Ali Mirza دو طرح کی راۓ ہے ایک تو صدیوں سے چلی آ رہی ایک ہی کہانی ہے نۓ پن
کی کمی ہے خوبصورتی یہ کہ پڑھنے پہ آیا اور پڑھتا ہی چلا گیا کہیں رکاوٹ محسوس
نہیں ہوئی باقی نظریاتی اختلاف اپنی جگہــــ
Farheen Jamal بہت ہی عمدہ کہانی .. دین اور دنیا کو برتنا
..امیروں کو ہی آتا ہے ..غریب تو بس زبان پر ا عتبار کر بیٹھتا ہے .بہت ہی خوبصورت
کردار نگاری
بیانیہ بھی خوب! کہانی گو کہ پرانی ہے مگر انداز اچھا لگا .
خاص طور پر آخری جملہ "
شہروز میا ں "!
جی ابّا ۔۔۔" وہ سعا دت مندی سے جھکے
" اس بار پر ویز کو بھی حج کرواؤ ۔۔!"
شاد و آباد رہیئے
بیانیہ بھی خوب! کہانی گو کہ پرانی ہے مگر انداز اچھا لگا .
خاص طور پر آخری جملہ "
شہروز میا ں "!
جی ابّا ۔۔۔" وہ سعا دت مندی سے جھکے
" اس بار پر ویز کو بھی حج کرواؤ ۔۔!"
شاد و آباد رہیئے
Muhammad Saqlain Raza بہت ہی خوب انجم آپا!جس
قدر خوبصورتی سے آپ نے لفظوں کا جال بنا ہے تو کوئی بھی پڑھنے والا اس میں خود
بخود پھنستا ہی چلاجاتاہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہی کہانی کی بات تویہ معاشرے کا سب سے بڑا
المیہ ہے جس انداز میں مذہب کے نام پر لوٹ مار جاری ہے وہ الگ سی داستان ہے،ایسے
ہی لوگ پھر حج اوردوسری عبادات میں آگے نظرآتے ہیں ۔ اس المیہ پر یقینا سر پیٹنے
کو جی چاہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ دکھاوے کی عبادت،
ایسی عبادت جو کسی کی دل آزاری لوٹ مار کی وجہ سے سامنے ارہی وہ قابل قبول نہیں ۔
میں کوئی فتویٰ باز نہیں لیکن یہ فعل اسلام کی اصل روح کے منافی ہے
Qurb E Abbas انجم آپا۔۔۔۔۔ یہ آپکا دوسرا افسانہ پڑھا ہے۔
آپ فطری افسانہ نگار ہیں، آپ کہانی نہیں کہتی، کہانی خود کو آپ سے کہلواتی ہے، جو کہ واضح نظر آ رہا ہے۔
یہ دیکھیئے۔۔۔ کوئی محسوس نہ کر پائے تو الگ بات ہے؛
"غریب معصوم و مسکین مجید با بو نے دو باراہ اپنی کانپتی ہو ئی انگلیا ں اپنی پرانی گھسی ہو ئی واسکٹ کی جیب میں ڈال کر مو جودہ رقم کو محسو س کیا َ۔چہرے پر پھیلی ہوئی غر بت کی جھر یا ں کچھ کم نظر آنے لگیں پیروں میں گھسا ہو ا جو تا جو کبھی حا جی ولا یت شا ہ نے اپنے بچو ں کو اردو پڑھانے کے عیو ض بنوا کر دیا تھا اور کئی بار مر ّمت ہو جا نے کے با وجود ایڑی میں کیل سی چبھتی رہتی جسکی وجہ سے ایڑی میں مستقل زخم ہو کر رہگیا تھا اور اب تو انھو نے پرواہ کر نا بھی چھو ڑ دی تھی اب تو انھین بس ایک ہی فکر کھائے جا رہی تھی کہ عارفہ کا بیا ہ کیسے ہو گا ؟"
کہانی چلتی چلتی ہمیں کرداروں سے ایسے ملواتی ہے کہ دل کہہ اٹھتا ہے "واہ"۔۔۔ درمیان اندازہ ہوگیا تھا کہ شاہ صاحب کیا کرنے والے ہیں،مگر اصل میں جب آپ کی قلم نے جو مجید بابو کی کیفیت بیان کی تو دل ڈوب سا گیا۔ بہت خوب۔
اور آخر میں ایک تمانچہ۔۔۔ ھاھاھا!!! خوب است۔۔۔ بسیار خوب است۔۔۔
ہاں کہیں کہیں جملوں میں تسلسل ٹوٹتا ہے۔ مثال کے طور پر؛
"لمبے بالوں کا جو ڑا یا چو ٹی ہمیشہ تیل میں چپڑی رہتی کہ کہیں کو ئی ان لمبے با لوں میں نظر نہ لگا دے یا کسی کی نظر نہ لگ جائے یا کسی کی نظر نہ پڑ جائے ۔"
میرا خیال ہے یہ ٹائپ کرتے ہوئے کوئی غلطی ہوئی، دوبارہ دیکھیئے گا۔
اس خوبصورت افسانہ کے لیے بہت مبارک باد۔
سدا خوش رہیں، اور لکھتی رہیں۔
آپ فطری افسانہ نگار ہیں، آپ کہانی نہیں کہتی، کہانی خود کو آپ سے کہلواتی ہے، جو کہ واضح نظر آ رہا ہے۔
یہ دیکھیئے۔۔۔ کوئی محسوس نہ کر پائے تو الگ بات ہے؛
"غریب معصوم و مسکین مجید با بو نے دو باراہ اپنی کانپتی ہو ئی انگلیا ں اپنی پرانی گھسی ہو ئی واسکٹ کی جیب میں ڈال کر مو جودہ رقم کو محسو س کیا َ۔چہرے پر پھیلی ہوئی غر بت کی جھر یا ں کچھ کم نظر آنے لگیں پیروں میں گھسا ہو ا جو تا جو کبھی حا جی ولا یت شا ہ نے اپنے بچو ں کو اردو پڑھانے کے عیو ض بنوا کر دیا تھا اور کئی بار مر ّمت ہو جا نے کے با وجود ایڑی میں کیل سی چبھتی رہتی جسکی وجہ سے ایڑی میں مستقل زخم ہو کر رہگیا تھا اور اب تو انھو نے پرواہ کر نا بھی چھو ڑ دی تھی اب تو انھین بس ایک ہی فکر کھائے جا رہی تھی کہ عارفہ کا بیا ہ کیسے ہو گا ؟"
کہانی چلتی چلتی ہمیں کرداروں سے ایسے ملواتی ہے کہ دل کہہ اٹھتا ہے "واہ"۔۔۔ درمیان اندازہ ہوگیا تھا کہ شاہ صاحب کیا کرنے والے ہیں،مگر اصل میں جب آپ کی قلم نے جو مجید بابو کی کیفیت بیان کی تو دل ڈوب سا گیا۔ بہت خوب۔
اور آخر میں ایک تمانچہ۔۔۔ ھاھاھا!!! خوب است۔۔۔ بسیار خوب است۔۔۔
ہاں کہیں کہیں جملوں میں تسلسل ٹوٹتا ہے۔ مثال کے طور پر؛
