Friday, June 27, 2014

جہاں سے سلسلہ ٹو ٹا

جہاں سے سلسلہ ٹو ٹا ۔۔۔۔۔۔۔
ذکیہ نے دوسری بار چائے گرم کرنے سے منع کر دیا اور غصّے سے کمرے کا دروازہ زور سے بند کرکے چلی گئی ۔
"بس ۔۔لاونج میں بیٹھی بڑ بڑا رہی ہوگی ۔۔۔۔میں کیا کروں آخر کیسے اسکی بات ماںوں ؟؟؟ دل نہیں مانتا میر ا ۔۔۔۔۔"
بھیّا وہا ں دور گاؤں میں بیٹھے کیسے کیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہونگے ۔۔۔میں سیدھے جاکر ان سے کہوں ۔۔مجھے  جایئداد کا حصہّ چاہیئے ۔۔۔۔۔کو ئی با ت ہوئی ؟ ذمہ داری تو کوئی اٹھائی نہیں اور حصْہ مانگنے کھڑا ہو جاؤن ؟؟ کیسی عورت ہے یہ ۔۔۔مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں یہاں آرہا تھا بھیا مجھے رخصت کرتے وقت کیسے کپکپا رہے تھے جیسے انکے  جسم کا کوئی حصّہ کاٹ کر الگ کیا جارہا ہو ۔۔۔مگر میں خوش تھا میری بر سوں کی آرزو پو ری ہو رہی تھی ،میں اپنی خوشی میں انکے درد کو محسوس ہی نہیں کر سکا تھا ۔۔۔مگر آج جب سوچتا ہوں تو لگتا ہے کہ جدائی کا درد مینے بھی سہا ہے بس ۔۔ ۔۔اس وقت مجھے اظہار کرنا نہ آیا ۔۔
ذکیہ تو میری زندگی میں بہت بعد میں آئی وہ بھی یہاں پڑھائی کے دوران ، دوستی کیسے ہوئی ۔۔یہ اب پرانی بات تھی اب تو میری دو بیٹیوں کی ماں تھی ،ہماری دوستی کب کی ختم ہوچکی تھی ۔۔اب ہم صرف شوہر بیوی ہی رہ گئے تھے ،ہمارے درمیان روز جھگڑے ہوتے ،ہنگامہ آرائی ہوتی اور بچیّاں سہم سہم کر کونوں میں دبک جاتین ۔انکے معصوم چہروں پر اک خوف اک بے چارگی ہوتی ۔میں اور ذکیہ کبھی اس بات کی کوئی فکر ہی نہیں کرتے تھے ۔اسکا اصرار تھا کہ میں ہندوستان جاکر بھیّا سے اپنے ابّا کی جایئداد میں حصّہ مانگو ں ۔۔۔اور میں جو اتنے عرصے میں بھیّا کی خیریت کے لیئے ایک فون نہ کر سکا  وہ اچانک ۔۔۔۔۔کبھی کبھی میں اپنے آپ کو بیحد مجبور محسوس کرتا کتنے سارے خرچ منھ پھاڑے ہمارے سامنے کھڑے رہتے ہم دونون ملازمت کرتے تھے مگر ہم نے اپنی ضرورتوں کو اس حد تک بڑھا لیا تھا کہ پوری ہی نہیں ہوتی تھیں ۔۔۔۔
آخر کار میں چل پڑا ۔۔۔۔جس راہ پر وہ مجھے چلا نا چاہتی تھی ۔
بھیّا کو فون کر کے جب مینے اپنے آنے کی خبر دی تو وہ جزبات کی شدّت سے کچھ بول ہی نہ سکے ۔۔۔خاموش رہ گئے ۔۔۔
"بھیّا ۔۔؟ آپ سن رہے ہیں نہ ؟ "
"آں ۔۔۔ہاں تم سچ مچ آرہے ہو نا ؟؟؟" انکی آواز بھّرا رہی تھی ۔
میں پہونچ گیا تھا ۔۔۔انکے شفیق سینے سے لپٹا ہوا تھا انکے جسم سے مجھے ابّا اور امّاں دونوں کی خوشبو آرہی تھی ۔۔وہ ایک دم ابّا جیسے ہو گئے تھے ویسے ہی سفید بال ویسے ہی دبلے پتلے ۔۔۔چہرے پر وقت سے پہلے ویسی ہی جھرّیاں ۔۔۔
گاؤں کی سڑکیں بن گئی تھیں ۔دونوں طرف گھنے گھنے پیڑ ہمارے ساتھ تالیاں بجاتے ہوئے چل رہے تھے ۔نہر کی پلیا پکّی بن گئی تھی چوڑی سی نہر کا پانی شل شل بہہ رہا تھا بچپن کی کتنی ساری یادیں آئیں اور پانی کے ریلے میں ساتھ ساتھ بہہ رہی تھیں  ،میں راستے کی خوشبو سے مد ہوش بیٹھا رہا ،بھیّا مجھ سے باتیں کر رہے تھے  ذکیہ اور بچّوں کے بارے میں ،میرے کام کے بارے میں اور نہ جانے کیا کیا ۔۔مجھے جیسے کچھ بھی سنائی نہیں دے رہا تھا ۔۔میں جیسے کسی اور ہی دنیا میں پہونچ گیا تھا ۔ذرّے ذرّے میں اپنا بچپن ہنستا  کھیلتا دکھائی دے رہا تھا ۔۔دل کی تمام گر ہیں ایک ایک کر کے کھل رہی تھیں میں جیسے اپنے آپ سے آذاد ہو رہا تھا ۔۔۔جی رہا تھا ۔۔۔ہنس رہا تھا ،رو رہا تھا ۔
گاؤں پہونچ کر ہم سب سے پہلے امّاں اور ابّا کی قبر پر گئے بر سوں بعد میں ان کی یاد میں سسک سسک کر رویا ،مینے کبھی انھیں یاد نہیں کیا تھا ۔۔کبھی انکی یاد میں اس طرح آنسو ں نہیں بہائے تھے مگر آج جزبات کی شدّت میں روتے روتے میری ہچکیاں بندھ گئی تھیں ،بھیْا میری پیٹھ سہلا رہے تھے وہ مجھے سہارا دیے ہوئے تھے ۔
گھر کی ڈیوڑھی میں داخل ہوا تو ایک نرم اور خنک سی خوشبو نے میرے گال سہلا دیئے ۔۔۔
فیّاض دوڑ کر مجھ سے لپٹ گیا ،برامدے میں پلنگ پر ریاض با ہیں پھیلائے بیٹھا   ہوا تھا ۔۔۔مینے حیرت سے بھیّا کی جانب نگاہ کی تو وہ نظریں چرا گئے ۔مینے دوڑ کر اسے لپٹا لیا ۔۔گل مہر کے نیچے بھابی الگنی پر کپڑے پھیلا رہی تھیں ۔مجھے دیکھا تو جلدی سے آکر مجھے گلے سے لگا لیا ۔بھابی کے سامنے کے بال سفید ہورہے تھے ،رنگ کمھلا گیا تھا ،ہاتھوں کی نسیں ابھر آئی تھیں ۔۔میری نگا ہوں میں وہ خوبصورت ،حسین ترین لڑ کی آگئی جو چند برس پہلے پائلیں چھنکاتی اس آنگن میں اتری تھی ،گو را رنگ ،سیاہ گھٹاؤں جیسے بال ۔۔گہرا کاجل لگائے سیاہ شرارتی سی آنکھیں ۔۔۔میں اس ادھیڑ عمر عورت میں اپنی بھابی ڈھونڈ رہا تھا ۔
دونوں بچوں نے مجھے گھیر رکھّا تھا ،بھابی نے دستر خوان بھر دیا تھا ،بھّیا محبّت سے مجھے ایک ایک چیز کھلا رہے تھے ۔۔
باہر کسی نے آواز دی تو بھیّا اٹھکر باہر نکل گئے ۔۔پھر ایک لڑکا مجھے بلانے آگیا ۔۔باہر "ہری " کھڑا تھا ۔۔میرا پیارا دوست ۔۔۔میرا یار "ہری پرشاد 'اور میں اسکی طرف بے تابی سے بڑھا تو وہ جھجھک گیا ۔۔۔شاید میری ظاہری حیثیت سے ۔۔۔مینے اسے ایک دم گلے سے لگا لیا ۔۔
"کیسے ہو دوست ۔۔۔؟؟"
"بہت اچھّا کہیو کہ آئے گیئو ۔۔۔۔۔۔بہت یاد کیا تمکا "
اسنے کا ندھے پر پڑے انگوچھے سے اپنے آنسو پوچھے اور معصوم سی ہنسی ہنس پڑا ۔۔۔
ہم دیر تک ٹہل ٹہل کر باتیں کرتے رہے اسی نے ریاض کے پیر کی چوٹ کا بتایا ۔وہ پیڑ سے گر گیا تھا شروع میں گاؤں میں ہی علاج ہوا ،شہر جاکر علاج کروانا بھیّا کے لیئے مشکل تھا ،اسکے بعد وہ گئے بھی مگر ریاض کا چلنا پھر نا ایک طرح بند ہی ہوگیا ۔۔ایک آپریشن کی ضرورت تھی ۔۔
"اچھّا کیہو تم آئے گئے ،بھیّا بے چارے اکیلے پڑ گئے ہیں "
دوسرے دن اور کئی لوگون سے ملا ،ریاض کی میڈیکل رپورٹس دیکھیں ۔بھیْا سے شہر جاکر رہنے اور اسکے مستقل علاج کی بات بھی کی ،
رات ہو رہی تھی ،باہر کسی نے آواز دی بھیّا اٹھکر باہر چلے گئے ،
میں اپنی چائے کی پیالی لیئے ہوئے ہی باہر نکل آیا ۔وہ گاؤن کی طرف چلے گئے تھے ہری باہر کھڑا تھا مجھے دیکھ کر ہنس پڑا ۔
"کیا ہوا یا ر ۔۔۔۔"
"تمکا ہوش کہا ں رہت ہے ؟ مار چائے پہ چائے اوکے بعد بیڑی سٹا سٹ مارے رہت ہو ۔۔۔
اسنے میری بہترین برانڈ کی سگریٹ کا "بیڑی " کہہ کر ستیا ناس کیا ۔میں کھلکھلا  کے ہنس پرا ۔۔ایک مدّت کے بعد یہ ہنسی مجھے نصیب ہوئی تھی ۔۔۔مینے دل ہی دل میں ذکیہ کو شکریہ ادا کیا کہ اسنے مجھے میری جنّت لو ٹا ئی ۔
"ہوا کیا ہے ؟
"دین محمد منسی  جی یاد ہیں تمکا ؟؟ اور وہی جون بڑے مالک کے جمانے ما حساب کتاب دیکھت رہیں ؟؟بڑے مالک انکا گھر بنوائے دیہن رہے ۔۔کھیت بھی دیہن رہیں ۔۔ابھہن ہم انکا دیکھا ۔۔پلیا پہ بیٹھے گر گرائے رہت رہیں ۔۔انکا اٹھائے کے تپتا پہ بیٹھا وا  چاہ پلاوا ۔۔تب جائے کے جان ماں جان آئی ۔مار روت رہیں ۔۔۔"
"مگر کس لیئے ۔۔۔۔؟"
"ارے میاں بی بی ما ں لڑائی ہوت رہی لڑکے انکا مارن ہیں لاٹھی سے ۔۔بچراؤ کا ۔۔"
"مگر کیوں مارا انکو ۔۔؟
" وہی جایئداد کی کھاتر مارن ہیں ۔۔او تو سنت منئی ہیں لڑ کے چاہت ہیں گھر دوار سب لڑکن کے نام لکھ دیں ،بے چارے دین محمد کا کا تو اب کچھ نہیں بولت ہیں ۔۔۔پہلے کتنا ہنست بولت رہے مگر جانت ہو؟دکھ کا  جھیلئے کا یہو ایک طریکہ ہے کہ آدمی چپ ہو جات ہے ۔۔مگر چپ رہے یا بولئے ۔۔دکھی آدمی تو دکھی رہت ہے نا ۔۔۔"
وہ کیا فلسفہ کہہ گیا تھا ۔۔۔۔جسنے میرے اندر ایک تڑپ سی پیدا کر دی ۔۔۔بھیْا بھی تو بہت چپ رہنے لگے ہیں ۔
دین محمد کا بھی وہی قصّہ تھا جو عام طور سے جائیداد والوں کا ہوتا ہے ،وہ جانتے تھے کہ اگر گھر بچّو ں کے نام لکھا تو وہ اسے بیچ کر اڑا دینگے سر چھپانے کی جگہ بھی نہ بچے گی ،اسی لیئے بچْون سے مار کھاتے رہے مگر گھر اور کھیت انکے نام نہیں کیا ۔۔۔
اور میں کیا کر رہا ہوں ؟؟؟
میرا سر چکرانے لگا تھا ۔۔میں اندر آکر چپ چاپ لیٹ گیا ۔۔نہ جانے کب سوگیا ۔۔۔
صبح روز کی طرح خوبصورت تھی میں بھابی اور بچوں کے ساتھ باتیں کر رہا تھا تب بھیّا آگئے اور کمرے کی طرف جاتے ہوئے بولے
"یہاں آؤ میا ں ۔۔" وہ ابّا کی طرح بلانے لگے تھے مجھے ۔۔۔میں جاکر انکے پاس بیٹھ گیا انھوں نے ایک فایئل میرے سامنے رکھ دی ۔۔
'یہ سب تمہارا حصّہ ہے اسمیں سارے کاغذات ہیں ادھے کھیت دو باغ اور اس گھر میں بھی تمہارا حصّہ بنتا ہے ۔رہنے تو تم آؤگے نہیں ۔۔۔تو اگر مناسب سمجھو تو گھر کا حصّہ مجھے فروخت کر دو ،باقی جیسا تم چاہو ۔۔۔"
میں اٹھکر انکے پاس بیٹھ گیا ۔۔۔اور انکے ہاتھ تھام لیئے ۔
'بھیْا یہ سب مجھے نہیں چاہیے ۔۔۔بس میں جب بھی آؤں میرا پلنگ اپنے پلنگ کے ساتھ بچھوا ئےگا ۔۔بھابی یونہی میرے لاڈ اٹھائین ۔۔۔بچّے ایسے ہی مجھ سے فر مایشیں کریں ۔۔۔اور مجھے کچھ بھی نہیں چاہیئے ۔۔۔اور بھیا ۔۔۔اگر کچھ حصّہ فروخت ہوسکے تو کر دیجئے اور ریاض کا علاج ٹھیک سے کروا دیجئے ۔۔۔میرے ویزے کی مدّت ختم ہو رہی ہے چھّٹی بھی ۔۔۔۔۔ورنہ میں خود ۔۔اگر یہاں ممکن نہ ہو تو میرے پاس آجایئے ۔۔۔"میری آواز بھّرا نے لگی تو بھیّا نے فائیل رکھ کر مجھے گلے لگا لیا ،ہم دونوں بھائی جدائی کے صدمے سے نڈھال بیٹھے رہے ۔
چلتے وقت  کچھ چیزیں نکال کر مینے اپنا والٹ ہری کی قمیص کی جیب میں زبر دستی ڈالا وہ ناراض ہونے لگا ۔۔
"ای کا کرت ہو ؟؟؟؟"
"پلیز ۔۔۔۔کچھ مت بولو ہری ۔۔۔۔۔":
اسنے بھیگی بھیگی نظروں سے مجھے دیکھا پھر ایک جیسے دو انگوچھے نکالے "

