Friday, October 20, 2017

تعارف

تعارف
نام ۔انجم قدوائی
سکونت ۔علی گڑھ ۔یوپی ۔انڈیا
والد کا نام ضیغم علی خاں
وطن ۔یوپی کا ایک چھوٹا سا گاوں بہار پور ۔
تعلیم ۔بی ۔اے ۔آنرز
مختلف ڈپلومہ ۔
شوق ۔معیاری کتابیں پڑھنا اور افسانے لکھنا ۔باغبانی  کرنا ۔موسیقی سننا ۔
ایک افسانوں کا مجموعہ شائع ہوا ۔ریت کا ماضی ۔
مختلف رسائیل میں افسانے شائع ہوئے ۔
کا فی عر صے تک ق ۔انجم کے نام سے افسانے کی شروعات کی مگر قارین کے تجّسس سے مجبور ہو کر اپنے پورے نام انجم قدوائی سےافسانے  لکھنے لگی ۔گزشتہ تیس پینتیس سال سے ہِند و بیرون ِ ہند میرے افسانے مختلف رسائل میں شائع ہوتے رہے ہیں ۔اور آخر کار اس سال ان سب کو مجتمع کر کے "ریت کا ماضی "افسانوں کا مجموعہ شائع ہوا

فالتو لڑکی

فالتو لڑکی ۔
کچھ کہا نیاں اور کچھ  ڈرامے پاس سے نکلتے چلے جاتے ہیں ۔مگر کچھ ایسے  بھی ہوتے ہیں جو ہاتھ پکڑ کر پاس بٹھا  لیتے ہیں اور جب تک بات ختم نہ ہوجائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ہاتھ چھوڑتے نہیں ۔بس کچھ ایسی ہی کہانی ہے  اس ڈرامے  "فالتو  لڑ کی " کی ۔۔۔۔۔۔
میں اسوقت کئی ڈرامے  یو ٹیوب پر ایک ساتھ دیکھ رہی تھی  صبح کوئی اور شام کو کوئی اور مگر جب سے  فالتو لڑکی دیکھنا شروع کیا سارے  ڈرامے دیکھنا بند کر دیا ۔۔کہیں اور دل ہی نہیں لگتا تھا ۔
پہلی قسط سے لیکر آخری قسط تک اس
اس  طرح مجھے اس کہانی نے  تھام رکھّا تھا کہ تین روز میں 28 قسطیں دیکھ ڈالیں ۔دلچسپی پہلی قسط سے ہی شروع ہو تی ہے  ۔وہ ایک لڑکی جو ہندوستان سے لائی گئی  اسکے لیئے سبکے خیالات  جان کر دلی  رنج ہوا ۔ کیونکہ مجھے معلوم ہے  وہاں لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ ہم سب  ہندوؤں کے ملک میں ہیں تو ہمارے خیالات ہندوا نا ہی ہونگے ۔۔شاید لوگوں کو یہ اندازہ نہیں کہ یہاں صرف ہندو نہیں ۔سکھ ۔عیسائی ۔پارسی ۔بدھشٹ ۔اور بھی کئی  مذہب کے لوگ رہتے ہیں ۔۔ہاں ہندو بھی ۔۔
لیکن ہر ایک اپنے مذہب  کو دل سے ، شدتّ سے  محسوس کر کے  اس پر قائم ہیں ۔۔ے  
اس لڑکی کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ نارمل تھا ۔۔جہاں حالات بہتر ہوں  اور نہ ہونے کی امید ہو ۔وہاں اضافی خرچ کون کر تا ہے ؟ اگر یہاں بھی کسی کے گھر ایسی کوئی  بے آسرا لڑکی آجائے تو یہی سلوک ہوگا ۔
باقی کر دار بھی اپنی اپنی جگہ بہت موضوع ہیں ۔جسکو جو بھی رول ملا اسنے دیا نت داری سے نبھا یا ۔خواہ وہ  اس  مشترکہ گھر کی خواتین اور مرد ہوں یا معظم جاہ کی  فیملی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
تابش کی فیمیلی بھی بے حد روائیتی اور  بے جا  مذہبی   دکھائی گئی اور سب سے اچھّی بات یہ لگی کہ ہر خاندان میں  الگ روائیتیں رہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ جن کو وہاں کے کرداروں نے بخوبی نبھایا ۔ ذاتی طور پر مجھے روپا کا کردار نبھا نے والی لڑکی ۔۔(جسے کئی ڈراموں میں ہیروین کے  رول میں دیکھ چکی ہوں )کا  م بے حد پسند آیا ۔یہ آسان رول نہیں تھا بہت چیلنجنگ  رول تھا ۔اسکے علاوہ زارقہ  کا کام بھی بہت اچھّا لگا ۔ایک  فرما بردار روائیتی بیوی ، بچوں کی اچھّی تر بیت کرنے والی ماں ، اور دکھے دل والی عورت   ،بہت عمدہ  نبھایا ہے ۔
