Monday, August 22, 2016

 بے نشاں ۔۔۔۔۔۔۔۔
        پاکستان ایرپورٹ پر اترتے وقت ہم سب بے پناہ خوش اورپرُ جوش  تھے۔ ایک عجیب سی مسرت ہم سب کے دلوں میں لہریں لے رہی تھی کافی عرصے بعد ہمارا یہ خواب پوراہواتھا اور ہم ساری دوستوں کا گروپ پاکستان کی سرزمین میں اترچکا تھا۔
        ہم سات دوستوں کا یہ گروپ مختلف جگہوں کی سیاحی میں مشغول تھا دارصل ہماری تقریباً ساری ہی ذمہ داریاں پوری ہو چکی تھیں بچوں کی تعلیم شادیاں اور گھر کی تکمیل اب کچھ حق تو ہماری اپنی خواہشوں کا تھا۔ ہم لوگ اپنے پورے گروپ کے ساتھ ہندوستان کے مختلف صوبوں کی سیر کرتے ہوئے اب پاکستان پہنچ  چکے تھے جو کہ اب ہمارا نہیں تھا پھر بھی ہمیں اپنا اپنا سالگتا تھا۔ویسے ہی لوگ وہی زبان وہی ہنسی ۔
        ایر پورٹ سے ہوٹل پہونچتے پہونچتے سب اپنی اپنی رائے دے رہے تھے اور ہوٹل پہنچ کرہم سب اونچی آواز میں اپنی پسند کے شہر دیکھنے کا پروگرام بنا رہے تھے ۔کسی کو کراچی دیکھنا تھا اور کسی کو لاہور دیکھنا تھا ۔ کوئی حیدرآباد سندھ دیکھنا چاہتا تھا اور کسی کوٹکسلا جانے کی پڑی تھی۔
        میں نے غور کیا کہ مسز روپا کپور کچھ خاموش سی ہیں ان کی عمر تقریباً پچپن  بر س کی ہوگی ۔وہ ہم سب میں سینیر تھیں ہم سب ان کی عزت کرتے تھے دارصل اس گروپ کی بنیاد انہوں نے ہی ڈالی تھی ہم سب تو بیچ میں آکر ان میں شامل ہوتے گئے۔
        میں نے ان سے پوچھا ۔’’آپ کو ن سی جگہ دیکھنا چاہتی ہیں ؟ روپاجی؟ ‘‘
        ’’میں پنڈی جانا چاہتی ہوں۔‘‘
        ’’پنڈی کس طرف ہے یہ کوئی چھوٹا شہر ہے یا پھر کوئی گاؤں؟‘‘
        وہ میری نادانی پر مسکرائیں اور بولیں
        ’’میرا مطلب ہے راولپنڈی ۔جو لوگ یہاں رہتے ہیں وہ اسے پنڈی ہی کہتے ہیں۔
        ’’آپ کو کیسے معلوم کیا آپ پہلے آچکی ہیں۔ ‘‘مجھے حیرت سی ہوئی وہ تھوڑی دیر خاموش مجھے دیکھتی رہیں پھر بولیں۔
        ’’میں وہیں پیدا ہوئی ہوں اور وہیں پلی بڑھی ہوں۔ ‘‘
        ان کی آواز بہت نرم اور اداس سی تھی انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ 19برس کی تھیں تب ان کی شادی ہوگئی اور وہ کیرالہ چلی گئیں اب تو ان کی زبان بھی تامل ہوگئی ہے اور وہ کھانے بھی ساؤتھ انڈین ہی بنانے لگی ہیں جیسے کہ وہ وہاں کے مقامی لوگ بولتے ہیں اور کھاتے ہیں ۔ مگر وہ ہمیشہ چاہتی تھی کہ ایک بار وہ وا پس جائیں۔اپنا  ملک اور گھر دیکھیں اور اب جاکر انہیں یہ موقعہ نصیب ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