ای دیکھو ہم تمرے واسطے لائے رہیئے ۔۔۔"مینے اسکے ہاتھ سے ایک انگوچھا لیکر چوم کر آنکھو ں سے لگایا اور گلے میں ڈال کر آنسو بھری ہسنی ہنس دیا ۔۔۔
میں واپس لندن آگیا ہوں
۔۔سب کچھ ویسے ہی ہے ۔مینے اپنی بیٹیون کو وہاں کے قصّے سنائے بھا بی کی دی ہوئی سو غاتیں انھیں اور ذکیہ کو دیں مگر ذکیہ نے وہ ساری کی ساری  پھینک دیں۔میں کیا کہتا ۔۔۔۔؟ میرا لڑنے کو  بھی دل نہیں چاہتا ۔۔بس ہری کی ایک بات میرے ساتھ چلتی ہے کہ دکھ کا مقابلہ کر نے کا ایک یہ بھی طریقہ ہے کہ آدمی چپ ہو جائے ۔۔۔۔اور میں چپ ہو گیا ہوں ۔۔۔۔

 

Monday, March 24, 2014

یہ رابطے دل کے ۔۔۔۔
"صاحبزادی لوٹ کر گھر آگئی ہیں "چچا نے ہاتھ دھوکر کھانے کے لئے تخت پر بیٹھتے ہوئی اطلاعً زور سے کہا ۔
روٹی کی ڈلیا کھولتے ہوئے چچی جان کا ہاتھ دم بھر کو کانپ گیا ۔
"حد ہوتی ہے بے غیرتی کی ۔ہنہہ ۔۔" چچا نے سالن کا ڈونگا اپنی طرف کھسکایا ۔اور پلیٹ سیدھی کی ۔
'آپکو اسقدر غصّہ کیوں ہے ۔۔۔۔۔"چچی جان نے "آپکو "پر زور دیتے ہوئے انکی جانب نگاہ کی ۔
انھو ں نے قہر بر ساتی نظروں سے چچی جان کو دیکھا ،انکا چہرہ سر خ ہوگیا تھا اور آنکھوں میں بے انتہا نفرت کا احساس تھا ۔
"کیوں ہے ۔۔؟ آپکو نہیں معلوم رضیہ بیگم غصّہ کیوں ہے۔۔۔؟غیرت دار آدمی ہوں بے غیرت نہیں ہوں اور لوگوں کی طرح ۔۔۔"انھوں نے چمچہ دستر خوان پر پٹخا ۔
"باپ دادا کی پگڑی اچھال کر وہ بے غیرت ۔۔۔۔اور باقی لوگ صبر کئے بیٹھے ہیں ،میری بیٹی کرتی ایسا ۔۔یہیں اسی جگہ زمین میں دفن نہ کر دیتا تب کہتیں ۔۔۔"
"اللہ نہ کرے ۔۔" چچی جان نے دہل کر سینے پر ہاتھ رکھ لیا ۔
"اور تم پر تو انہی لوگوں کا رنگ چڑھا ہے غیرت اور عزّت جیسے الفاظ تم کیا سمجھو گی ۔۔۔"حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اپنی بات میں اضافہ کیا ۔
"اور خبردار جو یہاں سے کوئی ملنے گیا ۔۔یا وہ اس چوکھٹ پر چڑھی ۔۔۔۔"
٭٭٭٭٭٭٭
دکھ سا دکھ تھا انکو ۔۔؟ ننھی سی جان انکے ہاتھون میں پل کر تو جوان ہوئی تھی وہ ۔۔۔
پرانے زمینداروں کی طرح ظہیر علی خاں اور فیصل علی خان میں مقدمہ بازی تو چلتی رہتی تھی ۔زمین جائیداد کے قصّے کس جاگیر دار خاندان میں نہیں ہوتے ؟بڑی بڑی باتیں ہوجاتیں ،قتل تک ہوجایا کرتے تھے ۔
ان دونوں بھائیوں میں بھی بر سوں سے مقدمے چل رہے تھے ۔آگ میں تیل ڈالنے کا کام گاؤں والے بہت مہارت سے کرتے اور فایئدہ اٹھاتے ۔باتیں ادھر کی ادھر کرنے میں دیگر لوگوں کا بڑا ہاتھ تھا اور باتیں بھی اس طرح پیش کی جاتیں کہ دونوں بھائی کھول کر رہ جاتے مگر وضع داری کا یہ عالم تھا کہ جب مقدمے کی تاریخ پڑتی تو ایک دوسرے کو کہلوا بھیجتے کہ
"ہم نے گاڑی نکلوالی ہے ساتھ ہی چلئیے گا ۔۔"
اور دونوں بھائی ساتھ بیٹھ کر دنیا بھر کی سیاست پر باتیں کرتے کچہری پہونچتے ۔۔۔بحث ہوتی وہ بھی کرتے ۔۔۔پھر تاریخ پڑ جاتی تو دونوں ایک ساتھ واپس بھی اسی گاڑی میں آجاتے ۔
آم کی فصل میں ایک دوسرے کے گھر آمون کی دعوت ہوتی۔ اہتمام سے نذریں ہوتیں ،تو ایک دوسرے کو بلایا جاتا ۔عقیدت سے کھانا کھایا جاتا ۔کسی بچّے کی تقریب ہوتی تب بھی سب ملکر مناتے ۔عید کی نماز دونوں بھائی ساتھ ہی ادا کرتے اور سب بچّوں کو عیدی دیکر ہی فیصل علی خان اپنے گھر جاتے ،وہ اپنے بڑے بھائی کی بے حد عزّت کرتے تھے اور بچّوں سے بے پناہ محبّت بھی ۔۔۔جب سے بڑے بھائ کی بیوئی کا انتقال ہوا تب سے چچی جان کا ذیادہ تر وقت ان بچّون کی دیکھ بھال میں گزرنے لگا ۔
خاص کر ارم تو انکی لا ڈ لی تھی ۔
دکھ سا دکھ تھا انکو؟؟
٭٭٭٭٭٭٭
ننھی سی ارم بن ماں کی بچی،جب انکی اپنی بیٹیاں نہائی دھوئی صاف ستھری فرا کیں پہنے اڑتی پھرتیں تو وہ آجاتی ۔میلی کچیلی فراک پیروں میں دھول سر میں جوئیں ۔۔۔
وہ اسکا سر صاف کرتیں نہلاتیں نئی فراک پہنا کر بنا سنوار دیتیں ۔
اسکی حالت دیکھ کر انکا دل پھٹتا  تھا کیسے ٹوٹی چپل پہنے پھرا کرتی۔
کس چیز کی کمی تھی وہاں ؟سوا ایک عورت کے ۔
اسکی چپل اتروا کے اسے سینے بیٹھ جاتیں ۔
"ارے کیا کر رہی ہو ؟دوسری چپل پہنا دو اسکو ۔۔"وہ اخبار ہٹاکر محبّت سے اسے تکتے ۔۔۔
"رہنے دیجیے ۔۔بھائی جان کو اچھّا نہیں لگے گا ۔میں ابھی ٹھیک کیئے دیتی ہوں ۔"
ایسا نہیں تھا کہ وہاں کسی چیز کی کمی تھی ۔کپڑے صندوقوں میں بھرے تھے جوتے چپل بے شمار ۔۔۔کوئی معاشی مسئلہ نہیں تھا ۔مسئلہ تو بس اتنا تھا کہ ظہیر علی خان اور طرح کے آدمی تھے وہ بچّو ں کو دیکھ نہیں سکتے تھے سب نو کروں کے ہاتھ میں تھا ۔
جب ارم کے کان چھدے اور خیال نہ ہونے کی وجہ سے پک گئے تو وہ انہیں کے پاس دوڑی آئی
"بہت درد ہورہا ہے چچی جان ۔۔۔"
اور چچی جان نے بزرگوں کا بتایا ہوا نسخہ آزمایا ۔
اس وقت ارسل سب سے چھوٹا بیٹا ہوا تھا ۔انھوں نے جھٹ ارم کو گود میں لیکر لٹا لیا اور اسکے کانوں کی لوؤں پر دودھ کی دھاریں ڈا لیں ،وہ سکون سے انکی گود میں ہی سوگئی اور وہ کئی گھنٹوں تک گھٹنا ہلائے بغیر بیٹھی رہیں ۔
صبح کی اوس جمع کر کے کانون پر لگائی ۔۔ہومیو پیتھی کی دوائیں کھلائیں ،جب تک اسکے کان ٹھیک نہیں ہوئے بے قرار رہیں ۔
"وہاں کسی کو فکر نہیں تو تم کیوں دبلی ہوئی جاتی ہو  فکریں کر کر کے ؟"
"سبھی بچّے ہیں وہاں بھائیجان کے پاس وقت کہاں ۔۔۔جو یہ سب دیکھیں ۔۔۔کیا ہوا جو میں ۔۔۔۔بن ماں کی بچّی ہے "
