انجم
قدوائی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
''ھا ئیڈ پا رک کے ذرد پتّے ''
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
''ھا ئیڈ پا رک کے ذرد پتّے ''
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اداسی
کی ایک تیز لہر میرے دل کو کاٹ رہی تھی اور میں پناہ لینے کے لیئے ادھر ادھر چکّر
لگا رہا تھا ۔پارک اس وقت ویران تھا ۔لندن کے اس پارک کی خا صیت اس کے درخت اور ان
کے بڑے اور سنہرے پتّے ہیں ۔اسکے علاوہ وہیں سڑک پر پا رک کے جنگلے سے لگا کر ایک
آرٹسٹ اپنی پینٹنگس سجا لیا کر تا تھا ۔پا رک کے بیچو ں بیچ ایک مصنو عی تا لاب
بنا یا گیا ہے جس میں رنگ بر نگی بطخیں تیر تی رہتی ہیں ۔جی ہا ں ۔۔۔رنگ برنگی ۔۔۔
پہلی
بار جب مینے انھیں دیکھا تو مجھے بھی بیحد حیرت ہوئی تھی لیکن میں نے انھیں ان کی
خوراک ( جو کہ ڈبّے میں وہیں پر ملتی ہے ) دینے کے لیئے پا س بلایا تو وہ پھڑ پھڑا
تی ہوئی قریب آگئیں اور میں قد رت کا یہ نظا رہ دیکھ کر حیران ہو ا ۔۔۔یہ سارے رنگ
حقیقی تھے جسطرح تتلی کے پر ۔۔۔۔۔اس دن مجھے ان بطّخو ں کو کھا نا کھلا کر بہت
اچھا لگا کہ میں روز بلا نا غہ وہا ں آتا اور تا لاب کے کنا رے بیٹھ کر انھیں
دیکھتا رہتا ،کھلا تا رہتا ۔ایک عجیب سا سکون اور اپنا یئت تھی اس ما حول میں شا
ید با غوں کھیتو ں تا لا بو ں کو چھو ڑ کر آنے سے میں اپنی جڑو ں سے کٹ کر رہ گیا
تھا ۔اور یہی وجہ تھی کہ پارک کے ،اس پر
سکون گو شہ میں بیٹھ کر مجھے سب کچھ یا د کر نے کا کا فی وقت مل جاتا ۔
اکثر میں ان سنہرے بڑے بڑے پتّو ں کو اکٹھا کر تا رہتا اور سو چتا کہ جب میں واپس اپنے وطن جاؤنگا تو یہ سارے پتّے تمنّا کو دونگا وہ بہت ذیادہ خوش ہو گی ۔
اکثر میں ان سنہرے بڑے بڑے پتّو ں کو اکٹھا کر تا رہتا اور سو چتا کہ جب میں واپس اپنے وطن جاؤنگا تو یہ سارے پتّے تمنّا کو دونگا وہ بہت ذیادہ خوش ہو گی ۔
تمنّا
میر ی چھو ٹی بہن کا نام ہے وہ پر اسرار حد تک آرٹسٹک ہے ۔رنگو ں اور خوبصورت پتّو
ں ،رنگ بر نگّے پرو ں کو جمع کر نے والی میر ی پیا ری تمنّا ۔۔۔۔۔۔
مگر جب اس درمیان میری دوستی لو سی سے ہو گئی ۔۔۔۔۔۔میرے پاس ہا یئڈ پارک کے لیئے وقت بہت کم رہ گیا ۔
لو سی سے میری ملا قات با رش میں بھیگتے ہوئے سڑک پر ہوئی تھی ۔وہ سڑک کچھ ڈھلوان تھی اور میں ہمیشہ کی طر ح پیدل ،چھتری شاید اسکے پاس بھی نہیں تھی جبکہ وہاں کے مو سم کا تقا ضہ یہی ہے کہ چھتری ہمیشہ ساتھ رکھنی چا ہیئے۔دراصل صبح سے مو سم با لکل صا ف تھا ، دھوپ چمک رہی تھی ۔میں اسی کا ہلی میں بغیر چھتری لیئے نکل پڑا ۔۔۔۔۔۔اور اچا نک زوردار تیز با رش شروع ہو گئی۔
