Tuesday, December 6, 2016

سہارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زاراقدوائی
جب مجھے میٹرو میں لگا یا گیا تھا تب میٹرو اتنی مشہور نہیں تھی ۔کچھ سا ل لگے اسٹیشن بڑھانے کے ساتھ ساتھ کوچ بھی بڑھائے گئے ۔میری ڈیوٹی سب سے پہلے کوچ میں تھی ۔شروع شروع میں میں بہت پریشان رہا کیونکہ زیادہ تر لڑکے شراب کے نشے میں آکر مجھے تھام لیتے تھے اور لپٹ لپٹ کر کھڑے ہو جایا کرتے تھے ۔اتنا غصّہ آتا تھا کہ انھیں اپنے آپ سے دور کیسے پھینکوں ۔
پہلے تو میں یہی سمجھ نہ سکا کہ میرا کام کیا ہوگا ۔نہ مجھ میں ہنڈل کی طرح اسپرنگ ہے اور نہ ہی پائے ۔میں تو بس کھڑا ہوں دونوں گیٹ کے بیچوں بیچ ۔پر جب میری ڈیمانڈ شروع ہوئی تو ہینڈل کو بھی مجھ سے جلن ہونے لگی ۔لوگ ہاتھ اونچا کر کے ہینڈل پکڑنے کے بجائے سائیڈ میں کھڑے میرے ساتھ ہی ٹک جایا کرتے ،اور مجھے تھام کر پورا سفر کاٹ دیتے ۔
پھر کچھ وقت گزرا تو یہ کوچ لڑکیوں کے لیئے ریزرو کر دیا گیا اس دن سے میری زندگی ہی بدل گئی پوری ٹرین میں چاہے کتنی بھی بد بوؤیں ہوں میرا کوچ ہمیشہ مہکتا رہتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پورے کوچ میں اتنی طرح کی خوشبوئیں پھیلی رہتیں کہ میں یہ بھی بھول گیا کہ فضا کی اصلی خوشبو کیا ہے ۔
یوں تو کئی ہاتھوں نے مجھے تھا ما تھا ۔مگر چار ہاتھ میرے ذریعہ ہی ملے تھے ۔اسمیں ایک ہاتھ منہدی لگائے نئی نویلی دلھن کا تھا ،جسنے شادی کے بعد اب شاید کام پر جا نا شروع کر دیا تھا ۔دوسرا ہاتھ گھر کی ذمہ داروں سے جوجھتا ہوا ۔تیسرا ہاتھ ایک بڑی عمر کی خاتون کا تھا جو نہ جانے کیوں روز اسی اسٹیشن سے سوار ہوتیں شاید اس عمر میں بھی انکو کام کرنا پڑرہا تھا ۔چوتھا ہاتھ ایک معصوم سی لڑکی کا تھا جو شاید کسی اسکول یا کالج میں پڑھ تی ہوگی ۔۔
چاروں کی ملاقات میرے ہی کوچ میں میرے ہی پاس آکر ہوئی تھی ۔وہ چاروں میرے پاس میرے سہارے کھڑی رہتی تھیں ۔کچھ دیر بعد چوڑیوں والے ہاتھ نے کہا ۔
"کیا ہم اپنے آپ گھومے جارہے ہیں َ۔"تب سے ان سب کی ہنسی اور دوستی کی ابتدا ہوئی ۔
ایک دن میری میٹرو میں کسی خرابی کی وجہ سے کسی اور میٹرو کو اس لایئن پر بھیج دیا گیا ۔
یقین جانیئے ایسا لگ رہا تھا جیسے دوسری میٹرو کی وہ کوچ مجھے چِڑِھا رہی ہو ۔۔کہ آج تو میرا سارا دن کارخانے میں جانے والا ہے ۔کارخانے میں میری خوب مرمت ہوئی
ہوتے ہوتے شام ہوگئی شام کے قریب ایک بہت زور کی آواز آئی پوچھنے پر ساتھ والے کوچ نے بتا یا ۔کہ شاید کہیں آتش بازی ہو رہی ہے اسکی آواز ہے ۔
کارخانے سے میری میٹرو کو چھ دن کے بعد نکالا گیا میں وہاں پڑے پڑے بہت بور ہوگیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آخر کو ایک پڑوس کی کوچ نے بتا یا کہ کرفیو لگ گیا ہے ۔۔شاید وہ دھماکا کسی نے بم سے کیا تھا ۔میں بہت اُداس ہو گیا ۔۔۔
ساتویں دن میری میٹرو کو چلا یا گیا ۔ہم پھر اسی اسٹیشن پر پہنچے ،پر آج نہ وہ چوڑیوں والے ہاتھ تھے نہ ہی وہ معصوم چھوٹے ہاتھ ،نہ بڑی عمر کی خاتوں کے اور نہ ہی ذمہ داریوں سے سجے ہاتھ ۔
کچھ بھی پہلے جیسا نہیں تھا پھر بھی سب کچھ ویسا ہی تھا ۔وہ چار ہاتھ میں نے کبھی نہیں پائے ۔
اس کوچ میں نئی ہنسی ،نئی خوشبوؤیں اور نئیے قصّے گونج رہے تھے اور میں نیا ہاتھ تھام کر پھر سے سفر پر نکل گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بے نشا ں