"لمبے بالوں کا جو ڑا یا چو ٹی ہمیشہ تیل میں چپڑی رہتی کہ کہیں کو ئی ان لمبے با لوں میں نظر نہ لگا دے یا کسی کی نظر نہ لگ جائے یا کسی کی نظر نہ پڑ جائے ۔"
میرا خیال ہے یہ ٹائپ کرتے ہوئے کوئی غلطی ہوئی، دوبارہ دیکھیئے گا۔
اس خوبصورت افسانہ کے لیے بہت مبارک باد۔
سدا خوش رہیں، اور لکھتی رہیں۔
Naeem Baig انجم قدوائی صاحبہ۔ بہت اچھے۔ کیا خوب بیانیہ ھے
ایک دریا کے طرح بہتا ھوا پر سکون لیکن طاقت ور۔ مجھے پڑھتے ھوئے ایسے لگ رھا تھا
کہ کہانی کبھی پہلے پڑھی ھے۔ کہیں آپ نے اسے پہلے شائع کیا تھا؟
یا شائید اسی طرح کی کوئی کہانی پڑھی ھوگی۔۔۔۔ بھرحال ایک خوبصورت اور کامیاب افسانہ ایڈیٹوریل کی چند غلطیاں ھیں اسے دور کر لیں۔ بہت سی داد و تحسین۔۔۔۔
یا شائید اسی طرح کی کوئی کہانی پڑھی ھوگی۔۔۔۔ بھرحال ایک خوبصورت اور کامیاب افسانہ ایڈیٹوریل کی چند غلطیاں ھیں اسے دور کر لیں۔ بہت سی داد و تحسین۔۔۔۔
Anjum Kidwai علی مرزا صا حب آپ نے افسانہ پڑھا میر ے یہی بہت
ہے۔پسند کیا ۔ارو اپنی رائے سے اگاہ بھی کیا بہت شکریہزیشا ن نا صر صا حب کا بھی
بہت شکریہ ۔۔۔
Anjum Kidwai فرحین جمال آپکی تعریف کا بہت شکریہ آپ سب نے
میرا افسانہ پڑ ھا اور رائے بھی دی مجھے بہت خوشی ہے ۔۔
Anjum Kidwai نجم حسن نجم صا حب کا بہت شکریہ محمد ثقلین صا
حب آپ نے بلکل صحیع فر ما یا کہ دکھاوے کی عبا دت جو کسی کی دل آزاری کرے وہ قا بل
ِ قبو ل نہیں ہو تی ۔شکریہ
Anjum Kidwai بھائی قرب ِ عبا س آپ نے اتنی محبّت سے تعریف کی
ہے جسکا میرے دل پر بہت اثر ہوا اللہ اپکو بہت سا ری کا میا بیا ں عطا کرے ۔
Anjum Kidwai نعیم بیگ صا حب جی یہ افسانہ 2 رسا لوں میں شا
یع ہو چکا ہے آپکی نظر سے گزرا ہو گا ۔مجھے خو شی اس بات کی ہو تی ہے کہ آپ کمی کی
طر ف اشا رہ کر دیتے ہیں جس سے اک سبق مل جاتا ہے آیندہ خیا ل رکھّو نگی ۔آپنے
میرا افسانہ پڑھا مجھے بیحد خو شی ہو ئی ۔آپکی رائے کا بھی بہت شکریہ ائر تعریف کا
بھی ۔۔
Salma Jilani کس قدر خوبصورت افسانہ ہے بہت روانی سے کہانی
بہائے لئے جا رہی ہے جسے ، بہت پسند آیا سلامت رہیے انجم اور ایسے ہی لکھتی رہیے
آمین
Bushra Hazeen احساسات کے مخمل سے بنا ہوا یہ افسانہ بہت ہی
خوبصورت ہے ۔ داد کیلئے موزوں الفاظ نہیں مل رہے ، دعا ہے ، قبول ہو ، آمین ۔
Nastaran Fatihi ایک اچھے افسانے کی پیشکش پر مبارک باد قبو ل
کریں،شروعات میں مرکزی کردار کا جس طرح آپنے تعا رف کروایا ہے اسی وقت اس سے
ہمدردی قاری کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے ،اور انجام تو بہت ہی خوب ہے اگر وہ انجام
نا ہوتا جو ہوا تو افسانہ میری نظر میں کامیاب نا ہوتا-کچھ جملے بھی بہت پسند
آئے.مگر کچھ تعریف ملاقات کے لئے اٹھا رکھتی ہوں اس امید کے ساتھ کھ جلد ملینگے
.انشا اللہ .
Anjum Kidwai Salma jilani Bushra Hazeen Saheba ...bhut bhut
shukriya Aap logon ki duaon ka ...bhut khush naseeb manti hon apny aap ko ...k
mujhe duayen mili hain ...
Anjum Kidwai ممتاز رفیق صا حب آپ سے اتنی تعریف مل جائے گی
اسکا گما ن بھی نہ تھا ۔۔۔آپکو میرا افسا نہ پسند آیا یہ میر ے لئے اعزاز کی بات
ہے جنا ب بہت بہت شکر یہ نوا زش
Waheed Qamar انجم آپا ۔ انتظامیہ عالمی افسانہ فورم آپکی بھی
بے حد شکر گزار ھے جو یہاں اپنا افسانہ پیش کیا ۔
Anjum Kidwai شکریہ بھائ۔۔مجھے بیحد خوشی ہے کہ آپ سب نے مجھے
یہ اعزاز عطا کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔افسانے پر آپکی رائے کا انتظار ہے ۔۔
Waheed Qamar انجم آپا
آپکے افسانے پڑھتے ھوئے ھمیشہ زبان و بیان کی چاشنی میں کھو جاتا ھوں ۔ زیر نظر افسانے میں بھی بڑی پیاری زبان برتی گئی ھے ، پھر یہ ھے کہ بہت بے ساختہ پن ھے تحریر میں ۔۔ کہیں بناوٹ نہیں ۔ جیتے جاگتے ھمارے ارد گرد کے کردار دکھائے گئے ھیں ، کہانی بھی خوب ھے ، اور انجام تو انتہائی عمدہ ۔ دراصل اس افسانے کا آخری جملہ میں ھی اس افسانے کی جان ھے
" اس بار پر ویز کو بھی حج کر واءو۔۔۔!
آپکے افسانے پڑھتے ھوئے ھمیشہ زبان و بیان کی چاشنی میں کھو جاتا ھوں ۔ زیر نظر افسانے میں بھی بڑی پیاری زبان برتی گئی ھے ، پھر یہ ھے کہ بہت بے ساختہ پن ھے تحریر میں ۔۔ کہیں بناوٹ نہیں ۔ جیتے جاگتے ھمارے ارد گرد کے کردار دکھائے گئے ھیں ، کہانی بھی خوب ھے ، اور انجام تو انتہائی عمدہ ۔ دراصل اس افسانے کا آخری جملہ میں ھی اس افسانے کی جان ھے
" اس بار پر ویز کو بھی حج کر واءو۔۔۔!
