"جوس نکالنا آتا ہے
تجھے ۔۔۔۔۔؟"رازق
پھل والے بڑے میا ں ایک چھو ٹے سے بچّے سے سوال کر رہے تھے ۔
"جوس ۔۔؟؟؟" وہ ہکّا بکّا انکا منھ تاک رہا تھا ۔
"یہ کیا ہو تا ہے ما موں ۔۔۔؟؟؟"
"چل بڑا آیا "ماموں
۔۔۔۔۔" مجھ سے رشتے مت جو ڑ کام کر نے آیا ہے ۔۔کام کر ۔۔۔
"ما موں ۔۔"وہ طنزیہ سی ہنسی ہنسے ۔۔۔۔
"پھر میں کیا کہو ں آپ کو ما۔۔۔۔۔" اسنے اپنی زبان دانتوں تلے دبائی
۔پہلے جب بڑے میا ں گا ؤں جایا کر تے تھے تو رشتے کی بہن ۔۔۔چھوٹو کی امّا ں نے
بتایا تھا کہ یہ تیرے ما موں ہیں ۔۔وہ بہت خاطر مدارات کیا کر تی تھی انکی ۔۔۔مگر
جب سے گھر والا گیا ۔۔۔کھانے پینے کے لالے پڑ گئے ۔۔تو مد د کے نام پر بڑے میاں
چھو ٹو کو شہر لے آئے ۔۔۔۔۔
کام دلوانے کے لیئے ۔۔
"سر کہو ۔۔۔۔سر ۔۔۔پہلے والا بھی یہی کہے تھا ۔۔۔۔" بڑے میا ں نے نالی میں زور سے تھو کا ۔
"سر کہو ۔۔۔۔سر ۔۔۔پہلے والا بھی یہی کہے تھا ۔۔۔۔" بڑے میا ں نے نالی میں زور سے تھو کا ۔
"بھاگ گیا منحوس ۔۔۔۔۔میں کچھ پو چھ رہا ہوں تجھ سے ۔۔۔۔'اچانک اسپر گرم
ہو ئے ۔
"کا ۔۔۔۔" وہ منھ دیکھتا رہا
"ارے رس نہیں جانتا ہے ۔۔۔۔"
"ہا ں رس تو جانتے ہیں ۔۔۔۔گنےّ کا رس تو کئی بار پیئے بھی ہیں ۔۔۔" وہ خوش ہو گیا ۔
"ارے رس نہیں جانتا ہے ۔۔۔۔"
"ہا ں رس تو جانتے ہیں ۔۔۔۔گنےّ کا رس تو کئی بار پیئے بھی ہیں ۔۔۔" وہ خوش ہو گیا ۔
"اچھا ۔۔۔تیری اوقات ہے
۔۔۔۔"وہ پھر طنزیہ ہنسے "اچھا یہ دیکھ یہ مسین رکھّی ہے اسمیں فروٹ
ڈالتے جانا ادھر سے رس نکلے گا ۔۔۔
"کا ڈالنا ہے ؟؟" بچّے نے پھر بات کاٹ دی
"پھل ۔۔عقل کے دشمن ۔۔۔پھل ڈالنا ہے ۔۔انگریزی میں پھل کو فروٹ کہے ہیں" انھوں نے قابلیت دکھائی ۔
'یہ چھو ٹا گلاس ہے ۔۔۔10 روپئے کا اور کوئی بڑا گلاس مانگے تو اسکے 20 روپئے لینا ۔۔۔۔سمجھا ؟؟"
"کا ڈالنا ہے ؟؟" بچّے نے پھر بات کاٹ دی
"پھل ۔۔عقل کے دشمن ۔۔۔پھل ڈالنا ہے ۔۔انگریزی میں پھل کو فروٹ کہے ہیں" انھوں نے قابلیت دکھائی ۔
'یہ چھو ٹا گلاس ہے ۔۔۔10 روپئے کا اور کوئی بڑا گلاس مانگے تو اسکے 20 روپئے لینا ۔۔۔۔سمجھا ؟؟"
"جی ۔۔۔"وہ مستعد ہوا
"خود ہی نہ کھا جایئو ۔۔۔۔بھوکا ہے ؟؟؟"
"ہا ں ' اسنے گر دن جھکالی ۔
"یہ لو " بڑے میاں نے ایک کالا سا کیلا کہیں سے برا مد کیا ۔
