Sunday, December 11, 2016

انجم قدوائی 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
''ھا ئیڈ پا رک کے ذرد پتّے ''
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اداسی کی ایک تیز لہر میرے دل کو کاٹ رہی تھی اور میں پناہ لینے کے لیئے ادھر ادھر چکّر لگا رہا تھا ۔پارک اس وقت ویران تھا ۔لندن کے اس پارک کی خا صیت اس کے درخت اور ان کے بڑے اور سنہرے پتّے ہیں ۔اسکے علاوہ وہیں سڑک پر پا رک کے جنگلے سے لگا کر ایک آرٹسٹ اپنی پینٹنگس سجا لیا کر تا تھا ۔پا رک کے بیچو ں بیچ ایک مصنو عی تا لاب بنا یا گیا ہے جس میں رنگ بر نگی بطخیں تیر تی رہتی ہیں ۔جی ہا ں ۔۔۔رنگ برنگی ۔۔۔
پہلی بار جب مینے انھیں دیکھا تو مجھے بھی بیحد حیرت ہوئی تھی لیکن میں نے انھیں ان کی خوراک ( جو کہ ڈبّے میں وہیں پر ملتی ہے ) دینے کے لیئے پا س بلایا تو وہ پھڑ پھڑا تی ہوئی قریب آگئیں اور میں قد رت کا یہ نظا رہ دیکھ کر حیران ہو ا ۔۔۔یہ سارے رنگ حقیقی تھے جسطرح تتلی کے پر ۔۔۔۔۔اس دن مجھے ان بطّخو ں کو کھا نا کھلا کر بہت اچھا لگا کہ میں روز بلا نا غہ وہا ں آتا اور تا لاب کے کنا رے بیٹھ کر انھیں دیکھتا رہتا ،کھلا تا رہتا ۔ایک عجیب سا سکون اور اپنا یئت تھی اس ما حول میں شا ید با غوں کھیتو ں تا لا بو ں کو چھو ڑ کر آنے سے میں اپنی جڑو ں سے کٹ کر رہ گیا تھا ۔اور یہی وجہ تھی کہ  پارک کے ،اس پر سکون گو شہ میں بیٹھ کر مجھے سب کچھ یا د کر نے کا کا فی وقت مل جاتا ۔
اکثر میں ان سنہرے بڑے بڑے پتّو ں کو اکٹھا کر تا رہتا اور سو چتا کہ جب میں واپس اپنے وطن جاؤنگا تو یہ سارے پتّے تمنّا کو دونگا وہ بہت ذیادہ خوش ہو گی ۔
تمنّا میر ی چھو ٹی بہن کا نام ہے وہ پر اسرار حد تک آرٹسٹک ہے ۔رنگو ں اور خوبصورت پتّو ں ،رنگ بر نگّے پرو ں کو جمع کر نے والی میر ی پیا ری تمنّا ۔۔۔۔۔۔
مگر جب اس درمیان میری دوستی لو سی سے ہو گئی ۔۔۔۔۔۔میرے پاس ہا یئڈ پارک کے لیئے وقت بہت کم رہ گیا ۔
لو سی سے میری ملا قات با رش میں بھیگتے ہوئے سڑک پر ہوئی تھی ۔وہ سڑک کچھ ڈھلوان تھی اور میں ہمیشہ کی طر ح پیدل ،چھتری شاید اسکے پاس بھی نہیں تھی جبکہ وہاں کے مو سم کا تقا ضہ یہی ہے کہ چھتری ہمیشہ ساتھ رکھنی چا ہیئے۔دراصل صبح سے مو سم با لکل صا ف تھا ، دھوپ چمک رہی تھی ۔میں اسی کا ہلی میں بغیر چھتری لیئے نکل پڑا ۔۔۔۔۔۔اور اچا نک زوردار تیز با رش شروع ہو گئی۔
ہا ں تو بات ڈھلان کی تھی اچا نک لو سی کا پیر لڑ کھڑایا یہ شرارت اسکی اونچی ہیل والی سینڈل کی تھی ،وہ نا رنجی شاخ کی طرح میری با ہو ں میں آگئی اسکا چہرہ تمتما رہا تھا ۔۔۔سلیقے سے کٹے ہوئے بال اسکے چہرے پر پھیل رہے تھے کتّھئی آنکھو ں میں اک عجیب سی چمک تھی ۔ میرا فلیٹ وہیں قریب ہی تھا اس نے میری پیشکش نہیں ٹھکرائی اور میرے ساتھ  گھر آگئی ۔
 سجا یا خوبصورت فلیٹ دیکھ کروہ حیران رہ گئی ۔اسکی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔۔۔کہا ں سڑک پر پیدل چلنے والا معمولی سا ہندوستانی ،اور کہا ں یہ شاندار فلیٹ ؟ مینے بھی کو ئی صفائی نہیں دی ۔
یہ ہماری پہلی ملا قات تھی ۔۔پھر وہ مجھے اکثر ملنے لگی اور ہماری دوستی میں ذیادہ دیر نہیں لگی ۔
اکثر وہ اپنے کام سے دو پہر کو فا رغ ہو کر میر ے فلیٹ پر آجاتی اور میرا انتظار کر تی ،ایک ذائد چا بی بنوانا تو میرا فر ض تھا وہ میری "اچھی " دوست جو تھی ۔
اس دن جب میں گھر آیا تو وہ کچن میں کچھ کھٹ پٹ کر رہی تھی شا ید ابھی ابھی نہا کر آئی تھی باتھ روم کا دروازہ بھی کھلا ہو اتھا ۔۔۔باہر مو سم بہت اچھا تھا میر ا اردہ تھا کہ اسکو لیکر کہیں گھو منے جاؤنگا اسی لیئے اپنے دوست سے کار بھی مانگ لایا تھا ۔جب وہ کچن سے بھاگتی ہوئی آکر بھیگے بھیگے رخسا روں اور بھیگے بالو ں کے ساتھ مجھ سے لپٹ گئی تو میرے سارے ارادے ٹوٹ پھو ٹ گئے ۔۔۔اس دن پہلی بار مینے اسکے گلابی لبو ں کو چو ما تھا ۔
تب مجھ پر یہ انکشاف ہو ا کہ میں لو سی کے عشق میں گرفتار ہو چکا ہوں ۔
اسنے میری پسندیدہ ڈشیز سے پو ری ٹیبل بھر دی تھی کئی طر ح کے کھا نے بنا لیئے تھے اسنے ۔۔۔۔میرا مہینہ بھر کا راشن ختم پر تھا ۔۔مگر میں پھر بھی خوش تھا ۔"کیوں کیا تم نے یہ سب ۔۔۔۔کیوں ۔۔؟ اچھّا نہیں لگا ؟
 "نہیں ۔۔۔ایسا نہیں ہے مجھے بہت اچھا لگا میں وا قعی بہت خوش تھا ۔ کھانے کے بعد اس نے میری پسندیدہ سویئٹ ڈش ،پا یئن ایپل کسٹرڈ بھی لاکر رکھ دیا ۔اسے میری ہر پسند نا پسند کا اندازہ ہو گیا تھا ۔۔۔
کھانے کے بعد ہم لمبی ڈرایئو پر نکل گئیے ۔
دریائے ٹیمز کے کنارے ٹہلتے ٹہلتے مینے اسے اپنے ساتھ لگا لیا ۔
" لو سی ! آؤ شا دی کر لیں " مینے بڑے جزبو ں سے اسے پر پوز کیا ۔
"شادی ۔۔۔؟"وہ ایک جھٹکے سے مجھ سے الگ ہوئی ۔اسکی آنکھو ں میں ایک عجیب سی بات تھی جو میں سمجھ نہ سکا ۔۔۔
ہا ں لو سی ۔۔میرا دوست جیکب ایک کورس کرنے کے لیئے نیو یارک گیا ہوا ہے یہ فلیٹ اسی کا تو ہے اب وہ آنے والا ہے تو ہم دونو ں تمہارے روم میں کچھ دنو ں تک رہ لینگے اور پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔"مگر اسنے میری بات پو ری نہیں ہو نے دی ۔مینے اسکی طر ف دیکھا وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی اسکی آنکھو ں میں جو جزبہ میں نہیں سمجھ پایا تھا ،اچانک میری سمجھ میں آگیا ۔۔اسکی آنکھو ں میں میرے لیئے حقارت تھی تضحیک تھی اور گلا بی ہو نٹو ں پر طنزیہ مسکرا ہٹ تھی ۔
" تم نے ایسا سو چا بھی کیسے ؟؟ تم ہو کیا ۔۔تمہاری حیثیت کیا ہے ؟؟" وہ اور بھی نہ جانے کیا کیا کہتی رہی میں سنتا رہا ۔۔اسنے اپنا ہاتھ میرے ہا تھوں سے نہ جانے کب نکال لیا تھا اور جاکر گا ڑی میں بیٹھ گئی ۔۔میں شر مندہ بھی تھا اور حیران بھی ۔۔۔مگر رنجیدہ ہو نے کا میرے پاس نہ وقت تھا نہ موقع ۔۔۔۔اپنی روڈ پر آتے ہی اسنے مجھے گا ڑی روکنے کا اشارہ کیا اور تیزی سے بنا کچھ کہے اتر گئی ۔۔۔اتر تے وقت وہ چابی سیٹ پر رکھنا نہیں بھو لی تھی ۔۔۔۔۔۔
میں اسٹیرنگ پر ہاتھ رکھّے اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا دور ۔۔۔۔۔اور دور ۔۔۔۔بہت دور ۔۔
معلوم نہیں کیسے گھر آیا ۔۔۔۔بہت دیر تک ایک ہی رخ پر بیٹھا رہا ۔میرے جسم میں درد ہونے لگا تھا ۔۔پھر سر میں بھی شدید درد ہو نے لگا ۔۔۔۔کافی بنا نے کی بھی ہمّت نہیں ہوئی ۔۔نہ جانے کب سو گیا ۔
خواب میں مینے امّا ں کو دیکھا وہ میرے لیئے بیقرار نظر آیئں ۔۔۔اپنی دو نو ں بہنو ں کو دیکھا جو میرے لیئے بے چین تھیں پھر صاف شفّا ف بستر پر لیٹے اپنے بیمار ابّو کو دیکھا جو آنکھو ں میں بہت سا ری تمنّا یئں لیئے ہو ئے مجھے دیکھ رہے تھے ۔جنھو ں نے مجھے یہا ں کچھ بننے کے لیئے بھیجا تھا ان کی ساری تو قعات مجھ سے ہی وا بستہ تھیں ۔
میرا کورس تقریباً پورا ہو گیا تھا اور مینے ایک کمپنی سے لا زمت کی بات بھی کر لی تھی ۔عنقریب میں ان سارے خوابوں کو سچ کر دینے والا تھا جو ان سب نے میرے حوالے سے دیکھے تھے ۔
اور یہا ں یہ فلیٹ کیا اس سے لاکھ درجہ اچھّا گھر میں افورڈ کر سکتا تھا ۔۔۔بس میر ی بہنو ں کا گھر بس جائے ،ابّو کے سر سے ذمّے داری کا بو جھ اتر جائے امّاں کے سنجیدہ لبو ں پر پہلے کی طر ح ہنسی بکھری رہے جیسے ابّو کی بیماری سے پہلے بکھری رہتی تھی ۔
صبح اٹھ کر سب سے پہلے مینے لو سی کا سارا سا مان پیک کیا گھر اچھی طرح صاف کیا پھر کار واپس کر نے گیا تو اسکا سامان اسکی لینڈ لیڈی کو دیتا ہوا آیا ۔
آج پھر میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں اپنے پرانے دوستوں سے ملو ں ۔۔۔۔اسلیئے پھر اسی پرانے ٹھکانے پر آگیا ۔ اداسی کی ایک تیز لہر میرے دل کو کاٹ رہی تھی اور میں پناہ لینے کے لیئے ادھر ادھر چکّر لگارہا تھا ۔
دیر تک اپنی دوست بطخّوں کو کھانا کھلا تا رہا وہ سب کی سب مجھ سے اتنے دن نہ آنے پر نا راض لگ رہی تھی مگر مینے انھیں "سوری " کہکر منا لیا ۔
اچانک میری نظر ایک کو نے میں پڑی بنچ پر جا ٹہری ،جسپر ایک کم سن سی معصوم لڑکی اکیلی بیٹھی تھی ۔۔اسنے گہرے نیلے رنگ کا لباس پہنا ہو اتھا اس کے بے پناہ حسین چہرے پر بے پناہ دکھ تھا ۔
گلابی چہرے پر اسکے سنہرے بال ہوا سے بکھر تے جارہے تھے ،اسکا اسکارف با لوں سے کھل کر بینچ پر گر چکا تھا ۔
وہ ویران آنکھو ں سے خلا میں دیکھ رہی تھی ۔
اسکے ہاتھو ں میں بھی ایک چھو ٹا سا ڈبا تھا جسمیں بطخوں کا کھا نا تھا ۔۔مگر وہ کھلا نا بھول چکی تھی ۔۔۔
مینے اتنا حسین چہرہ یو ں سوگوار کبھی نہیں دیکھا تھا ۔۔میں آہستہ سے جاکر بینچ کے نز دیک گھانس پر بیٹھ گیا۔ اسے خبر بھی نہ ہو ئی
"ہیلو۔۔۔۔" مینے مد ھم سر میں اسے آواز دی ۔
" آں ۔۔۔۔۔ہا ں ہیلو ۔۔۔۔۔۔" وہ اچانک چونک اٹھی پہلے اپنے بکھرتے کپڑے سنبھالے پھر اسکارف اٹھایا ۔ہاتھ میں لیا ہوا ڈّبہ نیچے گر چکا تھا ،مینے وہ اٹھا کر اسکی جانب بڑھا یا ۔
"تھینک یو ۔۔۔۔۔"اس نے ہلکی سی آواز میں میرا شکریہ ادا کیا ،اسکی گہر ی گہری سنہری آنکھیں کسی سوگ میں تھیں ۔۔۔یا مجھے ایسا لگا ،شاید میں اداس تھا تو مجھے ساری دنیا اداس لگ رہی تھی ۔
"میں تمہا ری کو ئی مدد کر سکتا ہو ں ۔۔۔؟"
"اوہ ۔۔۔نو ۔۔۔"وہ زبر دستی مسکرائی اور نارمل نظر آنے کی کو شش کر نے لگی ۔میں اٹھ کر اسی بنچ پر ایک کنا رے بیٹھ گیا ۔۔ہم دو نو ں خا مو شی سے بطخوں کو کھا نا کھلا تے رہے پیا ری پیا ری رنگین تتلیو ں سی بطخیں ہمارا دل بہلا نے کی کو شش کر تی رہیں ۔پھر دھیرے دھیرے ہم انکے بارے میں بات کر نے لگے پھر ہم پارک کی خوبصورتی پر بات کر نے لگے ،یہا ں بیٹھے سنّا ٹے پر بات ہو ئی ۔۔۔۔پھر
نہ جانے کب ہم اپنے بارے میں بات کر نے لگے ۔مینے نہ جانے کیو ں اپنا سا را حال اسے ک سنادیا ۔اپنی ادسی کا سارا سبب بتا دیا ۔۔۔شروع سے آخیر تک ۔۔۔سا را حال کہہ ڈالا ۔۔۔وہ بہت صبر سے سب کچھ سنتی رہی ۔۔۔۔پھر اسنے بہت نر می سے میرا ہاتھ چھو کر تسّلی آمیز نظروں سے مجھے دیکھا اسکی آنکھیں پا نیو ں سے بھر ی ایک جھیل کی طر ح لگ رہی تھیں ۔
اور پھر اسنے ایسی ہی ایک دا ستان سنائی جو اسکی اپنی تھی ۔۔۔۔
نوید ہندوستان سے یہا ں وز ٹ ویزے پر آیا تھا ۔۔۔کچھ دنو ں کے لیئے ۔۔۔۔پھر لیزا سے ملا قات ہو ئی اس سے شادی کر لی"۔اسنے اپنے دوستوں کے سامنے مجھ سے نکا ح بھی کیا ۔۔میرا نام بھی "لیزا سے بدل کر لیلیٰ رکھ دیا میں خوش تھی بہت خوش "اسکی آواز بھّرا نے لگی پھر آہستہ آہستہ بو لنے لگی ۔ اوروہ یہا ں جاب کر نے لگا ،دونو ں بہت خوش تھے وقت بہت اچھّا گزر رہا تھا ۔۔۔۔
" وہ مجھ سے بے پناہ محبْت کر تا تھا ۔۔۔۔" لیزا اب بھی گہرے خواب میں تھی ۔۔۔
" پھر نہ جانے کیا ہوا ۔۔۔اس کے گھر سے کو ئی خط آیا ۔۔۔اور وہ مجھے چھو ڑ کر چلا گیا ۔۔۔کل اسنے فون پر مجھے طلاق کا لفظ تین بار کہہ دیا ۔۔۔اس سے کیا ہو تا ہے ؟؟؟ کیا ایسے کہنے سے سب کچھ ختم ہو جاتا ہے ؟ رشتے ٹوٹ جاتے ہیں ؟ درمیان کچھ بھی نہیں بچتا ۔۔۔میر ی کنواری محبّت کا یہی انجام ہو نا تھا ۔۔؟ مینے ٹوٹ کر اسے چا ہا مجھے کیا ملا ۔۔۔۔؟"
اسنے اپنی گلا بی ہتھیلیا ں آنکھو ں پر رکھ لیں اسکا چہرہ غمو ں سے جل رہا تھا ۔۔۔سسکیو ں سے سارا بدن لرز رہا تھا ۔۔
مینے اسے خا مو ش کر نے کی کو شش نہیں کی ،اسے رونے دیا میں چا ہتا تھا کہ وہ خوب رولے ۔۔۔اور پھر کبھی نہ روئے ۔
اور یہی مینے اسے بھی کہا
"لیزا تم میر کا ندھے پر سر رکھ کر رو سکتی ہو مجھے اپنا اچھّا دوست سمجھ کر ۔۔۔اور بس اس سے ذیا دہ کچھ نہیں ۔۔میں تم سے اور کو ئی وعدہ نہیں کر تا ۔۔۔۔ اپنو ں سے بہت سے وعدے ہیں جو مجھے ایک عر صے کے بعد یا د آئے ہیں ۔۔میں انھیں بھو لنا نہیں چا ہتا ۔۔۔اتنا رولو کہ پھر کسی نو ید کی ضرورت نہ رہے "
مینے اسکی نرم سنہری زلفیں انگلیو ں سے سنوار دیں ۔
اسکی پلکو ں پر چمکتے ہوئے مو تی پو رو ں پر اتار لیئے اسکے گلابی معصوم چھو ٹے چھوٹے ہا تھوں کو اپنی چو ڑی ہتھیلی سے ڈھا نپ لیا ۔۔۔۔اور اسی لمحے با رش شروع ہو گئی ۔۔۔پا نی میر ے ہا تھو ں سے ہو کر اسکی ہتھیلی کو بھگو رہا تھا ہم دو نو ں بھیگ رہے تھے چھتریا ں دور پڑی تھیں ۔۔۔
پھر اسنے میر ے ہا تھو ں سے اپنا ہاتھ نکال لیا ۔۔۔۔اور ٹھنڈی سا نس لیکر کھڑی ہو گئی ۔اب وہ کافی پر سکون نظر آرہی تھی ۔
"کافی پیو گی ؟" مینے اپنا تھر مس کھو لا ۔۔۔۔
"نہیں ۔۔۔۔"لیزا نے اپنا سا مان سمیٹا اور مسکرا کر میری طرف دیکھا ۔
"کیا آج تم مجھے کسی اچھے ہو ٹل میں لنچ نہیں کروا ؤگے دوست ۔۔؟"
اسکے چہرے پر اک ایسی مسکرا ہٹ تھی جیسے شدید بارش کے بعد دھو پ نکل آئی ہو ۔
بارش تھم گئی تھی ۔۔۔پلکو ں اور بالو ں پر با رش کے قطرے چمک رہے تھے اور ہم دو نو ں ہا تھو ں میں ہاتھ لیئے پارک سے باہر نکل رہے تھے ۔۔۔ہمارے پیر وں تلے سنہرے پتّے چر مرا رہے تھے ۔
امید اب بھی کہں باقی تھی ۔ زندگی پھر جینے کے لیئے ہمک رہی تھی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