اس فالتو لڑکی کی  کم ہمتی کے باوجود اتنا بڑا قدم اٹھا لینا ۔۔زبر دست انقلاب  لاتا ہے جسکی امید شروع سے ہر گز نہیں تھی ۔اور سب سے اچھّی  بات یہ تھی کہ پورے ڈرامے میں تجسس  بر قرار رہا ۔بالکل نہیں معلوم تھا کہ اگلی قسط کیا لیکر آئے گی ۔۔یہ بات ڈرامے کی   کامیا  بی کی ضما نت ہے ۔کہانی میں جہاں تجسس بر قرار رہتا ہے وہاں قاری  سانسیں روکے بیٹھا رہتا ہے اور جن ڈراموں میں کہانی دو یا تین   قسط کے بعد کھلنے لگتی ہے وہیں دلچسپی  ختم ہوجاتی ہے ۔
بہت عمدہ  تحریر ۔عمدہ ڈائیرکشن ۔اور لاجواب  اسکرین پلے  ہے ۔۔میں سمجھتی ہوں کہ کافی عرصے کے بعد اتنا  عمدہ ڈرامہ دیکھا ہے ۔حسینہ معین کے  ڈرامے دیکھنے کے بعد کوئی بھی  پلے ابتک مجھے  باندھ نہیں سکا ۔مصنف  اور ڈائیریکٹر ،اسکرین پلے لکھنے والوں کے لیئے بہت مبارکباد ،
سارے آرٹسٹ  مبارکباد کے  قابل ہیں  بلکہ قابل ِ ستائش ہیں ۔
اگر اس ٹیم کا کوئی اور بھی ڈرامہ ہوتو مہر بانی فر ما کر مجھے ضرور  بتا ئیں ۔۔۔

Wednesday, October 18, 2017

'میر وسیم کی باتیں ''
تحریر: میر وسیم 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر لمحے کا اپنا خُدا هوتا هے ، 
جب آپ کو اُونچی عمارتوں اور مضبُوط قلعوں میں بهی پناہ نہ مِل سکے تو ، اُونچی عِمارتوں کے پِیچهے جهونپڑیوں کے دروازے کُهلے مِلیں گے ،
هم لوگ کبهی کبهی زندگی کو شرمندہ کرنے کے لئے ضُرورت سے زیادہ بهی خُوش هوتے ہیں ، آپ اُس شخص کو کیا کہیں گئے جِس کا وجُود تو مندر میں گهنٹیاں بجاتا هے مگر رُوح مسجد میں سجدہ کرتی هے ،
پنچهی کے بغیر پنجرے کی کوئی قیمیت نہیں هوتی ،
هم لوگ دُنیا کے قید خانے میں آزادی کا جشن منا رہیں ہیں ،
ہر لہر ساحلِ سمندر پر آ کر سمندر کی مُخبری کرتی هے ،
آئینہ انسان سے کہتا هے کہ تُم بُزدل هو ، انسان اعتراف کرتا هے ، دونوں اِس راز کو چُهپا لیتے ہیں ، میں نے جب تنہائی کو رونق کی رشوت دی تو تنہائی نے نا قابلِ یقیں بیاں دے ڈالے ، صحرا کے خواب میں پهُول ہی پهُول ، برسات ہی برسات ، خیال کا قحط کوئی بڑی بات نہیں ، احساس کا قحط باعثِ ندامت هے
آج کے انسان کے پاس خُود دُعا کرنے کا بهی وقت نہیں رہا ، وہ ضُرورت کی اور بہت سی چیزوں کے ساتھ دُعا کو بهی خرید لینا چاهتا هے ، خیر خریدنا تو انسان خُدا کو بهی چاهتا هے مگر وہ بِکتا نہیں ، جس کو پایا ہی نہیں ، اُسے کهونے کا ڈر کیسا ؟ دل دهرکتا هے ، ڈرتا هے ، مگر کرتا وہی هے جو چاهتا هے ، میری رُوح نے مُجهے بتایا کہ تُو میرا دُوسرا جِسم هے ،
میں نے کہا ،
ہمارے مُعاشرے میں انگریزی یا تو کتوں کے ساتھ بولی جاتی هے ، یا بزرگوں کے ساتھ ، بڑا حیران هوئے کہنے لگے نہ جانے هم بزرگوں کے ساتھ اُونچی آواز میں بات کیوں کرتے ہیں ، ایک ہی بات کو بار بار کیوں دہراتے ہیں ، جیسے وہ نہ سمجھ یا بہرے هوں ، جبکہ بُڑهاپے میں تنہائی کی بدولت سر گوشیاں بهی صاف سُنائی دیتی ہیں .
