Tuesday, January 28, 2014

چاند چہرہ ۔
آج تقریباً ایک ہفتہ کے بعد ٹھیک سے بیٹھ کر آرام سے آیئنہ دیکھنے کی مہلت ملی تھی صبح کے دس بجے ہونگے ۔کمرے کا مشرقی دریچہ کھول دیا تھا ،بڑی نرم سی خوشگوار، سبک ہوا چہرے کو چھو رہی تھی اچانک ہی میں چو نک پڑی ۔۔۔ارے تو کیا میں بو ڑھی ہو رہی ہوں ؟؟؟سنبھل کر آیئنہ مضبو طی سے پکڑ لیا پو ری آنکھیں کھول کر دھیا ن سے دیکھا ،واقعی چہرہ بجھا بجھا سا تھا ،میں افسردہ سی پلنگ کے کنا رے ٹک گئی ۔
ایک بار پھر آیئنے کو گھو را مگر بھلا گھورنے سے اسکا پا رہ تھو ڑی مر جاتا ہے ۔
یہ تو آجکل کی لڑ کیا ں پرا ئیمری کلا س سے نکلیں اور پہو نچ گئیں بیو ٹی پارلر ۔۔۔
نہ جانے کیا کیا کرواتی ہیں تھریڈینگ ،ہیر ڈریسنگ ۔ڈایٹنگ
اور خدا جانے کیا کیا ۔۔۔نہیں سیکھینگی تو گھر داری ۔۔۔
بر تن نہیں دھو تی ہیں کہ ہاتھوں کا ستیا ناس ہو جائے گا ۔
کھا نا ان سے نہیں پکتا ۔کپڑے دھویئں گی تو نا خون ٹو ٹ جایئںگے ۔۔۔
ایک ہم ہیں ساری زندگی کام میں لگے رہے  نو کروں کے ہوتے با ورچی خانے میں گھسے رہے ،جلد کا حال خراب کر لیا ۔
میا ں جی کی خوش نودی میں بر یانی کو فتے بنا تے رہے ،ان کے کپڑے اپنے ہا تھوں سے دھو نا اپنی خوش نصیبی سمجھتے رہے ۔۔دنیا بھر کے کام لاد لیئے اپنے اوپر ۔۔۔گالو ں کو بے رونق کیا ۔۔۔آنکھو ں میں حلقے ۔۔۔پیشا نی پر سلوٹیں۔۔ لو ۔۔اور مو ڈ آف کرو ۔۔۔میا ں دیر میں آئے تو پیشا نی پر سلو ٹیں ۔۔بچو ں نے ضد کی تو تیو ری چڑھ گئی ۔۔اور تو اور ۔۔جب امّاں بی کو ذیادہ پیسو ں کی ضرورت ہوتی تو بس پھر کیا اندر کا سارا پانی جل کے خاک ہو جاتا ۔۔
بس اس عید پر تو پہلے سے اپنے کو ٹھیک ٹھاک کر نے کے لئے بیو ٹی پارلر ضرور جانا ہے ۔۔۔کوئی خر چہ ورچہ نہیں دینا کسی کو ۔۔۔۔
اسبار جی بھر کے اپنی ذات پر خرچ کرنا ہے ۔۔۔۔میاں صا حب بھی تو اب نظر بھر کے نہیں دیکھتے ۔۔۔فر صت کہا ں؟ اور وجہ تو یہی ہے کہ میر ی صورت ہی ایسی ہو گئی ہے ۔۔۔
اور یہ نند صا حبہ اپنا گھر چھو ڑ کے آبیٹھی ہیں ۔۔انکا خرچ الگ ،کپڑے لتّے بنا ؤ کھلا ؤ پلا ؤ جان مارو ۔۔۔۔مگر کسکو فکر ؟؟
ہم سے اب نہ ہوگا  میں کہے دیتی ہو ں اس بار میا ں جی سے صا ف بات کر نی ہے  مجھے عید سے پہلے پہلے کم از کم دس ہزار اپنے لیئے لینے ہیں ۔۔چا ہے کہیں سے بھی دیں ۔۔۔مجھے نہیں پتہ ۔۔۔
چہرہ ٹھیک ٹھاک کر وانا ہے ۔بال ترشوانا ہے اور ہاں پیڈی کیور مینی کیور بھی کرواؤنگی ۔۔۔
مگر پھر سارے خرچو ں کا سو چکر ٹھینڈے پسینے آنے لگے
کہا ں سے ہوگا یہ سب ؟؟؟
بھلا حسنِ جہا ں سوز کا خرچہ کہا ں سے نکلے گا ۔
اب ایک بار پھر نا امیدی کا کالا سمندر تھا اور میں ۔
اکیلے آدمی کو بہکانے کے لیئے شیطان بھی تیّا ر ہی بیٹھا رہتا ہے ۔۔اکیلے اس لیئے کہ ساس اور نند کے پاس بیٹھ کر  وقت ضایع کر نے سے اچھا اکیلے بیٹھنا لگتا ہے ۔سو ہم نے پکّا ارادہ کر لیا ۔۔۔اس بار امّاں بہن کو کچھ دینے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔اور ایک عزم سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔
تھو ڑی بہت ڈسٹینگ کی رمضان میں کھانے سے تو فرصت ہی مل جاتی ہے ۔۔۔کئی بار سو چا قران اٹھا لوں
تلا وت کر لوں ۔۔مگر ذہن میں جملے تر تیب دینے تھے ،کسطرح میا ں کو قائل کرنا ہے کہ اسبار "ان لو گوں 'کو پیسے نہ دیں ۔۔شام کے لیئے چنے بھگو دئے ۔۔۔نند صا حبہ شام کو اکثر کو ئی اچھی ڈش بنا دیتی تھیں ۔۔چلو اس سے بھی مجھے فر صت ہو گئی ۔
شام کو گھنٹہ دو گھنٹہ امّاں کے پاس بیٹھ کر ہی کمرے میں آتے ہیں ۔۔۔چلو یہ تو کوئی بات نہیں بس میں ٹھیک سے انکو قائل کر لوں ۔۔کسی طرح میری پریشانی سمجھ جائیں تو امّاں اور بہن کو دینے والے پیسے روک کر مجھے دے دیں ۔۔
محّلے کی عورتیں بن سنور کے آتی ہیں بیو ٹی پالر سے اور ایک میں ہوں ۔۔سو چتے سو چتے نیند آنے لگی اور وہیں ڈرانیئگ روم میں ہی سو گئی
آنکھ کھلی تو دیکھا میا جی سامنے بیٹھے مجھے دیکھ رہے تھے چہرے پر پریشانی تھی ۔
"کیا ہو گیا ۔۔۔۔یہا ں کیو ں سو گئیں ؟؟"
"بس وہ ڈسٹنگ کر رہی تھی نیند آگئی "
چلو کمرے میں لیٹ جاؤ ۔۔
اب تو افطار کا وقت بھی قریب ہے ۔۔۔طبیعت ٹھیک ہے تمہاری ؟؟
وہ فکر مندی سے میری پیشانی چھو کر دیکھ رہے تھے
"ہا ں ٹھیک ہو ں بس ۔۔۔" میں آہستہ آہستہ اٹھ کر کچن کی طرف گئی ۔دیکھا دو نوں ما ں بیٹی افطار اور کھانا بنا چکی تھیں اب پلیٹیں نکال رہی تھیں ۔۔مجھے دیکھ کر بو لیں
"کیا ہوا دلھن ؟؟کیسی طبیت ہے "
"ٹھیک ہو ں " مینے لٹھ سا ماردیا اور کمرے میں چلی آئی
بستر پر ڈھیر ہو گئی ۔۔۔آہ کتنا آرام ملا ۔۔۔صو فے پر تو کمر تختہ ہو گئی تھی ۔
یہ الگ بیٹھے اخبار دیکھ رہے تھے ۔
"سنیئے ۔۔۔"
"ہا ں جی بو لیئے " انھوں نے اخبار کا کو نہ ہٹا کر مجھ پر نظر ڈالی ۔
"وہ میں یہ کہہ رہی تھی ۔۔۔۔کہ امّاں بی اور نگھت آپا کو جو پیسے ۔۔۔۔۔۔"
پو ری بات منھ سے نکلی بھی نہیں تھی کہ وہ ایکدم اخبار رکھ کر میرے قریب آگئے اور بولے
"کتنی عظیم ہو تم شیرٰیں ۔۔۔۔تمہارا نام ہی شیریں نہیں تم سچ مچ  شیریں زبان ہو ۔۔کتنی فکر ہے تمکو امّاں اور باجی کی ۔۔میں تو سو چ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔
بلکہ مین تو سمجھ رہا تھا تم عید کے پیسے دینے نہیں دو گی مگر میں غلط تھا ۔۔۔مجھے معاف کر دو شیریں مینے تمہارے لئے ایسی بات سو چی بھی کیسے ؟"
انھوں نے ہتھیلیو ں میں میرا چہرہ تھام لیا تھا اور بول رہے تھے ۔۔

"کتنا  چاند سا چہرہ ہے میری بیگم کا کسی میک آپ کے بغیر چمکتا ہے " ۔۔۔۔      

افسانہ ۔۔۔۔۔۔۔دیمک زدہ ماضی  از انجم کدوائی


ریا ستیں مٹ گئیں ،جا گیر یں ختم ہو گئیں مگر آج بھی محلات اور حو یلیوں کے کھنڈرات میں نہ جا نے کتنی کہا نیا ں پو شیدہ ہیں ،کتنی سسکیا ں اور آہیں اب بھی فضا میں گو نج رہی ہیں
"ای لو ٹا بکیئے آوا رہیئے "
خستہ تن خستہ پیر ہن علا قے کے سنار علا دین کے ہا تھو ں میں بڑا سا سنہرا لو ٹا کا نپ رہا تھا ۔اس لو ٹے پر رانی صا حب کا نا م کھدا ہوا تھا علاقے میں اسے بیچنے کی ہمّت کس نے کی ؟ڈیو ڑھی کی زنجیر کھٹکھٹا کر جب منشی جی نے لو ٹا اندر بھجوا یا تو حو یلی میں ہلچل مچ گئی ،اک یہ لو ٹا ہی نہیں کا فی دنو ں سے بڑی حویلی کی کئی چیزیں دو سرے علاقے میں دستیا ب ہو ئیں کچھ ہلکے زیور کچھ بر تن ،مگر جب سامان کی کو ٹھری میں سیندھ لگی اور سو نے چا ندی کے زیور و ں کے ساتھ رانی صا حب کے اشر فی ٹکے گرا رے اور کر تے چو ری ہو ئے تو انکا صبر جوا ب دے گیا ۔ایک ایک ملا زم کو پکڑ کر اس کی اچھی طر ح مر مّت کی گئی تھانے سے دارو غہ تک بلا لیئے گئے ،مگر چو ر کا پتہ نہیں لگ سکا ۔رانی صا حب کا سارا کام کر نے والا چھو ٹا سا کم عمر ملا زم وجّو (جسکا نام اسکے والدین نے وجا ہت رکھا تھا )تک انکے عتاب سے نہ بچ سکا ۔رانی صاحب نے بھاری بھر کم پلنگ کا پا یہ اس کے نر م و نازک ہا تھ پر رکھوادیا اور اپنی لحیم شحیم ملا زمہ کو حکم دیا کہ وہ اس پلنگ کے پا ئے پر کھڑی ہو جائے ،وجّو کی نر م نا زک انگلیا ں تک کڑ کڑا کے ٹو ٹ گیئں مگر رانی صا حب کا حکم تھا سو ملا زمہ اسی طرح کئی منٹ تک کھڑی رہی اور وہ بے حس بنی دیکھا کیئں اور وجّو بیہو ش ہو گیا ۔
شا م تک وجّو کو اسپتال پہنچا نے والے اعجاز میا ں تھے وہ چو ری کی تہہ تک پہو نچ چکے تھے مگر اس چو ر کا علاج ممکن نہ تھا ۔
رانی صا حب کے چھو ٹے بیٹے شہزاد عا لم کی صحبت ایسے لو گو نکے ساتھ تھی کہ انکو روز ہی بڑی بڑی رقموں کی ضرو رت پڑ تی رہتی ۔خر چ کے نام پر ان کو اچھی خا صی رقم مل جایا کر تی تھی مگر جہا ں اس قسم کے شوق ہو ں وہا ں تو جا گیر یں کم پڑ جا تی ہیں یہ تو بند ھی ٹکی رقم تھی جو را نی صا حب ہر ما ہ انھیں د یتی تھیں ۔شہزاد عالم کی سر گر میا ں وہی تھیں جو عا م طو رپر بگڑے رئیسوں کی ہو ا کر تی ہیں ،کو ٹھو ں پر جا نا شراب و شباب کی محفلیں سجا نا اور تو اور گھو ڑوں کی ریس میں بھی حصہ لیا کر تے تھے ۔رانی صا حب کسی حد تک انکے شو ق پو رے بھی کر دیتی تھیں مگر مصیبت یہ تھی کہ علا قے کی آمد نی دن بہ دن گھٹ رہی تھی چھو ٹے زمیندار سر اٹھا نے لگے تھے ۔