 کچھ نشان قدموں کے
        پاکستان ایرپورٹ پر اترتے وقت ہم سب بے پناہ خوش اورپرُ جوش  تھے۔ ایک عجیب سی مسرت ہم سب کے دلوں میں لہریں لے رہی تھی کافی عرصے بعد ہمارا یہ خواب پوراہواتھا اور ہم ساری دوستوں کا گروپ پاکستان کی سرزمین میں اترچکا تھا۔
        ہم سات دوستوں کا یہ گروپ مختلف جگہوں کی سیاحی میں مشغول تھا دارصل ہماری تقریباً ساری ہی ذمہ داریاں پوری ہو چکی تھیں بچوں کی تعلیم شادیاں اور گھر کی تکمیل اب کچھ حق تو ہماری اپنی خواہشوں کا تھا۔ ہم لوگ اپنے پورے گروپ کے ساتھ ہندوستان کے مختلف صوبوں کی سیر کرتے ہوئے اب پاکستان پہنچ  چکے تھے جو کہ اب ہمارا نہیں تھا پھر بھی ہمیں اپنا اپنا سالگتا تھا۔ویسے ہی لوگ وہی زبان وہی ہنسی ۔
        ایر پورٹ سے ہوٹل پہونچتے پہونچتے سب اپنی اپنی رائے دے رہے تھے اور ہوٹل پہنچ کرہم سب اونچی آواز میں اپنی پسند کے شہر دیکھنے کا پروگرام بنا رہے تھے ۔کسی کو کراچی دیکھنا تھا اور کسی کو لاہور دیکھنا تھا ۔ کوئی حیدرآباد سندھ دیکھنا چاہتا تھا اور کسی کوٹکسلا جانے کی پڑی تھی۔
        میں نے غور کیا کہ مسز روپا کپور کچھ خاموش سی ہیں ان کی عمر تقریباً پنسٹھ بر س کی ہوگی ۔وہ ہم سب میں سینیر تھیں ہم سب ان کی عزت کرتے تھے دارصل اس گروپ کی بنیاد انہوں نے ہی ڈالی تھی ہم سب تو بیچ میں آکر ان میں شامل ہوتے گئے۔
        میں نے ان سے پوچھا ۔’’آپ کو ن سی جگہ دیکھنا چاہتی ہیں ؟ روپاجی؟ ‘‘
        ’’میں پنڈی جانا چاہتی ہوں۔‘‘
        ’’پنڈی کس طرف ہے یہ کوئی چھوٹا شہر ہے یا پھر کوئی گاؤں؟‘‘
        وہ میری نادانی پر مسکرائیں اور بولیں
        ’’میرا مطلب ہے راولپنڈی ۔جو لوگ یہاں رہتے ہیں وہ اسے پنڈی ہی کہتے ہیں۔
        ’’آپ کو کیسے معلوم کیا آپ پہلے آچکی ہیں۔ ‘‘مجھے حیرت سی ہوئی وہ تھوڑی دیر خاموش مجھے دیکھتی رہیں پھر بولیں۔
        ’’میں وہیں پیدا ہوئی ہوں اور وہیں پلی بڑھی ہوں۔ ‘‘
        ان کی آواز بہت نرم اور اداس سی تھی انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ 19برس کی تھیں تب ان کی شادی ہوگئی اور وہ کیرالہ چلی گئیں اب تو ان کی زبان بھی تامل ہوگئی ہے اور وہ کھانے بھی ساؤتھ انڈین ہی بنانے لگی ہیں جیسے کہ وہ وہاں کے مقامی لوگ بولتے ہیں اور کھاتے ہیں ۔ مگر وہ ہمیشہ چاہتی تھی کہ ایک بار وہ وا پس جائیں۔اپنا  ملک اور گھر دیکھیں اور اب جاکر انہیں یہ موقعہ نصیب ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
        جب ہماری فلائٹ اسلام آبادپہونچی اور ہم سب ایرپورٹ کے باہر آئے تو سردی کی شدّت سے کانپ گئے ۔ وہاں ایسی سردی تھیں جیسی کہ کسی ہل اسٹیشن پر ہوتی ہے۔ روپا کپور نے ہمیں بتایا کہ یہ شہر بہت بعد میں بسا ہے ۔ یہ شہر تقسیمِ ملک کے وقت نہیں تھا ۔ پہاڑیوں کو کاٹ کر بسا یا گیا ہے۔ وہاں کی سڑکیں بہت چوڑی تھیں بے حد خوبصورت شاپنگ مال تھے اور بے حد حسین روزگارڈن وہاں کی زینت بڑھا رہے تھے ۔ ہم چاہ رہے تھے کہ اسلام آباد میں کچھ دن رک جائیں مگر مسز کپور راولپنڈی  جانے کے لئے بے چین تھیں۔راولپنڈی وہاں سے کافی قریب تھا مگر کوئی جانے کے لئے تیار نہ تھا۔
        میں نے خود ہی یہ فیصلہ کیا کہ مجھے ان کے ساتھ جانا چاہئے۔ وہ بہت زیادہ ایکساٹیڈ تھیں ۔انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ چا لیس برس کے بعد اپنا گھر دیکھیں گی۔ میں نے قریب کی  فلاورشاپ سے ایک اچھا سا بکے بنوایا اور  ان سے کہا کہ وہ یہ پھول میں اس گھر کے نئے مالک مکان کو دیں  ٹھیک ہے ؟وہ مسکرادیں مجھے لگا کہ وہ میرے اس خیال سے بہت خوش ہوگئیں۔
        جب ہم ٹیکسی لے کر چلے تو مسز روپا ہمیں اک گائیڈ کی طرح راستہ بتا رہی تھیں۔ اک پرانی بلڈنگ کو دیکھ کر انہوں نے بتایا کہ یہ ان کے دوست کنول ساہنی کا مکان ہے اور وہ دیوالی منانے یہاں آیا کرتی تھیں۔ پورے راستے وہ مجھے ایک ایک چیز بتا رہی تھیں ایک بہت بڑی جو ئیلر شاپ دیکھ کو انہوں نے بتایا کہ بہت چھوٹی سی دوکان تھی ان کے دور کے رشتے دارکی جن کا نام رتن سا گر تھا اور اب شاید یہ ان کے بچے چلا رہے ہوں گے۔
        راستے میں ایک بہت بڑی اور پرانی حویلی دیکھ کر وہ بے حد خوش ہوئیں۔
        ’’ یہ مقبول خان چاچاکی حویلی ہے۔ میں اپنے بچپن میں یہاں بہت کھیلی ہوں بہت بڑا باغ ہے اس حویلی کے پیچھے۔ ‘‘
        وہ اتنی زیادہ خوش تھیں کہ وہ میری طرف دیکھے بغیر ہی ساری باتیں کر رہی تھیں وہ کسی بھی بلڈنگ سے اپنی نظر ایک لمحے کے لئے بھی ہٹا نا نہیں چاہتی تھیں شائد وہ یہ سوچ رہی تھیں کہیں یہ منظر پیچھے نہ ہٹ جائے اور وہ دیکھ نہ سکیں ڈرائیور چائے پینے رک گیا تو وہ ٹیکسی سے اتر گئیں اور  میرا ہاتھ پکڑکر پیدل چلنے لگیں۔ وہ مجھے چپّہ چپّہ دکھا رہی تھیں…………
         ’’یہ دیکھو ؟ ‘‘ انہوں نے ایک دو منزلہ مکان دکھا یا یہ میری سہیلی عارفہ  کا مکان ہے ہم  اورعارفہ یہاں کھیلتے تھے انہوں نے برابر کے پارک کی طرف اشارہ کیا ایک گھر کے سامنے وہ پھر ٹہر گئیں۔
        ’’ تمہیں پتہ ہے۔؟ ‘‘وہ میری طرف مڑیں او ر اشارے سے بتانے لگیں ۔’’یہ اللہ بخش چاچا کا گھر ہے ایک بار مما نے مجھے کھیر کا پیالہ دے کر ان کے لئے بھیجا تھا……‘‘ وہ اک لمحہ رُکیں،
        ’’اچانک اک شخص تیزی سے چاچا کے گھر سے نکلا اور مجھ سے ٹکرا گیا…… ساری کی ساری کھیر ……گرم کھیر میرے کپڑوں پر گرگئی۔‘‘
        ’’آپ ان صاحب کو جانتی تھیں…………؟‘‘
        ’’نہیں ……اس وقت تو نہیں……وہ مسکرائیں شادی کے بعد اچھی طرح جان گئی ہوں اب وہ میرے شوہر ہیں۔‘‘
        ہم ہنستے ہوئے اور آ گے بڑھ آئے……وہ بتاتی رہیں……’’یہ ڈاکٹر سلیم یہ کاشی دادا…… یہ پر شاد بھیا…… اور یہ ممتا زچاچا کا گھر ہے ……‘‘
        ڈرائیور گاڑی لے کر پیچھے آرہاتھا مگر اب وہ ٹیکسی میں بیٹھنے کو ہاتھ کے اشارے سے منع کر چکی تھیں میں بھی ان کے ساتھ ساتھ ہی چل رہی تھی……اور اچانک وہ رک گئیں……
        ’’یہاں میراگھر ……‘‘
        یہ اک موڑ تھا جہاں پر اچھی خاصی پر رونق مارکٹ تھی بڑی بڑی شاپ ،ویڈیولائبریری اور شاندار ہوٹل چمک رہے تھے۔ انہوں نے رک کر چاروں طرف دیکھا ڈرائیور ٹیکسی روک کرا ترا آیا تھا۔ 
        ’’ میڈم ۔ آپ کو یقین ہے یہ ہی وہ جگہ ہے……؟‘‘
        ’’ہاں…… ہاں۔ مجھے یقین ہے ۔ میں یہاں پیدا ہوئی ہون میں نے یہاں 19برس گزارے ہیں تم یہاں نہیں پیدا ہوئے ہو۔ (انہوں نے ڈارئیور کو جھڑ ک دیا)۔ میں غلطی کیسے کر سکتی ہوں…… ‘‘انہوں نے بے چینی سے ہر طرف دیکھا عمارتوں کے پیچھے جھانکتی رہیں۔ انہیں یقین تھا کہ ان کا گھر یہیں پر ہے شاید ان نئی عمارتوں کے پیچھے چھپ گیا ہے ۔ ان کی حالت اس بچّے کی سی تھی جس کا نیا کھلونا پسند یدہ کھلونا کہیں کھو گیا ہو……وہ حیران پریشان ادھر ادھر دیکھ رہی تھیں۔ اور بڑ بڑا رہی تھیں……’’ارے میں اپنا گھر نہیں پہچانوں گی میرا گھر…… پتہ ہے ایک بار برامد ے میں فرش بن رہا تھا…… یہاں پور ٹیکو میں…………تو میں دوڑتی ہوئی آئی اورگیلی سمینٹ…… گیلی سمینٹ پر میرے پیر وں کے نشان بن گئے اور پھر ڈیڈی نے اس کو ٹھیک نہیں کرنے دیا تھا، انہوں نے کہا یہ روپا کا گھر ہے اور روپا کے پیروں کے نشان اس گھر کی پہچان ہیں ۔ بالکل انٹرنس پر میرے پیروں کے نشان تھے تم دیکھنا۔‘‘ وہ اس نئی بلڈنگ کے باہر بے چین کھڑی تھیں ۔
        میں نے بڑھ کر چوکیدار سے پوچھا۔’’ یہ ہوٹل کب بنا ہے۔‘‘
         وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور بولا کوئی پانچ چھہ  برس ہو گیا جناب۔
        ’’ تم یہاں کب سے کام کررہے ہو۔‘‘
        ’’بی بی صاحبہ جب سے یہ پرانی بلڈنگ توڑی جارہی تھی تو میں مز دور تھا پھر یہاں کام مل گیا چوکیدار کا۔‘‘
        روپا خاموش رہیں۔
        ’’کیا یہاں پر کوئی پیلے رنگ کا دو منزلہ مکان تھا…… ؟‘‘یہ تفصیل روپا مجھے سارے راستے بتاتی آئی تھیں۔
        ’’جی ہاں یہاں پر اس طرح کی عمارت تھی…… کافی پہلے……‘‘
        ’’ اور اس کے داخلی دروازے پر پیروں کے نشان بھی تھے ‘‘مجھے بھی بہت بے چینی تھی ’’بی بی صاحب وہ تو ہم نہیں جانتے ……جب وہ عمارت توڑی جارہی تھی تو……‘‘
        ’’چپ رہو……چپ ہو جاؤ ‘‘روپا زور سے چلّا ئیں اور ٹیکسی میں جاکر پچھلی سیٹ پر گرگئیں۔ چوکیدار حیرت سے مجھے دیکھ رہا تھا۔
        ’’وہ میری دوست کا مکان تھا۔ ہم انڈیا سے آئے ہیں‘‘ میں نے اس کی حیرت دور کی اور آہستہ آہستہ ٹیکسی کی طرف بڑھی ……وہ رو رہی تھیں کانپ رہی تھیں کچھ بول بھی رہی تھیں۔
        ’’ ……یہ میرا گھر ہے……میرے دادا جی نے بنا یا تھا…… یہ میری روح ہے……میرے اپنے سب یہاں پیدا ہوئے یہیں ان کی موت ہوئی یہ زمین یہ پیڑ یہ ہوا یہ پانی یہ سب ہمارا ہے۔…… بس ایک دن کوئی لائن کھینچ دیتا ہے۔
        ایک۔ صرف ایک لائن…… ایک سنگل لائن مجھے اجنبی بنادیتی ہے۔ ایک لکیر ملک کو کاٹ دیتی ہے…… دو ملک بنا دیتی ہے …… مجھے فارنر بنا دیتی ہے میں اپنی ہی زمین پر فارنر ہو گئی ، غیرملکی ہو گئی۔ کوئی سمجھ نہیں سکتا میرا دکھ میرا درد ……‘‘آنسو ان کے بوڑھے رخسار پر بہ رہے تھے ۔
        میں خاموش تھی ۔ بالکل خاموش ۔میں نے انہیں تھام لیا تھا وہ کانپ رہی تھیں۔وہ ٹیکسی کی پچھلی سیٹ پر بیقرا ری سے رو رہی تھیں ۔۔میں نے انکو گلے لگا یا ۔۔۔میری آنکھیں بھی انکی بے بسی پر بھیگ رہی تھیں ۔
        اور تب میں نے دیکھا کہ وہ پھول جومیں لے کر آئی تھی میں نے بے خیالی میں روپا کی گود میں رکھ دیئے تھے ۔ گھر کی پرانی مالکن کی گود میں پھول مسکرا رہے تھے مگر وہ گھر جس کے داخلی دروازے پر ان کے قدموں کے نشان تھے وہ اب نہیں تھا…… کہیں بھی نہیں تھا……!
       

















