Monday, September 11, 2017

باغبان ۔
ریت کے طویل صحرا پر پھیلا ہوا سننا ٹا ،فضا میں دھوئیں کے ساتھ ساتھ خون کی مہک ۔ایک نامانوس سی جگہ تھی وہ ۔اور مہہ جبین نے اپنی پوری قوت جمع کر کے آنکھیں کھولیں ،چاروں طرف یہاں سے وہاں تک ریت ہی ریت اور اسپربکھرے ہوئے  ننھے ننھے قدموں کے نشان ،ایک نہیں لاتعداد نشان جیسے تمام بچّے ادھر سے بھاگتے ہوئے گئے ہوں ۔کہاں گئے ؟
کدھر گئے ؟؟ اتنے ننھے پاؤں جو خود چل  بھی نہیں سکتے وہ کہاں چلے گئے ؟
کیا افق کے اسُ کنارے تک ۔۔۔یا اس سے بھی آگے ۔۔
آخر کہاں ۔۔وہ بیقراری سے ان قدموں کے نشانوں کے ساتھ بھاگتی رہی کبھی کوئی ننھا نشان اسکے پیروں تلے آجاتا تو وہ کانپ جاتی ۔تھکن سے برا حال تھا ،گلا سوکھ رہا تھا  بدن ٹوٹنے لگا تھا ۔اسکے بالوں میں ریت بھر گئی تھی مگر وہ بھاگ رہی تھی یہ دیکھنے کے لیئے کہ آخر یہ بچّے کہاں چھپ گئے ہیں ۔دوڑتے دوڑتے وہ کسی چیز سے ٹھوکر کھاکرمنھ کے بل گر پڑی تبھی اسکی آنکھ کھلُ گئی ۔ساراجسم پسینے میں شرا بور تھا ۔ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے ۔اسے محسوس ہورہا تھا کہ ابھی تک پیروں کے نیچے ریت سرسرا رہی ہے ۔
کمرہ خالی تھا ۔اکیلے پن کا ڈراونا احساس اسے سہما رہا تھا ۔آواز دینی چاہی مگر گلا بند ،اٹھنا چاہا مگر ہمّت جواب دے گئی ۔
دروازہ کھلا اور ہاتھوں میں سوپ کا پیالہ لیئے ہوئے زیبا اندر آرہی تھی ۔
 بھابی !۔۔اسنے پیالہ میز پر رکھ کر مہہ جبین  کے بال سنوار دیئے ۔
اب کیسی طبیعت ہے آپکی ؟ رات تو آپ بہت بے چین تھیں امیّ دعائیں پڑھتی رہی ہیں ۔اٹھکر سوپ پی لیجئے ۔اگر چائے کا جی چاہے تو ۔۔
مہہ جبین  نے اسکا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا ۔وہ ہونق سی زیبا کا منھ دیکھ رہی تھی اسے لگ رہا تھا کہ ابھی بھی وہ اس ریت کے سمندر پر ننگے پاؤں کھڑی ہے ،اسکے تلوے جل رہے تھے ۔سارا جسم جھلس رہا تھا ۔
کیا ہوا بھابی ۔۔
اسنے آنکھیں بند کر لیں آنسوں کے دو قطرے آنکھ کے گوشوں سے نکل کر تکیہ مین  جذ ب ہوگئے ۔
اتنا مت سوچیئے بھابی ۔۔آپ تو بھیّا کا مزاج جانتی ہیں خوش ہوں تو کتنے مہر بان اور غصّہ آجائے تو ۔۔۔
لاکھ غصّہ کریں ،ماریں جو سزا چاہے دیں مگر ایسا تو نہ کریں ۔۔اسنے بڑی دقتّ سے اپنا جملہ پورا کیا ۔۔
زیبا  سرہانے بیٹھ کر اسکا سر سہلانے لگی ۔
آپکو پتہ ہے نا وہ شروع سے بیٹا چاہتے تھے ،پہلے نتاشہ آگئی اور اب یہ جڑواں کی آمد ۔۔وہ نہیں مانیں گے بھابی آج آپکو لیکر اسپتال جانے کا کہہ کر گئے ہیں ۔
مجھے معلوم ہے زیبا وہ مجھے اسپتال کیوں لے جائیں گے ۔۔میری بچیوں کو مجھ سے دور کر دیں گے مجھے معلوم ہے ۔۔اسکی آنکھوں میں نمکین پانی کا سیلاب اتر آیا سسکیاں گلے میں پھندا ڈال رہی تھیں َ
زیبا سرہانے بیٹھی اسکا سر سہلاتی رہی بس ایک خاموش تسّلی کے سوا اسکے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا
ایان  کے بے رحم فیصلے کے خلاف بولنے کی ہمّت تو اماں میں بھی نہیں تھی۔
کم عمری میں باپ کے گزر جانے کے بعد ساری ذمہ داری ایان  نے بخوبی سنبھال لی تھی ۔اپنی تعلیم کو خیرباد کہہ کر کپڑے کی دوکان پر بیٹھ گیا تھا ۔
۔اسکے بھی اعلیٰ تعلیم کے خواب ٹوٹے تھے ۔چار بہنوں ماں اور بیوی کی ذمہ داری اٹھاتے اٹھاتے وہ اتنا کرخت ہوچکا تھا کہ اب کوئی آنسو یا آہیں اسے نہیں پگھلاتی تھیں۔  وہ پتھّر ہو چکا تھا ۔اسکا فیصلہ آخری فیصلہ تھا ۔
اسے اب بیٹیاں نہیں چاہیئے تھیں ۔
الٹرا ساؤنڈ سے جب یہ خبر ملی کہ ایک نہیں دوبیٹیاں آنے والی ہیں تو اسنے سختی سے حکم دیا تھا آج شام کو دوکان سے لوٹ کر وہ ڈاکٹر کے پاس لےجائے گا اور یہ قصّہ ختم کرے گا ۔
مہ جبین کو یوں لگ رہا تھا جیسے دونوں ننھی بچیّان باہیں پھیلائے اسکی گود میں آنے کو ہمک رہی ہیں ۔جیسے انکی شفّاف آنکھوں میں ایک التجاء ہے ایک پکار ہے ۔۔۔
ماں ۔۔ہمیں بچالو ۔۔
وہ تڑپ تڑپ کر رورہی تھی مگر ایان کے فیصلے کے خلاف جانے کی اسمیں بالکل ہمّت نہیں تھی ۔۔
مہہ جبین کا نام ہی خوبصورت تھا وقت نے اسکے ساتھ کچھ اچھّا سلوک نہیں کیا تھا ۔کئی بچّوں والے غریب گھر میں پل کر بڑی ہوئی  کسی نہ کسی طرح  بی ۔اے تک تعلیم حاصل کی اور والدین نے بوجھ سمجھ کر یہاں بیاہ دیا جہاں  پہلے ہی مسا ئل کا انبار تھا ۔
تین بہنوں کی شادی کروانے کے بعد ایان خالی ہاتھ رہ گیا تھا ۔دوکان سے بس اتنی آمدنی تھی کہ گھر کسی طرح چل رہا تھا ۔اب وہ اضا فی بوجھ کے لیئے ہر گز تیّار نہ تھا
دوپہر ہوگئی تھی وہ کھا نا کھانے گھر آجایا کر تا تھا اور آج مہہ جبین کو تیاّر ہونے کا حکم دے گیا تھا ۔۔۔وہ جانتی تھی کہ یہ تیاّری کس لیئے ہے ۔۔
جب سے ڈاکٹر نے راز داری کا وعدہ لیکر اسے یہ بات بتائی تھی اسی وقت سے وہ بیزار نظر آرہا تھا ۔۔
چلو ۔۔۔اسپتال جا نا ہے ۔۔ایان  نے جوتے پہنتے ہوئے مڑ کر اسکی طرف دیکھا ۔
اور مہہ جبین نے  اٹھ کر ایان  کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔
نہیں ۔۔ایسا نہیں ہونے دونگی ۔۔مت کرو ایسا ۔۔وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔اسنے کب سوچا تھا اسکی ذات کی یوں تحقیر ہوگی ۔اسکے حوصلے یوں پست ہوجائیں گے
مہہ جبین نے اپنی تمام توا نائیوں کو سمیٹ کر بڑی مشکل سے اپنی بات پوری کی ۔
میں کام کرونگی ایان ۔۔۔میں لوگوں کے کپڑے سیوں گی اگر تم اجازت دوگے تو اسکول میں نوکری بھی کر لونگی ۔
میں نے کبھی تمہاری خدمتوں سے انکار کیا ہے ؟
اتنا بڑا ظلم نہ کرو ایان ۔۔۔
وہ حیران ہوکر اسے دیکھ رہا تھا خاموش اپنے آپ میں رہنے والی مہہ جبین آج اتنی بہادر کیسے ہوگئی ؟ یہ کون سی طاقت آگئی ہے اسکے اندر ۔
مگر وہ۔اتنی جلدی ہار کیسے مان لیتا ۔

تم کیا جانو ۔۔کتنی محنت کر نا پڑتی ہے مجھے ۔باہر نکل کر دیکھو زرا ۔۔
ہاں میں باہر نکل کر دیکھوں گی
۔میں تمہارا ساتھ دونگی ۔میرا زیور بیچ دو مجھے سلائی مشین ۔۔ ۔اسکا جملہ ادھورا ہی رہ گیا ۔
۔
تیزی سے الماری کی طرف بڑھتے ہوئے ایاں کا پیر زمین پر پڑے اخبار سے الجھا اور وہ لڑکھڑا کرپاس رکھّی میز سے ٹکرا تا ہوا زمین پر  گر پڑا ۔
با ااااا بااااااا  ایک تیز چیخ کی صورت میں نتاشا کے منھ سے نکلا ۔
 اسکول سے آکر بیگ رکھتے ہوئے اسنے ایان کو گرتے دیکھا تو  اپنا بیگ دور پھنکا اور دوڑ کر باپ کی کمر سے لپٹ گئی ۔اپنی ننھی ہتھلیوں سے اسکی چوٹ سہلانے لگی۔۔۔ کیا ہوگیا پا پا ۔۔چوٹ تو نہیں لگی نا ۔۔بتائیے  با با ۔؟' وہ بے چینی سے کبھی اسکا ہاتھ پکڑتی اور کبھی پیر سہلاتی ۔۔ایاں حیرت زدہ سا اپنی معصوم بچیّ کی طرف دیکھ رہا تھا جو  آنکھوں میں آنسو   لیئے بے تہا شہ پریشان ہورہی تھی ۔
ایان نے جھک کر اسے گود میں اٹھا یا اور  سینے سے لگا لیا ۔۔آج اسکی دھڑکن بھی معمول سے ذیادہ تیز تھی اور پہلی بار بیٹی کے لیئے درد امنڈ کر آرہا تھا ۔۔نہ جانے کیوں اسکے اندر ہلچل سی مچ گئی مہہ جبین ڈری سہمی التجا ء بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
اور ایک لمحہ ایک درد کا لمحہ انھیں بے حد قریب کر گیا ۔کئی لمحوں تک وہ نتا شا کو سینے سے لگا ئے کھڑا رہا ۔۔
پھر اسے آہستگی سے بستر پر بٹھا یااور پلنگ کے کنارے بیٹھ کر جوتے اتار نے لگا ۔ اسکے انداز میں ایک نرمی ایک حلاوت سی بھر گئی جب اسنے بہن کو پکارا ۔
زیبا ۔۔
۔وہ پہلے ہی سہمی ہوئی دروازے کا پٹ تھامے کھڑی تھی ۔
کہیں نہیں جاتے ۔۔اب شام کو کہیں گھو م کر آئیں گے اور کھا نا بھی باہر ہی کھائیں گے ۔۔
  بازو میں بہن کو  لپٹا کر مہہ جبین کو پیار سے تکتا ہوا وہ مکمل مرد نظر آرہا تھا ۔ ۔
۔