میر وسیم کا افسانہ ( منٹُو یار افسانہ پڑھ ) سے اقتباس

Wednesday, October 11, 2017

ماہ ،تمام ۔۔میر وسیم

 

''
ماہ تمام ''
معززاراکین فورم
سوشل میڈیا کے سب سے بڑے اور معتبر ترین ایونٹ عالمی افسانہ میلہ ( 2017 ) کو کامیاب بنانے میں صدرِ محفِل ، معزز مہمانان ، تخلیق کار خواتین و حضرات اور قارئین نے جس طرح اپنا حصہ ڈالا اس کے لیے ہم آپ سب کے تہہ دل سے شکرگزار ہیں ۔ آپ کی بھرپور شرکت کے بغیر اس قدر شاندار ایونٹ کروانا ممکن نہ هوتا ، اُردُو ادب میں افسانہ نگاری کی روایت بہت پُرانی هے ، ابتدا سے اب تک اِس فن نے طویل مُسافت طے کی هے ، ارتقائی منازل طے کرتے هوئے مغربی ادب سے استفادہ بهی کِیا اور ایک تسلسل سے ترقی کی هے ، ایک مخصوص تہذیبی پس منظر کی وجہ سے اختلاف عین فطری عمل هے ، لیکن ایک بات پر ادیب اور نقاد مُتفق ہیں کہ وہ شاعری هو یا فنِ افسانہ نگاری ادب مُعاشرے میں بے اعتدالیوں اورنا ہمواریوں سے جنم لیتا هے ، اورلکهنے والا اِس فنی شعُور کی پختگی اور بیان کی خُوش اسلوبی کو فن کا رُوپ دے کر دوام بخشتا هے ، اِس تخلیقی عمل کا مقصد اصلاح اور آسُودگی هوتا هے ، افسانہ نگاری کے ارتقاء میں جہاں ادیبوں کے فنی شعُور اور کاوشوں کا دخل هے وہاں بذات خُود اِس صنف میں ترقی کرنے کی صلاحیت موجُود هے ۔
عالمی افسانہ فورم نے دُنیا بهر کے افسانہ نگاروں کو صبر اور برداشت کا درس دینا چاها هے ، تا کہ سِیکهنے اور سِیکهانے کی فضا قائم رهے ، لمحہِ فِکریہ یہ هے کہ ، پهر اُسی بندُوق کی نالی هے میری سِمت کہ جو اِس سے پہلے بهی میری شہہ رگ کا لہو چاٹ چُکی ، کتنے افسانے ہماری نظر سے گُذرے ہیں ، لکهنے والا عُجلت کا شِکار نظر آیا ، پهر قاری سے نقاد سے ، تبصرہ نگار سے کیا شِکوہ کرنا ، اگر آپ اپنی تحریر کو خُود تنقیدی نگاہ سے دیکهتے ، تو اِن لوگوں کو بُرا بننے کی کیا ضرُورت تهی ، میں نے پہلے بهی کہیں کہا تها کہ ( ادب سو مِیٹر کی دوڑ نہیں هے ) آپ نے کبهی کسی بچے کو کہانی سُنائی هے ؟ وہ کہانی کے دوران بہت سے سوال پُوچهتا هے ، قاری بهی بچے کی طرح هوتا هے ، افسانہ پڑهتے هُوئے کئی سوال قاری کے دماغ میں آتے ہیں ، جِس کا جواب بہرحال داستان گو کو دینا هوتا هے ، لہذا لکهنے والے کو چاهیئے کہ نہ صِرف یہ کہ وہ اپنی کہانی بیان کرئے بلکہ ساتھ ساتھ قاری کے دماغ میں اُٹهنے والے سوالوں کا جواب بهی اپنی تحریر میں ( یعنی افسانے میں ) دیتا رهے ، یاد رکهیئے کہ قاری لکهنے والے سے دو قدم آگے هوتا هے ۔
عالمی افسانہ فورم اور اُس کے ایڈمنز اور معتبر تبصرہ نگار آپ کو آئینہ دکها سکتے ہیں ، آپ کی تحریر میں کیا کمی هے وہ بتا سکتے ہیں ، تا کہ آپ اپنی تحریر کو بہتر بنا سکیں ، مگرآپ کا ردِ عمل ہمیں یہ سوچنے پر مجبُور کرتا هے ، کہ هم نے اُن لوگوں کو آئینہ کیوں دِکهایا ؟ جِن کا چہرہ ہی نہیں هے ، زمانہ بدل گیا هے ، ایک وقت تها کہ اُستادوں کے جُوتے سیدهے کرنے پر فخر کِیا جاتا تها ، اُن کے گهر کا پانی بهرا جاتا تها ، پهر کہیں جا کر گیان مِلتا تها ، اُستاد کے پاس خزانہ هو نہ هو ، خزانے تک پہنچنے کا نقشہ ضرُور هوتا هے ، آج چاهے اُستاد نامی گرامی پہلوان کو خُود نہ گِرا سکتا هو ، مگر آپ کو گِرانے کا گُر بتا سکتا هے ، ہارنے والے کے پاس جِیت کے راز هوتے ہیں ، وہ شمع جو رات بهر جلتی رہی ، صُبح کا سُورج اُس سے آنکھ نہیں مِلا سکتا ، هم لوگ اپنی روایت کے قاتل ہیں ، ہمیں سزا ملنی چاهیئے ، کیونکہ شاگرد اپنی کمزور تحریر پر اُستاد سے بد کلامی کر رها هے ،
