہتھیاروں تلے دب کر سسک سسک کر سو گیا
، انصاف کے معنی
جانب داری کے لئے جانے لگے مسرت ، طمانیت ،ر خصت
ہو چکی تو اس حالت میں کون آزاد ہے؟ کہاں آزاد ہے؟
بارش نے زور پکڑ لیا تھا ۔۔۔۔تیز ہواؤں میں بوچھار برامدے تک آکر پیر بھگورہی تھی ۔۔۔کوئی جیسے تسلّی کے حرف دل پر رکھ رہا تھا ۔۔۔جیسے یہ بوندیں نئی زندگی کی ،نئی منزلوں کی ،نئے اردوں اور نئے پُر عظم حوصلوں کو دعوت دے رہی تھی ۔۔۔جیسے کہ رہی ہو ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا ہے ۔۔۔دوستی اور صلح وآتشی لیکر سب سے گلے ملکر ایک نیا جہاں بسا نے کی جستجو کرنا ہے ۔۔۔۔سبکو ملکر اک نیا جہان بنا نا ہے ۔۔۔آگئے بڑھو اور سب ملکر ایک نئے جہان کی تشکیل میں لگ جاؤ،ابھی کچھ نہیں بگڑا ہے ۔۔دل میں کونپل سی پھوٹ رہی تھی ۔۔۔۔۔امید کی کونپل ،دوستی کی کونپل ۔
بارش نے زور پکڑ لیا تھا ۔۔۔۔تیز ہواؤں میں بوچھار برامدے تک آکر پیر بھگورہی تھی ۔۔۔کوئی جیسے تسلّی کے حرف دل پر رکھ رہا تھا ۔۔۔جیسے یہ بوندیں نئی زندگی کی ،نئی منزلوں کی ،نئے اردوں اور نئے پُر عظم حوصلوں کو دعوت دے رہی تھی ۔۔۔جیسے کہ رہی ہو ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا ہے ۔۔۔دوستی اور صلح وآتشی لیکر سب سے گلے ملکر ایک نیا جہاں بسا نے کی جستجو کرنا ہے ۔۔۔۔سبکو ملکر اک نیا جہان بنا نا ہے ۔۔۔آگئے بڑھو اور سب ملکر ایک نئے جہان کی تشکیل میں لگ جاؤ،ابھی کچھ نہیں بگڑا ہے ۔۔دل میں کونپل سی پھوٹ رہی تھی ۔۔۔۔۔امید کی کونپل ،دوستی کی کونپل ۔
’’کاش
……کاش……ریموٹ میرے ہاتھ میں ہوتا‘‘
بے
ساختہ یہ جملہ میرے منہ سے نکل گیا…………
’’
پھر تم کیا کرتے ۔۔‘‘ارمین ابھی تک چینل سرچ کر رہی تھی ۔
’’میں
اک ایسا چینل فکس کر دیتا جو کبھی نہ بدل سکتا۔‘‘
’’
کون سا چینل ؟‘‘ اس کی آنکھوں میں حیرت تھی۔
’’محبت،
امن ،بھائی چارے اور مسرت کا ۔اک ایسی مسرت کا جو محبت کی خوشبو سے پھوٹتی ہے ، اک
ایسی مسرت جو دوست کو گلے لگا کر ملتی ہے ۔ ایک ایسی مسرت جو کسی ضعیف کا ہاتھ پکڑکر
سڑک پار کروانے میں ملتی ہے۔‘‘
ارمین نے حیرت سے مجھے دیکھا …… اس نے پھر چینل چینج
کیا یہاں اک اور نغمہ آ رہا تھا۔
کر چلے ہم فدا جان و تن ساتھیو
اب تمہارے حوالے وطن ساتھیو
No comments:
Post a Comment