Tuesday, August 29, 2017

 
آدھی رات ادِھر آدھی رات ادُھرجب سارا شہر سننا ٹے میں ڈوب جا تا ۔
 ۔۔جب ساری روشنیاں بُجھنے لگتیں گہرا اندھیرا چھانے لگتا  تب  ایک ویران قبرستان کچھ قبرنشین سر گو شیوں میں باتیں کرتےہو ئے  نظر آتے    
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
"اسلام علیکم بھیا حضور ! "
"واعلیکم ۔۔۔"نخووت سے جواب ملتا وہ بھی ادھورا ۔حالا نکہ اس سلام اور جواب ِ سلام کی کوئی اہمیت بھی نہ رہی تھی ۔
"یہ سارے پہرے دار کہاں غائب ہیں آج ؟؟ میرا حقّہ بھی تازہ نہیں کیا گیا "وہ خیالی حقّے کی منال منھ سے لگا لی ۔
"بھیّا حضور یہ اُن کے آرام کا وقت ہے ۔ہم تو بس ۔۔۔"
"آپکو ہمیشہ اِن غریب فقیر لوگوں کی ہی فکر رہی ۔ اسی لئے کچھ بن نہ سکے ۔"
یوسف علی نرمی سے مسکراتے اور اندھیرے کے اسُ پار کہیں پرانے دنوں کی طرف دیکھنے لگتے ۔یہ خاندانی قبرستان تھا ورنہ کہاں وہ اور کہاں بڑے بھیا ۔

"آپکو تو یاد نہیں ہوگا ۔کیا خوبصورت شامیں ہوتی تھیں ہماری ،آج امینہ بائی تو کل روشن آرا ۔مگر آپ کو کہاں فرصت تھی اپنی کتا بوں سے جو کبھی ہماری محفل میں آتے "
"بھیّا حضور وہ آپکے شوق تھے اور کتابیں ہمارا شوق ۔"
"کیا  دیا آپکے شوق نے ؟ ایک معمولی زندگی گزاری آپ نے اور ہم ۔۔۔۔"
"جی ۔۔سچ کہا آپ نے ۔۔ہمارے نصیب میں آپ جیسی زندگی کہاں تھی " انکی آواز میں ٹوٹے ہوئے شیشے کی کھنک اور گہری اُداسی جھانک رہی تھی ۔
"آپ نے ہمیں اپنا خاندانی حق بھی نہ ملنے دیا ۔۔۔اور باقی چیزیں تو اضافی تھیں "
"دیکھئے میاں ! حکومت کر نا ہماری قسمت میں لکھا تھا ،آپکو راستے سے نہ ہٹا تا تو کوئی اور ذریعہ بن جاتا ۔اور آپکو بھی ہم نے کہاں ہٹا یا ؟ آپ تو بزدلوں کی طرح محل سے بھاگ نکلے تھے ۔"
"اگر میں اپنی اور اپنے خاندان کی جان بچا کر نہ نکلتا تو ہماری لاشیں نکلتیں اور خود کشی ہمیں منظور نہ تھی بھیّا حضور ! آپ نے تو حد ہی کر دی تھی ۔اگر ابّا حضور ہم کو ولیعہد بنا نا چاہتے تھے تو ہمارا کیا قصور تھا ؟ "
"قصور آپکا ہی تھا میاں ! آپ اتنے نیک اور فرما بردار بنکر سامنے آتے تھے ۔۔۔۔"
"ہم نیک اور فرما بردار بنکر نہیں آتے تھے بھیّا حضور ابّا نے یہ خوبیاں ہم میں خود دیکھی تھیں ۔ہمیں کوئی لالچ نہیں تھا یہ ان ہی کا فیصلہ تھا ۔اور آپ نے بھی تو حد کر دی تھی ۔اب ہم اپنی زبان سے کیا کہیں "

 انھوں نے سر جھکا لیا ۔
"ہاں ہم نے حد کی تھی ۔ہمارے شوق تھے  ۔تعلیم سے ہم دور تھے ۔ہم بازاری عورتوں کو گھر بلاتے تھے ہم ناچ رنگ پسند کرتے تھے ۔اور ابّا حضور ہمارے دشمن بن گئے "
"اور آپ ہمارے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔"

 یوسف آبدیدہ ہوکر قبر سے اٹھ کر ٹہلنے لگے ۔انھیں یاد آگیا کہ کسطرح کسمپرسی کی حالت میں گھر سے بے گھر ہوئے تھے ،تما م واقعات ذہن کے پردے پر سر سرانے لگے ۔۔۔۔

"ہم آپ سے ان سب با توں کے لئے قطعی شر مندہ نہیں ہیں میاں ۔جو آپ کو ملنا تھا ملا جوہم نے حاصل کر نا تھا کیا ۔ "
بڑے بھیا اب بھی اسی طرح غرور میں مبتلا نظر آئے ۔
قبرستان کے سننا ٹے کچھ اور بڑھ گئے ۔سوکھے پتّوں پر شبنم کا گر نا جاری رہا ۔۔۔ٹپ ۔۔ٹپ ۔۔۔پتّے اپنے سینوں پر شبنم کا وار سہتے رہے ۔۔۔کسما تے رہے ۔
اجڑی ریاستوں کے سینے میں نہ جانے کتنے راز دفن تھے ۔
یہ بھی ایک طویل وعریض رقبہ پر مشتمل ریاست کی داستان ہے جہاں ظلم و ستم کے ساتھ کچھ معصوم رعا یا بھی تھی ۔
کچھ بے لوث   درد مند انسان بھی تھے ۔جن کو اپنے لیئے نہیں اپنی رعا یا کے لیئے کچھ کر نا تھا ۔۔جو اسکول اور اسپتال بنواتے تھے ۔جو سڑکوں اور کھیتوں کے ٹیکس معاف کر دینا چاہتے تھے  جو سبکو ساتھ لیکر چلنا چاہتے تھے ۔۔۔مگر زمانے کو یہ منظور نہ تھا ۔۔
انکی یہ درد مند طبیعت انکے لیئے عذاب بن گئی ۔۔۔۔۔۔ان پر ستم توڑے گئے ۔
٭٭٭٭٭
گھوڑا ہواؤں سے باتیں کر رہا تھا  ہر علاقے سے وہ اس تیزی سے گزر جاتا گویا ایک شرا را ایک پارہ ۔۔۔۔ابھی یہان نظر آیا اور ابھی وہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھوڑا اور سوار دونوں دھول میں اٹ چکے تھے ۔
انھوں نے گھوڑے کا سر سہلاتے ہوئے ہمت دلا ئی اور اسنے اسی زور وشور سے اپنا سفر جاری رکھا ۔درختوں کی چھاؤں سے نکل کر جب سوار کڑی دھوپ میں آتا تو اپنا چہرہ گھوڑے کی ایال میں چھپا  لیتا ۔اور گھوڑا اپنے مالک کی حالت محسوس کر کے درختوں کے جھنڈ کی تلاش میں سر گر داں ہوجاتا ۔سوار  اللہ کے حضور سرجھکا کر  شکر ادا کرنے لگتا  کہ اسکے بچّے اور بیوی محفوط جگہ پر ہیں ۔
آخر کا ر منزل نظر آنے لگی ۔مسافر نے چہرے کی دھول صاف کی ۔
بلند وبالا آہنی  پھاٹک کے دروازے پر کئی لوگوں کے ہجوم کے ساتھ راجہ صاحب خود موجود تھے ۔ایک ملازم نے انکے سر پر چھتّر کا سایہ کیا ہوا تھا اور ایک ملازم مور کے پروں کا بنا ہوا   پنکھا لئے ہوئے مسلسل انکو جھل رہا تھا ۔
راجہ صاحب نے گھوڑے کو قریب آتے دیکھا تو خود آگے بڑھ کر داماد  کو بازو کا سہارا دیکر اتارا اورپھر شانوں سے تھام کر  سینے سے لگا لیا ۔کئی لمحے یونہی بیت گئے ۔
انھوں نے اپنے معطّر رومال سے انکا  کا چہرہ صاف کیا اور بازوں میں لیکر حویلی کے اندر کی طرف بڑھ گئے ۔
گھوڑے کے لئے پانی کا انتظام موجود تھا ایک ملازم محبت سے اسکی صفائی میں لگ گیا ۔سامنے چنے کی بھیگی ہوئی دال اور اور گڑ کا ملیدہ لگا دیا گیا ۔
محل کے اندر بڑی بڑی سینیوں میں صدقے کا سامان نکالا جارہا تھا
۔اناج ،گوشت اور چاندی کے سکوّں سے بھری سینی یوسف علی خان کے سامنے آتی رہیں اور وہ انھیں انگلیوں سے چھو کر اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے جہاں خدمت گار ایک بڑے پیتل کے لوٹے میں پانی اور دوسرا تانبے کی سلفچی لیئے کھڑا تھا ۔وہ ہاتھ دھلا کر نرمی سے صاف شفّاف تولیہ سے  مس کر تا ۔
راجہ صاحب نے اپنی آرام گاہ میں صاحبزادے یوسف علی خاں کو اپنے بستر پر جگہ دی اور خود پاس رکھے ایک طویل مخمل کے صوفے پر بیٹھ گئے ۔

"ہاں   اب مجھے یہ بتا ئیے کہ واقعہ کیا تھا ؟ آخر کس سبب سے صاحبزادے وقار علی خان نے یہ قدم اٹھا ؟ "
یوسف یوں خاموش رہے گویا اپنے آنسوؤں کو اندر ڈھکیل رہے ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"با با جان  !  ناراض تو بھائی جان مجھ سے ہمیشہ رہے " وہ اپنی بھرّائی ہوئی آواز کو قابو میں  کر تے ہوئے بولے ۔
خدا معلوم انکو مجھ سے کیا پر خاش ہے ۔ہم نے تو ان سے کبھی انچی آواز میں بات بھی نہیں کی ۔ابّا حضور کے گزر جانے کے بعد ان کے روّیے میں  ہما رے لیئے کچھ ذیادہ ہی تلخی آگئی تھی ۔
مگر وہ اس حد تک چلے جائینگے کبھی سو چانہیں  تھا ۔جیسا کہ ملازموں  نے بتایا ۔۔اگر ہم اس وقت  بستر پر موجود ہو تے  ؟؟
ہم موت سے نہیں ڈرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر با باجان ۔۔میرا سارا خاندان تباہ ہوجاتا ۔ادھر یہ معصوم    ۔۔۔"انھوں نے سامنے دالان میں کھیلتے ہوئے دونوں بیٹوں پر نظر کی ۔تو انکی آنکھوں میں شفاّف پانی کی چمک راجہ صاحب نے محسوس کرلی ۔
"اور دوسری طرف انکی اپنی اولاد ۔پولیس والے  مسلسل اس کوشش میں ہیں  کہ کوئی ایسا واقعہ ملے اور ہم سب کی بد نامی ہو ۔صرف بستر پر ایک گولی چلنے سے پولیس کا آنا جانا شروع  ہوگیا  ہے ۔
۔ملا زم ہمیں  برا بر خبر دیتے رہے ۔۔کس طرح ہم چھپ کر رہے اور کیسے آپ کے پاس آسکے  ۔۔آپکو کیا بتائیں  ۔۔" وہ سر جھکا کر خا موش ہو گئے ۔
"خیر اب جو ہوا سوہوا ۔اب آپ ایسا کیجئے کہ  ،انھوں نے اٹھکر الماری سے کچھ کاغذات نکا ل کر انکی طرف بڑھائے 
بسم اللہ  کر کے یہاں جائیے اور اپنا علا قہ سنبھالیئے ۔
یہ بات میں شروع سے آپ سے کہہ رہا ہوں ۔کیونکہ میں نے صاحبزادے کے  تیور پہلے ہی دن سے بھانپ لیئے تھے  ۔راجہ اقبال علی خاں آپکے والد کے بعد وہ آپکو بر داشت نہیں کرینگے ۔حالانکہ محل اور باغات ۔کھیتوں پر آپکا حق ہے  وہ ہر صورت آپکو ملنا چاہیئے ۔آپ چاہیں تو مقدمہ دائر  کروا سکتے ہیں ۔مگر فی الحال میں آپکو یہ رائے نہیں دونگا بلکہ یہ فیصلہ آپکو خود ہی لینا   ہوگا ۔
اس وقت آپ آرام کیجئے اس موضوع پر شام کو آپ سے بات ہوگی ۔
انھوں نے تعظیماً کھڑے ہوتے ہوئے یوسف کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر انھیں دوبارہ بٹھا دیا اور کمرے سے نکل گئے ۔
ہلکے آسمانی لباس میں خوشبوؤں سے معطّر نگار آرا آئیں اور انکے بازو وں پر اپنا سر ٹکا دیا ۔۔وہ بے آواز رورہی تیں اور یوسف کے پاس بھی کوئی الفاظ نہیں تھے ۔وہ خاموشی کی زبان میں ایک دوسرے کا غم بانٹتے رہے  ۔
بچوّں کے چہرے پر وہ اپنا مستقبل دیکھتے رہے ۔۔۔
آخر کار انھیں راجہ صاحب کی بات ماننی پڑی اور ایک نئی جگہ استقلال کے ساتھ  نئیے  مرحلے سر کرنے نکل پڑے ۔۔۔
وہ ذیادہ نہیں جی سکے اپنے بچّوں کو جوان دیکھنے کی خواہش لیئے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔
اس شہر ِ خموشاں میں رات دھیرے دھیرے گزر رہی تھی ۔دونوں کے پاس کہنے کو اب شاید کچھ نہیں بچا تھا ۔
تب وقار علی خان  نے انکی طرف نگاہ اور تجسس سے بولے ۔                              