آزادی کے خواب
        سنا تم نے …… ؟ اس نے میرے سامنے چائے کا کپ رکھتے ہوئے پوچھا ’’صبح سے اسکول کا ہر بچہ ننھا سا جھنڈا لئے ننھی منی آواز میں آزادی کی گیت گاتا جا رہا ہے……‘‘
        ارمین کے لہجے میں اک معصوم سی مسرت اور اشتیاق ہلکورے لے رہا تھا اس نے ہاتھ بڑھا کر ریموٹ اٹھا یا اور T.Vآن کر دیا …… ہم دونوں ناشتے کی ٹیبل پر تھے ……چائے کا بھاپ اُڑاتا کپ میرے سامنے تھا مگر دل میں اک بے کلی سی تھی۔
        اب T.Vپر آزادی کے پروگرام شروع ہو چکے تھے۔ اک مشہور سنگر کی آواز گونج رہی تھی۔
        ’’اب کوئی گلشن نہ اجڑے اب وطن آزاد ہے ‘‘
        اور میں…… اپنے خیالات میں گم ہوگیا، میرا دل نہ جانے کیوں دکھا دکھا سا ہے۔ فضا میں آج بھی جب اس گیت کے بول گونجتے ہیں تو ذہن و دل اک نئی کیفیت سے روشناس ہوتے ہیں اک جوش اک جنون، اک دلولہ اور آزادی کا احساس……
        لیکن …… دل اداس کیوں ہے…… ؟مجھے اس کے پس منظر میں کچھ اور کیو ں دکھائی دے رہا ہے……؟
        گولیوں کی آوازیں بچوں کی چیخ پکار ، بم کے دھما کے اور لوگوں کے بکھرتے وجود ……بے بسی لاچاری ……  دکھ …… کرب ……کیا واقعی اب کوئی گلشن نہیں اجڑے گا……؟
        کیا آزادی کے متوالوں نے اپنی جانیں دے کر یہ آزادی اس لئے مانگی تھی کہ آزادی اک خواب بن جائے ……اک سنہرا خواب اور اس خواب کی تعبیر اس صورت میں سامنے آئی کہ ایک گھر کے آنگن میں ایک کمزور سی دیوار اٹھا دی گئی…… اور اک ماں…… یہ کہاں برداشت کر پاتی ہے کہ اس کے بچوں میں دوریا ں ہوں……چولھے الگ ہو جائیں ……کون ماں برداشت کرتی ہے یہ دکھ……؟
        کیا آزادی کی جنگ میں حصّہ لینے والوں……اپنی جانیں نچھاو ر کرنے والوں کو یہ معلوم تھا کہ دھرتی کویہ کرب سہنا پڑے گا اور وہ اس طرح خون سے لال ہوتی رہے گی۔؟
        آزادی کے 69انہتر برس بعد بھی لہو سے تر ہے یہ زمین ……کاش آزادی کے نام سینوں پرگولیاں کھانے والے …… آئیں اور دیکھیں ملک کے مختلف علاقے۔ وہ دیکھیں دہلی کی تباہی، گجرات پر نظر ڈالیں ،بمبئی کا منظر دیکھیں …… یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ کشمیر میں روز چند جوان مار دیے جاتے ہیں یہ کہہ کر کہ وہ دہشت گرد تھے ۔ سچائی پر کھنے کا کسی کا پاس وقت نہیں ۔
        دہلی کے بازار وں میں کس طرح موت کا بازار گرم ہوا۔ گجرات کے لوگ آج بھی بے سہارا ہیں …… دہلی میں کیسی تباہی آئی کتنے گھر خالی ہوگئے……
        ہندوستان آزاد کروانے والے آئیں اور تاج ہوٹل کے اندر حیوانیت کا ننگا ناچ دیکھیں۔
        اک بے قصور رپوٹر جو کسی ایک کمرے میں بند تھی آخری وقت تک S.M.Sکرتی رہی……وہ تاج ہوٹل کے ایک کمرے میں بند تھی اور چاروں طرف ہولناک آوازیں بم دھماکے باردو کی بو…… اس لڑکی کا آخر ی میسج یہ تھا کہ ’’بس اب کوئی باتھ روم میں کو د کر آیا ہے ‘‘ اور پھر لائن ڈیڈ ہوگئی ۔ کیا ہوا ہوگا اس کے بعد۔؟
        کون سوچ سکتا ہے ۔ کچھ لوگ مرنے والو ں کی گنتی مذہب اور فرقے کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ انسانیت کی بنیا د پر نہیں ۔ مرنے والے کوئی بھی ہو ں ،ہیں تو انسان ہی ۔
       