Tuesday, December 6, 2016

چلتی رہے زندگی ۔۔۔۔۔۔
مینے پہلا پاؤں بادلوں پر رکھ دیا ۔۔۔ایک نرم سی ٹھنڈ ک میرے اندر اتر آئی ۔۔ایک خوبصورت احساس سارے وجود میں تیرنے لگا ۔۔۔نرم سفید خنک بادل ۔۔۔وہ ایک خوبصورت شام تھی جب مینے حیدرآباد میں قدم رکھّا ۔۔۔
دنیا کے کئی شہر دیکھے ،سعودی عرب کا شہر ریاض ،امریکہ کا شہر شکاگو ،انگلنڈ کا شہر لندن ۔۔۔۔ایران کا شہر تہران ۔۔۔مگر اپنے ملک کا اتنا خوبصورت شہر پہلی بار دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برسات کا موسم شروع ہورہا تھا ہر طرف بادلوں کی دھند چھائی ہوئی تھی ۔۔۔اور میں چل پڑی تھی ایک لمبی سیر کے لئے حیدرآباد کی سمت ۔۔۔وہ حیدرآباد جسکے بارے میں صرف سنا تھا یا پڑھا تھا ۔۔نظام حیدرآباد کی لائیبرئری کے بارے میں ،حسین ساگر کے بارے میں اور ان شفّاف مو تیو ں کے بارے میں ۔۔۔اور میں سوچ رہی تھی یہ سب کچھ قریب سے دیکھنا کتنا روح پر ور ہوگا ۔۔۔
سب سے پہلے ہم حسین ساگر دیکھنے گئے یہ ایک خوبصورت جھیل ہے جو چاروں طرف شہر سے گھری ہوئی ہے ،اسکے درمیان گوتم بدھ کا بلند مجسمہ استادہ ہے ۔۔۔ایک طرف لمبنی باغ جہاں سبزہ کاٹ کر درمیان سے سڑک نکالی گئی ہے ،ایک طرف بچوں کا پارک ۔۔جہاں ایک چھوٹی سی ٹرین چلتی رہتی ہے ۔۔جھیل میں مستقل کشتیاں رواں دواں تھیں ۔۔۔ہم نے کشتی کا ٹکٹ لیا اور روانہ ہوئے ۔۔۔چند لمحوں کے سفر کے بعد ہم گوتم بدھ کے مجسّمہ کے قریب پہونچ گئے ،جو کہ اک ماہر نقّاش نے تراشا ہے ،طویل القامت  مجسمّہ پانی کے درمیان کھڑا مسکرا کر سبکو دعائیں دیتا دکھائی دیا ۔ آس پاس خوبصورت فوّاروں سے پانی رواں تھا ۔۔۔وہاں سبزے پر کئی لوگ بیٹھے نظر آئے دل کے سکون کے لئے بہترین جگہ تھی یہاں بڑی پر سکون سی خاموشی طاری تھی ۔۔۔
دوسرے دن ہم لوگ سالار جنگ میوزیم پہونچے ۔۔
اس میوزیم کی تعریف کے لئے میر ے پاس الفاظ کم پڑگئے ہیں ۔۔اس عمارت میں ایک پوری دنیا آباد ہے اندر داخل ہوتے ہی احساس ہوا کہ ہم ایک خوبصورت صدی میں آگئے ہیں ۔
میوزیم کا رقبہ کافی طویل تھا یہ ایک دن میں نہیں دیکھا جا سکتا تھا
یہ یقیناً ایک محل رہا ہوگا ۔۔۔بے شمارہال ،طویل راہدریاں   بیچ بیچ میں صحن جن میں طر ح طرح کے پھول اپنی بہار دیکھا رہے تھے  ہرطرف سبزہ پھیلا ہوا تھا ۔۔۔ایک صحن کے سرے پر ایک قدّ ِآدم  ٹی ۔وی لگا ہوا تھا  اسپر ڈرامے نشر کئے جارہے تھے اکثر لوگ وہیں کرسیوں پر بیٹھے محویت سے پروگرام دیکھ رہے تھے ۔۔مگر ہم وہاں نہیں رک سکے کیونکہ وہاں بے شمار چیزیں ایسی تھیں جن کی کشش ہمیں کھیچے لیئے جارہی تھی ۔
روغنی تصویریں ،چینی کے حسین پھولدار ضروف ،سنگ ِمر مر کے حسین ترین مجسّمہ ۔۔۔۔۔۔ہماری توجہ اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔ایک کمرے میں گھڑیوں کا زخیرہ تھا مختلف انداز اور مختلف زمانوں کی بے شمار گھڑیاں وہاں رکھّی ہوئی تھیں  کہیں چینی کے فرشتے وقت اپنی پیٹھ پر اٹھائے کھڑے تھے اور کہیں کانسے کے جوکر وقت کو اپنے پیٹ پر سجائے کھڑے تھے ۔۔۔۔وہاں ایک بہت بڑا ہال تھا جو شاید ڈرایئنگ روم کہا جائے تو ذیادہ بہتر ہوگا ۔۔ہر طرف خوبصورے صوفے لگے تھے  اسکا رقبہ تقریباً 50/50 گز ہوگا چاروں طرف دیوارون پر عمدہ اور قیمتی تصویریں تھیں ۔۔بلکہ پینٹنگس کہنا ذیادہ مناسب ہوگا ،،ان میں مونا لیزا کی تاریخی  پینٹنگ بھی مسکرا رہی رھی ۔۔اسکے علاوہ بھی کئی تاریخی تصویرین تھیں جنکے بارے میں انکے نیچے تاریخ درج تھی ۔درمیان میں جو لکڑی کی منقّش میز رکھّی تھی ان پر بہترین کرسٹل کی شطر نج موجود تھی ،جسکے اوپر ننھے ننھے مہرے  بھی کرسٹل کے بنے ہوئے تھے ۔                                                                            ہال کے آخری سرے پر ایک کانسے کا مجسمہ استادہ تھا اور وہ ڈبل تھا میں شاید سمجھا نہ سکوں ۔۔۔لیکن وہ عجیب و غریب مجسمہ تھا ایک طرف ایک سپاہی بڑی سی تلوار لئے زرہ بکتر پہنے ہوئے  ہوئے تنا ہوا کھڑا تھا اسکے دوسری طرف ایک بڑا آیئنہ لگا ہوا تھا ۔۔اور وہی مجسمہ دوسری طرف سے دیکھئے تو ایک نازک اندام دوشیزہ گھونگھٹ میں سلام کے لئے جھکی نظر آرہی تھی ۔۔۔جسنے پیشواز پہنی ہوئی تھی ۔۔۔اور اپنی مخلوطی انگلیوں سے پیشواز کا دامن تھا ما ہوا تھا ۔حیرت حیرت ۔۔۔۔اور صرف حیرت ۔۔۔۔                                                     ۔۔۔ایک کمرے میں صرف بر تن تھے جن میں چاندی سونے سے لیکر چینی کانسے اور مٹّی تک کے بر تن سجے ہوئے تھے ۔۔چینی کی پیالیوں اور تشتریوں پر فارسی میں اشعار لکھے ہوئے تھے ۔۔۔پلیٹوں میں فارسی کے قطعات موجود تھے ۔چاندی کے کانٹوں چمچوں پر مہارت سے نظام حیدر آباد کے نام کندہ تھے ۔
اب حقّوں کی باری آئی تو دیکھا چینی کے کانچ کے چاندی کے ہر طرح کے حقّے سجے ہوئے تھے ،انکے پیندوں پر اشعار کندہ تھے
چاندی کی نےَ اور کانچ اتنا ہلکا جیسے چاندی کا ورق ۔۔۔حقّوں کے ساتھ ساتھ پائپ بھی سجے ہوئے تھے  طرح طڑھ کے ڈزائین ،طر ح طرح کے مٹریل ۔۔۔ہاتھی دانت کے پائپ بھی موجود تھے اور کانچ کے بھی ۔۔لکڑی کے بے شمار ۔۔۔ان پر مہارت سے نقاشی کی گئی تھی ،بیل بوٹے بنائے گئے تھے ،،سائیز بھی الگ الگ موجود تھے ۔
پوری دنیا کے آرٹ کے نمونے وہاں موجود تھے ،اکثر نقل بھی تھے مگر ایسے کہ انپر اصل کا گماں ہوتا تھا ۔
ایک بہت بڑا ہال کتابوں سےسجا ہوا تھا جہاں اردو فارسی عربی کے قلمی نسخے موجود تھے  سراج دکنی ،اور ولی دکنی کے دیوان سجے ہوئے تھے کچھ کتابیں نظام حیدرآباد کی لکھی ہوئی  تھیں ۔ہر قسم کے رسم الخط موجود تھے ۔قران ِ پاک کی تفسیر قلم اور روشنائی سے لکھی ہوئی ۔۔
پوری دنیا کے آرٹ کے نمونے سجے ہوئے تھے ۔
ایک چیز کا ذکر ضرور کرنا چاہونگی جسے میں آجتک بھول نہ سکی ۔وہ ایک مجسّمہ ہے جو کہ فرانس کے ایک ماہر نقّاش نے تراشا ہے ،یہ ایک قدّ ِآدم مجسمہ جو کہ ابراہیم علہیہ سلام ُکی بہو "ربیکا " کا ہے
سفید اور شفّاف بالکل جیتا جاگتا سا محسوس ہوتا ہے  اس مجسمّے کی خاصیت یہ ہے کہ اسکے جسم پر ایک ہلکا سا روبٹّہ پڑا ہوا ہے ۔۔اور وہ بھی سنگ ِ مر مر سے تراشا ہوا ۔۔۔
ماتھے سے ہونٹوں  تک آتے آتے اس روبٹہّ کی شکنیں اتنی واضع اور حیران کن ہیں کہ جو دیکھتا ہے وہ مبہوت رہ جاتا ہے ۔وہ کپڑا کمر سے نیچے تک جاتا ہے اور جھالر سی بن جاتی ہے ،،وہ حصّہ بھی سنگ ِ مر مر سے بنا ہوا ہے وہ جھالریں پیر کی ایڑیوں تک آتی ہیں اور پیروں میں سینڈل بھی خوبصورتی سے تراش کر بنائی گئی ہے  اس بے مثال مجسّمہ کی تاریخ بھی میں لکھ کر لائی تھی جو مضمون کی طوالت کے پیش ِ نظر ابھی نہیں لکھ رہی ہوں ۔انشاءاللہ  آئیندہ رقم کرونگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لمبنیٰ باغ کی طرح ایٹ اسٹریٹ  بھی حسین ساگر  کا ایک کنارہ ہے ،جسپر خوبصورتی سے ٹورسٹ کے بیٹھنے اور کھانے پینے کا انتظام کیا گیا ہے ۔رنگ برنگی کر سیاں ،سفید جالی کے کنارے نصف دائیرے کی شکل میں لگی ہوئی تھیں ۔اور یہ حصہ حسین ساگر کو چھو رہا تھا لوگ سیڑھیوں پر پانی میں پیر ڈالے بیٹھے تھے ۔۔دوسری طرف کی روشنیوں کا عکس پانی میں جھلملا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور وہ منظر اتنا حسین تھا کہ جو میں بیان نہیں کر سکتی مگر آپ محسوس کر سکتے ہیں ۔
میں اور میری بیٹی کافی لیکر وہاں بیٹھ گئے  اور کنارے پر جلتی بجھتی روشنیوں کا جادو دیکھتے رہے ۔اور پھر رات اتر آئی ۔
حیدراآباد سنڑل مال بھی بیحد خوبصورت ہے مگر اب تو ہر جگہ ایک سے ایک عمدہ مال بن گئے ہیں اسلئے اسکا ذکر نہیں کرونگی ۔۔مگر وہان جو جویلری کی دوکانیں تھیں وہ اسقدر حسین تھیں ،قطار سے سچّے موتیوں کی لائینیں لگی ہوئی تھیں ۔۔اتنے سارے موتی مینے ایک ساتھ کبھی نہیں دیکھے تھے ۔۔۔ایک خوبصورت سجی ہوئی شاپ میں ایک کرسٹل کے بڑے سے پیالے میں سچّے موتی بھرے ہوئے رکھّے تھے ۔۔۔۔وہ میں ابتک نہیں بھول سکی ۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اسدن صبح صبح بیٹی نے جگایا ۔۔۔۔اور بتایا کہ ہم "راموجی فلم سٹی " دیکھنے جارہے ہیں ۔9بجے بس وہاں سے روانہ ہوئی دور دور تک سیاہ پہاڑیاں اور حدّ ِ نگاہ تک سبزہ پھیلا ہوا تھا ۔ایک ڈیڑھ گھنٹے میں ہم اس علاقے میں داخل ہوئے  جہاں ایک اونچی پہاڑی پر دور سے "رامو جی فلم سٹی "کا مخفف آر۔ایف ۔سی ۔نظر آرہا تھا ۔
ہماری بس نہایت آرام دہ تھی اور میری بیٹی فارینا نے بس کے ٹکٹ لیتے وقت فلم سٹی کا ٹکٹ بھی لے لیا تھا اس لئے ہمیں کسی لائین میں نہیں لگنا تھا ۔۔۔آرام سے دوسری کھلی ہوئی بس میں بیٹھ کر آگے بڑھ گئے ۔وہ سرخ رنگ کی کھلی کھلی سی بسیں تھیں جو ہمیں پورا فلم سٹی گھمانے والی تھیں ۔وہ بسیں نہایت آرام دہ،جیسے ہم صوفے پر بیٹھے ہوں اور اوپر سرخ چارد تنی ہو ۔۔۔۔ہر طرف سے پورا علاقہ نظر آرہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سر سبز وشاداب ۔۔۔ایک گائیڈ نے ہمیں تاریخ بتا نا شروع کی ،وہاں پر کئی مغلیہ محلوں کی نقل بنی ہوئی تھی ان محلوں میں فلم کی شوٹنگ ہوتی ہے اور ہمیں نقل پر اصل کا گمان ہوتا ہے ۔۔۔ویسے تو وہا بہت ساری چیزیں قابلِ ذکر ہیں ایک رستوراں مجھے بیحد پسند آیا جہاں بیرے مغلیہ دور کی سر پگڑی اور سفید پیشواز پہن کر کھانا سرو کر رہے تھے ،کھانے کی پلیٹیں اور گلاس چاندی کے تھے کھانے میں  بھی بہت ذائقہ تھا ۔۔۔ہم دونوں نے خوب کھانا کھایا اور آیس کریم بھی ۔۔
بڑی بڑی سفید سیپیاں بناکر اسمیں سرخ پھول ،سفید ،نارنجی ،پھول لگائے گئے تھے ۔۔۔چاروں طرف  بے حد سجاوٹ تھی ۔