     ایک بات بتائیے آپ کی قبر میں اتنی روشنی اور خوشبو کسطرح ہے ؟"
یوسف  نے سر اٹھا کر گہری سانس لی اور طما نیت بھری نظروں سے اپنی قبر کی طرف دیکھا اور مسکرا کر قبر کی طرف بڑھ گئے ۔
۔
 وہ جھنجھلا کر اٹھے صبح ہونے والی تھی اپنی بے رونق اجاڑ قبر کی طرف بڑھے مگر انکی آنکھیں بھیگ رہی تھیں ۔انکی قبر پر بے رونقی اور اندھیرا بڑھ آیا تھا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Sunday, May 14, 2017

یہ رابطے دل کے ۔۔۔۔
"صاحبزادی لوٹ کر گھر آگئی ہیں "چچا نے ہاتھ دھوکر کھانے کے لئے تخت پر بیٹھتے ہوئی اطلاعً زور سے کہا ۔
روٹی کی ڈلیا کھولتے ہوئے چچی جان کا ہاتھ دم بھر کو کانپ گیا ۔
"حد ہوتی ہے بے غیرتی کی ۔ہنہہ ۔۔" چچا نے سالن کا ڈونگا اپنی طرف کھسکایا ۔اور پلیٹ سیدھی کی ۔
'آپکو اسقدر غصّہ کیوں ہے ۔۔۔۔۔"چچی جان نے "آپکو "پر زور دیتے ہوئے انکی جانب نگاہ کی ۔
انھو ں نے قہر بر ساتی نظروں سے چچی جان کو دیکھا ،انکا چہرہ سر خ ہوگیا تھا اور آنکھوں میں بے انتہا نفرت کا احساس تھا ۔
"کیوں ہے ۔۔؟ آپکو نہیں معلوم رضیہ بیگم غصّہ کیوں ہے۔۔۔؟غیرت دار آدمی ہوں بے غیرت نہیں ہوں اور لوگوں کی طرح ۔۔۔"انھوں نے چمچہ دستر خوان پر پٹخا ۔
"باپ دادا کی پگڑی اچھال کر وہ بے غیرت ۔۔۔۔اور باقی لوگ صبر کئے بیٹھے ہیں ،میری بیٹی کرتی ایسا ۔۔یہیں اسی جگہ زمین میں دفن نہ کر دیتا تب کہتیں ۔۔۔"
"اللہ نہ کرے ۔۔" چچی جان نے دہل کر سینے پر ہاتھ رکھ لیا ۔
"اور تم پر تو انہی لوگوں کا رنگ چڑھا ہے غیرت اور عزّت جیسے الفاظ تم کیا سمجھو گی ۔۔۔"حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اپنی بات میں اضافہ کیا ۔
"اور خبردار جو یہاں سے کوئی ملنے گیا ۔۔یا وہ اس چوکھٹ پر چڑھی ۔۔۔۔"
٭٭٭٭٭٭٭
دکھ سا دکھ تھا انکو ۔۔؟ ننھی سی جان انکے ہاتھون میں پل کر تو جوان ہوئی تھی وہ ۔۔۔
پرانے زمینداروں کی طرح ظہیر علی خاں اور فیصل علی خان میں مقدمہ بازی تو چلتی رہتی تھی ۔زمین جائیداد کے قصّے کس جاگیر دار خاندان میں نہیں ہوتے ؟بڑی بڑی باتیں ہوجاتیں ،قتل تک ہوجایا کرتے تھے ۔
ان دونوں بھائیوں میں بھی بر سوں سے مقدمے چل رہے تھے ۔آگ میں تیل ڈالنے کا کام گاؤں والے بہت مہارت سے کرتے اور فایئدہ اٹھاتے ۔باتیں ادھر کی ادھر کرنے میں دیگر لوگوں کا بڑا ہاتھ تھا اور باتیں بھی اس طرح پیش کی جاتیں کہ دونوں بھائی کھول کر رہ جاتے مگر وضع داری کا یہ عالم تھا کہ جب مقدمے کی تاریخ پڑتی تو ایک دوسرے کو کہلوا بھیجتے کہ
"ہم نے گاڑی نکلوالی ہے ساتھ ہی چلئیے گا ۔۔"
اور دونوں بھائی ساتھ بیٹھ کر دنیا بھر کی سیاست پر باتیں کرتے کچہری پہونچتے ۔۔۔بحث ہوتی وہ بھی کرتے ۔۔۔پھر تاریخ پڑ جاتی تو دونوں ایک ساتھ واپس بھی اسی گاڑی میں آجاتے ۔
آم کی فصل میں ایک دوسرے کے گھر آمون کی دعوت ہوتی۔ اہتمام سے نذریں ہوتیں ،تو ایک دوسرے کو بلایا جاتا ۔عقیدت سے کھانا کھایا جاتا ۔کسی بچّے کی تقریب ہوتی تب بھی سب ملکر مناتے ۔عید کی نماز دونوں بھائی ساتھ ہی ادا کرتے اور سب بچّوں کو عیدی دیکر ہی فیصل علی خان اپنے گھر جاتے ،وہ اپنے بڑے بھائی کی بے حد عزّت کرتے تھے اور بچّوں سے بے پناہ محبّت بھی ۔۔۔جب سے بڑے بھائ کی بیوئی کا انتقال ہوا تب سے چچی جان کا ذیادہ تر وقت ان بچّون کی دیکھ بھال میں گزرنے لگا ۔
خاص کر ارم تو انکی لا ڈ لی تھی ۔
دکھ سا دکھ تھا انکو؟؟
٭٭٭٭٭٭٭
ننھی سی ارم بن ماں کی بچی،جب انکی اپنی بیٹیاں نہائی دھوئی صاف ستھری فرا کیں پہنے اڑتی پھرتیں تو وہ آجاتی ۔میلی کچیلی فراک پیروں میں دھول سر میں جوئیں ۔۔۔
وہ اسکا سر صاف کرتیں نہلاتیں نئی فراک پہنا کر بنا سنوار دیتیں ۔
اسکی حالت دیکھ کر انکا دل پھٹتا  تھا کیسے ٹوٹی چپل پہنے پھرا کرتی۔
کس چیز کی کمی تھی وہاں ؟سوا ایک عورت کے ۔
اسکی چپل اتروا کے اسے سینے بیٹھ جاتیں ۔
"ارے کیا کر رہی ہو ؟دوسری چپل پہنا دو اسکو ۔۔"وہ اخبار ہٹاکر محبّت سے اسے تکتے ۔۔۔
"رہنے دیجیے ۔۔بھائی جان کو اچھّا نہیں لگے گا ۔میں ابھی ٹھیک کیئے دیتی ہوں ۔"
ایسا نہیں تھا کہ وہاں کسی چیز کی کمی تھی ۔کپڑے صندوقوں میں بھرے تھے جوتے چپل بے شمار ۔۔۔کوئی معاشی مسئلہ نہیں تھا ۔مسئلہ تو بس اتنا تھا کہ ظہیر علی خان اور طرح کے آدمی تھے وہ بچّو ں کو دیکھ نہیں سکتے تھے سب نو کروں کے ہاتھ میں تھا ۔
جب ارم کے کان چھدے اور خیال نہ ہونے کی وجہ سے پک گئے تو وہ انہیں کے پاس دوڑی آئی
"بہت درد ہورہا ہے چچی جان ۔۔۔"
اور چچی جان نے بزرگوں کا بتایا ہوا نسخہ آزمایا ۔
اس وقت ارسل سب سے چھوٹا بیٹا پیدا ہوا تھا ۔انھوں نے جھٹ ارم کو گود میں لیکر لٹا لیا اور اسکے کانوں کی لوؤں پر دودھ کی دھاریں ڈا لیں ،وہ سکون سے انکی گود میں ہی سوگئی اور وہ کئی گھنٹوں تک گھٹنا ہلائے بغیر بیٹھی رہیں ۔
صبح کی اوس جمع کر کے کانون پر لگائی ۔۔ہومیو پیتھی کی دوائیں کھلائیں ،جب تک اسکے کان ٹھیک نہیں ہوئے بے قرار رہیں ۔
"وہاں کسی کو فکر نہیں تو تم کیوں دبلی ہوئی جاتی ہو  فکریں کر کر کے ؟"
"سبھی بچّے ہیں وہاں بھائیجان کے پاس وقت کہاں ۔۔۔جو یہ سب دیکھیں ۔۔۔کیا ہوا جو میں ۔۔۔۔بن ماں کی بچّی ہے "
بولتے بولتے انکی آنکھیں آنسوں سے بھر جاتیں سر جھک جاتا ۔۔۔۔
"ٹھیک ہے ۔۔کرو خدمتیں ۔۔کوئی ماننے والا نہین ہے وہاں تمہاری بے لوث محبّت کو "
"میں کسی کو منوانے کے لیئے نہیں کرتی یہ تو دل کے رابطے ہیں ۔۔۔"انکی آواز دھیمی ہوتی چلی جاتی ۔
کنگھی کر کے چوٹی گوندھ دیتیں وہ صاف ستھری ہوکر چمک اٹھتی۔۔۔۔
 آ نگن میں لگے بیلے اور موگرے کے پھولوں کو گوندھ کر گجرے بنا لاتی ۔۔۔کبھی انکے بالوں میں اور کبھی ہاتھوں میں پہنا دیتی اور وہ اس خوشبو سے مسحور بیٹھی رہتیں ۔
وقت گزر تا رہا ۔عامر کی تعلیم اب ختم ہوگئی تھی اسنے ایک فلیٹ شہر میں لے لیا تھا اور نوکری کی تگ و دو میں مشغول تھا ۔
چچی جان کی نظر کے زاویئہ بدل گئے تھے وہ ارم کو اپنی بہو بنانے کے خواب دیکھنے لگی  تھیں ۔وہ عامر کا ہر انداز پہچانتی تھیں کہ ارم کو دیکھ کر اسکی انکھون میں جو معصوم سی چمک د ر آتی اسکا کیا مطلب ہے وہ اسکے انداز خوب پہچانتی تھیں ۔اپنے بچّوں میں سب سے ذیادہ پیارا تھا انھیں ۔۔۔
وہ بس عامر کی ملازمت کے انتظار میں تھیں ۔وہ گاؤں میں نہیں رہنا چاہتا تھا ،حالانکہ اب گاؤں پہلے جیسا تاریک نہ رہا تھا ۔ہتھیلیوں سے چراغ ،انگلیوں سے لالٹینیں نکل کر دیواروں پر بلب اور سی ۔ایف ۔ایل بنکر اجالے بکھیر رہے تھے ۔ہاتھوں کے بنے رنگ برنگے پنکھّے اب سیلنگ فین بن گئے تھے ،گھڑونچی کی جگہ اب واٹر کولر اور ایکوا گارڈ نے لے لی تھی بڑی خوبصورت تبدیلی تھی مگر عامر جانتا تھا کہ حالات بدل گئے ہیں اب ملازمت کے بغیر کام نہیں چل سکتا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اور جب انھیں ارم کی شادی کی خبر ملی تو وہ دل پر ہاتھ رکھ کرزمین پر بیٹھتی چلی گئیں ۔ بڑی عجیب ناقابل ِاعتبار بات تھی ۔کہ اسنے خود کسی کو پسند کر لیا اور بھائیوں بہنوں کی مر ضی کے خلاف  نکاح ہو گیا ۔
۔ عامر آکر خاموشی سے انکی مامتا بھری گود میں لیٹ گیا ۔وہ اپنی کانپتی انگلیوں سے اسکی پلکوں سے دکھ چنتی رہیں ۔وہ اسکے غم سے خوب واقف تھیں ۔
اسکے لب خاموش تھے اور انکھیں نو حہ کناں ۔
دکھ اور اذیت کے یہ دوسال بڑی مشکل سے کٹے بیان کر نا بیحد مشکل تھا اور وہ موگرے ،بیلے کے پیڑوں کو پانی دیے جاتیں ۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭
"بھائیجان کو تو برا حال ہوگا ۔۔۔"
وہ پھر حال میں آگئیں ۔۔۔
"برا حال ؟؟؟ خود بلایا ہے انھوں نے ۔۔۔۔دعوت کی ہے داماد کی ۔۔۔جاکے دیکھو کسقدر آؤ بھگت ہو رہی ہے ۔بیٹی داماد کی ۔۔
غصہ میں پانی کا گلاس پٹخا اور چیخ کر بولے ۔
"خود گئے تھے بلانے اس بد ذات وبے حیا کو ۔۔۔۔۔"
"چلیئے ٹھیک ہے اب ۔۔۔شادی ہونی تھی ہوگئی " چچی جان   صلح جو تھیں ۔
"ایسے ہوتی ہیں شادیاں ؟؟؟ بیٹی صاحبہ نے پسند کیا اور آپ نے جاکر نکا ح کروادیا ؟؟ نہ کسی سے رائے نہ مشورہ ۔۔۔خود انکے بڑے صاحب ذادے خلاف ہیں ۔۔گھر نہیں آئے ۔۔۔اچھّا ہے پھوٹ پڑے باپ بیٹے میں " وہ طنزیہ مسکرائے
چچی جان خاموش بیٹھی رضائی کی گوٹ پر انگلیاں پھیرا کیں ۔
عامر کو لڑکیاں دکھا دکھا کر تھک ئیں مگر اسکی ایک نا ۔۔۔ہاں میں نہیں بدلی ۔۔۔وہ سب جانتی تھیں مجبور تھیں ۔۔۔افسردہ تھیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭
شام ہورہی تھی ڈیوڑ ھی میں اندھیرا سا تھا ۔۔تب انھوں نے دو برس کے بعد اسے دیکھا ۔۔۔
وہ سر جھکائے کھڑی تھی ہلکا نیلا سوٹ ہاتھوں میں کانچ کی چوڑیاں ہلکے ہلکے لرز رہی تھیں ۔چچی جان نے گھبرا کر اندر کی طرف نظر کی ۔وہ شاید مطا لعے میں مشغول تھے کمرے کا دروازہ بھڑا ہوا تھا لائٹ جل رہی تھی ۔
دالان میں عامر لیٹا ہوا تھا ۔وہ سلام کر کے خاموش کھڑی رہی ۔انھوں نے بغور اسے دیکھا بہت کمزور نظر آئی اپنے آنسو چھپا کر اسے گلے لگا لیا ۔
پھر اسے وہیں چھوڑ کر جلدی سے باورچی خانے میں گئیں ۔رواج کے مطابق کچھ چیزیں لیکر آئیں اسکا انچل تھام کر ارد کی دال ،چاول ۔ایک بھیلی گڑ اور ایک سو کا نوٹ اسکے پلّو میں ڈالا پھر اپنا کپکپا تا ہوا ہاتھ اسکے  سر پر رکھ کربہت تکلیف سے بولیں ۔۔
"جیتی رہو خوش رہو ۔۔مگر اب یہاں کبھی مت آنا ۔۔۔"
اور دروازہ بند کر دیا ۔
واپس آکر آنگن میں بیٹھ گئیں اور کھر پی لیکر بیلے اور موگرے کے پیڑوں کو بے دردی سے کاٹنے لگیں آنسو بہتے جاتے تھے اور وہ پیڑوں کو گہرائی سے کھودتی جارہی تھیں ۔برامدے میں لیٹے ہوئے عامر نے سارا منظر نم آنکھوں سے دیکھا پھر ننگے پیر چلتے ہوئے آکر ماں کے پاس زمین میں بیٹھ گئے اور انکو ۔۔اپنے بازوں میں لپٹا لیا ۔
دروازے کی کنڈی ایک بار پھر کھڑ کی دونوں نے ایک ساتھ ا ۔ دیکھا۔چچا باہر سے آرہے تھے انکی باہوں کے گھیرے میں  لپٹی سسکتی  ماہ گل کو دیکھ کر وہ گھبرا کر گھڑی ہوگئیں ۔وہ ہنستے ہوئے بولے ۔" لو دیکھو باہر سے ہی چلی جارہی تھی  میں نہ دیکھتا تو تم سے ملے بنا ہی چلی جاتی "
۔ انکی آنکھوں میں شفقت چھلک رہی تھی اور آنسو چمک رہے تھے ۔
لاؤ کچھ چائے ناشتہ کر وائو میری بیٹی اتنے دنوں بعد گھر آئی ہے " وہ اسے لیئے ہوئے تخت پر بیٹھ گئے ۔اور چچی جان کو  حواس میں واپس آنے میں کافی دیر لگی ۔
٭٭٭
 


