Tuesday, October 18, 2016





میری کتاب پر مشہور ہستیوں کے دستخط اور جملے-
پروفیسر غضنفر علی
مشتاق احمد نوری
ڈائریکٹر جامیہ ملیہ اسلامیہ
پروفیسر صغیر ابراہیم
شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
پروفیسر عبدالرحیم قدوائ
ڈائریکٹر یو جی سی

"اپنی پیاری بہن کو جو آج بھی لوگوں کو باورچی خانہ بتا رہی ہیں بہت ساری دعاؤں کے ساتھ"
مجاہد قدوائ
وزیرِ مملکت اتر پردیش سرکار



"میں نے انجم قدوائ کے افسانے پڑھے' خدا ان کو مزید شہرت و مقبولیت عطا کرے"
قاضی عبدالستار


محترمہ انجم  قدوائ صاحبہ کو بہت بہت مبارک باد""
ڈاکٹر اشتیاق احمد
سماجی کارکن'لکھنو

بہت بہت مبارکباد'بہت اچھا کام کر رہی ہیں-""
عارف غوری
برطانوی صلاح کار'برٹش ہائ کمیشن'نئ دہلی
بے حد پیاری انجم  بہت بہت مبارک باد ،اللہ کرے زورِ قلم اور ز یادہ۔۔۔۔
آصف  اظہار ۔
"بہت پیاری دوست اور افسانہ نگار انجم کے لئے بہت محبتّیں ۔
ڈاکٹر افشاں ملک




Monday, August 22, 2016

عرضداشت  ۔
 تم سے بہت دور امریکہ کے اس انجان سے شہر میں اپنے گاؤ ں کی یادوں سے زخمی میرا وجود اچانک جیسے  بہت بوڑھا ہوگیا ہے ۔جب میں اپنی جیب میں ہاتھ ڈالتا ہوں اور انگلیاں ایک تہہ کئے ہوئے کاغز سے ٹکراتی ہیں تو میں سہم کر اپنا ہاتھ باہر نکال لیتا ہوں ۔۔۔۔اس بے رنگ کا غذ کے ٹکڑے میں یادوں کے ناگ چھپے بیٹھے ہیں جو لمحہ لمحہ مجھے ڈستے رہتے ہیں ۔
پچھلی بار جب کافی مشکل سے چند دن کی چھٹیاں ملیں اور میں وطن  آیا تو تم سے ملنے اوراپنے گاؤں کو ایک نظر دیکھنے کو دل مچل گیا اورمیں  گاؤں روانہ ہوگیا ۔راستے میں ہرے بھرے باغ اور لہلہاتے کھیتوں کو دیکھ کر میری آنکھوں کی روشنی بڑھ گئی تھی ۔۔اسٹیشن پر میری نظریں تمہیں ڈھونڈ رہی تھیں اور پھر تم مجھے نظر آئے ۔
تمہا را نرم سا چہرہ  ، تانبے کی رنگت ہوگیا تھا تمہاری کالی سیاہ جگمگا تی آنکھیں حلقوں میں آکر  بجھ سی گئی تھیں ۔گھنے سیاہ بال کہیں کہیں سے سفید ہو کر مجھے وقت گزر جانے کا پتہ دے رہے تھے ۔مگر پھر بھی تم ویسے ہی لمبے مضبوط اور خوش لباس تھے ۔ہاتھوں میں وہی چکنی سی لاٹھی جو تمہاری شخصیت کا خاصہ ہے چمک رہی تھی تم مجھے دیکھے جارہے تھے آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے ۔۔تمہارے وجود میں خوشی کی گنگنا ہٹ تھی ۔مجھ سے اس طرح لپٹ گئے جیسے اب کبھی جدا نہ ہوگے ۔
میں کبھی روتا نہیں ہوں مگر اسُ دن تمہاری محبّت مجھے رلاُ رہی تھی ۔۔۔نہ جانے کتنی دیر ہم ایک دوسرے سے لپٹے یوں ہی روتے رہے ۔مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ کوئی اب بھی مجھ سے اتنی محبّت کر سکتا ہے ۔
وہی بڑا سا چھپّر والا برامدہ  وہی کھُلا کھُلا کچّا آنگن وہی بان کی چوڑے چوڑے پلنگ جن پر چھینٹ کی نئی چادریں میرے اعزاز میں   بچھائی گئی تھیں ۔آنگن میں بنی ہوئی کیا ریوں میں  پھولوں کے  رنگ  بکھرے ہوئے تھے اور ایک کونے میں لگا ہوا وہی پرا نا نیم کا پیڑ تن کر کھڑا تھا جسکی شاخوں پر جھول کر ہم بڑے ہوئے ۔ایک خواب ناک سا ماحول تھا جہاں میں اپنے آپ کو بھول سا گیا تھا ۔
تمہاری سانولی سلونی سی بیوی مٹّی کے چولھے پر میرے لئے آلو کے پراٹھے بنا رہی تھی اور دونوں معصوم سی لڑکیاں تخت پردستر خوان لگا رہی تھیں ۔کونے میں رکھّے گھڑے سے ٹھنڈا پانی نکال کر جب میں نے اپنے ہونٹو ں سے لگا یا تو جیسے زندہ ہو گیا ۔