مگر جب اس درمیان میری دوستی لو سی سے ہو گئی ۔۔۔۔۔۔میرے پاس ہا یئڈ پارک کے لیئے وقت بہت کم رہ گیا ۔
لو سی سے میری ملا قات با رش میں بھیگتے ہوئے سڑک پر ہوئی تھی ۔وہ سڑک کچھ ڈھلوان تھی اور میں ہمیشہ کی طر ح پیدل ،چھتری شاید اسکے پاس بھی نہیں تھی جبکہ وہاں کے مو سم کا تقا ضہ یہی ہے کہ چھتری ہمیشہ ساتھ رکھنی چا ہیئے۔دراصل صبح سے مو سم با لکل صا ف تھا ، دھوپ چمک رہی تھی ۔میں اسی کا ہلی میں بغیر چھتری لیئے نکل پڑا ۔۔۔۔۔۔اور اچا نک زوردار تیز با رش شروع ہو گئی۔
ہا ں
تو بات ڈھلان کی تھی اچا نک لو سی کا پیر لڑ کھڑایا یہ شرارت اسکی اونچی ہیل والی
سینڈل کی تھی ،وہ نا رنجی شاخ کی طرح میری با ہو ں میں آگئی اسکا چہرہ تمتما رہا
تھا ۔۔۔سلیقے سے کٹے ہوئے بال اسکے چہرے پر پھیل رہے تھے کتّھئی آنکھو ں میں اک
عجیب سی چمک تھی ۔ میرا فلیٹ وہیں قریب ہی تھا اس نے میری پیشکش نہیں ٹھکرائی اور میرے
ساتھ گھر آگئی ۔
سجا یا خوبصورت فلیٹ دیکھ کروہ حیران رہ گئی ۔اسکی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔۔۔کہا ں سڑک پر پیدل چلنے والا معمولی سا ہندوستانی ،اور کہا ں یہ شاندار فلیٹ ؟ مینے بھی کو ئی صفائی نہیں دی ۔
یہ ہماری پہلی ملا قات تھی ۔۔پھر وہ مجھے اکثر ملنے لگی اور ہماری دوستی میں ذیادہ دیر نہیں لگی ۔
اکثر وہ اپنے کام سے دو پہر کو فا رغ ہو کر میر ے فلیٹ پر آجاتی اور میرا انتظار کر تی ،ایک ذائد چا بی بنوانا تو میرا فر ض تھا وہ میری "اچھی " دوست جو تھی ۔
سجا یا خوبصورت فلیٹ دیکھ کروہ حیران رہ گئی ۔اسکی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔۔۔کہا ں سڑک پر پیدل چلنے والا معمولی سا ہندوستانی ،اور کہا ں یہ شاندار فلیٹ ؟ مینے بھی کو ئی صفائی نہیں دی ۔
یہ ہماری پہلی ملا قات تھی ۔۔پھر وہ مجھے اکثر ملنے لگی اور ہماری دوستی میں ذیادہ دیر نہیں لگی ۔
اکثر وہ اپنے کام سے دو پہر کو فا رغ ہو کر میر ے فلیٹ پر آجاتی اور میرا انتظار کر تی ،ایک ذائد چا بی بنوانا تو میرا فر ض تھا وہ میری "اچھی " دوست جو تھی ۔
اس دن
جب میں گھر آیا تو وہ کچن میں کچھ کھٹ پٹ کر رہی تھی شا ید ابھی ابھی نہا کر آئی
تھی باتھ روم کا دروازہ بھی کھلا ہو اتھا ۔۔۔باہر مو سم بہت اچھا تھا میر ا اردہ
تھا کہ اسکو لیکر کہیں گھو منے جاؤنگا اسی لیئے اپنے دوست سے کار بھی مانگ لایا
تھا ۔جب وہ کچن سے بھاگتی ہوئی آکر بھیگے بھیگے رخسا روں اور بھیگے بالو ں کے ساتھ
مجھ سے لپٹ گئی تو میرے سارے ارادے ٹوٹ پھو ٹ گئے ۔۔۔اس دن پہلی بار مینے اسکے
گلابی لبو ں کو چو ما تھا ۔
تب مجھ پر یہ انکشاف ہو ا کہ میں لو سی کے عشق میں گرفتار ہو چکا ہوں ۔
تب مجھ پر یہ انکشاف ہو ا کہ میں لو سی کے عشق میں گرفتار ہو چکا ہوں ۔
اسنے