بولتے بولتے انکی آنکھیں آنسوں سے بھر جاتیں سر جھک جاتا ۔۔۔۔
"ٹھیک ہے ۔۔کرو خدمتیں ۔۔کوئی ماننے والا نہین ہے وہاں تمہاری بے لوث محبّت کو "
"میں کسی کو منوانے کے لیئے نہیں کرتی یہ تو دل کے رابطے ہیں ۔۔۔"انکی آواز دھیمی ہوتی چلی جاتی ۔
کنگھی کر کے چوٹی گوند دیتیں وہ صاف ستھری ہوکر چمک اٹھتی۔۔۔۔ آ نگن میں لگے بیلے اور موگرے کے پھولوں کو گوندھ کر گجرے بنا لاتی ۔۔۔کبھی انکے بالوں میں اور کبھی ہاتھوں میں پہنا دیتی اور وہ اس خوشبو سے مسحور بیٹھی رہتیں ۔
وقت گزر تا رہا ۔عامر کی تعلیم اب ختم ہوگئی تھی اسنے ایک فلیٹ شہر میں لے لیا تھا اور نوکری کی تگ و دو میں مشغول تھا ۔
چچی جان کی نظر کے زاویئہ بدل گئے تھے وہ ارم کو اپنی بہو بنانے کے خواب دیکھنے لگی  تھیں ۔وہ عامر کا ہر انداز پہچانتی تھیں کہ ارم کو دیکھ کر اسکی انکھون میں جو معصوم سی چمک د ر آتی اسکا کیا مطلب ہے وہ اسکے انداز خوب پہچانتی تھیں ۔اپنے بچّوں میں سب سے ذیادہ پیارا تھا انھیں ۔۔۔
وہ بس عامر کی ملازمت کے انتظار میں تھیں ۔وہ گاؤں میں نہیں رہنا چاہتا تھا ،حالانکہ اب گاؤں پہلے جیسا تاریک نہ رہا تھا ۔ہتھیلیوں سے چراغ ،انگلیوں سے لالٹینیں نکل کر دیواروں پر بلب اور سی ۔ایف ۔ایل بنکر اجالے بکھیر رہے تھے ۔ہاتھوں کے بنے رنگ برنگے پنکھّے اب سیلنگ فین بن گئے تھے ،گھڑونچی کی جگہ اب واٹر کولر اور ایکوا گارڈ نے لے لی تھی بڑی خوبصورت تبدیلی تھی مگر عامر جانتا تھا کہ حالات بدل گئے ہیں اب ملازمت کے بغیر کام نہیں چل سکتا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اور جب انھیں ارم کی شادی کی خبر ملی تو وہ دل پر ہاتھ رکھ کرزمین پر بیٹھتی چلی گئیں ۔ بڑی عجیب ناقابل ِاعتبار بات تھی ۔کہ اسنے خود کسی کو پسند کر لیا اور بھائیوں بہنوں کی مر ضی کے خلاف  نکاح ہو گیا ۔
۔ عامر آکر خاموشی سے انکی مامتا بھری گود میں لیٹ گیا ۔وہ اپنی کانپتی انگلیوں سے اسکی پلکوں سے دکھ چنتی رہیں ۔وہ اسکے غم سے خوب واقف تھیں ۔
اسکے لب خاموش تھے اور انکھیں نو حہ کناں ۔
دکھ اور اذیت کے یہ دوسال بڑی مشکل سے کٹے بیان کر نا بیحد مشکل تھا اور وہ موگرے ،بیلے کے پیڑوں کو پانی دیے جاتیں ۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭
"بھائیجان کو تو برا حال ہوگا ۔۔۔"
وہ پھر حال میں آگئیں ۔۔۔
"برا حال ؟؟؟ خود بلایا ہے انھوں نے ۔۔۔۔دعوت کی ہے داماد کی ۔۔۔جاکے دیکھو کسقدر آؤ بھگت ہو رہی ہے ۔بیٹی داماد کی ۔۔
غصہ میں پانی کا گلاس پٹخا اور چیخ کر بولے ۔
"خود گئے تھے بلانے اس بد ذات وبے حیا کو ۔۔۔۔۔"
"چلیئے ٹھیک ہے اب ۔۔۔شادی ہونی تھی ہوگئی " چچی جان   صلح جو تھیں ۔
"ایسے ہوتی ہیں شادیاں ؟؟؟ بیٹی صاحبہ نے پسند کیا اور آپ نے جاکر نکا ح کروادیا ؟؟ نہ کسی سے رائے نہ مشورہ ۔۔۔خود انکے بڑے صاحب ذادے خلاف ہیں ۔۔گھر نہیں آئے ۔۔۔اچھّا ہے پھوٹ پڑے باپ بیٹے میں " وہ طنزیہ مسکرائے
چچی جان خاموش بیٹھی رضائی کی گوٹ پر انگلیاں پھیرا کیں ۔
عامر کو لڑکیاں دکھا دکھا کر تھک ئیں مگر اسکی ایک نا ۔۔۔ہاں میں نہیں بدلی ۔۔۔وہ سب جانتی تھیں مجبور تھیں ۔۔۔افسردہ تھیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭
شام ہورہی تھی ڈیوڑ ھی میں اندھیرا سا تھا ۔۔تب انھوں نے دو برس کے بعد اسے دیکھا ۔۔۔
وہ سر جھکائے کھڑی تھی ہلکا نیلا سوٹ ہاتھوں میں کانچ کی چوڑیاں ہلکے ہلکے لرز رہی تھیں ۔چچی جان نے گھبرا کر اندر کی طرف نظر کی ۔وہ شاید مطا لعے میں مشغول تھے کمرے کا دروازہ بھڑا ہوا تھا لائٹ جل رہی تھی ۔
دالان میں عامر لیٹا ہوا تھا ۔وہ سلام کر کے خاموش کھڑی رہی ۔انھوں نے بغور اسے دیکھا بہت کمزور نظر آئی اپنے آنسو چھپا کر اسے گلے لگا لیا ۔
پھر اسے وہیں چھوڑ کر جلدی سے باورچی خانے میں گئیں ۔رواج کے مطابق کچھ چیزیں لیکر آئیں اسکا انچل تھام کر ارد کی دال ،چاول ۔ایک بھیلی گڑ اور ایک سو کا نوٹ اسکے پلّو میں ڈالا پھر اپنا کپکپا تا ہوا ہاتھ اسکے  سر پر رکھ کربہت تکلیف سے بولیں ۔۔
"جیتی رہو خوش رہو ۔۔مگر اب یہاں کبھی مت آنا ۔۔۔"
اور دروازہ بند کر دیا ۔
واپس آکر آنگن میں بیٹھ گئیں اور کھر پی لیکر بیلے اور موگرے کے پیڑوں کو بے دردی سے کاٹنے لگیں آنسو بہتے جاتے تھے اور وہ پیڑوں کو گہرائی سے کھودتی جارہی تھیں ۔برامدے میں لیٹے ہوئے عامر نے سارا منظر نم آنکھوں سے دیکھا پھر ننگے پیر چلتے ہوئے آکر ماں کے پاس زمین میں بیٹھ گئے اور انکو ۔۔اپنے بازوں میں لپٹا لیا
۔دروازے کی کنڈی ایک بار پھر کھڑ کی دونوں نے ایک ساتھ ر
اٹھا کر دیکھا ۔ ا ۔چچا باہر سے آرہے تھے انکی باہوں کے گھیرے میں  لپٹی سسکتی  ماہ گل کو دیکھ کر وہ گھبرا کر گھڑی ہوگئیں ۔وہ ہنستے ہوئے بولے ۔" لو دیکھو باہر سے ہی چلی جارہی تھی  میں نہ دیکھتا تو تم سے ملے بنا ہی چلی جاتی ۔لاؤ کچھ چائے ناشتہ کر وائو میری بیٹی اتنے دنوں بعد گھر آئی ہے " وہ اسے لیئے ہوئے تخت پر بیٹھ گئے ۔اور چچی جان کو  ہواس میں واپس آنے میں کافی دیر لگی ۔ 
۔
ختم شد


Friday, March 21, 2014

 "جن سے ملکر زندگی سے عشق ہوجائے وہ لوگ
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں ،مگر ایسے بھی تھے ۔