زندگی تو جیسے کہیں کھو چکی تھی ۔آج یہان آکر احساس ہوا کہ میں  ہوں ۔
جب ہم دونوں سر سوں کا ساگ اور آلو کے پراٹھے اچار کے ساتھ کھا رہے تھے ،بھابی میری تعریفوں سے لال ہوئی جارہی تھیں تمہارے بلند وبانگ قہقے مجھے میرے ہونے کا احساس دلا رہے تھے تب تم میری واپسی کا سنکر اُداس ہو گئے ۔
"آج ہی کیوں ؟کچھ دن رک جاؤ میرے یار  ابھی تو تجھے جی بھر کے دیکھا بھی نہیں ۔۔۔۔"تمہاری آواز میں التجاء تھی ۔
"پرسوں واپسی کی فلایئٹ ہے یار ۔۔۔جا نا تو پڑے گا ۔آجکا یہ دن بڑی مشکل سے نکا لا ہے میں نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
 ہم گھر سے باہر آگئے ۔ سامنے یوکلپٹس کی قطار میں چلتے ہوئے ہم ڈھیروں  باتیں کر تے رہے  ۔بچپن کی نہ جانے کتنی ساری یادیں میرے آس پاس کھلا کھلا تی ہوئی گھوم رہی تھیں ۔شام ہونے لگی تھی ۔ہم ڈیوڑھی سے ہوتے ہوئے گھر کے اندر آگئے ۔۔۔پھر اچانک ہی تم نے میرا ہاتھ تھام لیا ۔
"میرے لئے بھی کوئی کام ڈھو نڈو یار وہاں ۔۔۔"
میری حیران نظروں کے جواب میں تم شر مندگی سے مسکرائے ۔
"دسیوں کلاس سے آگے تو پڑھ نہیں سکا تھا ۔۔تجھے تو سب معلوم ہی ہے ۔کوئی چھوٹا موٹا کام ۔۔کیسا بھی ہو ۔۔کر لوں گا یار  مجھے بھی وہیں بلا لے "
"لیکن تو نوکری کرے گا ؟ تجھے نوکری کی کیا ضرورت ہے دوست ؟ سب ٹھیک ٹھاک تو ہے "
"نہیں یار اب کچھ ٹھیک نہیں ہے زمینیں مقدموں کی نظر ہوگئیں اور تو تو جانتا ہے یہ کبھی ختم نہیں ہوتے ۔لڑکیاں بڑی ہوگئی ہیں گھر کے حالات کیا بتا ؤں تجھے ۔بس کام چل رہا ہے ۔میرے لئے کوئی کام دیکھ لے ادھر ۔۔بلا لے مجھے "
تمہاری آنکھوں میں ندامت کے آنسو تھے اسی لئے آواز بھّرا رہی تھی ۔مڑ کر بھا بی کی طرف دیکھا ان کے گلابی  آنچل میں آس کا اُجا لا تھا ۔
بچپن کے ڈھیر سارے دن آگے بڑھے اور ایک ایک کر کے مجھے گلے لگا نے لگے ۔
۔میں شروع ہی سے جسمانی طور سے  کمزور تھا ۔اور ہمّت بھی کم تھی مجھ میں ۔جلد ٹوٹ جا یا کر تا تھا ۔ تم ہی تھے جو  آگے بڑھ کر مجھے سہارا دیتے تھے ،میری طاقت بن جاتے تھے ۔ تم نے پڑھنا چھوڑ دیا مگر میرا سایہ بنے رہے ۔ہاتھ میں یہی چمکتی لاٹھی اور چہرے پر بے پناہ حوصلہ ۔مجھے اپنے حصار میں لئے رہے تم  میرا غرور تھے میرے دوست میرے ساتھی ۔
۔جب با با نے میرا داخلہ شہر کے اسکول میں کر وا دیا تو تم کتنا اُداس ہوئے تھے ۔مجھ سے چھپ کر روئے بھی تھے  اور جب میں شہر کے لئے روانہ ہوا ۔تم گاڑی کے ساتھ ساتھ بھاگتے ہوئے کتنی دور تک چلے آئے تھے ،تمہارے چہرے کی سر خی بتا رہی تھی کہ تم خود پر کتنا جبر کر کے مسکرا رہے ہو ۔گاؤن کے آخری موڑ تک ہاتھ ہلا یا تھا تم نے ۔
اور پھر زندگی سوکھے پتّے کی طرح  مجھکو یہاں وہاں اڑائے پھری ۔
اس اجنبی دیس میں  اپنے آپ کو  کتنا پرا یا لگتا ہوں میں۔۔۔
بھلا تمکو کیسے بلاُ سکتا ہوں جسکے پاس اپنا کہنے کو کچھ نہیں ۔بیوی  جسنے یہاں کی شہریت دلوائی اور ایک معمولی نوکری جسکا کوئی مستقبل نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم تو بے حد ریئس ہو ایک نیم کا پیڑ ایک چھپّپر تو تمہارا اپنا ہے نا ؟
میری جیب میں رکھّی ہوئی تمہاری وہ عرضی جو چلتے وقت تم نے مجھے دی تھی اسکا کاغز دن گزرنے کے ساتھ پیلا ہو گیا ہے   اور میں اس بے بسی کے بوجھ تلے بو ڑھا ہو تا جارہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
