افسانہ ۔۔۔۔۔۔۔دیمک زدہ ماضی از انجم کدوائی
ریا ستیں مٹ گئیں ،جا گیر یں ختم ہو گئیں مگر آج بھی محلات اور حو یلیوں کے کھنڈرات میں نہ جا نے کتنی کہا نیا ں پو شیدہ ہیں ،کتنی سسکیا ں اور آہیں اب بھی فضا میں گو نج رہی ہیں
"ای لو ٹا بکیئے آوا رہیئے "
خستہ تن خستہ پیر ہن علا قے کے سنار علا دین کے ہا تھو ں میں بڑا سا سنہرا لو ٹا کا نپ رہا تھا ۔اس لو ٹے پر رانی صا حب کا نا م کھدا ہوا تھا علاقے میں اسے بیچنے کی ہمّت کس نے کی ؟ڈیو ڑھی کی زنجیر کھٹکھٹا کر جب منشی جی نے لو ٹا اندر بھجوا یا تو حو یلی میں ہلچل مچ گئی ،اک یہ لو ٹا ہی نہیں کا فی دنو ں سے بڑی حویلی کی کئی چیزیں دو سرے علاقے میں دستیا ب ہو ئیں کچھ ہلکے زیور کچھ بر تن ،مگر جب سامان کی کو ٹھری میں سیندھ لگی اور سو نے چا ندی کے زیور و ں کے ساتھ رانی صا حب کے اشر فی ٹکے گرا رے اور کر تے چو ری ہو ئے تو انکا صبر جوا ب دے گیا ۔ایک ایک ملا زم کو پکڑ کر اس کی اچھی طر ح مر مّت کی گئی تھانے سے دارو غہ تک بلا لیئے گئے ،مگر چو ر کا پتہ نہیں لگ سکا ۔رانی صا حب کا سارا کام کر نے والا چھو ٹا سا کم عمر ملا زم وجّو (جسکا نام اسکے والدین نے وجا ہت رکھا تھا )تک انکے عتاب سے نہ بچ سکا ۔رانی صاحب نے بھاری بھر کم پلنگ کا پا یہ اس کے نر م و نازک ہا تھ پر رکھوادیا اور اپنی لحیم شحیم ملا زمہ کو حکم دیا کہ وہ اس پلنگ کے پا ئے پر کھڑی ہو جائے ،وجّو کی نر م نا زک انگلیا ں تک کڑ کڑا کے ٹو ٹ گیئں مگر رانی صا حب کا حکم تھا سو ملا زمہ اسی طرح کئی منٹ تک کھڑی رہی اور وہ بے حس بنی دیکھا کیئں اور وجّو بیہو ش ہو گیا ۔
شا م تک وجّو کو اسپتال پہنچا نے والے اعجاز میا ں تھے وہ چو ری کی تہہ تک پہو نچ چکے تھے مگر اس چو ر کا علاج ممکن نہ تھا ۔
رانی صا حب کے چھو ٹے بیٹے شہزاد عا لم کی صحبت ایسے لو گو نکے ساتھ تھی کہ انکو روز ہی بڑی بڑی رقموں کی ضرو رت پڑ تی رہتی ۔خر چ کے نام پر ان کو اچھی خا صی رقم مل جایا کر تی تھی مگر جہا ں اس قسم کے شوق ہو ں وہا ں تو جا گیر یں کم پڑ جا تی ہیں یہ تو بند ھی ٹکی رقم تھی جو را نی صا حب ہر ما ہ انھیں د یتی تھیں ۔شہزاد عالم کی سر گر میا ں وہی تھیں جو عا م طو رپر بگڑے رئیسوں کی ہو ا کر تی ہیں ،کو ٹھو ں پر جا نا شراب و شباب کی محفلیں سجا نا اور تو اور گھو ڑوں کی ریس میں بھی حصہ لیا کر تے تھے ۔رانی صا حب کسی حد تک انکے شو ق پو رے بھی کر دیتی تھیں مگر مصیبت یہ تھی کہ علا قے کی آمد نی دن بہ دن گھٹ رہی تھی چھو ٹے زمیندار سر اٹھا نے لگے تھے ۔
حو یلی کے سامنے کھلے میدان میں یو کلپٹس کے پیڑ لگا ئے جا رہے تھے کیو نکہ پرانے سارے درخت جو راجہ صاحب اور ریا ست امیر پو ر کے راز دار تھے ،جڑ سے اکھڑ نے لگے تھے ۔
شاید اب غریب بیمار ما یوس رعا یا کو بھی اپنا خیال آنے لگا تھا زندگی کی حقیقتیں ان پر کھلنے لگی تھیں اور اسکی وجہ تعلیم تھی ،وہ تعلیم جو اعجاز میا ں ان سب کو دے رہے تھے ۔