"یہ لو " بڑے میاں نے ایک کالا سا کیلا کہیں سے برا مد کیا ۔
"یہ تو ۔۔۔۔خراب ہے ۔۔" وہ منمنا یا
"چل پھر مت کھا ۔۔"۔انھوں نے کیلا ایک کنارے ڈال دیا ۔چھو ٹو نظر بچا بچا کر دیکھتا رہا ۔۔پھر جھک کر اسنے وہی کیلا اٹھا لیا اور اہستہ آہستہ کھانے لگا ۔
بڑے میا ن کافی عر صے سے اپنا پھلوں کا ٹھیلہ کا لونی کے باہر لگاتے تھے ۔منہدی لگے بال ۔۔آنکھو ں پر کالا چشمہ ۔۔اور ہونٹو ں پر ایک کاروباری مسکرا ہٹ ۔۔
کچھ دنو ں پہلے ایک اور بچّہ شہزاد لیکر آئے تھے بے حد محنتی اور پھر تیلہ ۔۔۔۔ اکثر گھروں میں میں پھل پہونچایا کرتا تھا ۔۔۔پھر وہ کام چھو ڑ گیا اسکے اوپر اپنے گھر کی ذمہ داری تھی اور یہا ں کچھ ملنا نہیں تھا ۔
"چل پھر مت کھا ۔۔"۔انھوں نے کیلا ایک کنارے ڈال دیا ۔چھو ٹو نظر بچا بچا کر دیکھتا رہا ۔۔پھر جھک کر اسنے وہی کیلا اٹھا لیا اور اہستہ آہستہ کھانے لگا ۔
بڑے میا ن کافی عر صے سے اپنا پھلوں کا ٹھیلہ کا لونی کے باہر لگاتے تھے ۔منہدی لگے بال ۔۔آنکھو ں پر کالا چشمہ ۔۔اور ہونٹو ں پر ایک کاروباری مسکرا ہٹ ۔۔
کچھ دنو ں پہلے ایک اور بچّہ شہزاد لیکر آئے تھے بے حد محنتی اور پھر تیلہ ۔۔۔۔ اکثر گھروں میں میں پھل پہونچایا کرتا تھا ۔۔۔پھر وہ کام چھو ڑ گیا اسکے اوپر اپنے گھر کی ذمہ داری تھی اور یہا ں کچھ ملنا نہیں تھا ۔
اب یہ ننھا سا بچّہ کا م سیکھ رہا تھا ۔دھیرے دھیرے سب سمجھنے لگا ۔۔آنے جانے
والوں کو مسکرا کر مخا طب کرتا
۔"رس"دینا ہوتا تو خندہ پیشانی سے اچھّے سے اچھّا پھل لیکرفٹا فٹ
جوس نکال کر دیتا ۔
ایک دن اچانک بڑے میا ں چیخ پکار کرنے لگے ۔سیب کی پوری پیٹی غا ئب تھی ۔۔
"تو چور ہے ۔۔"انھوں نے بچّے کو دھنکنا شروع کیا ۔وہ ننھا سا بچہ گڑ گڑا رہا تھا
"میں کیا کرونگا ۔۔۔کہا ں لے جاؤنگا ۔۔میرے پاس تو رہنے کا ٹھکا نہ نہیں ۔۔یہیں ٹھیلے کے نیچے سوتا ہو ں ۔۔۔
ایک دن اچانک بڑے میا ں چیخ پکار کرنے لگے ۔سیب کی پوری پیٹی غا ئب تھی ۔۔
"تو چور ہے ۔۔"انھوں نے بچّے کو دھنکنا شروع کیا ۔وہ ننھا سا بچہ گڑ گڑا رہا تھا
"میں کیا کرونگا ۔۔۔کہا ں لے جاؤنگا ۔۔میرے پاس تو رہنے کا ٹھکا نہ نہیں ۔۔یہیں ٹھیلے کے نیچے سوتا ہو ں ۔۔۔
مگر بڑے میا ں کہا ں سنتے ۔۔۔جی بھر کے مارا پھر اپنا سر پکڑ کے بیٹھ گئے ۔