 مصنٖف مدّبر مفکر مذہبی رہنما ۔مولانا مجتبیٰ علی خاں ایک ایسی باکمال ہستی تھے جو بر سوں میں پیدا ہوتی ہے ۔ مزاح کی حس ان میں بدرجہ اتم مو جود تھی ۔ہر چیز کا مزاق اڑا نا گو یا انکا شیوہ تھا ۔زندگی جن کے تصور سے جلا پاتی تھی
ہائے کیا لوگ تھے جو دام ِ اجل میں آئے ۔                        نام
 لیتے ہی آواز بھرّا نے لگتی ہے ،قلم تھر تھرانے لگتا ہے ۔یہ ایک ایسا نام ہے جو ہر لمحہ دل سے لپٹا ہوا ہے ۔اب تو برس نکل گئے پر لگتا ہے ابھی کی بات ہے ۔"سچ بتایئے کیا ہوا ہے "؟؟
"کیا بتاؤں "؟ ایسے ہی گھومتے گھومتے دل بھر گیا تو پل بھر کو اسپتال میں ٹھہر گیا ۔۔لکھنؤ سنجے گاندھی انسٹی ٹیوٹ والے بھیج رہے ہیں دہلی " وہ ادھر فون پر ہنس رہے تھے ۔۔۔       ۔کھو کھلی ہنسی ۔۔۔۔پھر ایک دن اچانک آگئے ۔
"صحیع صحیع بتایئے ۔۔۔دہلی کیو ں آئے  ہیں ؟؟؟"
"بس یونہی گھومنے۔۔۔۔تجھ سے لڑ نے کا دل چاہ رہا تھا ۔وہ صوفے پر لیٹے گھونٹ گھونٹ پانی پی رہے تھے ۔ ۔۔۔قطب مینار نہیں دیکھا ہے ابھی تک "  وہ میری باتوں کو ایسے ہی اڑا دیا کرتے تھے  میں انکی صورت دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ایکدم کمزور ہوگئے تھے ۔۔۔۔چہرے کی ازلی چمک غائب تھی انکھوں میں ایک انجانی تھکن اتر آئی تھی ۔۔۔۔"ملنے تو آپ خاک آئینگے ۔۔۔بلاتے بلاتے تھک گئی میں ۔۔مگر آپکو فر صت کہاں ۔۔۔"میں چائے کا پانی چڑھا کر واپس کمرے میں آئی ۔۔۔وہ سارے کمرے میں گھوم کر بچّوں کی تصویریں دیکھ رہے تھے ۔
"سارے کے سارے غایب ہیں ۔۔۔۔"؟
"ہاں بھئی دو کو تو انکی گھر داری فر صت نہیں دیتی اور تیسری اپنی ملازمت پر ۔۔۔گاجر کا حلوہ کھائینگے ؟؟"
"ہاں ۔۔۔۔جیو ۔۔"انھوں نے کود کر نعرہ لگایا ۔۔۔مینے باول لاکر رکھّا اور تشتری لینے پھر باورچی خانے چلی گئی ۔ واپس آئی تو وہ صوفے پر آرام سے پالتھی مار کر بیٹھے تھے اور باول سے ہی کھانا شروع کر چکے تھے ۔مجھے دیکھ کر مسکرائے ۔انکی مسکراہٹ جھوٹی تھی ۔۔۔
کیا ہوا ہے ؟؟ بتا تے کیوں نہیں ؟؟"میرے اندر اچا نک خوف امنڈ آیا ۔مینے انکا سر سینے سے لگا لیا ۔۔۔
اور وہ ساکت ہوگئے ۔۔۔وہ روئے نہیں آواز بھاری ہوگئی
"یار ۔۔۔لوگ کہتے ہیں گردہ خراب ہو رہا ہے " انھوں نے سر چھپائے چھپائے جواب دیا ۔
گھبرانے کی بات نہیں ۔۔"  میرا ہاتھ پکڑ کر پاس بٹھا لیا ۔
جلدی سے اٹھکر بیگ کھولا ایک کتاب مجھے دی اور ایک کیسٹ نکالا ۔میری طرف دیکھا میں پھٹی پھٹی نظروں سے انھیں دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
"ارے ٹھیک ہوجاؤنگا ۔۔۔مت گھبراؤ ۔۔۔ٹرانسپلانٹ ہو جائے گا نا ؟؟ بالکل صحیع ہو جاؤنگا ۔۔۔"
"میرا گردہ لے لو بھیّا ۔۔ٹھیک ہوجاؤ ۔۔"میری چیخیں نکلنے لگیں تھیں ۔۔
"ضرورت پڑی تو وہ بھی کرونگا ۔۔اب پلز میری بات تو سنو ۔۔۔دیکھو اس کیسٹ میں کیا ہے ۔۔۔" کمرے میں چاروں طرف نظر دوڑائی اور ایک کونے میں رکھّا ٹیپ ریکارٹر اٹھا لائے ۔کیسٹ لگا دیا کمرے میں ایک غزل کے بول سر سرا نے لگے ۔۔۔آواز میری تھی ۔۔
"یہ کب ٹیپ کی آپ نے ۔۔۔۔"مینے آنسو انھیں کی آستیں سے پونچھے ۔۔
"دیکھا ۔۔۔دیکھا ۔۔۔"وہ خوب خوش ہوئے ۔۔
"یاد نہیں جب دوسال پہلے میرے پاس تھیں تو بچّونکو غزل سنا رہی تھیں مینے ٹیپ کر لی ۔۔۔"وہ اپنے کارنامے پر خوش تھے ۔
غزل ختم ہوئی تو اٹھکر کیسٹ نکالا اور اپنے بیگ میں ڈال لیا ۔۔۔میں پھر رونے لگی ۔۔
"آج مت جاؤ پلیز ۔۔۔۔" مینے لاڈ سے گلے لگ کر کہا ۔۔۔
"جانے دو ۔۔ایک دوست بھی ہے ساتھ ۔۔۔اب تو آتا رہونگا دہلی ۔۔۔چکّر لگتے رہینگے ۔۔۔میرا جانا مشکل مت کرو "
 اپنی ہتھیلیوں سے میرے آنسو صاف کیئے اور بولے
"کھانا وانا نہیں کھلاؤ گی ؟؟'مینے باول پر نظر ڈالی  سارا حلوا ۔ویسا کا ویسا رکّھا تھا ۔۔"کھایا کیو ں نہیں ؟؟'
"بس بھوک نہیں لگتی ۔۔'وہ تھک کر لیٹ گئے ۔کھانے کا اتنا شوقین میرا بھائی ۔۔۔۔ایسی بات کہہ رہا تھا ۔۔میرا دل چاہا اسپر قربان ہو جاؤں ۔
 ۔پھر کچھ دنو ں بعد سنا کہ آپالو میں اڈمیٹ ہیں ۔
فون پر بات بھی ہوئی ۔
"کیا ہو گیا ہے ؟؟؟ کیو ں اسپتال میں ہیں آپ ؟؟"
"یہا ں کے ڈاکٹر بڑے مہر بان ہیں ۔۔اچھا لگتا ہے انکے درمیان رہنا ۔۔۔تم کب آؤگی ملنے ؟؟"
وہ بات کرتے کرتے ہنس رہے تھے یہا ں میری آنکھو ں سے جھڑی لگی تھی ۔
کس قدر ہر دل عزیز تھے ۔۔۔کیرم کھیلتے تو خوب بے ایمانی کرتے اپنی گو ٹیں پار کر دیتے ۔۔۔اور ہم سب چلّا تے رہ جاتے ۔کیرم کے بورڈ پر سجی ہوئی نو گو ٹیں تھے ہم لوگ ۔۔۔وہ تو بہار تھے  گھر کی ۔۔۔۔
چاہے سر دیا ں ہوں یا گر میاں بر سات ہو یا کڑکتی  دھوپ ۔۔۔انکے ساتھ زندگی ہمیشہ سترنگّی رہی ۔۔۔۔
آدھی رات کو اٹھ کر حلوہ کھانے کو دل چاہنے لگتا انکا ۔۔۔۔
چلو اٹھو سب ۔۔حلوہ بناؤ بھکوک لگی ہے ۔
آج میٹھی ٹکیا ں کھا نی ہیں ۔۔۔بھینس کے دودھ کے پتیلے سے ساری بالائی اتار کر پیالہ بھر لیتے ۔۔۔۔اور کسی کو ایک چمچہ نہ کھانے دیتے ۔۔۔بچپن میں تو سب بتاتے ہیں کہ شکّر کے بو رے میں گھس جایا کرتے تھے ۔۔اور بیٹھے شکّر کھا یا کرتے ۔۔۔۔
صبح صبح سبکو اٹھا کر آنگن میں ہی کر کٹ شروع ہو جاتا ۔۔۔
کڑا کے کی سر دی میں لحاف کھینچ کر اٹھا دیتے
"چلو چلو ۔۔۔کھیل شروع ہو گیا ہے ۔۔۔۔"
مجھے لگتا تھا کہ انھیں دیکھے بنا تو سو رج بھی نھیں نکلے گا یکا یک سر سبز و شاداب ہنستا کھیلتا  جسم یو ں اندر سے ایک پرزہ ٹوٹ جانے سے تباہی کی طرف مائل ہوگا   کسی نے سو چا بھی نہ تھا ۔
مگر سو رج تو آج بھی نکلا ہے  دھوپ کڑی ہے ۔
پتہ چلا گر دے خراب ہو گئے ہیں ۔۔سارے بہن بھائی گردہ دینے کے لیئے ٹسٹ کروا رہے ہیں ۔۔۔میچ نہیں مل رہا ۔۔۔
18 برس کا بیٹا سامنے آگیا ۔۔۔
"ڈاکٹر صا حب ۔۔میرا  ٹسٹ کر لیجئے ۔۔۔میرے ابّو کو بچا لیجئے ۔
نرم چہرے پر بیقراری رقم تھی ۔۔۔وہ تو اولاد ہے ۔۔۔یہا ں تو غیر اسپتال کے باہر کھڑے ہیں قطار میں ۔۔۔۔
میں انکے پاس بیٹھی تھی ۔۔آنسو روکنا مشکل تھا ۔۔بے حد کمزور ہوگئے تھے ۔انکی ساری نسیں دکھائی دے رہی تھیں ۔گول طباق سا چہرہ ایکدم پتلا اور کمزور ہوگیا تھا ۔"۔بچّو ں کو بھی لے آتیں ۔۔دیکھ لیتا ۔۔ ہونٹوں پر نرم سی مسکراہٹ تھی  ۔۔۔"ایئنگے نا بچّے ۔۔گر میوں کی چھٹیوں میں آٌپکے پاس ۔۔۔بہت دن رہیئنگے ۔۔"اچھاَ۔۔۔۔"۔
سبکو پو چھ رہے تھے ۔۔۔اپنی کمزور ذرد انگلیوں سے میرے آنسو پو چھ دیے ۔۔
"ابھی۔۔ تو مت روؤ ۔۔۔۔۔۔"میری آنکھیں سو ج رہی ہیں کچھ ٹھیک سے دکھائی بھی نہیں دے رہا ہے ۔انکا ۔کھا نا پینا کم ہو گیا ۔   ۔پو چھا تو بولے ۔۔
"اپنے حصّے کا کھا چکا ہو ں " ہونٹو ں پر پھر بھی مسکرا ہٹ قائم ۔۔۔مینے پلیٹ میں سر جھکا لیا ۔۔لقمہ حلق میں اٹک رہا ہے ۔۔وہ کیسے تھے کیا تھے لکھونگی تو ورق کے ورق سیاہ کر دونگی ۔۔۔اور پھر بھی بات پوری نہ ہوگی ۔۔ایک عالم تھے ۔۔ ۔۔۔سیکڑوں کتابوں کے مصنّف تھے ۔۔کئی اسکول انکی وجہ سے چلتے تھے ۔۔۔
کیا کیا لکھ سکتی ہوں ؟ ۔۔میں صرف جدائی کا لمحہ رقم کرتی ہوں ۔
وہ وقت بھی بیت گیا اور ابھی ایک فون آیا ہے ۔۔۔۔
سب ختم ہو گیا ۔۔۔۔کچھ نہیں بچا ۔
کیرم کا اسٹایئکر گم ہو گیا ۔۔۔سارے کھیل رک گئے ۔۔یہ کسنے میرے پیروں میں انگارے باند دیئے ہیں ۔۔میرے دل کے قریب آگ سلگ رہی ہے ۔۔۔
میرا پیارا میرا لاڈلا بھائی ۔۔۔میرا ماں جایا ۔۔سب کو ہرا تا ہوا سب سے آگے نکل گیا ہے ۔۔۔۔