؎ ایک تو خواب لیئے پِهرتے هو گلیوں گلیوں 
اُس پر تکرار بهی کرتے هو خرِیدار کے ساتھ 
همارا مُعاشرہ تو بیمار هے اور یہ کیسے مُمکن هے کہ ایک بِیمار ٹہنی پر صحت مند گُلاب کِهلے ، لکهنے والے کی یہ عُجلت نہیں تو اور کیا هے ؟ اُردُو زبان میں ایک لفظ کے چار چار مُتبادل هونے کے باوجُود جلد بازی میں انگریزی کے لفظ استمال کر جاتے ہیں ، ایک لمحے کو بهی اُردُو زبان کے خزانے پر نظر نہیں ڈالتے ، گلزار نےکہا کہ 
؎ فقیری میں نوابی کا مزہ دیتی هے اُردُو 
کسی لکهنے والے نے دستک کو نوک لکها ، کہاں دستک ؟ دستک جب آپ لکهتے ہیں تو ایسا معلُوم هوتا هے کہ جیسے کوئی دروازے پر کهڑا هے اور دستک دے رها هے ، نوک پر تو دروازہ بهی کهولنے کو دل نہیں کرتا ، اِسی طرح جب آپ بانسُری لکهتے ہیں تو وہ بجنے بهی لگتی هے ، پائل ، چُوڑیاں ، اپنی مثال آپ ہیں ، قوسِ قزح لکهنے پر جو رنگ سامنے آتے ہیں وہ رین بو میں نمایاں نہیں هوتے ، جہاں مُصنف کی یہ عُجلت باعثِ ندامت هے وہاں لمحہِ فِکریہ بهی ، لکهنے والا موضوع کی بنجر زمیں پر اپنی سوچ کا ہل چلاتا هے ، کتنے افسوس کی بات هے کہ جب زمین هموار هو جاتی هے تو اُس کے پاس بونے کو لفظوں کے خُوبصُورت بِیج نہیں هوتے ، مانگے هوے زیور پہننے سے مُجهے نفرت هے ، میں اپنی خاک اپنی پوشاک پر فخر کرتا هُوں ، 
دُنیا کا کوئی بهی کاریگر اپنے اوزار کے بغیر کام نہیں کر سکتا ، کوئی بهی مصور رنگوں کے بغیر تصویر نہیں بنا سکتا ، تو پهر لکهنے والا بهی نہیں لکھ سکتا جب تک اُس کے پاس لفظوں کا ذخیرہ نہ هو ، یاد رهے کہ عالمی افسانہ فورم ایک درسگاہ هے ، جہاں هم ایک دُوسرے سے سِیکهتے ہیں ، هم لکهنے والوں کا قبیلہ ایک هے ، شوق ایک هے ، میدان ایک هے ، جنگ ایک هے ، تو پهر هم ایک دُوسرے سے سیکهتے کیوں نہیں ، آپ کا اِسلوب اچها هے ، تو مُجهے آپ سے سِیکهنا چاهیے ، اُسکا بیانیہ اچها هے ، تو آپ اُس کے بیانیہ سے سیکهنے میں شرم محُسوس نہ کریں ۔
خاندان کے لوگوں میں لین دین توچلتا ہی هے مُجهے اچهی طرح یاد هے کہ بچپن میں سکول جاتے هوے هم چاروں بهائی تیار هوتے ایک دُوسرے کی بڑی مدد کرتے تهے ، میں اپنی قمیض کے بٹن اُوپر نیچے لگاتا تها ، دُوسرے بهائی بٹن تو ٹهیک لگاتے مگر اُن کو ٹائی باندهنے میں مسئلہ تها ، اور جو بهائی ٹائی باندهنے میں ماهر تهے وہ بُوٹ کے تسمے باندهنے میں مہارت نہ رکهتے تهے ، هم ایک دُوسرے کی بڑی مدد کرتے تهے هم سب نے ایک دُوسرے سے سِیکها ، تو یہاں کیوں نہیں ، میں ادب اور سنجیدگی کے باہمی اور گہرے رشتے کا پوری سنجیدگی سے قائل ہوں، اسی لیے سمجھتا ہوں کہ اعلیٰ ادب میں جس چیز کو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ ہم محسوس کرتے ہیں، وہ اعلیٰ سطح کی سنجیدگی ہے۔ ادب میں سنجیدگی سے مُراد ہے ایک ذمہ دارانہ اور باشعور رویّے کا اظہار۔ یہ اظہار موضوع کے انتخاب میں بھی ہوتا ہے، اُس کے ٹریٹمنٹ کے مرحلے میں بھی ہوتا ہے، اسلوبِ بیان کے ذریعے بھی ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں اس رویّے کا اظہار لفظیات میں اور متن کے سانچے میں بھی ہوتا ہے اور اس کے ساتھ معنی کی سطح پر بھی ہوتا ہے۔ یہی نہیں، بلکہ اس سے آگے معنی کے معنی میں بھی اس کا اظہار ہوتا ہے ۔
همیں ایک دُوسرے سے بس یہ ہی سیکهنا هے ، اس میلہ میں جس طرح آپ سب نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ، تجزیوں اور تبصروں میں شریک ہوئے ۔ اپنے افسانے پیش کیے ۔ اور اس میلہ کو کامیاب بنایا اس کے لیے عالمی افسانہ فورم کی انتظامیہ آپ سب کی بے حد شکرگزار هے ، میں نے کہا تها کہ ، سِلسلہ ٹُوٹا نہیں هے درد کی زنجیر کا ، عالمی افسانہ فورم اپنے سارے رنگ آپ پر نِچهاور کر کے اب چلا هے نئے اُفق کی تلاش میں ، کہ هم اپنا امریکہ خُود دریافت کرتے ہیں ، میر وسیم

میر وسیم کا حرف ِ درمیان



https://scontent.fagr1-1.fna.fbcdn.net/v/t1.0-1/p80x80/21557505_10155036439914786_4880862740253308246_n.jpg?oh=63c1edbd7bb23b0ec301f2a94402c970&oe=5A3C9BBC
Saima Shah
حرفِ درمیان ............. تحریر ، میر وسیم
عجب نہیں کہ میرے لفظ مُجهے معاف کر دیں ..........
خلیل جبران نے کہا کہ ، خاموش رهو یا ایسی بات کرو جو خاموشی سے بہتر هو ، سب سے پہلے تو ہم اپنے معزز مہمانوں ، میلہ میں شامل افسانہ نگاروں اور عام قارئین کے نہایت شکرگزار ہیں کہ وہ اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں سے وقت نکال کر اس میلہ کو رونق بخش رہیں ہیں ، جہاں زمانے نے اپنی ترجِحات بدلی ہیں ، وہاں زمانہ غریب سے غریب تر هو گیا هے ، زمانہ جہاں اپنوں سے بات کرانا ، آسان سے آسان تر بناتا جا رها هے ، وہاں اپنوں سے بات کرنا مُشکل سے مُشکل تر هو گیا هے ، اب یہ کہنے میں کیا شرم کہ رِشتوں کی محفِل میں هم تنہا هو گئے ہیں ، بلکہ اپنی ذات میں بهی تنہا هو گئے ہیں ، مگر خُود سے رابطہ بحال کرنا ضرُوری هوتا هے ، لہذا لکهنے والا خُود کو خط لِکهتا هے ، وہ خط افسانہ کہلاتا هے ، لکهتے رہیئے ، کیونکہ لکهتے رہنا دهڑکتے دل کی علامت هے ، میں جانتا هُوں کہ ایسے حالات میں لکهنا بہت مُشکل هے ، کاغذِ غم پر بوجهل قلم بوجهل دل سے خُوشی کا گِیت لکهنا مُشکل هے ، جہاں حالاتِ زندگی ، ضرُوریاتِ زندگی ، مُصرُوفِیاتِ زندگی لکهنے نہیں دیتے ، وہاں ، خیالاتِ زندگی ، تصوراتِ زندگی ، توقعات ِ زندگی ، خیراتِ زندگی ، آپ کو لکهنے پر مجبُور کرتے ہیں ، وہ تحریر جو آپ کو سوچنے پر مجبُور نہ کرے ، وہ نا پخت هے ، جو تحریر آپ کی سوچ کے دروازے وا نہ کرے کمزور هے ، اپنے دل کی آواز نہ سُننا ، ایک بہت بڑا جُرم هے ، دل وہ بچہ جسے هم نے سچ بولنے پر ، اپنی ذات کے قید خانے میں ڈال دیا ، دل وہ بچہ جو گهر کی قیمیتی چِیز ٹُوٹنے پر گهر میں لگے بهاری پردوں کے پِیچهے جا چُهپا ، دل وہ بچہ جو ارمانوں کے قتل هونے کا چشم دِید گواہ هے ، سو ساری کی