میری پسندیدہ ڈشیز سے پو ری ٹیبل بھر دی تھی کئی طر ح کے کھا نے بنا لیئے تھے اسنے
۔۔۔۔میرا مہینہ بھر کا راشن ختم پر تھا ۔۔مگر میں پھر بھی خوش تھا ۔"کیوں کیا
تم نے یہ سب ۔۔۔۔کیوں ۔۔؟ اچھّا نہیں لگا ؟
"نہیں ۔۔۔ایسا نہیں ہے مجھے بہت اچھا لگا میں وا قعی بہت خوش تھا ۔ کھانے کے بعد اس نے میری پسندیدہ سویئٹ ڈش ،پا یئن ایپل کسٹرڈ بھی لاکر رکھ دیا ۔اسے میری ہر پسند نا پسند کا اندازہ ہو گیا تھا ۔۔۔
"نہیں ۔۔۔ایسا نہیں ہے مجھے بہت اچھا لگا میں وا قعی بہت خوش تھا ۔ کھانے کے بعد اس نے میری پسندیدہ سویئٹ ڈش ،پا یئن ایپل کسٹرڈ بھی لاکر رکھ دیا ۔اسے میری ہر پسند نا پسند کا اندازہ ہو گیا تھا ۔۔۔
کھانے
کے بعد ہم لمبی ڈرایئو پر نکل گئیے ۔
دریائے ٹیمز کے کنارے ٹہلتے ٹہلتے مینے اسے اپنے ساتھ لگا لیا ۔
" لو سی ! آؤ شا دی کر لیں " مینے بڑے جزبو ں سے اسے پر پوز کیا ۔
"شادی ۔۔۔؟"وہ ایک جھٹکے سے مجھ سے الگ ہوئی ۔اسکی آنکھو ں میں ایک عجیب سی بات تھی جو میں سمجھ نہ سکا ۔۔۔
ہا ں لو سی ۔۔میرا دوست جیکب ایک کورس کرنے کے لیئے نیو یارک گیا ہوا ہے یہ فلیٹ اسی کا تو ہے اب وہ آنے والا ہے تو ہم دونو ں تمہارے روم میں کچھ دنو ں تک رہ لینگے اور پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔"مگر اسنے میری بات پو ری نہیں ہو نے دی ۔مینے اسکی طر ف دیکھا وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی اسکی آنکھو ں میں جو جزبہ میں نہیں سمجھ پایا تھا ،اچانک میری سمجھ میں آگیا ۔۔اسکی آنکھو ں میں میرے لیئے حقارت تھی تضحیک تھی اور گلا بی ہو نٹو ں پر طنزیہ مسکرا ہٹ تھی ۔
" تم نے ایسا سو چا بھی کیسے ؟؟ تم ہو کیا ۔۔تمہاری حیثیت کیا ہے ؟؟" وہ اور بھی نہ جانے کیا کیا کہتی رہی میں سنتا رہا ۔۔اسنے اپنا ہاتھ میرے ہا تھوں سے نہ جانے کب نکال لیا تھا اور جاکر گا ڑی میں بیٹھ گئی ۔۔میں شر مندہ بھی تھا اور حیران بھی ۔۔۔مگر رنجیدہ ہو نے کا میرے پاس نہ وقت تھا نہ موقع ۔۔۔۔اپنی روڈ پر آتے ہی اسنے مجھے گا ڑی روکنے کا اشارہ کیا اور تیزی سے بنا کچھ کہے اتر گئی ۔۔۔اتر تے وقت وہ چابی سیٹ پر رکھنا نہیں بھو لی تھی ۔۔۔۔۔۔
میں اسٹیرنگ پر ہاتھ رکھّے اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا دور ۔۔۔۔۔اور دور ۔۔۔۔بہت دور ۔۔
معلوم نہیں کیسے گھر آیا ۔۔۔۔بہت دیر تک ایک ہی رخ پر بیٹھا رہا ۔میرے جسم میں درد ہونے لگا تھا ۔۔پھر سر میں بھی شدید درد ہو نے لگا ۔۔۔۔کافی بنا نے کی بھی ہمّت نہیں ہوئی ۔۔نہ جانے کب سو گیا ۔
دریائے ٹیمز کے کنارے ٹہلتے ٹہلتے مینے اسے اپنے ساتھ لگا لیا ۔
" لو سی ! آؤ شا دی کر لیں " مینے بڑے جزبو ں سے اسے پر پوز کیا ۔