بچہّ اپنی چو ٹیں سہلا سہلا کر سسک رہا تھا ۔اسکا پورا بدن چو ٹوں سے دکھ رہا تھا ۔شام سے رات آئی سزا
کے طور پر اسے کھانا بھی نہیں ملا ۔وہ اپنی پھٹی چا د ر بچھاکر ٹھیلے کے نیچے لیٹ
کر سو نے کی کو شش کر رہا تھا تبھی کوئی سا یہ آکر اسکے پاس بیٹھ گیا ۔اسکی چو ٹیں
سہلا تا رہا اور دھیرے دھیرے باتیں کر تا رہا ۔۔۔"پتہ ہے چھو ٹو ۔۔اب نیا قا
نو ن آنے والا ہے ۔بچّو ں کو کام نہیں کر نا پڑےگا ۔۔سارے بچّے اب اسکول جایا
کرینگے "۔
"کب آیئگا ؟؟؟؟" اسنے سسکی لیکر اس سے پو چھا ۔
"ہو ں ں ں ۔۔۔۔کل پو چھونگا ما سٹر صا حب سے وہ ملیںگے تو ۔۔"
"پر تو مجھے کیسے جانتا ہے ؟؟" چھو ٹو اٹھکر بیٹھ گیا ۔
"کب آیئگا ؟؟؟؟" اسنے سسکی لیکر اس سے پو چھا ۔
"ہو ں ں ں ۔۔۔۔کل پو چھونگا ما سٹر صا حب سے وہ ملیںگے تو ۔۔"
"پر تو مجھے کیسے جانتا ہے ؟؟" چھو ٹو اٹھکر بیٹھ گیا ۔
"کل ۔۔۔کل بتا ؤنگا ۔۔۔وہ اسے بسکٹ کھلا کر بھاگ گیا ۔
اور دوسرے دن چو ر پکڑا گیا ۔شہزاد اسپتال کے باہر سیب لگا ئے بیٹھا تھا ۔۔اور بڑے میا ن نے پیٹی پر اپنا ڈالا ہوا نمبر دیکھ لیا ۔چیخ پکار کر نے لگے ۔۔۔تو ڈیو ٹی کا نسٹیبل بھی دوڈ کر آگیا ۔
"چو ری کر تا ہے ؟؟" کانسٹبل نے سنٹی اٹھا ئی
"تم نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔۔" شہزاد نے اپنی چوٹ سہلائی " صبح سے تیسرا سیب ہے جو تم کھا رہے ہو ۔۔ہم تو غریب ہیں ۔۔۔کر لی چو ری ۔"
مگر کا نسٹیبل نے بات پو ری نہیں ہونے دی جی بھر کے پٹائی کی ۔
باقی بچے ہوئے سیب بٹورتے ہوئے بڑے میا ں بڑ بڑا رہے تھے ،چھو ٹو بھی انکا ساتھ دے رہا تھا ۔اسکا چہرہ سر خ تھا ۔
اور دوسرے دن چو ر پکڑا گیا ۔شہزاد اسپتال کے باہر سیب لگا ئے بیٹھا تھا ۔۔اور بڑے میا ن نے پیٹی پر اپنا ڈالا ہوا نمبر دیکھ لیا ۔چیخ پکار کر نے لگے ۔۔۔تو ڈیو ٹی کا نسٹیبل بھی دوڈ کر آگیا ۔
"چو ری کر تا ہے ؟؟" کانسٹبل نے سنٹی اٹھا ئی
"تم نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔۔" شہزاد نے اپنی چوٹ سہلائی " صبح سے تیسرا سیب ہے جو تم کھا رہے ہو ۔۔ہم تو غریب ہیں ۔۔۔کر لی چو ری ۔"
مگر کا نسٹیبل نے بات پو ری نہیں ہونے دی جی بھر کے پٹائی کی ۔
