"جن سے ملکر زندگی سے عشق
ہوجائے وہ لوگ
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں ،مگر ایسے بھی تھے ۔
مصنٖف مدّبر مفکر مذہبی رہنما ۔مولانا مجتبیٰ علی خاں ایک ایسی باکمال ہستی تھے جو بر سوں میں پیدا ہوتی ہے ۔ مزاح کی حس ان میں بدرجہ اتم مو جود تھی ۔ہر چیز کا مزاق اڑا نا گو یا انکا شیوہ تھا ۔زندگی جن کے تصور سے جلا پاتی تھی
ہائے کیا لوگ تھے جو دام ِ اجل میں آئے ۔ نام
مصنٖف مدّبر مفکر مذہبی رہنما ۔مولانا مجتبیٰ علی خاں ایک ایسی باکمال ہستی تھے جو بر سوں میں پیدا ہوتی ہے ۔ مزاح کی حس ان میں بدرجہ اتم مو جود تھی ۔ہر چیز کا مزاق اڑا نا گو یا انکا شیوہ تھا ۔زندگی جن کے تصور سے جلا پاتی تھی
ہائے کیا لوگ تھے جو دام ِ اجل میں آئے ۔ نام
لیتے ہی
آواز بھرّا نے لگتی ہے ،قلم تھر تھرانے لگتا ہے ۔یہ ایک ایسا نام ہے جو ہر لمحہ دل
سے لپٹا ہوا ہے ۔اب تو برس نکل گئے پر لگتا ہے ابھی کی بات ہے ۔"سچ بتایئے
کیا ہوا ہے "؟؟
"کیا بتاؤں "؟ ایسے ہی گھومتے گھومتے دل بھر گیا تو پل بھر کو اسپتال میں ٹھہر گیا ۔۔لکھنؤ سنجے گاندھی انسٹی ٹیوٹ والے بھیج رہے ہیں دہلی " وہ ادھر فون پر ہنس رہے تھے ۔۔۔ ۔کھو کھلی ہنسی ۔۔۔۔پھر ایک دن اچانک آگئے ۔
"صحیع صحیع بتایئے ۔۔۔دہلی کیو ں آئے ہیں ؟؟؟"
"کیا بتاؤں "؟ ایسے ہی گھومتے گھومتے دل بھر گیا تو پل بھر کو اسپتال میں ٹھہر گیا ۔۔لکھنؤ سنجے گاندھی انسٹی ٹیوٹ والے بھیج رہے ہیں دہلی " وہ ادھر فون پر ہنس رہے تھے ۔۔۔ ۔کھو کھلی ہنسی ۔۔۔۔پھر ایک دن اچانک آگئے ۔
"صحیع صحیع بتایئے ۔۔۔دہلی کیو ں آئے ہیں ؟؟؟"
"بس یونہی گھومنے۔۔۔۔تجھ سے لڑ نے کا دل
چاہ رہا تھا ۔وہ صوفے پر لیٹے گھونٹ گھونٹ پانی پی رہے تھے ۔ ۔۔۔قطب مینار نہیں
دیکھا ہے ابھی تک " وہ میری باتوں کو
ایسے ہی اڑا دیا کرتے تھے میں انکی صورت
دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ایکدم کمزور ہوگئے تھے ۔۔۔۔چہرے کی ازلی چمک غائب تھی انکھوں میں
ایک انجانی تھکن اتر آئی تھی ۔۔۔۔"ملنے تو آپ خاک آئینگے ۔۔۔بلاتے بلاتے تھک
گئی میں ۔۔مگر آپکو فر صت کہاں ۔۔۔"میں چائے کا پانی چڑھا کر واپس کمرے میں
آئی ۔۔۔وہ سارے کمرے میں گھوم کر بچّوں کی تصویریں دیکھ رہے تھے ۔
"سارے کے سارے غایب ہیں ۔۔۔۔"؟
"ہاں بھئی دو کو تو انکی گھر داری فر صت نہیں دیتی اور تیسری اپنی ملازمت پر ۔۔۔گاجر کا حلوہ کھائینگے ؟؟"
"ہاں بھئی دو کو تو انکی گھر داری فر صت نہیں دیتی اور تیسری اپنی ملازمت پر ۔۔۔گاجر کا حلوہ کھائینگے ؟؟"
"ہاں ۔۔۔۔جیو ۔۔"انھوں نے کود کر نعرہ
لگایا ۔۔۔مینے باول لاکر رکھّا اور تشتری لینے پھر باورچی خانے چلی گئی ۔ واپس آئی
تو وہ صوفے پر آرام سے پالتھی مار کر بیٹھے تھے اور باول سے ہی کھانا شروع کر چکے
تھے ۔مجھے دیکھ کر مسکرائے ۔انکی مسکراہٹ جھوٹی تھی ۔۔۔
