Tuesday, January 28, 2014

اللہ کے نام پر

بڑا سا کچّا صحن ،دونوں طرف بڑے بڑے دالان تیسری طرف ڈیو ڑھی  اور چو تھی طرف  با ورچی خانے کا    بر امدہ ۔وہ بڑی  دیر سے برامدے کی زمین پر بیٹھی لایئنیں کھینچ رہی تھی ،مینے مڑ کر دیکھا پتہ نہیں کس   سو چ میں تھی ۔
کیا ہوا خلیقن"۔۔۔۔۔۔مینے آہستہ سے اسے آواز دی 
وہ ایکدم چونک کر اٹھی اور جھاڑو دینے لگی ۔
کچھ نہیں بٹیا ۔۔۔۔۔۔"اسکا چہرہ بتا رہا تھا  کہ کچھ ہے ضرور ۔
کچھ تو ہوا ہے  بتاؤ مجھے ۔۔۔۔۔۔"مینے اسے اشارہ کر کے اپنے پاس بلایا ۔اور کتاب بند کر دی ۔وہ آکر میرے قریب زمین پر بیٹھ گئی ۔
"ٹھیک سے بیٹھو پٹری لے لو ۔۔"مینے لکڑی کی پٹری کی طرف اشارہ کیا ۔
"کا ٹھیک سے بیٹھیں بٹیا ۔۔۔۔۔ابّا تو پگلائے گئے ہیں ۔"وہ جھنجھلائی ۔
کیا بک رہی ہو اتنے اچھّے تو ابّا ہیں تمہارے  کتنا خیال رکھتے ہیں  بیچارے تمہیں کھانا تک تو پکا کر کھلا تے ہیں ۔"
"ارے تو کا بھوا ۔۔۔۔ہم ہو کبھی کبھی پکائے لیت ہیں ۔۔کون بڑا کام کر ت ہیں "(ارے تو کیا ہوا ۔ہم بھی تو کبھی کبھی پکا لیتے ہیں  کون سا بڑا کام  کر تے ہیں )
"تم تو بہت بری ہو اتنے اچھّے ابّا کو ایسے بو لتے ہیں کہیں ؟؟"
"اچھّے وچھّے نا ہیں او۔۔۔۔۔۔۔۔تمکا تو کچھ پتہ نہیں  ہے ۔۔۔او ہمرا بیاہ ٹھکوائے  دیئں ہیں ۔"( انھو ں نے ہما ری شادی طے کر دی ہے )
"یہ تو خو شی کی خبر ہے بھئی ۔۔۔۔لاؤ مٹھائی وٹھائی کھلاؤ ۔۔۔" مینے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔
"کاہے کی مٹھائی ۔۔۔۔ہم نہ کر بئے بیاہ ۔۔۔۔۔۔۔سلیمن کا کروائے دیں "
"سلیمن تو چھو ٹی ہے ابھی ۔۔۔۔چلو اچھّا کام ختم کر و " مینے اپنی کتاب پھر سے اٹھا لی  مگر بات یہا ں ختم نہیں ہوئی ۔
اسکی شا دی واقعی طے ہو گئی تھی ۔۔۔اسی جمعہ کو       با رات آرہی تھی ۔گا ؤں میں گھہما گہمی سی ہو گئی ،لاؤڈاسپیکر پر گانے شروع ہو گئے ۔گاؤ ں کی لڑ کیا ں اپنے رکھّے رکھا ۓرنگ برنگے  اچھّے کپڑے پہن کر   پو رے گا ؤں میں گھو متی پھریں ۔۔۔
رات کو شادی کا کھانا بھی آیا سمیع با بو کے گھر سے ۔کافی دھوم دھام سے خلیقن کی شادی ہو گئی اور وہ خوب زور زور سے روتی ہو ئی رخصت ہو ئی وہ لو گ اسے ٹریکٹر کی ٹرالی میں رخصت کروا کے لے گئے ۔مینے اسکے لیئے چند جو ڑے کپڑے اور ایک چاندی کا سیٹ بھجوا یا ۔۔