"شادی ۔۔۔؟"وہ ایک جھٹکے سے مجھ سے الگ ہوئی ۔اسکی آنکھو ں میں ایک عجیب سی بات تھی جو میں سمجھ نہ سکا ۔۔۔
ہا ں لو سی ۔۔میرا دوست جیکب ایک کورس کرنے کے لیئے نیو یارک گیا ہوا ہے یہ فلیٹ اسی کا تو ہے اب وہ آنے والا ہے تو ہم دونو ں تمہارے روم میں کچھ دنو ں تک رہ لینگے اور پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔"مگر اسنے میری بات پو ری نہیں ہو نے دی ۔مینے اسکی طر ف دیکھا وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی اسکی آنکھو ں میں جو جزبہ میں نہیں سمجھ پایا تھا ،اچانک میری سمجھ میں آگیا ۔۔اسکی آنکھو ں میں میرے لیئے حقارت تھی تضحیک تھی اور گلا بی ہو نٹو ں پر طنزیہ مسکرا ہٹ تھی ۔
" تم نے ایسا سو چا بھی کیسے ؟؟ تم ہو کیا ۔۔تمہاری حیثیت کیا ہے ؟؟" وہ اور بھی نہ جانے کیا کیا کہتی رہی میں سنتا رہا ۔۔اسنے اپنا ہاتھ میرے ہا تھوں سے نہ جانے کب نکال لیا تھا اور جاکر گا ڑی میں بیٹھ گئی ۔۔میں شر مندہ بھی تھا اور حیران بھی ۔۔۔مگر رنجیدہ ہو نے کا میرے پاس نہ وقت تھا نہ موقع ۔۔۔۔اپنی روڈ پر آتے ہی اسنے مجھے گا ڑی روکنے کا اشارہ کیا اور تیزی سے بنا کچھ کہے اتر گئی ۔۔۔اتر تے وقت وہ چابی سیٹ پر رکھنا نہیں بھو لی تھی ۔۔۔۔۔۔
میں اسٹیرنگ پر ہاتھ رکھّے اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا دور ۔۔۔۔۔اور دور ۔۔۔۔بہت دور ۔۔
معلوم نہیں کیسے گھر آیا ۔۔۔۔بہت دیر تک ایک ہی رخ پر بیٹھا رہا ۔میرے جسم میں درد ہونے لگا تھا ۔۔پھر سر میں بھی شدید درد ہو نے لگا ۔۔۔۔کافی بنا نے کی بھی ہمّت نہیں ہوئی ۔۔نہ جانے کب سو گیا ۔
خواب
میں مینے امّا ں کو دیکھا وہ میرے لیئے بیقرار نظر آیئں ۔۔۔اپنی دو نو ں بہنو ں کو
دیکھا جو میرے لیئے بے چین تھیں پھر صاف شفّا ف بستر پر لیٹے اپنے بیمار ابّو کو
دیکھا جو آنکھو ں میں بہت سا ری تمنّا یئں لیئے ہو ئے مجھے دیکھ رہے تھے ۔جنھو ں
نے مجھے یہا ں کچھ بننے کے لیئے بھیجا تھا ان کی ساری تو قعات مجھ سے ہی وا بستہ
تھیں ۔
میرا
کورس تقریباً پورا ہو گیا تھا اور مینے ایک کمپنی سے لا زمت کی بات بھی کر لی تھی
۔عنقریب میں ان سارے خوابوں کو سچ کر دینے والا تھا جو ان سب نے میرے حوالے سے
دیکھے تھے ۔
اور یہا ں یہ فلیٹ کیا اس سے لاکھ درجہ اچھّا گھر میں افورڈ کر سکتا تھا ۔۔۔بس میر ی بہنو ں کا گھر بس جائے ،ابّو کے سر سے ذمّے داری کا بو جھ اتر جائے امّاں کے سنجیدہ لبو ں پر پہلے کی طر ح ہنسی بکھری رہے جیسے ابّو کی بیماری سے پہلے بکھری رہتی تھی ۔
صبح اٹھ کر سب سے پہلے مینے لو سی کا سارا سا مان پیک کیا گھر اچھی طرح صاف کیا پھر کار واپس کر نے گیا تو اسکا سامان اسکی لینڈ لیڈی کو دیتا ہوا آیا ۔