ساری دُنیا اُس چشم دِید گواہ کو مِٹانے میں لگی هے ، لہذا لکهنے والا اپنا دریا ، اپنی کشتی ، اپنا کِنارا خُود بناتا هے ، اُس کی تحریر ، اُس کی تصوارتی دُنیا هے اُس کی جائےِ پناہ هے ، وہ دُنیا میں لگے پردوں کے پِیچهے خُود کو چُهپا لیتا هے ، صاحبو ، زندگی انسان کا بہت مذاق اُڑاتی هے ، جب هم زندگی کے سانچے میں ڈهلنے لگتے هیں ، تو یہ اپنا آپ بدل لیتی هے ، اور اُس رُخ پر پڑی نظر آتی هے کہ جس رُخ پرهم اِس سے بہت مُختلف نظر آتے هیں ، جب هم زندگی کو ہتهیلی پر رکهے، موت کی خُواہش میں در بدر بهٹکتے هیں اور زندگی کی خیرات لوٹا دینا چاهتے هیں ، تو زندگی اُس وقت بڑی شان بے نیازی سے آگے بڑھ جاتی هے ....... اور جب هم تهک هار کرآخر جینے کا فیصلہ کر لیتے هیں زندگی پر حق جِتانے لگتے هیں ، زندگی کی ضرورت محسُوس کرنے لگتے هیں ، زندگی کو اپنا سمجهنے لگتے هیں .....زندگی کی خیرات سے کچھ استمعال کرنے لگتے هیں ، تو اُس وقت زندگی اپنا رنگ دِکهاتی هے اور شانِ بے نیازی کو جُهٹلاتے هوے کم ظرف بن جاتی هے .... اور زندگی کی خیرات ایک ایسے وقت پر چهین لیتی هے جب اُس کی اشد ضرُورت هوتی هے ، یہ مذاق نہیں تو اور کیا هے ؟؟؟
فورم کی انتظامیہ افسانے کے اُجڑے شہر کو بسانے میں کوشاں هے ، عالمی افسانہ فورم لکهنے والوں کے راستے میں پهُول بِچهائے نہ بِچهائے مگر اُن کی راہ کے کانٹے ضرور کم کرتا هے ، هم لوگ یہاں بِلا مُعاوضہ اپنی خِدمات پیش کر رهے ہیں ، خُدا کے عظیم نظام کی طرح ، هوا انسان کی زندگی کے لیے پہلی شرط هے ، مُفت هے ، پانی مُفت هے ، سُورج کی روشنی مُفت هے ، چاند کی چاندنی مُفت هے ، رات میں ستاروں کا مُسکرانا مُفت هے ، زندگی کے سارے کهیل ختم هو جانے کے لیئے ہیں ، آپ نے کبهی رگبئی کهیل دیکها هے ، کیسے سارے کے سارے کهلاڑی ایک ہی گیند کے پِیچهے ، مارے مارے ، بهاگے بهاگے پِهرتے ہیں ، جائز نا جائز کر کے اپنا اپنا گول کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، مگر کهیل کے اختتام پر وہی گیند گراونڈ پر تنہا پڑا رہ جاتا هے ، زندگی کا سفر بهی ایسا ہی هے ، آپ یہ سوچئے کہ آپ نے وقتی جِیت کے لیئے کسی کو زخمی تو نہیں کِیا ، انسان کا حساس هونا اُس کی عظمت کی پہچان هے ، سب کچھ ختم هو جائے گا دوستو ، رہ جائے گا لکها هوا لفظ ، مُجهے ایسا کیوں لگتا هے کہ ہمیں کتاب کی طرف لوٹ کر آنا هے ، افتخار عارف نے فرمایا کہ ، ( عجب گهڑی تهی کتاب کِیچڑ میں گِر پڑی تهی ) چمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں الُجھے آنسو بلا رھے تھے ، مگر مجھے ھوش ھی کہاں تھا ، نظر میں ایک اور ھی جہاں تھا ، نئے نئے منظروں کی خواھش میں اپنے منظر سے کٹ گیا ھوں ...... نئے نئے دائروں کی گردش میں اپنے محور سے ھٹ گیا ھوں ...... صلہ ، جزا ، خوف ، نا امیدی ، امید ، امکان ، بے یقینی ، ھزار خانوں میں بٹ گیا ھوں ،
اب اس سے پہلے کہ رات اپنی کُمند ڈالے ، یہ چاھتا ھوں کہ لوٹ جاوُں ،
عجب نہیں کہ وہ کتاب اب بھی وہیں پڑی ھو .... عجب نہیں کہ آج بھی میری راہ دیکھتی ھو .... عجب نہیں کہ میرے لفظ مُجهے معاف کر دیں ..........