اعجاز میا ں بھی اسی ریا ست امیر پور کے غریب مولوی فتح محمد کے بیٹے تھے ،جو کہ بچوّں کو قرانِ پاک کی تعلیم دیتے تھے۔انھوں نے شہر جا کر پڑھائی پو ری کی اپنی تعلیم پو ری کر کے وہ واپس علاقے میں آگئے اور ان سو ئے ہو ئے لو گو ں کو جگا نے کا بیڑہ اٹھایا اور راجہ صا حب کی ما یوس رعا یا کی آنکھو ں میں رو شنی آگئی ۔ان کاا سکول بچّوں اور بزرگوں سبھی کے لئے کھلا تھا ،مگر رانی صا حب کو کیسے گوا رہ ہو تا ،لہٰذا حو یلی میں طلبی ہو گئی ۔
"ہم تم سے یہ پو چھتے ہیں "پر دے کے پیچھے سے آتی ہوئی تلخ اور کرا ری آواز نے انکا طلسم تو ڑ دیا ۔
"تمہیں کیا حق ہے کہ علاقے کے لو گو ں کے لیئے اسکو ل کھو لو اورلو گوں کو غلط سلط تعلیم دو ۔۔۔۔"
"سلام عر ض کر تا ہو ں۔حق تو میرا کو ئی نہیں ہے شاید۔۔۔مگر مجھ پران اپنوں ں کے کئی فر ض ہیں اور میں اپنا فر ض پو را کر تا ہوں ،کیو نکہ اسی زمین کا بیٹا ہو ں ۔یہا ں کے لو گو ں کو مکمل تعلیم سے آراستہ کر نا چا ہتا ہو ں ،ان کی زندگی بنا نا چا ہتا ہو ں ۔
"تم زند گی بنا ئو گے انکی ۔۔۔؟؟؟؟"انھو نے نخوت سے پان کی پیک اگلدان میں تھو کی ۔" آئندہ اس قسم کے کو ئی کام نہ ہو ں تم ہما رے ملا زمو ں کو بگا ڑ رہے ہو کل سے تم زمینو ں کا حساب کتا ب دیکھو گے ،منشی جی اب ضعیف ہو گئے ہیں "انھوں نے گو یا بات ختم کر دی ۔اعجاز خاموشی سے ان کے بے بنیاد الزا مات اور احکا مات سنتا رہا پھر اس نے ایک ٹھنڈی سا نس بھر کر قدم با ہر کی طر ف بڑھا دیئے ۔اور اندر رانی صا حب کے پا س بیٹھی نو رالنساء بی بی کے دل میں یہ سا نس ترازو ہو گیا ،یہ پہلا مو قع تھا جب انھوں نے بڑے ہو کر اعجاز کو دیکھا ۔۔۔۔
لمبا قد سا نو لا رنگ مضبو ط جسم سیدھے سیا ہ بال کشا دہ پیشا نی اور گہری ذہین آنکھیں ،متبسم ہو نٹ اور بے نیا ز اندا ز نورالنساء کے دل میں اتر گیا ۔۔۔۔۔۔۔ملنے کے راستے انکی خا ص ملا زمہ نے فیرو زہ نے طےء کیئے اور مو لوی صا حب کے گھر وہ جس دشواری سے پہونچی وہ الگ کہا نی ہے مگر اعجاز اسے دیکھ کر بھو نچکّا رہ گیا ۔" آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ آپ یہا ں ۔۔۔؟ " اسکے منھ سے صحیع الفاظ بھی نہیں نکل رہے تھے
وہ مکمل پردے میں تھیں ،لمبے سیا ہ لبا دے میں انکا مر مریں جسم پو شیدہ تھا لمبے گھنے سیا ہ بال پشت پر پڑی شا ل سے ڈھکے ہوئے تھے ،گلابی پر تبسم چہرہ سیاہ شال کے ہالے میں چمک رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خو بصورت آنکھیں پو ری کھلی ہو ئی تھیں اور انھوں نے بڑے عا جزانہ طر یقے سے اعجاز کو مخا طب کیا ،
"کیا آپ ہمیں پڑھا یئں گے ۔۔۔۔؟"وہ سرا پا التجا ء تھیں ۔
لیکن رانی صا حبہ ۔۔۔۔؟ میرا مطلب ۔۔۔۔وہ تو ۔۔۔۔۔؟