وہ میر ے گھر پر بچپن سے ہی کام کر تی تھی ۔پہلے پہل اپنی امّاں کی انگلی  تھامے ہو ئے ڈری سہمی آتی  اور ایک کو نے میں بیٹھی انھیں کام کر تے دیکھتی رہتی ۔کچھ بر س ہو ئے اسکی امّاں کا انتقال ہو گیا  تو وہ اکیلی آنے لگی اسنے گھر کا سارا کام سنبھال لیا تھا ۔۔کبھی کبھی وہ اپنی چھو ٹی بہین کو بھی لے آتی اور وہ بھی اسی طرح ایک کونے میں بیٹھی رہتی ۔خلیقن کچھ کھانے کی چیز اس کے سامنے رکھ دیتی  اور خود کام میں لگی رہتی  مجھے بھی اسکی عا دت سی ہو گئی تھی ۔
گھر پر با با ،بھیّا اور میں  تھی ۔کام ذیادہ نہ تھا ۔۔مگر اتنے بڑے گھر کی صفائی اور کچّے آنگن کی جھا ڑو  میں ہی ایک گھنٹہ لگ جاتا اور دوسرے تب ہمارے گھر میں گیس کا چو لھا بھی نہیں تھا ،لکڑی جلا کر ہی کھانا بنتا ۔۔   ۔  کھا نے کی تعداد کا بھی کچھ پتہ نہیں کبھی بھی کئی لو گ کھانے پر آجاتے اور وہ جلدی جلدی سا را انتظام مہا رت سے کر لیتی ۔
میں چند ماہ پہلے ہی ہو سٹل سے گھر لوٹی تھی یہا ں کے کامو ں کی عا دت بھی نہیں تھی ۔۔ہر وقت خلیقن کی ضرورت رہتی تھی ۔۔۔۔اسنے گھر احسن طریقے سے سنبھالا ہو ا تھا ۔اسکے ہا تھ میں بہت ذائقہ تھا ،دال بہت مزے کی پکاتی ،ترئی گوشت تو لا جواب ہو تا تھا اسکے  ہا تھ کا ۔۔بیسن کی روٹی لہسن کی چٹنی جب اصلی گھی میں تل کر لاتی تو میں اور بھیّا کئی رو ٹیا ں صاف کر جاتے  اور پھر خوب ہنستے ۔۔۔۔کیو نکہ خلیقن  دوبارہ آٹا گوندھ رہی ہوتی ،دو بارہ چٹنی  بگھار رہی ہوتی  اور خود بھی ہمارے ساتھ ہنستی رہتی ۔۔۔۔۔۔اسکے ماتھے پر کبھی کوئی بل نہیں آتا  کہ وہ گر می میں دو بارہ سا را کام کر رہی ہے ۔۔۔۔۔

اسکے جاتے ہی سمیع با بو نے دو سری عو رت کا انتظام کر دیا تھا اور سروری نے کام سنبھال بھی لیا تھا ۔۔۔مگر خلیقن والی بات کہا ں سے آتی ؟؟ مجھے تو ہر وقت اسے آواز د ینے کی عا دت سی پڑ گئی تھی ۔۔۔۔۔
ہر کھانے میں ہم خلیقن کے ہا تھ کا مزا ڈھو نڈتے رہ جاتے ۔۔مگر ۔۔۔۔۔
جمعہ کو اسکی شا دی ہو ئی اور اتوار کو وہ  منھ پھلائے میرے سامنے بیٹھی تھی   ۔
"اب کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔" ؟مینے ہنستے ہنستے اسے گلے سے لگا لیا ۔
مگر وہ تو واقعی خفا تھی 
" بو ل ۔۔۔کیا ہو ا ۔۔؟ کیسا ہے تیرا میا ں ؟"
" ارے کیسا ہے ؟؟؟ بہت کھراب منئی ہے او ۔۔"