کیا ہوا ہے ؟؟ بتا تے کیوں نہیں ؟؟"میرے
اندر اچا نک خوف امنڈ آیا ۔مینے انکا سر سینے سے لگا لیا ۔۔۔
اور وہ ساکت ہوگئے ۔۔۔وہ روئے نہیں آواز بھاری
ہوگئی
"یار ۔۔۔لوگ کہتے ہیں گردہ خراب ہو رہا ہے
" انھوں نے سر چھپائے چھپائے جواب دیا ۔
گھبرانے کی بات نہیں ۔۔" میرا ہاتھ پکڑ کر پاس بٹھا لیا ۔
جلدی سے اٹھکر بیگ کھولا ایک کتاب مجھے دی اور
ایک کیسٹ نکالا ۔میری طرف دیکھا میں پھٹی پھٹی نظروں سے انھیں دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
"ارے ٹھیک ہوجاؤنگا ۔۔۔مت گھبراؤ
۔۔۔ٹرانسپلانٹ ہو جائے گا نا ؟؟ بالکل صحیع ہو جاؤنگا ۔۔۔"
"میرا گردہ لے لو بھیّا ۔۔ٹھیک ہوجاؤ
۔۔"میری چیخیں نکلنے لگیں تھیں ۔۔
"ضرورت پڑی تو وہ بھی کرونگا ۔۔اب پلز میری
بات تو سنو ۔۔۔دیکھو اس کیسٹ میں کیا ہے ۔۔۔" کمرے میں چاروں طرف نظر دوڑائی
اور ایک کونے میں رکھّا ٹیپ ریکارٹر اٹھا لائے ۔کیسٹ لگا دیا کمرے میں ایک غزل کے
بول سر سرا نے لگے ۔۔۔آواز میری تھی ۔۔
"یہ کب ٹیپ کی آپ نے ۔۔۔۔"مینے آنسو انھیں کی آستیں سے پونچھے ۔۔
"یہ کب ٹیپ کی آپ نے ۔۔۔۔"مینے آنسو انھیں کی آستیں سے پونچھے ۔۔
"دیکھا ۔۔۔دیکھا ۔۔۔"وہ خوب خوش ہوئے
۔۔
"یاد نہیں جب دوسال پہلے میرے پاس تھیں تو
بچّونکو غزل سنا رہی تھیں مینے ٹیپ کر لی ۔۔۔"وہ اپنے کارنامے پر خوش تھے ۔
غزل ختم ہوئی تو اٹھکر کیسٹ نکالا اور اپنے بیگ
میں ڈال لیا ۔۔۔میں پھر رونے لگی ۔۔
"آج مت جاؤ پلیز ۔۔۔۔" مینے لاڈ سے
گلے لگ کر کہا ۔۔۔
"جانے دو ۔۔ایک دوست بھی ہے ساتھ ۔۔۔اب تو
آتا رہونگا دہلی ۔۔۔چکّر لگتے رہینگے ۔۔۔میرا جانا مشکل مت کرو "
اپنی
ہتھیلیوں سے میرے آنسو صاف کیئے اور بولے
"کھانا وانا نہیں کھلاؤ گی ؟؟'مینے باول پر
نظر ڈالی سارا حلوا ۔ویسا کا ویسا رکّھا
تھا ۔۔"کھایا کیو ں نہیں ؟؟'
"بس بھوک نہیں لگتی ۔۔'وہ تھک کر لیٹ گئے
۔کھانے کا اتنا شوقین میرا بھائی ۔۔۔۔ایسی بات کہہ رہا تھا ۔۔میرا دل چاہا اسپر
قربان ہو جاؤں ۔
۔پھر
کچھ دنو ں بعد سنا کہ آپالو میں اڈمیٹ ہیں ۔
فون پر بات بھی ہوئی ۔
"کیا ہو گیا ہے ؟؟؟ کیو ں اسپتال میں ہیں
آپ ؟؟"
"یہا ں کے ڈاکٹر بڑے مہر بان ہیں ۔۔اچھا
لگتا ہے انکے درمیان رہنا ۔۔۔تم کب آؤگی ملنے ؟؟"
وہ بات کرتے کرتے ہنس رہے تھے یہا ں میری آنکھو
ں سے جھڑی لگی تھی ۔
کس قدر ہر دل عزیز تھے ۔۔۔کیرم کھیلتے تو خوب بے
ایمانی کرتے اپنی گو ٹیں پار کر دیتے ۔۔۔اور ہم سب چلّا تے رہ جاتے ۔کیرم کے بورڈ
پر سجی ہوئی نو گو ٹیں تھے ہم لوگ ۔۔۔وہ تو بہار تھے گھر کی ۔۔۔۔
چاہے سر دیا ں ہوں یا گر میاں بر سات ہو یا
کڑکتی دھوپ ۔۔۔انکے ساتھ زندگی ہمیشہ
سترنگّی رہی ۔۔۔۔
آدھی رات کو اٹھ کر حلوہ کھانے کو دل چاہنے لگتا انکا ۔۔۔۔
آدھی رات کو اٹھ کر حلوہ کھانے کو دل چاہنے لگتا انکا ۔۔۔۔