                                          ٭٭٭٭٭٭٭


 بے نشاں ۔۔۔۔۔۔۔۔
        پاکستان ایرپورٹ پر اترتے وقت ہم سب بے پناہ خوش اورپرُ جوش  تھے۔ ایک عجیب سی مسرت ہم سب کے دلوں میں لہریں لے رہی تھی کافی عرصے بعد ہمارا یہ خواب پوراہواتھا اور ہم ساری دوستوں کا گروپ پاکستان کی سرزمین میں اترچکا تھا۔
        ہم سات دوستوں کا یہ گروپ مختلف جگہوں کی سیاحی میں مشغول تھا دارصل ہماری تقریباً ساری ہی ذمہ داریاں پوری ہو چکی تھیں بچوں کی تعلیم شادیاں اور گھر کی تکمیل اب کچھ حق تو ہماری اپنی خواہشوں کا تھا۔ ہم لوگ اپنے پورے گروپ کے ساتھ ہندوستان کے مختلف صوبوں کی سیر کرتے ہوئے اب پاکستان پہنچ  چکے تھے جو کہ اب ہمارا نہیں تھا پھر بھی ہمیں اپنا اپنا سالگتا تھا۔ویسے ہی لوگ وہی زبان وہی ہنسی ۔
        ایر پورٹ سے ہوٹل پہونچتے پہونچتے سب اپنی اپنی رائے دے رہے تھے اور ہوٹل پہنچ کرہم سب اونچی آواز میں اپنی پسند کے شہر دیکھنے کا پروگرام بنا رہے تھے ۔کسی کو کراچی دیکھنا تھا اور کسی کو لاہور دیکھنا تھا ۔ کوئی حیدرآباد سندھ دیکھنا چاہتا تھا اور کسی کوٹکسلا جانے کی پڑی تھی۔
        میں نے غور کیا کہ مسز روپا کپور کچھ خاموش سی ہیں ان کی عمر تقریباً پچپن  بر س کی ہوگی ۔وہ ہم سب میں سینیر تھیں ہم سب ان کی عزت کرتے تھے دارصل اس گروپ کی بنیاد انہوں نے ہی ڈالی تھی ہم سب تو بیچ میں آکر ان میں شامل ہوتے گئے۔
        میں نے ان سے پوچھا ۔’’آپ کو ن سی جگہ دیکھنا چاہتی ہیں ؟ روپاجی؟ ‘‘
        ’’میں پنڈی جانا چاہتی ہوں۔‘‘
        ’’پنڈی کس طرف ہے یہ کوئی چھوٹا شہر ہے یا پھر کوئی گاؤں؟‘‘
        وہ میری نادانی پر مسکرائیں اور بولیں
        ’’میرا مطلب ہے راولپنڈی ۔جو لوگ یہاں رہتے ہیں وہ اسے پنڈی ہی کہتے ہیں۔
        ’’آپ کو کیسے معلوم کیا آپ پہلے آچکی ہیں۔ ‘‘مجھے حیرت سی ہوئی وہ تھوڑی دیر خاموش مجھے دیکھتی رہیں پھر بولیں۔
        ’’میں وہیں پیدا ہوئی ہوں اور وہیں پلی بڑھی ہوں۔ ‘‘
        ان کی آواز بہت نرم اور اداس سی تھی انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ 19برس کی تھیں تب ان کی شادی ہوگئی اور وہ کیرالہ چلی گئیں اب تو ان کی زبان بھی تامل ہوگئی ہے اور وہ کھانے بھی ساؤتھ انڈین ہی بنانے لگی ہیں جیسے کہ وہ وہاں کے مقامی لوگ بولتے ہیں اور کھاتے ہیں ۔ مگر وہ ہمیشہ چاہتی تھی کہ ایک بار وہ وا پس جائیں۔اپنا  ملک اور گھر دیکھیں اور اب جاکر انہیں یہ موقعہ نصیب ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
        جب ہماری فلائٹ اسلام آبادپہونچی اور ہم سب ایرپورٹ کے باہر آئے تو سردی کی شدّت سے کانپ گئے ۔ وہاں ایسی سردی تھیں جیسی کہ کسی ہل اسٹیشن پر ہوتی ہے۔ روپا کپور نے ہمیں بتایا کہ یہ شہر بہت بعد میں بسا ہے ۔ یہ شہر تقسیمِ ملک کے وقت نہیں تھا ۔ پہاڑیوں کو کاٹ کر بسا یا گیا ہے۔ وہاں کی سڑکیں بہت چوڑی تھیں بے حد خوبصورت شاپنگ مال تھے اور بے حد حسین روزگارڈن وہاں کی زینت بڑھا رہے تھے ۔ ہم چاہ رہے تھے کہ اسلام آباد میں کچھ دن رک جائیں مگر مسز کپور راولپنڈی  جانے کے لئے بے چین تھیں۔راولپنڈی وہاں سے کافی قریب تھا مگر کوئی جانے کے لئے تیار نہ تھا۔