        پھر ہم کون ہیں انسانوں میں فرق کرنے والے ۔
        کہاں ہیں دارپرچڑھنے والے آئیں اور ہندوستان کا یہ منظر دیکھیں کیسا کرب ہے کہ جگر کٹا جاتا ہے…… کتنے دلوں کے اندرآگ جل رہی ہے اور اس کی تپش سے سارا علاقہ سلگ رہا ہے۔
        حملہ سرحد پر نہیں ہوتا ہے گھروں پر ہوتا ہے اسٹیشنوں پر ہوتا ہے بازاروں میں ہوٹلوں میں ہوتا ہے کیا اس دن کے لئے پورے پورے خاندان کے لوگوں نے اپنے آپ کو دار کے حوالے کیا تھا۔
        سر حدوں پرسر کٹا نے والے دیکھیں ………… گھروں کے اندر چین سے رہنے والوں نے خود اذنِ حیوانیت دیا ۔آؤ ہمارے عوام کے سینے حاضر ہیں۔ چاہے وہ گجرات کا منظر ہو ، دہلی کا یا پھر بمبئی کا ………… بچوں کی آہیں ان نام نہاد نگراں لیڈران کے شراب کے جام میں ڈوب رہی ہیں جوان اور بیواؤں کی سسکیاں ان کے ناچ رنگ میں دھند لائی ہیں ماؤں کی چیخیں ان گھر کے بھیدیوں کے کانوں تک ہی نہیں پہونچ رہی ہیں کہ کانوں پر ہیڈفون چڑھے ہیں جس میں تیز موسیقی ہے لطف وانبساط ہے لوگوں کا اعتماد  ریزہ ریزہ ہو رہا ہے…………
        کہا ں تھیں وہ نگراں نگاہیں۔ وہ سیکورٹی جو معصوم عوام کو پریشان کرنے کے لئے ہے، نام کے لئے ہے۔
        پوری دنیا کی بات کریں ۔تب بھی دلوں کو قرار کہاں ہے جب نگاہ اٹھتی ہے کشمیر،سربیا،لبنا ن، شام ،عراق  ہر طرف کے حالات و واقعات سامنے ہیں پوری دنیا میں ظلم و بربریت سفاکی، آبرو ریزی ،قتل و غارت گری کے گدھ کیو ں منڈلارہے ہیں؟ امن وسکون کہاں ہے ؟ انصاف اور طمانیت اوررحم کے پودے کیوں خشک ہو گئے ہیں اور پھر جب یہ سب کچھ ہر خطے سے معدوم ہو گیا۔ امن ہتھیاروں تلے دب کر سسک سسک کر سو گیا ، انصاف کے معنی
 جانب داری کے لئے جانے لگے مسرت ، طمانیت ،ر خصت ہو چکی تو اس حالت میں کون آزاد ہے؟ کہاں آزاد ہے؟
بارش نے زور پکڑ لیا تھا ۔۔۔۔تیز ہواؤں میں بوچھار برامدے تک آکر پیر بھگورہی تھی ۔۔۔کوئی جیسے تسلّی کے حرف دل پر رکھ رہا تھا ۔۔۔جیسے یہ بوندیں نئی زندگی کی ،نئی منزلوں کی ،نئے اردوں اور نئے پُر عظم حوصلوں کو دعوت دے رہی تھی ۔۔۔جیسے کہ رہی ہو ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا ہے ۔۔۔دوستی اور صلح وآتشی لیکر سب سے گلے ملکر ایک نیا جہاں بسا نے کی جستجو کرنا ہے ۔۔۔۔سبکو ملکر اک نیا جہان بنا نا ہے ۔۔۔آگئے بڑھو اور سب ملکر ایک نئے جہان کی تشکیل میں لگ جاؤ،ابھی کچھ نہیں بگڑا ہے ۔۔دل میں کونپل سی پھوٹ رہی تھی ۔۔۔۔۔امید کی کونپل ،دوستی کی کونپل ۔
        ’’کاش ……کاش……ریموٹ میرے ہاتھ میں ہوتا‘‘
        بے ساختہ یہ جملہ میرے منہ سے نکل گیا…………
        ’’ پھر تم کیا کرتے ۔۔‘‘ارمین ابھی تک چینل سرچ کر رہی تھی ۔
        ’’میں اک ایسا چینل فکس کر دیتا جو کبھی نہ بدل سکتا۔‘‘
        ’’ کون سا چینل ؟‘‘ اس کی آنکھوں میں حیرت تھی۔
        ’’محبت، امن ،بھائی چارے اور مسرت کا ۔اک ایسی مسرت کا جو محبت کی خوشبو سے پھوٹتی ہے ، اک ایسی مسرت جو دوست کو گلے لگا کر ملتی ہے ۔ ایک ایسی مسرت جو کسی ضعیف کا ہاتھ پکڑکر سڑک پار کروانے میں ملتی ہے۔‘‘
         ارمین نے حیرت سے مجھے دیکھا …… اس نے پھر چینل چینج کیا یہاں اک اور نغمہ آ رہا تھا۔
کر چلے ہم فدا جان و تن ساتھیو
اب تمہارے حوالے وطن ساتھیو


'' عرضی ''
انجم قدوائی ۔ علی گڑھ انڈیا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تم سے بہت دور امریکہ کے اس انجان سے شہر میں اپنے گاؤ ں کی یادوں سے زخمی میرا وجود اچانک جیسے بہت بوڑھا ہوگیا ہے ۔جب میں اپنی جیب میں ہاتھ ڈالتا ہوں اور انگلیاں ایک تہہ کئے ہوئے کاغذ سے ٹکراتی ہیں تو میں سہم کر اپنا ہاتھ باہر نکال لیتا ہوں ۔۔۔۔اس بے رنگ کا غذ کے ٹکڑے میں یادوں کے ناگ چھپے بیٹھے ہیں جو لمحہ لمحہ مجھے ڈستے رہتے ہیں ۔
پچھلی بار جب کافی مشکل سے چند دن کی چھٹیاں ملیں اور میں وطن آیا تو تم سے ملنے اوراپنے گاؤں کو ایک نظر دیکھنے کو دل مچل گیا اورمیں گاؤں روانہ ہوگیا ۔راستے میں ہرے بھرے باغ اور لہلہاتے کھیتوں کو دیکھ کر میری آنکھوں کی روشنی بڑھ گئی تھی ۔۔اسٹیشن پر میری نظریں تمہیں ڈھونڈ رہی تھیں اور پھر تم مجھے نظر آئے ۔
تمہا را نرم سا چہرہ ، تانبے کی رنگت ہوگیا تھا تمہاری کالی سیاہ جگمگا تی آنکھیں حلقوں میں آکر بجھ سی گئی تھیں ۔گھنے سیاہ بال کہیں کہیں سے سفید ہو کر مجھے وقت گزر جانے کا پتہ دے رہے تھے ۔مگر پھر بھی تم ویسے ہی لمبے مضبوط اور خوش لباس تھے ۔ہاتھوں میں وہی چکنی سی لاٹھی جو تمہاری شخصیت کا خاصہ ہے چمک رہی تھی تم مجھے دیکھے جارہے تھے آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے ۔۔تمہارے وجود میں خوشی کی گنگنا ہٹ تھی ۔مجھ سے اس طرح لپٹ گئے جیسے اب کبھی جدا نہ ہوگے ۔
میں کبھی روتا نہیں ہوں مگر اسُ دن تمہاری محبّت مجھے رلاُ رہی تھی ۔۔۔نہ جانے کتنی دیر ہم ایک دوسرے سے لپٹے یوں ہی روتے رہے ۔مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ کوئی اب بھی مجھ سے اتنی محبّت کر سکتا ہے ۔
وہی بڑا سا چھپّر والا برامدہ وہی کھُلا کھُلا کچّا آنگن وہی بان کی چوڑے چوڑے پلنگ جن پر چھینٹ کی نئی چادریں میرے اعزاز میں بچھائی گئی تھیں ۔آنگن میں بنی ہوئی کیا ریوں میں پھولوں کے رنگ بکھرے ہوئے تھے اور ایک کونے میں لگا ہوا وہی پرا نا نیم کا پیڑ تن کر کھڑا تھا جسکی شاخوں پر جھول کر ہم بڑے ہوئے ۔ایک خواب ناک سا ماحول تھا جہاں میں اپنے آپ کو بھول سا گیا تھا ۔
تمہاری سانولی سلونی سی بیوی مٹّی کے چولھے پر میرے لئے آلو کے پراٹھے بنا رہی تھی اور دونوں معصوم سی لڑکیاں تخت پردستر خوان لگا رہی تھیں ۔کونے میں رکھّے گھڑے سے ٹھنڈا پانی نکال کر جب میں نے اپنے ہونٹو ں سے لگا یا تو جیسے زندہ ہو گیا ۔
زندگی تو جیسے کہیں کھو چکی تھی ۔آج یہان آکر احساس ہوا کہ میں ہوں ۔
جب ہم دونوں سر سوں کا ساگ اور آلو کے پراٹھے اچار کے ساتھ کھا رہے تھے ،بھابی میری تعریفوں سے لال ہوئی جارہی تھیں تمہارے بلند وبانگ قہقے مجھے میرے ہونے کا احساس دلا رہے تھے تب تم میری واپسی کا سنکر اُداس ہو گئے ۔
"آج ہی کیوں ؟کچھ دن رک جاؤ میرے یار ابھی تو تجھے جی بھر کے دیکھا بھی نہیں ۔۔۔۔"تمہاری آواز میں التجاء تھی ۔
"پرسوں واپسی کی فلایئٹ ہے یار ۔۔۔جا نا تو پڑے گا ۔آج کا یہ دن بڑی مشکل سے نکا لا ہے میں نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
ہم گھر سے باہر آگئے ۔ سامنے یوکلپٹس کی قطار میں چلتے ہوئے ہم ڈھیروں باتیں کر تے رہے ۔بچپن کی نہ جانے کتنی ساری یادیں میرے آس پاس کھلکھلاتی ہوئی گھوم رہی تھیں ۔شام ہونے لگی تھی ۔ہم ڈیوڑھی سے ہوتے ہوئے گھر کے اندر آگئے ۔۔۔پھر اچانک ہی تم نے میرا ہاتھ تھام لیا ۔
"میرے لئے بھی کوئی کام ڈھو نڈو یار وہاں ۔۔۔"
میری حیران نظروں کے جواب میں تم شر مندگی سے مسکرائے ۔
"دسیوں کلاس سے آگے تو پڑھ نہیں سکا تھا ۔۔تجھے تو سب معلوم ہی ہے ۔کوئی چھوٹا موٹا کام ۔۔کیسا بھی ہو ۔۔کر لوں گا یار مجھے بھی وہیں بلا لے "
"لیکن تو نوکری کرے گا ؟ تجھے نوکری کی کیا ضرورت ہے دوست ؟ سب ٹھیک ٹھاک تو ہے "
"نہیں یار اب کچھ ٹھیک نہیں ہے زمینیں مقدموں کی نظر ہوگئیں اور تو تو جانتا ہے یہ کبھی ختم نہیں ہوتے ۔لڑکیاں بڑی ہوگئی ہیں گھر کے حالات کیا بتا ؤں تجھے ۔بس کام چل رہا ہے ۔میرے لئے کوئی کام دیکھ لے ادھر ۔۔بلا لے مجھے "
تمہاری آنکھوں میں ندامت کے آنسو تھے اسی لئے آواز بھّرا رہی تھی ۔مڑ کر بھا بی کی طرف دیکھا ان کے گلابی آنچل میں آس کا اُجا لا تھا ۔
بچپن کے ڈھیر سارے دن آگے بڑھے اور ایک ایک کر کے مجھے گلے لگا نے لگے ۔
۔میں شروع ہی سے جسمانی طور سے کمزور تھا ۔اور ہمّت بھی کم تھی مجھ میں ۔جلد ٹوٹ جا یا کر تا تھا ۔ تم ہی تھے جو آگے بڑھ کر مجھے سہارا دیتے تھے ،میری طاقت بن جاتے تھے ۔ تم نے پڑھنا چھوڑ دیا مگر میرا سایہ بنے رہے ۔ہاتھ میں یہی چمکتی لاٹھی اور چہرے پر بے پناہ حوصلہ ۔مجھے اپنے حصار میں لئے رہے تم میرا غرور تھے میرے دوست میرے ساتھی ۔
۔جب با با نے میرا داخلہ شہر کے اسکول میں کر وا دیا تو تم کتنا اُداس ہوئے تھے ۔مجھ سے چھپ کر روئے بھی تھے اور جب میں شہر کے لئے روانہ ہوا ۔تم گاڑی کے ساتھ ساتھ بھاگتے ہوئے کتنی دور تک چلے آئے تھے ،تمہارے چہرے کی سر خی بتا رہی تھی کہ تم خود پر کتنا جبر کر کے مسکرا رہے ہو ۔گاؤن کے آخری موڑ تک ہاتھ ہلا یا تھا تم نے ۔
اور پھر زندگی سوکھے پتّے کی طرح مجھکو یہاں وہاں اڑائے پھری ۔
اس اجنبی دیس میں اپنے آپ کو کتنا پرا یا لگتا ہوں میں۔۔۔
بھلا تمکو کیسے بلاُ سکتا ہوں جسکے پاس اپنا کہنے کو کچھ نہیں ۔بیوی جسنے یہاں کی شہریت دلوائی اور ایک معمولی نوکری جسکا کوئی مستقبل نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم تو بے حد ریئس ہو ایک نیم کا پیڑ ایک چھپّپر تو تمہارا اپنا ہے نا ؟
میری جیب میں رکھّی ہوئی تمہاری وہ عرضی جو چلتے وقت تم نے مجھے دی تھی اسکا کاغذ دن گزرنے کے ساتھ پیلا ہو گیا ہے اور میں اس بے بسی کے بوجھ تلے بو ڑھا ہو تا جارہا ہوں 