"کیا آپ پڑھا ئیںگے ہمیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟سوال ایک بار پھر سے دہرا یا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اعجاز کا دل بڑی زور سے دھڑکا ۔۔۔۔۔۔۔۔آج اسے محسو س ہوا کہ ایک معصوم خو بصو رت بلکہ بے تحا شہ خو بصو رت وجود ۔۔جس نے انکے خوا بوں کو منّو ر کیئے رکھّا تھا وہ تو نور النساء بی بی ہی تھیں ۔۔بچپن میں جب وہ حویلی آجایا کر تا تو اکثر ایک چھو ٹی سی معصوم گلا بی گلا بی لڑکی اسے اپنے ساتھ کھیلنے پر مجبو ر کر تی تھی اور وہ رانی صا حب کے ڈ ر سے ان سے دور دور ہی رہتا ۔پھر وہ اپنی تعلیم میں ایسا محو ہو گیا کہ سب کچھ بھو ل گیا مگر ایک کالی آنکھو ں والی گلابی سی شبیہ اکثر اسکے ذہن کے پردوں پر جگمگا تی رہی ۔اور آج اسکا تصور اسکے سامنے تھا تو اسکی کیفیت ہی عجیب تھی اور جب نو ر النسا ء نے اپنا سوال د ہرا یا تو کوئی چیز چھن سے اسکے اندر ٹو ٹ گئی جسے وہ اپنا غرور سمجھتا تھا وہ اس گھنے لمبے سیاہ بالو ں والی مید ہ و شہا ب رنگت والی لڑکی نے ایکد م تو ڑ دیا ۔وہ تو ایک تا زہ کھلا گلاب اسے سینے میں دھڑ کنے کے لیئے رکھ گئی جس کی خو شبو سے مسحو ر ہو کر اعجاز سب کچھ بھو ل گیا ،یہا ں تک کہ اپنی حیثیت بھی ۔
محبّتو ں کی خو شبو دار پا کیزہ شامیں ،سنہرے جمگا تے دن انھیں کچھ سو چنے کا مو قع دیئے بغیر گز رتے رہے ۔نورالنسا ء کی ملازمہء خا ص فیرو زہ انکی ملا قات کا انتظام کر تی رہی ۔
'اعجاز !۔۔۔۔۔"
اسکی لمبی سیاہ زلفیں بھیگی بھیگی ہوا ئوں سے بکھر رہی تھیں ۔
"ہا ں نور ۔۔۔۔بو لو "
اعجاز کھلی آ نکھوں سے نہ جا نے کیا کیا خو اب دیکھ رہا تھا
"مجھے یہا ں سے لے چلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہیں بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہیں بھی لے چلو مگر بس لے چلو ۔۔۔"
"نہیں نو ر بی بی میں آپکو کہیں نہیں لےجا سکتا ۔۔کہیں بھی نہیں میرے حصّے میں امید بہت کم آئی ہے ۔۔بہت غریب ہو ں میں "وہ جیسے اچا نک ہو ش میں آگیا ۔" میرے پا س آپکے لا ئق کچھ بھی نہیں ہے ۔اور آپکی بد نا می ہو یہ میں سہہ نہیں پا ؤنگا ،میرا دل تو ہمیشہ ٹو ٹتا ہی رہا ہے نو ر بی بی ۔۔۔۔" اسنے اپنا سر جھکا لیا ۔۔۔۔شا ید آنسو چھپا ئے ہو ں ۔
"مگر ۔۔۔۔۔۔میں تو غریب نہیں ہو ں ۔۔"اسنے ایک معصو م سی پیشکش کی ۔
"نو رالنساء بی بی !آپ میری انا چکنا چور کر نا چا ہتی ہیں ؟میں آپ کو عزّت کے ساتھ اپنا نا چا ہتا ہوں اس کے لیئے مجھے سخت محنت کر نی ہو گی اپنے آپ کو آپکے لا ئق بنا نا ہو گا کہ اپکو دنیا کی تمام خو شیا ں دے سکو ں اور یہ میرا وعدہ ہے آپسے "
"مگر میں تب تک کیسے رہو ں تمہا رے بنا ۔۔۔۔؟"وہ بے بسی سے اسکا چہر ہ دیکھ رہی تھیں ۔