حو یلی کے سامنے کھلے میدان میں یو کلپٹس کے پیڑ لگا ئے جا رہے تھے کیو نکہ پرانے سارے درخت جو راجہ صاحب اور ریا ست امیر پو ر کے راز دار تھے ،جڑ سے اکھڑ نے لگے تھے ۔
شاید اب غریب بیمار ما یوس رعا یا کو بھی اپنا خیال آنے لگا تھا زندگی کی حقیقتیں ان پر کھلنے لگی تھیں اور اسکی وجہ تعلیم تھی ،وہ تعلیم جو اعجاز میا ں ان سب کو دے رہے تھے ۔
اعجاز میا ں بھی اسی ریا ست امیر پور کے غریب مولوی فتح محمد کے بیٹے تھے ،جو کہ بچوّں کو قرانِ پاک کی تعلیم دیتے تھے۔انھوں نے شہر جا کر پڑھائی پو ری کی اپنی تعلیم پو ری کر کے وہ واپس علاقے میں آگئے اور ان سو ئے ہو ئے لو گو ں کو جگا نے کا بیڑہ اٹھایا اور راجہ صا حب کی ما یوس رعا یا کی آنکھو ں میں رو شنی آگئی ۔ان کاا سکول بچّوں اور بزرگوں سبھی کے لئے کھلا تھا ،مگر رانی صا حب کو کیسے گوا رہ ہو تا ،لہٰذا حو یلی میں طلبی ہو گئی ۔
"ہم تم سے یہ پو چھتے ہیں "پر دے کے پیچھے سے آتی ہوئی تلخ اور کرا ری آواز نے انکا طلسم تو ڑ دیا ۔
"تمہیں کیا حق ہے کہ علاقے کے لو گو ں کے لیئے اسکو ل کھو لو اورلو گوں کو غلط سلط تعلیم دو ۔۔۔۔"
"سلام عر ض کر تا ہو ں۔حق تو میرا کو ئی نہیں ہے شاید۔۔۔مگر مجھ پران اپنوں ں کے کئی فر ض ہیں اور میں اپنا فر ض پو را کر تا ہوں ،کیو نکہ اسی زمین کا بیٹا ہو ں ۔یہا ں کے لو گو ں کو مکمل تعلیم سے آراستہ کر نا چا ہتا ہو ں ،ان کی زندگی بنا نا چا ہتا ہو ں ۔
"تم زند گی بنا ئو گے انکی ۔۔۔؟؟؟؟"انھو نے نخوت سے پان کی پیک اگلدان میں تھو کی ۔" آئندہ اس قسم کے کو ئی کام نہ ہو ں تم ہما رے ملا زمو ں کو بگا ڑ رہے ہو کل سے تم زمینو ں کا حساب کتا ب دیکھو گے ،منشی جی اب ضعیف ہو گئے ہیں "انھوں نے گو یا بات ختم کر دی ۔اعجاز خاموشی سے ان کے بے بنیاد الزا مات اور احکا مات سنتا رہا پھر اس نے ایک ٹھنڈی سا نس بھر کر قدم با ہر کی طر ف بڑھا دیئے ۔اور اندر رانی صا حب کے پا س بیٹھی نو رالنساء بی بی کے دل میں یہ سا نس ترازو ہو گیا ،یہ پہلا مو قع تھا جب انھوں نے بڑے ہو کر اعجاز کو دیکھا ۔۔۔۔
لمبا قد سا نو لا رنگ مضبو ط جسم سیدھے سیا ہ بال کشا دہ پیشا نی اور گہری ذہین آنکھیں ،متبسم ہو نٹ اور بے نیا ز اندا ز نورالنساء کے دل میں اتر گیا ۔۔۔۔۔۔۔ملنے کے راستے انکی خا ص ملا زمہ نے فیرو زہ نے طےء کیئے اور مو لوی صا حب کے گھر وہ جس دشواری سے پہونچی وہ الگ کہا نی ہے مگر اعجاز اسے دیکھ کر بھو نچکّا رہ گیا ۔" آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ آپ یہا ں ۔۔۔؟ " اسکے منھ سے صحیع الفاظ بھی نہیں نکل رہے تھے
وہ مکمل پردے میں تھیں ،لمبے سیا ہ لبا دے میں انکا مر مریں جسم پو شیدہ تھا لمبے گھنے سیا ہ بال پشت پر پڑی شا ل سے ڈھکے ہوئے تھے ،گلابی پر تبسم چہرہ سیاہ شال کے ہالے میں چمک رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خو بصورت آنکھیں پو ری کھلی ہو ئی تھیں اور انھوں نے بڑے عا جزانہ طر یقے سے اعجاز کو مخا طب کیا ،
"کیا آپ ہمیں پڑھا یئں گے ۔۔۔۔؟"وہ سرا پا التجا ء تھیں ۔
لیکن رانی صا حبہ ۔۔۔۔؟ میرا مطلب ۔۔۔۔وہ تو ۔۔۔۔۔؟
"کیا آپ پڑھا ئیںگے ہمیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟سوال ایک بار پھر سے دہرا یا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اعجاز کا دل بڑی زور سے دھڑکا ۔۔۔۔۔۔۔۔آج اسے محسو س ہوا کہ ایک معصوم خو بصو رت بلکہ بے تحا شہ خو بصو رت وجود ۔۔جس نے انکے خوا بوں کو منّو ر کیئے رکھّا تھا وہ تو نور النساء بی بی ہی تھیں ۔۔بچپن میں جب وہ حویلی آجایا کر تا تو اکثر ایک چھو ٹی سی معصوم گلا بی گلا بی لڑکی اسے اپنے ساتھ کھیلنے پر مجبو ر کر تی تھی اور وہ رانی صا حب کے ڈ ر سے ان سے دور دور ہی رہتا ۔پھر وہ اپنی تعلیم میں ایسا محو ہو گیا کہ سب کچھ بھو ل گیا مگر ایک کالی آنکھو ں والی گلابی سی شبیہ اکثر اسکے ذہن کے پردوں پر جگمگا تی رہی ۔اور آج اسکا تصور اسکے سامنے تھا تو اسکی کیفیت ہی عجیب تھی اور جب نو ر النسا ء نے اپنا سوال د ہرا یا تو کوئی چیز چھن سے اسکے اندر ٹو ٹ گئی جسے وہ اپنا غرور سمجھتا تھا وہ اس گھنے لمبے سیاہ بالو ں والی مید ہ و شہا ب رنگت والی لڑکی نے ایکد م تو ڑ دیا ۔وہ تو ایک تا زہ کھلا گلاب اسے سینے میں دھڑ کنے کے لیئے رکھ گئی جس کی خو شبو سے مسحو ر ہو کر اعجاز سب کچھ بھو ل گیا ،یہا ں تک کہ اپنی حیثیت بھی ۔
محبّتو ں کی خو شبو دار پا کیزہ شامیں ،سنہرے جمگا تے دن انھیں کچھ سو چنے کا مو قع دیئے بغیر گز رتے رہے ۔نورالنسا ء کی ملازمہء خا ص فیرو زہ انکی ملا قات کا انتظام کر تی رہی ۔
'اعجاز !۔۔۔۔۔"
اسکی لمبی سیاہ زلفیں بھیگی بھیگی ہوا ئوں سے بکھر رہی تھیں ۔
"ہا ں نور ۔۔۔۔بو لو "
اعجاز کھلی آ نکھوں  سے نہ جا نے کیا کیا خو اب دیکھ رہا تھا
"مجھے یہا ں سے لے چلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہیں بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہیں بھی لے چلو مگر بس لے چلو ۔۔۔"
"نہیں نو ر بی بی میں آپکو کہیں نہیں لےجا سکتا ۔۔کہیں بھی نہیں میرے حصّے میں امید بہت کم آئی ہے ۔۔بہت غریب ہو ں میں "وہ جیسے اچا نک ہو ش میں آگیا ۔" میرے پا س آپکے لا ئق کچھ بھی نہیں ہے ۔اور آپکی بد نا می ہو یہ میں سہہ نہیں پا ؤنگا ،میرا دل تو ہمیشہ ٹو ٹتا ہی رہا ہے نو ر بی بی ۔۔۔۔" اسنے اپنا سر جھکا لیا ۔۔۔۔شا ید آنسو چھپا ئے ہو ں ۔
"مگر ۔۔۔۔۔۔میں تو غریب نہیں ہو ں ۔۔"اسنے ایک معصو م سی پیشکش کی ۔
"نو رالنساء بی بی !آپ میری انا چکنا چور کر نا چا ہتی ہیں ؟میں آپ کو عزّت کے ساتھ اپنا نا چا ہتا ہوں اس کے لیئے مجھے سخت محنت کر نی ہو گی اپنے آپ کو آپکے لا ئق بنا نا ہو گا کہ اپکو دنیا کی تمام خو شیا ں دے سکو ں اور یہ میرا وعدہ ہے آپسے "
"مگر میں تب تک کیسے رہو ں تمہا رے بنا ۔۔۔۔؟"وہ بے بسی سے اسکا چہر ہ دیکھ رہی تھیں ۔
"جیسے اب تک رہی ہیں آپ ۔۔۔اعتبا ر کا رشتہ دنیا کا سب سے خو ب صو رت رشتہ ہے نور ۔۔۔اس رشتے کی قدر کیجیئے ۔۔خوا ہشو ں کی انتہا تو کہیں نہیں ہے ،آپ کو معلوم ہے جو رانی صا حب اتنی بڑی ریا ست کی ما لکن ہیں ،بے سکو ن ہیں ،انھیں اپنی خواہشو ں کےاس پا ر معصوم زندگیا ں نظر ہی نہیں آتیں ۔ انھیں لگتا ہے ابھی انکے پا س "کم ' ہے انھیں " اور " کی بھو ک خو ش نہیں رہنے دیتی ۔۔۔"وہ رک کر نورالنساء کی جانب مڑا
"شہزاد عالم صا حب ۔۔۔چھو ٹے راجہ ہیں اور کس راہ پر چل نکلے ہیں اسکی انھیں پر واہ بھی نہیں ۔پیسو ں کا تقا ضہ لیکر روز میرے پاس آفس آجاتے ہیں اور یہ پیسہ کس کا رِ خیر میں خر چ ہو رہا ہے ؟ میں آپ سے کیا بتا ؤں ۔آپکو برا تو لگ رہا ہو گا بی بی ۔۔۔؟"
" نہیں اعجاز میں تو خد اس بات سے نا لاں ہو ں ۔۔کا ش ہم غریب ہو تے ۔۔۔"اسنے اپنا سر جھکا لیا ۔
"پتہ ہے نو ر بی بی ہما را المیہ کیا ہے ؟ "وہ دو نو ں ہا تھو ں کی انگلیا ں ایک دو سرے میں پھنسا تے ہو ئے سر ہا نہ بنا کر سبزے پر لیٹ گیا ۔" کہ ہما ری خوا ہشوں کے سرخ جنگل میں راستہ کہیں نہیں ہے ہر ایک اپنی اپنی آرزوں میں جی رہا ہے اور پھر بھٹکتے بھٹکتے عمر کی پو نجی بھی ختم ہو جاتی ہے ہم خو ا ہشوں کو پو را کر کے بھی نا مراد چلے جاتے ہیں ہا تھ تو ہمیشہ خا لی رہتے ہیں نا ؟؟"
مگر وہ کیسے بتا تی ۔۔۔کہا ں ہے میر ے پا س کچھ ؟تمہا ری نظرو ں کے طلسم سے زیا دہ ،تمہا رے لمس سے زیا دہ مجھے تو کچھ نہیں چا ہیئے ،مگر اعجاز تم نے تو مجھے کبھی چھوا بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر یہ الفا ظ ہو نٹو ں سے ادا کر نا ان کے بس کی بات نہیں تھی ۔
اچا نک حو یلی میں طو فا ن آگیا ۔۔۔۔۔۔اعجاز اور نو رالنسا ء کی معصوم محبّت رانی صا حب سے کب تک چھپی رہ سکتی تھی ۔۔۔انھوں نے اناً فا ناً عظمت اللہ کے بد کر دار عیا ش بیٹے الطاف کا رشتہ نور النسا ء کے لیئے قبو ل کر لیا ،جسکے لیئے وہ کئی مہینو ں سے تذبذب میں تھیں ۔شا دی کی تیا ریا ں شروع ہو گئیں ۔اعجاز زخمی پر ندے کی طر ح پھڑ پھڑ ا تا رہا اور حویلی سجتی رہی ۔۔۔۔نور النساء کو نگرا نی میں رکّھا جانے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مر ا ثنو ں نے آکر گلے پھا ڑنے شر وع کر دیئے ۔پیلا جو ڑا پہنے نو ر۔۔۔۔۔آنسو بہا تی رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب انکے ہا تھو ں پیر وں میں منہدی رچا ئی جا رہی تھی تبھی فیرو زہ بھاگتی ہو ئی آئی اور انکے قد مو ں پر سر رکھ دیا ۔۔۔وہ روتی جا رہی تھی اور نور اسکا چہرہ دیکھ رہی تھیں ۔۔ایسی کیا بات تھی جو اسنے نو ر بی بی کے کا نو ں میں کہہ دی اور وہ پتّھر کی ہو گئیں ۔۔۔۔۔آنسو رک گئے ۔۔۔پھٹی پھٹی آنکھو ں سے اسے دیکھتی رہیں ۔
" قا ضی صا حب آرہے ہیں پر دہ کر لیئو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"نا ون ڈیو ڑھی سے لیکر آنگن تک آواز لگا رہی تھی عو رتو ں اور لڑ کیو ں نے رنگ بر نگے دوپٹوّں سے اپنے چہرے ڈھا نپ لیئے ۔قا ضی صا حب نے پر دے کے اس پار بیٹھ کر دلہن کا عکس دیکھا تو حیرا ں رہ گئے ان کا تو سر بھی جھکا ہو ا نہیں تھا ۔وہ سر پر بغیر دوپٹّہ لیئے بیٹھی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قا ضی صا حب نے کا روا ئی شرو ع کی ۔۔۔۔۔" کیا آپ کو قبو ل ہے ؟؟؟؟"
"نہیں ۔۔۔ہر گز نہیں ۔۔۔"یہ آواز نہیں تھی ایک پھنکار تھی جو نا گن کے منھ سے نکلتی ہے ۔۔ایک چا بک تھا جو را نی صا حبہ کے جسم کو نیلگو ں کر گیا
"جی ؟؟"قا ضی صا حب اور سارے گواہ سرا سیمہ تھے ۔
"میں نے واضح الفا ظ میں انکار کیا جناب "
" مگر بی بی صا حب ۔۔۔۔" انکی آواز لڑ کھڑا گئی
"کیا شر یعت بھی سر مایا پر ستو ں کے زیرِ اثر ہو گئی ہے ؟ میں نے انکار کیا قبلہ "نور النسا ء بیگم پر وقار انداز میں کھڑی ہو گئیں گو یا کہتی ہو ں اب تشریف لے جا یئے ۔
با رات لو ٹ گئی ان ہو نی ہو گئی ۔۔۔سارے لو گ واپس چلے گئے ۔۔۔۔حویلی اچانک ویران ہو ئی ۔۔۔۔۔۔۔۔