        میں نے خود ہی یہ فیصلہ کیا کہ مجھے ان کے ساتھ جانا چاہئے۔ وہ بہت  پرُ جوش تھیں ۔انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ چا لیس برس کے بعد اپنا گھر دیکھیں گی۔ میں نے قریب کی  فلاورشاپ سے ایک اچھا سا بکے بنوایا اور  ان سے کہا کہ وہ یہ پھول  اس گھر کے نئے مالک مکان کو دیں  ٹھیک ہے ؟وہ مسکرادیں مجھے لگا کہ وہ میرے اس خیال سے بہت خوش ہوگئیں۔
        جب ہم ٹیکسی لے کر چلے تو مسز روپا ہمیں اک گائیڈ کی طرح راستہ بتا رہی تھیں۔ اک پرانی بلڈنگ کو دیکھ کر انہوں نے بتایا کہ یہ ان کے دوست کنول دھیر کا مکان ہے اور وہ دیوالی منانے یہاں آیا کرتی تھیں۔ پورے راستے وہ مجھے ایک ایک چیز بتا رہی تھیں ایک بہت بڑی زیورات کی دوکان  دیکھ کر انہوں نے بتایا کہ یہ بہت چھوٹی سی دوکان تھی ان کے دور کے رشتے دارکی جن کا نام  سا گر تھا اور اب شاید یہ ان کے بچے چلا رہے ہوں گے۔
        راستے میں ایک بہت بڑی اور پرانی حویلی دیکھ کر وہ بے حد خوش ہوئیں۔
        ’’ یہ مقبول خان چاچاکی حویلی ہے۔ میں اپنے بچپن میں یہاں بہت کھیلی ہوں بہت بڑا باغ ہے اس حویلی کے پیچھے۔ ‘‘
        وہ اتنی زیادہ خوش تھیں کہ وہ میری طرف دیکھے بغیر ہی ساری باتیں کر رہی تھیں وہ کسی بھی بلڈنگ سے اپنی نظر ایک لمحے کے لئے بھی ہٹا نا نہیں چاہتی تھیں شائد وہ یہ سوچ رہی تھیں کہیں یہ منظر پیچھے نہ ہٹ جائے اور وہ دیکھ نہ سکیں ڈرائیور چائے پینے رک گیا تو وہ ٹیکسی سے اتر گئیں اور  میرا ہاتھ پکڑکر پیدل چلنے لگیں۔ وہ مجھے چپّہ چپّہ دکھا رہی تھیں…………
         ’’یہ دیکھو ؟ ‘‘ انہوں نے ایک دو منزلہ بے حد پُرانہ سا    مکان دکھا یا یہ میری سہیلی عارفہ  کا مکان ہے ہم  اورعارفہ یہاں کھیلتے تھے انہوں نے برابر کے پارک کی طرف اشارہ کیا ایک گھر کے سامنے وہ پھر ٹہر گئیں۔
        ’’ تمہیں پتہ ہے۔؟ ‘‘وہ میری طرف مڑیں او ر اشارے سے بتانے لگیں ۔’’یہ رتن چا چا  کا گھر ہے ایک بار مما نے مجھے کھیر کا پیالہ دے کر ان کے لئے بھیجا تھا……‘‘ وہ اک لمحہ رُکیں،
        ’’اچانک اک شخص تیزی سے چاچا کے گھر سے نکلا اور مجھ سے ٹکرا گیا…… ساری کی ساری کھیر ……گرم کھیر میرے کپڑوں پر گرگئی۔‘‘
        ’’آپ ان صاحب کو جانتی تھیں…………؟‘‘
        ’’نہیں ……اس وقت تو نہیں……وہ مسکرائیں شادی کے بعد اچھی طرح جان گئی ہوں اب وہ میرے شوہر ہیں۔‘‘
        ہم ہنستے ہوئے اور آ گے بڑھ آئے……وہ بتاتی رہیں……’’یہ اسپتال ڈیڈی کے دوست عظمت علی چا چا نے بنوایا تھا ۔اب تو بہت بڑاہے پہلے بس ایک چھوٹا سا نر سنگ ہوم تھا ۔پتہ نہیں اب اسے کون چلا رہا ہوگا ،عظمت چا چا تو بہت ضعیف تھے ۔۔۔۔شاید انکے بیٹے ۔۔۔۔یا کوئی اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
        ڈرائیور گاڑی لے کر پیچھے آرہاتھا مگر اب وہ ٹیکسی میں بیٹھنے کو ہاتھ کے اشارے سے منع کر چکی تھیں میں بھی ان کے ساتھ ساتھ ہی چل رہی تھی……اور اچانک وہ رک گئیں اور میرا ہاتھ بہت زور سے پکڑ لیا ۔
        ’’یہاں میراگھر ……‘‘
        یہ اک موڑ تھا جہاں پر اچھی خاصی پر رونق مارکٹ تھی بڑی بڑی شاپ ،ویڈیولائبریری اور شاندار ہوٹل چمک رہے تھے۔ انہوں نے رک کر چاروں طرف دیکھا ڈرائیور ٹیکسی روک کرا ترا آیا تھا۔ 
        ’’ میڈم ۔ آپ کو یقین ہے یہ ہی وہ جگہ ہے……؟‘‘