Syed Sadaqat Hussain برصغیر کے مسلم معاشرہ اور بلخصوص اردو بولنے
والوں کی زندگیوں کے قریبی مشاھدے آپ کے افسانوں کے مضبوط عنوانات میں سے ھیں ۔
میں یہ بات کہنے میں زرا تامل نہیں برتوں گا کہ جس خوبصورتی اور کمال مہارت سے آپ
اس تناظر میں افسانہ بنتی ھیں وہ آپکا ھی خاصہ ھے ۔ مجھے زرا زرا سی جھلک اقبال
حسن خان کے افسانوں کی سی بھی لگتی ھے ۔ مضبوط اسکرپٹ، اور جاندار عنوان کہانی کی
طلب ھوتا ھے ۔ جسے آپ الفاظ کے سلیقوں سے خوب سجاتی ھیں ۔
Anjum Kidwai بھا ئ وحید قمر ! آپکی تعریف مجھے آسمان پر لا
بیٹھا تی ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ آپ کی نظر سے ابھی ابھی سیکڑو ں افسا نے گزرے
ہیں اسکے با وجود اسقدر دل سے سرا ہا ہے میرے افسانے کو بیحد شکر گزار ہو ں اور
آیندہ کے لیئے اپکے الفاظ مشعلِ راہ ہو نگے ۔خو ش رہیئے
Anjum Kidwai سید صدا قت حسین صا حب آپکا بیحد شکریہ ! اسکی
وجہ یہ ہے کہ میر ے آس پاس ہمیشہ علمی اور ادبی ما حو ل رہا ۔ایک بہن شا عرہ ایک
مشہور و معروف افسا نہ نگار ۔بھائی مطا لعے کے شو قین ۔بچپن سے ہی اپنے ارد گرد
کتا بیں دیکھیں ۔اسی لئے تھو را بہت لکھ لیتی ہو ں آپنے اسقدر سرا ہا سپا س گزار
ہو ں ۔جیتے رہیئے
Waheed Qamar بہت آداب انجم آپی ، مجھے آپ اور دیگر اہل زبان
ھندوستانی لکھاریوں سے خاص انسیت ھے ۔ کہ آپ لوگوں کی تحریروں میں بامحاورہ زبان
خوبصورت انداز بیان اور اردو دان طبقے کا روایتی ماحول ملتا ھے جو ھمارے ھاں
(پاکستان ) میسر نہیں ، جس کی وجہ سے کثرت مطالعہ کے باوجود زبان و بیان کی غلطیاں
میری تحریر میں ابھی بھی باقی ھیں حالانکہ پانچ سال کی عمر سے اردو کہانیاں پڑھ
رھا ھوں
Amin Bhayani "اِس
بار پرویز کو بھی حج کرواؤ"
سبحان اللہ کیا تلخ تحریر کس شیرینی کے ساتھ لفظوں میں منتقل کی ہے۔ ماشاءاللہ بہت سادہ مگر انہتائی پرُاثر طرزِ تحریر ہے۔ افسانے کا جو انجام قاری جو کہ ایک مقام پر ایک مخصوض جملے سے اپنے زہن میں بناتا ہے وہ اختتام پر اُس کی توقع سے کہیں مختلیف برامد ہوتا ہے اور یہی اِس افسانے کی نہ صرف کامیانی ہے بلکہ بدرجہِ اتم خُوبی بھی ہے۔
سبحان اللہ کیا تلخ تحریر کس شیرینی کے ساتھ لفظوں میں منتقل کی ہے۔ ماشاءاللہ بہت سادہ مگر انہتائی پرُاثر طرزِ تحریر ہے۔ افسانے کا جو انجام قاری جو کہ ایک مقام پر ایک مخصوض جملے سے اپنے زہن میں بناتا ہے وہ اختتام پر اُس کی توقع سے کہیں مختلیف برامد ہوتا ہے اور یہی اِس افسانے کی نہ صرف کامیانی ہے بلکہ بدرجہِ اتم خُوبی بھی ہے۔
Iqbal Hasan بھئی کیا کہنے ۔ کیا کہنے ۔ ،،اس بار پرویز کو
بھی حج کرواوٗ ۔۔۔ سبحان اللہ ۔۔ نہ بھولنے والی کہانی ہے ۔۔۔ شاندار ۔۔۔
Ghazal Islam خوبصورت۔۔خوبصورت۔۔خوبصورت۔۔۔۔۔۔۔زندگی کے کچھ
موضوع کبھی دیرینہ نہیں ہوتے۔۔سو قلم کار کی نوک تلے وہ آتے رہیینگے ہر دور
میں۔۔ادیب یا افسانہ نگار کا کمال یہ ہے کہ وہ کس منفرد انداز میں اسے بیان کرے
اور قاری کو حرف بہ حرف آغاز سے اختتام تک اپنی گرفت میں رکھےاور آخر میں ذہن سے
بےساختہ داد نکل جائے،،کہ بھئی واہ۔۔۔بہت خوب،،،،،،،،تو سمجھیں کہ افسانے کے
کامیابی کی سند مل گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ڈیر انجم آپی۔۔۔۔۔یہ تمام بات آپکے افسانے میں
نظر آئی ہمیں۔۔گو کہ ہم نا اہل اور نو آموز ہیں اس صنف میں سو ہمارا تبصرہ کسی
وقعت کا حامل نہین اساتذہ اور اہلِ ادب کے درمیان،،،،،سو ہم ایک قاری کی حیثیت سے
آپکو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں،،،،،،،اللہ سلامت رکھے آپکو اور آپکی قلم کو آمین
Paigham Afaqui کہانی کا بیان اور کہانی کی بنت دونوں افسانہ
نگار ی پر افسانہ نگار کی قدرت کا مظہر ہیں لیکن کہانی وہیں ختم ہوگئی تھی جہاں
پرویز جیسا کردار اسی گھر سے نکل آتا ہے جہاں گناہوں کا بسیرا ہے - لیکن "
تبھی ولا ئت شا ہ نے غرا کر پکا را
شہروز میا ں "!