مگر مجھے لگتا ہے وہ ہر وقت آس  پاس ہیں ۔۔یہیں کہیں ہیں ۔میرے قریب ہیں ۔
ختم شد۔

Wednesday, March 19, 2014

عید ِ سعید 
عید کی ساری شاپنگ بستر پر بکھری پڑی تھی ،عالیہ نے ایک نظر سامنے رکھّے ہوئے بیگس پر ڈالی ابھی تو بہت سارا سامان بیگ میں ہی پڑا تھا ،ڈیکو ریشن پیسز ،کشن کور ،کٹ گلاس کا سامان ۔۔۔اسکے کھلنے کی تو ابھی باری ہی نہیں آئی تھی ۔
وحید کے آنے میں بس اب دو دن ہی باقی تھے وہ چاہتی تھی کہ اسکے آنے سے پہلے سارا گھر سج جائے ،اک نئی تازگی اک نیا احساس  جو وحید کو اسکے  پاس ذیادہ سے ذیادہ  دن گزارنے پر مجبو ر کر دے ۔
اسکے لیئے تو عالیہ سارا عالم خرید لینا چا ہتی تھی ۔کپڑوں کی الماری نیئے ڈیزاین والے منہگے بوتیک سے خریدے ہوئے کپڑے بھر ے پڑے تھے مگر پھر بھی وہ ڈھیر سارے نیئے کپڑے خرید لائی تھی ۔اسٹایئلش جوتے ،برانڈیڈ کمپنیوں سے میک آپ کا سامان اور نہ جانے کیا کیا الم غلّم  ۔۔۔۔۔ اور ابھی بھی دل نہیں بھرا تھا ۔۔۔
دروازے کی گھنٹی بجی تو وہ چونک گئی ۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
"وہ مدرسے والے آئے ہیں چندہ لینے " شبّو نے روبٹّے سے ہاتھ صاف کر تے ہوئے بتا یا ۔
"ارے بھئی کہہ دو گھر پر کوئی نہیں ہے بعد میں آئیں "اسنے جھنجھلا کر کشن دوسری طرف پھینکا ،
اور ڈریسنگ ٹیبل کا سامان سیٹ کر نے لگی ۔۔
بر سات کی شامیں ویسے ہی اداس ہوتی ہیں ۔تیز بارش سے   جل تھل ہورہاتھا ۔ایک سیلی سی ٹھنڈک ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔اسنے باہر آکر گاڑی نکالی ہی تھی کہ سامنے گیٹ کے پاس بیٹھے ہوئے علیم الدین پر نظر گئی ۔وہ بری طرح کھانس رہے تھے ۔عالیہ نے ایک نظر ان پر ڈالی اور گاڑی تیزی سے باہر نکال لے گئی ،علیم الدین اسے دیکھ کر الر ٹ ہوگئے تھے ۔
کافی سامان لیکر جب وہ واپس آئی تو رات کی سیا ہی پھیلنے لگی تھی ۔شبّو لیونگ روم میں کارپٹ پر بیٹھی اونگ رہی تھی ۔اسے دیکھتے ہی ایک دم سے اٹھ کھڑی ہوئی ،
"بی بی جی ! ابّا کی طبیعت بہت خراب ہے "اسکی آواز میں آنسوبول رہے تھے ۔
"ہاں ۔۔تو کسی ڈاکٹر کو دیکھا لینا کل جاکر ۔۔۔۔یہاں کیا ہوسکتا ہے "مگر بی بی جی ۔۔۔پیسے ۔۔۔"اس معصوم کو تو مانگنے کا بھی سلیقہ نہ تھا ۔۔بس بھکاریوں کی طر ح ہاتھ پھیلا دیے ۔
عالیہ نے چند نوٹ اسکے ہاتھوں پر رّکھے اور اپنے بیڈ روم کی طرف بڑھ گئی ۔
اف ۔۔۔۔کیا مصیبت ہے ہر وقت مانگنے کی عادت پڑ گئی ہے ان لوگوں کو "اسنے کوفت سے سر جھٹکا اور اندر جاکر اپنا لایا ہوا سامان سیٹ کر نے بیٹھ گئی ۔
صبح صبح وحید کے آجانے سے گھر میں رونق سی ہوگئی ۔بچّوں نے پورے گھر میں ادھم مچایا ہوا تھا ۔وہ خود بھی      بچو ن کے ساتھ بچّہ بن بیٹھا تھا ۔۔۔ایک خوشگوار سی چہل پہل ہر طرف نظر آرہی تھی ۔
شبو بار بار چائے بنا رہی تھی حالانکہ خود اسکا روزہ تھا مگر مالک لوگوں کو جو بھی چاہیئے وہ اسکی ڈیوٹی میں شامل تھا ۔
ساتھ ہی ساتھ وہ صبح کے لیئے شیر خرمہ اور بر یانی کا مصالحہ بھی بناتی جارہی تھی ۔اسکی آنکھیں متوّرم اور رنگ پیلا پڑ رہا تھا ۔لیکن کسی کے پاس اسکی ادا سی کا سبب جاننے کے لیئے وقت نہیں تھا ۔شام ہوتے ہوتے وحید کے دوستوں سے لیونگ روم بھر چکا تھا ۔علیم الدین گیٹ پر نظر نہیں آرہا تھا ۔اندر چاند رات کی خوشی میں عبادتوں کے بجائے جام چھلک رہے تھے ۔
ہر ایک اپنے آپ میں مگن تھا ۔بلند وبانگ قہقہوں سے سارا گھر گونج رہا تھا ۔
شبّونے کئی بار آکر بات  کرنے کی کوشش کی مگر مایوس ہوکر اپنے کواٹر میں چلی گئی ۔
ایک بار عا لیہ نے وحید سے ہلکی آواز میں بتایا کہ علیم کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ایکبا ر اسے دیکھ لیں مگر وہ اپنے ایک پرانے دوست سے ہاتھ ملاتے ہوئے بولے "ارے ہزار دوہزار دے دو جاکر کسی کو دکھالے ۔۔۔وقت کس کے پاس ہے جانم " اور بے ہنگم ہنسی ہنستے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گئے ۔
٭٭٭٭٭٭
وحید چودھری  اپنے گاؤں سے شہر پڑھنے کے لیئے آئے تھے اسی وقت سے علیم الدین انکی خدمت پر معمور تھے جب وحید نے شادی کی تو گھر میں ایک عورت کام کے لیئے چاہیئے تھی اس لیئے ۔ اسنے اپنی بیوی اور بچی کو بھی یہیں بلا لیا تھا ۔بیوی کے انتقال کے بعد وہ اور بھی اکیلا ہوگیا ۔شبّو اسکی زندگی کا سہارا تھی اور اسکا بھی دنیا میں کوئی نہین تھا ۔بس باپ بیٹی ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی بن گئے ۔
وحید چودھری  اپنی تعلیم ختم کر کے ملک سے باہر چلے گئے تو عا لیہ کے لیئے وقت گزارنا مشکل ہوگیا ایسے میں شبّو نے ان کا بہت ساتھ دیا ۔
٭٭٭٭٭
مگر اسکا ساتھ دینے والا اس وقت کوئی نہ تھا ۔۔وہ اپنے باپ کو قطرہ قطرہ مر تے دیکھ رہی تھی ۔اور ادھر عید کا جشن چل رہا تھا ۔
عید کی صبح آسمان بادلوں سے بھرا تھا ۔پھر زور شور سے بارش شروع ہوگئی ۔اسکے باوجود ہر طرف عید کی نماز کی تیاریاں ہو رہی تھیں ۔لوگ مجمع کی صورت میں مسجد کا رخ کررہے تھے ۔خطبہ شروع ہوچکا تھا ۔
"رمضان کے اس مبارک مہینے میں ہر رات آسمان سے ندا آتی ہے کہ خیر چاہنے والے خوش ہوجا اور برائی کے طالب رک جا اور اپنے نفس کو گناہوں سے باز رکھ ،اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں حضور ِ پاک کے طریقے پر چلنے کی توفیق عطافرما ،عید کی خو شیاں منانے سے پہلے ہم اپنے آس پاس دیکھ لیں کوئی غریب بے سہارا تو نہیں ۔۔۔۔پڑوسی بھوکا تو نہیں ۔۔۔صدقہ فطرہ اور ذکواۃ اسی لیئے عائد کی گئی کہ کوئی مسلمان بھا ئی        کم از کم عید کے دن رنج کی حالت میں نہ رہے ۔"بارش نے زور پکڑ لیا تھا ۔علیم الدین کی سفید جالی دار ٹوپی جو شبّو نے کل دھوکر ڈالی تھی الگنی سے اڑکر کیچڑ میں جا پڑی تھی ۔
علیم الدین نے جب آخری ہچکی لی تو نماز شروع ہوچکی تھی ۔شبّو سرونٹ کواٹر کے دروازے کو تھامے سسکیاں لے رہی تھی ۔مالکوں کو نیند سے جگانے کی ہمّت نہیں تھی اسمیں ۔
وحید چودھری کے گھر والے سکون کی نیند سورہے تھے ۔دوپہر کو اٹھ کر تیّار ہی تو ہونا تھا ۔۔۔۔۔عید کے لیئے ۔
ختم شد
 

Wednesday, February 26, 2014

پکّا۔۔۔۔۔۔
ایک بہت بڑا بر گد کا پیڑ تھا وہاں ۔۔۔۔وہ ایک چھو ٹا سا گاؤں تھا ۔۔۔بہت چھوٹا ایک نقطہ سا ۔۔۔۔جہاں نمک کے سوا کچھ بھی نہیں ملتا تھا ۔۔اناج اور سبزیاں کھیتوں میں اگائی جاتی تھیں ،پانی کوئیں سے  گھڑوں میں بھر کے رکھّا جاتا تھا ۔
وہاں اس بر گد کے نیچے ایک اینٹوں کا چبوترا تھا جسے سیمنٹ لگا کر جوڑ دیا گیا تھا ،اسے گاؤں کے لوگ "پکّا " کہتے تھے ۔
اس پر صبح شام مزدور آکر بیٹھتے تھے اور اکثر بچّے کھیلا   کر تے اور ان بچّوں میں میں بھی شامل تھی ۔
وہیں ایک بزرگ آکر بیٹھتے تھے ۔سارے مزدور اور کاشتکار اپنی مشکلیں انھیں سناتے اور ان سے رائے لیتے ۔۔۔وہ سبکی بپتا سنتے اور اکثر انکا حل بھی بتا دیتے تھے تمام محنت کش اپنی پریشانیاں ،لے
 یہیں چھوڑ کر ہلکے پھلکے ہوکر اپنے اپنے گھر چلے جاتے ۔
وہ سارے لوگ ان بزرگ کو بہت ساری دعائیں دے جاتے تھے ۔
مجھے یہ بھیڑ بھاڑ اچھی نہیں لگتی تھی تو اکثر ان سے پوچھتی "آپ کیوں سنتے ہیں سب کی باتیں ۔۔۔۔؟"
مجھے ملال ہوتا ۔۔۔وہ اتنی دیر تک اس طرح کے لوگوں میں کیوں گھرے رہتے ہیں ۔
"بیٹا ۔۔۔"وہ آہستہ آہستہ مجھے سمجھاتے ۔انکی انگلیوں میں تسبیح کے دانوں کی گر دش رک جاتی ۔۔۔
"وہ لوگ مجھے اپنی الجھنیں پر یشانیاں کچھ دیر کے لئے ہی سہی ۔۔۔دے دیتے ہیں انکا بوجھ چند لمحوں کے لیئے ہی سہی ۔۔۔۔۔کم ہوجاتا ہے ،ان سب کی زندگی کئی امتحانوں سے گزر رہی ہے بیٹی ۔۔۔اگر کچھ دیر کے لئے ہی میں ان کو سکون دے سکوں  تو یہ اللہ کی عنایت ہے مجھ پر ۔۔۔۔"
میں انکے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔تو اک نور کا حالا  انکے چہرے کے آس پاس نظر آرہا تھا ۔۔۔۔اور وہ نور کا حالا دن بدن روشن ہوتا  گیا ۔
اب زندگی انکے بغیر گزار رہی ہوں تب بھی وہ نور کا حالا میرے ارد گرد ہے اور اسی سے زندگی کی ہر جدّوجہد کا سامنا بھی کر رہی ہوں ۔زندگی کے مسائل ۔۔۔حوادث ۔اور جدّوجہد کس کے ساتھ نہیں ہوتے ۔۔وقت کی آندھی سوکھے پتّے کی طرح اڑائے اڑائے پھرتی رہی ۔کبھی پڑھائی کی فکر کبھی نوکری ۔۔اور کبھی اپنی ازواجی زندگی کے اتار چڑھاؤ ۔۔۔یہ کسی ایک کا مسئلہ نہیں عام طور سے سبھی اسی طرح زندگی گزار رہے ہیں ۔
بہر حال میں جس کمپنی میں ہوں وہیں نتا شہ بھی کام کرتی ہے ۔پہلی بار جب مینے اسے دیکھا وہ مجھے اچھّی لگی ۔۔۔ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے ۔۔۔اور دوستی کی ابتدا ہوگئی ۔
دوستی کے لئے تو خیر کوئی جدو جہد نہیں کرنی پڑتی ۔۔۔یہ تو ایک کشش ہے جو آپکو خود بخود کسی ہستی کی طرف مائل کر دیتی ہے ۔۔خیر بات نتا شہ کی ہے ہم آفس میں ایک دوسرے سے ملتے اپنی باتیں اپنی پریشا نیاں بھی شیئر کر نے لگے ۔۔۔
کبھی کافی کبھی لنچ ۔۔ساتھ ہونے لگا ۔مجھے محسوس ہوا کہ آفس کے کافی لوگ اس سے ذیادہ قریب ہیں ۔۔۔وہ ذیادہ خوبصورت تھی سب سے ہنس کر ملتی تھی ۔۔میری طر ح لیئے دیئے نہیں رہتی تھی ۔
یہ شاید جلن کا احساس تھا یا احسا س ِ کمتری ۔۔۔۔میں اس سے دور ہونے لگی ۔میں اس سے بلا وجہ خفا رہنے لگی ۔مگر وہ اسی طرح مخلص مسکرا ہٹیں بکھیرتی میرے کیبن میں آجاتی ۔
کبھی کافی لیکر اور کبھی یونہی ہنستی مسکراتی آکر بیٹھ جاتی ۔
ایک دن میں پھٹ پڑی ۔
"تم اپنے گرد جو میلہ لگائے رکھتی ہو ۔۔مجھے اچھّا نہیں لگتا،تمہاری سیٹ کے پاس مستقل لوگ رہتے ہیں وہ لڑکیاں ہوں یا مرد ۔۔ہر کسی سے ہنس کر بتیں کر تی ہو ۔۔۔ہمارے سماج میں یہ سب اچھّا ہے کیا ۔۔؟  ۔۔بہتر ہوگا کہ ۔۔۔"وہ ہنسنے لگی ۔۔جیسے کوئی بڑا کسی بچّے کی بے تکی بات پر ہنس پڑے ۔۔
"تم کیا سمجھتی ہو۔۔۔۔وہ سب میرے حسن کے قصیدے پڑھنے آتے ہیں ۔۔۔؟وہ جو میرے ارد گرد ہوتے ہیں وہ صرف اپنے مسائل سنانے آجاتے ہیں اور میں صرف انکی باتیں یکسوئی سے سن لیتی ہوں ۔۔۔ورنہ کسکے پاس وقت ہے ؟؟ کہ کسی کی الجھنون کو سنے ؟ مناسب رائے بھی دے دیتی ہوں جو بھی مجھ سے ممکن ہو اس مدد کو بھی تیّار رہتی ہوں ۔۔کچھ دیر کو ہی سہی ۔۔۔انھیں اپنی پریشانیوں دکھوں سے نجات مل جاتی ہے ۔۔۔میری سیٹ کے پاس آکر ہی سہی ۔۔۔"وہ خاموش ہوئی ۔۔۔اور مینے دیکھا ۔۔۔ایک نور کا حالا اسکے چہرے کے چاروں طرف روشن تھا ۔۔۔یہ چمک لحظہ بہ لحظہ بڑھ رہی تھی ۔۔۔
تب مجھے ایک بات سمجھ میں آئی کہ ۔۔۔پکّا  کہیں بھی ہوسکتا ہے ۔۔۔اسکول میں گھر میں ۔۔بر گد کے نیچے یا آفس میں ۔۔۔کہیں بھی ۔۔۔۔۔۔۔!
ختم شد 