"جیسے اب تک رہی ہیں آپ ۔۔۔اعتبا ر کا رشتہ دنیا کا سب سے خو ب صو رت رشتہ ہے نور ۔۔۔اس رشتے کی قدر کیجیئے ۔۔خوا ہشو ں کی انتہا تو کہیں نہیں ہے ،آپ کو معلوم ہے جو رانی صا حب اتنی بڑی ریا ست کی ما لکن ہیں ،بے سکو ن ہیں ،انھیں اپنی خواہشو ں کےاس پا ر معصوم زندگیا ں نظر ہی نہیں آتیں ۔ انھیں لگتا ہے ابھی انکے پا س "کم ' ہے انھیں " اور " کی بھو ک خو ش نہیں رہنے دیتی ۔۔۔"وہ رک کر نورالنساء کی جانب مڑا
"شہزاد عالم صا حب ۔۔۔چھو ٹے راجہ ہیں اور کس راہ پر چل نکلے ہیں اسکی انھیں پر واہ بھی نہیں ۔پیسو ں کا تقا ضہ لیکر روز میرے پاس آفس آجاتے ہیں اور یہ پیسہ کس کا رِ خیر میں خر چ ہو رہا ہے ؟ میں آپ سے کیا بتا ؤں ۔آپکو برا تو لگ رہا ہو گا بی بی ۔۔۔؟"
" نہیں اعجاز میں تو خد اس بات سے نا لاں ہو ں ۔۔کا ش ہم غریب ہو تے ۔۔۔"اسنے اپنا سر جھکا لیا ۔
"پتہ ہے نو ر بی بی ہما را المیہ کیا ہے ؟ "وہ دو نو ں ہا تھو ں کی انگلیا ں ایک دو سرے میں پھنسا تے ہو ئے سر ہا نہ بنا کر سبزے پر لیٹ گیا ۔" کہ ہما ری خوا ہشوں کے سرخ جنگل میں راستہ کہیں نہیں ہے ہر ایک اپنی اپنی آرزوں میں جی رہا ہے اور پھر بھٹکتے بھٹکتے عمر کی پو نجی بھی ختم ہو جاتی ہے ہم خو ا ہشوں کو پو را کر کے بھی نا مراد چلے جاتے ہیں ہا تھ تو ہمیشہ خا لی رہتے ہیں نا ؟؟"
مگر وہ کیسے بتا تی ۔۔۔کہا ں ہے میر ے پا س کچھ ؟تمہا ری نظرو ں کے طلسم سے زیا دہ ،تمہا رے لمس سے زیا دہ مجھے تو کچھ نہیں چا ہیئے ،مگر اعجاز تم نے تو مجھے کبھی چھوا بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر یہ الفا ظ ہو نٹو ں سے ادا کر نا ان کے بس کی بات نہیں تھی ۔
اچا نک حو یلی میں طو فا ن آگیا ۔۔۔۔۔۔اعجاز اور نو رالنسا ء کی معصوم محبّت رانی صا حب سے کب تک چھپی رہ سکتی تھی ۔۔۔انھوں نے اناً فا ناً عظمت اللہ کے بد کر دار عیا ش بیٹے الطاف کا رشتہ نور النسا ء کے لیئے قبو ل کر لیا ،جسکے لیئے وہ کئی مہینو ں سے تذبذب میں تھیں ۔شا دی کی تیا ریا ں شروع ہو گئیں ۔اعجاز زخمی پر ندے کی طر ح پھڑ پھڑ ا تا رہا اور حویلی سجتی رہی ۔۔۔۔نور النساء کو نگرا نی میں رکّھا جانے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مر ا ثنو ں نے آکر گلے پھا ڑنے شر وع کر دیئے ۔پیلا جو ڑا پہنے نو ر۔۔۔۔۔آنسو بہا تی رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب انکے ہا تھو ں پیر وں میں منہدی رچا ئی جا رہی تھی تبھی فیرو زہ بھاگتی ہو ئی آئی اور انکے قد مو ں پر سر رکھ دیا ۔۔۔وہ روتی جا رہی تھی اور نور اسکا چہرہ دیکھ رہی تھیں ۔۔ایسی کیا بات تھی جو اسنے نو ر بی بی کے کا نو ں میں کہہ دی اور وہ پتّھر کی ہو گئیں ۔۔۔۔۔آنسو رک گئے ۔۔۔پھٹی پھٹی آنکھو ں سے اسے دیکھتی رہیں ۔