جی ابّا ۔۔۔" وہ سعا دت مندی سے جھکے
" اس بار پر ویز کو بھی حج کر واءو۔۔۔!" اس آخری ٹکڑے میں ایک اتنا بڑا دعوی کر دیا گیا جس کے لئے پس منظر اور اس کے ماحول کو تیار نہیں کیا گیا - اگر کوئی شخص کسی معتبر چیز کو فریب دہی کے لئے استعمال کرتا بھی ہے تو اس کے اس عمل کو بغیر کسی تنقید کے پیش کرنا اس معتبر چیز کے ساتھ فنی نا انصافی ہے اور یہاں حج کے امیج کع ساتھ نا انصافی ہوئی ہے اور اس کمی کی بنا پر اسے سنجیدہ ادب میں جگہ نہیں ملنی چاہئے - اگر اس جملے کو طنز بھی مان لیا جائے تو طنز کا اثر پیدا کرنے کے لئے حج کرنے جیسے عمل کو شیطانی خصوصیت سے جوڑنا ادبی اقدار کے منافی ہے - واضح رہے کہ بد کردار اور دکھاوا کرنے والے حاجیوں، نمازیوں اور مولویوں اور دکھاوے کی داڑھی، پیشانی پر سجدوں کے نشان یہ سب افراد کے اپنے اعمال ہیں جو اگر سچے نہ ہوئے تو ان کا مذاق اڑنا چاہئے لیکن نماز یا روزہ یا حج بحیثیت مذہبی ارکان کے بد کرداروں کی بد کردار نگاری کی تربیت کے حصہ کے طور پر نہیں دکھائے جاسکتے- البتہ اگر ان ارکان میں ہی کوئی بات قابل تنقید ہو تو اس پر بات کرنے کا ادب کو اختیار ہے -
شہروز میا ں "!
جی ابّا ۔۔۔" وہ سعا دت مندی سے جھکے
" اس بار پر ویز کو بھی حج کر واءو۔۔۔!" اس آخری ٹکڑے میں ایک اتنا بڑا دعوی کر دیا گیا جس کے لئے پس منظر اور اس کے ماحول کو تیار نہیں کیا گیا - اگر کوئی شخص کسی معتبر چیز کو فریب دہی کے لئے استعمال کرتا بھی ہے تو اس کے اس عمل کو بغیر کسی تنقید کے پیش کرنا اس معتبر چیز کے ساتھ فنی نا انصافی ہے اور یہاں حج کے امیج کع ساتھ نا انصافی ہوئی ہے اور اس کمی کی بنا پر اسے سنجیدہ ادب میں جگہ نہیں ملنی چاہئے - اگر اس جملے کو طنز بھی مان لیا جائے تو طنز کا اثر پیدا کرنے کے لئے حج کرنے جیسے عمل کو شیطانی خصوصیت سے جوڑنا ادبی اقدار کے منافی ہے - واضح رہے کہ بد کردار اور دکھاوا کرنے والے حاجیوں، نمازیوں اور مولویوں اور دکھاوے کی داڑھی، پیشانی پر سجدوں کے نشان یہ سب افراد کے اپنے اعمال ہیں جو اگر سچے نہ ہوئے تو ان کا مذاق اڑنا چاہئے لیکن نماز یا روزہ یا حج بحیثیت مذہبی ارکان کے بد کرداروں کی بد کردار نگاری کی تربیت کے حصہ کے طور پر نہیں دکھائے جاسکتے- البتہ اگر ان ارکان میں ہی کوئی بات قابل تنقید ہو تو اس پر بات کرنے کا ادب کو اختیار ہے -
Noor Ul Ain Sahira انجم صاحبہ آپکا افسانہ مجھے بے حد اچھا لگا۔
ہمیشہ اچھا لگتا ہے جب بھی کوئی دیکھا۔ بہت ہی اورجنل قسم کی سچوئیشن اورماحول
بناتی ہیں آپ بہت سی داد قبول کریں دوسری طرف میں یہ کہنا چاہوں گی کافی ٹائپوز
ہیں اور اینڈ والے جملے کو طنز بھی مان تو سکتی ہوں اور غصے خفگی کا اظہار بھی اور
ہمیں معلوم بھی ہے کہ اکثر جھوٹ موٹ کے اسلامی نظر آنے والے لوگ پکے شیطان ہوتے
ہیں اور بظاہر شیطان نظر آنے والے بہت نیک اور پارسا بھی ہوتے ہیں ۔ یہ فیکٹ مانا
ہوا ہے مگر سب پر اپلائی نہیں ہوتا نا۔ کچھ نظر آنے کے ساتھ ساتھ ہوتے بھی ہیں اسی
لئے احتیاط کے طور پر آخری جملہ نہ لکھنا شاید زیادہ مستند ہو گا۔ مجھے آفاقی صاحب
کی بات زیادہ درست لگ رہی ہے اور فرحانہ کے افسانے والی سچوئیشین یاد آ رہی ہے جو
میلے میں انکے افسانے پر اتنے جھگڑے ہوئے تھے۔
Waheed Qamar میرے خیال میں آخری جملے میں ھی افسانے کی جان
ھے ، اور روزمرہ ایسے جملے سننے کو عام مل جاتے ھیں ، لہذا اس میں قطعی کوئی حرج
نہیں ،
Paigham Afaqui یہ سچ ہے اور یہ ایک عام خیال ہے جس کا اظیار
بھی کیا جاتا ہے کہ مذہبی ارکان کی پاسداری کرنے والے زیادہ دلیر گناہگار ہوتے
ہیں- لیکن یہ نفسیات کہانی میں اپنی پیش کش سے قبل واضح پس منظر کا تقاضا کرتی ہے
کیونکہ یہ ایک نفسیاتی مسلہ ہے- اگر کوئی مذہبی رکن گناہگار کو بولڈ کرتا ہے یا اس
کے گناہوں کی پردہ پوشی کرتا ہے یا پردہ پوشی میں تعاون کرتا ہے تو جیسا کہ میں
اوپر عرض کرچکا ہوں " ایک اتنا بڑا دعوی کر دیا گیا جس کے لئے پس منظر اور اس
کے ماحول کو تیار نہیں کیا گیا -" اور " اگر ان ارکان میں ہی کوئی بات
قابل تنقید ہو تو اس پر بات کرنے کا ادب کو اختیار ہے -" لہذا ادبی منطق کا
تقاضا ہے کہ پہلے پوری سچائی سامنے آئے اور اس کے بعد اس سے اخذ کی گئی بات
استعمال یا پیش کی جائے - یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایک اخذ کیا گیا نتیجہ استعمال
کردیا جائے تاکہ قاری خود اپنے طور پر تجزیہ کرے اور سچائی تک پہنچے - یہ آپشن بھی