Saturday, February 22, 2014

وضع دار
لکھنؤ کے ایک پرانے محّلے میں ہمارے کچھ عزیز رہتے تھے یا رہتے ہیں۔ کیونکہ بقول بشیر بدر
انھیں میری کوئی خبر نہیں مجھے انکا کوئی پتہ نہیں ۔           یہ کا فی پہلے کی بات ہے۔
. اس محّلے میں ایک بہت بڑا  پھا ٹک ہوا کر تا تھا ۔جس کے اوپر   دونوں طرف پتّھر کی بڑی بڑی مچھلیا ں بنی ہوئی تھیں ۔پھا ٹک دونوں طرف نیچے اتنی جگہ بنی ہوئی تھی جیسے کہ چھو ٹے چبو ترے جن پر ہم اور رخسانہ بیٹھ کر گٹّے کھیلتے تھے ۔
پھا ٹک کے اندر سامنے بہت بڑا سا کچّا صحن تھا اور بائیں ہاتھ کی طرف  بہت بڑی صحنچی اور کئی درو ں کے دالان تھے ۔غالباً پہلے یہ کسی نواب کا زنان خانہ رہا ہوگا  اسکی بنا ؤٹ ہی کچھ ایسی تھی ۔اور اس لمبے چوڑے صحن اور صحنچیوں میں پورا محلّہ بسا ہوا تھا ۔۔داہنی جانب ایک راستہ تھا  جس میں دونوں طرف کچھ گھر بنے ہوئے تھے  جو نسبتاً اچھے تھے اور ان گھروں میں متوّسط طبقے کے لوگ رہا کر تے تھے ۔
ان ہی گھرو ں میں ایک گھر عالیہ خالا کا تھا ۔۔۔عالیہ خالا ہماری دور کی رشتہ دار تھیں ۔امّاں کے رشتے کے ما موں یا چچا کی بیٹی ۔۔۔اور اس رشتے سے وہ ہماری خالا ہوئیں ۔۔
ان کا گھر کافی کھلا کھلا سا تھا ۔۔۔خوب بڑا سا  صحن جس میں لال اینٹوں کا فر ش ایک نیچی سی دیوار جس میں داخلی دروازہ ،دوسری طرف دالان اور ایک طرف بڑے بڑے دو کمرے اور باورچی خانہ ۔آنگن کے ایک کونے میں بڑا سا امرود کا پیڑ ،جسپر خوب میٹھے امرود آتے تھے ۔
با ورچی خانے کا فرش سیمنٹ کا بنا ہوا تھا  بے حد چکنا اور صا ف شفّاف ۔وہاں لکڑی کی کئی پیڑھیاں رکھٗی ہوئی تھیں ۔
مجھے آج بھی یاد ہے  کہ مٹّی کے لپے پتے چولھے پر آمنہ خالا  باریک باریک چپا تیاں پکا رہی ہوتیں اور بے تکان  امّا ں سے باتیں کر تیں  ہم دونوں تام چینی کی پھول دار پلیٹوں میں وہیں  پیڑھی پر بیٹھ کر کھا نا کھاتے ۔
ارہر کی اصلی گھی میں بگھری دال اور سفید موتی جیسے چاول ۔۔۔کیا ذایئقہ تھا آمنہ خالا کے ہاتھ میں ۔۔۔اس کے بعد آج تک وہ  ذائقہ نصیب نہ ہوا ۔۔۔
آمنہ خالا اچھی خاصی تندر ست خا تون تھیں  سرخ سفید  رنگ ،ناک کے پاس ایک موٹا سا مّسہ ۔۔بے حد گھنے گھونگر والے بال ،جنہیں وہ ربن میں قید کرتیں اور وہ چہرے پر بکھر بکھر جاتے ۔۔۔
خالو دبلے پتلے اور بے حد مسکین شخصیت تھے وہ اکثر آمنہ خالا سے جڑکیاں کھا یا کرتے مگر خا موش رہتے ۔
اس دن کافی گر می تھی اور لا ئٹ ہمیشہ کی طرح غائب ۔۔۔
رخسانہ اور مٰیں باہر صحن میں کھیل رہے تھے تبھی بڑے زور کی بارش شروع ہوگئی ۔۔۔اس شدید گر می کے بعد بارش خدا کے حسین تحفے کی طرح تھی ہم اس بارش میں خوب بھیگتے رہے ۔۔۔مٹی اور پانی سے کھیل کر ہم دونون بری طرح بھیگ چکے تھے ۔بہت ہی گندے لگ رہے ہونگے جب ہی امّاں بار بار دروازہ کھول کر ہمیں ڈانٹتی رہیں ۔۔مگر کون سنتا ہے ۔۔
شام کا اندھیرا پھیلنے لگا تو دل بری طرح گھبرایا اسی وقت امّاں اور آمنہ خالا گھر سے نکلیں خوب عمدہ کپڑے پہنے ہوئے تھیں شاید وہ کہیں گھومنے جارہی تھیں ۔۔
"ہم بھی جائین گے ۔۔۔"ہم دونوں انکے پیچھے دوڑے ۔۔۔مگر وہ رکشہ میں بیٹھ کر آگے چلی گئیں ۔۔۔ہم بے تہا شہ دوڑ تے رہے  مگر رکشہ اور تیز اور تیز ہوتا گیا ۔۔ہم روتے رہے مگر رکشہ نہیں رکا بس امّاں نے نقاب ہٹا کر ہمیں ڈانٹا
'پہلے کہا کہ نہا کر کپڑے بدل لو ۔۔۔تب نہیں سنا ۔۔۔اب گھر جاؤ واپس ۔۔تمہارے خالو ہیں گھر میں ۔"
رکشہ بہت آگے چلا گیا تو ہم روتے ہوئے گھر لوٹے ۔۔اور بغیر بستر کی چار پائیوں پر لیٹ کر سو گئے ۔
ہم کو زور کا بخار چڑھا تھا ۔کب امّا ں آئیں کب ہمیں اٹھا کر دودھ پلا یا دوا کھلائی ،کچھ یاد نہیں ۔صبح  جاگے تو طبیعت بہتر تھی ۔
ہم لو گوں کو واپس جا نا تھا ۔آمنہ خالا نے دعوت کا  اہتما م کر ڈالا ۔۔۔سارے دن وہ انتظام میں لگی رہیں کئی چیزیں ہمارے ساتھ بھیجنے کے لئے تیّا ر کر تی رہیں نئی نئی فارکیں خرید کر مجھے دیں ۔
رات کے کھانے میں بہت اہتمام کیا ساری دو پہر باورچی خانے میں گزار دی ۔
مو سم نسبتاً بہتر تھا ۔آنگن میں پلنگ بچھے تھے جن پر سفید شفّاف بستر لگے تھے ۔میں اور رخسانہ ایک بستر سے دوسرے پر کود رہے تھے ۔چادر خراب ہونے کی وجہ سے امّاں مستقل ڈانٹ رہی تھیں ۔
آنگن میں بڑی سی ڈائینگ ٹیبل لگا کر کر سیاں لگا دی گئی تھیں ۔سبھی بھائی بہن کرسیوں اور پلنگوں پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے ۔خوب لطیفے سنائے جارہے تھے خوب قہقہے لگ رہے تھے ۔
آج خالو بھی کافی دنوں کے بعد سب کے ساتھ آکر بیٹھے تھے اور امّا ں سے باتیں کر رہے تھے ۔
میں اور رخسانہ بچھڑ نے کے خیال سے گھبرا رہے تھے اور نہ جانے کیا کیا عہدو پیماں کر رہے تھے ۔
عشرت باجی اور رفعت باجی نے کھانا لگا نا شروع کیا تو ہم بھی دوڑ دوڑ کر چمچے اور پلیٹیں لانے لگے ۔
تقریباً سارا کھا نا میز پر لگ چکا تھا ۔آمنہ خالا شاہی ٹکڑے نکال رہی تھیں اور مستقل باتیں کر رہی تھیں ۔تب ہی ایک عجیب واقعہ ہوا ۔
دروازے کی زنجیر کسی نے زور سے کھٹکھٹائی ۔۔افضال بھائی نے آگے  بڑھ کر دروازہ کھولا ۔
ایک صا حب ایکدم سے اندر آگئے ۔لمبا قد گورے چٹّے آدمی تھے عمر میں شاید اقبال بھائی کے برا بر ہی ہونگے ۔یا چند برس بڑے ہوں ۔سفید کر تے پایئجامہ ،اسپر سر مئی رنگ کی کافی قیمتی لیکن میلی سی شیر وانی پہنے ہوئے تھے ۔پیروں میں چمڑے کے بد وضع جوتے تھے جو انکے خوبصورت پیروں سے بالکل میچ نہیں کر رہے تھے ۔
وہ بغیر کسی سے ایک لفظ بھی بولے ہوئے کرسی کھینچ کر بیٹھ گئے اور پلیٹ میں کھا نا نکا لا اور جلدی جلدی کھانے لگے ان کی انگلیاں بے قراری سے کپکپا رہی تھیں ۔
سب لوگ ہکّا بکّا سے کھڑے تھے ۔ان کی شخصیت ایسی تھی  کسی میں بولنے کی ہمّت نہیں تھی کہ ان سے کچھ کہے یا گھر سے نکالے ۔
ایک طرف خالو کھڑے ان کو کھانا کھاتے دیکھ رہے تھے دوسری طرف امّاں مبہوت تھیں انھیں اس وقت پر دے کا بھی خیال نہیں تھا ۔
خالا اپنی دھن میں بولتی ہوئی باورچی خانے سے شاہی ٹکڑے کی قاب لئے چلی آرہی تھیں "اؤی اللہ " کہہ کر وہیں تھم گئیں ۔
کھا نا ختم کر کے ان صا حب نے جگ اپنی طرف کیا اور گلاس میں پانی انڈیلنے لگے ۔اس درمیان انھونے کسی کی طرف نظر نہیں ڈالی ۔
کئی گلا س پانی پی گئے ۔پھر انھوں نے سب کی طرف دیکھا ۔اور خالو کی طرف بڑھ کر انکے قدموں میں بیٹھ گئے ۔خالو گھبرا کر دو قدم پیچھے ہٹے تو انھو نے قدم تھام لئے ۔
اور آنسؤ ں سے بھری آواز میں بولے ۔
آپ چاہیں تو ہمیں سزا دیجئے یا پولیس کے حوالے کر دیجئے ۔یا پھر معاف کر دیجئے ۔۔۔آپ کے سامنے ہیں ،
ہم پانچ دن سے مارے مارے پھر رہے ہیں ،پہلے کچھ بھنے چنے تھے پھر وہ بھی ختم ہوگئے بھوک سے ہمارا برا حال تھا ۔
گدا گری ہمارا پیشہ نہیں اور محنت کرنا ہمیں آتا نہیں ۔۔۔اپنا نام بتا کر اپنے اجداد کی روحوں کو شرمندہ نہیں کر نا چاہتے ،         ہو سکے تو ہماری اس جسا رت کو معاف کر دیجئے ،"
ان کی زبان ان کا لہجہ ان کا انداز ،بے حد  رقت امیز تھا ،،
ہر ایک کی آنکھوں میں آنسو تھے ،امّاں نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ لیا تھا ۔اور چہرہ انسوؤں سے تر تھا ۔
آمنہ خالا کے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔۔خالو نے انھیں شانوں سے تھام کر اٹھایا او کر سی پر بٹھا دیا ۔
ان سے اور کچھ کھانے کی درخواست کی مگر وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور ایکدم ہی باہر نکل گئے ۔۔۔۔اور باہر کے اندھیروں میں گم ہوگئے ۔
سب لوگ چند منٹ تک سنّا ٹے میں گھرے کھڑے رہے ۔کسی کو کھانے کا ہوش نہیں تھا ۔سبھی کے ذہنوں میں معصوم صفت ،غریب لیکن بے حد شریف شخص کے دل پزیر الفاظ  گونج رہے تھے ۔۔۔رات آہستہ آہستہ گزر رہی تھی ۔
آج بھی جب گھر میں دعوت کا اہتمام ہوتا ہے تو میری نظریں اچا نک دروازے کی طرف اٹھ جاتی ہیں ۔۔۔۔۔نہ جانے کیو ں ۔۔۔؟
ختم شد