بیس بر س کا طویل عر صہ کیسے گزرا یہ تو را نی صا حب اور نو ر بی بی ہی جانتی تھیں ۔قرض سے لدی ہو ئی حو یلی کی عزّت مٹّی میں مل گئی وقت ایسا بد لا جیسے کسی کی بد دعا لگ گئی ہو ۔۔۔۔نو ر النسا ء نے اپنے آپ کو رنگو ں اور بر ش میں چھپا لیا رات دن تصویریں بنا نے میں کھو ئی رہتیں ان کا اپنا رنگ کب اتر گیا انھیں خود خبر نہ تھی ۔رانی صا حب اپنی طو یل بیماری اور معزو ری کے با عث ایک کمر ے کی ہو کر رہ گئیں ۔
نور النساء بی بی نے ایزل پر بنائی ہو ئی پینٹنگ میں گہرا ہرا رنگ لگا یا ہی تھا کہ فیرو زہ نے آکر را نی صا حب کی طلبی سنائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" کہد و کہ ابھی آتے ہیں ۔۔۔" وہ مطمئن انداز میں اپنا کام کر تی رہیں اپنے با لو ں کی سفید لٹو ں کو سمیٹ کر جب وہ ما ں کے بستر کے قریب آیئں تو وہ ہڈ یوں کا ڈھا نچہ بنی حسرت سے انھیں تک رہی تھیں ۔شا ید وہ کچھ کہہ رہی تھیں اور شا ید نور النسا ء بی بی انھیں جو اب بھی دے رہی تھیں ،خا مو شی گہری ہو تی جا رہی تھی ،تبھی سنّا ٹا ٹو ٹ گیا ،
"امّی حضو ر! آپ نے جو چا ہا آپکو ملا پھر بھی آپکی توقعا ت ختم نہیں ہو ئیں ،ہم نے جو مانگا وہ آپ نے میسّر نہ ہو نے دیا ۔اعجاز بڑی مسجد کی دیوار میں چنے ہو ئے آج بھی جوان ہیں اور ہم بو ڑھے ہو گئیے ،آپ کی تو قعات اور خو اہشات اب تک ختم نہیں ہو ئیں ۔۔۔۔۔مگر ہما ری ہو گیئں اسی لیئے ہم مطمئن اور آپ بیقرار ہیں ۔۔۔۔آپکی ۔خوا ہشا ت کا زرد جنگل اب دیمک ذدہ ہو چکا ہے وہ آپکو نگل رہا ہے امّی حضو ر تو قعات نے آپکو تو ڑ دیا ہے ۔۔۔۔
یہی دونو چیزیں تو ہیں جو ہمیں رنج کے دلدل میں ڈھکیلتی ہیں ،آپکو مجھ سے بھی کچھ چا ہیئے مجھے معلوم ہے وہ چیز ہے "معا فی ' اور " وہ لمحہ بھر کو رکیں ۔۔۔۔پھر عجیب تلخ اور کا ٹتے ہو ئے لحجہ میں بو لیں " ہم نے آپکو معا ف نہیں کیا "
ختم شد

Top of Form

Bottom of Form


اللہ کے نام پر

بڑا سا کچّا صحن ،دونوں طرف بڑے بڑے دالان تیسری طرف ڈیو ڑھی  اور چو تھی طرف  با ورچی خانے کا    بر امدہ ۔وہ بڑی  دیر سے برامدے کی زمین پر بیٹھی لایئنیں کھینچ رہی تھی ،مینے مڑ کر دیکھا پتہ نہیں کس   سو چ میں تھی ۔
کیا ہوا خلیقن"۔۔۔۔۔۔مینے آہستہ سے اسے آواز دی 
وہ ایکدم چونک کر اٹھی اور جھاڑو دینے لگی ۔
کچھ نہیں بٹیا ۔۔۔۔۔۔"اسکا چہرہ بتا رہا تھا  کہ کچھ ہے ضرور ۔
کچھ تو ہوا ہے  بتاؤ مجھے ۔۔۔۔۔۔"مینے اسے اشارہ کر کے اپنے پاس بلایا ۔اور کتاب بند کر دی ۔وہ آکر میرے قریب زمین پر بیٹھ گئی ۔
"ٹھیک سے بیٹھو پٹری لے لو ۔۔"مینے لکڑی کی پٹری کی طرف اشارہ کیا ۔
"کا ٹھیک سے بیٹھیں بٹیا ۔۔۔۔۔ابّا تو پگلائے گئے ہیں ۔"وہ جھنجھلائی ۔
کیا بک رہی ہو اتنے اچھّے تو ابّا ہیں تمہارے  کتنا خیال رکھتے ہیں  بیچارے تمہیں کھانا تک تو پکا کر کھلا تے ہیں ۔"
"ارے تو کا بھوا ۔۔۔۔ہم ہو کبھی کبھی پکائے لیت ہیں ۔۔کون بڑا کام کر ت ہیں "(ارے تو کیا ہوا ۔ہم بھی تو کبھی کبھی پکا لیتے ہیں  کون سا بڑا کام  کر تے ہیں )
"تم تو بہت بری ہو اتنے اچھّے ابّا کو ایسے بو لتے ہیں کہیں ؟؟"
"اچھّے وچھّے نا ہیں او۔۔۔۔۔۔۔۔تمکا تو کچھ پتہ نہیں  ہے ۔۔۔او ہمرا بیاہ ٹھکوائے  دیئں ہیں ۔"( انھو ں نے ہما ری شادی طے کر دی ہے )
"یہ تو خو شی کی خبر ہے بھئی ۔۔۔۔لاؤ مٹھائی وٹھائی کھلاؤ ۔۔۔" مینے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔
"کاہے کی مٹھائی ۔۔۔۔ہم نہ کر بئے بیاہ ۔۔۔۔۔۔۔سلیمن کا کروائے دیں "
"سلیمن تو چھو ٹی ہے ابھی ۔۔۔۔چلو اچھّا کام ختم کر و " مینے اپنی کتاب پھر سے اٹھا لی  مگر بات یہا ں ختم نہیں ہوئی ۔
اسکی شا دی واقعی طے ہو گئی تھی ۔۔۔اسی جمعہ کو       با رات آرہی تھی ۔گا ؤں میں گھہما گہمی سی ہو گئی ،لاؤڈاسپیکر پر گانے شروع ہو گئے ۔گاؤ ں کی لڑ کیا ں اپنے رکھّے رکھا ۓرنگ برنگے  اچھّے کپڑے پہن کر   پو رے گا ؤں میں گھو متی پھریں ۔۔۔
رات کو شادی کا کھانا بھی آیا سمیع با بو کے گھر سے ۔کافی دھوم دھام سے خلیقن کی شادی ہو گئی اور وہ خوب زور زور سے روتی ہو ئی رخصت ہو ئی وہ لو گ اسے ٹریکٹر کی ٹرالی میں رخصت کروا کے لے گئے ۔مینے اسکے لیئے چند جو ڑے کپڑے اور ایک چاندی کا سیٹ بھجوا یا ۔۔
وہ میر ے گھر پر بچپن سے ہی کام کر تی تھی ۔پہلے پہل اپنی امّاں کی انگلی  تھامے ہو ئے ڈری سہمی آتی  اور ایک کو نے میں بیٹھی انھیں کام کر تے دیکھتی رہتی ۔کچھ بر س ہو ئے اسکی امّاں کا انتقال ہو گیا  تو وہ اکیلی آنے لگی اسنے گھر کا سارا کام سنبھال لیا تھا ۔۔کبھی کبھی وہ اپنی چھو ٹی بہین کو بھی لے آتی اور وہ بھی اسی طرح ایک کونے میں بیٹھی رہتی ۔خلیقن کچھ کھانے کی چیز اس کے سامنے رکھ دیتی  اور خود کام میں لگی رہتی  مجھے بھی اسکی عا دت سی ہو گئی تھی ۔
گھر پر با با ،بھیّا اور میں  تھی ۔کام ذیادہ نہ تھا ۔۔مگر اتنے بڑے گھر کی صفائی اور کچّے آنگن کی جھا ڑو  میں ہی ایک گھنٹہ لگ جاتا اور دوسرے تب ہمارے گھر میں گیس کا چو لھا بھی نہیں تھا ،لکڑی جلا کر ہی کھانا بنتا ۔۔   ۔  کھا نے کی تعداد کا بھی کچھ پتہ نہیں کبھی بھی کئی لو گ کھانے پر آجاتے اور وہ جلدی جلدی سا را انتظام مہا رت سے کر لیتی ۔
میں چند ماہ پہلے ہی ہو سٹل سے گھر لوٹی تھی یہا ں کے کامو ں کی عا دت بھی نہیں تھی ۔۔ہر وقت خلیقن کی ضرورت رہتی تھی ۔۔۔۔اسنے گھر احسن طریقے سے سنبھالا ہو ا تھا ۔اسکے ہا تھ میں بہت ذائقہ تھا ،دال بہت مزے کی پکاتی ،ترئی گوشت تو لا جواب ہو تا تھا اسکے  ہا تھ کا ۔۔بیسن کی روٹی لہسن کی چٹنی جب اصلی گھی میں تل کر لاتی تو میں اور بھیّا کئی رو ٹیا ں صاف کر جاتے  اور پھر خوب ہنستے ۔۔۔۔کیو نکہ خلیقن  دوبارہ آٹا گوندھ رہی ہوتی ،دو بارہ چٹنی  بگھار رہی ہوتی  اور خود بھی ہمارے ساتھ ہنستی رہتی ۔۔۔۔۔۔اسکے ماتھے پر کبھی کوئی بل نہیں آتا  کہ وہ گر می میں دو بارہ سا را کام کر رہی ہے ۔۔۔۔۔