جائز ہے - اگر دوسرے آپشن کو قبول کرلیا جائے تو آخری جملہ افسانے کو مزید بلندی
پر لے جاتا ہے - ( لیکن ادب کو بے جا دلشکنی سے بچنا چاہئے اور بہتر آپشن کو فوقیت
دینی چاہئے ٹھیک اسی طرح جیسے ڈاکٹر جراحی کو آخری آپشن کے طور پر استعمال کرتا
ہے) -
Nasim Syed بہت خوبصورت بیا نیہ ۔۔۔ ما حول کی سا دگی کو پر
شکوہ الفا ظ کے استعمال سے متا ئثر نہیں ہو نے دیا بلکہ ویسے ہی محبت کے سوند ھے
پن سے مہکتے ا لفا ظ کا انتخاب کیا جیسا ما حول ہے ۔ مجھا ہوا اندا ز افسانے کا دل
نشین ہے ۔ پیغام آ فا قی صا حب سے اس لئے اتفا ق کرنے پر مجبور ہوں کہ ایسے شا طر
جو اسلام کا چغہ پہن کے سچ کے ٹھیکیدار بن جا تے ہیں وہ اتنے سا دہ نہیں ہو تے ولا
یت شا ہ رنگے ہا تھوں پکڑا گیا تھا وہ اپنے اس جھوٹ کے پکڑے جا نے پر جھوٹ بو لنا
سیکھنے کے لئے حج پر ھیجنے کا ہر گز نہیں کہے گا بلکہ اپنی کھسیا ہٹ ایک معمولی
آدمی کے سامنے اپنے با پ کو جھوٹا ثا بت کر نے پر غصہ کی صورت میں نکلا لتا اور
پھر اسکی تر بہت کے لئے وہ جملہ ادا کر سکتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔شا ید آ فا قی صا حب نے
" ما حول تیار نہیں کیا " اسی لئے کہا ہے ۔۔ اگر اس کہانی کا اختتام
واقعی پر ویز کی آ مد پر ہوتا۔۔ تو بہتر تھا ۔ یہ بات الگ لیکن انجم قدوئی بہت
خوبصورت لکھا ری ہیں آ پ اور کچھ اور افسانے اب ڈھونڈ کے پڑھونگی ۔۔
Ashu Don Waheed Qamar, وحید بھائی آپ کسر نفسی سے کام لے رہے ہیں، آپ کی
تحریر ماشاللہ بہت عمدہ ہے۔ جہاں تک زبان و بیان کی غلطیوں کامعاملہ ہے میں ذاتی
طور پر ایسے اہل زبان اساتذہ سے واقف ہوں جو بارہا تحریر و تقریر میں ایسی غلطیاں
کرتے رہتے ہیں۔ آپ نے تو پھر اردو کو بطور سیکنڈ لینگویج سیکھا ہے۔۔ دل جمعی سے
لکھئے۔
Anjum Kidwai جناب پیغا م آفا قی صا حب میرے خیا ل سے تو ادب
زندگی کا آئینہ دار ہو تا ہے ،قلم کار کا یہ بھی فرض بنتا ہے کہ سما ج میں پھیلی
ہو ئی بد عنو انیو ں کی عکّا سی بھی کرے ۔میں خود بھی الحمدوللہ ایک دیندار گھرا
نے سے تعلق رکھتی ہوں مینے صر ف لکھا ہی نہیں اپنی آنکھو ں سے بھی اس طرح کے حالا
ت دیکھے ہیں ۔پھر بھی اگر میری کسی بات یا کسی جملہ سے کسی کی بھی دلشکنی ہو تی ہے
تو میں معزرت خو اہ ہو ں آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے میر ے لیئے وقت نکا لا ۔۔۔اور
افسانہ پڑھا ہی نیں بلکہ اپنے قیمتی خیا لات کا اظہار بھی کیا ۔مشکور و ممنو ن ہو
ں
Anjum Kidwai بھائی وحید قمر آپ خو د بے انتہاعمدہ لکھتے ہیں
زبا ن کی کو ئی غلطی ڈھو نڈنے سے نہیں ملتی ،آپ کی محبت اور عنا یت ہے کہ آپکو
میری تحریر پسند آئی ممنون ہو ن کہ آپ لوگو ں نے مجھے اردو افسا نہ میں مجھے جگہ
دی بہت بہت شکریہ
Anjum Kidwai نو رالعین سا حرہ صا حبہ آپکی محبّتیں ہیں ورنہ
میں کس لا ئق ہو ں مجھے افسو س تو اس بات کا ہے کہ صرف ایک جملہ لکھنے کی وجہ سے
کسی کی دل آزا ری ہو ئی ۔۔اور اگر واقعی یہ بات اتنی قا بلِ مذّمت ہو تی تو آپ لو
گ اسے کبھی اپرو نہ کرتے ۔بہر حال اگر کسی کو بھی اعتراض ہے تو آپ بیشک افسانہ Deleteکر دیں مجھے
قطعی افسو س نہ ہو گا ۔آپکی نوا زش کہ آپ نے پسند کیا ۔
Muhammad Saqlain Raza انجم آپا میں بہت شدت
سے منتظرتھا آپ کے افسانے کا۔۔۔ گو کہ دیر سے آیا مگر بہت ہی خوب آیا۔۔۔۔۔گو کہ
میں اپنی رائے دے چکا ہوں مگر مجھے کہنے میں کوئی باق نہیں کہ لفظوں کی بنت اور پھر
ماحول کی عکاسی جس انداز میں آپ نے کی وہ لاجواب ہے، لاثانی ہے۔
Anjum Kidwai غز الہ اسلام صا حبہ بہت بہت شکریہ آپکو افسانہ
پسند آیا ۔یہ تو آپ جانتی ہی ہو نگی کہ کہا نیا ں ہما رے آس پاس ہی ہو تی ہیں ،بس
ایک لمحہ ایسا ہو تا ہے جب یہ ہماری مٹھّی میں اجاتی ہین اور ہم اسے قلم کے حوا لے
کر دیتے ہیں ۔آپکی محبّتو ں کی مشکو ر ہو ں خوش رہیئے
Anjum Kidwai نسیم سیّد صا حبہ آپکے تبصرے کا بہت شکریہ ،در
اصل افسانہ لکھتے وقت جو صحیع معلوم ہو تا ہے قلم کار وہی لکھتا ہے لوگ اسے کس طرح
دیکھیں گے یہ تو بعد کی بات ہو تی ہے ۔۔۔بہر حال بہت شکریہ ۔
Anjum Kidwai بھا ئی ثقلین رضا بہت مشکو ر ہو ں ۔الفاظ کی خو
بصورتی اگر آپکو نظر آئی تو وہ آس پاس کے ما حول اور مطا لعے کے شوق کی کی دین ہے
۔اس میں میرا کو ئی کمال نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خو ش رہیئے ہمیشہ
Ghazal Zaigham Bahut acchi khani..Bahut sada dil ko chooni wali zaban..aakhri
jumla hi khani ki jan hai.