چلو اٹھو سب ۔۔حلوہ بناؤ بھکوک لگی ہے ۔
آج میٹھی ٹکیا ں کھا نی ہیں ۔۔۔بھینس کے دودھ کے
پتیلے سے ساری بالائی اتار کر پیالہ بھر لیتے ۔۔۔۔اور کسی کو ایک چمچہ نہ کھانے
دیتے ۔۔۔بچپن میں تو سب بتاتے ہیں کہ شکّر کے بو رے میں گھس جایا کرتے تھے ۔۔اور
بیٹھے شکّر کھا یا کرتے ۔۔۔۔
صبح صبح سبکو اٹھا کر آنگن میں ہی کر کٹ شروع ہو
جاتا ۔۔۔
کڑا کے کی سر دی میں لحاف کھینچ کر اٹھا دیتے
"چلو چلو ۔۔۔کھیل شروع ہو گیا ہے
۔۔۔۔"
مجھے لگتا تھا کہ انھیں دیکھے بنا تو سو رج بھی
نھیں نکلے گا یکا یک سر سبز و شاداب ہنستا کھیلتا
جسم یو ں اندر سے ایک پرزہ ٹوٹ جانے سے تباہی کی طرف مائل ہوگا کسی نے سو چا بھی نہ تھا ۔
مگر سو رج تو آج بھی نکلا ہے دھوپ کڑی ہے ۔
پتہ چلا گر دے خراب ہو گئے ہیں ۔۔سارے بہن بھائی
گردہ دینے کے لیئے ٹسٹ کروا رہے ہیں ۔۔۔میچ نہیں مل رہا ۔۔۔
18 برس کا بیٹا سامنے آگیا ۔۔۔
"ڈاکٹر صا حب ۔۔میرا ٹسٹ کر لیجئے ۔۔۔میرے ابّو کو بچا لیجئے ۔
نرم چہرے پر بیقراری رقم تھی ۔۔۔وہ تو اولاد ہے
۔۔۔یہا ں تو غیر اسپتال کے باہر کھڑے ہیں قطار میں ۔۔۔۔
میں انکے پاس بیٹھی تھی ۔۔آنسو روکنا مشکل تھا
۔۔بے حد کمزور ہوگئے تھے ۔انکی ساری نسیں دکھائی دے رہی تھیں ۔گول طباق سا چہرہ
ایکدم پتلا اور کمزور ہوگیا تھا ۔"۔بچّو ں کو بھی لے آتیں ۔۔دیکھ لیتا ۔۔
ہونٹوں پر نرم سی مسکراہٹ تھی
۔۔۔"ایئنگے نا بچّے ۔۔گر میوں کی چھٹیوں میں آٌپکے پاس ۔۔۔بہت دن
رہیئنگے ۔۔"اچھاَ۔۔۔۔"۔
سبکو پو چھ رہے تھے ۔۔۔اپنی کمزور ذرد انگلیوں
سے میرے آنسو پو چھ دیے ۔۔
"ابھی۔۔ تو مت روؤ ۔۔۔۔۔۔"میری آنکھیں
سو ج رہی ہیں کچھ ٹھیک سے دکھائی بھی نہیں دے رہا ہے ۔انکا ۔کھا نا پینا کم ہو گیا
۔ ۔پو چھا تو بولے ۔۔
"اپنے حصّے کا کھا چکا ہو ں " ہونٹو ں
پر پھر بھی مسکرا ہٹ قائم ۔۔۔مینے پلیٹ میں سر جھکا لیا ۔۔لقمہ حلق میں اٹک رہا ہے
۔۔وہ کیسے تھے کیا تھے لکھونگی تو ورق کے ورق سیاہ کر دونگی ۔۔۔اور پھر بھی بات پوری
نہ ہوگی ۔۔ایک عالم تھے ۔۔ ۔۔۔سیکڑوں کتابوں کے مصنّف تھے ۔۔کئی اسکول انکی وجہ سے
چلتے تھے ۔۔۔
کیا کیا لکھ سکتی ہوں ؟ ۔۔میں صرف جدائی کا لمحہ
رقم کرتی ہوں ۔
وہ وقت بھی بیت گیا اور ابھی ایک فون آیا ہے
۔۔۔۔
سب ختم ہو گیا ۔۔۔۔کچھ نہیں بچا ۔
کیرم کا اسٹایئکر گم ہو گیا ۔۔۔سارے کھیل رک گئے
۔۔یہ کسنے میرے پیروں میں انگارے باند دیئے ہیں ۔۔میرے دل کے قریب آگ سلگ رہی ہے
۔۔۔
میرا پیارا میرا لاڈلا بھائی ۔۔۔میرا ماں جایا ۔۔سب کو ہرا تا ہوا سب سے آگے نکل گیا ہے ۔۔۔۔
میرا پیارا میرا لاڈلا بھائی ۔۔۔میرا ماں جایا ۔۔سب کو ہرا تا ہوا سب سے آگے نکل گیا ہے ۔۔۔۔
مگر مجھے لگتا ہے وہ ہر وقت آس پاس ہیں ۔۔یہیں کہیں ہیں ۔میرے قریب ہیں ۔
ختم شد۔
ختم شد۔
No comments:
Post a Comment