        جب ہماری فلائٹ اسلام آبادپہونچی اور ہم سب ایرپورٹ کے باہر آئے تو سردی کی شدّت سے کانپ گئے ۔ وہاں ایسی سردی تھیں جیسی کہ کسی ہل اسٹیشن پر ہوتی ہے۔ روپا کپور نے ہمیں بتایا کہ یہ شہر بہت بعد میں بسا ہے ۔ یہ شہر تقسیمِ ملک کے وقت نہیں تھا ۔ پہاڑیوں کو کاٹ کر بسا یا گیا ہے۔ وہاں کی سڑکیں بہت چوڑی تھیں بے حد خوبصورت شاپنگ مال تھے اور بے حد حسین روزگارڈن وہاں کی زینت بڑھا رہے تھے ۔ ہم چاہ رہے تھے کہ اسلام آباد میں کچھ دن رک جائیں مگر مسز کپور راولپنڈی  جانے کے لئے بے چین تھیں۔راولپنڈی وہاں سے کافی قریب تھا مگر کوئی جانے کے لئے تیار نہ تھا۔
        میں نے خود ہی یہ فیصلہ کیا کہ مجھے ان کے ساتھ جانا چاہئے۔ وہ بہت  پرُ جوش تھیں ۔انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ چا لیس برس کے بعد اپنا گھر دیکھیں گی۔ میں نے قریب کی  فلاورشاپ سے ایک اچھا سا بکے بنوایا اور  ان سے کہا کہ وہ یہ پھول  اس گھر کے نئے مالک مکان کو دیں  ٹھیک ہے ؟وہ مسکرادیں مجھے لگا کہ وہ میرے اس خیال سے بہت خوش ہوگئیں۔
        جب ہم ٹیکسی لے کر چلے تو مسز روپا ہمیں اک گائیڈ کی طرح راستہ بتا رہی تھیں۔ اک پرانی بلڈنگ کو دیکھ کر انہوں نے بتایا کہ یہ ان کے دوست کنول دھیر کا مکان ہے اور وہ دیوالی منانے یہاں آیا کرتی تھیں۔ پورے راستے وہ مجھے ایک ایک چیز بتا رہی تھیں ایک بہت بڑی زیورات کی دوکان  دیکھ کر انہوں نے بتایا کہ یہ بہت چھوٹی سی دوکان تھی ان کے دور کے رشتے دارکی جن کا نام  سا گر تھا اور اب شاید یہ ان کے بچے چلا رہے ہوں گے۔
        راستے میں ایک بہت بڑی اور پرانی حویلی دیکھ کر وہ بے حد خوش ہوئیں۔
        ’’ یہ مقبول خان چاچاکی حویلی ہے۔ میں اپنے بچپن میں یہاں بہت کھیلی ہوں بہت بڑا باغ ہے اس حویلی کے پیچھے۔ ‘‘
        وہ اتنی زیادہ خوش تھیں کہ وہ میری طرف دیکھے بغیر ہی ساری باتیں کر رہی تھیں وہ کسی بھی بلڈنگ سے اپنی نظر ایک لمحے کے لئے بھی ہٹا نا نہیں چاہتی تھیں شائد وہ یہ سوچ رہی تھیں کہیں یہ منظر پیچھے نہ ہٹ جائے اور وہ دیکھ نہ سکیں ڈرائیور چائے پینے رک گیا تو وہ ٹیکسی سے اتر گئیں اور  میرا ہاتھ پکڑکر پیدل چلنے لگیں۔ وہ مجھے چپّہ چپّہ دکھا رہی تھیں…………
         ’’یہ دیکھو ؟ ‘‘ انہوں نے ایک دو منزلہ بے حد پُرانہ سا    مکان دکھا یا یہ میری سہیلی عارفہ  کا مکان ہے ہم  اورعارفہ یہاں کھیلتے تھے انہوں نے برابر کے پارک کی طرف اشارہ کیا ایک گھر کے سامنے وہ پھر ٹہر گئیں۔
