Tuesday, December 6, 2016

روٹی اور گلاب ۔۔۔۔
"باجی روٹی دے دو ۔۔۔۔۔" وہ پھر آج صبح صبح دروازے پر آکھڑی ہوئی ۔میلا کچیلا سا شلوار سوٹ بالوں کی میلی لٹیں چہرے پر بکھری ہوئی ،تیرہ ،چودہ برس کا سِن ،ذہین معصوم آنکھیں ۔اور یہ لا چاری ۔
ایک دفعہ تو مینے بھی منع کر دیا تھا ۔
"جاؤ ابھی روٹی نہیں پکّی ۔۔۔"وہ سر جھکا ئے اگلے گھر کی طرف مڑ گئی مگر مجھے اچانک بے حد رنج ہوا کچھ اور دید یتی ۔بسکٹ یا ڈ بل روٹی کچھ بھی ۔۔۔۔روز تو نہیں آتی تھی وہ۔۔۔۔۔۔ محلّہ میں اکثر لو گوں نے منع کیا تھا کہ یہ لڑ کیاں چور ہوتی ہیں کبھی گھر کے اندر نہ بلایئے گا ۔آنکھو ں کا کاجل چراتی ہیں  آپکو پتہ بھی نہیں چلے گا ،اپنا کام کر جائینگی ۔
آج جب وہی آواز پھر سنائی دی
"باجی روٹی ۔۔۔۔۔"تو ایک لڑکی اور ساتھ کھڑی تھی ۔۔۔۔
"اچھّا ایسا کرو ۔۔یہ زینہ کے ساتھ بہت کو ڑا ہے جھاڑو لے لو اور دونوں ملکر یہاں صفائی کردو پھر لے جا نا روٹی ۔۔۔۔۔"
گھر کے پیچھے کا دروازہ کھول کر مینے جھاڑو دینے کے لئےاندر بلا یا ۔وہ اندر آئی تو گملے دیکھنے لگی ۔۔۔ساتھ والی لڑکی سے بولی
"دیکھ کیسا بڑا سا گلاب کا پھول ہے ۔۔۔"وہ دونوں دوسرے پھو لوں پر بھی تبصرہ کر تی جارہی تھیں ۔مینے جھاڑو دیکر انہیں باہر بھیجا اور خود بھی کچھ دیر ان گلا بوں کو دیکھتی رہی  ۔
کا فی در تک دونوں ملکر صفائی کر تی رہیں ۔مینے ایک پو لیتھین میں کئی روٹیاں اور رات کا سالن لپیٹ کر رکھ دیا پھر دس روپیے بھی ساتھ ہی رکھ دیے ۔وہ بڑی دلجئی سے صافا ئی میں جٹی ہو ئی تھی مینے غور سے اسکا چہرہ دیکھا بھولا سا چہرہ ،گو را رنگ جو کہ دھبوّں اور میل کی وجہ سے کم ہی نظر آرہا تھا ،میلے میلے ہاتھ پاؤں  جمپر کی آستیں پھٹ کر لٹک رہی تھی ۔پرا نا سا کڑھائی والا کر تا  شلوار جو کسی نے از راہ ِ ہمدردی دیا ہوگا ۔
اسے بھی پھول اچھّے لگتے ہیں ؟؟ کتنی خوشی سے کہہ رہی تھی وہ ۔
کو ئی بات نہیں میرے پاس تو بہت سارے پھول ہیں یہ گلاب اسکو دے دونگی ۔مینے بڑی احتیاط سے گلاب کو شاخ کے ساتھ نکا لا ۔وہ پیچھے جھا ڑو رکھنے آئی ۔

"یہ لو ۔۔۔۔" مینے گلاب کا بڑا سا سر خ پھول اسکی طرف بڑھا یا ۔اسکا چہرہ خطر ناک حد تک سفید ہو گیا ۔۔۔
"ہمکو روٹی دے دو باجی ۔۔۔۔" وہ ہکلائی ۔۔مینے دوسرے ہاتھ میں لیا ہوا پولیتھین اگے کیا ،اسنے جھپٹ کر پو لیتھین میرے ہاتھ سے لیا اور بھاگتی ہوئی  باہر نکل گئی ۔
اور میں گلاب کا پھول انگلیوں میں تھامے کھڑی ہوں ۔۔کہتے ہیں دُکھ غیب کی آنکھیں کھول دیتے ہیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

No comments:

Post a Comment