Tuesday, January 28, 2014

shikasta sheeshe ka ayesa manzar

اٹھارہ کیر ٹ گولڈ
لندن کے کہر بھرے مو سم سے بور ہو کر ہم ہر دوسرے سال ہندو ستان ضرور آتے ،جبکہ بچّو ں کو اور فہیم کو پیرس یا جرمنی جانے کی ذیادہ خوشی ہوتی تھی مگر میرے پورے دو سال اسی انتظار مین کٹتے تھے ۔
ملنا تو سب ہی عزیزوں سے ہو تا تھا ،سسرال میں بھی وقت گزارنا ہوتا تھا مگر ٹہرتی میں ہمیشہ ذکیہ ہی کے پاس تھی ۔۔۔۔۔
میری اپنی پیاری ذکیہ میری دوست ۔۔۔سب سے اچھی ساتھی ۔۔۔۔لمبے سیاہ بالو ں میں گھرا اسکا سانولا سلو نا چہرہ ،اسکی خوبصورت آنکھیں ۔۔۔بو ٹا سا قد ۔۔۔ہمیشہ ایک مہر بان سی مسکراہٹ اسکے لبو ں پر بکھری رہتی ۔۔۔ایک عجیب سی کشش تھی اسمیں جو بھی اس سے ملتا گر ویدہ ہو جاتا ۔۔جب بھی میں اسکے گلے لگتی ڈھیرو ن سکون میرے دل میں اتر جاتا ۔۔۔
اور پیاری سی دمکتی ہسنستی لڑکی کو مینے اپنی بھا بی بنا لیا تھا ۔۔۔
اس بار بھی جب ہم اسکے گھر پہونچے وہ دروازے پر بیقراری سے مجھ سے لپٹ گئی اور دیر تک یو نہی لپٹی کھڑی رہی ۔۔۔
سب سے ملکر جب رات کو میں سونے کے لیئے اسی کے پاس لیٹی تو مینے اسکا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔
"ذکیہ ۔۔۔جب میں ہندوستان آتی ہو ں تو وقت اتنا کم کیسے ہو جاتا ہے دن اتنی جلدی جلدی کیو ں گزر نے لگتے ہیں ؟؟؟
مینے اسکی طرف کر وٹ لیکر اس کا چہرہ دیکھا اور اس چہرے پر سو چ کی پر چھا ئیا ں دیکھ کر بیقرار ہو گئی ۔۔۔کیا ہوا ذکیہ ؟؟؟
"کچھ نہیں کچھ بھی تو نہیں ۔۔بس ایسے ہی ۔۔۔ہا ن تم صحیع کہتی ہو ۔۔۔"اسنے میر ے ماتھے سے بال ہٹائے اور میری پیشا نی چوم لی ۔۔۔۔
"کوئی پر یشانی ہے ذکیہ ؟؟ " مجھے الجھن سی تھی ۔
"نہیں کوئی بات نہیں ۔۔بہت تھک گئے ہیں چلو اب سو جاتے ہیں ۔۔۔کل شاپنگ پر لیچلو نگی ۔۔اور پھر تمکو اپنی سسرال بھی تو جانا ہے نا ۔۔دیکھو وہا ں ذیادہ مت ٹھیر نا  ۔۔بس دو دن کافی ہیں ۔۔۔"اسنے اٹھ کر لا ئٹ بجھائی اور ہم نہ جانے کب سو گئے ۔۔
فہیم اور بچّے تو دو سرے ہی دن گھر چلے گئے مگر میں دو چار روز بعد آنے کا کہہ کر رک گئی ۔۔اپنی ساری شا پنگ میں ذکیہ کے ساتھ ہی کر تی تھی ۔