Thursday, February 13, 2014

نام لیتے ہی آواز بھرّا نے لگتی ہے ،قلم تھر تھرانے لگتا ہے ۔یہ ایک ایسا نام ہے جو ہر لمحہ دل سے لپٹا ہوا ہے ۔اب تو برس نکل گئے پر لگتا ہے ابھی کی بات ہے ۔"سچ بتایئے کیا ہوا ہے "؟؟
"کیا بتاؤں "؟ ایسے ہی گھومتے گھومتے دل بھر گیا تو پل بھر کو اسپتال میں ٹھہر گیا ۔۔لکھنؤ سنجے گاندھی انسٹی ٹیوٹ والے بھیج رہے ہیں دہلی " وہ ادھر فون پر ہنس رہے تھے ۔۔۔       ۔کھو کھلی ہنسی ۔۔۔۔
"صحیع صحیع بتایئے ۔۔۔دہلی کیو ں جارہے ہیں ؟؟؟"
"بس یونہی گھونمے ۔۔۔قطب مینار نہیں دیکھا ہے ابھی تک "وہ میری باتوں کو ایسے ہی اڑا دیا کرتے تھے ۔پھر کچھ دنو ں بعد سنا کہ آپالو میں اڈمیٹ ہیں ۔
فون پر بات بھی ہوئی ۔
"کیا ہو گیا ہے ؟؟؟ کیو ں اسپتال میں ہیں آپ ؟؟"
"یہا ں کے ڈاکٹر بڑے مہر بان ہیں ۔۔اچھا لگتا ہے انکے درمیان رہنا ۔۔۔تم کب آؤگی ملنے ؟؟"
وہ بات کرتے کرتے ہنس رہے تھے یہا ں میری آنکھو ں سے جھڑی لگی تھی ۔
کس قدر ہر دل عزیز تھے ۔۔۔کیرم کھیلتے تو خوب بے ایمانی کرتے اپنی گو ٹیں پار کر دیتے ۔۔۔اور ہم سب چلّا تے رہ جاتے ۔کیرم کے بورڈ پر سجی ہوئی نو گو ٹیں تھے ہم لوگ ۔۔۔وہ تو بہار تھے  گھر کی ۔۔۔۔
چاہے سر دیا ں ہوں یا گر میاں بر سات ہو یا کڑکتی  دھوپ ۔۔۔انکے ساتھ زندگی ہمیشہ سترنگّی رہی ۔۔۔۔
آدھی رات کو اٹھ کر حلوہ کھانے کو دل چاہنے لگتا انکا ۔۔۔۔
چلو اٹھو سب ۔۔حلوہ بناؤ بھکوک لگی ہے ۔
آج میٹھی ٹکیا ں کھا نی ہیں ۔۔۔بھینس کے دودھ کے پتیلے سے ساری بالائی اتار کر پیالہ بھر لیتے ۔۔۔۔اور کسی کو ایک چمچہ نہ کھانے دیتے ۔۔۔بچپن میں تو سب بتاتے ہیں کہ شکّر کے بو رے میں گھس جایا کرتے تھے ۔۔اور بیٹھے شکّر کھا یا کرتے ۔۔۔۔
صبح صبح سبکو اٹھا کر آنگن میں ہی کر کٹ شروع ہو جاتا ۔۔۔
کڑا کے کی سر دی میں لحاف کھینچ کر اٹھا دیتے
"چلو چلو ۔۔۔کھیل شروع ہو گیا ہے ۔۔۔۔"
مجھے لگتا تھا کہ انھیں دیکھے بنا تو سو رج بھی نھیں نکلے گا یکا یک سر سبز و شاداب ہنستا کھیلتا  جسم یو ں اندر سے ایک پرزہ ٹوٹ جانے سے تباہی کی طرف مائل ہوگا   کسی نے سو چا بھی نہ تھا ۔
مگر سو رج تو آج بھی نکلا ہے  دھوپ کڑی ہے ۔
پتہ چلا گر دے خراب ہو گئے ہیں ۔۔سارے بہن بھائی گردہ دینے کے لیئے ٹسٹ کروا رہے ہیں ۔۔۔میچ نہیں مل رہا ۔۔۔
18 برس کا بیٹا سامنے آگیا ۔۔۔
"ڈاکٹر صا حب ۔۔میرا  ٹسٹ کر لیجئے ۔۔۔میرے ابّو کو بچا لیجئے ۔
نرم چہرے پر بیقراری رقم تھی ۔۔۔وہ تو اولاد ہے ۔۔۔یہا ں تو غیر اسپتال کے باہر کھڑے ہیں قطار میں ۔۔۔۔
میں انکے پاس بیٹھی تھی ۔۔آنسو روکنا مشکل تھا ۔۔بے حد کمزور ہوگئے تھے ۔انکی ساری نسیں دکھائی دے رہی تھیں ۔گول طباق سا چہرہ ایکدم پتلا اور کمزور ہوگیا تھا ۔۔۔مگر پھر بھی ہو نٹو ں پر نر م سی مسکرا ہٹ تھی ۔۔بچّو ں کو بھی لے آتیں ۔۔دیکھ لیتا ۔۔"
سبکو پو چھ رہے تھے ۔۔۔اپنی کمزور ذرد انگلیوں سے میرے آنسو پو چھ دیے ۔۔
"ابھی۔۔ تو مت روؤ ۔۔۔۔۔۔"میری آنکھیں سو ج رہی ہیں کچھ ٹھیک سے دکھائی بھی نہیں دے رہا ہے ۔انکا ۔کھا نا پینا کم ہو گیا ۔   ۔پو چھا تو بولے ۔۔
"اپنے حصّے کا کھا چکا ہو ں " ہونٹو ں پر پھر بھی مسکرا ہٹ قائم ۔۔۔مینے پلیٹ میں سر جھکا لیا ۔۔لقمہ حلق میں اٹک رہا ہے ۔۔وہ کیسے تھے کیا تھے لکھونگی تو ورق کے ورق سیاہ کر دونگی ۔۔۔اور پھر بھی بات پوری نہ ہوگی ۔۔ایک عالم تھے ۔۔ ۔۔۔سیکڑوں کتابوں کے مصنّف تھے ۔۔کئی اسکول انکی وجہ سے چلتے تھے ۔۔۔
کیا کیا لکھ سکتی ہوں ؟ ۔۔میں صرف جدائی کا لمحہ رقم کرتی ہوں ۔
وہ وقت بھی بیت گیا اور ابھی ایک فون آیا ہے ۔۔۔۔
سب ختم ہو گیا ۔۔۔۔کچھ نہیں بچا ۔
کیرم کا اسٹایئکر گم ہو گیا ۔۔۔سارے کھیل رک گئے ۔۔یہ کسنے میرے پیروں میں انگارے باند دیئے ہیں ۔۔میرے دل کے قریب آگ سلگ رہی ہے ۔۔۔
میرا پیارا میرا لاڈلا بھائی ۔۔۔میرا ماں جایا ۔۔سب کو ہرا تا ہوا سب سے آگے نکل گیا ہے ۔۔۔۔