اسکے جاتے ہی سمیع با بو نے دو سری عو رت کا انتظام کر دیا تھا اور سروری نے کام سنبھال بھی لیا تھا ۔۔۔مگر خلیقن والی بات کہا ں سے آتی ؟؟ مجھے تو ہر وقت اسے آواز د ینے کی عا دت سی پڑ گئی تھی ۔۔۔۔۔
ہر کھانے میں ہم خلیقن کے ہا تھ کا مزا ڈھو نڈتے رہ جاتے ۔۔مگر ۔۔۔۔۔
جمعہ کو اسکی شا دی ہو ئی اور اتوار کو وہ  منھ پھلائے میرے سامنے بیٹھی تھی   ۔
"اب کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔" ؟مینے ہنستے ہنستے اسے گلے سے لگا لیا ۔
مگر وہ تو واقعی خفا تھی 
" بو ل ۔۔۔کیا ہو ا ۔۔؟ کیسا ہے تیرا میا ں ؟"
" ارے کیسا ہے ؟؟؟ بہت کھراب منئی ہے او ۔۔"
"اب کیا ہوا تجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ " اسکے انداز پر مجھے بہت ہنسی آئی 
"ٹرانسسٹر لائے ہیں گھر ماں ۔۔۔۔۔"
"ہا ں تو کیا ہو ا؟ ٹرا نسسٹر  کوئی بر ی چیز ہے کیا ؟ مزے سے گانے  سننا ۔۔۔تمکو تو گانے سننا پسند ہے نا ۔؟"
"ہا ں تو پسند ہے  تو ای کون بات ہے ۔۔کہ گھر تو ٹو ٹا  پھو ٹا ۔۔دروجّا تک  انکا جرا نہیں   پھر کا  لاگ ہے ۔   ۔ کو کورآوت جات ہے  اور گھر ما لے آیئں ٹرانسسٹر ۔۔" (ہاں پسند تو ہے مگر یہ کیا بات ہوئی کہ گھر تو ٹو ٹا ہوا ہے  دروازہ تک  نہیں ہے بانس لگے ہیں ،کتّا آتا جاتا ہے  اور گھر میں لے آئے ٹرانسسٹر )
"ارے تو تو بڑی سمجھدار ہو گئی ہے ۔۔۔مطلب یہ کہ پہلے گھر کا دروازہ بنوانا  چا ہیئے  پھر کو ئی تفر یح کی چیز  لانی چاہیئے ،ہا ن بھئی بات تو صحیع ہے چلو ہم بات کرینگے  تمہارے میا ں سے ۔۔۔۔۔"
" کاہے کے میا ں ۔۔۔؟  بٹیا ۔۔ہم کا ای   آدمی ٹھیک  نا ہی لگت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ بدک کر بو لی ۔۔۔
" کیو ں ؟؟ کیا ہوا ؟"
"اب بٹیا تمکا  کا بتایئں ۔۔۔" وہ شر ما گئی
" کیو ں ،،بتا ؤ ۔۔۔سب کچھ تو بتا تی ہو اپنے ابّا سے پٹ کر آتی تھیں  تب بھی اور اپنے معصوم ابّا کو پیٹ کر آتی تھیں تب بھی کہ "مر ہیئں ۔۔۔۔تو مارو کھیئنہیں   ۔۔۔کاہے مارن ہمکا "(مارینگے تو مار بھی کھائینگے ۔۔۔ہم کو کیو ں مارا )
اتنا سمجھایا کہ ابّا پر ہاتھ نہیں اٹھاتے  مگر تم تو کہتی تھین کہ "مرہیں تو جرور ئے مربئے "(وہ مارینگے تو ہم بھی مارینگے )
اب کیا ہوا  جو نہیں بتا سکتیں ؟"
میں خا موش ہو گئی تو اسنے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اسکی آنکھیں آنسوں سے بھری تھیں ۔
"بٹیا ۔۔۔۔۔۔او ہمکا پکڑت ہے "اسنے اٹک اٹک کر بتا یا ۔
"ارے تو وہ تیرا مرد ہے  پاگل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کو ئی غیر تھو ڑی ہے " مجھے بھی شرم آگئی ۔
"مرد ہے تو کا بھوا ۔۔۔۔ہمکا پکڑ یہئے تو ایسن مار کھیہیئے"(مرد ہے تو کیا ہوا ۔ہم کو پکڑے گا تو ایسے ہی مار کھائے گا )
"ہا یئں ۔۔۔؟؟ تم اسے مار کے آئی ہو  کیا غضب کر تی ہو تم پاگل ہو با لکل ۔۔"
"ہا ں ہا ں  ہم تو پاگل ہیئ ہیں  بتائے دیہو ابّا کا ۔۔۔کہ ہم نا جابئے ،ہمکا پکڑت ہے ،ہمکا نیک نہیں لگت  دور سے بات کر ئے تو ٹھیک ہے نہیں تو مار مار کے دھن دیب"(ہم تو پاگل ہیں ہی ۔ابّا کو بتا دینا  کہ ہم جایئنگے نہیں ،بات کر نی ہے تو دور سے کرے ورنہ  بہت مارینگے ہم ) "وہ زور زور سے جھا ڑو دیکر دھول اڑانے لگی گو یا اپنا غصّہ نکال رہی ہو ۔
"یا اللہ کیا مصیبت ہے یہ لڑ کی " مینے سر پیٹ لیا ۔
سمیع با بوکا شمار  گاؤں کے شریف اور غریب کسا نوں میں سے تھا ۔ان دو بیٹیو ں کے سوا انکے پاس کچھ بھی نہ تھا ۔چند بر س پہلے وہ اور انکی بیوی نے ہمارے گھر ملاز مت اختیا ر کی ،انکی بیو ی نہائت شریف عو رت تھی دو بیٹیو ں کی وجہ سے لوگ انکا جینا حرام کیئے ہوئے تھے کہ ایک بیٹا ہو جاتا تو  تم لو گوں کا بڑھاپا سنور جاتا ۔حالانکہ کہنے والے شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ بہت سارے گھرو ں میں بیٹے والد ین کے بڑھا پے کو سنوارنے کے بجائے اجاڑدیا کر تے ہیں  مگر بہر حال یہ یہا ں اس قسم کی با تیں عام ہیں ۔بیٹے کی پیدایش ہوئی اور جو تکلیفیں سلمہ نے اٹھایئں وہ کوئی محسوس نہیں کر سکتا مگر اسکے بعد جب ما ں اور بیٹا دو نوں اس جہا ں سے گزر گئے تب سمیع با بو اور بچیوں نے جو مصیبتیں اٹھا ئیں وہ سب کے سامنے تھیں ،کئی دن تک وہ باہر با با جان کے سامنے آکر روتے رہے انھیں بہت سمجھا کر گھر بھیجا جاتا کہ اپنی بچّیوں کو دیکھو اب تم ہی ان کا سہا را ہو ۔۔۔دھیرے دھیرے انکے دل کو قرار آہی گیا تو اپنی بیٹیو ں کو جا کر گلے سے لگا یا اور جینے کی کو شش کر نے لگے ۔
خلیقن نے حقیقتاً انکو بیحد سہا را دیا وہ اپنے ننھے ننھے  ہا تھو ں سے انکے آنسو پو چھتی  اپنے ہا تھ سے کھا نا کھلا تی اور سر دبا کر سلا دیتی ۔پھر رفتہ رفتہ زندگی معمول پر آگئی اور سمیع با بو خود چو لھے چکّی میں جٹے ۔ساتھ ہی خلیقن سے بھی کام کرواتے وہ خوشی خوشی سب کر دیتی مگر جب اسکا دل نہ چاہتا تو بس منھ پھلا ئے بیٹھی رہتی اور تب سمیع با بو اسکا منھ دھلا کر سر میں تیل لگاتے اور الٹی سیدھی چٹیا بنا کر ہمارے گھر چھو ڑ جاتے ۔
میں جب ہو سٹل سے آتی تو گھر میں گا ؤں کی عورتوں کا آنا جانا ہو تا ورنہ سنناٹے راج کر تے ۔۔با با جان صبح اٹھ کر کھیتوں میں کام کروانے چلے جاتے اور بھیّا اگریکلچر میں ایم ایس سی کر کے با با جان کے ساتھ نئے نئے    تجر بات کر تے رہتے ۔پڑھائی ختم ہو تے ہی عا صم کی امّی میرے لیئے رشتہ لیکر آگئیں ۔میں تو گھر والوں سے شر مندہ سی ہو گئی جبکہ ہمارے بیچ کو ئی ایسی بات ہو ئی بھی نہ تھی ۔تب میری سمجھ میں آیا کہ عا صم نے میرا پتہ کیو ں لیا تھا ۔
چچی جان نے مجھ سے مر ضی لی تو مینے منع بھی نہیں کیا ۔شا دی تو کہیں نہ کہیں ہو نا ہی ہے ۔۔عا صم ہی سہی ۔۔۔۔
امّی کے زیورات نکلوائے گئے ۔۔کپڑوں کی خریداری شروع ہو ئی اور بھی نا جانے کیا کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی وقت یہ قصّہ بھی جاگ اٹھا ۔مینے اپنی طرف سے اسے سمجھا بجھا کر بھیج دیا تھا ۔۔۔۔کئی دن واپس نہیں آئی سلیمن  نے آنسو پو چھتے ہو ئے بتا یا کہ" دولھا بھائی آپا کا تھپّڑ مارن ۔۔۔۔۔۔اور جبر دستی لئے گئے ۔۔۔ابّا بہت روت رہے ۔"
مینے اسے بہت سمجھایا مگر سچ تو یہ ہے کہ میرا بہت دل دکھا ۔
ایک ماہ کیسے گزر گیا کچھ پتہ ہی نہیں چلا  اتنے سارے کام تھے پھر عزیزوں کی آمد، مستقل کوئی نہ کوئی مہمان رہا چچی جان بھی رہنے کے لیئے آگئی تھیں ۔سلیمن برا بر آرہی تھی مگر وہ ابھی سب کام نہیں سنبھال پائی تھی اس لیئےبس سروری کی کچھ مدد ہو جاتی ۔
اس دن میں سر دھو کر نہائی کچھ سر دی محسوس ہونے لگی تو چھت پر کر سی ڈلوا کر بیٹھ گئی ۔تھو ڑی دیر بعد محسوس ہو ا کہ پیچھے کو ئی آکر بیٹھ گیا ہے مڑ کر دیکھا تو خلیقن  میلے کچیلے  کپڑے پہنے گٹھری سی بنی بیٹھی تھی  ۔میں ایکدم اٹھ کڑی ہوئی ۔
"خلیقن ۔۔۔"؟ مینے اسے چھوا تو وہ ایکدم زمین پر آرہی ۔۔دبلی پتلی ،مدعوق چہرہ ،پیلی سی آنکھیں  بال الجھے دھول بھرے ۔۔۔۔وہ بیحد بر ے حالو ں میں تھی ۔ میں بر ی طر ح گھبرا گئی تھی ۔سروری کی مد د سے اسکو پلنگ پر لٹایا  دودھ گر م کر کے پلو ایا ۔وہ ہوش میں آکر بستر سے اترنے لگی ۔
"لیٹی رہو ۔۔۔۔لیٹی رہو ۔۔۔"مینے اسے دوبارہ لٹا دیا اور اسکے قریب بیٹھ گئی  ۔
" کیا ہوا بیٹا ۔۔۔کیسی طبیعت ہے ؟" اسے اس حال میں دیکھ کر مجھے بیحد رنج ہو رہا تھا ۔
" کچھ نہیں بٹیا ۔۔۔۔"اسنے اپنے آنسو میلے روبٹّے میں چھپا لیئے ۔
"بتا ؤ تو ۔۔۔کیا ہوا ہے کچھ کہا ہے کسی نے ؟؟؟" اسنے شانے سے روبٹّہ ہٹایا تو قمیص پھٹی ہوئی اور کاندھے پر گہرا زخم تھا ۔
"او میر ے خدا ۔۔۔۔۔یہ کیا ہوا ہے ؟"
"ہمکا لا ٹھی سے مارت ہیں 'وہ سسکنے لگی ۔۔۔
"مگر کیو ں کس لیئے ؟؟میں بیقرار تھی ۔
"کہت ہیں تمہرے ابّا نہ تو سائیکل  دیہن ہیں نہ اسکو ٹر ۔۔۔۔یا تو پیسہ لیکر آؤ نہیں تو اور مر بئے "
اسنے روتے روتے بتایا ۔۔۔
"اففففف غضب خدا کا ۔۔۔پہلے نہیں دیکھا اسنے ؟؟ کہا ں سے دینگے یہ سب ؟؟ وحشی ہے یہ شخص ۔۔با لکل پاگل ہے ۔"
مینے گرم پانی سے اسکا زخم صاف کیا دوا لگائی  اپنا ایک جو ڑا پہن وایا منھ دھلوایا ۔۔۔۔وہ پو رے وقت بس رو تی ہی رہی ۔
" بس بہت ہو گیا ۔۔۔اب مت جانا اسکے پاس ۔۔۔" اسنے زخمی ہر نی کی طر ح مجھے دیکھا ۔۔۔۔میرا دل تڑپ گیا مینے اسے بڑھ کر لپٹا لیا ۔۔۔۔۔
کچھ دیر کے بعد جب با با جان اندر آئے تو بہت تھکے    ہو ئے لگ رہے تھے مینے انکو یہ ساری بات بتائی تو   خاموش رہ گئے ۔
پھر بو لے " بٹیا ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ان لو گو ں کے ذاتی معملات ہیں ،لڑکی کا معاملہ بہت نازک ہو تا ہے ۔۔۔ذیادہ سفارش کر یں تو لڑکی بد نام ہو جاتی ہے ۔تم یہ ساری باتیں نہیں سمجھ سکو گی ۔۔بہر حال میں سمیع با بو سے بات کر ونگا ۔۔۔دیکھتے ہیں کیا ہو سکتا ہے ۔۔آج کچھ دے بھی دیں تو کل دو سری فر مایئش نہیں آئے گی یہ کیا گا رنٹی ہے ؟ "انھوں نے تھکے تھکے انداز میں بات ختم کی اور  شیروانی اتار کر ٹانگ دی اور بستر پر لیٹ گئے ۔
" کیا ہوا با با جان ؟ کوئی مسئلہ ہے کیا ؟"
مجھے انکے بے وقت لیٹنے پر حیرت ہوئی ۔
"نہیں بٹیا ۔۔۔بس تھک گیا ہو ں ۔۔۔۔"
" مجھے نہیں بتا یئں گے ؟؟ " میں انکے بال سہلانے لگی انھوں نے امّی کے بعد اپنے دل کی بات کسی سے بھی کہنا چھو ڑ دی تھی ۔مجھے اس با ت کا بیحد احساس تھا کہ وہ اپنی کو ئی بھی تکلیف کبھی ہم میں سے کسی سے شیئر نہیں کرتے بس ۔۔۔خا مو ش ہو جاتے ہیں ۔
میں انکا سر دباتی رہی وہ بے خبر سو گئے ۔مجھے تجسس تھا شیروانی کی جیب سے ایک لفا فے کی جھلک دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا ۔۔۔
وہ خط تھا کہ ایک شعلہ تھا جو پو رے وجود میں پھیل کر مجھے خاکستر کر رہا تھا ۔ہو ش اڑ گئے تھے میرے ۔۔۔۔یہ ایک لمبی چو ڑی فہرست تھی سامان کی ۔۔جو کہ عاصم کی طر ف سے بھیجی گئی تھی ۔وہ تقریباً پچاس لاکھ کا سامان تھا جو کہ میرے جہیز میں مانگا گیا تھا ۔۔انکا کہنا تھا کہ   با با جان زمیندار رہ چکے ہیں زمینیں اور باغات کے مالک ہیں پھر اتنی سی رقم انکے لیئے کیا حیثیت رکھتی ہے ۔
میر ے دل کے آنگن میں کھلتا ہوا عا صم کے پیار کا نرم پو دا ایکدم ہی مر جھا گیا ۔۔۔۔وہ رات مجھ پر بہت بھاری گزری ۔
ہم لوگ صبح نا شتہ کر رہے تھے کہ سلیمن زور زور سے روتی ہوئی اندر آئی ۔۔۔
"یا اللہ خیر ۔۔۔۔۔" مینے دل پر ہا تھ رکھا ۔
"خلیقن مر گئی بٹیا ۔۔۔۔۔وہ لوگ خلیقن کا مار ڈالن ۔۔۔۔۔" وہ تڑپ تڑپ کر رو رہی تھی  باہر سے بہت سارے لو گوں کے بو لنے کی آوازیں آرہی تھیں ۔با با جان نا شتہ یو نہی چھو ڑ کر با ہر چلے گئے ۔ کئی عورتیں اندر آگئی تھیں سب سلیمن کو تسلّی دے رہی تھیں مگر وہ ہا تھو ں سے نکلی جا رہی تھی  اسکی حالت دیکھ کر میرا بھی برا حال تھا ،،ایک کہرام سا بر پا   تھا ۔۔۔۔
سنا کہ کل جب وہ اپنے گھر پہونچی تو وہ وہیں بیٹھا تھا ۔وہ اسے مارتا ہو ا گھر لے گیا جب گا ؤں والوں نے اسے روکا تو  بد تمیزی سے بو لا " میری بیوی ہے ۔۔۔جو       چا ہوں کروں ۔۔۔کہو تو ابھی طلاق دیکر یہں بیٹھا دوں۔؟  " اور گاؤں والے خا موش