Tuesday, October 18, 2016





میری کتاب پر مشہور ہستیوں کے دستخط اور جملے-
پروفیسر غضنفر علی
مشتاق احمد نوری
ڈائریکٹر جامیہ ملیہ اسلامیہ
پروفیسر صغیر ابراہیم
شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
پروفیسر عبدالرحیم قدوائ
ڈائریکٹر یو جی سی

"اپنی پیاری بہن کو جو آج بھی لوگوں کو باورچی خانہ بتا رہی ہیں بہت ساری دعاؤں کے ساتھ"
مجاہد قدوائ
وزیرِ مملکت اتر پردیش سرکار



"میں نے انجم قدوائ کے افسانے پڑھے' خدا ان کو مزید شہرت و مقبولیت عطا کرے"
قاضی عبدالستار


محترمہ انجم  قدوائ صاحبہ کو بہت بہت مبارک باد""
ڈاکٹر اشتیاق احمد
سماجی کارکن'لکھنو

بہت بہت مبارکباد'بہت اچھا کام کر رہی ہیں-""
عارف غوری
برطانوی صلاح کار'برٹش ہائ کمیشن'نئ دہلی
بے حد پیاری انجم  بہت بہت مبارک باد ،اللہ کرے زورِ قلم اور ز یادہ۔۔۔۔
آصف  اظہار ۔
"بہت پیاری دوست اور افسانہ نگار انجم کے لئے بہت محبتّیں ۔
ڈاکٹر افشاں ملک