بے نشان ۔
وہ لندن کی ایک کہر بھر شام تھی ۔ارم کی امّی کا شدید بیماری کے بعد کل شام انتقال ہوگیا ۔درو دیوار سے سوگواری ٹپک رہی تھی ۔زندگی کے تمام ہنگامے سرد پڑ چکے تھے ۔سب مریم کو سنبھال رہے تھے مگر وہ ہاتھوں سے نکلی جارہی تھی ۔ دو دن اسی طرح درد برداشت کر تے ہوئے گزر گئے ۔یہاں کام رکتا نہیں تو آج سب اپنے اپنے کام پر نکل رہے تھے اُداسی اور پریشانی اپنی جگہ مگر جینے کے لیئے کام تو کر نا ہی تھا ۔گھر میں بس میں اور ارم ہی رہ گئے تھے جب وہ سسکتی ہوئی میرے کمرے میں آگئی ۔
"چچی  پلیز  مجھے قبر ستان لے چلیے ۔"
اسکی آواز میں آنسو گھلُ رہے تھے ۔
"ہاں ضرور چلوں گی مگر تم پہلے اپنے آپ کو سنبھالو ۔۔یہ حال جو تم نے بنا یا ہے بھابی ہوتیں تو کتنی پریشان ہوتیں ۔" میں نے اسکا سر سینے سے لگا لیا ۔
"دیکھو بی بی  چلے جانے والے کا اتنا غم نہیں کرتے کتنی نیک عبادت گزار تھیں وہ ۔یاد ہے کہ انکا چہرہ کتنا پرُ نور تھا ؟ سب یہی کہہ رہے تھے کہ گو یا سو رہی ہوں ۔انکا سکون بر باد مت کرو ۔ اسطرح دل دکھاتی رہو گی تو انکی روح تڑپتی رہے گی میری بچّی ۔انکے لیئے دعا کرو ۔" میں اسکو دھیرے دھیرے سمجھا رہی تھی اور اسکی سسکیاں میرے اندر تک اتر تی رہیں ۔
بن ماں کی بچّی کس قدر بے بس اور اکیلی ہوتی ہے مجھے اسکا بخوبی اندازہ ہے ۔
دوسرے دن سہ پہر کو علی جب آفس سے آئے تو ہمیں قبرستان لے گئے ۔ارم گاڑی سے اتر تے ہی علی کا ہاتھ تھامے بھاگتی ہوئی اس جگہ تک پہونچ گئی جہاں بھابی آرام کر رہی تھیں ۔وہ وہاں دوزانوں ہوکربیٹھ گئی ۔ بے تہاشہ رو رہی تھی ۔مجھے بھی آنسوں پر قابو نہ رہا ۔کچھ دیر بعد علی کو واپس جا نا تھا مگر ارم ابھی جانے کے لیئے تیّار نہیں تھی ۔میں نے علی کو واپس بھیج دیا ۔انکو کچھ کام کرنے تھے ۔سو چا واپسی پر ہم ٹیکسی کر لیں گے ۔
لندن کا یہ قبرستان گو کہ بہت صاف ستھرا اور روشن اور منّور تھا مگر تھا تو قبرستان ۔ایک عجیب سا سننا ٹا اور وحشت  ہر طرف ڈیرا جمائے ہوئے تھی ۔۔کنارے کئی پیڑ لگا ئے گئے تھے ۔بیچ بیچ میں کیا ریوں میں پھول بھی تھے  مگر خود رو گھانس کی صفائی روز تو نہیں ہوسکتی تھی ۔
کافی دیر تک ہم دونوں قبر کے پاس بیتھے دعائیں پڑھتے رہے پھر ارم ایک طرف پیڑ سے سر ٹکا کر بیٹھ گئی ۔بہت رولینے سے کچھ دل ہلکا ہوا تھا مگر سر میں درد محسوس ہو رہا تھا ۔دل ہی دل میں شاید ماں کے لیئے دعائیں کر رہی تھی یا باتیں کر رہی ہو ۔۔بند آنکھوں سے بھی آنسوں کے قطرے چہرے پر پھیل رہے تھے ۔
ہر طرف سننّا ٹا چھایا ہوا تھا ایکّا دُکا گاڑیاں آواز کرتی قریب سے  نکل جاتی تھیں ۔
درختوں کے کچھ بڑے پتّے قبروں پر سایہ کیئے ہوئے تھے ۔ایک طرف پیڑ کے نارنجی پتّے ایک قبر پر جھکے ہوئے تھے وہیں وہ بیٹھی تھیں ۔
سفید پوشاک پر سیاہ اسکارف لگائے ۔سرخ وسفید چہرہ اور متّورم آنکھیں ۔یہی کوئ چالیس پینتا لیس کی ہونگی ۔سر جھکائے خاموش اور اکیلی  قبر کے پاس  بیٹھی تھیں ۔میں نے ارم پر نظر ڈالی وہ پیڑ کے تنے سے ٹکی ہوئی کچھ پرُ سکون سی آنکھیں بند کیئے بیٹھی تھی میں اٹھ کر انکی طرف آگئی ۔
پاس بیٹھ کر انکا ٹھنڈا یخ ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر سہلاتی رہی ۔پھر بہت ہمتّ کر کے پوچھا ۔
"کون ہیں یہ بی بی ۔۔۔۔۔۔۔؟"
"میرا اکلوتا بیٹا ۔راحیل ۔۔۔"انھوں نے سسکی لی ۔
وہ ایک پرانی سی بنی قبر تھی اسپر کوئی کتبہ بھی نہ تھا شاید ٹوٹ چکا تھا میں ان سے اب کوئی سوال نہیں کر نا چاہتی تھی کہ انکا دل اورنہ دکھے ۔پہلے فاتحہ پڑھا پھر انکو دیکھ کر آس پاس کی گھانس صاف کر نے لگی وہ قبرپر جمی ہوئی  سوکھی گھانس کافی حد تک اپنی کمزور انگلیوں سے صاف کر چکی تھیں اور ایک بیگ میں بھر رہی تھیں ۔
"کیا ہوا تھا بی بی ۔۔۔" میںے خاموشی توڑنے کی کوشش کی ۔
"کچھ نہیں ۔بس اللہ کی مرضی  اب تو برسوں بیت گئے ۔آج اس شہر آئی تو ۔۔۔۔۔"انھوں نے اپنے آنچل سے آنسو صاف کئے ۔
قبر کسی حد صاف ہوچکی تھی بس ایک کونہ رہ گیا تھا جسپر سخت گھانس ابھی بھی سر اٹھائے کھڑی تھی  انکی انگلیاں شاید زخمی بھی ہوگئی تھیں ۔مجھے واپس بھی جا نا تھا مگر وہ اکیلی تھیں اسلیئے تذذب میں تھی ۔انکے شوہر لینے آنے والے تھے ۔گہرے بادل گھر کر آگئے تھے مجھے پریشانی سی ہونے لگی تھی ۔ارم بھی اٹھ کر ادھر ہی آگئی  ۔ایسے موسم میں انکو اکیلا کیسے چھوڑ دیتی ۔تبھی ایک گاڑی گیٹ کے پاس آکر رکی اور انھوں نے اپنا سرخ چہرہ اٹھا کر اُدھر دیکھا ۔نیلے سوٹ میں وہ صاحب تیز تیز چلتے ہوئے  ادھر ہی آرہے تھے ۔وہ صاحبہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر آہستہ آہستہ کھڑی ہوگئیں ۔قبر پوری صاف ہوچکی تھی اور انھوں نے ساتھ لائے ہوئے پھول اس پر بچھا دیئے تھے ۔آنے والے صاحب نے پہلے قبر کی طرف دیکھا پھر انکی طرف نگاہ کی اور گویا ہوئے ۔
"زبیدہ یہ تم نے کسکی قبر پر پھول رکھ دیئے ؟ راحیل کی قبر تو یہاں ہے اس درخت کے نیچے ۔ تم سے بتا یا تو تھا " انھوں نے ایک طرف اشارہ کیا جہاں ایک  قبر سوکھی ہوئی سخت گھانس سے بھری ہوئی بہت اکیلی اکیلی سی تھی ۔
قبرستان کا دروازہ بند ہورہا تھا ۔اب رکنے کی اجازت بھی نہیں تھی ۔ان بی بی نے بڑی حسرت سے بیٹے کی قبر پر نظر کی ۔پھر ادھر جہاں وہ کئی گھنٹوں سے بیٹھی تھیں اور پھر سر جھکا کرباہر نکلتے ہوئے  بولیں ۔
وہ بھی کسی کے جگر کا ٹکڑا ہو گا سیّد صاحب ! چلیئے گھر چلیں" اور ہم چاروں آہستہ آہستہ قبرستان سے باہر  آ گئے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 