اور یہا ں یہ فلیٹ کیا اس سے لاکھ درجہ اچھّا گھر میں افورڈ کر سکتا تھا ۔۔۔بس میر ی بہنو ں کا گھر بس جائے ،ابّو کے سر سے ذمّے داری کا بو جھ اتر جائے امّاں کے سنجیدہ لبو ں پر پہلے کی طر ح ہنسی بکھری رہے جیسے ابّو کی بیماری سے پہلے بکھری رہتی تھی ۔
صبح اٹھ کر سب سے پہلے مینے لو سی کا سارا سا مان پیک کیا گھر اچھی طرح صاف کیا پھر کار واپس کر نے گیا تو اسکا سامان اسکی لینڈ لیڈی کو دیتا ہوا آیا ۔
آج
پھر میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں اپنے پرانے دوستوں سے ملو ں ۔۔۔۔اسلیئے پھر اسی
پرانے ٹھکانے پر آگیا ۔ اداسی کی ایک تیز لہر میرے دل کو کاٹ رہی تھی اور میں پناہ
لینے کے لیئے ادھر ادھر چکّر لگارہا تھا ۔
دیر تک اپنی دوست بطخّوں کو کھانا کھلا تا رہا وہ سب کی سب مجھ سے اتنے دن نہ آنے پر نا راض لگ رہی تھی مگر مینے انھیں "سوری " کہکر منا لیا ۔
اچانک میری نظر ایک کو نے میں پڑی بنچ پر جا ٹہری ،جسپر ایک کم سن سی معصوم لڑکی اکیلی بیٹھی تھی ۔۔اسنے گہرے نیلے رنگ کا لباس پہنا ہو اتھا اس کے بے پناہ حسین چہرے پر بے پناہ دکھ تھا ۔
گلابی چہرے پر اسکے سنہرے بال ہوا سے بکھر تے جارہے تھے ،اسکا اسکارف با لوں سے کھل کر بینچ پر گر چکا تھا ۔
وہ ویران آنکھو ں سے خلا میں دیکھ رہی تھی ۔
اسکے ہاتھو ں میں بھی ایک چھو ٹا سا ڈبا تھا جسمیں بطخوں کا کھا نا تھا ۔۔مگر وہ کھلا نا بھول چکی تھی ۔۔۔
مینے اتنا حسین چہرہ یو ں سوگوار کبھی نہیں دیکھا تھا ۔۔میں آہستہ سے جاکر بینچ کے نز دیک گھانس پر بیٹھ گیا۔ اسے خبر بھی نہ ہو ئی
"ہیلو۔۔۔۔" مینے مد ھم سر میں اسے آواز دی ۔
" آں ۔۔۔۔۔ہا ں ہیلو ۔۔۔۔۔۔" وہ اچانک چونک اٹھی پہلے اپنے بکھرتے کپڑے سنبھالے پھر اسکارف اٹھایا ۔ہاتھ میں لیا ہوا ڈّبہ نیچے گر چکا تھا ،مینے وہ اٹھا کر اسکی جانب بڑھا یا ۔
"تھینک یو ۔۔۔۔۔"اس نے ہلکی سی آواز میں میرا شکریہ ادا کیا ،اسکی گہر ی گہری سنہری آنکھیں کسی سوگ میں تھیں ۔۔۔یا مجھے ایسا لگا ،شاید میں اداس تھا تو مجھے ساری دنیا اداس لگ رہی تھی ۔
"میں تمہا ری کو ئی مدد کر سکتا ہو ں ۔۔۔؟"
"اوہ ۔۔۔نو ۔۔۔"وہ زبر دستی مسکرائی اور نارمل نظر آنے کی کو شش کر نے لگی ۔میں اٹھ کر اسی بنچ پر ایک کنا رے بیٹھ گیا ۔۔ہم دو نو ں خا مو شی سے بطخوں کو کھا نا کھلا تے رہے پیا ری پیا ری رنگین تتلیو ں سی بطخیں ہمارا دل بہلا نے کی کو شش کر تی رہیں ۔پھر دھیرے دھیرے ہم انکے بارے میں بات کر نے لگے پھر ہم پارک کی خوبصورتی پر بات کر نے لگے ،یہا ں بیٹھے سنّا ٹے پر بات ہو ئی ۔۔۔۔پھر