باقی بچے ہوئے سیب بٹورتے ہوئے بڑے میا ں بڑ بڑا رہے تھے ،چھو ٹو بھی انکا ساتھ دے رہا تھا ۔اسکا چہرہ سر خ تھا ۔
"چل چھو ٹو ۔۔۔۔"دوسری صبح
شہزاد ٹھیلے کے آگے کھڑا تھا ۔۔
بڑے میا ں کی آنکھیں پھٹ گئیں
" یہ تیرا بھائی ہے ؟؟؟
" ہا ں بھائی ہے ۔۔۔اور بھی بھائی ہیں میرے ۔۔غریب سے رشتہ جو ڑتے شرم نہیں آتی ہمیں ۔۔۔سر ۔۔۔"وہ مسکرایا اور چھو ٹو کا ہاتھ پکڑ لیا ۔
بڑے میا ں کی آنکھیں پھٹ گئیں
" یہ تیرا بھائی ہے ؟؟؟
" ہا ں بھائی ہے ۔۔۔اور بھی بھائی ہیں میرے ۔۔غریب سے رشتہ جو ڑتے شرم نہیں آتی ہمیں ۔۔۔سر ۔۔۔"وہ مسکرایا اور چھو ٹو کا ہاتھ پکڑ لیا ۔
"ابے ۔۔۔۔۔"غصّے کی وجہ سے انکے منھ کا زاویہ بگڑ گیا ۔۔مگر آواز
نہیں نکلی ۔
اسکول ما سٹر سے بات بھی ہو گئی اور دونوں کے دل بھی ٹوٹ گئے ۔۔۔جینا اتنا آسان نہیں تھا اسکول بھی جا سکتے تھے دن کا کھانا بھی مل جاتا ۔۔۔مگر پھر ؟؟؟ کہا ں رہینگے ۔۔۔؟اور شہزاد اگر اسکول جائے گا تو گھر والوں کا کیا ہوگا ؟؟
اسکی نظروں میں اپنی ننھی ننھی بہنیں اپنی بیمار امّی اور رکشہ چلاتے ابّو آگئے ۔۔جو اسکی آمدنی کی آس میں ۔۔۔چو لھا جلنے کی آس میں جیتے تھے ۔۔۔۔اور پھر چھو ٹو کا اضا فی بو جھ ؟؟ وہ کون بر داشت کرتا ؟؟
بچّوں کی امیدیں ٹوٹ جائیں تو ساری کائینات لرز نے لگتی ہے
وہ چھو ٹو کا ہاتھ تھامے ہوئے ایک بار پھر ٹھیلے کے پاس کھڑا تھا ۔۔۔اور چھو ٹو کی نگاہ ایک سیاہ پڑتے ہوئے کیلے پر تھی جو شاید اسے اب بھی کھانے کے لیئے مل سکتا تھا ۔
ختم شد
اسکول ما سٹر سے بات بھی ہو گئی اور دونوں کے دل بھی ٹوٹ گئے ۔۔۔جینا اتنا آسان نہیں تھا اسکول بھی جا سکتے تھے دن کا کھانا بھی مل جاتا ۔۔۔مگر پھر ؟؟؟ کہا ں رہینگے ۔۔۔؟اور شہزاد اگر اسکول جائے گا تو گھر والوں کا کیا ہوگا ؟؟
اسکی نظروں میں اپنی ننھی ننھی بہنیں اپنی بیمار امّی اور رکشہ چلاتے ابّو آگئے ۔۔جو اسکی آمدنی کی آس میں ۔۔۔چو لھا جلنے کی آس میں جیتے تھے ۔۔۔۔اور پھر چھو ٹو کا اضا فی بو جھ ؟؟ وہ کون بر داشت کرتا ؟؟
بچّوں کی امیدیں ٹوٹ جائیں تو ساری کائینات لرز نے لگتی ہے
وہ چھو ٹو کا ہاتھ تھامے ہوئے ایک بار پھر ٹھیلے کے پاس کھڑا تھا ۔۔۔اور چھو ٹو کی نگاہ ایک سیاہ پڑتے ہوئے کیلے پر تھی جو شاید اسے اب بھی کھانے کے لیئے مل سکتا تھا ۔
ختم شد