کتاب آج بهی آپ کی راہ دیکھ رهی هے ، کتاب کی طرف لوٹ جاو دوستو ، وہ اب بهی وہیں پڑی هے ، تمہاری راہ دیکهتی هے ، عالمی افسانہ فورم اور اُس کے ایڈمنز کا بس یہ ہی پیغام هے ، ، ہم اپنے معزز مہمانوں ، میلہ میں شامل افسانہ نگاروں اور عام قارئین کے نہایت شکرگزار ہیں کہ وہ اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں سے وقت نکال کر اس میلہ کو رونق بخش رہے ہیں ، انتظامیہ عالمی افسانہ فورم


میر وسیم کی باتیں



https://scontent.fagr1-1.fna.fbcdn.net/v/t1.0-1/p80x80/21557505_10155036439914786_4880862740253308246_n.jpg?oh=63c1edbd7bb23b0ec301f2a94402c970&oe=5A3C9BBC
Saima Shah
حرفِ درمیان ............. تحریر ، میر وسیم
عجب نہیں کہ میرے لفظ مُجهے معاف کر دیں ..........
خلیل جبران نے کہا کہ ، خاموش رهو یا ایسی بات کرو جو خاموشی سے بہتر هو ، سب سے پہلے تو ہم اپنے معزز مہمانوں ، میلہ میں شامل افسانہ نگاروں اور عام قارئین کے نہایت شکرگزار ہیں کہ وہ اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں سے وقت نکال کر اس میلہ کو رونق بخش رہیں ہیں ، جہاں زمانے نے اپنی ترجِحات بدلی ہیں ، وہاں زمانہ غریب سے غریب تر هو گیا هے ، زمانہ جہاں اپنوں سے بات کرانا ، آسان سے آسان تر بناتا جا رها هے ، وہاں اپنوں سے بات کرنا مُشکل سے مُشکل تر هو گیا هے ، اب یہ کہنے میں کیا شرم کہ رِشتوں کی محفِل میں هم تنہا هو گئے ہیں ، بلکہ اپنی ذات میں بهی تنہا هو گئے ہیں ، مگر خُود سے رابطہ بحال کرنا ضرُوری هوتا هے ، لہذا لکهنے والا خُود کو خط لِکهتا هے ، وہ خط افسانہ کہلاتا هے ، لکهتے رہیئے ، کیونکہ لکهتے رہنا دهڑکتے دل کی علامت هے ، میں جانتا هُوں کہ ایسے حالات میں لکهنا بہت مُشکل هے ، کاغذِ غم پر بوجهل قلم بوجهل دل سے خُوشی کا گِیت لکهنا مُشکل هے ، جہاں حالاتِ زندگی ، ضرُوریاتِ زندگی ، مُصرُوفِیاتِ زندگی لکهنے نہیں دیتے ، وہاں ، خیالاتِ زندگی ، تصوراتِ زندگی ، توقعات ِ زندگی ، خیراتِ زندگی ، آپ کو لکهنے پر مجبُور کرتے ہیں ، وہ تحریر جو آپ کو سوچنے پر مجبُور نہ کرے ، وہ نا پخت هے ، جو تحریر آپ کی سوچ کے دروازے وا نہ کرے کمزور هے ، اپنے دل کی آواز نہ سُننا ، ایک بہت بڑا جُرم هے ، دل وہ بچہ جسے هم نے سچ بولنے پر ، اپنی ذات کے قید خانے میں ڈال دیا ، دل وہ بچہ جو گهر کی قیمیتی چِیز ٹُوٹنے پر گهر میں لگے بهاری پردوں کے پِیچهے جا چُهپا ، دل وہ بچہ جو ارمانوں کے قتل هونے کا چشم دِید گواہ هے ، سو ساری کی ساری دُنیا اُس چشم دِید گواہ کو مِٹانے میں لگی هے ، لہذا لکهنے والا اپنا دریا ، اپنی کشتی ، اپنا کِنارا خُود بناتا هے ، اُس کی تحریر ، اُس کی تصوارتی دُنیا هے اُس کی جائےِ پناہ هے ، وہ دُنیا میں لگے پردوں کے پِیچهے خُود کو چُهپا لیتا هے ، صاحبو ، زندگی انسان کا بہت مذاق اُڑاتی هے ، جب هم زندگی کے سانچے میں ڈهلنے لگتے هیں ، تو یہ اپنا آپ بدل لیتی هے ، اور اُس رُخ پر پڑی نظر آتی هے کہ جس رُخ پرهم اِس سے بہت مُختلف نظر آتے هیں ، جب هم زندگی کو ہتهیلی پر رکهے، موت کی خُواہش میں در بدر بهٹکتے هیں اور زندگی کی خیرات لوٹا دینا چاهتے هیں ، تو زندگی اُس وقت بڑی شان بے نیازی سے آگے بڑھ جاتی هے ....... اور جب هم تهک هار کرآخر جینے کا فیصلہ کر لیتے هیں زندگی پر حق جِتانے لگتے هیں ، زندگی کی ضرورت محسُوس کرنے لگتے هیں ، زندگی کو اپنا سمجهنے لگتے هیں .....