Baqi khayal apna2 mubarakbad Bahut 2
Baqi khayal apna2 mubarakbad Bahut 2
Noor Ul Ain Sahira Anjum Kidwai نہیں نہیں افسانہ تو بہت خوبصورت ہے اور ہرگز
ڈٰلیٹ کرنے والی اس میں کوئی بات نہیں ہے۔ نہ کیا جائے گا۔ بس وہ تو ایک خیال ایک
رائے ہے صرف جسکو ماننا نہ ماننا مکمل طور پر آپکے اپنے اختیار میں ہے۔
Minha Malik بہت خوب۔ ۔ ۔
مجھے بہت اچھا لگا آپ کا افسانہ بھی اور اس کا موضوع بھی۔ ۔ ۔
سادہ سے الفاظ اور تحریر کے ربط نے خوبصورتی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ۔ ۔
جیتی رہیئے ۔ ۔ ۔
اللہ کرے زور قلم اور بھی زیادہ۔ ۔ ۔
مجھے بہت اچھا لگا آپ کا افسانہ بھی اور اس کا موضوع بھی۔ ۔ ۔
سادہ سے الفاظ اور تحریر کے ربط نے خوبصورتی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ۔ ۔
جیتی رہیئے ۔ ۔ ۔
اللہ کرے زور قلم اور بھی زیادہ۔ ۔ ۔
Saleem Haroon کیا کسی سچ بولنے والے کو افسانے پہ بات کرنے کی
اجازت ہے؟ آج ایسے ہی آپ کے گروپ پہ کلک ہو گیا مجھ سے اور یہ افسانہ . . . . .ل \ Noor Ul Ain Sahira جنابہ
Noor Ul Ain Sahira Saleem Haroon جی ہاں ضرور سچ بولیں اس یقین سے کہ یہاں سب ہی
سچ بولنے کی کوشش کرتے ہیں ہاں البتہ ہر ایک کے سچ کا پیمانہ دوسرے سے مختلف ہو
سکتا ھے ۔ ہم کسی دوسرے کی سوچ کو چیلنج نہیں کر سکتے ہیں اور آُپکے افسانوں کا
انتظار ھے ۔ پلیز وہ بھی دیجیئے نا ۔
Paigham Afaqui جن میں سچ بولنے کی ہمت ہوتی ہے وہ سیدھے یہاں
لکھتے ہیں- دوسرے تمام مبصرین کو جھوٹ بولنے والے کی کیٹیچری میں نہیں گنتے-
Noor Ul Ain Sahira نہیں میرے پاس نہیں ہیں اگر آپ افسانہ میلہ والی
بات کلر رھے ہیں تو وال سے ڈٰلیٹ کر دئے گئے۔ آپکا فارمیٹ ہی تو نہیں کھلتا تھا
میرے پاس ورنہ میلہ میں ضرور لگاتی۔ آپ مجھے ان پیج یا یونی کوڈ میں دیجیئے تو لگا
دوں گی ۔ بے شک آپ بہت اچھے افسانہ نگار ہیں قطع نظر میرا افسانہ
آپکو اچھا نہیں لگا کیا اس سے بھی زیادہ سچ بولنے کی گنجائش ہوتی ھے
کبھی کہیں ؟
Saleem Haroon u r realy a good fiction writer . . a good
fellow as well... I wud love to present something as earlier as possible
Paigham Afaqui "
قلم کار کا یہ بھی فرض بنتا ہے کہ سما ج میں پھیلی ہو ئی بد عنو انیو ں کی عکّا سی
بھی کرے ۔" بالکل درست - لیکن جب وہ بدعنوانی کی وجہ کی طرف اشارہ کرے تو یہ
اس کی رائے ہو - اور اگر کردار کی طرف سے کوئی اشارہ کیا گیا اور خود چپ رہے تو یہ
سمجھا جائے گا کہ یہ افسانہ نگار کی رائے ہے اور افسانہ نگار اس رائے کی ذمہ داری
سے بچنے کے لئے سامنے آنے کے بجائے پیچھے کھڑا ہے- یہاں ایک بیان ہے کہ حج کا عمل
پرویز کو جرم کرنے میں بولڈ اور بے شرم بنا سکتا ہے- میں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر
ادیب کو مھسوس ہوتا ہے کہ مذہب کا کوئی رکن ایسا لگتا ہے تو اسے وہ ضرور لکھے لیکن
اپنے ادھورے پن کی وجہ سے مجھے یہ اسٹیٹمنٹ حج کے مذہبی رکن پر ایک نازیبا
اسٹیٹمنٹ لگا-جتنا بڑا مجرم ہو اتنا بڑا ہتھیار بھی چاپئے اس سے لڑنے کے لئے - اگر
حج اس کا ذمہ دار ہے تو آپ کو اس بیان پر غور کرنا چاہئے جہاں میں نے کہا ہے کہ
مناسب پس منظر اور ماحول تیار کرنا چاہئے تھا- اگر ظنز ہے تو یہ جملہ شاہ کے اوپر
کوئی اور طنزا کہ سکتا تھا کہ پرویز کو بھی حج کرادو ( یعنی تم حج کرکے یہ کام کر
رہے ہو اور پرویز بغیر حج کے بھی تم سے یا تمہارے ان بیتوں سے زیادہ ایماندار ہے
جنہوں نے حج کیا ہے) - لیکن ایک شخص چاہے وہ ایک مجرمانہ ذہنیت اور پیشہ کا مسلمان
ہی صحیح حج کے بارے میں اتنا توہیں آمیز جملہ کیسے بول سکتا ہے کہ پکا مجرم بنانے
کے لئے حج کرانا ایک نسخہ ہے- آپ تھوڑی دیر کے لئے یہ بھی غور کریں کہ افسانہ نگار
ایک دیندار مسلمان نہیں بلکہ ایک غیر مسلم ہے - اگر وہ یہی افسانہ لکھتا ہے تو کیا
تاثر پیدا ہوگا - میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ افسانہ نگار کو اپنے افسانے کے سنٹرل
اسٹیٹمنٹ کے بارے میں ذمہداری قبول کرنی پڑے گی اور صرف یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ
لوگ ایسا کہتے ہیں- لوگ جو کچھ کہتے ہیں اسے افسانے میں مکمل اور سنجیدہ شکل میں
پیش کرنا ہوتا ہے-
Anjum Kidwai جی آپ نے درست فر ما یا ۔ شا ئد میں اس بات کو
سمجھا نہیں سکی کہ بات کسی "ارکان " کی تضحیک کر نے کی نہیں بلکہ اس
کیریکٹر کو "اپنے جیسا " بنا دینے کی تھی ۔اگر آپ کو یہ بات غلط محسو س
ہو ئی تو معا فی چا ہتی ہوں ۔آپکی رائے کی بہت قدر کر تی ہوں اور آئندہ خیا ل
رکھّو نگی ۔
Anjum Kidwai منہا ملک صا حبہ بہت نو ا ز ش ، خو شی ہوئی کہ
آپ سب نے میرے لئے وقت نکالا اور افسا نہ پڑھا ۔۔۔بہت شکریہ
Paigham Afaqui جن افسانوں میں سماجی مسائل کو نشانہ بنایا جاتا
ہے ان میں ایک میسج ہوتا ہے - وہی مسج فنکار کا اسٹیٹمنٹ بھی ہوتا ہے - تو اس
افسانے کا مسج کیا نکلتا ہے ؟ اس سوال کا جواب میری بات کو اور بھی واضح کر دے گا-
Haider Ali Anjum sahiba ,Lahore mn ye waqa ya kahani arsay se zaban zad e
am ha...ap ne nahayat khoobsurat afsana likha ha iss ki ending ko review kr
lein agr possible ho..mera ishara akhri jumlae ki taraf ha...ye waqa itna am ha
k itna acha likha hua afsana overshadow ho gia ...mujhey aisa mehsoos hua
ha..mazrat k sath.