 ہو گئے کہ وہ اس لفظ سے بہت ڈرتے ہیں ۔
صبح یہ خبر آئی کہ کھانا پکا تے ہو ئے اسٹو و پھٹ گیا ۔۔اور وہ جل کر مر گئی ۔۔۔یہ وہی اسٹوو ہے جو          وقتناً فوقتناً۔کم جہیز لانے والی بیٹیو ں کو جلا نے کے لیئے  پھٹتا ہے ۔
سارا دن ان لو گو ن کی دلجوئی میں گزرا  شام ڈھلے وہ سب اپنے گھر گیئے اور اسکی میّت آگئی تھی دفن کی تیّاری ہو رہی تھی  پو رے گا ؤں پر ہو کا عا لم تھا  ۔
رات ہو گئی تھی با با جان گھر کے اندر نہیں آئے تھے پتہ نہیں کیا معا ملات سلجھائے جا رہے تھے ۔
عا صم کا فو ن آگیا ۔
"کیسی ہو ۔۔۔۔۔؟؟"
"ہا ں ٹھیک ہو ں "
"طبیعت ٹھیک ہے ۔۔۔تمہا ری آواز کیسی ہو رہی ہے ؟"
" ہا ں با لکل ٹھیک ہو ں ۔۔۔تم سنا ؤ "
"دیکھو ۔۔۔۔وہ ۔۔ابّا نے کو ئی رجسٹری وغیرہ بھیجی ہے      با با جان کو ۔۔۔اب تم یہ سب دل پر مت لینا ۔۔کوئی ضروری نہیں ہے کہ ساری چیزیں ہو ں تم لوگ اپنے طور پر دیکھ لینا ۔۔۔جو بھی کمی بیشی ۔۔۔۔۔"
"ایک بات سنو عاصم " مینے اسکی بات کاٹ دی
"ہا ں بو لو ۔۔۔۔"
" میں بس ایک بات کہنا چا ہتی ہوں "
  "ہا ں کہو  کہو "
" تمہیں پتہ ہے جب فقیر بار بار دروازے پر آئے تو کیا کہتے ہیں ؟ "
"وہا ٹ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟"وہ زور سے چیخا
"کہتے ہیں ۔۔۔۔با با معاف کرو ۔۔۔کو ئی اور دروازہ دیکھو "
مینے فون پٹخ دیا ۔
اور خلیقن کی موت پر پھو ٹ پھو ٹ کر رونے لگی ۔
ختم شد ۔




Atthara keret Gold

اٹھارہ کیر ٹ گولڈ
لندن کے کہر بھرے مو سم سے بور ہو کر ہم ہر دوسرے سال ہندو ستان ضرور آتے ،جبکہ بچّو ں کو اور فہیم کو پیرس یا جرمنی جانے کی ذیادہ خوشی ہوتی تھی مگر میرے پورے دو سال اسی انتظار مین کٹتے تھے ۔
ملنا تو سب ہی عزیزوں سے ہو تا تھا ،سسرال میں بھی وقت گزارنا ہوتا تھا مگر ٹہرتی میں ہمیشہ ذکیہ ہی کے پاس تھی ۔۔۔۔۔
میری اپنی پیاری ذکیہ میری دوست ۔۔۔سب سے اچھی ساتھی ۔۔۔۔لمبے سیاہ بالو ں میں گھرا اسکا سانولا سلو نا چہرہ ،اسکی خوبصورت آنکھیں ۔۔۔بو ٹا سا قد ۔۔۔ہمیشہ ایک مہر بان سی مسکراہٹ اسکے لبو ں پر بکھری رہتی ۔۔۔ایک عجیب سی کشش تھی اسمیں جو بھی اس سے ملتا گر ویدہ ہو جاتا ۔۔جب بھی میں اسکے گلے لگتی ڈھیرو ن سکون میرے دل میں اتر جاتا ۔۔۔
اور پیاری سی دمکتی ہسنستی لڑکی کو مینے اپنی بھا بی بنا لیا تھا ۔۔۔
اس بار بھی جب ہم اسکے گھر پہونچے وہ دروازے پر بیقراری سے مجھ سے لپٹ گئی اور دیر تک یو نہی لپٹی کھڑی رہی ۔۔۔
سب سے ملکر جب رات کو میں سونے کے لیئے اسی کے پاس لیٹی تو مینے اسکا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔
"ذکیہ ۔۔۔جب میں ہندوستان آتی ہو ں تو وقت اتنا کم کیسے ہو جاتا ہے دن اتنی جلدی جلدی کیو ں گزر نے لگتے ہیں ؟؟؟
مینے اسکی طرف کر وٹ لیکر اس کا چہرہ دیکھا اور اس چہرے پر سو چ کی پر چھا ئیا ں دیکھ کر بیقرار ہو گئی ۔۔۔کیا ہوا ذکیہ ؟؟؟
"کچھ نہیں کچھ بھی تو نہیں ۔۔بس ایسے ہی ۔۔۔ہا ن تم صحیع کہتی ہو ۔۔۔"اسنے میر ے ماتھے سے بال ہٹائے اور میری پیشا نی چوم لی ۔۔۔۔
"کوئی پر یشانی ہے ذکیہ ؟؟ " مجھے الجھن سی تھی ۔
"نہیں کوئی بات نہیں ۔۔بہت تھک گئے ہیں چلو اب سو جاتے ہیں ۔۔۔کل شاپنگ پر لیچلو نگی ۔۔اور پھر تمکو اپنی سسرال بھی تو جانا ہے نا ۔۔دیکھو وہا ں ذیادہ مت ٹھیر نا  ۔۔بس دو دن کافی ہیں ۔۔۔"اسنے اٹھ کر لا ئٹ بجھائی اور ہم نہ جانے کب سو گئے ۔۔
فہیم اور بچّے تو دو سرے ہی دن گھر چلے گئے مگر میں دو چار روز بعد آنے کا کہہ کر رک گئی ۔۔اپنی ساری شا پنگ میں ذکیہ کے ساتھ ہی کر تی تھی ۔