مگر مجھے لگتا ہے وہ ہر وقت آس  پاس ہیں ۔۔یہیں کہیں ہیں ۔میرے قریب ہیں ۔
ختم شد 

Sunday, February 9, 2014

بازیچہ اطفال ہے۔

ہل من ناصراً

        "پگلا گئے ہو کا تیواری ۔۔۔۔بھیا صا حب بے چا رے سے کا مطلب ؟ او کونو بات ما دخل نہیں دیت ہیں ۔ای سب کیا دھرا تو چھو ٹے با بو      صا حب کا ہے ،ان ہی کے ایماء پر ای سب جنے شیر ہو ئی گئے ہیں "سکھ رام نے انگو چھا جھاڑ کر کا ندھے پر ڈالا اور مو نڈھا کھینچ کر تیو اری کی کر سی کے پاس لا کر بیٹھ گئے ۔
"ارے بھا ئی  ہیا ں کبّؤ کو نو فرق  نا ہی رکھا گوا ہے ۔۔۔۔کو نو جات برادری ما ۔۔۔۔بھیا صا حب سب کے گھر جات ہیں سب سے ملت ہیں اور تو اور سبکا اپنے گھر بلا وت ہیں ۔ای جھگڑا لپّا  ان کا کام  نا ہے ارے بھا ئی ہمارے بھیا صا حب تو دیوتا ہیں ۔۔۔۔دیوتا "
"مگر یار یہ تو بتاؤ یہ سب ہوا کیسے ۔۔۔۔۔؟ہر سال تعزیے اٹھتے ہیں ہر سال محّر م منا یا جا تا ہے پورا گا ؤں مل جل کر سب کام کر تا ہے پھر آخر ۔۔؟"
"اب تم کا کا بتا ئی ۔۔۔۔۔بھیاّ صا حب کے ابّا جون رہے انکے جما نے سے سب کے تعزیہ  انکے امام با رے ما رکھّے جات رہے ۔۔نو محر م کا سب جنے اپنا اپنا چوک بنائے کے تعزیہ لیجات رہیں مگر دس محرم کا سب جنے ایک ساتھ اٹھاوت رہے ۔۔سب سے آگے بڑے بھیا صاحب کا تعزیہ ،اور اوکے پیچھے چھو ٹے بھیا صا حب اور پھر گا ؤں والن کے ۔۔۔۔۔۔کبھی کو نو بات نہ بھئی  تا جیہ چا ہے چھو ٹا ہو ئے چاہے بڑا  ۔۔۔۔ہے تو امام صا حب کا ؟؟ مگر اب جما نہ تون بدل گوا ہے  گا ؤ ں کے پا سی چمار ۔۔۔نا ئی دھو بی  سب منھ کا آوے لگے ہیں ۔"
"یار میں یہ پو چھ رہا ہو ں کہ انکے آپس کا کیا معا ملہ ہے ۔۔"تیواری نے بات کاٹ کر پو چھا ۔۔۔۔
"دیکھو بھا ئی ہمکا جیادہ تو معلوم نہیں  بڑے بھیّا صا حب اپنے چھو ٹے بھا ئی سے پہلن سے الگ رہت رہیں ۔۔مکد مہ چلت رہا جا یئداد کا ۔۔۔۔سامنے کچھ بات نا ہی لاوت رہیں وجہ دار آدمی رہیں ۔اب او تو گئے مر ۔۔۔۔۔ای لڑ کے لو گ ہیں کھون گرم ہے ۔۔بات بے بات لڑائی جھگڑا ۔۔۔۔
تیو اری ای سب چھو ڑو جاؤ بھیا صا حب سے پو چھو او سب قصہ بتا ئے دیہں ۔۔۔بہت عمدہ آدمی ہیں "
تیواری نیا نیا تھا نے میں تعا ئنات ہو کر آیا تھا ۔اتفاق سے سکھ رام اسکا ما موں ذاد بھائی بھی اسی گاؤ ں میں رہتا تھا ۔تیواری گا ؤں اور یہا ں کی سیا ست سے نا واقف تھا  اسکو سکھ رام سے کافی مدد ملی ۔۔اور محرم میں اچانک گڑ بڑ کا احساس ہو تے ہی اسنے سارے عملے کو چو کس کیا ۔۔۔اور جلوس میں پہو نچ گیا ۔۔۔۔
اس وقت تو بات بن گئی ۔۔۔مگر انگاروں پر راکھ پڑ جائے تب بھی وہ اندر ہی اندر دھکتے رہتے ہیں ،ذرا سی ہو ا چلتی اور نا جانے کتنے گھر        خا کستر ہو جاتے ۔اسی لیئے تیواری گا ؤں کے پرا نے لو گو ں سے ملتا رہا اور سا رے معاملات سمجھنے کی کو شش کر تا رہا ۔
درگا پر شاد گا ؤں کا مکھیا ہو نے کے ساتھ ساتھ اکھا ڑے کا ما سٹر بھی تھا ۔۔۔اسکی دھاک جمی ہو ئی تھی  ۔بھیّا صا حب سے بھی بہت دو ستی تھی مگر بات ہی کچھ ایسی تھی کہ وہ جذباتی ہو گیا ۔
ہوا یہ کہ جب پانچ محّر م کو علم کا پھریرا  کھیت کے کنارے لگے ہوئے ببول کی شاخ میں الجھا  تو کئی جگہ سے مسک گیا ۔۔اور بھیّا صا حب نے اسی وقت ببول کٹوا دیا ۔وہ پیڑ کافی پھیل چکا تھا اور ابھی کئی جلوس نکلنا باقی تھے ۔۔
وہ کھیت درگا پر شاد کا تھا اور اسنے حفاظت کے لیئے ببول لگا رکھّے تھے ۔لیکن اگر اس جگہ وہ ہو تا تو وہ بھی یہی کر تا جو بھیّا صا حب نے کیا ۔
مگر وہ تو تھانہیں اور  چھو ٹے با بو صا حب نے جسطرح یہ واقعہ بیان کیا ،وہ بپھر گیا ۔۔
"بھیا صا حب کی نظر میں ہندو ں کی کو ئی وقعت تو ہے نہیں  ۔۔آج تمہا را ببو ل کٹوا یا ہے  کل با غ کو آگ لگوا دینگے  ۔۔۔ہم تو جانتے ہیں نا انکو َ۔۔۔۔
ارے درگا ۔۔۔کیو ں بز دلی دکھا رہے ہو ۔۔؟ مٹھی بھر مسلمان ہیں اس گا ؤں میں ۔اس علاقے میں تم ہی سب سے زیادہ طا قت ور ہو ۔پوج لو ۔۔۔ دکھا دواپنی طاقت ۔۔۔تا کہ آیئندہ ایسا ویسا کچھ نہ ہو سکے ۔۔۔"
"مگر چھو ٹے با بو صا حب ۔۔۔۔"وہ ہچکچا یا
"دیکھو بھئی ہم تو تمہا ری طرف ہی ہیں  اب تم اپنے آدمیو ں سے بات کرو ۔۔جو منا سب سمجھو وہ کرو ۔۔۔ہمیں کو ئی ضرورت نہیں تمہا رے معا ملات میں دخل دینے کی ۔۔۔تم خود سمجھدار ہو  بھئی ۔۔۔۔
اتنا بڑا تعزیہ رکھتے ہو ۔۔۔پھر بھی پیچھے پیچھے چلنا پڑتا ہے ۔با جے پر پیسہ خرچ کر تے ہو اتنے سا رے لو گو ں کو کھا نا بھی کھلوا تے ہو ۔۔۔پھر بھی ان کے برا بر نہیں ۔۔۔جب چا ہیں تمہا رے پیڑ کٹوا دیں ۔۔۔تمہا رے کھیت اجڑوا دیں یا تمہارا با غ پھنکوا دیں ۔۔۔"
 وہ آگ لگا کر اٹھے اور زنان خانے میں چلے گئے ۔۔
درگا پر شاد  تھو ڑی دیر بیٹھا ان کی سا ری باتو ں پر غور کر تا رہا ۔۔اسکے اندر شعلے بھڑکنے لگے ۔۔۔وہ یہ بھی بھو ل گیا کہ اسکی ماں نے شادی کے سات برس بچّے کی آس میں کاٹ دیے تھے اور پھر نو محرّم کو امام بارگاہ کے سامنے رو روکر اسے مانگا تھا ۔
اور جب وہ گو د میں آیا تو سب سے پہلے وہا ں لیکر آئی تھیں ۔وہ دونوں میا ں بیو ی ساری رات امام بارگاہ کے صحن میں بیٹھے شکر ادا کرتے رہے تھے ۔وہ سب کچھ بھول گیا ۔۔
کتنی بار بھیّا صاحب اسکو اپنے گلے سے لگا چکے تھے ۔۔۔وہ ہندو تھا مگر بھیّا صاحب کے ساتھ بیٹھ کر کھا نا کھا چکا تھا ۔
وہ یہ بھی بھول گیا اسکے پتا جی محرم کے تعزیے کس اہتمام سے اٹھوا یا کرتے تھے ۔
عشرے کے دن سہ پہر تک وہ بھی انکے ساتھ بھوکا پیا سا رہتا تھا ۔۔۔وہ سب بھول گیا ۔نفرت  غالب آ گئی ،سیا ست اپنا کام کر گئی ۔
چھو ٹے با بو تو اپنے ہر کاروں کو سارا کام سمجھا کر نو محرم ہی کو فیض آباد  نکل گئے ۔
وہ صبح بہت اداس تھی ،درگا پر شاد اپنے آدمیو ں سے کئی بار میٹنگ کر چکا تھا ۔۔۔ہتھیار لبا سو ں ۔اور تا زیہ کے نیچے لگی ہو ئی چا در میں چھپائے گئے تھے ۔۔وقتِ ضرورت نکا لے جا سکتے تھے ۔۔
اک سرد سی خا مو شی ہر طرف سنائی دے رہی تھی ۔
گیا رہ بجتے بجتے بھیّا صا حب نے جلو س اٹھوا دیا ۔سب سے پہلے علم امام بارگاہ سے باہر آیا ۔۔۔پھر اور سارے تبرّکات ایک کے بعد ایک اٹھا ئے گئے اور پھر تعزیہ نمو دار ہوا ۔۔۔۔جلو س    کر بلا کی سمت روانہ ہوا ۔۔۔
"آج شبّیر پہ کیا عالمِ تنہائی ہے
ظلم کی چاند پہ زہرا کے گھٹا چھا ئی ہے "
مخصوص مر ثیہ کی آواز نے فضا کو اور سو گوار کیا ۔۔
دوسری طرف درگا پرشاد کے سا رے آدمی تیّا ر تھے ،آج اسکے دل میں عقیدت کا کو ئی جزبہ نہ تھا ۔۔۔اگر تھا تو صرف نفرت اور انتقام کا جزبہ ۔۔۔
اچا نک دروازے کے باہر کو ئی بھا گتا ہو ا آتا دکھائی دیا ۔۔۔سا منے کچّی زمین پر دھو ل اڑ رہی تھی ۔۔۔دھول چھٹی تو درگا پرشاد کی نظر اس بچّے پر پڑی جسکا چہرہ جزبات کی شدّت سے سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔۔وہ را حیل تھا ،بھیا صا حب کا سب سے چھو ٹا بیٹا ۔

"درگا چچا ۔۔۔۔انسے پھو لتی سا نسوں کو سمیٹا۔۔۔اور پھر بو لا ۔۔
"درگا چچا ۔۔۔۔امی جان بتا رہی تھیں کہ آپ لڑائی کر نے جا رہے ہیں ؟ ۔۔۔آپ سب کو مار دینگے ۔۔۔"اسنے کر تے کی آستین سے انکھیں صاف کیں ۔۔
"آپکو پتہ ہے ؟ جب کر بلا کے میدان میں امام حسین (علیہ السلام ) اکیلے رہ گئے تھے ۔۔تو ایک چھو ٹا سا بچّہ انکی مدد کر نے آیا تھا ۔۔۔اور جب اسنے اپنے دو نو ں ہاتھ اٹھائے تو دشمنو ں نے اسکی کلا ئیا ں کاٹ دی تھیں ۔۔۔۔مگر لڑائی بند نہیں ہوئی تھی ۔۔۔مگر آج آپ یہ لڑائی بند کر دیجئے ۔"اسنے اپنے دونو ں چھو ٹے چھو ٹے ہا تھ آگے بڑھائے ۔۔۔اور بو لا ۔۔"لیجئے آپ بھی میر ی کلا یئاں کاٹ دیجے ۔۔۔۔۔مگر لڑائی بند کر دیجے ۔۔۔۔چا چی جی بھی امّی کے ساتھ فر یادی ماتم کر ہی ہیں امام باڑے میں ۔۔۔۔۔"وہ بولتے بولتے تھک کر چپ ہو ا اور منّت بھر ی نگا ہو ں سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔
باہر سے اندر کی طرف آتے ہوئے تیواری نے اسے گود میں لینا چا ہا ۔۔۔جبتک درگا پرشاد نے بڑھ کر پہلے اسکے کالے کر تے کی آستینیں برا بر کیں اور پھر اسے گو د میں لیکر زور سے بو لا ۔۔۔
"چلو ۔۔۔اٹھاؤ جلوس ۔۔۔۔پیچھے رہنا  خبر دار کوئی آگے نہ نکلے ۔۔۔۔"اپنا جزبات سے دہکتا چہرا اور آنسو را حیل کے با لو ں میں چھپا کر وہ خود بھی آگے بڑھ آیا ۔۔۔
باجے والے آگے  پھر ما تم کر تی انجمن  اسکے پیچھے گا ؤ ں کے سارے تعزیے ۔۔۔اور آخیر میں درگا پرشا د آہستہ آہستہ گا ؤ ں سے نکالا اور    کر بلا کی جانب چل پڑا
نہر پر ہمیشہ کی طرح سب ایک ساتھ چلتے ہو ئے پہونچے ۔۔۔
جلوس خیریت سے کر بلا پہونچا ۔۔۔
تعزیے دفن ہوئے ۔۔۔مٹی ہو گئی
شام ہو نے لگی تھی  ایک وحشت ناک سنّا ٹے نے سبکو اپنی گر فت میں لیا ہو اتھا ،
دھول کے بگو لے ادھر ادھر گھوم رہے تھے ،نہر کا پانی اداسی سے بہہ رہا تھا ۔۔۔
لوگ ٹکڑیوں میں واپس جارہے تھے ۔۔۔بھیّا        صا حب نے جاتے جاتے مڑ کر دیکھا ۔۔۔درگا پرشاد سر جھکائے ہوئےمنڈیرپر بیٹھا تھا ۔۔
بھیا صا حب واپس پلٹے اور   اسکے کا ندھے پر ہاتھ رکھّا اور اپنی نرم آواز میں بولے
"چلو درگا ۔۔۔امّاں فا قہ شکنی کے لیئے  انتظار کر تی ہونگی ۔"
ختم شد
"