        ’’ہاں…… ہاں۔ مجھے یقین ہے ۔ میں یہاں پیدا ہوئی ہون میں نے یہا ں  اپنی زندگی کے  پندرہ برس گزارے ہیں تم یہاں نہیں پیدا ہوئے ہو۔ (انہوں نے ڈارئیور کو جھڑ ک دیا)۔ میں غلطی کیسے کر سکتی ہوں…… ‘‘انہوں نے بے چینی سے ہر طرف دیکھا عمارتوں کے پیچھے جھانکتی رہیں۔ انہیں یقین تھا کہ ان کا گھر یہیں پر ہے شاید ان نئی عمارتوں کے پیچھے چھپ گیا ہے ۔ ان کی حالت اس بچّے کی سی تھی جو دنیا کے میلے میں کہیں کھو گیا ہو…اور اپنا گھر نہ ملنے پر پریشان ہو …وہ حیران حیران سی  ادھر ادھر دیکھ رہی تھیں۔ اور بڑ بڑا رہی تھیں……’’ارے میں اپنا گھر نہیں پہچانوں گی میرا گھر…… پتہ ہے ایک بار برامد ے میں فرش بن رہا تھا…… یہاں پور ٹیکو میں…………تو میں دوڑتی ہوئی آئی اور سیمنٹ گیلی تھی تو …… گیلی سمینٹ پر میرے پیر وں کے نشان بن گئے اور پھر ڈیڈی نے اس کو ٹھیک نہیں کرنے دیا تھا، انہوں نے کہا یہ روپا کا گھر ہے اور روپا کے پیروں کے نشان اس گھر کی پہچان ہیں ۔ بالکل انٹرنس پر میرے پیروں کے نشان تھے تم دیکھنا۔‘‘ وہ اس نئی بلڈنگ کے باہر بے چین کھڑی تھیں ۔
        میں نے بڑھ کر چوکیدار سے پوچھا۔’’ یہ ہوٹل کب بنا ہے۔‘‘
         وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور بولا کوئی نو، دس   برس ہو گیا جناب۔
        ’’ تم یہاں کب سے کام کررہے ہو۔‘‘
        ’’بی بی صاحبہ جب سے یہ پرانی بلڈنگ توڑی جارہی تھی تو میں مز دور تھا پھر یہاں کام مل گیا چوکیدار کا۔‘‘
        روپا خاموش رہیں۔
        ’’کیا یہاں پر کوئی پیلے رنگ کا دو منزلہ مکان تھا…… ؟‘‘
        ’’جی ہاں یہاں پر اس طرح کی عمارت تھی…… کافی پہلے……‘‘
        ’’ اور اس کے داخلی دروازے پر پیروں کے نشان بھی تھے "؟
مجھے بھی بہت بے چینی تھی
’’بی بی صاحب وہ تو ہم نہیں جانتے ……جب وہ عمارت توڑی جارہی تھی تو……‘‘
        ’’چپ رہو……چپ ہو جاؤ ‘‘روپا زور سے چلّا ئیں اور ٹیکسی میں جاکر پچھلی سیٹ پر گرگئیں۔ چوکیدار حیرت سے مجھے دیکھ رہا تھا۔
        ’’وہ میری دوست کا مکان تھا۔ ہم انڈیا سے آئے ہیں‘‘ میں نے اس کی حیرت دور کی اور آہستہ آہستہ ٹیکسی کی طرف بڑھی ……وہ رو رہی تھیں کانپ رہی تھیں کچھ بول بھی رہی تھیں۔
        ’’ ……یہ میرا گھر ہے……میرے دادا جی نے بنا یا تھا…… یہ میری روح ہے……میرے اپنے سب یہاں پیدا ہوئے یہیں ان کی موت ہوئی یہ زمین یہ پیڑ یہ ہوا یہ پانی یہ سب ہمارا ہے۔…… بس ایک دن کوئی لائن کھینچ دیتا ہے۔
        ایک۔ صرف ایک لائن…… ایک سنگل لائن مجھے اجنبی بنادیتی ہے۔ ایک لکیر ملک کو کاٹ دیتی ہے…… دو ملک بنا دیتی ہے …… مجھے فارنر بنا دیتی ہے میں اپنی ہی زمین پر فارنر ہو گئی ، غیرملکی ہو گئی۔ کوئی سمجھ نہیں سکتا میرا دکھ میرا درد ……‘‘آنسو ان کے  رخسار پر بہ رہے تھے ۔
        میں خاموش تھی ۔ بالکل خاموش ۔میں نے انہیں تھام لیا تھا وہ کانپ رہی تھیں۔وہ ٹیکسی کی پچھلی سیٹ پر بیقرا ری سے رو رہی تھیں ۔۔میں نے انکو گلے لگا یا ۔۔۔میری آنکھیں بھی انکی بے بسی پر بھیگ رہی تھیں ۔
        اور تب میں نے دیکھا کہ وہ پھول جومیں لے کر آئی تھی میں نے بے خیالی میں روپا کی گود میں رکھ دیئے تھے ۔ گھر کی پرانی مالکن کی گود میں پھول مسکرا رہے تھے مگر وہ گھر جس کے داخلی دروازے پر ان کے قدموں کے نشان تھے وہ اب نہیں تھا…… کہیں بھی نہیں تھا……!