        ’’ تمہیں پتہ ہے۔؟ ‘‘وہ میری طرف مڑیں او ر اشارے سے بتانے لگیں ۔’’یہ رتن چا چا  کا گھر ہے ایک بار مما نے مجھے کھیر کا پیالہ دے کر ان کے لئے بھیجا تھا……‘‘ وہ اک لمحہ رُکیں،
        ’’اچانک اک شخص تیزی سے چاچا کے گھر سے نکلا اور مجھ سے ٹکرا گیا…… ساری کی ساری کھیر ……گرم کھیر میرے کپڑوں پر گرگئی۔‘‘
        ’’آپ ان صاحب کو جانتی تھیں…………؟‘‘
        ’’نہیں ……اس وقت تو نہیں……وہ مسکرائیں شادی کے بعد اچھی طرح جان گئی ہوں اب وہ میرے شوہر ہیں۔‘‘
        ہم ہنستے ہوئے اور آ گے بڑھ آئے……وہ بتاتی رہیں……’’یہ اسپتال ڈیڈی کے دوست عظمت علی چا چا نے بنوایا تھا ۔اب تو بہت بڑاہے پہلے بس ایک چھوٹا سا نر سنگ ہوم تھا ۔پتہ نہیں اب اسے کون چلا رہا ہوگا ،عظمت چا چا تو بہت ضعیف تھے ۔۔۔۔شاید انکے بیٹے ۔۔۔۔یا کوئی اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
        ڈرائیور گاڑی لے کر پیچھے آرہاتھا مگر اب وہ ٹیکسی میں بیٹھنے کو ہاتھ کے اشارے سے منع کر چکی تھیں میں بھی ان کے ساتھ ساتھ ہی چل رہی تھی……اور اچانک وہ رک گئیں اور میرا ہاتھ بہت زور سے پکڑ لیا ۔
        ’’یہاں میراگھر ……‘‘
        یہ اک موڑ تھا جہاں پر اچھی خاصی پر رونق مارکٹ تھی بڑی بڑی شاپ ،ویڈیولائبریری اور شاندار ہوٹل چمک رہے تھے۔ انہوں نے رک کر چاروں طرف دیکھا ڈرائیور ٹیکسی روک کرا ترا آیا تھا۔ 
        ’’ میڈم ۔ آپ کو یقین ہے یہ ہی وہ جگہ ہے……؟‘‘
        ’’ہاں…… ہاں۔ مجھے یقین ہے ۔ میں یہاں پیدا ہوئی ہون میں نے یہا ں  اپنی زندگی کے  پندرہ برس گزارے ہیں تم یہاں نہیں پیدا ہوئے ہو۔ (انہوں نے ڈارئیور کو جھڑ ک دیا)۔ میں غلطی کیسے کر سکتی ہوں…… ‘‘انہوں نے بے چینی سے ہر طرف دیکھا عمارتوں کے پیچھے جھانکتی رہیں۔ انہیں یقین تھا کہ ان کا گھر یہیں پر ہے شاید ان نئی عمارتوں کے پیچھے چھپ گیا ہے ۔ ان کی حالت اس بچّے کی سی تھی جو دنیا کے میلے میں کہیں کھو گیا ہو…اور اپنا گھر نہ ملنے پر پریشان ہو …وہ حیران حیران سی  ادھر ادھر دیکھ رہی تھیں۔ اور بڑ بڑا رہی تھیں……’’ارے میں اپنا گھر نہیں پہچانوں گی میرا گھر…… پتہ ہے ایک بار برامد ے میں فرش بن رہا تھا…… یہاں پور ٹیکو میں…………تو میں دوڑتی ہوئی آئی اور سیمنٹ گیلی تھی تو …… گیلی سمینٹ پر میرے پیر وں کے نشان بن گئے اور پھر ڈیڈی نے اس کو ٹھیک نہیں کرنے دیا تھا، انہوں نے کہا یہ روپا کا گھر ہے اور روپا کے پیروں کے نشان اس گھر کی پہچان ہیں ۔ بالکل انٹرنس پر میرے پیروں کے نشان تھے تم دیکھنا۔‘‘ وہ اس نئی بلڈنگ کے باہر بے چین کھڑی تھیں ۔