الہ آباد میں میر ے سسر کا پشتینی مکان تھا اس گھر میں جا تے ہوئے فہیم اور بچّو  ں کی خوشی دیکھنے والی ہوتی ،آس پاس کے سبھی رشتہ دار ہم سے ملنے وہیں پہونچتے تھے ۔اپنے پیاروں سے ملنا بھی ایک نشے کی طر ح ہوتا ہے اور مجھے تو اتنی دور رھ کر کچھ ذیادہ ہی تڑپ پیدا ہو جاتی تھی ۔میں ان تھو ڑے سے دنو ں کی چا در کو مظبو طی سے تھامے رہتی اور اپنے بہن بھائیو ں اور عزیزوں سے کی ہوئی ہر چھو ٹی بڑی بات ہر ہنسی ہر آنسو  سب کچھ اس چادر میں جمع کر لیتی  اور جب اسے تہہ کر کے رکھتی تب بھی کئی مسکراتے چہرے اس میں سے جھانکتے رہتے ۔۔
کیا ہر کسی کو اپنو ں سے ملکر اتنی ہی خوشی ہو تی ہوگی ؟؟؟ مینے اپنی شا پنگ لسٹ ذکیہ کو تھما دی کیو نکہ با زار تو اسی کا تھا میں تو یہا ں پر دیسی تھی نا ؟
ایک لمبا عرصہ دیا ر ِ غیر میں رہتے ہوئے ہو گیا تھا بیٹا 19 برس کا ہونے والا تھا اور ذکیہ کی بیٹی عنب بھی بڑی ہو رہی تھی میرا پو را ارادہ تھا کہ میں اسے مانگ لونگی ذکیہ مجھے کبھی خالی ہاتھ نہیں لو ٹائے گی ۔۔مینے اپنے بیٹے ارزیب کی آنکھو نمیں عنب کے لئے کچھ الگ رنگ بھی دیکھ لیئے تھے ۔
اور عنب تو ذکیہ کی کاربن کا پی ہے  بس رنگ بھیّا کی طرح  بے حد گو را ہے ۔میں  ہر سال کچھ نہ کچھ سبھی کے لیئے لے آتی تھی مگر عنب تو میر ی بیٹی تھی اسلئے اسکے لیئے بہت سو چ کر اسبار ایک ہلکا سا سونے کا سیٹ لیئتی آئی تھی ۔جس میں انگو ٹھی کے ساتھ چھو ٹے چھو ٹے ٹاپس اور ایک لا کٹ تھا ۔
اسنے جب یہ سیٹ پہن کر مجھے دیکھا یا تو واقعی اس پر بہت سج رہا تھا ۔حالا نکہ ذکیہ کے پاس  امّا ں کا دیا ہوا بہت زیور مو جود تھا جو اسے شا دی پر اور اسکے بعد بھی ہر مو قع پر ملتا رہا ۔۔اسکے میکے سے بھی کئی سیٹ زیور کے ملے تھے ۔مگر پھر بھی عنب اس ننھے سے تحفے کو پاکر بہت خوش تھی۔                                                                     امّا ں نے جب ذکیہ کو میر ی پسند والا زیور پہنا یا تھا تو مجھے بے اتہا خوشی ہوئی تھی ۔شادی کے جگمگاتے زیور اور کپڑے پہن کر جب ذکیہ اس گھر میں اتری تو گو یا جنّت اتر آئی ۔
مگر ہماری خوشیو ں کی عمر ذیادہ نہیں تھی ،اچانک ایک اکسیڈنٹ ہوا ۔۔اور ہمارا گھر اجڑ گیا ۔۔۔بھیّا ہمیں چھو ڑ گئے ۔۔ ۔بھیّا نے مجھے کبھی ابّا کی کمی محسوس نہیں ہونے دی تھی جو میر ی پیدایش سے پہلے ہی اس دنیا سے جا چکے تھے میں بھیّا کو ہی ابّا سمجھتی تھی ۔۔۔بھیّا نے فہیم سے میری شادی بھی اس لیئے کی کہ ہم کالج سے ہی ایک دو سرے کو پسند کر نے لگے تھے ۔۔۔فہیم کا بزنس اب کافی پھیل گیا تھا وہ لندن اور دوسرے کئی ملکو ں سے کپڑو ں کا کا روبار سنبھال رہے تھے الہ آباد میں بھی کئی فیکٹریز تھیں جو انکے بھائی دیکھتے تھے ۔