نہ جانے کب ہم اپنے بارے میں بات کر نے لگے ۔مینے نہ جانے کیو ں اپنا سا را حال اسے ک سنادیا ۔اپنی ادسی کا سارا سبب بتا دیا ۔۔۔شروع سے آخیر تک ۔۔۔سا را حال کہہ ڈالا ۔۔۔وہ بہت صبر سے سب کچھ سنتی رہی ۔۔۔۔پھر اسنے بہت نر می سے میرا ہاتھ چھو کر تسّلی آمیز نظروں سے مجھے دیکھا اسکی آنکھیں پا نیو ں سے بھر ی ایک جھیل کی طر ح لگ رہی تھیں ۔
اور پھر اسنے ایسی ہی ایک دا ستان سنائی جو اسکی اپنی تھی ۔۔۔۔
نوید ہندوستان سے یہا ں وز ٹ ویزے پر آیا تھا ۔۔۔کچھ دنو ں کے لیئے ۔۔۔۔پھر لیزا سے ملا قات ہو ئی اس سے شادی کر لی"۔اسنے اپنے دوستوں کے سامنے مجھ سے نکا ح بھی کیا ۔۔میرا نام بھی "لیزا سے بدل کر لیلیٰ رکھ دیا میں خوش تھی بہت خوش "اسکی آواز بھّرا نے لگی پھر آہستہ آہستہ بو لنے لگی ۔ اوروہ یہا ں جاب کر نے لگا ،دونو ں بہت خوش تھے وقت بہت اچھّا گزر رہا تھا ۔۔۔۔
" وہ مجھ سے بے پناہ محبْت کر تا تھا ۔۔۔۔" لیزا اب بھی گہرے خواب میں تھی ۔۔۔
" پھر نہ جانے کیا ہوا ۔۔۔اس کے گھر سے کو ئی خط آیا ۔۔۔اور وہ مجھے چھو ڑ کر چلا گیا ۔۔۔کل اسنے فون پر مجھے طلاق کا لفظ تین بار کہہ دیا ۔۔۔اس سے کیا ہو تا ہے ؟؟؟ کیا ایسے کہنے سے سب کچھ ختم ہو جاتا ہے ؟ رشتے ٹوٹ جاتے ہیں ؟ درمیان کچھ بھی نہیں بچتا ۔۔۔میر ی کنواری محبّت کا یہی انجام ہو نا تھا ۔۔؟ مینے ٹوٹ کر اسے چا ہا مجھے کیا ملا ۔۔۔۔؟"
اسنے اپنی گلا بی ہتھیلیا ں آنکھو ں پر رکھ لیں اسکا چہرہ غمو ں سے جل رہا تھا ۔۔۔سسکیو ں سے سارا بدن لرز رہا تھا ۔۔
مینے اسے خا مو ش کر نے کی کو شش نہیں کی ،اسے رونے دیا میں چا ہتا تھا کہ وہ خوب رولے ۔۔۔اور پھر کبھی نہ روئے ۔
اور یہی مینے اسے بھی کہا
"لیزا تم میر کا ندھے پر سر رکھ کر رو سکتی ہو مجھے اپنا اچھّا دوست سمجھ کر ۔۔۔اور بس اس سے ذیا دہ کچھ نہیں ۔۔میں تم سے اور کو ئی وعدہ نہیں کر تا ۔۔۔۔ اپنو ں سے بہت سے وعدے ہیں جو مجھے ایک عر صے کے بعد یا د آئے ہیں ۔۔میں انھیں بھو لنا نہیں چا ہتا ۔۔۔اتنا رولو کہ پھر کسی نو ید کی ضرورت نہ رہے "
مینے اسکی نرم سنہری زلفیں انگلیو ں سے سنوار دیں ۔
اسکی پلکو ں پر چمکتے ہوئے مو تی پو رو ں پر اتار لیئے اسکے گلابی معصوم چھو ٹے چھوٹے ہا تھوں کو اپنی چو ڑی ہتھیلی سے ڈھا نپ لیا ۔۔۔۔اور اسی لمحے با رش شروع ہو گئی ۔۔۔پا نی میر ے ہا تھو ں سے ہو کر اسکی ہتھیلی کو بھگو رہا تھا ہم دو نو ں بھیگ رہے تھے چھتریا ں دور پڑی تھیں ۔۔۔
پھر اسنے میر ے ہا تھو ں سے اپنا ہاتھ نکال لیا ۔۔۔۔اور ٹھنڈی سا نس لیکر کھڑی ہو گئی ۔اب وہ کافی پر سکون نظر آرہی تھی ۔
"کافی پیو گی ؟" مینے اپنا تھر مس کھو لا ۔۔۔۔
"نہیں ۔۔۔۔"لیزا نے اپنا سا مان سمیٹا اور مسکرا کر میری طرف دیکھا ۔
"کیا آج تم مجھے کسی اچھے ہو ٹل میں لنچ نہیں کروا ؤگے دوست ۔۔؟"
اسکے چہرے پر اک ایسی مسکرا ہٹ تھی جیسے شدید بارش کے بعد دھو پ نکل آئی ہو ۔