Qurb E Abbas بہت ہی عام سا قصّہ ہے، میں نے اپنی دادی سے کئی
بار سنا۔
ایک آدمی کے رزق میں کمی آتی جارہی تھی، اس نے ایک پیر سے رابطہ کیا اور کہا کہ میرے رزق میں کیسے اضافہ ہو سکتا ہے؟
جواب ملا، خدا کا شکر ادا کرو۔
کیسے؟
بس تم فریضہ پورا کرو، پانچ وقت کی نماز پڑھا کرو۔
وہ شخص گھر آیا، صبح اٹھ کر فجر کی نماز کے لیے کھڑا ہوا، اسکی بھینس مر گئی۔ پھر ظہر کی نیت کی تو ایک گائے مر گئی، ایسے ہی عصر کی نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہی ایک بچھڑا بھی چل بسا، مغرب میں اسکی بکری مر گئی۔ جب عشاء کا وقت ہوا اس نے نماز کی نیت کی تو بکری کا بچہ "میں، میں" شور کرتا ہوا اس کے سامنے سے گزرا، اس شخص نے اسے گالی دی اور کہا "ابے چپ۔۔۔۔! تُو میری ایک رکعت کی بھی مار نہیں ہے۔۔۔۔" یہاں بہت چھوٹی عمر میں ہی میں نے پہلی بار سنتے ہی کہا تھا۔۔۔۔ "ھاھا۔۔۔ کتنا بے وقوف آدمی تھا" کیوں کہ کم عقل ہو کر بھی میں جانتا تھا کہ قصور نماز کا تو ہے ہی نہیں۔
Paigham Afaqui سر یہ تو ایک الگ قصہ تھا۔ مگر میں یہاں کوئی بھی جواب آنے سے پہلے ایک سوال آپ سے پوچھنا چاہوں گا، جیسا کہ آپ نے فرمایا؛
"جن افسانوں میں سماجی مسائل کو نشانہ بنایا جاتا ہے ان میں ایک میسج ہوتا ہے - وہی مسج فنکار کا اسٹیٹمنٹ بھی ہوتا ہے - تو اس افسانے کا مسج کیا نکلتا ہے ؟"
کیا "اسٹیٹمنٹ" فنکار کا ہوتا ہے یا کردار کا؟
اگر کردار گھٹیا ہے، تو اس سے قاری پھر بھی اچھے کی امید رکھے گا؟
کیا قاری یہ افسانہ پڑھ کر حج کو غلط کہے گا اور حاجی صاحب کے کردار کو بلکل ہی بھول جائے گا؟
جملہ ایسے تو نہیں لکھا گیا "اگر ولایت شاہ اپنے اُس بیٹے کو بھی حج کروا دیتا تو آج بارہ ہزار دینے سے بج جاتا۔" یہ فنکار کی اسٹیٹمنٹ مانی جاتی، جبکہ وہاں کردار بول رہا ہے۔
امید ہے کہ اگر میں غلط ہوں تو تصحیح کی جائے گی۔ بہت شکریہ۔
ایک آدمی کے رزق میں کمی آتی جارہی تھی، اس نے ایک پیر سے رابطہ کیا اور کہا کہ میرے رزق میں کیسے اضافہ ہو سکتا ہے؟
جواب ملا، خدا کا شکر ادا کرو۔
کیسے؟
بس تم فریضہ پورا کرو، پانچ وقت کی نماز پڑھا کرو۔
وہ شخص گھر آیا، صبح اٹھ کر فجر کی نماز کے لیے کھڑا ہوا، اسکی بھینس مر گئی۔ پھر ظہر کی نیت کی تو ایک گائے مر گئی، ایسے ہی عصر کی نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہی ایک بچھڑا بھی چل بسا، مغرب میں اسکی بکری مر گئی۔ جب عشاء کا وقت ہوا اس نے نماز کی نیت کی تو بکری کا بچہ "میں، میں" شور کرتا ہوا اس کے سامنے سے گزرا، اس شخص نے اسے گالی دی اور کہا "ابے چپ۔۔۔۔! تُو میری ایک رکعت کی بھی مار نہیں ہے۔۔۔۔" یہاں بہت چھوٹی عمر میں ہی میں نے پہلی بار سنتے ہی کہا تھا۔۔۔۔ "ھاھا۔۔۔ کتنا بے وقوف آدمی تھا" کیوں کہ کم عقل ہو کر بھی میں جانتا تھا کہ قصور نماز کا تو ہے ہی نہیں۔
Paigham Afaqui سر یہ تو ایک الگ قصہ تھا۔ مگر میں یہاں کوئی بھی جواب آنے سے پہلے ایک سوال آپ سے پوچھنا چاہوں گا، جیسا کہ آپ نے فرمایا؛
"جن افسانوں میں سماجی مسائل کو نشانہ بنایا جاتا ہے ان میں ایک میسج ہوتا ہے - وہی مسج فنکار کا اسٹیٹمنٹ بھی ہوتا ہے - تو اس افسانے کا مسج کیا نکلتا ہے ؟"
کیا "اسٹیٹمنٹ" فنکار کا ہوتا ہے یا کردار کا؟
اگر کردار گھٹیا ہے، تو اس سے قاری پھر بھی اچھے کی امید رکھے گا؟
کیا قاری یہ افسانہ پڑھ کر حج کو غلط کہے گا اور حاجی صاحب کے کردار کو بلکل ہی بھول جائے گا؟
جملہ ایسے تو نہیں لکھا گیا "اگر ولایت شاہ اپنے اُس بیٹے کو بھی حج کروا دیتا تو آج بارہ ہزار دینے سے بج جاتا۔" یہ فنکار کی اسٹیٹمنٹ مانی جاتی، جبکہ وہاں کردار بول رہا ہے۔
امید ہے کہ اگر میں غلط ہوں تو تصحیح کی جائے گی۔ بہت شکریہ۔
Ashu Don Anjum Kidwai میم پتہ نہیں کیوں ایک شعر یاد آ گیا
مصحفی ہم تو سمجھے تھے ہو گا کوئی زخم سا
تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا۔۔۔
مصحفی ہم تو سمجھے تھے ہو گا کوئی زخم سا
تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا۔۔۔
Paigham Afaqui Qurb E Abbas حج کے رکن کا یہ دعوی ہے کہ ایک مذہبی رکن کے
ناطے یہ گناہوں سے پاک کرتا ہے - بحیثیت ادیب مجھے اس سے غرض نہیں کہ یہ دعوی صحیح
ہے یا غلط ہے - یہ بھی سچ ہے کہ بہت سے مذہبی ارکان برائیوں کو پروموٹ کرتے ہیں -
یہ آخری جملہ کیا کہ رہا ہے کہ حج برائی کو پروموٹ کرے گا - اگر یہ اسٹیٹمنٹ ہے کہ
حج برائی کو پروموٹ کرتا ہے تو اس بات کو سپورٹ کرنے کے لئے چند حاجیوں کا جرم میں
ملوث ہونا یا حاجی ہونے کو دھوکا دینے کا ذریعہ بنانا منطقی طور پر یہ نہیں ثابت
کرتا کہ حج کرنے سے آدمی جرم میں ڈحیٹ ہوجائے گا- یہ تو شاہ بھی جانتا ہے کہ حج