زندگی کی خیرات سے کچھ استمعال کرنے لگتے هیں ، تو اُس وقت زندگی اپنا رنگ دِکهاتی هے اور شانِ بے نیازی کو جُهٹلاتے هوے کم ظرف بن جاتی هے .... اور زندگی کی خیرات ایک ایسے وقت پر چهین لیتی هے جب اُس کی اشد ضرُورت هوتی هے ، یہ مذاق نہیں تو اور کیا هے ؟؟؟
فورم کی انتظامیہ افسانے کے اُجڑے شہر کو بسانے میں کوشاں هے ، عالمی افسانہ فورم لکهنے والوں کے راستے میں پهُول بِچهائے نہ بِچهائے مگر اُن کی راہ کے کانٹے ضرور کم کرتا هے ، هم لوگ یہاں بِلا مُعاوضہ اپنی خِدمات پیش کر رهے ہیں ، خُدا کے عظیم نظام کی طرح ، هوا انسان کی زندگی کے لیے پہلی شرط هے ، مُفت هے ، پانی مُفت هے ، سُورج کی روشنی مُفت هے ، چاند کی چاندنی مُفت هے ، رات میں ستاروں کا مُسکرانا مُفت هے ، زندگی کے سارے کهیل ختم هو جانے کے لیئے ہیں ، آپ نے کبهی رگبئی کهیل دیکها هے ، کیسے سارے کے سارے کهلاڑی ایک ہی گیند کے پِیچهے ، مارے مارے ، بهاگے بهاگے پِهرتے ہیں ، جائز نا جائز کر کے اپنا اپنا گول کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، مگر کهیل کے اختتام پر وہی گیند گراونڈ پر تنہا پڑا رہ جاتا هے ، زندگی کا سفر بهی ایسا ہی هے ، آپ یہ سوچئے کہ آپ نے وقتی جِیت کے لیئے کسی کو زخمی تو نہیں کِیا ، انسان کا حساس هونا اُس کی عظمت کی پہچان هے ، سب کچھ ختم هو جائے گا دوستو ، رہ جائے گا لکها هوا لفظ ، مُجهے ایسا کیوں لگتا هے کہ ہمیں کتاب کی طرف لوٹ کر آنا هے ، افتخار عارف نے فرمایا کہ ، ( عجب گهڑی تهی کتاب کِیچڑ میں گِر پڑی تهی ) چمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں الُجھے آنسو بلا رھے تھے ، مگر مجھے ھوش ھی کہاں تھا ، نظر میں ایک اور ھی جہاں تھا ، نئے نئے منظروں کی خواھش میں اپنے منظر سے کٹ گیا ھوں ...... نئے نئے دائروں کی گردش میں اپنے محور سے ھٹ گیا ھوں ...... صلہ ، جزا ، خوف ، نا امیدی ، امید ، امکان ، بے یقینی ، ھزار خانوں میں بٹ گیا ھوں ،
اب اس سے پہلے کہ رات اپنی کُمند ڈالے ، یہ چاھتا ھوں کہ لوٹ جاوُں ،
عجب نہیں کہ وہ کتاب اب بھی وہیں پڑی ھو .... عجب نہیں کہ آج بھی میری راہ دیکھتی ھو .... عجب نہیں کہ میرے لفظ مُجهے معاف کر دیں ..........
کتاب آج بهی آپ کی راہ دیکھ رهی هے ، کتاب کی طرف لوٹ جاو دوستو ، وہ اب بهی وہیں پڑی هے ، تمہاری راہ دیکهتی هے ، عالمی افسانہ فورم اور اُس کے ایڈمنز کا بس یہ ہی پیغام هے ، ، ہم اپنے معزز مہمانوں ، میلہ میں شامل افسانہ نگاروں اور عام قارئین کے نہایت شکرگزار ہیں کہ وہ اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں سے وقت نکال کر اس میلہ کو رونق بخش رہے ہیں ، انتظامیہ عالمی افسانہ فورم