       














:٭ :٭



Thursday, August 18, 2016

ہم سفر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زاراقدوائی
راجستھان کے شہر کوٹہ میں میری میٹنگ تھی ۔اچانک ہی بوس نے فون کیا اور کہا "ارے بھئی اسٹیٹ لیول کی میٹنگ ہے ،تمکو جانا تو پڑے گا "
اب بیوی کو سمجھا نا تھوڑا  مشکل  ہو رہا تھا کہ جا نا بہت ضروری ہے ۔غصّہ میں تھی پھر بھی اسنے دو بنڈل پراٹھے باندھ کر ہی دم لیا ۔بولی
"وہاں اتنے سارے لوگوں کے بیچ اکیلے تھوڑی کھاؤگے "
خیر میں دو گھنٹے کے سفر کے لئے پندرہ پراٹھے اور بہت ساری ڈانٹ گھر سے لیکر چلا ۔اتنی جلدی ریزرویشن ملنا تو ناممکن تھا ،سلیپر میں کسی طرح کرنٹ بُکنگ میں چڑھ گیا ۔
کوئی خاص سامان بھی نہیں تھا بس ایک ضروری کاغذات کا بریف کیس اور ایک کھانے والا بیگ ،مجھے سائیڈ کی کھڑکی والی سیٹ ملی تو سامان سیٹ کے نیچے ہی رکھ لیا اور آرام سے بیٹھ گیا ۔
سامنے والی سیٹ خالی تھی ابھی تک اسپر کوئی نہیں آیا تھا دن کا وقت تھا اسلیئے بیٹھ کر ہی جا نا تھا ۔
کھڑکی کے باہر حسین ہر یالی پھیلی ہوئی تھی جو ابھی کچھ دن کی بارش نے اور بھی خوبصورت کر دی تھی ۔راستے میں بہت سے بچّوں نے میرے جیسے کھڑکی کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو بائے بھی کیا ۔میں مسکرا رہا تھا ،خوش تھا ۔کچھ آدھے گھنٹے کے بعد اندر نظر ڈالی تو سامنے والی سیٹ پر ایک بچّہ نظر آیا ۔یہی کوئی سات آٹھ برس کا رہا ہوگا میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے ،ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھ رہا تھا ۔میں کچھ گھبرا سا گیا اور بے ساختہ نیچے رکھّے ہوئے سامان کو دیکھنے لگا ۔مجھے نیچے دیکھتے ہوئے دیکھ کر لڑکے نے بھی فورًا وہیں دیکھا جہاں میرا سامان رکھّا ہوا تھا ۔پھر اسکے بعد ہر دس منٹ پر وہ وہیں دیکھنے لگتا ۔مجھے محسوس ہورہا تھا کہ یہ لڑکا ضرور چور ہوگا جسکی نظر مستقل میرے سامان پر ہی ہے ۔اسکے ماں باپ بھی کہیں آس پاس نظر نہیں آرہے تھے

آجکل تو ایسے بچّے ٹرین میں اسی غرض سے آکر بیٹھ جاتے ہیں ۔مجھے بیگ میں رکھّے پرا ٹھوں کی بھی فکر تھی کہ اگر یہ بچّہ وہی بیگ اٹھا لے گیا تب بھی میرا تو بڑا نقصان ہوجائے گا یہی سب سوچتے سوچتے  جب کوٹہ اسٹیشن نزدیک  آگیا تو اس بچّے نے پھر نیچے کی طرف دیکھا ۔اس بار بنا جھجھکے میں نے اپنا بیگ اور بریف کیس نکال کر اپنے پاس سائیڈ میں رکھ لیا ۔
مجھے اپنی اس جیت پر بڑا فخر محسوس ہورہا تھا ۔
دس منٹ گزرے ہونگے جب کوٹہ شہر کا اسٹیشن آگیا  تب کہیں سے ایک عورت میلے کپڑے پہنے ہوئے میرے پیچھے سے نکل کر آگے آئی اور بچّے سے بولی
"چل آجا ۔۔۔۔آگیا کوٹہ "اس بچّے کے چہرے پر ایک عجیب سی چمک آگئی اسنے فورًا جھک کر سیٹ کے نیچے سے دو ننھی ننھی چمکتی ہوئی گلابی چپلیں نکا لیں اور انکو پہن کر اپنی ماں کے پیچھے بھاگا ۔۔