Monday, August 22, 2016

عرضداشت  ۔
 تم سے بہت دور امریکہ کے اس انجان سے شہر میں اپنے گاؤ ں کی یادوں سے زخمی میرا وجود اچانک جیسے  بہت بوڑھا ہوگیا ہے ۔جب میں اپنی جیب میں ہاتھ ڈالتا ہوں اور انگلیاں ایک تہہ کئے ہوئے کاغز سے ٹکراتی ہیں تو میں سہم کر اپنا ہاتھ باہر نکال لیتا ہوں ۔۔۔۔اس بے رنگ کا غذ کے ٹکڑے میں یادوں کے ناگ چھپے بیٹھے ہیں جو لمحہ لمحہ مجھے ڈستے رہتے ہیں ۔
پچھلی بار جب کافی مشکل سے چند دن کی چھٹیاں ملیں اور میں وطن  آیا تو تم سے ملنے اوراپنے گاؤں کو ایک نظر دیکھنے کو دل مچل گیا اورمیں  گاؤں روانہ ہوگیا ۔راستے میں ہرے بھرے باغ اور لہلہاتے کھیتوں کو دیکھ کر میری آنکھوں کی روشنی بڑھ گئی تھی ۔۔اسٹیشن پر میری نظریں تمہیں ڈھونڈ رہی تھیں اور پھر تم مجھے نظر آئے ۔
تمہا را نرم سا چہرہ  ، تانبے کی رنگت ہوگیا تھا تمہاری کالی سیاہ جگمگا تی آنکھیں حلقوں میں آکر  بجھ سی گئی تھیں ۔گھنے سیاہ بال کہیں کہیں سے سفید ہو کر مجھے وقت گزر جانے کا پتہ دے رہے تھے ۔مگر پھر بھی تم ویسے ہی لمبے مضبوط اور خوش لباس تھے ۔ہاتھوں میں وہی چکنی سی لاٹھی جو تمہاری شخصیت کا خاصہ ہے چمک رہی تھی تم مجھے دیکھے جارہے تھے آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے ۔۔تمہارے وجود میں خوشی کی گنگنا ہٹ تھی ۔مجھ سے اس طرح لپٹ گئے جیسے اب کبھی جدا نہ ہوگے ۔
میں کبھی روتا نہیں ہوں مگر اسُ دن تمہاری محبّت مجھے رلاُ رہی تھی ۔۔۔نہ جانے کتنی دیر ہم ایک دوسرے سے لپٹے یوں ہی روتے رہے ۔مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ کوئی اب بھی مجھ سے اتنی محبّت کر سکتا ہے ۔
وہی بڑا سا چھپّر والا برامدہ  وہی کھُلا کھُلا کچّا آنگن وہی بان کی چوڑے چوڑے پلنگ جن پر چھینٹ کی نئی چادریں میرے اعزاز میں   بچھائی گئی تھیں ۔آنگن میں بنی ہوئی کیا ریوں میں  پھولوں کے  رنگ  بکھرے ہوئے تھے اور ایک کونے میں لگا ہوا وہی پرا نا نیم کا پیڑ تن کر کھڑا تھا جسکی شاخوں پر جھول کر ہم بڑے ہوئے ۔ایک خواب ناک سا ماحول تھا جہاں میں اپنے آپ کو بھول سا گیا تھا ۔
تمہاری سانولی سلونی سی بیوی مٹّی کے چولھے پر میرے لئے آلو کے پراٹھے بنا رہی تھی اور دونوں معصوم سی لڑکیاں تخت پردستر خوان لگا رہی تھیں ۔کونے میں رکھّے گھڑے سے ٹھنڈا پانی نکال کر جب میں نے اپنے ہونٹو ں سے لگا یا تو جیسے زندہ ہو گیا ۔
زندگی تو جیسے کہیں کھو چکی تھی ۔آج یہان آکر احساس ہوا کہ میں  ہوں ۔
جب ہم دونوں سر سوں کا ساگ اور آلو کے پراٹھے اچار کے ساتھ کھا رہے تھے ،بھابی میری تعریفوں سے لال ہوئی جارہی تھیں تمہارے بلند وبانگ قہقے مجھے میرے ہونے کا احساس دلا رہے تھے تب تم میری واپسی کا سنکر اُداس ہو گئے ۔
"آج ہی کیوں ؟کچھ دن رک جاؤ میرے یار  ابھی تو تجھے جی بھر کے دیکھا بھی نہیں ۔۔۔۔"تمہاری آواز میں التجاء تھی ۔
"پرسوں واپسی کی فلایئٹ ہے یار ۔۔۔جا نا تو پڑے گا ۔آجکا یہ دن بڑی مشکل سے نکا لا ہے میں نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
 ہم گھر سے باہر آگئے ۔ سامنے یوکلپٹس کی قطار میں چلتے ہوئے ہم ڈھیروں  باتیں کر تے رہے  ۔بچپن کی نہ جانے کتنی ساری یادیں میرے آس پاس کھلا کھلا تی ہوئی گھوم رہی تھیں ۔شام ہونے لگی تھی ۔ہم ڈیوڑھی سے ہوتے ہوئے گھر کے اندر آگئے ۔۔۔پھر اچانک ہی تم نے میرا ہاتھ تھام لیا ۔
"میرے لئے بھی کوئی کام ڈھو نڈو یار وہاں ۔۔۔"
میری حیران نظروں کے جواب میں تم شر مندگی سے مسکرائے ۔
"دسیوں کلاس سے آگے تو پڑھ نہیں سکا تھا ۔۔تجھے تو سب معلوم ہی ہے ۔کوئی چھوٹا موٹا کام ۔۔کیسا بھی ہو ۔۔کر لوں گا یار  مجھے بھی وہیں بلا لے "
"لیکن تو نوکری کرے گا ؟ تجھے نوکری کی کیا ضرورت ہے دوست ؟ سب ٹھیک ٹھاک تو ہے "
"نہیں یار اب کچھ ٹھیک نہیں ہے زمینیں مقدموں کی نظر ہوگئیں اور تو تو جانتا ہے یہ کبھی ختم نہیں ہوتے ۔لڑکیاں بڑی ہوگئی ہیں گھر کے حالات کیا بتا ؤں تجھے ۔بس کام چل رہا ہے ۔میرے لئے کوئی کام دیکھ لے ادھر ۔۔بلا لے مجھے "
تمہاری آنکھوں میں ندامت کے آنسو تھے اسی لئے آواز بھّرا رہی تھی ۔مڑ کر بھا بی کی طرف دیکھا ان کے گلابی  آنچل میں آس کا اُجا لا تھا ۔
بچپن کے ڈھیر سارے دن آگے بڑھے اور ایک ایک کر کے مجھے گلے لگا نے لگے ۔
۔میں شروع ہی سے جسمانی طور سے  کمزور تھا ۔اور ہمّت بھی کم تھی مجھ میں ۔جلد ٹوٹ جا یا کر تا تھا ۔ تم ہی تھے جو  آگے بڑھ کر مجھے سہارا دیتے تھے ،میری طاقت بن جاتے تھے ۔ تم نے پڑھنا چھوڑ دیا مگر میرا سایہ بنے رہے ۔ہاتھ میں یہی چمکتی لاٹھی اور چہرے پر بے پناہ حوصلہ ۔مجھے اپنے حصار میں لئے رہے تم  میرا غرور تھے میرے دوست میرے ساتھی ۔
۔جب با با نے میرا داخلہ شہر کے اسکول میں کر وا دیا تو تم کتنا اُداس ہوئے تھے ۔مجھ سے چھپ کر روئے بھی تھے  اور جب میں شہر کے لئے روانہ ہوا ۔تم گاڑی کے ساتھ ساتھ بھاگتے ہوئے کتنی دور تک چلے آئے تھے ،تمہارے چہرے کی سر خی بتا رہی تھی کہ تم خود پر کتنا جبر کر کے مسکرا رہے ہو ۔گاؤن کے آخری موڑ تک ہاتھ ہلا یا تھا تم نے ۔
اور پھر زندگی سوکھے پتّے کی طرح  مجھکو یہاں وہاں اڑائے پھری ۔
اس اجنبی دیس میں  اپنے آپ کو  کتنا پرا یا لگتا ہوں میں۔۔۔
بھلا تمکو کیسے بلاُ سکتا ہوں جسکے پاس اپنا کہنے کو کچھ نہیں ۔بیوی  جسنے یہاں کی شہریت دلوائی اور ایک معمولی نوکری جسکا کوئی مستقبل نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم تو بے حد ریئس ہو ایک نیم کا پیڑ ایک چھپّپر تو تمہارا اپنا ہے نا ؟
میری جیب میں رکھّی ہوئی تمہاری وہ عرضی جو چلتے وقت تم نے مجھے دی تھی اسکا کاغز دن گزرنے کے ساتھ پیلا ہو گیا ہے   اور میں اس بے بسی کے بوجھ تلے بو ڑھا ہو تا جارہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
                                          ٭٭٭٭٭٭٭