الہ آباد میں میر ے سسر کا پشتینی مکان تھا اس گھر میں جا تے ہوئے فہیم اور بچّو  ں کی خوشی دیکھنے والی ہوتی ،آس پاس کے سبھی رشتہ دار ہم سے ملنے وہیں پہونچتے تھے ۔اپنے پیاروں سے ملنا بھی ایک نشے کی طر ح ہوتا ہے اور مجھے تو اتنی دور رھ کر کچھ ذیادہ ہی تڑپ پیدا ہو جاتی تھی ۔میں ان تھو ڑے سے دنو ں کی چا در کو مظبو طی سے تھامے رہتی اور اپنے بہن بھائیو ں اور عزیزوں سے کی ہوئی ہر چھو ٹی بڑی بات ہر ہنسی ہر آنسو  سب کچھ اس چادر میں جمع کر لیتی  اور جب اسے تہہ کر کے رکھتی تب بھی کئی مسکراتے چہرے اس میں سے جھانکتے رہتے ۔۔
کیا ہر کسی کو اپنو ں سے ملکر اتنی ہی خوشی ہو تی ہوگی ؟؟؟ مینے اپنی شا پنگ لسٹ ذکیہ کو تھما دی کیو نکہ با زار تو اسی کا تھا میں تو یہا ں پر دیسی تھی نا ؟
ایک لمبا عرصہ دیا ر ِ غیر میں رہتے ہوئے ہو گیا تھا بیٹا 19 برس کا ہونے والا تھا اور ذکیہ کی بیٹی عنب بھی بڑی ہو رہی تھی میرا پو را ارادہ تھا کہ میں اسے مانگ لونگی ذکیہ مجھے کبھی خالی ہاتھ نہیں لو ٹائے گی ۔۔مینے اپنے بیٹے ارزیب کی آنکھو نمیں عنب کے لئے کچھ الگ رنگ بھی دیکھ لیئے تھے ۔
اور عنب تو ذکیہ کی کاربن کا پی ہے  بس رنگ بھیّا کی طرح  بے حد گو را ہے ۔میں  ہر سال کچھ نہ کچھ سبھی کے لیئے لے آتی تھی مگر عنب تو میر ی بیٹی تھی اسلئے اسکے لیئے بہت سو چ کر اسبار ایک ہلکا سا سونے کا سیٹ لیئتی آئی تھی ۔جس میں انگو ٹھی کے ساتھ چھو ٹے چھو ٹے ٹاپس اور ایک لا کٹ تھا ۔
اسنے جب یہ سیٹ پہن کر مجھے دیکھا یا تو واقعی اس پر بہت سج رہا تھا ۔حالا نکہ ذکیہ کے پاس  امّا ں کا دیا ہوا بہت زیور مو جود تھا جو اسے شا دی پر اور اسکے بعد بھی ہر مو قع پر ملتا رہا ۔۔اسکے میکے سے بھی کئی سیٹ زیور کے ملے تھے ۔مگر پھر بھی عنب اس ننھے سے تحفے کو پاکر بہت خوش تھی۔                                                                     امّا ں نے جب ذکیہ کو میر ی پسند والا زیور پہنا یا تھا تو مجھے بے اتہا خوشی ہوئی تھی ۔شادی کے جگمگاتے زیور اور کپڑے پہن کر جب ذکیہ اس گھر میں اتری تو گو یا جنّت اتر آئی ۔
مگر ہماری خوشیو ں کی عمر ذیادہ نہیں تھی ،اچانک ایک اکسیڈنٹ ہوا ۔۔اور ہمارا گھر اجڑ گیا ۔۔۔بھیّا ہمیں چھو ڑ گئے ۔۔ ۔بھیّا نے مجھے کبھی ابّا کی کمی محسوس نہیں ہونے دی تھی جو میر ی پیدایش سے پہلے ہی اس دنیا سے جا چکے تھے میں بھیّا کو ہی ابّا سمجھتی تھی ۔۔۔بھیّا نے فہیم سے میری شادی بھی اس لیئے کی کہ ہم کالج سے ہی ایک دو سرے کو پسند کر نے لگے تھے ۔۔۔فہیم کا بزنس اب کافی پھیل گیا تھا وہ لندن اور دوسرے کئی ملکو ں سے کپڑو ں کا کا روبار سنبھال رہے تھے الہ آباد میں بھی کئی فیکٹریز تھیں جو انکے بھائی دیکھتے تھے ۔
عنب کی پیدایش کے دوسرے برس ہی بھیّا چلے گئے ۔۔۔وہ گئے تو ایسا لگا جیسے کسی نے ہمارے سرو ں سے چا در کھینچ لی ۔۔۔میں فوراً ذکیہ کے پاس  ہندوستان آگئی تھی مگر ذکیہ تھی کہاں ؟؟؟؟ وہ تو بھیّا کے ساتھ ہی  جیسے کہیں غا ئب ہو گئی تھی سپاٹ چہرہ ۔سفید ہونٹ ۔۔بکھرے بال ۔۔۔میلے کچیلے کپڑے ۔۔ہنسنا تو دور کی بات وہ تو رونا بھی بھول گئی تھی ۔۔۔
میں ہی اس سے لپٹ کر اتنا روئی  کہ وہ ہو ش میں آگئی ۔۔اور پھر اسے سنبھالنا مشکل ہو گیا ۔کئی گھنٹو ں تک چیخ چیخ کر روتی رہی اور پھر میری با ہو ں میں بے ہو ش ہو کر گر گئی ۔
ان سا ت بر سو ں میں اسنے اپنے آپ کو بہت سنبھال لیا تھا اور اپنی زندگی کا مر کز عنب کو بنا کر جینے کی کو شش میں جٹ گئی تھی ۔ان دونوں کے علا وہ گھر میں ہماری پرانی ملا زمہ کمّو بوا بھی رہتی تھی ۔نام تو انکا کر یمن تھا مگر پتہ نہیں کیسے وہ کمّو بوا کے نام سے ہی جا نی جاتیں ۔وہ بھا بی ذکیہ کو اسی لیئے اتنا چا ہتی تھیں کہ بھیّا انکی گو د میں پلے بڑھے تھے ۔انھیں عشق تھا کمّو بوا سے ۔۔۔اپنی ہر بات ہر ضد وہ انہیں کے ذریعے امّی تک پہو نچا تے تھے ۔
ا میرے آجانے سے انکے جھر یوں بھر ے چہرے پر تا زگی آجاتی ۔وہ مجھے ایک ماں کی طر ح عزیز تھیں ۔
آج بھی صبح صبح جب انھوں نے آکر کھڑ کیو ں کے پر دے ہٹائے او ر چائے سا ئیڈ ٹیبل پر رکھّی پھر میرے چہرے پر دعا ئیں پھو نکیں ۔۔۔تو میں اٹھ کر بیٹھ گئی ۔
"کمو بوا ۔۔۔"مینے چائے کا گھونٹ لیکر ان کی طرف دیکھا ۔
"ہا ں بیٹا ۔۔"انھو ں نے تھکا ہوا سا نس لیکر میرا لحاف برا بر کیا ۔
"ایسی چائے کہیں نہیں ملتی کمّو بوا۔۔۔۔۔ابکی بہت ساری چائے بنا کر میرے سا تھ کر دینا ۔۔۔۔"مینے پیالی خالی کر کے رکھی اور باتھ روم میں گھس گئی ۔
جلدی جلدی منھ دھو کر کنگھا  کر کے واپس آئی تو بوا کپ ہاتھ میں پکڑے ہوئے بیٹھی تھیں ۔۔۔کچھ عجیب سی کیفیت انکے چہرے پر ہویدا تھی ۔
"کیا ہوا ۔۔۔۔۔"مینے تو لیہ پھینک کر انکو تھا م لیا ۔
"بٹیا ۔۔۔۔"وہ بڑی دقٹ سے گو یا ہو ئیں ۔۔۔
" کبتک رکو گی ۔۔۔۔۔؟؟"
میں ہنس پڑی ۔۔"ارے ۔۔اس بات کے لیئے پر یشان ہو ؟؟/"
ابھی تو الہ آباد بھی جانا ہے آکر کچھ دن واپس رکونگی ۔۔۔ابھی تو شا پنگ بھی پوری نہیں ہو ئی ۔۔۔بوا ۔۔۔سب ٹھیک تو ہے نا ؟"
وہ کا رپٹ پر سر جھکا ئے بیٹھی تھیں ۔
اور اسپر بنے ہوئے پھولوں پر ہاتھ پھیر رہی تھیں ۔۔
جیسے کچھ کہنا چاہتی ہوں اور الفا ظ ساتھ نہ دے رہے ہوں ۔
"کمّو بوا ؟؟ مینے نیچے بیٹھ کر انکے ہاتھ تھام لیئے ۔۔۔
"بولئے کیا بات ہے  میرا دل گھبرا رہا ہے ۔۔۔بتا یئے بوا ۔۔۔"
"بٹیا جب سے تم گھر میں آئی ہو رونق ہو گئی ہے ۔۔جیسے بھیّا لو ٹ آئے ہو ں ۔۔جیسے سب کچھ وہی ۔۔۔جو میا ں اور بیگم صا حب کے زمانے  میں تھا ۔۔۔مگر بٹیا ۔۔۔"
وہ پھر سے چپ ہو گئیں ۔۔ان کی بو ڑھی آواز تھر تھرا رہی تھی ۔
"کمّو بوا ۔۔۔میرا دم نکل جائے گا ۔۔۔۔بتا ئیے کیا ہوا ہے ۔۔۔؟"
"پار سا ل جب تم آئیں تھیں ۔۔تب سے ابتک دلہن اپنا کافی زیور بیچ چکی ہیں ۔۔۔جو بھیّا یہ گھر نہ بنوا جاتے تو چھت کا سہا را بھی نہ ہو تا ۔۔۔گھر کا سب قیمتی سا مان جو عنب بٹیا کے لیئے رکھّا تھا ۔۔۔ایک ایک کر کے ان سا ت بر سو ں میں بک چکا ہے ۔۔بس بٹیا ۔۔۔۔۔یہ ڈرانئیگ روم کا سامان  بچا ہے جو تمہارے ڈر سے نہیں نکالا کہ آکر پو چھو گی ۔۔۔تو کیا جواب دینگے ۔۔۔اور دلہن بیچاری بھی کیا کرے ۔۔۔۔؟ اب گا ؤں میں کوئی دیکھنے سننے والا نہیں ۔۔غلّہ بھی بہت کم آتا ہے ۔۔۔۔
کو ئی آمدنی  کہیں سے نہیں رہی ۔۔۔" انھو نے رک کر گہری سا نس لی ۔۔۔
میرے اندر دھڑ دھڑ کر کے لندن کی بلند و بالا عمارتیں گر نے لگیں ۔۔میر ے چہرے پر میری ہی فر ما ئیشوں کے تھپّڑ پڑ نے لگے ۔مینے کبھی یہ نہیں سو چا میری پیاری بھا بی کیسے گزر کر رہی ہے ۔۔بھیّا کے بعد کون سا سہارا ہے اسکے پاس ؟ مجھے ہمیشہ یہی لگا کہ جیسی رانیو ں والی زندگی وہ جی رہی تھی ۔۔۔۔وہی اب بھی ۔۔۔مگر میں ۔۔۔جو اس سے محبّت کا دعوہ کرتی ہوں مینے کبھی روک کر اسے پو چھا تک نہیں ۔۔۔؟ یہ کیسی بے حسی اوڑھ لی تھی مینے ۔۔۔۔صرف فر مایشیں کر تی رہی ۔۔۔کبھی رک کر اسکے آنسو نہیں دیکھے اسکی روح میں  نہیں جھا نکا ۔۔۔؟۔۔میرا وجود زلزلوں کی ذد میں تھا ۔۔۔تب بوا نے سر اٹھا کر مجھے دیکھا اور بو لیں ۔
"بٹیا ۔۔۔جو سیٹ تم عنب بٹیا کے لیئے لائی ہو ۔۔اس میں سو نا بہت کم ہے ۔۔دلھن نے مجھے سنار کے پاس بھیجا تھا ۔۔۔اسنے کہا وہ اٹھا رہ کیر ٹ کا ہے ۔۔بہت کم قیمت دے رہا تھا تو میں وا پس لے آئی ہو ں ۔۔۔اب تو ۔۔"
بس ۔۔وہ چپ ہو گئیں ۔۔مینے دوڑ کر کھڑ کی کا پٹ تھام لیا ۔۔با ہر زور کی بارش ہو رہی تھی ۔۔۔میرے گرم گرم انسوؤں نے مجھے اندر سے شرا بور کر دیا تھا ۔

ختم شد

shikasta sheeshe ka ayesa manzar

اٹھارہ کیر ٹ گولڈ
لندن کے کہر بھرے مو سم سے بور ہو کر ہم ہر دوسرے سال ہندو ستان ضرور آتے ،جبکہ بچّو ں کو اور فہیم کو پیرس یا جرمنی جانے کی ذیادہ خوشی ہوتی تھی مگر میرے پورے دو سال اسی انتظار مین کٹتے تھے ۔
ملنا تو سب ہی عزیزوں سے ہو تا تھا ،سسرال میں بھی وقت گزارنا ہوتا تھا مگر ٹہرتی میں ہمیشہ ذکیہ ہی کے پاس تھی ۔۔۔۔۔
میری اپنی پیاری ذکیہ میری دوست ۔۔۔سب سے اچھی ساتھی ۔۔۔۔لمبے سیاہ بالو ں میں گھرا اسکا سانولا سلو نا چہرہ ،اسکی خوبصورت آنکھیں ۔۔۔بو ٹا سا قد ۔۔۔ہمیشہ ایک مہر بان سی مسکراہٹ اسکے لبو ں پر بکھری رہتی ۔۔۔ایک عجیب سی کشش تھی اسمیں جو بھی اس سے ملتا گر ویدہ ہو جاتا ۔۔جب بھی میں اسکے گلے لگتی ڈھیرو ن سکون میرے دل میں اتر جاتا ۔۔۔
اور پیاری سی دمکتی ہسنستی لڑکی کو مینے اپنی بھا بی بنا لیا تھا ۔۔۔
اس بار بھی جب ہم اسکے گھر پہونچے وہ دروازے پر بیقراری سے مجھ سے لپٹ گئی اور دیر تک یو نہی لپٹی کھڑی رہی ۔۔۔
سب سے ملکر جب رات کو میں سونے کے لیئے اسی کے پاس لیٹی تو مینے اسکا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔
"ذکیہ ۔۔۔جب میں ہندوستان آتی ہو ں تو وقت اتنا کم کیسے ہو جاتا ہے دن اتنی جلدی جلدی کیو ں گزر نے لگتے ہیں ؟؟؟
مینے اسکی طرف کر وٹ لیکر اس کا چہرہ دیکھا اور اس چہرے پر سو چ کی پر چھا ئیا ں دیکھ کر بیقرار ہو گئی ۔۔۔کیا ہوا ذکیہ ؟؟؟
"کچھ نہیں کچھ بھی تو نہیں ۔۔بس ایسے ہی ۔۔۔ہا ن تم صحیع کہتی ہو ۔۔۔"اسنے میر ے ماتھے سے بال ہٹائے اور میری پیشا نی چوم لی ۔۔۔۔
"کوئی پر یشانی ہے ذکیہ ؟؟ " مجھے الجھن سی تھی ۔
"نہیں کوئی بات نہیں ۔۔بہت تھک گئے ہیں چلو اب سو جاتے ہیں ۔۔۔کل شاپنگ پر لیچلو نگی ۔۔اور پھر تمکو اپنی سسرال بھی تو جانا ہے نا ۔۔دیکھو وہا ں ذیادہ مت ٹھیر نا  ۔۔بس دو دن کافی ہیں ۔۔۔"اسنے اٹھ کر لا ئٹ بجھائی اور ہم نہ جانے کب سو گئے ۔۔
فہیم اور بچّے تو دو سرے ہی دن گھر چلے گئے مگر میں دو چار روز بعد آنے کا کہہ کر رک گئی ۔۔اپنی ساری شا پنگ میں ذکیہ کے ساتھ ہی کر تی تھی ۔