"اب کیا ہوا تجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ " اسکے انداز پر مجھے بہت ہنسی آئی 
"ٹرانسسٹر لائے ہیں گھر ماں ۔۔۔۔۔"
"ہا ں تو کیا ہو ا؟ ٹرا نسسٹر  کوئی بر ی چیز ہے کیا ؟ مزے سے گانے  سننا ۔۔۔تمکو تو گانے سننا پسند ہے نا ۔؟"
"ہا ں تو پسند ہے  تو ای کون بات ہے ۔۔کہ گھر تو ٹو ٹا  پھو ٹا ۔۔دروجّا تک  انکا جرا نہیں   پھر کا  لاگ ہے ۔   ۔ کو کورآوت جات ہے  اور گھر ما لے آیئں ٹرانسسٹر ۔۔" (ہاں پسند تو ہے مگر یہ کیا بات ہوئی کہ گھر تو ٹو ٹا ہوا ہے  دروازہ تک  نہیں ہے بانس لگے ہیں ،کتّا آتا جاتا ہے  اور گھر میں لے آئے ٹرانسسٹر )
"ارے تو تو بڑی سمجھدار ہو گئی ہے ۔۔۔مطلب یہ کہ پہلے گھر کا دروازہ بنوانا  چا ہیئے  پھر کو ئی تفر یح کی چیز  لانی چاہیئے ،ہا ن بھئی بات تو صحیع ہے چلو ہم بات کرینگے  تمہارے میا ں سے ۔۔۔۔۔"
" کاہے کے میا ں ۔۔۔؟  بٹیا ۔۔ہم کا ای   آدمی ٹھیک  نا ہی لگت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ بدک کر بو لی ۔۔۔
" کیو ں ؟؟ کیا ہوا ؟"
"اب بٹیا تمکا  کا بتایئں ۔۔۔" وہ شر ما گئی
" کیو ں ،،بتا ؤ ۔۔۔سب کچھ تو بتا تی ہو اپنے ابّا سے پٹ کر آتی تھیں  تب بھی اور اپنے معصوم ابّا کو پیٹ کر آتی تھیں تب بھی کہ "مر ہیئں ۔۔۔۔تو مارو کھیئنہیں   ۔۔۔کاہے مارن ہمکا "(مارینگے تو مار بھی کھائینگے ۔۔۔ہم کو کیو ں مارا )
اتنا سمجھایا کہ ابّا پر ہاتھ نہیں اٹھاتے  مگر تم تو کہتی تھین کہ "مرہیں تو جرور ئے مربئے "(وہ مارینگے تو ہم بھی مارینگے )
اب کیا ہوا  جو نہیں بتا سکتیں ؟"
میں خا موش ہو گئی تو اسنے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اسکی آنکھیں آنسوں سے بھری تھیں ۔
"بٹیا ۔۔۔۔۔۔او ہمکا پکڑت ہے "اسنے اٹک اٹک کر بتا یا ۔
"ارے تو وہ تیرا مرد ہے  پاگل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کو ئی غیر تھو ڑی ہے " مجھے بھی شرم آگئی ۔
"مرد ہے تو کا بھوا ۔۔۔۔ہمکا پکڑ یہئے تو ایسن مار کھیہیئے"(مرد ہے تو کیا ہوا ۔ہم کو پکڑے گا تو ایسے ہی مار کھائے گا )
"ہا یئں ۔۔۔؟؟ تم اسے مار کے آئی ہو  کیا غضب کر تی ہو تم پاگل ہو با لکل ۔۔"
"ہا ں ہا ں  ہم تو پاگل ہیئ ہیں  بتائے دیہو ابّا کا ۔۔۔کہ ہم نا جابئے ،ہمکا پکڑت ہے ،ہمکا نیک نہیں لگت  دور سے بات کر ئے تو ٹھیک ہے نہیں تو مار مار کے دھن دیب"(ہم تو پاگل ہیں ہی ۔ابّا کو بتا دینا  کہ ہم جایئنگے نہیں ،بات کر نی ہے تو دور سے کرے ورنہ  بہت مارینگے ہم ) "وہ زور زور سے جھا ڑو دیکر دھول اڑانے لگی گو یا اپنا غصّہ نکال رہی ہو ۔