بے سائبان


 آآج پہلی بار یہ نہیں ہو ا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابکی تو جب سے سیتا گھر آئی ،اسکا یہی حال ہے ۔رات رات چیخ مار کر اٹھ جاتی ہے آنگن میں بھاگتی ہے کبھی چو کے میں جاکے چھپتی ہے ائر کبھی زینہ کے نیچے دبکتی ہے ۔اسکی آواز میں ایسا درد ہوتا ہے کی سن لو تو رونا آئے ۔بڑی اّماں دو بار جا کر بھوسیلے سے اسے نکال کر لائی ہیں ۔بھو سے کے ڈیر میں چھپی سیتا سبک سبک کر روتی جا ئے ۔۔۔۔۔بڑی امّا ں نے کس کس جتن سے بیا ہ کیا ۔۔اور اب دیکھو لیلا بھگوان کی۔۔۔۔۔
کرشنا نے ٹھنڈی سانس  بھر کے چو ڑیو ں کا ٹو کرا اٹھا لیا اور گلی میں نکل آئی "چو ڑیا ں لے لو چو ڑیا ں،رنگ بر نگی چو ڑیا ں ہر ی نیلی لال گلا بی  پیلی پیلی چو ڑیا ں "بولتے بولتے ایک بار پھر اسکا دل بیچین ہو گیا ۔پو رے محّلے میں ایک سیتا تھی جو سب سے زیا دہ شو ق سے چو ڑیا ن لیتی تھی ،چو ڑیو ں سے بھر ے بھرے ہاتھ سارے گاءو ں میں چھنکا تی پھرتی اور ایک مہینہ پو را نہ ہو تا پھر ننگے ہا تھ لیئے ٹو کرے کے پا س بیٹھی ہو تی " لا کر شنا ۔۔۔۔۔کو ئی اچھی سی چو ڑی نکال  کے دے " وہ جلدی جلدی سا رے ڈبّے کھو ل ڈالتی ۔مگر ابتو  کر شنا آواز بھی دے تو مڑ کر نہیں دیکھتی ۔اپنے ہی دھیا ن میں کھو ئی رہتی ہے ۔
وہ یہی سب سو چتی ہوئی گلی سے باہر نکل آئی کئی ننگ دھڑنگ بچّے کھلیا ن کے قریب  تالاب کے کے کنا رے کھیل رہے تھے ،کچھ تالاب میں کود کر ایک دوسرے پر پا نی اچھال رہے تھے ،کچھ عو رتیں  سر پر دھان کے گٹّھر لیئے چلی جا رہی تھین ۔کئی مر د عورتیں مو گری سنبھال چکے تھے ۔

"آج دھان پیٹا جیہئے ۔۔چلہیو کر سنا ؟؟"گلابو نے تالاب کے کو نے میں کو ڑا پھینکتے ہو ئے مڑ کر کر شنا کو دیکھا ۔
"ناہی آج نہ جابئے  گھر ما کو نو نہیں ہے روٹی کؤ بنائے "گلابو اپنا ٹو کرا لیکر دو سری طر ف مڑ گئی اسنے پھر چو ڑی کے لیئے آواز لگائی  مگر اسکی آواز بلکل خالی تھی ۔۔۔۔جیسے ٹین کے خالی ڈبّے لڑھک رہے ہو ں ۔وہ کھلے زینے سے ہو تی ہوئی سیتا کے گھر اتر گئی وہ روز ہی آجاتی تھی مگر سیتا کو تو جیسے کوئی فر ق ہی نہین پڑتا تھا ۔وہ تو بس پہلے دن کی طر ح خلائوں میں دیکھے جاتی ۔
"کئے امّا ں ۔۔۔۔سیتا رانی کو وید با بو کے  لئے چلیں ۔۔۔۔۔۔؟'کر شنا نے سیتا کا سر ہلکے ہلکے دبا تے ہو ئے بڑی امّا ں سے پو چھا ۔
بڑی امّاں کو فکرو ں نے بلکل لا غر کر دیا تھا ،سر کے سفید جھّو اجیسے بال  چھو ٹی چھو ٹی بیچین آنکھیں ۔۔۔اور چہرے پر پڑی وقت کی دھول اور گہری لکیر وں نے اسے انسان سے جانور بنا دیا تھا ۔ وہ آگے کو جھک کر چلتی اور لیٹتے وقت  ایک گٹھری کی طر ح جھلنگا چا رپا ئی پر گر جاتی ۔
سیتا کو بیا ہ کر اسکی ساری فکریں ختم ہو گئی تھیں ایک اکیلی جا ن کے  پیٹ کو تو گا ءو ں میں کو ئی نہ کوئی روٹی پا نی  دے ہی دیتا تھا  مگر یہ جوا ن جہا ن پھر سے سر پر نا زل ہو گئی تھی  کیا جانے دکھیا پر کیا بپتا پڑی منھ سے تو کچھ پھو ٹتی ہی نہیں تھی ۔
 
کر شنا کے سر سہلانے پر اسنے آنکھین کھو ل کر دیکھا  آنکھو ں میں تیرتی بے یقینی بیخوا بی اور چہرے پر پھیلے خوف نے اپنی پکّی سہیلی کو بہت کچھ بتا نے کی کو شش کی ۔
پر شا د کی بے وفائی بے رہمی  اور ظلم کی کہا نی اسکا روءاں روءا ں بیا ن کر رہا تھا سمجھنے کے لیئے بس ایک ہمدرد دل کی ضرو رت تھی ۔مگر ایک مجبو ری اور بے بسی تھی جس کی وجہ سے سب کی آنکھیں بند تھیں ،زبا ن بند تھی اور کھو ل کر کر تے بھی کیا ؟
جب سیتا بیاہ کر گئی تو پر شاد نے اسے بہت پیا ر دیا  وہ گڑیا جیسی سارے آنگن میں کدّکڑے لگاتی پھر تی  ساس نند بھی واری صد قے ہو تیں اور اسکے خو ش با ش چہرے کو دیکھ کر  پر شا د نہا ل ہو تا ۔
پھر ہو ا یہ کہ کچّا مکا ن پکّا بن گیا ۔چھو ٹا سا زینہ بنا کر اوپر  بڑا سا کمرہ ، صرف سیتا اور پر شاد کے لیئے بنا یا گیا ۔تب بھی سب ٹھیک رہا سب اسے بھا گوان ما نتے رہے  پر شا د کی چھو ٹی سی کرا نے کی دو کان بھی بڑی اچھی چل پڑی تھی ،اس نے دوکان بڑھا لی تھی  ایک لڑکا  بھی کام کے لیئے رکھ لیا تھا ۔دن بہ دن خو شیا ں آتی رہیں اور سیتا چہکتی رہی ۔
مصیبت تو تب آئی جب اسکا پکّا مکا ن دوسر ے  گا ئوں والوں کی نظر مین کھٹکنے لگا اور پھر دوکان پر گو ری چٹّی رمیا پر شاد سے ہنسی دل لگی کر نے آنے لگی اور اسی روز سے سا نو لی سی سیتا پر شا د کے جی سے اترنے لگی ۔
   