الہ آباد میں میر ے سسر کا پشتینی مکان تھا اس گھر میں جا تے ہوئے فہیم اور بچّو  ں کی خوشی دیکھنے والی ہوتی ،آس پاس کے سبھی رشتہ دار ہم سے ملنے وہیں پہونچتے تھے ۔اپنے پیاروں سے ملنا بھی ایک نشے کی طر ح ہوتا ہے اور مجھے تو اتنی دور رھ کر کچھ ذیادہ ہی تڑپ پیدا ہو جاتی تھی ۔میں ان تھو ڑے سے دنو ں کی چا در کو مظبو طی سے تھامے رہتی اور اپنے بہن بھائیو ں اور عزیزوں سے کی ہوئی ہر چھو ٹی بڑی بات ہر ہنسی ہر آنسو  سب کچھ اس چادر میں جمع کر لیتی  اور جب اسے تہہ کر کے رکھتی تب بھی کئی مسکراتے چہرے اس میں سے جھانکتے رہتے ۔۔
کیا ہر کسی کو اپنو ں سے ملکر اتنی ہی خوشی ہو تی ہوگی ؟؟؟ مینے اپنی شا پنگ لسٹ ذکیہ کو تھما دی کیو نکہ با زار تو اسی کا تھا میں تو یہا ں پر دیسی تھی نا ؟
ایک لمبا عرصہ دیا ر ِ غیر میں رہتے ہوئے ہو گیا تھا بیٹا 19 برس کا ہونے والا تھا اور ذکیہ کی بیٹی عنب بھی بڑی ہو رہی تھی میرا پو را ارادہ تھا کہ میں اسے مانگ لونگی ذکیہ مجھے کبھی خالی ہاتھ نہیں لو ٹائے گی ۔۔مینے اپنے بیٹے ارزیب کی آنکھو نمیں عنب کے لئے کچھ الگ رنگ بھی دیکھ لیئے تھے ۔
اور عنب تو ذکیہ کی کاربن کا پی ہے  بس رنگ بھیّا کی طرح  بے حد گو را ہے ۔میں  ہر سال کچھ نہ کچھ سبھی کے لیئے لے آتی تھی مگر عنب تو میر ی بیٹی تھی اسلئے اسکے لیئے بہت سو چ کر اسبار ایک ہلکا سا سونے کا سیٹ لیئتی آئی تھی ۔جس میں انگو ٹھی کے ساتھ چھو ٹے چھو ٹے ٹاپس اور ایک لا کٹ تھا ۔
اسنے جب یہ سیٹ پہن کر مجھے دیکھا یا تو واقعی اس پر بہت سج رہا تھا ۔حالا نکہ ذکیہ کے پاس  امّا ں کا دیا ہوا بہت زیور مو جود تھا جو اسے شا دی پر اور اسکے بعد بھی ہر مو قع پر ملتا رہا ۔۔اسکے میکے سے بھی کئی سیٹ زیور کے ملے تھے ۔مگر پھر بھی عنب اس ننھے سے تحفے کو پاکر بہت خوش تھی۔                                                                     امّا ں نے جب ذکیہ کو میر ی پسند والا زیور پہنا یا تھا تو مجھے بے اتہا خوشی ہوئی تھی ۔شادی کے جگمگاتے زیور اور کپڑے پہن کر جب ذکیہ اس گھر میں اتری تو گو یا جنّت اتر آئی ۔
مگر ہماری خوشیو ں کی عمر ذیادہ نہیں تھی ،اچانک ایک اکسیڈنٹ ہوا ۔۔اور ہمارا گھر اجڑ گیا ۔۔۔بھیّا ہمیں چھو ڑ گئے ۔۔ ۔بھیّا نے مجھے کبھی ابّا کی کمی محسوس نہیں ہونے دی تھی جو میر ی پیدایش سے پہلے ہی اس دنیا سے جا چکے تھے میں بھیّا کو ہی ابّا سمجھتی تھی ۔۔۔بھیّا نے فہیم سے میری شادی بھی اس لیئے کی کہ ہم کالج سے ہی ایک دو سرے کو پسند کر نے لگے تھے ۔۔۔فہیم کا بزنس اب کافی پھیل گیا تھا وہ لندن اور دوسرے کئی ملکو ں سے کپڑو ں کا کا روبار سنبھال رہے تھے الہ آباد میں بھی کئی فیکٹریز تھیں جو انکے بھائی دیکھتے تھے ۔
عنب کی پیدایش کے دوسرے برس ہی بھیّا چلے گئے ۔۔۔وہ گئے تو ایسا لگا جیسے کسی نے ہمارے سرو ں سے چا در کھینچ لی ۔۔۔میں فوراً ذکیہ کے پاس  ہندوستان آگئی تھی مگر ذکیہ تھی کہاں ؟؟؟؟ وہ تو بھیّا کے ساتھ ہی  جیسے کہیں غا ئب ہو گئی تھی سپاٹ چہرہ ۔سفید ہونٹ ۔۔بکھرے بال ۔۔۔میلے کچیلے کپڑے ۔۔ہنسنا تو دور کی بات وہ تو رونا بھی بھول گئی تھی ۔۔۔
میں ہی اس سے لپٹ کر اتنا روئی  کہ وہ ہو ش میں آگئی ۔۔اور پھر اسے سنبھالنا مشکل ہو گیا ۔کئی گھنٹو ں تک چیخ چیخ کر روتی رہی اور پھر میری با ہو ں میں بے ہو ش ہو کر گر گئی ۔
ان سا ت بر سو ں میں اسنے اپنے آپ کو بہت سنبھال لیا تھا اور اپنی زندگی کا مر کز عنب کو بنا کر جینے کی کو شش میں جٹ گئی تھی ۔ان دونوں کے علا وہ گھر میں ہماری پرانی ملا زمہ کمّو بوا بھی رہتی تھی ۔نام تو انکا کر یمن تھا مگر پتہ نہیں کیسے وہ کمّو بوا کے نام سے ہی جا نی جاتیں ۔وہ بھا بی ذکیہ کو اسی لیئے اتنا چا ہتی تھیں کہ بھیّا انکی گو د میں پلے بڑھے تھے ۔انھیں عشق تھا کمّو بوا سے ۔۔۔اپنی ہر بات ہر ضد وہ انہیں کے ذریعے امّی تک پہو نچا تے تھے ۔
ا میرے آجانے سے انکے جھر یوں بھر ے چہرے پر تا زگی آجاتی ۔وہ مجھے ایک ماں کی طر ح عزیز تھیں ۔
آج بھی صبح صبح جب انھوں نے آکر کھڑ کیو ں کے پر دے ہٹائے او ر چائے سا ئیڈ ٹیبل پر رکھّی پھر میرے چہرے پر دعا ئیں پھو نکیں ۔۔۔تو میں اٹھ کر بیٹھ گئی ۔
"کمو بوا ۔۔۔"مینے چائے کا گھونٹ لیکر ان کی طرف دیکھا ۔
"ہا ں بیٹا ۔۔"انھو ں نے تھکا ہوا سا نس لیکر میرا لحاف برا بر کیا ۔
"ایسی چائے کہیں نہیں ملتی کمّو بوا۔۔۔۔۔ابکی بہت ساری چائے بنا کر میرے سا تھ کر دینا ۔۔۔۔"مینے پیالی خالی کر کے رکھی اور باتھ روم میں گھس گئی ۔
جلدی جلدی منھ دھو کر کنگھا  کر کے واپس آئی تو بوا کپ ہاتھ میں پکڑے ہوئے بیٹھی تھیں ۔۔۔کچھ عجیب سی کیفیت انکے چہرے پر ہویدا تھی ۔
"کیا ہوا ۔۔۔۔۔"مینے تو لیہ پھینک کر انکو تھا م لیا ۔
"بٹیا ۔۔۔۔"وہ بڑی دقٹ سے گو یا ہو ئیں ۔۔۔
" کبتک رکو گی ۔۔۔۔۔؟؟"
میں ہنس پڑی ۔۔"ارے ۔۔اس بات کے لیئے پر یشان ہو ؟؟/"
ابھی تو الہ آباد بھی جانا ہے آکر کچھ دن واپس رکونگی ۔۔۔ابھی تو شا پنگ بھی پوری نہیں ہو ئی ۔۔۔بوا ۔۔۔سب ٹھیک تو ہے نا ؟"
وہ کا رپٹ پر سر جھکا ئے بیٹھی تھیں ۔
اور اسپر بنے ہوئے پھولوں پر ہاتھ پھیر رہی تھیں ۔۔
جیسے کچھ کہنا چاہتی ہوں اور الفا ظ ساتھ نہ دے رہے ہوں ۔
"کمّو بوا ؟؟ مینے نیچے بیٹھ کر انکے ہاتھ تھام لیئے ۔۔۔
"بولئے کیا بات ہے  میرا دل گھبرا رہا ہے ۔۔۔بتا یئے بوا ۔۔۔"
"بٹیا جب سے تم گھر میں آئی ہو رونق ہو گئی ہے ۔۔جیسے بھیّا لو ٹ آئے ہو ں ۔۔جیسے سب کچھ وہی ۔۔۔جو میا ں اور بیگم صا حب کے زمانے  میں تھا ۔۔۔مگر بٹیا ۔۔۔"
وہ پھر سے چپ ہو گئیں ۔۔ان کی بو ڑھی آواز تھر تھرا رہی تھی ۔
"کمّو بوا ۔۔۔میرا دم نکل جائے گا ۔۔۔۔بتا ئیے کیا ہوا ہے ۔۔۔؟"
"پار سا ل جب تم آئیں تھیں ۔۔تب سے ابتک دلہن اپنا کافی زیور بیچ چکی ہیں ۔۔۔جو بھیّا یہ گھر نہ بنوا جاتے تو چھت کا سہا را بھی نہ ہو تا ۔۔۔گھر کا سب قیمتی سا مان جو عنب بٹیا کے لیئے رکھّا تھا ۔۔۔ایک ایک کر کے ان سا ت بر سو ں میں بک چکا ہے ۔۔بس بٹیا ۔۔۔۔۔یہ ڈرانئیگ روم کا سامان  بچا ہے جو تمہارے ڈر سے نہیں نکالا کہ آکر پو چھو گی ۔۔۔تو کیا جواب دینگے ۔۔۔اور دلہن بیچاری بھی کیا کرے ۔۔۔۔؟ اب گا ؤں میں کوئی دیکھنے سننے والا نہیں ۔۔غلّہ بھی بہت کم آتا ہے ۔۔۔۔
کو ئی آمدنی  کہیں سے نہیں رہی ۔۔۔" انھو نے رک کر گہری سا نس لی ۔۔۔
میرے اندر دھڑ دھڑ کر کے لندن کی بلند و بالا عمارتیں گر نے لگیں ۔۔میر ے چہرے پر میری ہی فر ما ئیشوں کے تھپّڑ پڑ نے لگے ۔مینے کبھی یہ نہیں سو چا میری پیاری بھا بی کیسے گزر کر رہی ہے ۔۔بھیّا کے بعد کون سا سہارا ہے اسکے پاس ؟ مجھے ہمیشہ یہی لگا کہ جیسی رانیو ں والی زندگی وہ جی رہی تھی ۔۔۔۔وہی اب بھی ۔۔۔مگر میں ۔۔۔جو اس سے محبّت کا دعوہ کرتی ہوں مینے کبھی روک کر اسے پو چھا تک نہیں ۔۔۔؟ یہ کیسی بے حسی اوڑھ لی تھی مینے ۔۔۔۔صرف فر مایشیں کر تی رہی ۔۔۔کبھی رک کر اسکے آنسو نہیں دیکھے اسکی روح میں  نہیں جھا نکا ۔۔۔؟۔۔میرا وجود زلزلوں کی ذد میں تھا ۔۔۔تب بوا نے سر اٹھا کر مجھے دیکھا اور بو لیں ۔
"بٹیا ۔۔۔جو سیٹ تم عنب بٹیا کے لیئے لائی ہو ۔۔اس میں سو نا بہت کم ہے ۔۔دلھن نے مجھے سنار کے پاس بھیجا تھا ۔۔۔اسنے کہا وہ اٹھا رہ کیر ٹ کا ہے ۔۔بہت کم قیمت دے رہا تھا تو میں وا پس لے آئی ہو ں ۔۔۔اب تو ۔۔"
بس ۔۔وہ چپ ہو گئیں ۔۔مینے دوڑ کر کھڑ کی کا پٹ تھام لیا ۔۔با ہر زور کی بارش ہو رہی تھی ۔۔۔میرے گرم گرم انسوؤں نے مجھے اندر سے شرا بور کر دیا تھا ۔