 بے نشاں ۔۔۔۔۔۔۔۔
        پاکستان ایرپورٹ پر اترتے وقت ہم سب بے پناہ خوش اورپرُ جوش  تھے۔ ایک عجیب سی مسرت ہم سب کے دلوں میں لہریں لے رہی تھی کافی عرصے بعد ہمارا یہ خواب پوراہواتھا اور ہم ساری دوستوں کا گروپ پاکستان کی سرزمین میں اترچکا تھا۔
        ہم سات دوستوں کا یہ گروپ مختلف جگہوں کی سیاحی میں مشغول تھا دارصل ہماری تقریباً ساری ہی ذمہ داریاں پوری ہو چکی تھیں بچوں کی تعلیم شادیاں اور گھر کی تکمیل اب کچھ حق تو ہماری اپنی خواہشوں کا تھا۔ ہم لوگ اپنے پورے گروپ کے ساتھ ہندوستان کے مختلف صوبوں کی سیر کرتے ہوئے اب پاکستان پہنچ  چکے تھے جو کہ اب ہمارا نہیں تھا پھر بھی ہمیں اپنا اپنا سالگتا تھا۔ویسے ہی لوگ وہی زبان وہی ہنسی ۔
        ایر پورٹ سے ہوٹل پہونچتے پہونچتے سب اپنی اپنی رائے دے رہے تھے اور ہوٹل پہنچ کرہم سب اونچی آواز میں اپنی پسند کے شہر دیکھنے کا پروگرام بنا رہے تھے ۔کسی کو کراچی دیکھنا تھا اور کسی کو لاہور دیکھنا تھا ۔ کوئی حیدرآباد سندھ دیکھنا چاہتا تھا اور کسی کوٹکسلا جانے کی پڑی تھی۔
        میں نے غور کیا کہ مسز روپا کپور کچھ خاموش سی ہیں ان کی عمر تقریباً پچپن  بر س کی ہوگی ۔وہ ہم سب میں سینیر تھیں ہم سب ان کی عزت کرتے تھے دارصل اس گروپ کی بنیاد انہوں نے ہی ڈالی تھی ہم سب تو بیچ میں آکر ان میں شامل ہوتے گئے۔
        میں نے ان سے پوچھا ۔’’آپ کو ن سی جگہ دیکھنا چاہتی ہیں ؟ روپاجی؟ ‘‘
        ’’میں پنڈی جانا چاہتی ہوں۔‘‘
        ’’پنڈی کس طرف ہے یہ کوئی چھوٹا شہر ہے یا پھر کوئی گاؤں؟‘‘
        وہ میری نادانی پر مسکرائیں اور بولیں
        ’’میرا مطلب ہے راولپنڈی ۔جو لوگ یہاں رہتے ہیں وہ اسے پنڈی ہی کہتے ہیں۔
        ’’آپ کو کیسے معلوم کیا آپ پہلے آچکی ہیں۔ ‘‘مجھے حیرت سی ہوئی وہ تھوڑی دیر خاموش مجھے دیکھتی رہیں پھر بولیں۔
        ’’میں وہیں پیدا ہوئی ہوں اور وہیں پلی بڑھی ہوں۔ ‘‘
        ان کی آواز بہت نرم اور اداس سی تھی انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ 19برس کی تھیں تب ان کی شادی ہوگئی اور وہ کیرالہ چلی گئیں اب تو ان کی زبان بھی تامل ہوگئی ہے اور وہ کھانے بھی ساؤتھ انڈین ہی بنانے لگی ہیں جیسے کہ وہ وہاں کے مقامی لوگ بولتے ہیں اور کھاتے ہیں ۔ مگر وہ ہمیشہ چاہتی تھی کہ ایک بار وہ وا پس جائیں۔اپنا  ملک اور گھر دیکھیں اور اب جاکر انہیں یہ موقعہ نصیب ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
        جب ہماری فلائٹ اسلام آبادپہونچی اور ہم سب ایرپورٹ کے باہر آئے تو سردی کی شدّت سے کانپ گئے ۔ وہاں ایسی سردی تھیں جیسی کہ کسی ہل اسٹیشن پر ہوتی ہے۔ روپا کپور نے ہمیں بتایا کہ یہ شہر بہت بعد میں بسا ہے ۔ یہ شہر تقسیمِ ملک کے وقت نہیں تھا ۔ پہاڑیوں کو کاٹ کر بسا یا گیا ہے۔ وہاں کی سڑکیں بہت چوڑی تھیں بے حد خوبصورت شاپنگ مال تھے اور بے حد حسین روزگارڈن وہاں کی زینت بڑھا رہے تھے ۔ ہم چاہ رہے تھے کہ اسلام آباد میں کچھ دن رک جائیں مگر مسز کپور راولپنڈی  جانے کے لئے بے چین تھیں۔راولپنڈی وہاں سے کافی قریب تھا مگر کوئی جانے کے لئے تیار نہ تھا۔
        میں نے خود ہی یہ فیصلہ کیا کہ مجھے ان کے ساتھ جانا چاہئے۔ وہ بہت  پرُ جوش تھیں ۔انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ چا لیس برس کے بعد اپنا گھر دیکھیں گی۔ میں نے قریب کی  فلاورشاپ سے ایک اچھا سا بکے بنوایا اور  ان سے کہا کہ وہ یہ پھول  اس گھر کے نئے مالک مکان کو دیں  ٹھیک ہے ؟وہ مسکرادیں مجھے لگا کہ وہ میرے اس خیال سے بہت خوش ہوگئیں۔
        جب ہم ٹیکسی لے کر چلے تو مسز روپا ہمیں اک گائیڈ کی طرح راستہ بتا رہی تھیں۔ اک پرانی بلڈنگ کو دیکھ کر انہوں نے بتایا کہ یہ ان کے دوست کنول دھیر کا مکان ہے اور وہ دیوالی منانے یہاں آیا کرتی تھیں۔ پورے راستے وہ مجھے ایک ایک چیز بتا رہی تھیں ایک بہت بڑی زیورات کی دوکان  دیکھ کر انہوں نے بتایا کہ یہ بہت چھوٹی سی دوکان تھی ان کے دور کے رشتے دارکی جن کا نام  سا گر تھا اور اب شاید یہ ان کے بچے چلا رہے ہوں گے۔
        راستے میں ایک بہت بڑی اور پرانی حویلی دیکھ کر وہ بے حد خوش ہوئیں۔
        ’’ یہ مقبول خان چاچاکی حویلی ہے۔ میں اپنے بچپن میں یہاں بہت کھیلی ہوں بہت بڑا باغ ہے اس حویلی کے پیچھے۔ ‘‘
        وہ اتنی زیادہ خوش تھیں کہ وہ میری طرف دیکھے بغیر ہی ساری باتیں کر رہی تھیں وہ کسی بھی بلڈنگ سے اپنی نظر ایک لمحے کے لئے بھی ہٹا نا نہیں چاہتی تھیں شائد وہ یہ سوچ رہی تھیں کہیں یہ منظر پیچھے نہ ہٹ جائے اور وہ دیکھ نہ سکیں ڈرائیور چائے پینے رک گیا تو وہ ٹیکسی سے اتر گئیں اور  میرا ہاتھ پکڑکر پیدل چلنے لگیں۔ وہ مجھے چپّہ چپّہ دکھا رہی تھیں…………
         ’’یہ دیکھو ؟ ‘‘ انہوں نے ایک دو منزلہ بے حد پُرانہ سا    مکان دکھا یا یہ میری سہیلی عارفہ  کا مکان ہے ہم  اورعارفہ یہاں کھیلتے تھے انہوں نے برابر کے پارک کی طرف اشارہ کیا ایک گھر کے سامنے وہ پھر ٹہر گئیں۔
        ’’ تمہیں پتہ ہے۔؟ ‘‘وہ میری طرف مڑیں او ر اشارے سے بتانے لگیں ۔’’یہ رتن چا چا  کا گھر ہے ایک بار مما نے مجھے کھیر کا پیالہ دے کر ان کے لئے بھیجا تھا……‘‘ وہ اک لمحہ رُکیں،
        ’’اچانک اک شخص تیزی سے چاچا کے گھر سے نکلا اور مجھ سے ٹکرا گیا…… ساری کی ساری کھیر ……گرم کھیر میرے کپڑوں پر گرگئی۔‘‘
        ’’آپ ان صاحب کو جانتی تھیں…………؟‘‘
        ’’نہیں ……اس وقت تو نہیں……وہ مسکرائیں شادی کے بعد اچھی طرح جان گئی ہوں اب وہ میرے شوہر ہیں۔‘‘
        ہم ہنستے ہوئے اور آ گے بڑھ آئے……وہ بتاتی رہیں……’’یہ اسپتال ڈیڈی کے دوست عظمت علی چا چا نے بنوایا تھا ۔اب تو بہت بڑاہے پہلے بس ایک چھوٹا سا نر سنگ ہوم تھا ۔پتہ نہیں اب اسے کون چلا رہا ہوگا ،عظمت چا چا تو بہت ضعیف تھے ۔۔۔۔شاید انکے بیٹے ۔۔۔۔یا کوئی اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
        ڈرائیور گاڑی لے کر پیچھے آرہاتھا مگر اب وہ ٹیکسی میں بیٹھنے کو ہاتھ کے اشارے سے منع کر چکی تھیں میں بھی ان کے ساتھ ساتھ ہی چل رہی تھی……اور اچانک وہ رک گئیں اور میرا ہاتھ بہت زور سے پکڑ لیا ۔
        ’’یہاں میراگھر ……‘‘
        یہ اک موڑ تھا جہاں پر اچھی خاصی پر رونق مارکٹ تھی بڑی بڑی شاپ ،ویڈیولائبریری اور شاندار ہوٹل چمک رہے تھے۔ انہوں نے رک کر چاروں طرف دیکھا ڈرائیور ٹیکسی روک کرا ترا آیا تھا۔ 
        ’’ میڈم ۔ آپ کو یقین ہے یہ ہی وہ جگہ ہے……؟‘‘
        ’’ہاں…… ہاں۔ مجھے یقین ہے ۔ میں یہاں پیدا ہوئی ہون میں نے یہا ں  اپنی زندگی کے  پندرہ برس گزارے ہیں تم یہاں نہیں پیدا ہوئے ہو۔ (انہوں نے ڈارئیور کو جھڑ ک دیا)۔ میں غلطی کیسے کر سکتی ہوں…… ‘‘انہوں نے بے چینی سے ہر طرف دیکھا عمارتوں کے پیچھے جھانکتی رہیں۔ انہیں یقین تھا کہ ان کا گھر یہیں پر ہے شاید ان نئی عمارتوں کے پیچھے چھپ گیا ہے ۔ ان کی حالت اس بچّے کی سی تھی جو دنیا کے میلے میں کہیں کھو گیا ہو…اور اپنا گھر نہ ملنے پر پریشان ہو …وہ حیران حیران سی  ادھر ادھر دیکھ رہی تھیں۔ اور بڑ بڑا رہی تھیں……’’ارے میں اپنا گھر نہیں پہچانوں گی میرا گھر…… پتہ ہے ایک بار برامد ے میں فرش بن رہا تھا…… یہاں پور ٹیکو میں…………تو میں دوڑتی ہوئی آئی اور سیمنٹ گیلی تھی تو …… گیلی سمینٹ پر میرے پیر وں کے نشان بن گئے اور پھر ڈیڈی نے اس کو ٹھیک نہیں کرنے دیا تھا، انہوں نے کہا یہ روپا کا گھر ہے اور روپا کے پیروں کے نشان اس گھر کی پہچان ہیں ۔ بالکل انٹرنس پر میرے پیروں کے نشان تھے تم دیکھنا۔‘‘ وہ اس نئی بلڈنگ کے باہر بے چین کھڑی تھیں ۔
        میں نے بڑھ کر چوکیدار سے پوچھا۔’’ یہ ہوٹل کب بنا ہے۔‘‘
         وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور بولا کوئی نو، دس   برس ہو گیا جناب۔
        ’’ تم یہاں کب سے کام کررہے ہو۔‘‘
        ’’بی بی صاحبہ جب سے یہ پرانی بلڈنگ توڑی جارہی تھی تو میں مز دور تھا پھر یہاں کام مل گیا چوکیدار کا۔‘‘
        روپا خاموش رہیں۔
        ’’کیا یہاں پر کوئی پیلے رنگ کا دو منزلہ مکان تھا…… ؟‘‘
        ’’جی ہاں یہاں پر اس طرح کی عمارت تھی…… کافی پہلے……‘‘
        ’’ اور اس کے داخلی دروازے پر پیروں کے نشان بھی تھے "؟
مجھے بھی بہت بے چینی تھی
’’بی بی صاحب وہ تو ہم نہیں جانتے ……جب وہ عمارت توڑی جارہی تھی تو……‘‘
        ’’چپ رہو……چپ ہو جاؤ ‘‘روپا زور سے چلّا ئیں اور ٹیکسی میں جاکر پچھلی سیٹ پر گرگئیں۔ چوکیدار حیرت سے مجھے دیکھ رہا تھا۔
        ’’وہ میری دوست کا مکان تھا۔ ہم انڈیا سے آئے ہیں‘‘ میں نے اس کی حیرت دور کی اور آہستہ آہستہ ٹیکسی کی طرف بڑھی ……وہ رو رہی تھیں کانپ رہی تھیں کچھ بول بھی رہی تھیں۔
        ’’ ……یہ میرا گھر ہے……میرے دادا جی نے بنا یا تھا…… یہ میری روح ہے……میرے اپنے سب یہاں پیدا ہوئے یہیں ان کی موت ہوئی یہ زمین یہ پیڑ یہ ہوا یہ پانی یہ سب ہمارا ہے۔…… بس ایک دن کوئی لائن کھینچ دیتا ہے۔
        ایک۔ صرف ایک لائن…… ایک سنگل لائن مجھے اجنبی بنادیتی ہے۔ ایک لکیر ملک کو کاٹ دیتی ہے…… دو ملک بنا دیتی ہے …… مجھے فارنر بنا دیتی ہے میں اپنی ہی زمین پر فارنر ہو گئی ، غیرملکی ہو گئی۔ کوئی سمجھ نہیں سکتا میرا دکھ میرا درد ……‘‘آنسو ان کے  رخسار پر بہ رہے تھے ۔
        میں خاموش تھی ۔ بالکل خاموش ۔میں نے انہیں تھام لیا تھا وہ کانپ رہی تھیں۔وہ ٹیکسی کی پچھلی سیٹ پر بیقرا ری سے رو رہی تھیں ۔۔میں نے انکو گلے لگا یا ۔۔۔میری آنکھیں بھی انکی بے بسی پر بھیگ رہی تھیں ۔
        اور تب میں نے دیکھا کہ وہ پھول جومیں لے کر آئی تھی میں نے بے خیالی میں روپا کی گود میں رکھ دیئے تھے ۔ گھر کی پرانی مالکن کی گود میں پھول مسکرا رہے تھے مگر وہ گھر جس کے داخلی دروازے پر ان کے قدموں کے نشان تھے وہ اب نہیں تھا…… کہیں بھی نہیں تھا……!
       