Tuesday, April 25, 2017

تاج محل ۔
رنگ و نور کا ایک سیلاب تھا ہر طرف رنگین آنچل سر سرا رہے تھے قہقہے آبشار کی صورت بہہ رہے تھے ۔ہوسٹل کے ہرے بھرے لان میں فنکشن کا انتظام کیا گیا تھا ۔ہر طرف زندگی تھی ہر جانب ایک جوش ایک ولولہ تھا اور ایسے میں جب وہ ملے تو تاج محل خود بخود  بننے لگا  ۔وہ نازک جزبوں کا کنوارے سپنوں کا ایک نرم احساس کا  تاج محل ہی تو تھا جو دعا اور شاہ جہاں بنا رہے تھے
 گویا دنیا انکے کہے پر چلنے لگی تھی ہر بات میں کتنی زندگی تھی اور زندگی کتنی بھر پور تھی ۔سب کچھ تو تھا اسکے پاس  ہاں ! جب کسی کے پاس ایک صرف ایک چاہنے والا ہو جو ہر لمحہ ہر سانس میں محبّتوں کا نذرانہ پیش کرے تو پھر کسی چیز کی کمی کہاں رہتی ہے ۔
جذبے انمول ہوجاتے ہیں لمحے سر سراتے ہوئے گزر جاتے ہیں اور وقت کا تو احساس ہی نہیں رہتا کچھ یاد نہیں رہتا کچھ بھی نہیں ۔
اور رہے بھی کیسے جب کوئی ایسا کہے ۔۔
"تم جس طرف دیکھ لو راہیں جی اٹھیں ۔۔۔تم ہو تو سب کچھ ہے ۔۔تم میری تکمیل ہو ۔۔میں ابتک کیسے جی رہا تھا مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا کہ دنیا اسقدر حسین ہے ۔
تمہارے ساتھ بتائے ہوئے پل تو میری زندگی کا حاصل ہیں ۔
تم ہو تو زندگی ہے خواب ہیں اور خواب کی تعبیریں ہیں اور میں اپنے اس خواب کی تعبیر ضرور حاصل کرونگا خواہ مجھے اسکے لئے کچھ بھی کر نا پڑے ۔ ہاں کچھ بھی ۔میں جان سے گزر جاؤنگا تمہیں پانے کے لئے ۔میرا کوئی نہیں بس تم ہو صرف تم ۔۔مجھے کبھی اکیلا نہ کر دینا ۔۔۔بکھر جاؤنگا میں ۔"
کون ایسا بے حس ہوگا جو یہ سب سنکر پگھل نہ جائے ۔شاید بے جان سنگِ مر مر کے سامنے دو زانوں ہوکر کوئی روز اسطرح کے جملے دہرائے تو وہ بھی پگھل کر آنسو بن جائے ۔وہ ضد وہ محبّت  یا جو کچھ بھی تھی جیت گئی کہ اسے جیتنا ہی تھا جب دو دل ایک ساتھ دحڑکنے لگیں تو اور کوئی آواز سنائی کہاں دیتی ہے ؟
اور جب یہ بات دعا کے گھر تک پہونچی تو ایک طوفان سا آگیا ۔
"مجھے یقین ہے کہ یہ بات غلط ہوگی " بہن کا اعتماد بول رہا تھا ۔
"میں اسے جان سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"بھائی کا جلال دہاڑ رہا تھا ۔
"مگر مجھے وہ پسند ہے  میں اسکے بنا نہیں جی سکوں گی ۔۔"وہ باپ کے زانوں پر سر رکھّے سسک رہی تھی ۔
وہ خاموش افسردہ اسکے آنسوؤں بھرے چہرے کو تک رہے تھے گویا سارے آنسو اپنے دل پر لے رہے ہوں ۔
"آخر تم وہاں پڑھنے گئی تھیں یا یہ سب کرنے  ہم زندہ ہیں نا تمہارے لئے سوچنے کو " بڑی بہن نے ایک تھپّڑ رسید کیا ۔
مگر باپ نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا ۔
"نہ مارو ۔۔بن ماں کی بچّی ہے "انھوں نے اپنے آنسوں کرتے کی آستین سے صاف کئے ۔
"فکر مت کرو انھوں نے دعا کا سر سینے سے لگا یا ۔۔۔بس مجھے کچھ وقت دے دو ۔۔"
مگر اسے صبر کہاں تھا ۔
ان ساری مشکلوں کو طے کرتی ہوئی ،اپنوں کے دلوں کو روندتی ہوئی آگے بڑھ گئی دعا ۔
نئی زندگی تھی ۔۔۔نئے نئے رنگ تھے وہاں پرانے آنسو یاد بھی کہاں آتے کسی کے ،خواہ وہ بہن کے ہوں بھائی کے یا اپنے شفیق باپ کے ۔شادی ہوگئی تاج محل کی بنیاد رکھ دی گئی ۔
مگر ایک درار تھی  ایک گرہ تھی  یا شاید احساسِ جرم ۔۔خوشیان کترا نے لگی تھیں ۔
بیفکری کی زندگی ختم ہوچکی تھی ۔بہت کچھ بر داشت  کر نا پڑ رہا تھا ۔
اور پھر قدرت کا ایک تماچہ ایسا تھا جس نے اسے بے حال کردیا ۔
"میں نے تو اسے گود میں بھی نہیں لیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔"وہ چیخ چیخ کر رورہی تھی ۔
مگر وہاں کوئی نہیں تھا جو انکے آنسو ؤں کو اپنی پوروں میں سمیٹ لیتا وہ آنسو جو دعا اپنی پہلی اولاد کے لئے بہا رہی تھی وہ اسکا اپنا دامن ،اپنا گریبان بھگو رہے تھے ما متا کے درد نے اسے بے حال کردیا تھا ۔
یہ اسکی  پہلی دعا تھی جو ٹوٹ کر بکھر رہی تھی ۔ننھا ساوجود جھولے میں ہنستا کھیلتا خاموش ہوگیا ۔اور وہ کچھ نہ کر سکی ۔۔
ایک طوفان تھا جسنے تاج محل کو دھندلا کر دیا تھا  وہ تکلیف جس سے دعا گزری کوئی تصورّ نہیں کر سکتا تھا ۔۔اسکا ساتھی  بھی نہیں ۔
اور تب پتہ چلا کہ اولاد کا  درد کیسا ہوتا ہے
۔اور تب پتہ چلا کہ باپ بھائیوں کا سایہ کیا ہوتا ہے
۔۔اور تب سمجھ میں آیا کہ اکیلا پن کیا ہوتا ہے آنسو کیا ہوتے ہیں چیخیں کیا ہوتی ہیں ۔
دو برس کے بعد خالی گود کے ساتھ اپنے گھر کے در ودیوار دیکھے ۔
"آگیئں منھ کالا کر کے ۔۔" منھ پھیر لیا گیا ۔
"وہ شادی کر کے گئی تھی " کوئی ہمدرد بھی موجود تھا ۔
"ہنھ ۔۔   شادی ۔۔۔۔۔گھر والوں کی مرضی کے خلاف ۔۔"
"باپ تو راضی تھے ۔۔"ہمدرد کا دل دکھا شاید ۔
"راضی نہیں مجبور تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