"یا اللہ کیا مصیبت ہے یہ لڑ کی " مینے سر پیٹ لیا ۔
سمیع با بوکا شمار  گاؤں کے شریف اور غریب کسا نوں میں سے تھا ۔ان دو بیٹیو ں کے سوا انکے پاس کچھ بھی نہ تھا ۔چند بر س پہلے وہ اور انکی بیوی نے ہمارے گھر ملاز مت اختیا ر کی ،انکی بیو ی نہائت شریف عو رت تھی دو بیٹیو ں کی وجہ سے لوگ انکا جینا حرام کیئے ہوئے تھے کہ ایک بیٹا ہو جاتا تو  تم لو گوں کا بڑھاپا سنور جاتا ۔حالانکہ کہنے والے شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ بہت سارے گھرو ں میں بیٹے والد ین کے بڑھا پے کو سنوارنے کے بجائے اجاڑدیا کر تے ہیں  مگر بہر حال یہ یہا ں اس قسم کی با تیں عام ہیں ۔بیٹے کی پیدایش ہوئی اور جو تکلیفیں سلمہ نے اٹھایئں وہ کوئی محسوس نہیں کر سکتا مگر اسکے بعد جب ما ں اور بیٹا دو نوں اس جہا ں سے گزر گئے تب سمیع با بو اور بچیوں نے جو مصیبتیں اٹھا ئیں وہ سب کے سامنے تھیں ،کئی دن تک وہ باہر با با جان کے سامنے آکر روتے رہے انھیں بہت سمجھا کر گھر بھیجا جاتا کہ اپنی بچّیوں کو دیکھو اب تم ہی ان کا سہا را ہو ۔۔۔دھیرے دھیرے انکے دل کو قرار آہی گیا تو اپنی بیٹیو ں کو جا کر گلے سے لگا یا اور جینے کی کو شش کر نے لگے ۔
خلیقن نے حقیقتاً انکو بیحد سہا را دیا وہ اپنے ننھے ننھے  ہا تھو ں سے انکے آنسو پو چھتی  اپنے ہا تھ سے کھا نا کھلا تی اور سر دبا کر سلا دیتی ۔پھر رفتہ رفتہ زندگی معمول پر آگئی اور سمیع با بو خود چو لھے چکّی میں جٹے ۔ساتھ ہی خلیقن سے بھی کام کرواتے وہ خوشی خوشی سب کر دیتی مگر جب اسکا دل نہ چاہتا تو بس منھ پھلا ئے بیٹھی رہتی اور تب سمیع با بو اسکا منھ دھلا کر سر میں تیل لگاتے اور الٹی سیدھی چٹیا بنا کر ہمارے گھر چھو ڑ جاتے ۔
میں جب ہو سٹل سے آتی تو گھر میں گا ؤں کی عورتوں کا آنا جانا ہو تا ورنہ سنناٹے راج کر تے ۔۔با با جان صبح اٹھ کر کھیتوں میں کام کروانے چلے جاتے اور بھیّا اگریکلچر میں ایم ایس سی کر کے با با جان کے ساتھ نئے نئے    تجر بات کر تے رہتے ۔پڑھائی ختم ہو تے ہی عا صم کی امّی میرے لیئے رشتہ لیکر آگئیں ۔میں تو گھر والوں سے شر مندہ سی ہو گئی جبکہ ہمارے بیچ کو ئی ایسی بات ہو ئی بھی نہ تھی ۔تب میری سمجھ میں آیا کہ عا صم نے میرا پتہ کیو ں لیا تھا ۔