" قا ضی صا حب آرہے ہیں پر دہ کر لیئو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"نا ون ڈیو ڑھی سے لیکر آنگن تک آواز لگا رہی تھی عو رتو ں اور لڑ کیو ں نے رنگ بر نگے دوپٹوّں سے اپنے چہرے ڈھا نپ لیئے ۔قا ضی صا حب نے پر دے کے اس پار بیٹھ کر دلہن کا عکس دیکھا تو حیرا ں رہ گئے ان کا تو سر بھی جھکا ہو ا نہیں تھا ۔وہ سر پر بغیر دوپٹّہ لیئے بیٹھی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قا ضی صا حب نے کا روا ئی شرو ع کی ۔۔۔۔۔" کیا آپ کو قبو ل ہے ؟؟؟؟"
"نہیں ۔۔۔ہر گز نہیں ۔۔۔"یہ آواز نہیں تھی ایک پھنکار تھی جو نا گن کے منھ سے نکلتی ہے ۔۔ایک چا بک تھا جو را نی صا حبہ کے جسم کو نیلگو ں کر گیا
"جی ؟؟"قا ضی صا حب اور سارے گواہ سرا سیمہ تھے ۔
"میں نے واضح الفا ظ میں انکار کیا جناب "
" مگر بی بی صا حب ۔۔۔۔" انکی آواز لڑ کھڑا گئی
"کیا شر یعت بھی سر مایا پر ستو ں کے زیرِ اثر ہو گئی ہے ؟ میں نے انکار کیا قبلہ "نور النسا ء بیگم پر وقار انداز میں کھڑی ہو گئیں گو یا کہتی ہو ں اب تشریف لے جا یئے ۔
با رات لو ٹ گئی ان ہو نی ہو گئی ۔۔۔سارے لو گ واپس چلے گئے ۔۔۔۔حویلی اچانک ویران ہو ئی ۔۔۔۔۔۔۔۔
بیس بر س کا طویل عر صہ کیسے گزرا یہ تو را نی صا حب اور نو ر بی بی ہی جانتی تھیں ۔قرض سے لدی ہو ئی حو یلی کی عزّت مٹّی میں مل گئی وقت ایسا بد لا جیسے کسی کی بد دعا لگ گئی ہو ۔۔۔۔نو ر النسا ء نے اپنے آپ کو رنگو ں اور بر ش میں چھپا لیا رات دن تصویریں بنا نے میں کھو ئی رہتیں ان کا اپنا رنگ کب اتر گیا انھیں خود خبر نہ تھی ۔رانی صا حب اپنی طو یل بیماری اور معزو ری کے با عث ایک کمر ے کی ہو کر رہ گئیں ۔
نور النساء بی بی نے ایزل پر بنائی ہو ئی پینٹنگ میں گہرا ہرا رنگ لگا یا ہی تھا کہ فیرو زہ نے آکر را نی صا حب کی طلبی سنائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" کہد و کہ ابھی آتے ہیں ۔۔۔" وہ مطمئن انداز میں اپنا کام کر تی رہیں اپنے با لو ں کی سفید لٹو ں کو سمیٹ کر جب وہ ما ں کے بستر کے قریب آیئں تو وہ ہڈ یوں کا ڈھا نچہ بنی حسرت سے انھیں تک رہی تھیں ۔شا ید وہ کچھ کہہ رہی تھیں اور شا ید نور النسا ء بی بی انھیں جو اب بھی دے رہی تھیں ،خا مو شی گہری ہو تی جا رہی تھی ،تبھی سنّا ٹا ٹو ٹ گیا ،
"امّی حضو ر! آپ نے جو چا ہا آپکو ملا پھر بھی آپکی توقعا ت ختم نہیں ہو ئیں ،ہم نے جو مانگا وہ آپ نے میسّر نہ ہو نے دیا ۔اعجاز بڑی مسجد کی دیوار میں چنے ہو ئے آج بھی جوان ہیں اور ہم بو ڑھے ہو گئیے ،آپ کی تو قعات اور خو اہشات اب تک ختم نہیں ہو ئیں ۔۔۔۔۔مگر ہما ری ہو گیئں اسی لیئے ہم مطمئن اور آپ بیقرار ہیں ۔۔۔۔آپکی ۔خوا ہشا ت کا زرد جنگل اب دیمک ذدہ ہو چکا ہے وہ آپکو نگل رہا ہے امّی حضو ر تو قعات نے آپکو تو ڑ دیا ہے ۔۔۔۔
یہی دونو چیزیں تو ہیں جو ہمیں رنج کے دلدل میں ڈھکیلتی ہیں ،آپکو مجھ سے بھی کچھ چا ہیئے مجھے معلوم ہے وہ چیز ہے "معا فی ' اور " وہ لمحہ بھر کو رکیں ۔۔۔۔پھر عجیب تلخ اور کا ٹتے ہو ئے لحجہ میں بو لیں " ہم نے آپکو معا ف نہیں کیا "
ختم شد
No comments:
Post a Comment