 طنز کے سلسلے قائم رہے وہ دیواروں سے لپٹ کر روئی ۔
دوستوں نے منھ پھیر لیا عزیزوں نے اپنی محفلوں میں بلا نا چھوڑ دیا ۔اسکے دل میں کانٹے چبھتے ۔۔۔مگر ایک چپ تھی بس ایک چپ ۔
دبلا بدن کانٹے جیسا ہو گیا تھا ۔پیلا چہرہ ، خالی آنکھیں ۔ ۔لوگ اس پر ترس کھانے لگے تھے
۔کبھی کبھی تو اسکا شاہ جہاں بھی پوچھ بیٹھتا ۔۔
"تمہاری آنکھوں کی چمک کہاں کھو گئی ہے دعا ؟"
وقت کے بہت سارے ورق الٹ گئے ۔اللہ نے اپنی رحمت سے نواز دیا تھا ۔دعا کی گود بھر گئی تھی ۔۔
مگر تبھی دوسرا تماچہ اسکی زندگی کو روندتا چلا گیا ۔چاہنے والے ابّا کی میّت پر بھی نہ جاسکی ۔۔ہزاروں میل کی دوری ۔۔پر دیس میں اسنے دکھ اکیلے ہی منا یا جہاں نہ آسمان اپنا تھا نہ زمین ۔سمندر کا نمکین پانی اسکے آنسوں میں ملکر بہتا رہا ۔
تاج محل پر دھول تو بہت پہلے پڑنے لگی تھی مگر اب بھی کبھی دھندلا  دھندلا نظر آجاتا تھا ۔
اچھّی بیوی بننے کی کوشش میں اپنے آپ کو مٹا دیا اسنے ۔ہر حال میں خوش رہ کر دکھا یا اسنے ،گھر کو سجا یا سنوارا ۔اسکے دوستوں کی دعوتیں کرتی گرمی میں بے حال ہوکر بھی اپنے آپ کو سجا سنوار کر پیش کرتی ۔فر مائیشوں کے کھانے پکاتی کبھی تھکن کی شکایت بھی لبوں پر نہ آنے دیتی ۔
اب اور کیا چاہیئے تھا زندگی سے ۔مگر ابھی قدرت کے پاس کچھ تیر باقی تھے ۔
پر دیس تو سبھی جاتے ہیں مگر یوں جاکر وہاں کے باسی ہوجانا ؟ جبکہ بچّے یہاں منتظر ۔۔۔بیوی یہاں آس میں اور یہ میلوں کی دوری دلون کی دوری بن رہی تھی ۔اس زندگی کو جسے بڑے شوق سے جینے کے لیئے گھر والوں سے چھین کر لائے تھے ۔۔وہ یہاں مہینوں خط اور فون کے انتظار میں بے چین رہتی  ۔
سکوت ِ فکر میں ایک اور سال بیت گیا ۔دو سال ۔۔۔تین سال ۔۔چار ۔۔مگر دعا کا اعتبار اب بھی قائم
ادھر ادھُر کی گفتگو سنائی دیتی مگر دعا کی سما عت میں تو اسکی شہد جیسی باتیں گھلی تھیں ۔عرصہ ریت کی طرح اسکے اوپر سے گزر گیا
وہ ایک قیامت کی شام تھی ۔جب اسنے بے قرار ہوکر فون کیا ۔
"بہت یاد آرہی ہے تمہاری ۔۔بڑا عجیب خواب دیکھا ہے ۔۔" وہ بے چینی سے بیان کر رہی تھی اور ادھر ہان ہوں سے پتہ چل رہا تھا کہ فون ناگوار ہو رہا ہے ۔
"کچھ بولو۔۔۔"
کیا بولوں ؟ تمہارے خوابوں سے میرا کیا تعلق ۔۔۔۔؟"وہ ششدر رہ گئی ۔
'ارے کیا ہے یار جلدی بولو ۔۔یہاں میٹنگ چل رہی ہے ۔۔" پیچھے سے دبی دبی ہنسی سنائی دی ۔
"گیارہ بجے رات      کو    میٹنگ ؟؟ "تجسس تو فطری جذبہ ہے دل کی بات ٹوٹ کر ہونٹوں پہ آئی ۔
"ایک خوبصرت لڑکی کے ساتھ بیٹھا ہو ں مصروف ہوں ۔۔اب بولو ۔"
وہ دکھ اور بے یقینی سے کانپنے لگی ۔۔تبھی ادھر کسی نے اٹھلا کر کہا ۔
"بس بہت ہوگیا اب بند کرو فون ۔"
وہاں نئی ممتاز محل ہنس رہی تھی ۔۔ایک نئی تعمیر جاری تھی ۔
اڑا ڑا ڑا دھڑام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پرا نا مکان گر تا ہے نیا مکان اٹھتا ہے ۔۔بڑھیا اپنے ارتن برتن اٹھاؤ ۔۔۔۔۔تاج ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہا تھا وہ ملبے میں دبی جارہی تھی جیسے کوئی   تاج محل کے پتھّروں سے  سنگسار کر رہا ہو اسے ۔
:٭ :٭ :٭









Monday, April 24, 2017

دل کے رشتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔انجم قدوائی
روز یہی ہوتا تھا روز یہی کرتی تھی وہ ۔سر خ ،سفید یا نیلی کوئی بھی فراک پہن کر آئے ،کتنی بھی فرِش نظر آئے مگر یہی حال ہوتا تھا ۔مالی ڈرایئور گھر کی کام والی کے بچّوں کے ساتھ  کھیلنا پسند تھا اسے ۔وہ ہیشہ صبح ایک پھول کی طرح نمودار ہوتی اور شام تک گہنائے ہوئے چاند کی طرح گھر کے اندر غروب ہوجاتی ۔
وہ اس چھوٹے سے اسکول کی کچّی دیوار پر چڑھی بیٹھی مستقل پیر ہلا رہی تھی ۔فراک کی جھالر پھٹ کر اسکے گھٹنے سے الجھی ہوئی  اور چپل دھول میں اٹی ہوئی تھی ۔
"حلیہ دیکھا تم نے اپنا ؟؟  اسنے کڑھ کر اسے ڈانٹا
"کیا ہوا ہے ۔۔۔؟  ماہی نے جھک کر اپنے پیروں پر نظر ڈالی ۔۔اور پھر بیفکری سے پیر ہلانے لگی ۔
"کچھ نہیں ہوا ؟؟ کتنی گندی لگ رہی ہو تم گاؤں کے گندے سندے بچوں کے ساتھ  کھیلا کر تی ہو "
"وہ بالکل گندے نہیں ہیں ،دن میں دوبار نہاتے ہیں نہر سے ۔۔"
"اچھّا ۔۔۔جہاں بھینسیں نہاتی ہیں وہیں نا ۔۔۔؟
ہاں تو ؟؟
"کچھ نہیں ۔۔۔جاؤ مرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
میں کیوں مروں   تم مرو ۔۔" وہ کود کر ادھا کھایا ہوا امرود پھینکتی ہوئی اپنے گھر کی طرف مڑ گئی ۔
وہ وہیں بیٹھا سوچتا رہا  کڑھتا رہا ۔
وہ ایسی ہی تھی صبح صبح  گلابی فراک پہنے دو چھوٹیاں گوندھے ہوئے  صاف ستھری ،گاؤں  کے اس پرائیمری اسکول میں آتی اور سب بچوں کے جانے کے بعد بھی جانے کا نام نہ لیتی ۔۔۔۔
وہ اس سے کچھ پوچھ نہیں سکتا تھا تھا نہ جانے کیا جھجھک تھی ان کے درمیان ۔
وہ خاموش اپنے آپ میں کھویا ۔
عمر گزرتی رہی       
حالات بدلتے رہے  ۔اب وہ بہت بدل گئی تھی اپنے آپ کو سجا نا سنوارنا آگیا تھا  شہر کے ہوسٹل میں رھ کر اسے اپنے چاروں طرف اجا لا پھیلائے رکھنے کا ہنر بھی ۔
وہ اب بھی کچھ نہ کہہ سکا اور وہ دور ہوتی چلی گئی ۔۔۔اور دور ۔۔اور دور ۔
خبریں ملتی رہتیں ۔اسکا میاں بڑا بزنس مین ہے  وہ بہت خوش ہے ۔بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھ کر میکے آتی ۔لش لش کرتے لباس پہنتی اسکے جانے کے بعد بھی گاؤں میں کئی دن اسکا چر چا رہتا اور وہ کتاب میں منھ چھپائے بظاہر لاپر واہ اسکی دائیمی خوشیوں کی دعائیں کرتا  رہتا ۔
ایک نازک سی ہمسفر کے آجانے سے زندگی بہت بدل گئی ۔وہ بے حد مخلص اور بر داشت والی لڑکی تھی ۔اسمیں زرا بھی بچپنا نہیں تھا ۔وہ سنجیدگی سے مسکراتے ہوئے اسکی ساری ضروریات پوری کرتی  مگر ایک خلا تھا ۔۔۔۔۔۔۔جو پرُ ہی نہ ہوتا تھا
ہلکی ہلکی بوندیں پڑ رہی تھیں وہ کاہلی سے لیٹا رہا  ۔اینٹوں کے بنے ہوئے آنگن  میں دونوں  بچّے  شور مچاتے ہوئے بھیگ رہے تھے ۔وہ برامدے میں بیٹھا اُداسی سے انھیں کھیلتے دیکھتا رہا ۔
اذان کی آواز سے چونک کر کرتے کی آستین الٹتے ہوئے اسنے بیٹے کو پکارا ۔

چلو علی وضو کرو ۔۔۔
بس بابا تھوڑا سا اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسنے دور پڑی ہوئی بال اٹھائی ۔
کل کھیلنا بیٹے مغرب کی اذان نہیں سنی آپ نے ۔۔۔؟"
وہ خود اُداس اُداس سا وضو کرتا رہا ۔
نہ جانے آج کیوں یاد آرہی ہے   رنج سے میرا  اتنا گہرا  رشتہ کیوں ہے ۔۔۔
ابتک تو وہ ٹھیک بھی ہوگئی ہو گی  اسکی طبیعت کی خرابی تو کافی پہلے کی بات ہے ۔اس گرمی میں تو وہ نینی تال یا کشمیر میں گھوم رہی ہوگی ۔۔بوٹنگ کر تی پھر رہی ہوگی ۔شاید آج اسنے گہری ہری ساری پہنی ہو ۔
وہ اپنی ذمہ داریاں دل وجان سے پوری کرتا رہا تھا پھر بھی دل کی یہ خلش کبھی کبھی بہت بے چین سا کر دیتی ۔اور جب چھوٹی بہن عاصمہ نے اسکی بیماری کا بتا یا تو اور بھی بے چین ہوگیا ۔کہتے ہیں وقت ایک سا نہیں رہتا ۔اب اسکی ہنسی میں آنسو ؤں کی نمی بھی در آئی ہے  آج عا صمہ کی باتیں اسکو دہلا رہی تھیں ۔ماہ رخ دو بچوں کی ماں ہے ۔ابتو کئی کئی دن اسکے گھر کی دہلیز سونی رہتی ہے  وہ بچوّں کے ساتھ راہ دیکھتی رہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔پھر سنا وہ شہر چھوڑ گیا ۔تنہائیاں اسے نچوڑ رہی تھیں وہ دروازے پر آس لیئے بیٹھی رہتی ہے مایوسی نے اسکے جسم میں اپنے پنجے گاڑ دیئے ہیں ۔یہ بتا تے بتا تے عاصمہ کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں ۔اور پھر جب بیماری کی خبر آئی تو وہ ساری مصلحتیں بھول کر پہلی ٹرین سے دہلی میں تھا ۔
ہاسٹل کا سر چکرا تا ہوا ماحول عجیب سی وحشت وہ سارے مراحل سے گزرتا ہوا اسکے کمرے میں پہونچا تو اسکا دل پھٹنے لگا
کہاں تھی وہ ؟؟ یہ تو سایہ تھا اسکا  گہری ویران آنکھیں  مایوس نظر  ۔
ہونٹوں پر مسکراہٹ نام کو نہیں تھی  سر سراتی ہوئی تنہائی اسکے آس پاس ڈول رہی تھی ۔
اچانک کمرے میں خوشبو کا ایک بھپکا آیا ۔گرے سوٹ  ہاتھ میں قیمتی موبائیل تھامے ہوئے وہ اندر داخل ہوئے تو وہ گھبرا کر کھڑا ہوگیا ۔ہاتھ ملانے کے لیئے آگے بڑھا اور برُی طرح نظر انداز کیا گیا ۔رعونت بھری نظروں میں اسے باہر نکل جانے کا حکم تھا اور وہ باہر نکل گیا ۔
"اب تو ٹھیک بھی ہوگئی ہوگی ۔"۔۔اسنے خود کلامی کی ۔
اسنے برامدے کے ساتھ بنے چھوٹے سے باورچی خانے میں کام کرتی اپنی بیوی پر نظر ڈالی ۔اسکے سوتی  کپڑے گنجلے ہوئے  سے  تھے چہرے پر پسینے کے ساتھ ساتھ ایک آسودگی اور اطمینان بھی تھا ۔
دور کہیں ہاسپٹل کے اسپیشل وارڈ میں لیٹی ماہ رخ نے کروٹ بدلی تو ہاتھ میں لگی ہوئی ڈرپ کی سوئی نے بے چین کر دیا ۔
"آہ ۔۔۔۔۔"اسنے کراہ کر اپنا ہاتھ تھام لیا ۔
کمرے کے باہر کھڑا ہوا اسکا باوقار شوہر ڈاکٹر پر برس رہا تھا ۔
"آخر آپ بتا تے کیوں نہیں آپکو پرا بلم کیا ہے ۔۔۔؟"
"سر ۔۔پرابلم مجھے نہیں آپکی مسز کو ہے ۔"ڈاکٹر شاید اسکے انداز سے متا ثر تھا ۔
ہم لوگ اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں باقی اللہ کی مرضی ۔"
"عجیب باتیں کر رہے ہیں آپ ۔میں پروگرس کی بات کر رہا ہوں اور آپ مجھے واعظ دے رہے ہیں ۔آپکو اندازہ بھی ہے کہ کتنی اہم میٹنگس چھوڑ کر یہاں بیٹھا ہوں ۔۔؟ "
"سر ۔۔ہم یقینی طور پر کیسے کچھ کہہ سکتے ہیں ہمارے ہاتھ میں جو ہے وہ کر رہے ہیں ۔اگر انکی زندگی ہے تو ضرور بچ جائینگی ورنہ حالت بہت خراب ہو چکی ہے ۔بہت دیر کر دی گئی علاج میں ۔"
"ہنھ ۔۔۔۔۔زندگی ہے تو بچ ہی جائینگی اسمیں آپکا کیا کمال ہے ۔۔" وہ بڑ بڑا تا ہوا کمرے کے اندر آگیا اور بیڈ کے قریب پڑے ہوئے صوفے پر ڈھیر ہو گیا ۔۔
سامنے پڑے اخبار کو اٹھاتے ہوئے اسنے پلنگ پر لیٹی ماہ رخ پر نظر ڈالی اور بڑ بڑانے لگا
"ایک ایک منٹ قیمتی ہے میرا ۔۔۔اور یہ ڈاکٹر ۔ہنھ ۔۔۔" اسنے جھٹکے سے اخبار کا صفحہ پلٹا ۔۔۔کاغذ کی کھڑ کھڑا ہٹ اور اسکے لہجہ کی ٹھنڈک ماہ رخ کے اندر تک گئی ۔اسنے بڑی دقّت سے آنکھیں کھول کر اپنے خوبرو شوہر پر نظر ڈالی ۔وہ آج بھی ویسا ہی خوبصورت تھا  لمبا قد  کھُلتا ہوا رنگ اور پھر اسکا اپنا رکھ رکھاؤ جسکی وجہ سے وہ لاکھوں میں الگ پہچا نہ جاتا تھا ۔اسکے بات کرنے کا ڈھنگ  اسکی مسکراہٹ اور ۔۔۔اور ۔۔۔اسکی بے وفائیاں ۔
شاید یہ آخری ہچکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دور کہیں دوسری رکعت پڑھتے پڑھتے اسے جھر جھری سی آئی آنکھوں کے آگئے اندھیرا سا چھا گیا ۔وہ مصّلے پر بیٹھ گیا ۔"یا اللہ اسکی حفاظت کر نا ۔" اسنے کانپ کر دعا کی اور چہرہ ہاتھوں سے چھپا کر نہ جانے کیوں آنسو بہا نے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, December 11, 2016