صرف دھوکا دینے میں مدد کر رہا ہے، جرم کرنے میں نہیں- اور پرویز کا مسلہ ڈھوکا
دینے کا نہیں بلکہ جرم پر آمادگی کا ہے- آخری مکالمہ یہ کہ رہا ہے کہ شاہ کے خیال
میں حج کرنا جرم کرنے کی آمادگی میں مدد کرے گا- اگر افسانہ نگار کے خیال میں شاہ
یہ سمجھ رہا ہے تو شاہ کے اس کردار کے بلڈ اپ ہونے کے عمل پر روشنی ڈالنی ہوگی
کیونکہ یہ ایک نادر قسم کا کردار ہوگا جسکا تصور ہم بغیر مناسب پس منظر کہ نہیں کرسکتے-
دلشکنی کی بات اس لئے پیدا ہوتی ہے کہ جس شخص یا شے پر کچھ لوگوں کا یقین ہو کہ وہ
اچھا ہے اور غلط نہیں ہوسکتا اس میں اگر آپ کوئی بہت گھناونی خرابی کے بارے میں
سنیں تو ایک ذمہ دار آدمی کی حیثیت سے (اور ادیب ایک ذمہ دار آدمی ہوتا ہے، بے سر
پیر کی افواہ یا گمراہ کن بات کو آگے بڑھانے والا نہیں ہوتا ہے) آپ کے اوپر دو
باتیں لازم آتی ہیں (1) اگر اس الزام کا کوئی ثبوت نہیں ہے تو اس پر اپنے ردعمل کا
اظہار کریں (2) اگر بات ثبوت کی بنیاد پر سامنے آئی ہے تو اس سے متعلق لوگوں کو
خبردار کرتے ہوےئ اس ثبوت کو بھی بیان کریں ( اسی کے لئے میں نے مناسب پس منظر کی
کمی اور ضرورت کا ذکر کیا ہے)- اگر یہ جملہ ایک بدکار کا ہے تو اس پر افسانہ نگار
کا ردعمل ضروری تھا- اگر یہ جملہ سچائی پر مبنی ہے تو پس منظر کو ثبوت کے طور پر
لانا ضروری ہے- ورنہ اتنی گمبھیر بات کو بغیر ثبوت کے لے اڑنا اور کہانی بنا کر
پیش کرنا جائز طور پر افسانہ نگار کو کٹگھرے میں کھڑا کر سکتا ہے- اگر افسانہ نگار
یہ محسوس کرتا ہے کہ حج میں یہ تاثیر ہے جس کا دعوی شاہ کر رہا ہے تو ضرور افسانہ
لکھا جائے لیکن کچے طریقے سے ایسے افسانے لکھ کر اپنے ساتھ دوسرے افسانہ نگاروں یعنی
افسانہ نگاری کے فن کا مذاق اڑانے کا موقع نہ دیا جائے-
Paigham Afaqui Qurb E Abbas دوسری بات یہ کہ جھوٹ، افسانہ اور حقیقت تین الگ الگ چیزیں ہیں -
جھوٹ سچ کا مخالف ہوتا ہے - اس کے سچ کا مخالف ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں
جیسے لاعلمی، غلط فہمی، بد نیتی یا مصلحت وغیرہ - افسانہ جہاں جھوٹ کی ان منفی
باتوں سے پاک ہوتا ہے وہیں یہ اعلان کرنے کے بعد کہ افسانہ مفروضہ ہے وہ یہ بھی
بتا دیتا ہے کہ وہ حقیقت نہیں ہے- لیکن وہ یہ دعوی کرتا ہے کہ اس کا مفروضہ بیان
موجودہ یا مستقبل میں وجود میں آنے یا آسکنے والی حقیقت کی امکانی تصویر ہے
-افسانہ کی یہی خصوصیت اس جھوٹ سے اتنا ہی دور کردیتی ہے جتنا سچ جھوٹ سے دور ہوتا
ہے اور حقیقت سے اہم تر کردیتی ہے کہ وہ حقائق اور امکانات دونوں کو افسانے کے
دائرے میں ڈال کر انسان کے ذہن کو محض ھقیقت کے مقابلے زیادہ روشن کرنے کی صفت عطا
کرتی ہے - یہ کمنٹ یہ سمجھانے کے لئے لکھا گیا ہے کہ معیاری تخلیقات کو غیر ذمہ
دارانہ بیانات سے پاک ہونا چاہئے - افسانہ ادب کی وہ صنف ہے جسے لوگ بچوں کے سلیبس
میں ڈال کر اساتذہ کے ذریعے ذہن نشیں کرواتے ہیں- افسانے بچوں سے لے کر بڑوں تک کے
ذہنوں میں دنیا کی تصویر خلق کرتے ہیں- افسانہ لکھنا ایک انتہائی ذمہ دارانہ کام
ہے - سڑک پر جاہلوں کے ذریعےبولے جانے والے جملوں کو ٹیپ ریکارڈر کی طرح تحریر
کردیانا افسانہ نہیں ہے کیونکہ اس میں جھوٹ اور بد دیانتی سب کچھ شامل ہوتا ہے-
افسانہ افسانہ نگار کا اسٹیٹمنٹ ہوتا ہے، اس کے ضمیر کی آواز ہوتا ہے اور قاری
افسانے میں افسانہ نگار کے اپنے وژن کو ڈھونڈتا ہے- اگر افسانہ نگار کا وژن افسانے
میں موجود نہیں تو پھر افسانہ کھیت سے لایا ہوا بیگن اور ٹماٹر ہے، افسانہ نہیں
ہے- افسانہ تو پکایا ہوا وہ ڈش ہوتا ہے جو ٹیبل پر باورچی کے ذریعے رکھا جاتا ہے-
اور ڈش باورچی کا پروڈکٹ ہوتا ہے، کسان کا نہیں- افسانہ لکھنے اور افسانے کو پیش
کرنے سے پہلے افسانے کی دنیا سے مکمل طور پر واقف ہونا، اس کے بارے میں مکمل
جانکاری حاصل کرلینا اور اس میں کہی گئی باتوں کا جائزہ لے لینا افسانہ نگار کی
ادبی ذمہ داری ہے-
Sabeen Ali انجم قدوائی صاحبہ نے اچھا لکھا ہے سکرپٹ اور
کہانی دونوں عمدہ .مگر جو نکات پیغام آفاقی صاحب نے اٹھائے ہیں میں ان سے اتفاق
کرتی ہوں ،ایک فقرے کی ٹریٹمینٹ درست طور پر نہیں کی گئی جس کی وجہ سے اس افسانے
پر سوال اٹھیں گے .
Haider Ali Paigham sahib ne bilkul sahih farmaya ,roz mara ki amsaal ko
mauzoo bananey k liye strong base darkar hoti ha warna tehreer apna tausur kho
bethti ha aur acha bhala afsana aik amyana soch ka parwarda nazar atta ha.
Anjum Kidwai سبین علی صا حبہ بہت شکریہ آپ نے افسا نہ پڑھا
اور رائے بھی دی میں بھی پیغام آفاقی صا حب کی رائے کی قدر کرتی ہوں وہ استاد ہیں
۔
No comments:
Post a Comment