عنب کی پیدایش کے دوسرے برس ہی بھیّا چلے گئے ۔۔۔وہ گئے تو ایسا لگا جیسے کسی نے ہمارے سرو ں سے چا در کھینچ لی ۔۔۔میں فوراً ذکیہ کے پاس  ہندوستان آگئی تھی مگر ذکیہ تھی کہاں ؟؟؟؟ وہ تو بھیّا کے ساتھ ہی  جیسے کہیں غا ئب ہو گئی تھی سپاٹ چہرہ ۔سفید ہونٹ ۔۔بکھرے بال ۔۔۔میلے کچیلے کپڑے ۔۔ہنسنا تو دور کی بات وہ تو رونا بھی بھول گئی تھی ۔۔۔
میں ہی اس سے لپٹ کر اتنا روئی  کہ وہ ہو ش میں آگئی ۔۔اور پھر اسے سنبھالنا مشکل ہو گیا ۔کئی گھنٹو ں تک چیخ چیخ کر روتی رہی اور پھر میری با ہو ں میں بے ہو ش ہو کر گر گئی ۔
ان سا ت بر سو ں میں اسنے اپنے آپ کو بہت سنبھال لیا تھا اور اپنی زندگی کا مر کز عنب کو بنا کر جینے کی کو شش میں جٹ گئی تھی ۔ان دونوں کے علا وہ گھر میں ہماری پرانی ملا زمہ کمّو بوا بھی رہتی تھی ۔نام تو انکا کر یمن تھا مگر پتہ نہیں کیسے وہ کمّو بوا کے نام سے ہی جا نی جاتیں ۔وہ بھا بی ذکیہ کو اسی لیئے اتنا چا ہتی تھیں کہ بھیّا انکی گو د میں پلے بڑھے تھے ۔انھیں عشق تھا کمّو بوا سے ۔۔۔اپنی ہر بات ہر ضد وہ انہیں کے ذریعے امّی تک پہو نچا تے تھے ۔
ا میرے آجانے سے انکے جھر یوں بھر ے چہرے پر تا زگی آجاتی ۔وہ مجھے ایک ماں کی طر ح عزیز تھیں ۔
آج بھی صبح صبح جب انھوں نے آکر کھڑ کیو ں کے پر دے ہٹائے او ر چائے سا ئیڈ ٹیبل پر رکھّی پھر میرے چہرے پر دعا ئیں پھو نکیں ۔۔۔تو میں اٹھ کر بیٹھ گئی ۔
"کمو بوا ۔۔۔"مینے چائے کا گھونٹ لیکر ان کی طرف دیکھا ۔
"ہا ں بیٹا ۔۔"انھو ں نے تھکا ہوا سا نس لیکر میرا لحاف برا بر کیا ۔
"ایسی چائے کہیں نہیں ملتی کمّو بوا۔۔۔۔۔ابکی بہت ساری چائے بنا کر میرے سا تھ کر دینا ۔۔۔۔"مینے پیالی خالی کر کے رکھی اور باتھ روم میں گھس گئی ۔
جلدی جلدی منھ دھو کر کنگھا  کر کے واپس آئی تو بوا کپ ہاتھ میں پکڑے ہوئے بیٹھی تھیں ۔۔۔کچھ عجیب سی کیفیت انکے چہرے پر ہویدا تھی ۔
"کیا ہوا ۔۔۔۔۔"مینے تو لیہ پھینک کر انکو تھا م لیا ۔
"بٹیا ۔۔۔۔"وہ بڑی دقٹ سے گو یا ہو ئیں ۔۔۔
" کبتک رکو گی ۔۔۔۔۔؟؟"
میں ہنس پڑی ۔۔"ارے ۔۔اس بات کے لیئے پر یشان ہو ؟؟/"
ابھی تو الہ آباد بھی جانا ہے آکر کچھ دن واپس رکونگی ۔۔۔ابھی تو شا پنگ بھی پوری نہیں ہو ئی ۔۔۔بوا ۔۔۔سب ٹھیک تو ہے نا ؟"
وہ کا رپٹ پر سر جھکا ئے بیٹھی تھیں ۔