چچی جان نے مجھ سے مر ضی لی تو مینے منع بھی نہیں کیا ۔شا دی تو کہیں نہ کہیں ہو نا ہی ہے ۔۔عا صم ہی سہی ۔۔۔۔
امّی کے زیورات نکلوائے گئے ۔۔کپڑوں کی خریداری شروع ہو ئی اور بھی نا جانے کیا کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی وقت یہ قصّہ بھی جاگ اٹھا ۔مینے اپنی طرف سے اسے سمجھا بجھا کر بھیج دیا تھا ۔۔۔۔کئی دن واپس نہیں آئی سلیمن  نے آنسو پو چھتے ہو ئے بتا یا کہ" دولھا بھائی آپا کا تھپّڑ مارن ۔۔۔۔۔۔اور جبر دستی لئے گئے ۔۔۔ابّا بہت روت رہے ۔"
مینے اسے بہت سمجھایا مگر سچ تو یہ ہے کہ میرا بہت دل دکھا ۔
ایک ماہ کیسے گزر گیا کچھ پتہ ہی نہیں چلا  اتنے سارے کام تھے پھر عزیزوں کی آمد، مستقل کوئی نہ کوئی مہمان رہا چچی جان بھی رہنے کے لیئے آگئی تھیں ۔سلیمن برا بر آرہی تھی مگر وہ ابھی سب کام نہیں سنبھال پائی تھی اس لیئےبس سروری کی کچھ مدد ہو جاتی ۔
اس دن میں سر دھو کر نہائی کچھ سر دی محسوس ہونے لگی تو چھت پر کر سی ڈلوا کر بیٹھ گئی ۔تھو ڑی دیر بعد محسوس ہو ا کہ پیچھے کو ئی آکر بیٹھ گیا ہے مڑ کر دیکھا تو خلیقن  میلے کچیلے  کپڑے پہنے گٹھری سی بنی بیٹھی تھی  ۔میں ایکدم اٹھ کڑی ہوئی ۔
"خلیقن ۔۔۔"؟ مینے اسے چھوا تو وہ ایکدم زمین پر آرہی ۔۔دبلی پتلی ،مدعوق چہرہ ،پیلی سی آنکھیں  بال الجھے دھول بھرے ۔۔۔۔وہ بیحد بر ے حالو ں میں تھی ۔ میں بر ی طر ح گھبرا گئی تھی ۔سروری کی مد د سے اسکو پلنگ پر لٹایا  دودھ گر م کر کے پلو ایا ۔وہ ہوش میں آکر بستر سے اترنے لگی ۔
"لیٹی رہو ۔۔۔۔لیٹی رہو ۔۔۔"مینے اسے دوبارہ لٹا دیا اور اسکے قریب بیٹھ گئی  ۔
" کیا ہوا بیٹا ۔۔۔کیسی طبیعت ہے ؟" اسے اس حال میں دیکھ کر مجھے بیحد رنج ہو رہا تھا ۔
" کچھ نہیں بٹیا ۔۔۔۔"اسنے اپنے آنسو میلے روبٹّے میں چھپا لیئے ۔
"بتا ؤ تو ۔۔۔کیا ہوا ہے کچھ کہا ہے کسی نے ؟؟؟" اسنے شانے سے روبٹّہ ہٹایا تو قمیص پھٹی ہوئی اور کاندھے پر گہرا زخم تھا ۔
"او میر ے خدا ۔۔۔۔۔یہ کیا ہوا ہے ؟"
"ہمکا لا ٹھی سے مارت ہیں 'وہ سسکنے لگی ۔۔۔
"مگر کیو ں کس لیئے ؟؟میں بیقرار تھی ۔
"کہت ہیں تمہرے ابّا نہ تو سائیکل  دیہن ہیں نہ اسکو ٹر ۔۔۔۔یا تو پیسہ لیکر آؤ نہیں تو اور مر بئے "