اور میں اپنا بریف کیس اور بیگ ہاتھ میں لیئے ہوئے ،پانچ منٹ تک اس رُکی ہوئی ٹرین میں اپنی جگہ پر کھڑا رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

Thursday, July 21, 2016

وضع دار
لکھنؤ کے ایک پرانے محّلے میں ہمارے کچھ عزیز رہتے تھے یا رہتے ہیں۔ کیونکہ بقول بشیر بدر
انھیں میری کوئی خبر نہیں مجھے انکا کوئی پتہ نہیں ۔           یہ کا فی پہلے کی بات ہے۔
. اس محّلے میں ایک بہت بڑا  پھا ٹک ہوا کر تا تھا ۔جس کے اوپر   دونوں طرف پتّھر کی بڑی بڑی مچھلیا ں بنی ہوئی تھیں ۔پھا ٹک دونوں طرف نیچے اتنی جگہ بنی ہوئی تھی جیسے کہ چھو ٹے چبو ترے جن پر ہم اور رخسانہ بیٹھ کر گٹّے کھیلتے تھے ۔
پھا ٹک کے اندر سامنے بہت بڑا سا کچّا صحن تھا اور بائیں ہاتھ کی طرف  بہت بڑی صحنچی اور کئی درو ں کے دالان تھے ۔غالباً پہلے یہ کسی نواب کا زنان خانہ رہا ہوگا  اسکی بنا ؤٹ ہی کچھ ایسی تھی ۔اور اس لمبے چوڑے صحن اور صحنچیوں میں پورا محلّہ بسا ہوا تھا ۔۔داہنی جانب ایک راستہ تھا  جس میں دونوں طرف کچھ گھر بنے ہوئے تھے  جو نسبتاً اچھے تھے اور ان گھروں میں متوّسط طبقے کے لوگ رہا کر تے تھے ۔
ان ہی گھرو ں میں ایک گھر عالیہ خالا کا تھا ۔۔۔عالیہ خالا ہماری دور کی رشتہ دار تھیں ۔امّاں کے رشتے کے ما موں یا چچا کی بیٹی ۔۔۔اور اس رشتے سے وہ ہماری خالا ہوئیں ۔۔
ان کا گھر کافی کھلا کھلا سا تھا ۔۔۔خوب بڑا سا  صحن جس میں لال اینٹوں کا فر ش ایک نیچی سی دیوار جس میں داخلی دروازہ ،دوسری طرف دالان اور ایک طرف بڑے بڑے دو کمرے اور باورچی خانہ ۔آنگن کے ایک کونے میں بڑا سا امرود کا پیڑ ،جسپر خوب میٹھے امرود آتے تھے ۔
با ورچی خانے کا فرش سیمنٹ کا بنا ہوا تھا  بے حد چکنا اور صا ف شفّاف ۔وہاں لکڑی کی کئی پیڑھیاں رکھٗی ہوئی تھیں ۔
مجھے آج بھی یاد ہے  کہ مٹّی کے لپے پتے چولھے پر آمنہ خالا  باریک باریک چپا تیاں پکا رہی ہوتیں اور بے تکان  امّا ں سے باتیں کر تیں  ہم دونوں تام چینی کی پھول دار پلیٹوں میں وہیں  پیڑھی پر بیٹھ کر کھا نا کھاتے ۔
ارہر کی اصلی گھی میں بگھری دال اور سفید موتی جیسے چاول ۔۔۔کیا ذایئقہ تھا آمنہ خالا کے ہاتھ میں ۔۔۔اس کے بعد آج تک وہ  ذائقہ نصیب نہ ہوا ۔۔۔
آمنہ خالا اچھی خاصی تندر ست خا تون تھیں  سرخ سفید  رنگ ،ناک کے پاس ایک موٹا سا مّسہ ۔۔بے حد گھنے گھونگر والے بال ،جنہیں وہ ربن میں قید کرتیں اور وہ چہرے پر بکھر بکھر جاتے ۔۔۔
خالو دبلے پتلے اور بے حد مسکین شخصیت تھے وہ اکثر آمنہ خالا سے جڑکیاں کھا یا کرتے مگر خا موش رہتے ۔
اس دن کافی گر می تھی اور لا ئٹ ہمیشہ کی طرح غائب ۔۔۔