اور اسپر بنے ہوئے پھولوں پر ہاتھ پھیر رہی تھیں ۔۔
جیسے کچھ کہنا چاہتی ہوں اور الفا ظ ساتھ نہ دے رہے ہوں ۔
"کمّو بوا ؟؟ مینے نیچے بیٹھ کر انکے ہاتھ تھام لیئے ۔۔۔
"بولئے کیا بات ہے  میرا دل گھبرا رہا ہے ۔۔۔بتا یئے بوا ۔۔۔"
"بٹیا جب سے تم گھر میں آئی ہو رونق ہو گئی ہے ۔۔جیسے بھیّا لو ٹ آئے ہو ں ۔۔جیسے سب کچھ وہی ۔۔۔جو میا ں اور بیگم صا حب کے زمانے  میں تھا ۔۔۔مگر بٹیا ۔۔۔"
وہ پھر سے چپ ہو گئیں ۔۔ان کی بو ڑھی آواز تھر تھرا رہی تھی ۔
"کمّو بوا ۔۔۔میرا دم نکل جائے گا ۔۔۔۔بتا ئیے کیا ہوا ہے ۔۔۔؟"
"پار سا ل جب تم آئیں تھیں ۔۔تب سے ابتک دلہن اپنا کافی زیور بیچ چکی ہیں ۔۔۔جو بھیّا یہ گھر نہ بنوا جاتے تو چھت کا سہا را بھی نہ ہو تا ۔۔۔گھر کا سب قیمتی سا مان جو عنب بٹیا کے لیئے رکھّا تھا ۔۔۔ایک ایک کر کے ان سا ت بر سو ں میں بک چکا ہے ۔۔بس بٹیا ۔۔۔۔۔یہ ڈرانئیگ روم کا سامان  بچا ہے جو تمہارے ڈر سے نہیں نکالا کہ آکر پو چھو گی ۔۔۔تو کیا جواب دینگے ۔۔۔اور دلہن بیچاری بھی کیا کرے ۔۔۔۔؟ اب گا ؤں میں کوئی دیکھنے سننے والا نہیں ۔۔غلّہ بھی بہت کم آتا ہے ۔۔۔۔
کو ئی آمدنی  کہیں سے نہیں رہی ۔۔۔" انھو نے رک کر گہری سا نس لی ۔۔۔
میرے اندر دھڑ دھڑ کر کے لندن کی بلند و بالا عمارتیں گر نے لگیں ۔۔میر ے چہرے پر میری ہی فر ما ئیشوں کے تھپّڑ پڑ نے لگے ۔مینے کبھی یہ نہیں سو چا میری پیاری بھا بی کیسے گزر کر رہی ہے ۔۔بھیّا کے بعد کون سا سہارا ہے اسکے پاس ؟ مجھے ہمیشہ یہی لگا کہ جیسی رانیو ں والی زندگی وہ جی رہی تھی ۔۔۔۔وہی اب بھی ۔۔۔مگر میں ۔۔۔جو اس سے محبّت کا دعوہ کرتی ہوں مینے کبھی روک کر اسے پو چھا تک نہیں ۔۔۔؟ یہ کیسی بے حسی اوڑھ لی تھی مینے ۔۔۔۔صرف فر مایشیں کر تی رہی ۔۔۔کبھی رک کر اسکے آنسو نہیں دیکھے اسکی روح میں  نہیں جھا نکا ۔۔۔؟۔۔میرا وجود زلزلوں کی ذد میں تھا ۔۔۔تب بوا نے سر اٹھا کر مجھے دیکھا اور بو لیں ۔
"بٹیا ۔۔۔جو سیٹ تم عنب بٹیا کے لیئے لائی ہو ۔۔اس میں سو نا بہت کم ہے ۔۔دلھن نے مجھے سنار کے پاس بھیجا تھا ۔۔۔اسنے کہا وہ اٹھا رہ کیر ٹ کا ہے ۔۔بہت کم قیمت دے رہا تھا تو میں وا پس لے آئی ہو ں ۔۔۔اب تو ۔۔"
بس ۔۔وہ چپ ہو گئیں ۔۔مینے دوڑ کر کھڑ کی کا پٹ تھام لیا ۔۔با ہر زور کی بارش ہو رہی تھی ۔۔۔میرے گرم گرم انسوؤں نے مجھے اندر سے شرا بور کر دیا تھا ۔

ختم شد

No comments:

Post a Comment