دوسرا بر س لگ گیا بچّہ نہ ہو نے کے کا رن امّا ں بھی اکھڑ ی اکھڑی  رہنے لگی ،نند بھی طعنے مارنے لگی ۔۔۔۔۔اور پھر ایک اور غضب ہو ا ،جس دن وہ سوتے سوتے اٹھ کر کھڑکی  پر آئی اور آنگن میں پر شاد اور رمّیا کی کھسر پھسر سننے کے بعد بھاگتی ہو ئی زینے سے  اتری اور لڑ کھڑا تی ہوئی کئی سیڑھیا ں نیچے آگئی ۔گر تے ہی پا ئوں کی ہّڈی ٹو ٹ گئی  تبھی وہ اچا نک سب کے دل سے گر گئی ۔سیتا کو پکّا یقین تھا کہ سیڑھی پر ےتیل رمیا نے ہی ڈالا تھا مگر سنتا کو ن ؟ اب تو وہ اپا ہج اور رمّیا مالکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر جو کچھ ہو ا وہ سو چکر ہی اسکا جی گھبرا تا  ۔اُپر کے کمرے  میں جا نا اسکے بس مین ہی کہا ں تھا ،بکر یو ں کے با ڑے میں چھپّر کے نیچے  بیٹھے بیٹھے سیتا  بو ڑھی ہو تی گئی  پکّے کمرے  کے بند دروا زوں کے پیچھے رمّیا کی چو ڑیا ں کھنکتی رہیں  پر شا د کی ہنسی مذاق کی آوازیں  سیتا کے کا نو ں میں پگھلا ہو ا سیسہ اتا رتی رہیں ۔
پیر کا زخم اب بر داشت سے باہر تھا ، کبھی کبھی زور زور سے  چلاّتی چیختی پر کئی نہ سنتا ۔۔۔۔پھر ایک دن وہ ایسے ہی رو رہی تھی  کہ پر شا دکا دو ست  آکر اسکے برا بر بیٹھ گیا ۔" کا ہے سو ر مچا ئے ہو بھو جی ! کو ئو نہ سنہئے ۔۔۔۔۔اب ہم آئے گیئن ہے نا ۔۔۔۔۔اب چُپی سا دھو ۔۔" اسکے منھ سے اتی ہو ئی  گندی سی بد بو  نے سیتا کو ہلا کر رکھ دیا ۔
"بھوٗجی کا ہے پریسا ن ہو ت ہو ۔۔۔بتا ؤ کہا ں پیرا ہو ت ہے ؟؟؟؟"(کیو ں پر یشا ن ہو تی ہو بتا ؤ کہا ں درد ہے )اسنے اپنا مضبو ط  با لو ں سے بھرا ہا تھ  سیتا کی نا زک سی پنڈلی پر  رکھا اور وہا ں سیتا کی پکار سننے والا کوئی  نہیں تھا ۔پھر وہ گھڑی آئی  جب فیصلہ اسکو خد ہی لینا پڑا ۔تبھی سے وہ امّا ں کی کٹیا میں آن پڑی ۔
   کرشنا نے اسکے بال سنوارے  چہرہ دھلا یا دھول پسینے سے اٹی سا ڑی بدلوائی ۔پیر کا زخم ابھی پو ری طر ح تھیک نہیں ہوا تھا ہڈّی جڑ جانے کے بعد بھی چلتے چلتے لڑکھڑا جا تی تھی وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زخم پر جڑی بو ٹی کا لیپ بھی لگاتی تھی کر شنا ۔۔۔۔
گاؤں کے سبھی لو گو ں کا جام نگر والے آشرم اور وہا ں کے با با پر شو رام پر پو را بھرو سہ تھا وہ چھو ٹی مو ٹی بیما ری کا علاج تو مفت ہی  کر دیتے تھے کئی عو رتیں بچے وہا ں جا کر ٹھیک ہو چکے تھے ۔انکی دوا علاج آس پا س کے کئی گا ؤں میں مشہو ر تھا ۔صبح اندھیرے سے جا کر حا ضری لگا نا پڑ تی تب کہیں شا م تک نمبر آتا تھا ۔کئی مر یض تو جا کر وہیں آشرم میں پڑ جاتے یا تو ٹھیک ہو کر یا پھر مر کر ہی نکلتے پھر بھگوان نے جسکی جتنی لکھدی اس سے زیا دہ با با جی کیسے بنا دیتے ؟؟؟
امّا ں سب کے کہنے پر تیا ر تو ہو گئی  مگر را ستہ لمبا تھا  راہ میں کئی جھا ڑ جھنکا ڑ ،ایسے میں کر شنا  کا جی نہ مانا وہ اپنی چو ڑیو ں کا ٹو کرا  گھر میں ڈال کر انکے ساتھ ہو لی ۔
" ہم ہو چلبئے بڑی امّا ں "اس نے آدھے را ستے سے انھیں جا لیا ۔
"ہا ں ری کر سنا تو چل ایکا لیئکے ہم سے تو اب چلا نا ہی جات "(کرشنا تو اسکو لیکر جا ہم سے اب چلا نہیں جا تا )امّاں اسکے آنے سے بیفکر ہو کر وہیں پڑے پتّھر پر بیٹھ گئی ۔
کرشنا سیتا کا ہاتھ تھام کر آہستہ آہستہ چلنے لگی ۔آشرم کا ادھا کائی لگا کلس دور سے چمک رہا تھا آس پا سنیم اور گو لر کے پیڑ کھڑے تھے  آشرم کے پیچھے ایک کو ٹھری میں با با جی کچھ بچوّ ں کو شکشا دے رہے تھے ۔
پہلے دونوں نے آشرم پر ما تھا ٹیکا ،کر شنا نے ہا تھ جو ڑ کر بھگوا ن سے سیتا کا بھلا ما نگا ۔ آشرم کے ایک چیلے نے آکر بپتا پو چھی اور اندر چلا گیا ۔وہ دونو ں پسینہ پو چھتی ہو ئی نیم کے نیچے بیٹھ گئیں ۔کچھ دور ہینڈ پمپ لگا دیکھ کر کر شنا اٹھی اور جا کر پا نی پیا ،پا س پڑی ایک مٹّی کی ہنڈیا میں سیتا کے لئے پا نی بھر لائی ۔اپنی دھو تی کے کو نے میں بندھے مر مرے اور چنے تھو ڑے خد لیکر با قی سیتا کو دے دیئے ۔
دھو پ کی تپش اب کم ہو نے لگی تھی ،ٹھنڈی ہو ا چلنا شرو ع ہو گئی دوسری طرف لگے جا من کے پتّے تا لیا ں بجا رہے تھے وہین تا لاب میں کچھ بھو ری اور سفید بطخیں  تیر رہی تھیں آس پا س گا ؤ ں کے بچےّ کھیل رہے تھے عو رتیں میلی میلی ساریا ں با ندھے آ جا رہی تھیں ۔
شام اور بڑھ آئی تو وہ چیلا پھر نمو دار ہوا ۔
"چلو با با جی بلا تے ہیں "
سیتا کر شنا کا ہا تھ تھام کر بڑی مشکل سے کھڑی ہو ئی  مگر چیلے نے اسے روک دیا ۔
" روگی کون ہے ؟؟"
" یہ ہے بھیا ۔۔۔۔سیتا بہن ۔۔۔۔"
" تو پھر تم یہں بیٹھو ہم دکھلا کر لاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔"وہ سیتا کو لیکر آگے بڑھ گیا ۔
لمبا سا چندن کا ٹیکہ لگائے سفید وستر لاکڑی کی کھڑا ویں پہنے  با با جی نے اپنی سر خ سر خ آنکھین اٹھا کر  سیتا کو دیکھا ۔وہ بھد سے زمین پر بٹھ گئی اور ہا تھ جو ڑ کر آنکھین بند کر لیں ۔
" بو لو کیا کشٹ ہے ۔۔۔۔۔؟؟"ان کی بھا ری آواز گو نجی سیتا نے ڈرتے ڈرتے سر اٹھا یا مگر ہو نٹو ں سے آواز نہ پھو ٹی ۔
"ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" با با جی نے ہنکا را بھرا ۔
"سو رگ بھگوا ن کا ہے نر ک بھگوا ن کا    ۔۔۔۔۔۔پیرا بھگوا ن کی ہے سکھ بھگوا ن کا " انھو نے چلتے چلتے کو ٹھری کا دروا زہ بھیڑ دیا ۔۔۔۔۔
"سب ما یا بھگوا ن کی ہے  سب لیلا بھگوا ن کی " انھو ں نے کنڈی چڑھا کر اسمیں لو ہے کی سلاخ  گا ڑ دی ۔
"بھگوان مہا ن ہے ،دکھ درد اسی کی دین ہے ۔۔۔۔۔پچھلے جنم کا  بھو گ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
بھبھو تی سے بھرا ہاتھ سیتا کے ما تھے پر مل دیا
" بھگوان ہے تو  جگ ہے جگ والے ہیں ۔۔۔اسکے آگے سب لا چا ر ۔۔۔۔" انھوں نے دو نو ں  ہتھیلیا ں سیتا کے کا ند ھو ں پر جما دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اور باہر نیم کے نیچے کر شنا رات گئے تک راہ تکتی رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
https://ssl.gstatic.com/ui/v1/icons/mail/images/cleardot.gif


قرب ِ قیامت
"بھیّا ہو ۔۔۔۔۔دیکھو ای بکری گابھن ہے جانو "
"ہوں ۔۔۔۔۔۔"داد نے حقّہ کی منال منھ سے لگا کر اک لمبا کش لیا ۔
"ای کا چرائے کھا تر لے جائی کہ ناہی ۔۔۔۔"
"لے جا ؤ لے جاؤ ۔۔۔۔اچھّا ہے کچھ گھانس پتّے کھائے گی ،نہر کا تازہ پانی پیئے گی تو جان آئے گی نا ۔۔۔ابھی تو کچھ دن لگیں گے ؟جب دن قریب ہوں تو چھوڑ جا نا باڑے میں ۔۔۔"انھو ں نے پیر تخت سے نیچے لٹکائے تو غفور نے جلدی سے انکے جوتے پیر کے پاس کر دیئے ۔اور بکریوں کو ہنکا تا ہوا با ہر نکل گیا ۔
اسنے دالان کے کونے میں کھڑے ہوکر ساری بات سنی ۔ابھی ابھی اسکول سے واپس آیا تھا کپڑے بھی نہیں بدلے تھے بھاگ کر دادا سے لپٹ گیا ۔۔۔
"دادا ۔۔۔۔۔میں کھیلوں گا ان بچوّں سے ۔۔۔۔کب آئینگے بکری کے بچّے ؟"
"آجائینگے آجائینگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چلیئے پہلے کپڑے بدلئے کھا نا وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چلئے اندر آپکی امّی انتظار کر تی ہونگی ۔۔"
وہ دوڑتا ہوا اندر چلا گیا ۔۔۔۔۔
جب سے جاوید کے ابّا محا ذ  پر گئے تھے وہ دادا سے ذیادہ قریب ہوگیا تھا ۔رات کو ان سے بغیر کہانیاں سنے اسے نیند بھی نہیں آتی تھی ۔۔۔وقت گزرتا چلا جارہا تھا ایک رات کھانے کے بعد وہ دادا کے پاس کہانی سن رہا تھا
"ہمارا تمہارا خدا بادشاہ ۔۔خدا کا بنا یا رسول بادشاہ ۔۔۔" وہ کہانی اسی طرح شروع کرتے تھے ۔۔
"کسی شہر میں ایک بادشاہ رہا کرتا تھا اسکی سات بیٹیاں تھیں وہ ان سب سے بہت محبّت کرتا تھا ۔ایک بار ۔۔۔۔۔۔۔"
"بھیّا ہو ۔۔۔۔۔بکری بیانی ہے ۔۔۔(بکری نے بچّے دیے ہیں ) باہرڈیوڑھی سے غفور کی گھبرائی ہوئی سی آواز آئی " دادا نے مڑ کر اسکی بند ہوتی ہوئی آنکھوں کی طرف دیکھا اور آواز آہستہ کر کے بولے "ہاں ہاں تو ٹھیک ہے پانی گرم کر کے نہلا دو انھیں ۔۔۔۔۔"
"بھیّا جرا دوارے تو آیئے ۔۔۔۔دیکھئے تو ۔۔۔۔" غفورکی آواز کپکپا رہی تھی ۔دادا کچھ حیران ہوکر باہر نکل گئے تب اسنے رضائی اپنے پیروں سے ہٹائی اور آہستہ قدموں سے پلنگ سے اتر کر دالان میں جھانکنے لگا
غفور آہستہ آہستہ  کچھ بات کر رہا تھا  اور دادا خاموش تھے ،پھر وہ اندر آنے کے لئے مڑے تو وہ جلدی سے باہر نکل آیا ۔۔
"دادا ہم بھی دیکھینگے بکری کے بچّے ۔۔۔"
"اندر چلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" دادا زور سے بولے تو وہ حیران ہوا مگر اسنے سامنے پڑے ہوئے ننھے وجود دیکھ ہی  لئے تھے ۔۔وہ سہم کر بھا گتا ہوا کمرے میں آیا اور رضائی اڑھ کر بھی کانپتا رہا تھا
دادا کب آئے اور کب انکے خرا ٹے گو نجنے لگے وہ اپنی آنکھیں بند کئیے خا موش لیٹا رہا ۔۔۔دو ننھے وجود اسکی نگا ہوں میں گھومتے رہے ۔۔نہ جانے کب تک وہ ڈرتا رہا اور کب ننید کی وادیوں مین اتر گیا ۔۔۔۔۔
صبح ہلکے اجالے میں دادی اور امّی کی باتوں کی آواز آرہی تھی ۔
"غضب خدا کا ۔۔۔۔انسان بالکل وحشی ہو چکا ہے ۔۔یہ سب قرب ِ قیامت کی نشا نیاں ہیں ۔۔اپنے نفس پر ذرا قابو نہیں ۔۔۔۔ بے زبان جانور کو بھی نہیں چھوڑتے ۔۔تو بہ توبہ ۔۔کیا قہر ہے "
وہ گھبرا کر اٹھ گیا اسے رات کی ساری باتیں خواب کی طرح یاد آنے لگیں ۔۔پھر اسنے سنا وہ بکری کے بچّے رات ہی کو ختم ہوگئے تھے ۔۔اسکی نگا ہوں میں ایک بار پھر وہ نو مولود بکری کے سر اور انسان کے جسم والے عجیب الخلقت بچّے آگئے ۔۔ ۔وہ کئی دن تک سہما سہما رہا ۔۔۔وہ سونے کے لئے لیٹتا تو وہ بکری کے منھ اور انسانی جسم والے بچّے آکر اسے ڈرانے لگتے ۔۔۔۔اسنے کہانیاں سننا چھوڑ دیا تھا ۔۔امّی کے پاس سونے لگا
مگر سوتے وقت اسُ بات کو یاد کر کے کانپ جا یا کرتا تھا ۔کئی دن گزر گئے تھے ابّا کا فون بھی آگیا تھا وہ چھٹیّ لیکر آنے والے تھے ۔
وہ صبح بھی روز جیسی تھی مگر وہ ابھی تک بستر میں تھا ۔امّی بہت دیر سے ناشتہ لئے بیٹھی تھیں ،انھوں نے کئی بار جاوید کو آواز دی ۔۔پھر خود آگئیں اور اسکا سر سہلا کر اسے جگانے لگیں
"اٹھ جا بیٹا ۔۔۔اسکول نہیں جائے گا تو اپنے ابّا جیسا کیسے بنے گا ۔۔اٹھ جا میرے لعل ۔۔۔۔"وہ انکی گود میں سر رکھّ کر لاڈ اٹھواتا رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر بے دلی سے اٹھ کر تیّا ر ہونے لگا ۔جب
 وہ اسکول جانے کے لئے تیّار ہوا تو  موسم کافی بہتر تھا کھلیُ کار میں خوشگوار ہوا سے اسکا دل ہلکا پھلکا سا ہو گیا تھا ۔۔۔چاروں طرف پھیلے ہوئے راستے کے پیڑوں میں شور مچاتی ہوا بہت اچھْی لگ رہی تھی صبح صبح کا سہا نا منظر خوبصورت لگ رہا تھا ۔۔۔پیڑ کے پتّوں پر رکی ہوئی شبنم رہ رھ کر قطرہ قطرہ برس رہی تھی ۔اک دھند تھی جو چھَٹ رہی تھی ۔۔۔
کلاس مین جاتے ہوئے کئی بچّوں نے اسکی خیریت پوچھی وہ گنگنا تا ہوا اپنی جگہ آکر بیٹھ گیا ۔۔۔ایک ساتھی سے اسکی کاپی لیکر نوٹس اتارنے   لگا ۔
اچانک عجیب شور سا محسوس ہوا سارے بچّے کلاس روم سے باہر دیکھنے لگے ،تڑا تڑ گولیاں چل رہی تھیں اک بھگد ڑ سی ہو رہی تھی ہر طرف اندھا دھند گو لیاں برس رہی تھیں وہ غائب دماغی سے بچّوں کی چیخیں سن رہا تھا ۔۔ وہ دوڑ کر سامنے بنے ہوئے آتش دان میں چھپ گیا ۔اپنے آپ کو آتش دان میں چھپا کر اپنا بستہ اسنے سامنے کر لیا ۔۔۔۔۔کلاس میں اب کئی لوگ آچکے تھے بچّوں کی فلک شگاف چیخیں اسے دہلا رہی تھیں ۔دور کہیں
دادی سورۃ واقعہ پڑھ رہی تھیں " جب زمین بڑے زوروں سے ہلنے لگے گی اور پہاڑ ٹکرا کر چور چور ہو جائینگے پھر ذرّے بنکر اڑنے لگیں گے ۔۔۔۔۔" وہ تر جمہ سنا رہی تھیں شاید یہ وہی وقت ہے ۔۔۔۔۔رونے اور چلّانے کی آوازوں سے کان پھٹے جارہے تھےافرا تفری کا عالم تھا  گولوں کی آواز ۔۔۔با رود کی  نا گوار بو ۔۔اب اسکے پاس آگئی تھی ۔۔وہ دعائیں کر رہا تھا کاش کوئی آجائے اسے اوراسکے دوستوں کو بچا لے ۔۔۔اپنی بھینچ کر بند کی ہوئی آنکھیں کھولیں تو کچھ سائے اسکے سامنے تھے ،سامنے سے بستہ ہٹ چکا تھا وہ رائفل کی ذد میں تھا اس نے سر اٹھا کر دیکھا ۔۔۔اور حیران رہ گیا  اسکے سامنے انسانوں کے چہروں والے کئی بھیڑیے کھڑے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دادی کی آواز ابھی تک آہستہ آہستہ سنائی دے رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر سب کچھ محو ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