انجم قدوائی 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
''ھا ئیڈ پا رک کے ذرد پتّے ''
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اداسی کی ایک تیز لہر میرے دل کو کاٹ رہی تھی اور میں پناہ لینے کے لیئے ادھر ادھر چکّر لگا رہا تھا ۔پارک اس وقت ویران تھا ۔لندن کے اس پارک کی خا صیت اس کے درخت اور ان کے بڑے اور سنہرے پتّے ہیں ۔اسکے علاوہ وہیں سڑک پر پا رک کے جنگلے سے لگا کر ایک آرٹسٹ اپنی پینٹنگس سجا لیا کر تا تھا ۔پا رک کے بیچو ں بیچ ایک مصنو عی تا لاب بنا یا گیا ہے جس میں رنگ بر نگی بطخیں تیر تی رہتی ہیں ۔جی ہا ں ۔۔۔رنگ برنگی ۔۔۔
پہلی بار جب مینے انھیں دیکھا تو مجھے بھی بیحد حیرت ہوئی تھی لیکن میں نے انھیں ان کی خوراک ( جو کہ ڈبّے میں وہیں پر ملتی ہے ) دینے کے لیئے پا س بلایا تو وہ پھڑ پھڑا تی ہوئی قریب آگئیں اور میں قد رت کا یہ نظا رہ دیکھ کر حیران ہو ا ۔۔۔یہ سارے رنگ حقیقی تھے جسطرح تتلی کے پر ۔۔۔۔۔اس دن مجھے ان بطّخو ں کو کھا نا کھلا کر بہت اچھا لگا کہ میں روز بلا نا غہ وہا ں آتا اور تا لاب کے کنا رے بیٹھ کر انھیں دیکھتا رہتا ،کھلا تا رہتا ۔ایک عجیب سا سکون اور اپنا یئت تھی اس ما حول میں شا ید با غوں کھیتو ں تا لا بو ں کو چھو ڑ کر آنے سے میں اپنی جڑو ں سے کٹ کر رہ گیا تھا ۔اور یہی وجہ تھی کہ  پارک کے ،اس پر سکون گو شہ میں بیٹھ کر مجھے سب کچھ یا د کر نے کا کا فی وقت مل جاتا ۔
اکثر میں ان سنہرے بڑے بڑے پتّو ں کو اکٹھا کر تا رہتا اور سو چتا کہ جب میں واپس اپنے وطن جاؤنگا تو یہ سارے پتّے تمنّا کو دونگا وہ بہت ذیادہ خوش ہو گی ۔
تمنّا میر ی چھو ٹی بہن کا نام ہے وہ پر اسرار حد تک آرٹسٹک ہے ۔رنگو ں اور خوبصورت پتّو ں ،رنگ بر نگّے پرو ں کو جمع کر نے والی میر ی پیا ری تمنّا ۔۔۔۔۔۔
مگر جب اس درمیان میری دوستی لو سی سے ہو گئی ۔۔۔۔۔۔میرے پاس ہا یئڈ پارک کے لیئے وقت بہت کم رہ گیا ۔
لو سی سے میری ملا قات با رش میں بھیگتے ہوئے سڑک پر ہوئی تھی ۔وہ سڑک کچھ ڈھلوان تھی اور میں ہمیشہ کی طر ح پیدل ،چھتری شاید اسکے پاس بھی نہیں تھی جبکہ وہاں کے مو سم کا تقا ضہ یہی ہے کہ چھتری ہمیشہ ساتھ رکھنی چا ہیئے۔دراصل صبح سے مو سم با لکل صا ف تھا ، دھوپ چمک رہی تھی ۔میں اسی کا ہلی میں بغیر چھتری لیئے نکل پڑا ۔۔۔۔۔۔اور اچا نک زوردار تیز با رش شروع ہو گئی۔
ہا ں تو بات ڈھلان کی تھی اچا نک لو سی کا پیر لڑ کھڑایا یہ شرارت اسکی اونچی ہیل والی سینڈل کی تھی ،وہ نا رنجی شاخ کی طرح میری با ہو ں میں آگئی اسکا چہرہ تمتما رہا تھا ۔۔۔سلیقے سے کٹے ہوئے بال اسکے چہرے پر پھیل رہے تھے کتّھئی آنکھو ں میں اک عجیب سی چمک تھی ۔ میرا فلیٹ وہیں قریب ہی تھا اس نے میری پیشکش نہیں ٹھکرائی اور میرے ساتھ  گھر آگئی ۔
 سجا یا خوبصورت فلیٹ دیکھ کروہ حیران رہ گئی ۔اسکی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔۔۔کہا ں سڑک پر پیدل چلنے والا معمولی سا ہندوستانی ،اور کہا ں یہ شاندار فلیٹ ؟ مینے بھی کو ئی صفائی نہیں دی ۔
یہ ہماری پہلی ملا قات تھی ۔۔پھر وہ مجھے اکثر ملنے لگی اور ہماری دوستی میں ذیادہ دیر نہیں لگی ۔
اکثر وہ اپنے کام سے دو پہر کو فا رغ ہو کر میر ے فلیٹ پر آجاتی اور میرا انتظار کر تی ،ایک ذائد چا بی بنوانا تو میرا فر ض تھا وہ میری "اچھی " دوست جو تھی ۔
اس دن جب میں گھر آیا تو وہ کچن میں کچھ کھٹ پٹ کر رہی تھی شا ید ابھی ابھی نہا کر آئی تھی باتھ روم کا دروازہ بھی کھلا ہو اتھا ۔۔۔باہر مو سم بہت اچھا تھا میر ا اردہ تھا کہ اسکو لیکر کہیں گھو منے جاؤنگا اسی لیئے اپنے دوست سے کار بھی مانگ لایا تھا ۔جب وہ کچن سے بھاگتی ہوئی آکر بھیگے بھیگے رخسا روں اور بھیگے بالو ں کے ساتھ مجھ سے لپٹ گئی تو میرے سارے ارادے ٹوٹ پھو ٹ گئے ۔۔۔اس دن پہلی بار مینے اسکے گلابی لبو ں کو چو ما تھا ۔
تب مجھ پر یہ انکشاف ہو ا کہ میں لو سی کے عشق میں گرفتار ہو چکا ہوں ۔
اسنے میری پسندیدہ ڈشیز سے پو ری ٹیبل بھر دی تھی کئی طر ح کے کھا نے بنا لیئے تھے اسنے ۔۔۔۔میرا مہینہ بھر کا راشن ختم پر تھا ۔۔مگر میں پھر بھی خوش تھا ۔"کیوں کیا تم نے یہ سب ۔۔۔۔کیوں ۔۔؟ اچھّا نہیں لگا ؟
 "نہیں ۔۔۔ایسا نہیں ہے مجھے بہت اچھا لگا میں وا قعی بہت خوش تھا ۔ کھانے کے بعد اس نے میری پسندیدہ سویئٹ ڈش ،پا یئن ایپل کسٹرڈ بھی لاکر رکھ دیا ۔اسے میری ہر پسند نا پسند کا اندازہ ہو گیا تھا ۔۔۔
کھانے کے بعد ہم لمبی ڈرایئو پر نکل گئیے ۔
دریائے ٹیمز کے کنارے ٹہلتے ٹہلتے مینے اسے اپنے ساتھ لگا لیا ۔
" لو سی ! آؤ شا دی کر لیں " مینے بڑے جزبو ں سے اسے پر پوز کیا ۔
"شادی ۔۔۔؟"وہ ایک جھٹکے سے مجھ سے الگ ہوئی ۔اسکی آنکھو ں میں ایک عجیب سی بات تھی جو میں سمجھ نہ سکا ۔۔۔
ہا ں لو سی ۔۔میرا دوست جیکب ایک کورس کرنے کے لیئے نیو یارک گیا ہوا ہے یہ فلیٹ اسی کا تو ہے اب وہ آنے والا ہے تو ہم دونو ں تمہارے روم میں کچھ دنو ں تک رہ لینگے اور پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔"مگر اسنے میری بات پو ری نہیں ہو نے دی ۔مینے اسکی طر ف دیکھا وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی اسکی آنکھو ں میں جو جزبہ میں نہیں سمجھ پایا تھا ،اچانک میری سمجھ میں آگیا ۔۔اسکی آنکھو ں میں میرے لیئے حقارت تھی تضحیک تھی اور گلا بی ہو نٹو ں پر طنزیہ مسکرا ہٹ تھی ۔
" تم نے ایسا سو چا بھی کیسے ؟؟ تم ہو کیا ۔۔تمہاری حیثیت کیا ہے ؟؟" وہ اور بھی نہ جانے کیا کیا کہتی رہی میں سنتا رہا ۔۔اسنے اپنا ہاتھ میرے ہا تھوں سے نہ جانے کب نکال لیا تھا اور جاکر گا ڑی میں بیٹھ گئی ۔۔میں شر مندہ بھی تھا اور حیران بھی ۔۔۔مگر رنجیدہ ہو نے کا میرے پاس نہ وقت تھا نہ موقع ۔۔۔۔اپنی روڈ پر آتے ہی اسنے مجھے گا ڑی روکنے کا اشارہ کیا اور تیزی سے بنا کچھ کہے اتر گئی ۔۔۔اتر تے وقت وہ چابی سیٹ پر رکھنا نہیں بھو لی تھی ۔۔۔۔۔۔
میں اسٹیرنگ پر ہاتھ رکھّے اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا دور ۔۔۔۔۔اور دور ۔۔۔۔بہت دور ۔۔
معلوم نہیں کیسے گھر آیا ۔۔۔۔بہت دیر تک ایک ہی رخ پر بیٹھا رہا ۔میرے جسم میں درد ہونے لگا تھا ۔۔پھر سر میں بھی شدید درد ہو نے لگا ۔۔۔۔کافی بنا نے کی بھی ہمّت نہیں ہوئی ۔۔نہ جانے کب سو گیا ۔