:٭ :٭



Thursday, August 18, 2016

ہم سفر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زاراقدوائی
راجستھان کے شہر کوٹہ میں میری میٹنگ تھی ۔اچانک ہی بوس نے فون کیا اور کہا "ارے بھئی اسٹیٹ لیول کی میٹنگ ہے ،تمکو جانا تو پڑے گا "
اب بیوی کو سمجھا نا تھوڑا  مشکل  ہو رہا تھا کہ جا نا بہت ضروری ہے ۔غصّہ میں تھی پھر بھی اسنے دو بنڈل پراٹھے باندھ کر ہی دم لیا ۔بولی
"وہاں اتنے سارے لوگوں کے بیچ اکیلے تھوڑی کھاؤگے "
خیر میں دو گھنٹے کے سفر کے لئے پندرہ پراٹھے اور بہت ساری ڈانٹ گھر سے لیکر چلا ۔اتنی جلدی ریزرویشن ملنا تو ناممکن تھا ،سلیپر میں کسی طرح کرنٹ بُکنگ میں چڑھ گیا ۔
کوئی خاص سامان بھی نہیں تھا بس ایک ضروری کاغذات کا بریف کیس اور ایک کھانے والا بیگ ،مجھے سائیڈ کی کھڑکی والی سیٹ ملی تو سامان سیٹ کے نیچے ہی رکھ لیا اور آرام سے بیٹھ گیا ۔
سامنے والی سیٹ خالی تھی ابھی تک اسپر کوئی نہیں آیا تھا دن کا وقت تھا اسلیئے بیٹھ کر ہی جا نا تھا ۔
کھڑکی کے باہر حسین ہر یالی پھیلی ہوئی تھی جو ابھی کچھ دن کی بارش نے اور بھی خوبصورت کر دی تھی ۔راستے میں بہت سے بچّوں نے میرے جیسے کھڑکی کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو بائے بھی کیا ۔میں مسکرا رہا تھا ،خوش تھا ۔کچھ آدھے گھنٹے کے بعد اندر نظر ڈالی تو سامنے والی سیٹ پر ایک بچّہ نظر آیا ۔یہی کوئی سات آٹھ برس کا رہا ہوگا میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے ،ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھ رہا تھا ۔میں کچھ گھبرا سا گیا اور بے ساختہ نیچے رکھّے ہوئے سامان کو دیکھنے لگا ۔مجھے نیچے دیکھتے ہوئے دیکھ کر لڑکے نے بھی فورًا وہیں دیکھا جہاں میرا سامان رکھّا ہوا تھا ۔پھر اسکے بعد ہر دس منٹ پر وہ وہیں دیکھنے لگتا ۔مجھے محسوس ہورہا تھا کہ یہ لڑکا ضرور چور ہوگا جسکی نظر مستقل میرے سامان پر ہی ہے ۔اسکے ماں باپ بھی کہیں آس پاس نظر نہیں آرہے تھے

آجکل تو ایسے بچّے ٹرین میں اسی غرض سے آکر بیٹھ جاتے ہیں ۔مجھے بیگ میں رکھّے پرا ٹھوں کی بھی فکر تھی کہ اگر یہ بچّہ وہی بیگ اٹھا لے گیا تب بھی میرا تو بڑا نقصان ہوجائے گا یہی سب سوچتے سوچتے  جب کوٹہ اسٹیشن نزدیک  آگیا تو اس بچّے نے پھر نیچے کی طرف دیکھا ۔اس بار بنا جھجھکے میں نے اپنا بیگ اور بریف کیس نکال کر اپنے پاس سائیڈ میں رکھ لیا ۔
مجھے اپنی اس جیت پر بڑا فخر محسوس ہورہا تھا ۔
دس منٹ گزرے ہونگے جب کوٹہ شہر کا اسٹیشن آگیا  تب کہیں سے ایک عورت میلے کپڑے پہنے ہوئے میرے پیچھے سے نکل کر آگے آئی اور بچّے سے بولی
"چل آجا ۔۔۔۔آگیا کوٹہ "اس بچّے کے چہرے پر ایک عجیب سی چمک آگئی اسنے فورًا جھک کر سیٹ کے نیچے سے دو ننھی ننھی چمکتی ہوئی گلابی چپلیں نکا لیں اور انکو پہن کر اپنی ماں کے پیچھے بھاگا ۔۔
اور میں اپنا بریف کیس اور بیگ ہاتھ میں لیئے ہوئے ،پانچ منٹ تک اس رُکی ہوئی ٹرین میں اپنی جگہ پر کھڑا رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!