روٹی اور گلاب ۔۔۔۔
"باجی روٹی دے دو ۔۔۔۔۔" وہ پھر آج صبح صبح دروازے پر آکھڑی ہوئی ۔میلا کچیلا سا شلوار سوٹ بالوں کی میلی لٹیں چہرے پر بکھری ہوئی ،تیرہ ،چودہ برس کا سِن ،ذہین معصوم آنکھیں ۔اور یہ لا چاری ۔
ایک دفعہ تو مینے بھی منع کر دیا تھا ۔
"جاؤ ابھی روٹی نہیں پکّی ۔۔۔"وہ سر جھکا ئے اگلے گھر کی طرف مڑ گئی مگر مجھے اچانک بے حد رنج ہوا کچھ اور دید یتی ۔بسکٹ یا ڈ بل روٹی کچھ بھی ۔۔۔۔روز تو نہیں آتی تھی وہ۔۔۔۔۔۔ محلّہ میں اکثر لو گوں نے منع کیا تھا کہ یہ لڑ کیاں چور ہوتی ہیں کبھی گھر کے اندر نہ بلایئے گا ۔آنکھو ں کا کاجل چراتی ہیں  آپکو پتہ بھی نہیں چلے گا ،اپنا کام کر جائینگی ۔
آج جب وہی آواز پھر سنائی دی
"باجی روٹی ۔۔۔۔۔"تو ایک لڑکی اور ساتھ کھڑی تھی ۔۔۔۔
"اچھّا ایسا کرو ۔۔یہ زینہ کے ساتھ بہت کو ڑا ہے جھاڑو لے لو اور دونوں ملکر یہاں صفائی کردو پھر لے جا نا روٹی ۔۔۔۔۔"
گھر کے پیچھے کا دروازہ کھول کر مینے جھاڑو دینے کے لئےاندر بلا یا ۔وہ اندر آئی تو گملے دیکھنے لگی ۔۔۔ساتھ والی لڑکی سے بولی
"دیکھ کیسا بڑا سا گلاب کا پھول ہے ۔۔۔"وہ دونوں دوسرے پھو لوں پر بھی تبصرہ کر تی جارہی تھیں ۔مینے جھاڑو دیکر انہیں باہر بھیجا اور خود بھی کچھ دیر ان گلا بوں کو دیکھتی رہی  ۔
کا فی در تک دونوں ملکر صفائی کر تی رہیں ۔مینے ایک پو لیتھین میں کئی روٹیاں اور رات کا سالن لپیٹ کر رکھ دیا پھر دس روپیے بھی ساتھ ہی رکھ دیے ۔وہ بڑی دلجئی سے صافا ئی میں جٹی ہو ئی تھی مینے غور سے اسکا چہرہ دیکھا بھولا سا چہرہ ،گو را رنگ جو کہ دھبوّں اور میل کی وجہ سے کم ہی نظر آرہا تھا ،میلے میلے ہاتھ پاؤں  جمپر کی آستیں پھٹ کر لٹک رہی تھی ۔پرا نا سا کڑھائی والا کر تا  شلوار جو کسی نے از راہ ِ ہمدردی دیا ہوگا ۔
اسے بھی پھول اچھّے لگتے ہیں ؟؟ کتنی خوشی سے کہہ رہی تھی وہ ۔
کو ئی بات نہیں میرے پاس تو بہت سارے پھول ہیں یہ گلاب اسکو دے دونگی ۔مینے بڑی احتیاط سے گلاب کو شاخ کے ساتھ نکا لا ۔وہ پیچھے جھا ڑو رکھنے آئی ۔

"یہ لو ۔۔۔۔" مینے گلاب کا بڑا سا سر خ پھول اسکی طرف بڑھا یا ۔اسکا چہرہ خطر ناک حد تک سفید ہو گیا ۔۔۔
"ہمکو روٹی دے دو باجی ۔۔۔۔" وہ ہکلائی ۔۔مینے دوسرے ہاتھ میں لیا ہوا پولیتھین اگے کیا ،اسنے جھپٹ کر پو لیتھین میرے ہاتھ سے لیا اور بھاگتی ہوئی  باہر نکل گئی ۔
اور میں گلاب کا پھول انگلیوں میں تھامے کھڑی ہوں ۔۔کہتے ہیں دُکھ غیب کی آنکھیں کھول دیتے ہیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
خرا شیں 