اسنے روتے روتے بتایا ۔۔۔
"اففففف غضب خدا کا ۔۔۔پہلے نہیں دیکھا اسنے ؟؟ کہا ں سے دینگے یہ سب ؟؟ وحشی ہے یہ شخص ۔۔با لکل پاگل ہے ۔"
مینے گرم پانی سے اسکا زخم صاف کیا دوا لگائی  اپنا ایک جو ڑا پہن وایا منھ دھلوایا ۔۔۔۔وہ پو رے وقت بس رو تی ہی رہی ۔
" بس بہت ہو گیا ۔۔۔اب مت جانا اسکے پاس ۔۔۔" اسنے زخمی ہر نی کی طر ح مجھے دیکھا ۔۔۔۔میرا دل تڑپ گیا مینے اسے بڑھ کر لپٹا لیا ۔۔۔۔۔
کچھ دیر کے بعد جب با با جان اندر آئے تو بہت تھکے    ہو ئے لگ رہے تھے مینے انکو یہ ساری بات بتائی تو   خاموش رہ گئے ۔
پھر بو لے " بٹیا ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ان لو گو ں کے ذاتی معملات ہیں ،لڑکی کا معاملہ بہت نازک ہو تا ہے ۔۔۔ذیادہ سفارش کر یں تو لڑکی بد نام ہو جاتی ہے ۔تم یہ ساری باتیں نہیں سمجھ سکو گی ۔۔بہر حال میں سمیع با بو سے بات کر ونگا ۔۔۔دیکھتے ہیں کیا ہو سکتا ہے ۔۔آج کچھ دے بھی دیں تو کل دو سری فر مایئش نہیں آئے گی یہ کیا گا رنٹی ہے ؟ "انھوں نے تھکے تھکے انداز میں بات ختم کی اور  شیروانی اتار کر ٹانگ دی اور بستر پر لیٹ گئے ۔
" کیا ہوا با با جان ؟ کوئی مسئلہ ہے کیا ؟"
مجھے انکے بے وقت لیٹنے پر حیرت ہوئی ۔
"نہیں بٹیا ۔۔۔بس تھک گیا ہو ں ۔۔۔۔"
" مجھے نہیں بتا یئں گے ؟؟ " میں انکے بال سہلانے لگی انھوں نے امّی کے بعد اپنے دل کی بات کسی سے بھی کہنا چھو ڑ دی تھی ۔مجھے اس با ت کا بیحد احساس تھا کہ وہ اپنی کو ئی بھی تکلیف کبھی ہم میں سے کسی سے شیئر نہیں کرتے بس ۔۔۔خا مو ش ہو جاتے ہیں ۔
میں انکا سر دباتی رہی وہ بے خبر سو گئے ۔مجھے تجسس تھا شیروانی کی جیب سے ایک لفا فے کی جھلک دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا ۔۔۔
وہ خط تھا کہ ایک شعلہ تھا جو پو رے وجود میں پھیل کر مجھے خاکستر کر رہا تھا ۔ہو ش اڑ گئے تھے میرے ۔۔۔۔یہ ایک لمبی چو ڑی فہرست تھی سامان کی ۔۔جو کہ عاصم کی طر ف سے بھیجی گئی تھی ۔وہ تقریباً پچاس لاکھ کا سامان تھا جو کہ میرے جہیز میں مانگا گیا تھا ۔۔انکا کہنا تھا کہ   با با جان زمیندار رہ چکے ہیں زمینیں اور باغات کے مالک ہیں پھر اتنی سی رقم انکے لیئے کیا حیثیت رکھتی ہے ۔
میر ے دل کے آنگن میں کھلتا ہوا عا صم کے پیار کا نرم پو دا ایکدم ہی مر جھا گیا ۔۔۔۔وہ رات مجھ پر بہت بھاری گزری ۔