بارش تھم گئی تھی ۔۔۔پلکو ں اور بالو ں پر با رش کے قطرے چمک رہے تھے اور ہم دو نو ں ہا تھو ں میں ہاتھ لیئے پارک سے باہر نکل رہے تھے ۔۔۔ہمارے پیر وں تلے سنہرے پتّے چر مرا رہے تھے ۔
امید اب بھی کہں باقی تھی ۔ زندگی پھر جینے کے لیئے ہمک رہی تھی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
دیر تک اپنی دوست بطخّوں کو کھانا کھلا تا رہا وہ سب کی سب مجھ سے اتنے دن نہ آنے پر نا راض لگ رہی تھی مگر مینے انھیں "سوری " کہکر منا لیا ۔
اچانک میری نظر ایک کو نے میں پڑی بنچ پر جا ٹہری ،جسپر ایک کم سن سی معصوم لڑکی اکیلی بیٹھی تھی ۔۔اسنے گہرے نیلے رنگ کا لباس پہنا ہو اتھا اس کے بے پناہ حسین چہرے پر بے پناہ دکھ تھا ۔
گلابی چہرے پر اسکے سنہرے بال ہوا سے بکھر تے جارہے تھے ،اسکا اسکارف با لوں سے کھل کر بینچ پر گر چکا تھا ۔
وہ ویران آنکھو ں سے خلا میں دیکھ رہی تھی ۔
اسکے ہاتھو ں میں بھی ایک چھو ٹا سا ڈبا تھا جسمیں بطخوں کا کھا نا تھا ۔۔مگر وہ کھلا نا بھول چکی تھی ۔۔۔
مینے اتنا حسین چہرہ یو ں سوگوار کبھی نہیں دیکھا تھا ۔۔میں آہستہ سے جاکر بینچ کے نز دیک گھانس پر بیٹھ گیا۔ اسے خبر بھی نہ ہو ئی
"ہیلو۔۔۔۔" مینے مد ھم سر میں اسے آواز دی ۔
" آں ۔۔۔۔۔ہا ں ہیلو ۔۔۔۔۔۔" وہ اچانک چونک اٹھی پہلے اپنے بکھرتے کپڑے سنبھالے پھر اسکارف اٹھایا ۔ہاتھ میں لیا ہوا ڈّبہ نیچے گر چکا تھا ،مینے وہ اٹھا کر اسکی جانب بڑھا یا ۔
"تھینک یو ۔۔۔۔۔"اس نے ہلکی سی آواز میں میرا شکریہ ادا کیا ،اسکی گہر ی گہری سنہری آنکھیں کسی سوگ میں تھیں ۔۔۔یا مجھے ایسا لگا ،شاید میں اداس تھا تو مجھے ساری دنیا اداس لگ رہی تھی ۔
"میں تمہا ری کو ئی مدد کر سکتا ہو ں ۔۔۔؟"
"اوہ ۔۔۔نو ۔۔۔"وہ زبر دستی مسکرائی اور نارمل نظر آنے کی کو شش کر نے لگی ۔میں اٹھ کر اسی بنچ پر ایک کنا رے بیٹھ گیا ۔۔ہم دو نو ں خا مو شی سے بطخوں کو کھا نا کھلا تے رہے پیا ری پیا ری رنگین تتلیو ں سی بطخیں ہمارا دل بہلا نے کی کو شش کر تی رہیں ۔پھر دھیرے دھیرے ہم انکے بارے میں بات کر نے لگے پھر ہم پارک کی خوبصورتی پر بات کر نے لگے ،یہا ں بیٹھے سنّا ٹے پر بات ہو ئی ۔۔۔۔پھر
نہ جانے کب ہم اپنے بارے میں بات کر نے لگے ۔مینے نہ جانے کیو ں اپنا سا را حال اسے ک سنادیا ۔اپنی ادسی کا سارا سبب بتا دیا ۔۔۔شروع سے آخیر تک ۔۔۔سا را حال کہہ ڈالا ۔۔۔وہ بہت صبر سے سب کچھ سنتی رہی ۔۔۔۔پھر اسنے بہت نر می سے میرا ہاتھ چھو کر تسّلی آمیز نظروں سے مجھے دیکھا اسکی آنکھیں پا نیو ں سے بھر ی ایک جھیل کی طر ح لگ رہی تھیں ۔
اور پھر اسنے ایسی ہی ایک دا ستان سنائی جو اسکی اپنی تھی ۔۔۔۔