وہ بستر پر یوں پڑے تھے جیسے کوئی سمٹی ہوئی چادر پڑی ہو ۔حا لا نکہ    ما موں بے حد نفیس طبیعت کے مالک تھے ،انھیں دیکھ کر مجھے بہت رنج ہونے لگا ۔۔۔۔اپنے بارے میں کچھ بھی بتا نا نہیں چاہتے تھے مگر میری ضد کے سامنے ہار گئے ،اٹھ کر چار پائی پر بیٹھ گئے ۔میں پاس پڑی کر سی پر بیٹھا تھا ۔سامنے آم کا باغ تھا اور ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی ۔۔۔۔وہ کافی دیر خاموش سر جھکائے بیٹھے رہے ۔۔۔پھر آہستہ آہستہ کہنا شروع کیا ۔
"صبح تو روز جیسی تھی مگر نہ جانے کیوں میری آنکھ پھڑک رہی تھی ،جس کام کے لئے باہر گیا ہوا تھا وہ بھی نہیں ہوا ۔بازار کی رونقوں اور سڑک کے شور و غو غا سے گھبرا کر جلدی جلدی گھر کی جانب روانہ ہوا ۔دروازے کے سامنے برامدے میں زاغ انگور لئے بیٹھا تھا ۔۔۔وہ ہمارے رشید بھائی ۔۔جو ہمارے ابّا کے دور کے رشہ دار ۔پچھلے محلّے میں رہا کرتے تھے نہایت بد شکل و بد ہیبت تھے مگر بیوی ایسی ملی تھی کہ لوگ رشک کرتے تھے ۔۔۔اسی نسبت سے باجی کہا کرتی تھیں ۔"زاغ کی چونچ میں انگور خدا کی قدرت ۔پہلوئے حور میں لنگور خدا کی قدرت " ۔
مجھے دیکھا تو جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھا دیا پھرہنسے ہوئے گلے بھی لگ گئے ۔مینے شر مندہ ہو کرکرتے کی جیب سے کنجی نکالی اور دروازہ کھول کر انھیں اندر بلا یا ۔کمرہ برے حالوں میں تھا ۔رشید بھائی سے تو کیا شر مندہ ہوتا انگور سے خجالت ہو رہی تھی ۔وہ جو پہلی پہلی بار میرے گھر آئی تھیں ،کالے برقے میں بادام آنکھیں چمک رہی تھیں ،جارجٹ کی نقاب ،گلابی ہونٹو ں کو اور بھی اجاگر کر رہی تھی صحن میں کھلے گلا بون کی ساری پنکھڑیاں شر مندہ  شر مندہ لگ رہی تھیں ۔وہ دونوں میرے کمرے کے واحد پلنگ پر ٹک گئے ۔اور میں " ابھی آیا ۔۔۔۔۔۔" کہہ کر با ورچی خانے کا جائزہ لینے پہونچا ۔فریج سے  کچھ پھل اور ڈبّے سے بسکٹ پلیٹ میں ڈال کر چائے لیکر واپس کمرے میں آیا تو انکی انگلیوں نے کمرے کی قسمت سنوار دی تھی ،تولیہ کھڑکی کے پاس ہنگر میں جا ٹنگا تھا اور بستر پر چادر کی ہر سلوٹ غائب تھی ۔کرسی پر پڑے کپڑے ایک جانب رکھّے ہوئے ٹین کے ٹرنک  پر تہہ کئے رکھّے تھے ،میں پانی پانی ہوگیا ۔
معمولی سی چائے اور ناشتے کے بعد رسمی باتوں کو سلسلہ بھی رُک رُک کر چلا ۔اذان ہونے لگی تھی ،اور اسی آپا دھاپی میں میں اپنی ٹوپی نہ جانے کہاں گرا آیا تھا ،ادھِر اُدھر ڈھو نڈتا پھرا ۔۔۔تب ہی انھو ں نے اپنے بیگ سے ایک بادامی بڑا سا رومال برا مد کیا ۔
"یہ لیجئے ۔۔۔۔" انھوں نے میری طرف بڑھا یا تو میں رشید بھائی کی جانب دیکھنے لگا ۔
" ارے بھائی ۔۔۔لے لو نماز ادا کر آتے ہیں تب تک یہ یہیں رہیںگی ۔۔۔۔۔چلئیے " انھوں نے قدم باہر بڑھائے تو  نا چار میں بھی  چل پڑا ۔
نماز کس کمبخت نے ادا کی  نہ جانے کون کون سے خیالات ذہن میں  شورش مچا رہے تھے ۔گاؤں میں امّی نے بتایا تھا کہ یہ رشید بھائی کی چچا ذاد ہیں اور انکی والدہ اس بے جوڑ شادی پر راضی نہ تھیں مگر جائیداد دوسرے خاندان میں چلے جانے کے خوف سے رشید بھائی سے نکاح لازم ہوگیا ۔
وہ دن تو گزر گیا مگر اب پوری زندگی کیسے کٹے گی ۔سوچ کر میرا کلیجہ منھ کو آتا تھا مینے تو رابعہ کے بعد کسی کو نظر بھر کے دیکھا بھی نہ تھا ۔اسکے جانے کے بعد ساری زندگی اکیلے رہنے کی ٹھانی تھی مگر یہ عجب ماجرہ ہوگیا تھا کہ دل کو کسی پہلو قرار نہ تھا ۔آپ ہی آپ مسکرا تا تھا ،آپ ہی آپ رونے کو دل چاہتا ۔اور وہ بھی ایک ایسا ہی دن تھا جب میری روتے روتے ہچکی بندھ گئی ،سڑک کے کنارے شیشم کے درخت کے نیچے  نہ جانے کبتک بیٹھاروتا رہتا جو مسجد سے نکلتے ہوئے رشید بھائی کی نظر نہ پڑجاتی ۔وہ مجھے گلے لگائے ہوئے اپنے گھر لے آئے  پانی پلا یا اپنے ہاتھ سے میرا منھ دھلا یا ۔اور اندر سے شربت کا گلاس کشتی میں رکھ کر پر دے کے اس پار آیا تو کشتی اور شر بت دونوں کپکپا رہے تھے اسی جل ترنگ میں کانچ کی چوڑیوں  کی آواز بھی ہم آہنگ تھی ۔
شام کو اجازت چاہی ۔مگر نہیں ملی رشید بھائی نے سختی سے اکیلے رہنے کو منع کر دیا اور گاؤں چلے جانے کی تجویز رکھّی ۔مگر پھر نو کری کا کیا ہوتا ۔۔اسلئے ممکن نہ ہوا ۔مگر رشید بھائی نے کمرے پر نہیں جانے دیا ۔تین دن تین راتیں اسی طرح گزریں ۔۔چوتھے دن جب وہ کام پر نکل گئے تو مینے کلام کر نے کی ٹھانی ۔زنجیر بجائی تو وہ دروازے کی آڑ میں آگئیں ۔
کچھ مینے کہا کچھ انھو ں نے جواب بھی دیا ۔نتیجہ یہ تھا کہ دونوں طرف تھی آگ برا بر لگی ہوئی ۔"
مینے پھر اپنے کمرے پر جانے کی ضد بھی نہیں کی بلکہ رشید بھائی کے ساتھ جاکر چند جو ڑے کپڑے بھی لے آیا ۔
اُس دوپہر میں جلد ی واپس آگیا تھا ۔وہ دروازے پر تھیں میں اشعار سنا رہا تھا وہ داد دے رہی تھین اور تبھی مینے حالِ دل کہہ ڈالا ۔اندر سے سسکی کی آواز آئی ۔۔اس سے پہلے کہ میں انکے آنسو پونچھتا  ،پیچھے مڑ کر دیکھا تو پتّھر کا ہو گیا ،رشید بھائی خاموش اُداس نگا ہوں سے مجھے دیکھ رہے تھے ۔میرے پاؤں من من  بھر کے ہوگئے ۔وہاں سے اٹھا تو اپنے کمرے پر آکے دم لیا ۔چند ساعت گزری ہونگی کہ رشید بھائی سر جھکائے ہوئے مو جود تھے  میں احساس ِ ندا مت سے چُور چُور تھا وہ کچھ دیر کھڑے رہے ۔۔پھر آہستہ آہستہ گو یا ہوئے ۔
"میں ناھید بیگم کو تمہیں سونپتا ہوں  میں تو واقعی انکے لائق نہیں ،کل قاضی کے سامنے طلاق دے دونگا  اور عدّت گزر جانے پر تم انھیں ۔۔۔۔۔۔" میں زارو قطار  رونے لگا مینے اپنا آپ انکے قدموں میں بچھا دیا ۔اور تڑپ تڑپ کر معافی مانگی ۔ادُھر اک جامد سنّا ٹا تھا۔ مینے انھیں اس عمل سے روکنے کے لئے امّاں کی قسمیں کھائیں ۔۔۔اور اسی دن سامان سمیٹ کر نوکری پر لات ماری اور گاؤں کے لئے روانہ ہوا ۔
وہ دن یاد آتا ہے تو زار زار روتا ہوں مگر اپنے آپ کو معاف کرنے کی ہمّت اب بھی نہیں مجھ میں ۔۔۔۔اللہ مجھے معاف کرے " وہ کمر پکڑ کر بستر سے اٹھے ،کپکپاتے ہاتھوں سے اپنے آنسو صاف کئے سفید بالوں پر ہاتھ پھیرا اور دیوار کا سہارا لیکر کھڑے ہوئے ۔پھر تکیہ کے نیچے سے اک با دامی بڑا سا رومال نکالا  اور نماز کے لئے مسجد کی طرف روانہ ہوئے                   ۔۔میں دم بخود تھا ۔اب ان سے کیا کہتا  ۔
٭٭٭
چلتی رہے زندگی ۔۔۔۔۔۔
مینے پہلا پاؤں بادلوں پر رکھ دیا ۔۔۔ایک نرم سی ٹھنڈ ک میرے اندر اتر آئی ۔۔ایک خوبصورت احساس سارے وجود میں تیرنے لگا ۔۔۔نرم سفید خنک بادل ۔۔۔وہ ایک خوبصورت شام تھی جب مینے حیدرآباد میں قدم رکھّا ۔۔۔
دنیا کے کئی شہر دیکھے ،سعودی عرب کا شہر ریاض ،امریکہ کا شہر شکاگو ،انگلنڈ کا شہر لندن ۔۔۔۔ایران کا شہر تہران ۔۔۔مگر اپنے ملک کا اتنا خوبصورت شہر پہلی بار دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برسات کا موسم شروع ہورہا تھا ہر طرف بادلوں کی دھند چھائی ہوئی تھی ۔۔۔اور میں چل پڑی تھی ایک لمبی سیر کے لئے حیدرآباد کی سمت ۔۔۔وہ حیدرآباد جسکے بارے میں صرف سنا تھا یا پڑھا تھا ۔۔نظام حیدرآباد کی لائیبرئری کے بارے میں ،حسین ساگر کے بارے میں اور ان شفّاف مو تیو ں کے بارے میں ۔۔۔اور میں سوچ رہی تھی یہ سب کچھ قریب سے دیکھنا کتنا روح پر ور ہوگا ۔۔۔
سب سے پہلے ہم حسین ساگر دیکھنے گئے یہ ایک خوبصورت جھیل ہے جو چاروں طرف شہر سے گھری ہوئی ہے ،اسکے درمیان گوتم بدھ کا بلند مجسمہ استادہ ہے ۔۔۔ایک طرف لمبنی باغ جہاں سبزہ کاٹ کر درمیان سے سڑک نکالی گئی ہے ،ایک طرف بچوں کا پارک ۔۔جہاں ایک چھوٹی سی ٹرین چلتی رہتی ہے ۔۔جھیل میں مستقل کشتیاں رواں دواں تھیں ۔۔۔ہم نے کشتی کا ٹکٹ لیا اور روانہ ہوئے ۔۔۔چند لمحوں کے سفر کے بعد ہم گوتم بدھ کے مجسّمہ کے قریب پہونچ گئے ،جو کہ اک ماہر نقّاش نے تراشا ہے ،طویل القامت  مجسمّہ پانی کے درمیان کھڑا مسکرا کر سبکو دعائیں دیتا دکھائی دیا ۔ آس پاس خوبصورت فوّاروں سے پانی رواں تھا ۔۔۔وہاں سبزے پر کئی لوگ بیٹھے نظر آئے دل کے سکون کے لئے بہترین جگہ تھی یہاں بڑی پر سکون سی خاموشی طاری تھی ۔۔۔
دوسرے دن ہم لوگ سالار جنگ میوزیم پہونچے ۔۔
اس میوزیم کی تعریف کے لئے میر ے پاس الفاظ کم پڑگئے ہیں ۔۔اس عمارت میں ایک پوری دنیا آباد ہے اندر داخل ہوتے ہی احساس ہوا کہ ہم ایک خوبصورت صدی میں آگئے ہیں ۔
میوزیم کا رقبہ کافی طویل تھا یہ ایک دن میں نہیں دیکھا جا سکتا تھا
یہ یقیناً ایک محل رہا ہوگا ۔۔۔بے شمارہال ،طویل راہدریاں   بیچ بیچ میں صحن جن میں طر ح طرح کے پھول اپنی بہار دیکھا رہے تھے  ہرطرف سبزہ پھیلا ہوا تھا ۔۔۔ایک صحن کے سرے پر ایک قدّ ِآدم  ٹی ۔وی لگا ہوا تھا  اسپر ڈرامے نشر کئے جارہے تھے اکثر لوگ وہیں کرسیوں پر بیٹھے محویت سے پروگرام دیکھ رہے تھے ۔۔مگر ہم وہاں نہیں رک سکے کیونکہ وہاں بے شمار چیزیں ایسی تھیں جن کی کشش ہمیں کھیچے لیئے جارہی تھی ۔
روغنی تصویریں ،چینی کے حسین پھولدار ضروف ،سنگ ِمر مر کے حسین ترین مجسّمہ ۔۔۔۔۔۔ہماری توجہ اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔ایک کمرے میں گھڑیوں کا زخیرہ تھا مختلف انداز اور مختلف زمانوں کی بے شمار گھڑیاں وہاں رکھّی ہوئی تھیں  کہیں چینی کے فرشتے وقت اپنی پیٹھ پر اٹھائے کھڑے تھے اور کہیں کانسے کے جوکر وقت کو اپنے پیٹ پر سجائے کھڑے تھے ۔۔۔۔وہاں ایک بہت بڑا ہال تھا جو شاید ڈرایئنگ روم کہا جائے تو ذیادہ بہتر ہوگا ۔۔ہر طرف خوبصورے صوفے لگے تھے  اسکا رقبہ تقریباً 50/50 گز ہوگا چاروں طرف دیوارون پر عمدہ اور قیمتی تصویریں تھیں ۔۔بلکہ پینٹنگس کہنا ذیادہ مناسب ہوگا ،،ان میں مونا لیزا کی تاریخی  پینٹنگ بھی مسکرا رہی رھی ۔۔اسکے علاوہ بھی کئی تاریخی تصویرین تھیں جنکے بارے میں انکے نیچے تاریخ درج تھی ۔درمیان میں جو لکڑی کی منقّش میز رکھّی تھی ان پر بہترین کرسٹل کی شطر نج موجود تھی ،جسکے اوپر ننھے ننھے مہرے  بھی کرسٹل کے بنے ہوئے تھے ۔                                                                            ہال کے آخری سرے پر ایک کانسے کا مجسمہ استادہ تھا اور وہ ڈبل تھا میں شاید سمجھا نہ سکوں ۔۔۔لیکن وہ عجیب و غریب مجسمہ تھا ایک طرف ایک سپاہی بڑی سی تلوار لئے زرہ بکتر پہنے ہوئے  ہوئے تنا ہوا کھڑا تھا اسکے دوسری طرف ایک بڑا آیئنہ لگا ہوا تھا ۔۔اور وہی مجسمہ دوسری طرف سے دیکھئے تو ایک نازک اندام دوشیزہ گھونگھٹ میں سلام کے لئے جھکی نظر آرہی تھی ۔۔۔جسنے پیشواز پہنی ہوئی تھی ۔۔۔اور اپنی مخلوطی انگلیوں سے پیشواز کا دامن تھا ما ہوا تھا ۔حیرت حیرت ۔۔۔۔اور صرف حیرت ۔۔۔۔                                                     ۔۔۔ایک کمرے میں صرف بر تن تھے جن میں چاندی سونے سے لیکر چینی کانسے اور مٹّی تک کے بر تن سجے ہوئے تھے ۔۔چینی کی پیالیوں اور تشتریوں پر فارسی میں اشعار لکھے ہوئے تھے ۔۔۔پلیٹوں میں فارسی کے قطعات موجود تھے ۔چاندی کے کانٹوں چمچوں پر مہارت سے نظام حیدر آباد کے نام کندہ تھے ۔
اب حقّوں کی باری آئی تو دیکھا چینی کے کانچ کے چاندی کے ہر طرح کے حقّے سجے ہوئے تھے ،انکے پیندوں پر اشعار کندہ تھے
چاندی کی نےَ اور کانچ اتنا ہلکا جیسے چاندی کا ورق ۔۔۔حقّوں کے ساتھ ساتھ پائپ بھی سجے ہوئے تھے  طرح طڑھ کے ڈزائین ،طر ح طرح کے مٹریل ۔۔۔ہاتھی دانت کے پائپ بھی موجود تھے اور کانچ کے بھی ۔۔لکڑی کے بے شمار ۔۔۔ان پر مہارت سے نقاشی کی گئی تھی ،بیل بوٹے بنائے گئے تھے ،،سائیز بھی الگ الگ موجود تھے ۔
پوری دنیا کے آرٹ کے نمونے وہاں موجود تھے ،اکثر نقل بھی تھے مگر ایسے کہ انپر اصل کا گماں ہوتا تھا ۔
ایک بہت بڑا ہال کتابوں سےسجا ہوا تھا جہاں اردو فارسی عربی کے قلمی نسخے موجود تھے  سراج دکنی ،اور ولی دکنی کے دیوان سجے ہوئے تھے کچھ کتابیں نظام حیدرآباد کی لکھی ہوئی  تھیں ۔ہر قسم کے رسم الخط موجود تھے ۔قران ِ پاک کی تفسیر قلم اور روشنائی سے لکھی ہوئی ۔۔
پوری دنیا کے آرٹ کے نمونے سجے ہوئے تھے ۔
ایک چیز کا ذکر ضرور کرنا چاہونگی جسے میں آجتک بھول نہ سکی ۔وہ ایک مجسّمہ ہے جو کہ فرانس کے ایک ماہر نقّاش نے تراشا ہے ،یہ ایک قدّ ِآدم مجسمہ جو کہ ابراہیم علہیہ سلام ُکی بہو "ربیکا " کا ہے
سفید اور شفّاف بالکل جیتا جاگتا سا محسوس ہوتا ہے  اس مجسمّے کی خاصیت یہ ہے کہ اسکے جسم پر ایک ہلکا سا روبٹّہ پڑا ہوا ہے ۔۔اور وہ بھی سنگ ِ مر مر سے تراشا ہوا ۔۔۔
ماتھے سے ہونٹوں  تک آتے آتے اس روبٹہّ کی شکنیں اتنی واضع اور حیران کن ہیں کہ جو دیکھتا ہے وہ مبہوت رہ جاتا ہے ۔وہ کپڑا کمر سے نیچے تک جاتا ہے اور جھالر سی بن جاتی ہے ،،وہ حصّہ بھی سنگ ِ مر مر سے بنا ہوا ہے وہ جھالریں پیر کی ایڑیوں تک آتی ہیں اور پیروں میں سینڈل بھی خوبصورتی سے تراش کر بنائی گئی ہے  اس بے مثال مجسّمہ کی تاریخ بھی میں لکھ کر لائی تھی جو مضمون کی طوالت کے پیش ِ نظر ابھی نہیں لکھ رہی ہوں ۔انشاءاللہ  آئیندہ رقم کرونگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لمبنیٰ باغ کی طرح ایٹ اسٹریٹ  بھی حسین ساگر  کا ایک کنارہ ہے ،جسپر خوبصورتی سے ٹورسٹ کے بیٹھنے اور کھانے پینے کا انتظام کیا گیا ہے ۔رنگ برنگی کر سیاں ،سفید جالی کے کنارے نصف دائیرے کی شکل میں لگی ہوئی تھیں ۔اور یہ حصہ حسین ساگر کو چھو رہا تھا لوگ سیڑھیوں پر پانی میں پیر ڈالے بیٹھے تھے ۔۔دوسری طرف کی روشنیوں کا عکس پانی میں جھلملا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور وہ منظر اتنا حسین تھا کہ جو میں بیان نہیں کر سکتی مگر آپ محسوس کر سکتے ہیں ۔
میں اور میری بیٹی کافی لیکر وہاں بیٹھ گئے  اور کنارے پر جلتی بجھتی روشنیوں کا جادو دیکھتے رہے ۔اور پھر رات اتر آئی ۔
حیدراآباد سنڑل مال بھی بیحد خوبصورت ہے مگر اب تو ہر جگہ ایک سے ایک عمدہ مال بن گئے ہیں اسلئے اسکا ذکر نہیں کرونگی ۔۔مگر وہان جو جویلری کی دوکانیں تھیں وہ اسقدر حسین تھیں ،قطار سے سچّے موتیوں کی لائینیں لگی ہوئی تھیں ۔۔اتنے سارے موتی مینے ایک ساتھ کبھی نہیں دیکھے تھے ۔۔۔ایک خوبصورت سجی ہوئی شاپ میں ایک کرسٹل کے بڑے سے پیالے میں سچّے موتی بھرے ہوئے رکھّے تھے ۔۔۔۔وہ میں ابتک نہیں بھول سکی ۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اسدن صبح صبح بیٹی نے جگایا ۔۔۔۔اور بتایا کہ ہم "راموجی فلم سٹی " دیکھنے جارہے ہیں ۔9بجے بس وہاں سے روانہ ہوئی دور دور تک سیاہ پہاڑیاں اور حدّ ِ نگاہ تک سبزہ پھیلا ہوا تھا ۔ایک ڈیڑھ گھنٹے میں ہم اس علاقے میں داخل ہوئے  جہاں ایک اونچی پہاڑی پر دور سے "رامو جی فلم سٹی "کا مخفف آر۔ایف ۔سی ۔نظر آرہا تھا ۔
ہماری بس نہایت آرام دہ تھی اور میری بیٹی فارینا نے بس کے ٹکٹ لیتے وقت فلم سٹی کا ٹکٹ بھی لے لیا تھا اس لئے ہمیں کسی لائین میں نہیں لگنا تھا ۔۔۔آرام سے دوسری کھلی ہوئی بس میں بیٹھ کر آگے بڑھ گئے ۔وہ سرخ رنگ کی کھلی کھلی سی بسیں تھیں جو ہمیں پورا فلم سٹی گھمانے والی تھیں ۔وہ بسیں نہایت آرام دہ،جیسے ہم صوفے پر بیٹھے ہوں اور اوپر سرخ چارد تنی ہو ۔۔۔۔ہر طرف سے پورا علاقہ نظر آرہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سر سبز وشاداب ۔۔۔ایک گائیڈ نے ہمیں تاریخ بتا نا شروع کی ،وہاں پر کئی مغلیہ محلوں کی نقل بنی ہوئی تھی ان محلوں میں فلم کی شوٹنگ ہوتی ہے اور ہمیں نقل پر اصل کا گمان ہوتا ہے ۔۔۔ویسے تو وہا  بہت ساری چیزیں قابلِ ذکر ہیں ایک رستوراں مجھے بیحد پسند آیا جہاں بیرے مغلیہ دور کی سر پگڑی اور سفید پیشواز پہن کر کھانا سرو کر رہے تھے ،کھانے کی پلیٹیں اور گلاس چاندی کے تھے کھانے میں  بھی بہت ذائقہ تھا ۔۔۔ہم دونوں نے خوب کھانا کھایا اور آیس کریم بھی ۔۔
بڑی بڑی سفید سیپیاں بناکر اسمیں سرخ پھول ،سفید ،نارنجی ،پھول لگائے گئے تھے ۔۔۔چاروں طرف  بے حد سجاوٹ تھی ۔





