Thursday, August 18, 2016

ہم سفر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زاراقدوائی
راجستھان کے شہر کوٹہ میں میری میٹنگ تھی ۔اچانک ہی بوس نے فون کیا اور کہا "ارے بھئی اسٹیٹ لیول کی میٹنگ ہے ،تمکو جانا تو پڑے گا "
اب بیوی کو سمجھا نا تھوڑا  مشکل  ہو رہا تھا کہ جا نا بہت ضروری ہے ۔غصّہ میں تھی پھر بھی اسنے دو بنڈل پراٹھے باندھ کر ہی دم لیا ۔بولی
"وہاں اتنے سارے لوگوں کے بیچ اکیلے تھوڑی کھاؤگے "
خیر میں دو گھنٹے کے سفر کے لئے پندرہ پراٹھے اور بہت ساری ڈانٹ گھر سے لیکر چلا ۔اتنی جلدی ریزرویشن ملنا تو ناممکن تھا ،سلیپر میں کسی طرح کرنٹ بُکنگ میں چڑھ گیا ۔
کوئی خاص سامان بھی نہیں تھا بس ایک ضروری کاغذات کا بریف کیس اور ایک کھانے والا بیگ ،مجھے سائیڈ کی کھڑکی والی سیٹ ملی تو سامان سیٹ کے نیچے ہی رکھ لیا اور آرام سے بیٹھ گیا ۔
سامنے والی سیٹ خالی تھی ابھی تک اسپر کوئی نہیں آیا تھا دن کا وقت تھا اسلیئے بیٹھ کر ہی جا نا تھا ۔
کھڑکی کے باہر حسین ہر یالی پھیلی ہوئی تھی جو ابھی کچھ دن کی بارش نے اور بھی خوبصورت کر دی تھی ۔راستے میں بہت سے بچّوں نے میرے جیسے کھڑکی کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو بائے بھی کیا ۔میں مسکرا رہا تھا ،خوش تھا ۔کچھ آدھے گھنٹے کے بعد اندر نظر ڈالی تو سامنے والی سیٹ پر ایک بچّہ نظر آیا ۔یہی کوئی سات آٹھ برس کا رہا ہوگا میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے ،ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھ رہا تھا ۔میں کچھ گھبرا سا گیا اور بے ساختہ نیچے رکھّے ہوئے سامان کو دیکھنے لگا ۔مجھے نیچے دیکھتے ہوئے دیکھ کر لڑکے نے بھی فورًا وہیں دیکھا جہاں میرا سامان رکھّا ہوا تھا ۔پھر اسکے بعد ہر دس منٹ پر وہ وہیں دیکھنے لگتا ۔مجھے محسوس ہورہا تھا کہ یہ لڑکا ضرور چور ہوگا جسکی نظر مستقل میرے سامان پر ہی ہے ۔اسکے ماں باپ بھی کہیں آس پاس نظر نہیں آرہے تھے

آجکل تو ایسے بچّے ٹرین میں اسی غرض سے آکر بیٹھ جاتے ہیں ۔مجھے بیگ میں رکھّے پرا ٹھوں کی بھی فکر تھی کہ اگر یہ بچّہ وہی بیگ اٹھا لے گیا تب بھی میرا تو بڑا نقصان ہوجائے گا یہی سب سوچتے سوچتے  جب کوٹہ اسٹیشن نزدیک  آگیا تو اس بچّے نے پھر نیچے کی طرف دیکھا ۔اس بار بنا جھجھکے میں نے اپنا بیگ اور بریف کیس نکال کر اپنے پاس سائیڈ میں رکھ لیا ۔
مجھے اپنی اس جیت پر بڑا فخر محسوس ہورہا تھا ۔
دس منٹ گزرے ہونگے جب کوٹہ شہر کا اسٹیشن آگیا  تب کہیں سے ایک عورت میلے کپڑے پہنے ہوئے میرے پیچھے سے نکل کر آگے آئی اور بچّے سے بولی
"چل آجا ۔۔۔۔آگیا کوٹہ "اس بچّے کے چہرے پر ایک عجیب سی چمک آگئی اسنے فورًا جھک کر سیٹ کے نیچے سے دو ننھی ننھی چمکتی ہوئی گلابی چپلیں نکا لیں اور انکو پہن کر اپنی ماں کے پیچھے بھاگا ۔۔
اور میں اپنا بریف کیس اور بیگ ہاتھ میں لیئے ہوئے ،پانچ منٹ تک اس رُکی ہوئی ٹرین میں اپنی جگہ پر کھڑا رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

No comments:

Post a Comment