ختم شد

Ganga behti ho kyun

اے گنگا بہتی ہو کیوں ۔۔۔۔۔
کھلی ہوا ؤں میں لہراتی ۔
گنگناتی ۔۔۔۔۔مسکراتی ۔۔۔
ہنستی شر ماتی ۔۔۔۔۔۔
ایسی تھی چاندنی ۔۔۔
ماں با بو کے دل کا چین ۔۔سونو۔بھیّا کی انکھو ں کی روشنی ۔۔اور گھر کی بہار ۔۔۔ایسی تھی چاندنی ۔۔۔۔مورنی کی طرح نا چتی ہنستی گاتی مسکا تی ۔۔سفید پھو لوں سے لدی پھندی خوشبو بکھراتی وہ اچا نک ہی بڑی ہوگئی ۔۔۔۔
جو ہی کی ڈالی جیسی چاندنی  پر جب چندن کی نظر پڑی تو پھر ہٹ نہ سکی ۔۔۔وہ تو تھا ہی چندر ۔۔۔مگر اسکی روشنیا ں بھی چاندنی کے سامنے ماند پڑ نے لگیں ۔۔۔۔
چاندنی کو شر ما نا آگیا تھا ۔۔
چندر کی نگا ہیں پہچان گئی تھی وہ ۔۔۔اسکی ایک نظر سے وہ مہک اٹھتی  دھان کی بالیو ں کی طرح لہرا اٹھتی سر سرا اٹھتی ۔۔۔
گنگا  کے شفّاف پا نی میں دونوں گھنٹوں اپنا عکس دیکھتے رہتے ۔۔۔تبھی چاندنی نے ایک پتھّر اٹھا کر پانی کی چا در پر اچھال دیا ۔۔۔۔عکس ۔۔۔ٹوٹ گئے ۔۔۔۔بکھر گئے ۔۔۔
چندر نے تڑپ کر اسکا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔"نہیں چاندنی ۔۔۔یہ کیا کیا تم نے ؟؟
دیکھو کیسے بکھر گئے ہم ؟؟
اب ایسا کبھی مت کر نا   ۔۔"معصوم چا ندنی ڈر گئی ۔
"مجھے کبھی چھوڑ کر مت جا نا چاندنی ۔۔۔" اسنے لجا جت سے اسکے ہا تھ تھام لیئے ۔۔۔۔
مگر چاندنی اپنے سماج کی ریتو ں رواجوں کی پابند تھی ۔۔ما ں با بو ،سو نو بھیّا کی پیار کی بندّھی چاندنی ۔۔۔کیا کر تی ؟؟؟
اور وہ باولا ہو گیا ۔۔۔
گا ؤں کے زمیندار کا اکلو تا وارث ۔۔۔۔وہ کیسے بر داشت کرتے ؟؟ کہا ں وہ ۔۔۔۔۔اور کہا ن ایک معمولی کسان کی بیٹی ۔۔۔۔؟
اور وہی سب ہوا ۔۔۔۔اپنی طر ح۔۔۔۔۔پرا نے دھرا نے قصے دہرا ئے گئے ۔۔۔چا ند نی دور ہو گئ چند ر سے ۔۔۔
بنارس کی گمنام گلی رات کا ٹہرا وقت ۔۔۔۔
رشتہ کا ما ما کواڑکھول کر چپ چاپ کھڑا رہا ۔۔۔۔۔
"بھیّا نند نی ۔۔ہوں ۔۔چا ند نی کی ما ں ۔۔۔۔"
چا ند نی کی ماں نے اپنے کو پہچنوا یا ۔۔۔
"ہا ں ہاں جا نتا ہوں۔۔۔۔۔کیسے کشٹ کیا ؟"
"بھیتر آجا ؤں۔۔۔؟ جا ڑے کی پیر سے کپکپا تی ہو ئی ماں اور چاندنی ۔۔۔
ہری چرن راہ سے ہٹ گیا ۔دونوں ما ں بیٹی سہمی سہمی اندر آگئیں ۔سانولی سلونی  بھا بی موٹے موٹے چاندی کے کڑے پہنے ۔ڈھیر سا را سندور لگا ئے آنکھو ں میں کاجل بھر ے مسکرا رہی تھی ۔اسکی طرف سے سوا گت تھا ۔۔۔۔۔۔
پیا ز اور چٹنی سے روٹی کھا کر جب بستر آئیں ،تو بات چھڑی ۔
"کہیں چا ندنی کی نا ؤ با ندھو بھیّا ۔۔۔۔۔اب کون ہمارا ؟سب مر کھپ گئے ،چا ندنی کے ابّا زمیندار کی مجو ری کر کے ہمیں پال رہا ہے ۔۔۔وہاں کو ئی رشتہ نہ ملا تو آگئی ۔۔۔۔۔۔تم بھی ما ما ہو باپ کی طر ح ہو اسکے لیئے ۔۔۔۔۔۔"
اکیلی بو لتے بو لتے وہ تھک گئی ۔۔۔ہا نپ گئی ۔
"ہا ں ہا ں کا ہے نہیں ۔۔۔۔"ما می نے پیار سے چا ندنی کے بال سنوا ردٰیئے
آدھی رات کو رگھّو گھر آگیا ۔۔بڑی بڑی مو نچھو ں والا ۔۔      ۔کر خت چہرے اور غلیظ آنکھو ں والا رگھّو ۔۔۔ہاتھ میں مو ٹی سی لا ٹھی سنبھالے ہو ئے کھٹ کھٹ کر تا ایا تو سارے گھر میں عجیب سی نا گوار سی بو  پھیل گئی ۔
ما می کا چہرہ اتر سا گیا ۔اٹھ کر کھا نا دینے چو لھے کے پاس گئی تو دیکھا رگھّو وہیں بیٹھا آگ تاپ رہا تھا ۔
"ای کون لوگ ہیں امّا ں ۔؟
"تیرے با بو جی کی رشتہ دار ہیں ۔مصیبت میں ہیں بے چاری ۔"
"کبتک ہیا ں رہییین۔۔۔۔" اسنے بڑا سا نوالا منھ میں ڈال کر چبا تے ہو ئے پو چھا ۔
"چلے جینہیں ۔۔۔ابھی تو آئے ہیں کو ئی گھنٹہ بھر پہلے ۔۔۔تم کا کا ہے "اسنے دوسری پیاز اسکی طرف بڑھائی اور وہ اسے مٹھی سے تو ڑ کر کھانے لگا ۔
صبح کےاجا لے میں جب اسنے چا ندنی کو دمکتے دیکھا تو وہ تڑپ اٹھا ۔
معصوم چاندنی
پاکیزہ چاندنی
نکھری چاندنی ۔وہ ادھر ادھر دیکھ رہی تھی شہر پہلی بار دیکھا اسنےما ں کے ساتھ مندر کی سیڑھیا ں چڑھتے چڑھتے بھی اسکا دھیا ن چو ڑی صاف ستھری سڑک اور مو ٹر گا ڑیوں پر ہی رہا ۔دل ہی دل سو چتی رہی کہ کا ش چندن بھی یہا ں ہوتا ۔۔وہ بھی میرے ساتھ یہ جہان دیکھ لیتا ۔۔۔کیسا دھلا دھلایا سا ہے سب کچھ ۔۔۔کیسی پیاری نکھری نکھری دنیا ہے مگر چندن کے بنا سب سونا ہے ۔۔۔
کئی مہینےیو نہی بے رو نق گزر گئے کچھ بھی نہ ہوا ۔غریب کی بیٹی کو کوئی آسانی سے کہا ں قبول کر تا ہے ۔۔
اور رگھّو کی آنکھیں ۔۔۔۔۔سا نپ جیسی ڈ ستی آنکھیں ۔۔۔
"امّا ں ہیا ں ڈر لگتا ہے ۔۔گھر چلو با بو کے پاس ۔"۔۔رات کو امّاں کے پہلو میں چھپ کر فریاد کی اسنے ۔۔۔
"ہا ں چلینگے جلدی ۔۔۔"رات گزرتی رہی اور چاندنی سہم سہم کر سوتی جا گتی ۔۔رہی
ایک دن ما ما نے خوش خبری سنا دی ،لڑکا برا دری کا ہی تھا ۔امّا ں اور مامی خوشی خوشی اس سے ملنے چل پڑیں ۔۔۔
شام ہو نے لگی تھی ابھی تک کوئی نہیں آیا تھا ۔۔اور رگھّو آگیا ۔
چا ندنی ڈرتی سہمتی رہی ۔۔۔روتی رہی منّتیں کر تی رہی اور پھر منھ سے یہی نکلا " چندر ۔۔۔۔مجھے بچا لو ۔۔۔۔۔"
"چندر نے وہا ں دور چونک کر چا روں طرف دیکھا ۔۔۔اسکا دل بری طرح بے چین ہوا ۔۔۔۔پھر یہ سوچکر دل کو تسّلی دی کہ وہ اپنے ما ما کے پاس گئی ہے آجائے گی ۔
رگھّو جیت گیا وہ ہار گئی ۔۔۔۔چا ندنی بجھ گئی ۔۔دنیا ویسے ہی چلتی رہی کو ئی طو فان نہ آیا ۔۔کوئی زلزلہ نہ آیا ۔۔پہاڑ نہ گرا ۔۔مگر وہ تو  مٹ گئی ۔
نا سمجھ بھولی بھالی چاندنی ۔۔۔ایکدم مر جھانے لگی وہ آواز دیتی "چندر ۔۔۔چندر ۔۔۔میرے روم روم میں زہر پھیل رہا ہے مجھے بچاؤ ۔۔"
اور اسکا بیاہ پکّا ہو گیا ۔۔۔
جس دن مندر جاکر منّت پوری کرنی تھی اسے صبح سے چکّر آرہے تھے ۔مندر جانے سے پہلے ہی وہ چکرا کر زمین پر گر گئی ۔
زما نہ شناس ما می فوراً سمجھ گئیں ۔چاندنی کو بکھرا بکھرا انداز ۔اسکی حالت ۔۔اور یہ نہ چھپنے والی بات ۔۔۔
اسدن کو ئی مندر نہیں گیا مانو گھر میں میّت ہو گئی ۔
دوسرے دن شام ہو تے ہوتے سو نو بھیّا آگیا ۔۔۔اور چاندنی اسکو دیکھ کر اپنا رونا رونے دوڑی ۔۔۔تو اسنے ہاتھ جھٹک دیا ۔۔۔
" بھیّا ۔۔۔۔؟؟"معصوم سوال ہو نٹو ں پر آکے ٹو ٹ گیا ۔
"یہ سب چندر کا کیا دھرا ہے نا ۔۔۔"سو نو نے اسے گھور کر پو چھا تو وہ نا سمجھی میں اسے دیکھتی رہی ۔۔۔کیا کیا چندر نے ؟؟ اسے پتہ ہی نہیں ۔
رات کو جب گہرا اندھیرا ہوا تو کسی نے چراغ  پھونک مار کے بجھا دیا ۔۔۔
چاندنی کو سو تے سوتے گلے پر بوجھ سا محسوس ہوا ۔۔اسنے اپنے ہاتھ اٹھا نے چاہے تو دونو ں ہتھیلیا ں کسی گھٹنے تلے دبی رہیں ۔۔۔نا گوار سی بو چا روں طرف چکرا رہی تھی ۔۔۔۔گلے پر دباؤ بڑھ رہا تھا ۔۔۔اور وہ ہوش و حواس سے بیگا نی ہو گئی ۔
"چندر بچاؤ " یہ آخری    کا لمحہ تھا اور پھر خا موشی ۔
آواز گھٹ گئی آنکھیں باہر نکل آئیں چہرہ نیلا ہو گیا ۔۔
سویرے ہی سا نپ ۔۔۔۔سانپ کا شور مچ گیا ۔۔چاندنی کو سا نپ نے ڈس لیا ۔۔سونو بھیّا اور رگھّو نے سب محلّے والوں کو بتا یا ۔
امّا ں پچھا ڑیں کھا تی رہ گئی پر منھ نہیں دکھا یا گیا ۔۔۔کہ سا نپ بہت زہریلا تھا امّا ں منھ دیکھ لے گی تو جی نہ پائے گی ۔
ارتھی اٹھ گئی ۔۔۔سنّا ٹا ہو گیا ۔۔۔چا ندنی سو گئی ۔۔۔
سب ویسے کا ویسا ہی رہا ۔۔۔۔
چندر جو ہی کے پو دے تلے بیٹھا اسکے لیئے گجرے بنا تا رہا ۔۔
دنیا چلتی رہی ۔۔
ختم شد


 ۔۔۔۔