ہم لوگ صبح نا شتہ کر رہے تھے کہ سلیمن زور زور سے روتی ہوئی اندر آئی ۔۔۔
"یا اللہ خیر ۔۔۔۔۔" مینے دل پر ہا تھ رکھا ۔
"خلیقن مر گئی بٹیا ۔۔۔۔۔وہ لوگ خلیقن کا مار ڈالن ۔۔۔۔۔" وہ تڑپ تڑپ کر رو رہی تھی  باہر سے بہت سارے لو گوں کے بو لنے کی آوازیں آرہی تھیں ۔با با جان نا شتہ یو نہی چھو ڑ کر با ہر چلے گئے ۔ کئی عورتیں اندر آگئی تھیں سب سلیمن کو تسلّی دے رہی تھیں مگر وہ ہا تھو ں سے نکلی جا رہی تھی  اسکی حالت دیکھ کر میرا بھی برا حال تھا ،،ایک کہرام سا بر پا   تھا ۔۔۔۔
سنا کہ کل جب وہ اپنے گھر پہونچی تو وہ وہیں بیٹھا تھا ۔وہ اسے مارتا ہو ا گھر لے گیا جب گا ؤں والوں نے اسے روکا تو  بد تمیزی سے بو لا " میری بیوی ہے ۔۔۔جو       چا ہوں کروں ۔۔۔کہو تو ابھی طلاق دیکر یہں بیٹھا دوں۔؟  " اور گاؤں والے خا موش


 ہو گئے کہ وہ اس لفظ سے بہت ڈرتے ہیں ۔
صبح یہ خبر آئی کہ کھانا پکا تے ہو ئے اسٹو و پھٹ گیا ۔۔اور وہ جل کر مر گئی ۔۔۔یہ وہی اسٹوو ہے جو          وقتناً فوقتناً۔کم جہیز لانے والی بیٹیو ں کو جلا نے کے لیئے  پھٹتا ہے ۔
سارا دن ان لو گو ن کی دلجوئی میں گزرا  شام ڈھلے وہ سب اپنے گھر گیئے اور اسکی میّت آگئی تھی دفن کی تیّاری ہو رہی تھی  پو رے گا ؤں پر ہو کا عا لم تھا  ۔
رات ہو گئی تھی با با جان گھر کے اندر نہیں آئے تھے پتہ نہیں کیا معا ملات سلجھائے جا رہے تھے ۔
عا صم کا فو ن آگیا ۔
"کیسی ہو ۔۔۔۔۔؟؟"
"ہا ں ٹھیک ہو ں "
"طبیعت ٹھیک ہے ۔۔۔تمہا ری آواز کیسی ہو رہی ہے ؟"
" ہا ں با لکل ٹھیک ہو ں ۔۔۔تم سنا ؤ "
"دیکھو ۔۔۔۔وہ ۔۔ابّا نے کو ئی رجسٹری وغیرہ بھیجی ہے      با با جان کو ۔۔۔اب تم یہ سب دل پر مت لینا ۔۔کوئی ضروری نہیں ہے کہ ساری چیزیں ہو ں تم لوگ اپنے طور پر دیکھ لینا ۔۔۔جو بھی کمی بیشی ۔۔۔۔۔"
"ایک بات سنو عاصم " مینے اسکی بات کاٹ دی
"ہا ں بو لو ۔۔۔۔"
" میں بس ایک بات کہنا چا ہتی ہوں "
  "ہا ں کہو  کہو "
" تمہیں پتہ ہے جب فقیر بار بار دروازے پر آئے تو کیا کہتے ہیں ؟ "
"وہا ٹ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟"وہ زور سے چیخا
"کہتے ہیں ۔۔۔۔با با معاف کرو ۔۔۔کو ئی اور دروازہ دیکھو "
مینے فون پٹخ دیا ۔
اور خلیقن کی موت پر پھو ٹ پھو ٹ کر رونے لگی ۔
ختم شد ۔




No comments:

Post a Comment