خواب میں مینے امّا ں کو دیکھا وہ میرے لیئے بیقرار نظر آیئں ۔۔۔اپنی دو نو ں بہنو ں کو دیکھا جو میرے لیئے بے چین تھیں پھر صاف شفّا ف بستر پر لیٹے اپنے بیمار ابّو کو دیکھا جو آنکھو ں میں بہت سا ری تمنّا یئں لیئے ہو ئے مجھے دیکھ رہے تھے ۔جنھو ں نے مجھے یہا ں کچھ بننے کے لیئے بھیجا تھا ان کی ساری تو قعات مجھ سے ہی وا بستہ تھیں ۔
میرا کورس تقریباً پورا ہو گیا تھا اور مینے ایک کمپنی سے لا زمت کی بات بھی کر لی تھی ۔عنقریب میں ان سارے خوابوں کو سچ کر دینے والا تھا جو ان سب نے میرے حوالے سے دیکھے تھے ۔
اور یہا ں یہ فلیٹ کیا اس سے لاکھ درجہ اچھّا گھر میں افورڈ کر سکتا تھا ۔۔۔بس میر ی بہنو ں کا گھر بس جائے ،ابّو کے سر سے ذمّے داری کا بو جھ اتر جائے امّاں کے سنجیدہ لبو ں پر پہلے کی طر ح ہنسی بکھری رہے جیسے ابّو کی بیماری سے پہلے بکھری رہتی تھی ۔
صبح اٹھ کر سب سے پہلے مینے لو سی کا سارا سا مان پیک کیا گھر اچھی طرح صاف کیا پھر کار واپس کر نے گیا تو اسکا سامان اسکی لینڈ لیڈی کو دیتا ہوا آیا ۔
آج پھر میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں اپنے پرانے دوستوں سے ملو ں ۔۔۔۔اسلیئے پھر اسی پرانے ٹھکانے پر آگیا ۔ اداسی کی ایک تیز لہر میرے دل کو کاٹ رہی تھی اور میں پناہ لینے کے لیئے ادھر ادھر چکّر لگارہا تھا ۔
دیر تک اپنی دوست بطخّوں کو کھانا کھلا تا رہا وہ سب کی سب مجھ سے اتنے دن نہ آنے پر نا راض لگ رہی تھی مگر مینے انھیں "سوری " کہکر منا لیا ۔
اچانک میری نظر ایک کو نے میں پڑی بنچ پر جا ٹہری ،جسپر ایک کم سن سی معصوم لڑکی اکیلی بیٹھی تھی ۔۔اسنے گہرے نیلے رنگ کا لباس پہنا ہو اتھا اس کے بے پناہ حسین چہرے پر بے پناہ دکھ تھا ۔
گلابی چہرے پر اسکے سنہرے بال ہوا سے بکھر تے جارہے تھے ،اسکا اسکارف با لوں سے کھل کر بینچ پر گر چکا تھا ۔
وہ ویران آنکھو ں سے خلا میں دیکھ رہی تھی ۔
اسکے ہاتھو ں میں بھی ایک چھو ٹا سا ڈبا تھا جسمیں بطخوں کا کھا نا تھا ۔۔مگر وہ کھلا نا بھول چکی تھی ۔۔۔
مینے اتنا حسین چہرہ یو ں سوگوار کبھی نہیں دیکھا تھا ۔۔میں آہستہ سے جاکر بینچ کے نز دیک گھانس پر بیٹھ گیا۔ اسے خبر بھی نہ ہو ئی
"ہیلو۔۔۔۔" مینے مد ھم سر میں اسے آواز دی ۔
" آں ۔۔۔۔۔ہا ں ہیلو ۔۔۔۔۔۔" وہ اچانک چونک اٹھی پہلے اپنے بکھرتے کپڑے سنبھالے پھر اسکارف اٹھایا ۔ہاتھ میں لیا ہوا ڈّبہ نیچے گر چکا تھا ،مینے وہ اٹھا کر اسکی جانب بڑھا یا ۔
"تھینک یو ۔۔۔۔۔"اس نے ہلکی سی آواز میں میرا شکریہ ادا کیا ،اسکی گہر ی گہری سنہری آنکھیں کسی سوگ میں تھیں ۔۔۔یا مجھے ایسا لگا ،شاید میں اداس تھا تو مجھے ساری دنیا اداس لگ رہی تھی ۔
"میں تمہا ری کو ئی مدد کر سکتا ہو ں ۔۔۔؟"
"اوہ ۔۔۔نو ۔۔۔"وہ زبر دستی مسکرائی اور نارمل نظر آنے کی کو شش کر نے لگی ۔میں اٹھ کر اسی بنچ پر ایک کنا رے بیٹھ گیا ۔۔ہم دو نو ں خا مو شی سے بطخوں کو کھا نا کھلا تے رہے پیا ری پیا ری رنگین تتلیو ں سی بطخیں ہمارا دل بہلا نے کی کو شش کر تی رہیں ۔پھر دھیرے دھیرے ہم انکے بارے میں بات کر نے لگے پھر ہم پارک کی خوبصورتی پر بات کر نے لگے ،یہا ں بیٹھے سنّا ٹے پر بات ہو ئی ۔۔۔۔پھر
نہ جانے کب ہم اپنے بارے میں بات کر نے لگے ۔مینے نہ جانے کیو ں اپنا سا را حال اسے ک سنادیا ۔اپنی ادسی کا سارا سبب بتا دیا ۔۔۔شروع سے آخیر تک ۔۔۔سا را حال کہہ ڈالا ۔۔۔وہ بہت صبر سے سب کچھ سنتی رہی ۔۔۔۔پھر اسنے بہت نر می سے میرا ہاتھ چھو کر تسّلی آمیز نظروں سے مجھے دیکھا اسکی آنکھیں پا نیو ں سے بھر ی ایک جھیل کی طر ح لگ رہی تھیں ۔
اور پھر اسنے ایسی ہی ایک دا ستان سنائی جو اسکی اپنی تھی ۔۔۔۔
نوید ہندوستان سے یہا ں وز ٹ ویزے پر آیا تھا ۔۔۔کچھ دنو ں کے لیئے ۔۔۔۔پھر لیزا سے ملا قات ہو ئی اس سے شادی کر لی"۔اسنے اپنے دوستوں کے سامنے مجھ سے نکا ح بھی کیا ۔۔میرا نام بھی "لیزا سے بدل کر لیلیٰ رکھ دیا میں خوش تھی بہت خوش "اسکی آواز بھّرا نے لگی پھر آہستہ آہستہ بو لنے لگی ۔ اوروہ یہا ں جاب کر نے لگا ،دونو ں بہت خوش تھے وقت بہت اچھّا گزر رہا تھا ۔۔۔۔
" وہ مجھ سے بے پناہ محبْت کر تا تھا ۔۔۔۔" لیزا اب بھی گہرے خواب میں تھی ۔۔۔
" پھر نہ جانے کیا ہوا ۔۔۔اس کے گھر سے کو ئی خط آیا ۔۔۔اور وہ مجھے چھو ڑ کر چلا گیا ۔۔۔کل اسنے فون پر مجھے طلاق کا لفظ تین بار کہہ دیا ۔۔۔اس سے کیا ہو تا ہے ؟؟؟ کیا ایسے کہنے سے سب کچھ ختم ہو جاتا ہے ؟ رشتے ٹوٹ جاتے ہیں ؟ درمیان کچھ بھی نہیں بچتا ۔۔۔میر ی کنواری محبّت کا یہی انجام ہو نا تھا ۔۔؟ مینے ٹوٹ کر اسے چا ہا مجھے کیا ملا ۔۔۔۔؟"
اسنے اپنی گلا بی ہتھیلیا ں آنکھو ں پر رکھ لیں اسکا چہرہ غمو ں سے جل رہا تھا ۔۔۔سسکیو ں سے سارا بدن لرز رہا تھا ۔۔
مینے اسے خا مو ش کر نے کی کو شش نہیں کی ،اسے رونے دیا میں چا ہتا تھا کہ وہ خوب رولے ۔۔۔اور پھر کبھی نہ روئے ۔
اور یہی مینے اسے بھی کہا
"لیزا تم میر کا ندھے پر سر رکھ کر رو سکتی ہو مجھے اپنا اچھّا دوست سمجھ کر ۔۔۔اور بس اس سے ذیا دہ کچھ نہیں ۔۔میں تم سے اور کو ئی وعدہ نہیں کر تا ۔۔۔۔ اپنو ں سے بہت سے وعدے ہیں جو مجھے ایک عر صے کے بعد یا د آئے ہیں ۔۔میں انھیں بھو لنا نہیں چا ہتا ۔۔۔اتنا رولو کہ پھر کسی نو ید کی ضرورت نہ رہے "
مینے اسکی نرم سنہری زلفیں انگلیو ں سے سنوار دیں ۔
اسکی پلکو ں پر چمکتے ہوئے مو تی پو رو ں پر اتار لیئے اسکے گلابی معصوم چھو ٹے چھوٹے ہا تھوں کو اپنی چو ڑی ہتھیلی سے ڈھا نپ لیا ۔۔۔۔اور اسی لمحے با رش شروع ہو گئی ۔۔۔پا نی میر ے ہا تھو ں سے ہو کر اسکی ہتھیلی کو بھگو رہا تھا ہم دو نو ں بھیگ رہے تھے چھتریا ں دور پڑی تھیں ۔۔۔
پھر اسنے میر ے ہا تھو ں سے اپنا ہاتھ نکال لیا ۔۔۔۔اور ٹھنڈی سا نس لیکر کھڑی ہو گئی ۔اب وہ کافی پر سکون نظر آرہی تھی ۔
"کافی پیو گی ؟" مینے اپنا تھر مس کھو لا ۔۔۔۔
"نہیں ۔۔۔۔"لیزا نے اپنا سا مان سمیٹا اور مسکرا کر میری طرف دیکھا ۔
"کیا آج تم مجھے کسی اچھے ہو ٹل میں لنچ نہیں کروا ؤگے دوست ۔۔؟"
اسکے چہرے پر اک ایسی مسکرا ہٹ تھی جیسے شدید بارش کے بعد دھو پ نکل آئی ہو ۔
بارش تھم گئی تھی ۔۔۔پلکو ں اور بالو ں پر با رش کے قطرے چمک رہے تھے اور ہم دو نو ں ہا تھو ں میں ہاتھ لیئے پارک سے باہر نکل رہے تھے ۔۔۔ہمارے پیر وں تلے سنہرے پتّے چر مرا رہے تھے ۔
امید اب بھی کہں باقی تھی ۔ زندگی پھر جینے کے لیئے ہمک رہی تھی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