پنجرہ

                 پنجرے
اسنے اپنی  جھریوں بھر ے ہاتھ دیکھے ۔۔۔۔
"وہ اچا نک آکر میرے ہاتھوں میں کیا چھپا کر گیا ہے َ۔"
کمزور ہتھیلیوں پر گلاب کی کچھ ادھ کھلی کلیاں تھیں ۔۔۔۔۔گلاب کی وہ کلیاں جو کھلنے کا انتظار کررہی تھیں ۔۔۔پارک کے اس گوشے میں
اور اسنے ان کلیوں کے نہ کھلنے کی آرزو کی ۔۔۔۔۔۔کہ اگر وہ کھلِ گئیں تو بکھر جائینگی ۔۔۔۔۔وہ اس معصوم تحفے کو سنبھال کر رکھنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔اور تحفہ عطا کرنے والا ۔۔۔اپنے ننھے سے پوتے کا ہاتھ تھامے آہستہ آہستہ پارک سے باہر جا رہا تھا ۔۔۔لیکن قدم بتا رہے تھے ۔۔۔کہ وہ خود نہیں جارہا ہے ۔۔۔بلکہ بچّے کے ہاتھ اسے لیئے جارہے ہیں ۔۔۔۔۔شا ید وہ جانا ہی نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پنجرہ کسے پسند ؟؟؟؟ مگر وہ بھی ضروری ۔۔۔۔
اسنے پارک میں بیٹھے بیٹھے پری کی تلاش میں نظر دوڑائی ۔۔۔۔وہ ایک بنچ کے کونے میں اپنے کھلونے لیئے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔مطمین ۔۔۔۔دنیا کے ہر غم ہر فکر سے آزاد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک معصوم چڑیا کی طرح ۔۔۔۔وہ اڑتی پھرتی تھی ۔۔۔جیسے کبھی وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسنے اپنا آنچل پھیلا کر اڑھ لیا ۔وہ اپنے خوابوں کے دائروں سے نکل ہی نہیں سکی کبھی ،
وہ بھی تو کھلِ گئی تھی ۔۔ان کلیوں کی طرح اور اب پتّی پتّی بکھر چکی تھی ،
وہ ابھی تک باغ کے دروازے پر تھے ۔۔مڑ کر اسکی طرف دیکھ رہے تھے ۔۔۔کچھ خواب ۔۔۔کچھ تشنہ تمنّائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہ جانے کیا کیا ۔۔۔


ادھر نانی کی انکھیں بھی نم تھیں ۔۔۔مگر ہونٹون کے گوشے مسکرا رہے تھے زندگی کے آخری پراؤ پر ہی سہی ۔۔۔۔ایک گلاب اسکی مٹھّی میں تو آیا ۔          ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پر چھائیں

اور اس دن میں اپنے آپ سے ملا ۔سڑک پر اکیلا لڑ کھڑا تا ہوا ۔۔۔چہرے پر آنسو ؤں کے دھبّے ۔۔۔میلا یو نی فارم ۔۔اور تب تک میں اپنی کار سے ٹکرا کر گر چکُا تھا ۔
کچھ دیر تک میں اپنے آپ کو کار کی پچھلی سیٹ پر اوندھا لیٹا سسکیاں لیتے دیکھا کیا ۔۔۔۔۔۔۔اور تب میرا جینے کو جی چاہنے لگا ۔۔۔۔
آیئے میں آپکو شروع سے بتا تا ہوں ۔
تیز نیلی چنگھا ڑتی ہوئی آواز سماعت کو دہکا رہی تھی ۔میں بستہ زمین پر وہیں زینہ کے پاس پھینک کر ،پیر لٹکا کر بیٹھ گیا ۔گھنٹی بجانے کی ہمّت نہیں ہورہی تھی ۔گھر کے اندر چیخ پکار اور بر تن پھیکنے کا سلسلہ جاری تھا ۔زور کی بھوک لگ رہی تھی ،نیند بھی آرہی تھی مگر گھر جانے کی ہمّت نہیں تھی ۔یہ روز کا معمول تھا ۔سر جھکا کر نیچے کے زینے کی طرف نظر ڈالی تو دیکھا ،وہ چہرہ اوپر کئے کھڑی تھی ،اسکے چہرے پر تشویش تھی ۔گول نرم چہرہ دو چھوٹی چھوٹی پونیاں بنائے صاف شفّاف گلابی فراک پہنے ہوئے ۔۔شاید ابھی نہا کے آئی تھی ۔اسنے اپنا ننھا سا ہاتھ اٹھا کر مجھے بلا یا ۔ مگر مینے جھنجھلا کر نظریں پھیر لیں ۔نیند سے پلکیں بھاری ہورہی تھی دیوار سے ٹک گیا تھا ۔

چند لمحوں بعد اسکا نرم سا ہاتھ اپنے کاندھے پر محسوس ہوا ۔
"چلو آؤ میرے ساتھ ۔۔۔" اسنے میرا بستہ اپنے کاندھے پر ٹانگ رکھّا تھا میں آہستہ قد موں سے غنودگی کے عالم میں  اسکے پیچھے چلنے لگا ۔
صاٖف ستھرا  چھوٹا سا فلیٹ ،محبّتوں کی خوشبو سے معمور۔۔۔۔ ۔مجھے اپنے میلے کچیلے کپڑوں سے بڑی کوفت  ہوئی ۔
"تم منھ ہاتھ دھولو ۔۔میں کھا نا لگا تی ہوں " ارم کی امّی نے میرے بکھرے بال اپنی انگلیوں سے  سنوارتے ہو ئے کہا ۔وہ
کھا نا کھا کر  وہیں فرش پر سوگیا ۔ارم وہیں  پر اسکول کا کام کرتی رہی ۔
شام کو گھر میں داخل ہوا تو سب بے فکری سے اپنے اپنے کاموں میں مصروف نظر آئے ۔بھیّا نے کمپیو ٹر سے نظرا اُٹھا کر ذرا کی ذرا مجھے دیکھا اور پھر اپنے کام میں مصروف ہوگئے ۔
ماں نے جھا ڑن لینے کے لئے اسٹور کا دروازہ کھولا اور پھر زور سے بند کیا ۔
وہ  آہستہ آہستہ چلتا ہوا اپنے اور بھیّا کے مشتر کہ کمرے میں آیا جوتے اتار کر ایک طرف رکھّے ۔نہانے کے لئے باتھ روم میں گھس گیا ۔
شاور کی ننھی ننھی بوندیں جسم کی گرد تھکن اور ذہن کی جھنجھلا ہٹ صاف کر تی رہیں ۔
اور چند لمحوں کے لئے وہ شام اسکی اپنی ہوگئی ۔۔۔
اسے  خود بھی نہیں معلوم کہ اسکے  گھر کا ماحول ایسا کیوں تھا ؟ماں کسی بوتیک میں کام کرتی تھی پا پا کاا پنا بزنس تھا ،گھر بھی اپنا تھا ۔وہ  دونوں بھائی ٹھیک ٹھاک پڑھ بھی رہے تھے ۔بظاہر کوئی کمی نہیں نظر آتی تھی ۔اسکا  کچّا ذہن یہ سو چنے سے قاصر تھا کہ لڑائی جھگڑے کی وجہ کیا تھی ۔۔۔۔وہ چاہتا تھا میرا گھر بھی ارم کے گھر جیسا ہو جائے ،صاف ستھرا موتی کی طرح چمکتا دمکتا ۔جہاں اسکی امّی روز تازے پھول سجاتی تھیں اور ہمیشہ مسکرا کر ویل کم کرتی تھیں ۔اسکے گھر پر کھانے بھی بہت معمولی ہوتے ،کبھی کبھی سلائس جیم کے ساتھ ایک کیلا ۔۔۔۔مگر خوشی خوشی کھا کر تسکین ملتی تھی ۔ارم کی امّی کبھی اسے اپنے ہاتھ سے بھی کھا نا کھلا دیتی تھیں ،سادے سے دال چاول ۔۔ وہیں بغیر کارپٹ کے فرش پرپنکھے کے نیچے  سکون کی نیند سوجاتا ۔ٹھنڈا ٹھنڈا ،سفید اور گلابی فرش ۔ایک نرم سی مہک ۔۔۔
اسکی امّی آہستہ آہستہ اپنا کام کرتیں کہ وہ جاگ نہ جا ئے ۔
نیند بھر کے اٹھتا تو تر وتازہ ہوتا ۔ارم کے ساتھ بیٹھ کر اولٹین کا گلاس ختم کرکے کولونی کے بچّوں کے ساتھ کھیلتے کھیلتے نہ جانے کب شام اتر آتی ۔اپنے گھر جانے کا خوف اس کے دل میں ذرد سیّال بنکر دوڑنے لگتا ۔
اس دن پھر کھانے کی میز پر ڈیڈی چیخ کر ما ں کو ڈانٹتے رہے اور کئی بار ماں چلّا چلّا کر اپنا غصّہ اتارتی رہی ۔اسکے گلے میں کھا نا اٹک رہا تھا ،بھیّا اسکیی طرف ہی دیکھ رہے تھے انھوں نے پنیر کا پیالہ اسکی جانب سرکا یا ۔
"یہ لو تمہیں تو بہت پسند ہے نا ۔۔۔۔؟'
بے دلی سے بڑھا ہوا  ہاتھ راستے میں ہی رہ گیا ،ڈیڈی نے پیالہ لے  لیا اور کھینچ کر زمین پر دے مارا ۔
"نہ نمک کا پتہ اور نہ مصالے کا ۔۔۔۔یہ کتّے کا راتب بنا کر رکھّا ہے میرے اور میرے بچّوں کے سامنے ۔۔۔۔جاہل عورت کم از کم ایک وقت کا کھا نا تو پیٹ بھر کھلا دیا کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
 دونوں حیران فرش پر بکھرے سر خ سالن اور پنیر کے براؤن ٹکڑوں کو تک رہے تھے ۔۔۔۔بھوک چمک اٹھی تھی مگر اب کھانے کی میز پر کیا تھا وہ نظر نہیں آرہا تھا ۔۔۔۔۔وہ اٹھ کر تھکے قدموں سے اپنے کمرے میں آگیا ۔۔ مٹھّی میں آدھی روٹی دبی ہوئی تھی ۔اسکو منھ میں ڈال کر جلدی جلدی نگلنے لگا ،آنسو بہہ رہے تھے سسکیاں حلق میں ٹوٹ رہی تھیں ۔۔۔بھوک کی شدّت سے نڈھال نہ جانے کب  سوگیا ۔
صبح بھی کھانے کے لئے بھی ماں نے  کچھ نہیں پکا یا ،اپنے گنی بوکس سے کچھ روپیے نکال کر اسکول کے لئے باہر آگیا ۔۔
سڑک پر ٹھیلے سے ایک سینڈوچ لیا اور وہیں جلدی جلدی کھا لیا ۔سڑک کے کنارے بنے ہوئے ہینڈ پمپ سے پانی پی کر کچھ سکون ہوا ۔کپڑوں پر نگاہ کی ۔۔۔یونی فارم بہت میلا اور دھبّے دار تھا ۔
اسکول جانے کی ہمّت نہیں ہوئی ۔۔۔۔دل میں اک دھوں سا اٹھ رہا تھا ۔۔۔۔۔کہاں جاؤں ؟
کا لونی کے پیچھے چوکیدار کے کواٹر میں اسکی بیوی کپڑے الگنی پر ڈال رہی تھی ،مجھے دیکھ کر مسکرائی تو میں آگئے بڑھ آیا اوربرامدے میں پڑی چارپائی پر بیٹھ گیا ۔
"کا ہوا بٹوا ؟؟ اسکول سے بھاگ آئے ہو کا َ؟؟؟ "
وہ کچھ بول نہیں سکا بس خالی خالی نظروں سے اسے دیکھتا رہا ۔
وہ میرے لئے اندر سے ایک لسّی کا گلاس لے آئی ۔میں گلاس تھام کر جلدی جلدی لسّی پینے لگا ۔۔۔اور وہیں پلنگ پر لیٹ گیا ۔وہ حیران تھی پھر ایک چادر لیکر آگئی
"رُک جاؤ بھیّا ۔۔۔تنی چادر بچھائے دئی ۔۔۔"
"نہیں رہنے دو " چادر اسکے ہاتھ سے لیکر سر ہانے رکھ لی اور گہری نیند سوگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جانے کب تک سوتا رہا
اٹھا تو شام ہورہی تھی ۔چوکیدار کرسی پر بیٹھا حیرت سے مجھے دیکھ رہا تھا ۔
بستہ اٹھا کر بغیر کچھ کہے میں گھر کی جانب چل پڑا ۔
زینہ پر وہ پریشان کھڑی تھی ۔
"تم کہاں تھے دن بھر ؟؟؟
اسکے لہجہ میں فکر بول رہی تھی ۔
" کچھ تو بولو ۔۔اسکول کیوں نہیں آئے ۔۔۔؟"
وہ نے سر اٹھا کر زخمی نظروں سے اسے دیکھا ۔۔۔
"تھوڑی دیر کے لئے تمہارے گھر آجاؤں ؟؟"
اسنے آگے بڑھ کر  تپتا ہوا ہاتھ تھام لیا اور اپنے گھر لے آئی ۔
وہاں اسکے پاس بیٹھ کر میں اپنے طریقے سے اپنے دُکھ سنا تا رہا ۔۔۔و ہ اسکا چہرہ اپنے تولیہ سے صاف کر کے آ ئسکریم نکال لائی ۔۔پھر اپنی تصویروں بھری کتا بیں دکھا تی رہی اور اسنے ایک ڈائری کھول کر اسکے ایک ننھا سا تتلی کا پر دیکھا یا ۔۔۔۔۔۔۔۔کئی رنگوں سے سجا وہ پر ۔۔بیحد خوبصورت تھا ۔ نظرون میں پسندیدگی دیکھ کر اسنے ایک گلابی لفافے مین وہ پر رکھ کر اسکی طرف بڑھا دیا ۔
"یہ تمہارے لئے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب مت رونا ۔۔۔میں ہوں نا تمہارے ساتھ ۔۔۔"
اور وہ پر اسکی زندگی کا قیمتی اثاثہ بن گیا ۔