نوید ہندوستان سے یہا ں وز ٹ ویزے پر آیا تھا ۔۔۔کچھ دنو ں کے لیئے ۔۔۔۔پھر لیزا سے ملا قات ہو ئی اس سے شادی کر لی"۔اسنے اپنے دوستوں کے سامنے مجھ سے نکا ح بھی کیا ۔۔میرا نام بھی "لیزا سے بدل کر لیلیٰ رکھ دیا میں خوش تھی بہت خوش "اسکی آواز بھّرا نے لگی پھر آہستہ آہستہ بو لنے لگی ۔ اوروہ یہا ں جاب کر نے لگا ،دونو ں بہت خوش تھے وقت بہت اچھّا گزر رہا تھا ۔۔۔۔
" وہ مجھ سے بے پناہ محبْت کر تا تھا ۔۔۔۔" لیزا اب بھی گہرے خواب میں تھی ۔۔۔
" پھر نہ جانے کیا ہوا ۔۔۔اس کے گھر سے کو ئی خط آیا ۔۔۔اور وہ مجھے چھو ڑ کر چلا گیا ۔۔۔کل اسنے فون پر مجھے طلاق کا لفظ تین بار کہہ دیا ۔۔۔اس سے کیا ہو تا ہے ؟؟؟ کیا ایسے کہنے سے سب کچھ ختم ہو جاتا ہے ؟ رشتے ٹوٹ جاتے ہیں ؟ درمیان کچھ بھی نہیں بچتا ۔۔۔میر ی کنواری محبّت کا یہی انجام ہو نا تھا ۔۔؟ مینے ٹوٹ کر اسے چا ہا مجھے کیا ملا ۔۔۔۔؟"
اسنے اپنی گلا بی ہتھیلیا ں آنکھو ں پر رکھ لیں اسکا چہرہ غمو ں سے جل رہا تھا ۔۔۔سسکیو ں سے سارا بدن لرز رہا تھا ۔۔
مینے اسے خا مو ش کر نے کی کو شش نہیں کی ،اسے رونے دیا میں چا ہتا تھا کہ وہ خوب رولے ۔۔۔اور پھر کبھی نہ روئے ۔
اور یہی مینے اسے بھی کہا
"لیزا تم میر کا ندھے پر سر رکھ کر رو سکتی ہو مجھے اپنا اچھّا دوست سمجھ کر ۔۔۔اور بس اس سے ذیا دہ کچھ نہیں ۔۔میں تم سے اور کو ئی وعدہ نہیں کر تا ۔۔۔۔ اپنو ں سے بہت سے وعدے ہیں جو مجھے ایک عر صے کے بعد یا د آئے ہیں ۔۔میں انھیں بھو لنا نہیں چا ہتا ۔۔۔اتنا رولو کہ پھر کسی نو ید کی ضرورت نہ رہے "
مینے اسکی نرم سنہری زلفیں انگلیو ں سے سنوار دیں ۔
اسکی پلکو ں پر چمکتے ہوئے مو تی پو رو ں پر اتار لیئے اسکے گلابی معصوم چھو ٹے چھوٹے ہا تھوں کو اپنی چو ڑی ہتھیلی سے ڈھا نپ لیا ۔۔۔۔اور اسی لمحے با رش شروع ہو گئی ۔۔۔پا نی میر ے ہا تھو ں سے ہو کر اسکی ہتھیلی کو بھگو رہا تھا ہم دو نو ں بھیگ رہے تھے چھتریا ں دور پڑی تھیں ۔۔۔
پھر اسنے میر ے ہا تھو ں سے اپنا ہاتھ نکال لیا ۔۔۔۔اور ٹھنڈی سا نس لیکر کھڑی ہو گئی ۔اب وہ کافی پر سکون نظر آرہی تھی ۔
"کافی پیو گی ؟" مینے اپنا تھر مس کھو لا ۔۔۔۔
"نہیں ۔۔۔۔"لیزا نے اپنا سا مان سمیٹا اور مسکرا کر میری طرف دیکھا ۔
"کیا آج تم مجھے کسی اچھے ہو ٹل میں لنچ نہیں کروا ؤگے دوست ۔۔؟"
اسکے چہرے پر اک ایسی مسکرا ہٹ تھی جیسے شدید بارش کے بعد دھو پ نکل آئی ہو ۔
بارش تھم گئی تھی ۔۔۔پلکو ں اور بالو ں پر با رش کے قطرے چمک رہے تھے اور ہم دو نو ں ہا تھو ں میں ہاتھ لیئے پارک سے باہر نکل رہے تھے ۔۔۔ہمارے پیر وں تلے سنہرے پتّے چر مرا رہے تھے ۔
امید اب بھی کہں باقی تھی ۔ زندگی پھر جینے کے لیئے ہمک رہی تھی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