Tuesday, January 28, 2014

چاند چہرہ ۔
آج تقریباً ایک ہفتہ کے بعد ٹھیک سے بیٹھ کر آرام سے آیئنہ دیکھنے کی مہلت ملی تھی صبح کے دس بجے ہونگے ۔کمرے کا مشرقی دریچہ کھول دیا تھا ،بڑی نرم سی خوشگوار، سبک ہوا چہرے کو چھو رہی تھی اچانک ہی میں چو نک پڑی ۔۔۔ارے تو کیا میں بو ڑھی ہو رہی ہوں ؟؟؟سنبھل کر آیئنہ مضبو طی سے پکڑ لیا پو ری آنکھیں کھول کر دھیا ن سے دیکھا ،واقعی چہرہ بجھا بجھا سا تھا ،میں افسردہ سی پلنگ کے کنا رے ٹک گئی ۔
ایک بار پھر آیئنے کو گھو را مگر بھلا گھورنے سے اسکا پا رہ تھو ڑی مر جاتا ہے ۔
یہ تو آجکل کی لڑ کیا ں پرا ئیمری کلا س سے نکلیں اور پہو نچ گئیں بیو ٹی پارلر ۔۔۔
نہ جانے کیا کیا کرواتی ہیں تھریڈینگ ،ہیر ڈریسنگ ۔ڈایٹنگ
اور خدا جانے کیا کیا ۔۔۔نہیں سیکھینگی تو گھر داری ۔۔۔
بر تن نہیں دھو تی ہیں کہ ہاتھوں کا ستیا ناس ہو جائے گا ۔
کھا نا ان سے نہیں پکتا ۔کپڑے دھویئں گی تو نا خون ٹو ٹ جایئںگے ۔۔۔
ایک ہم ہیں ساری زندگی کام میں لگے رہے  نو کروں کے ہوتے با ورچی خانے میں گھسے رہے ،جلد کا حال خراب کر لیا ۔
میا ں جی کی خوش نودی میں بر یانی کو فتے بنا تے رہے ،ان کے کپڑے اپنے ہا تھوں سے دھو نا اپنی خوش نصیبی سمجھتے رہے ۔۔دنیا بھر کے کام لاد لیئے اپنے اوپر ۔۔۔گالو ں کو بے رونق کیا ۔۔۔آنکھو ں میں حلقے ۔۔۔پیشا نی پر سلوٹیں۔۔ لو ۔۔اور مو ڈ آف کرو ۔۔۔میا ں دیر میں آئے تو پیشا نی پر سلو ٹیں ۔۔بچو ں نے ضد کی تو تیو ری چڑھ گئی ۔۔اور تو اور ۔۔جب امّاں بی کو ذیادہ پیسو ں کی ضرورت ہوتی تو بس پھر کیا اندر کا سارا پانی جل کے خاک ہو جاتا ۔۔
بس اس عید پر تو پہلے سے اپنے کو ٹھیک ٹھاک کر نے کے لئے بیو ٹی پارلر ضرور جانا ہے ۔۔۔کوئی خر چہ ورچہ نہیں دینا کسی کو ۔۔۔۔
اسبار جی بھر کے اپنی ذات پر خرچ کرنا ہے ۔۔۔۔میاں صا حب بھی تو اب نظر بھر کے نہیں دیکھتے ۔۔۔فر صت کہا ں؟ اور وجہ تو یہی ہے کہ میر ی صورت ہی ایسی ہو گئی ہے ۔۔۔
اور یہ نند صا حبہ اپنا گھر چھو ڑ کے آبیٹھی ہیں ۔۔انکا خرچ الگ ،کپڑے لتّے بنا ؤ کھلا ؤ پلا ؤ جان مارو ۔۔۔۔مگر کسکو فکر ؟؟
ہم سے اب نہ ہوگا  میں کہے دیتی ہو ں اس بار میا ں جی سے صا ف بات کر نی ہے  مجھے عید سے پہلے پہلے کم از کم دس ہزار اپنے لیئے لینے ہیں ۔۔چا ہے کہیں سے بھی دیں ۔۔۔مجھے نہیں پتہ ۔۔۔
چہرہ ٹھیک ٹھاک کر وانا ہے ۔بال ترشوانا ہے اور ہاں پیڈی کیور مینی کیور بھی کرواؤنگی ۔۔۔
مگر پھر سارے خرچو ں کا سو چکر ٹھینڈے پسینے آنے لگے
کہا ں سے ہوگا یہ سب ؟؟؟
بھلا حسنِ جہا ں سوز کا خرچہ کہا ں سے نکلے گا ۔
اب ایک بار پھر نا امیدی کا کالا سمندر تھا اور میں ۔