تعلیمی مدارج طے کرتا رہا ۔ہوسٹل  بھی رہا اور عزیزوں کے ساتھ بھی مگر وہ پرَ اسکے ساتھ ساتھ رہا ۔زندگی کئی برس آگئے بڑھ آئی ۔دہلی میں ایک اچھّا فلیٹ لیکر وہ واپس اپنوں سے ملنے بھی گیا ،سوچا تھا اس گلابی پرَ کی طرح اپنی زندگی بھی گلابی ہوجائے گی مگر ۔۔۔وہاں بھی قسمت سے ہار گیا ۔
اسنے جھک کر بالکونی میں رکھّے اپنے پیار سے لگائے ہوئے   پھولوں کو دیکھا ،گہرے ہرے کنارے پیلے پڑ گئے تھے ۔۔۔گرد و غبار سے پودے نڈھال اور بے رونق ہوچکے تھے ۔وہ تڑپ اٹھا ۔۔۔پانی کا پائپ لیکر سارے پودوں کو شفّاف کرنے میں جٹ گیا ۔۔۔۔۔۔دونوں ہاتھوں کے پیالے میں اس گلُ داؤدی کے پودے کو لیکر وہ زارو قطار رو رہا تھا ۔۔۔۔
"سوری دوست ۔۔۔۔۔۔۔۔ویری سوری ۔۔۔میں بہت خود غرض ہوگیا تمکو بھول گیا تھا ۔۔۔اپنے غموں میں ایسا جکڑ گیا کہ تمہارا احساس بھی نہ کر سکا ۔۔۔میرے دوستو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک ایک پودے سے معفیاں مانگ رہا تھا کوئی اسے دیکھتا تو پاگل ہی سمجھتا ۔
وہ جانتا تھا کہ وہ پاگل نہیں ہے ۔یہ پھول پودے یہ بے زبان ہمیشہ اس کی اُداسی دور کرتے رہے اور اب وہ ان کو بھول کیسے گیا ؟
اسکا غم ساری دنیا پر محیط کیوں ہوگیا ۔۔۔۔
ارم کی شادی ہوگئی تھی بس یہ خبر برداشت کر نا اسکے لئے سخت مشکل بن گئی تھی ۔سارے خواب ایک چھناکے سے ٹوٹ کر ادھر ادھُر بکھر گئے تھے ۔۔۔
کمرے میں آکر میز پر رکھّی ڈائیری کھولی تو ہتھیلی پر ننھا سا گلابی پر کپکپا نے لگا ۔۔۔
آنسو بے آواز گرتے رہے ۔۔۔تھوڑی دیر یوں ہی کمرے میں بے مقصد گھومتا رہا ۔۔شام کمرے کے باہر ٹہل رہی تھی ۔کھڑکی بند کر کے پردے گرا تے ہی اے سی کی ٹھنڈک اثر انداز ہونے لگی اور وہ بے خبر سو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوابوں میں ارم کا گھر ،اسکے گھر کا سکون اور اسکی ماں کی شفقت اسے بہلاتے رہے ۔
صبح روز سے ذیادہ روشن تھی ۔ہلکا اجُا لا پھیل رہا تھا تب ہی وہ اٹھکر باہر نکل آیا سر سبز پودے خوشی سے جھوم رہے تھے ،فضا میں خنکی باقی تھی ۔۔گُل داؤدی کے پتّت گہرے ہرے ہوگئے تھے اور اُن پتّوں سے ننھی سی گلابی کلی شر ما کر جھانک رہی تھی ۔
اس کی ساری کلفت دور ہونے لگی ۔۔۔۔سارا دکھُ سارا غصّہ ساری کوفت ایک ایک کر کے رخصت ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ مسکراتا ہوا گھٹنوں کے بل وہیں بیٹھ گیا ۔
"تھینکس یار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" اسنے پیار سے ان پتّوں پر ہاتھ پھیرا ۔۔سامنےکی بالکونی میں  دیکھا تو بھٹیا جی اکسر سایئز کرتے نظر آئے ۔۔اسّے دیکھتے ہی مسکرائے اور خشدلی سے بولے ۔
"ہیلو جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہاں رہے اتنے دن ؟ بڑے دنوں بعد شکل دیکھا ئی ہے ۔۔" انھیں کیا پتہ کہ وہ اس کمرے میں رھ کر بھی یہاں نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"بس ایسے ہی جناب ۔۔۔آؤنگا  ملونگا کسی دن ۔۔۔ایک کام بھی تھا آپ سے ۔۔۔۔"
"ہاں جی بولو ۔۔۔آپ جیسے پڑوسیوں کے لئے تو جان بھی حاضر ہے ۔۔حکم کرو ۔۔۔"
"ارے نہیں صاحب ۔۔۔اپنی جان ہی نہیں سنبھلتی ۔۔۔"وہ ہنس پڑا ۔
"اب کہیں جاؤن گا تو میرے پو دوں کی دیکھ بھال آپکے سپرد  ۔۔۔۔آپکی بالکونی میں رکھ دونگا ۔۔۔اگر آپکو برُا نہ لگے ۔"
"تُسی فکر ہی نہ کرو ۔۔یہ تو اپنے بچّوں جیسے ہیں ۔۔اور آپکے تو ہمارے گھر مہمان ہوئے نا ۔۔۔۔۔۔۔۔ہماری تو بالکونی سج جائے گی جی ۔۔۔۔۔۔۔۔" انھوں نے حسب عادت زور دار قہقہہ لگا یا ۔
اسکے دل کا بوجھ اتر گیا ۔
ان بے کراں خیا لات کے سمندر میں تیرتے ہوئے اسے یہ اندازہ بھی نہ ہوا کہ اسکے ہاتھ اسٹیرنگ پر بہک رہے ہیں ۔اچانک ایک جھٹکے سے اسنے گاڑی روک دی سڑک پر لوگ جمع ہونے لگے تھے ۔وہ گھبرا کر نیچے اتر آیا ۔۔۔وہ اگلے پہیئے کے پاس اوندھا پڑا ہوا تھا ۔۔ایک خوف ناک خیال نے راہل کو  اپنی لپیٹ میں لے لیا   اسنے کانپتے ہاتھوں سے اس بچّے کو سیدھا کیا ،اسکو کچھ خاص چوٹ نہیں آئی تھی   وہ شاید خوف سے گر گیا تھا ۔۔۔اسے سہارا دیکر گاڑی کے اندر بیٹھا نے تک وہ نہیں سمجھ سکا کہ وہ کیا کرے گا ۔۔۔۔
بچّے کے گھٹنو پر دوا لگا کر اسنے اسے پانی پلایا ۔

۔ "۔کہاں جاؤ گے میں چھوڑ دیتا ہوں "
وہ سہمی نظروں سے اسے تکنے لگا ۔۔۔ پھر دھیرے سے بو لا ۔۔۔"کہیں ۔۔نہیں ۔۔۔کوئی گھر نہیں ہے میرا ۔۔۔کہاں جاؤنگا ۔۔۔مجھے پتہ نہیں "
اسکے سامنے اپنا بچپن پوری جزّیات کے ساتھ سامنے آکر کھڑا ہو گیا ۔۔۔
بچّے نے بتا یا اسکے ما ں باپ حاد ثے کا شکار ہوئے ۔۔چا چا نے گھر پر قبضہ کر کے اسے نکال باہر کیا ۔۔۔
وہ دھکّے کھاتا ہوا  بھوکا پیا سہ نہ جانے کہاں کہاں بھٹکتا رہا ۔۔۔اور اب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب اسکی باری تھی ۔۔اسے محسوس ہوا وہ ایک بار پھر  اس درد کے سمندر کا پار کر نے نکلا ہے ۔۔۔۔
اسنے اپنا محبّت بھرا ہاتھ بچّے کے سر پر  رکھ دیا اور اب وہ دونوں گہرے دوستوں کی طرح  زندگی سے نپٹنے کے لئے تیّا ر تھے ۔


سہارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زاراقدوائی
جب مجھے میٹرو میں لگا یا گیا تھا تب میٹرو اتنی مشہور نہیں تھی ۔کچھ سا ل لگے اسٹیشن بڑھانے کے ساتھ ساتھ کوچ بھی بڑھائے گئے ۔میری ڈیوٹی سب سے پہلے کوچ میں تھی ۔شروع شروع میں میں بہت پریشان رہا کیونکہ زیادہ تر لڑکے شراب کے نشے میں آکر مجھے تھام لیتے تھے اور لپٹ لپٹ کر کھڑے ہو جایا کرتے تھے ۔اتنا غصّہ آتا تھا کہ انھیں اپنے آپ سے دور کیسے پھینکوں ۔
پہلے تو میں یہی سمجھ نہ سکا کہ میرا کام کیا ہوگا ۔نہ مجھ میں ہنڈل کی طرح اسپرنگ ہے اور نہ ہی پائے ۔میں تو بس کھڑا ہوں دونوں گیٹ کے بیچوں بیچ ۔پر جب میری ڈیمانڈ شروع ہوئی تو ہینڈل کو بھی مجھ سے جلن ہونے لگی ۔لوگ ہاتھ اونچا کر کے ہینڈل پکڑنے کے بجائے سائیڈ میں کھڑے میرے ساتھ ہی ٹک جایا کرتے ،اور مجھے تھام کر پورا سفر کاٹ دیتے ۔
پھر کچھ وقت گزرا تو یہ کوچ لڑکیوں کے لیئے ریزرو کر دیا گیا اس دن سے میری زندگی ہی بدل گئی پوری ٹرین میں چاہے کتنی بھی بد بوؤیں ہوں میرا کوچ ہمیشہ مہکتا رہتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پورے کوچ میں اتنی طرح کی خوشبوئیں پھیلی رہتیں کہ میں یہ بھی بھول گیا کہ فضا کی اصلی خوشبو کیا ہے ۔
یوں تو کئی ہاتھوں نے مجھے تھا ما تھا ۔مگر چار ہاتھ میرے ذریعہ ہی ملے تھے ۔اسمیں ایک ہاتھ منہدی لگائے نئی نویلی دلھن کا تھا ،جسنے شادی کے بعد اب شاید کام پر جا نا شروع کر دیا تھا ۔دوسرا ہاتھ گھر کی ذمہ داروں سے جوجھتا ہوا ۔تیسرا ہاتھ ایک بڑی عمر کی خاتون کا تھا جو نہ جانے کیوں روز اسی اسٹیشن سے سوار ہوتیں شاید اس عمر میں بھی انکو کام کرنا پڑرہا تھا ۔چوتھا ہاتھ ایک معصوم سی لڑکی کا تھا جو شاید کسی اسکول یا کالج میں پڑھ تی ہوگی ۔۔
چاروں کی ملاقات میرے ہی کوچ میں میرے ہی پاس آکر ہوئی تھی ۔وہ چاروں میرے پاس میرے سہارے کھڑی رہتی تھیں ۔کچھ دیر بعد چوڑیوں والے ہاتھ نے کہا ۔
"کیا ہم اپنے آپ گھومے جارہے ہیں َ۔"تب سے ان سب کی ہنسی اور دوستی کی ابتدا ہوئی ۔
ایک دن میری میٹرو میں کسی خرابی کی وجہ سے کسی اور میٹرو کو اس لایئن پر بھیج دیا گیا ۔
یقین جانیئے ایسا لگ رہا تھا جیسے دوسری میٹرو کی وہ کوچ مجھے چِڑِھا رہی ہو ۔۔کہ آج تو میرا سارا دن کارخانے میں جانے والا ہے ۔کارخانے میں میری خوب مرمت ہوئی
ہوتے ہوتے شام ہوگئی شام کے قریب ایک بہت زور کی آواز آئی پوچھنے پر ساتھ والے کوچ نے بتا یا ۔کہ شاید کہیں آتش بازی ہو رہی ہے اسکی آواز ہے ۔
کارخانے سے میری میٹرو کو چھ دن کے بعد نکالا گیا میں وہاں پڑے پڑے بہت بور ہوگیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آخر کو ایک پڑوس کی کوچ نے بتا یا کہ کرفیو لگ گیا ہے ۔۔شاید وہ دھماکا کسی نے بم سے کیا تھا ۔میں بہت اُداس ہو گیا ۔۔۔
ساتویں دن میری میٹرو کو چلا یا گیا ۔ہم پھر اسی اسٹیشن پر پہنچے ،پر آج نہ وہ چوڑیوں والے ہاتھ تھے نہ ہی وہ معصوم چھوٹے ہاتھ ،نہ بڑی عمر کی خاتوں کے اور نہ ہی ذمہ داریوں سے سجے ہاتھ ۔
کچھ بھی پہلے جیسا نہیں تھا پھر بھی سب کچھ ویسا ہی تھا ۔وہ چار ہاتھ میں نے کبھی نہیں پائے ۔
اس کوچ میں نئی ہنسی ،نئی خوشبوؤیں اور نئیے قصّے گونج رہے تھے اور میں نیا ہاتھ تھام کر پھر سے سفر پر نکل گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