        میں نے بڑھ کر چوکیدار سے پوچھا۔’’ یہ ہوٹل کب بنا ہے۔‘‘
         وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور بولا کوئی نو، دس   برس ہو گیا جناب۔
        ’’ تم یہاں کب سے کام کررہے ہو۔‘‘
        ’’بی بی صاحبہ جب سے یہ پرانی بلڈنگ توڑی جارہی تھی تو میں مز دور تھا پھر یہاں کام مل گیا چوکیدار کا۔‘‘
        روپا خاموش رہیں۔
        ’’کیا یہاں پر کوئی پیلے رنگ کا دو منزلہ مکان تھا…… ؟‘‘
        ’’جی ہاں یہاں پر اس طرح کی عمارت تھی…… کافی پہلے……‘‘
        ’’ اور اس کے داخلی دروازے پر پیروں کے نشان بھی تھے "؟
مجھے بھی بہت بے چینی تھی
’’بی بی صاحب وہ تو ہم نہیں جانتے ……جب وہ عمارت توڑی جارہی تھی تو……‘‘
        ’’چپ رہو……چپ ہو جاؤ ‘‘روپا زور سے چلّا ئیں اور ٹیکسی میں جاکر پچھلی سیٹ پر گرگئیں۔ چوکیدار حیرت سے مجھے دیکھ رہا تھا۔
        ’’وہ میری دوست کا مکان تھا۔ ہم انڈیا سے آئے ہیں‘‘ میں نے اس کی حیرت دور کی اور آہستہ آہستہ ٹیکسی کی طرف بڑھی ……وہ رو رہی تھیں کانپ رہی تھیں کچھ بول بھی رہی تھیں۔
        ’’ ……یہ میرا گھر ہے……میرے دادا جی نے بنا یا تھا…… یہ میری روح ہے……میرے اپنے سب یہاں پیدا ہوئے یہیں ان کی موت ہوئی یہ زمین یہ پیڑ یہ ہوا یہ پانی یہ سب ہمارا ہے۔…… بس ایک دن کوئی لائن کھینچ دیتا ہے۔
        ایک۔ صرف ایک لائن…… ایک سنگل لائن مجھے اجنبی بنادیتی ہے۔ ایک لکیر ملک کو کاٹ دیتی ہے…… دو ملک بنا دیتی ہے …… مجھے فارنر بنا دیتی ہے میں اپنی ہی زمین پر فارنر ہو گئی ، غیرملکی ہو گئی۔ کوئی سمجھ نہیں سکتا میرا دکھ میرا درد ……‘‘آنسو ان کے  رخسار پر بہ رہے تھے ۔
        میں خاموش تھی ۔ بالکل خاموش ۔میں نے انہیں تھام لیا تھا وہ کانپ رہی تھیں۔وہ ٹیکسی کی پچھلی سیٹ پر بیقرا ری سے رو رہی تھیں ۔۔میں نے انکو گلے لگا یا ۔۔۔میری آنکھیں بھی انکی بے بسی پر بھیگ رہی تھیں ۔
        اور تب میں نے دیکھا کہ وہ پھول جومیں لے کر آئی تھی میں نے بے خیالی میں روپا کی گود میں رکھ دیئے تھے ۔ گھر کی پرانی مالکن کی گود میں پھول مسکرا رہے تھے مگر وہ گھر جس کے داخلی دروازے پر ان کے قدموں کے نشان تھے وہ اب نہیں تھا…… کہیں بھی نہیں تھا……!
       














:٭ :٭



No comments:

Post a Comment