اکیلے آدمی کو بہکانے کے لیئے شیطان بھی تیّا ر ہی بیٹھا رہتا ہے ۔۔اکیلے اس لیئے کہ ساس اور نند کے پاس بیٹھ کر  وقت ضایع کر نے سے اچھا اکیلے بیٹھنا لگتا ہے ۔سو ہم نے پکّا ارادہ کر لیا ۔۔۔اس بار امّاں بہن کو کچھ دینے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔اور ایک عزم سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔
تھو ڑی بہت ڈسٹینگ کی رمضان میں کھانے سے تو فرصت ہی مل جاتی ہے ۔۔۔کئی بار سو چا قران اٹھا لوں
تلا وت کر لوں ۔۔مگر ذہن میں جملے تر تیب دینے تھے ،کسطرح میا ں کو قائل کرنا ہے کہ اسبار "ان لو گوں 'کو پیسے نہ دیں ۔۔شام کے لیئے چنے بھگو دئے ۔۔۔نند صا حبہ شام کو اکثر کو ئی اچھی ڈش بنا دیتی تھیں ۔۔چلو اس سے بھی مجھے فر صت ہو گئی ۔
شام کو گھنٹہ دو گھنٹہ امّاں کے پاس بیٹھ کر ہی کمرے میں آتے ہیں ۔۔۔چلو یہ تو کوئی بات نہیں بس میں ٹھیک سے انکو قائل کر لوں ۔۔کسی طرح میری پریشانی سمجھ جائیں تو امّاں اور بہن کو دینے والے پیسے روک کر مجھے دے دیں ۔۔
محّلے کی عورتیں بن سنور کے آتی ہیں بیو ٹی پالر سے اور ایک میں ہوں ۔۔سو چتے سو چتے نیند آنے لگی اور وہیں ڈرانیئگ روم میں ہی سو گئی
آنکھ کھلی تو دیکھا میا جی سامنے بیٹھے مجھے دیکھ رہے تھے چہرے پر پریشانی تھی ۔
"کیا ہو گیا ۔۔۔۔یہا ں کیو ں سو گئیں ؟؟"
"بس وہ ڈسٹنگ کر رہی تھی نیند آگئی "
چلو کمرے میں لیٹ جاؤ ۔۔
اب تو افطار کا وقت بھی قریب ہے ۔۔۔طبیعت ٹھیک ہے تمہاری ؟؟
وہ فکر مندی سے میری پیشانی چھو کر دیکھ رہے تھے
"ہا ں ٹھیک ہو ں بس ۔۔۔" میں آہستہ آہستہ اٹھ کر کچن کی طرف گئی ۔دیکھا دو نوں ما ں بیٹی افطار اور کھانا بنا چکی تھیں اب پلیٹیں نکال رہی تھیں ۔۔مجھے دیکھ کر بو لیں
"کیا ہوا دلھن ؟؟کیسی طبیت ہے "
"ٹھیک ہو ں " مینے لٹھ سا ماردیا اور کمرے میں چلی آئی
بستر پر ڈھیر ہو گئی ۔۔۔آہ کتنا آرام ملا ۔۔۔صو فے پر تو کمر تختہ ہو گئی تھی ۔
یہ الگ بیٹھے اخبار دیکھ رہے تھے ۔
"سنیئے ۔۔۔"
"ہا ں جی بو لیئے " انھوں نے اخبار کا کو نہ ہٹا کر مجھ پر نظر ڈالی ۔
"وہ میں یہ کہہ رہی تھی ۔۔۔۔کہ امّاں بی اور نگھت آپا کو جو پیسے ۔۔۔۔۔۔"
پو ری بات منھ سے نکلی بھی نہیں تھی کہ وہ ایکدم اخبار رکھ کر میرے قریب آگئے اور بولے
"کتنی عظیم ہو تم شیرٰیں ۔۔۔۔تمہارا نام ہی شیریں نہیں تم سچ مچ  شیریں زبان ہو ۔۔کتنی فکر ہے تمکو امّاں اور باجی کی ۔۔میں تو سو چ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔
بلکہ مین تو سمجھ رہا تھا تم عید کے پیسے دینے نہیں دو گی مگر میں غلط تھا ۔۔۔مجھے معاف کر دو شیریں مینے تمہارے لئے ایسی بات سو چی بھی کیسے ؟"
انھوں نے ہتھیلیو ں میں میرا چہرہ تھام لیا تھا اور بول رہے تھے ۔۔

"کتنا  چاند سا چہرہ ہے میری بیگم کا کسی میک آپ کے بغیر چمکتا ہے " ۔۔۔۔      

No comments:

Post a Comment