رخسانہ اور مٰیں باہر صحن میں کھیل رہے تھے تبھی بڑے زور کی بارش شروع ہوگئی ۔۔۔اس شدید گر می کے بعد بارش خدا کے حسین تحفے کی طرح تھی ہم اس بارش میں خوب بھیگتے رہے ۔۔۔مٹی اور پانی سے کھیل کر ہم دونون بری طرح بھیگ چکے تھے ۔بہت ہی گندے لگ رہے ہونگے جب ہی امّاں بار بار دروازہ کھول کر ہمیں ڈانٹتی رہیں ۔۔مگر کون سنتا ہے ۔۔
شام کا اندھیرا پھیلنے لگا تو دل بری طرح گھبرایا اسی وقت امّاں اور آمنہ خالا گھر سے نکلیں خوب عمدہ کپڑے پہنے ہوئے تھیں شاید وہ کہیں گھومنے جارہی تھیں ۔۔
"ہم بھی جائینگے ۔۔۔"ہم دونوں انکے پیچھے دوڑے ۔۔۔مگر وہ رکشہ میں بیٹھ کر آگے چلی گئیں ۔۔۔ہم بے تہا شہ دوڑ تے رہے  مگر رکشہ اور تیز اور تیز ہوتا گیا ۔۔ہم روتے رہے مگر رکشہ نہیں رکا بس امّاں نے نقاب ہٹا کر ہمیں ڈانٹا
'پہلے کہا کہ نہا کر کپڑے بدل لو ۔۔۔تب نہیں سنا ۔۔۔اب گھر جاؤ واپس ۔۔تمہارے خالو ہیں گھر میں ۔"
رکشہ بہت آگے چلا گیا تو ہم روتے ہوئے گھر لوٹے ۔۔اور بغیر بستر کی چار پائیوں پر لیٹ کر سو گئے ۔
ہم کو زور کا بخار چڑھا تھا ۔کب امّا ں آئیں کب ہمیں اٹھا کر دودھ پلا یا دوا کھلائی ،کچھ یاد نہیں ۔صبح  جاگے تو طبیعت بہتر تھی ۔
ہم لو گوں کو واپس جا نا تھا ۔آمنہ خالا نے دعوت کا  اہتما م کر ڈالا ۔۔۔سارے دن وہ انتظام میں لگی رہیں کئی چیزیں ہمارے ساتھ بھیجنے کے لئے تیّا ر کر تی رہیں نئی نئی فارکیں خرید کر مجھے دیں ۔
رات کے کھانے میں بہت اہتمام کیا ساری دو پہر باورچی خانے میں گزار دی ۔
مو سم نسبتاً بہتر تھا ۔آنگن میں پلنگ بچھے تھے جن پر سفید شفّاف بستر لگے تھے ۔میں اور رخسانہ ایک بستر سے دوسرے پر کود رہے تھے ۔چادر خراب ہونے کی وجہ سے امّاں مستقل ڈانٹ رہی تھیں ۔
آنگن میں بڑی سی ڈائینگ ٹیبل لگا کر کر سیاں لگا دی گئی تھیں ۔سبھی بھائی بہن کرسیوں اور پلنگوں پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے ۔خوب لطیفے سنائے جارہے تھے خوب قہقہے لگ رہے تھے ۔
آج خالو بھی کافی دنوں کے بعد سب کے ساتھ آکر بیٹھے تھے اور امّا ں سے باتیں کر رہے تھے ۔
میں اور رخسانہ بچھڑ نے کے خیال سے گھبرا رہے تھے اور نہ جانے کیا کیا عہدو پیماں کر رہے تھے ۔
عشرت باجی اور رفعت باجی نے کھانا لگا نا شروع کیا تو ہم بھی دوڑ دوڑ کر چمچے اور پلیٹیں لانے لگے ۔
تقریباً سارا کھا نا میز پر لگ چکا تھا ۔آمنہ خالا شاہی ٹکڑے نکال رہی تھیں اور مستقل باتیں کر رہی تھیں ۔تب ہی ایک عجیب واقعہ ہوا ۔
دروازے کی زنجیر کسی نے زور سے کھٹکھٹائی ۔۔افضال بھائی نے آگے  بڑھ کر دروازہ کھولا ۔
ایک صا حب ایکدم سے اندر آگئے ۔لمبا قد گورے چٹّے آدمی تھے عمر میں شاید اقبال بھائی کے برا بر ہی ہونگے ۔یا چند برس بڑے ہوں ۔سفید کر تے پایئجامہ ،اسپر سر مئی رنگ کی کافی قیمتی لیکن میلی سی شیر وانی پہنے ہوئے تھے ۔پیروں میں چمڑے کے بد وضع جوتے تھے جو انکے خوبصورت پیروں سے بالکل میچ نہیں کر رہے تھے ۔
وہ بغیر کسی سے ایک لفظ بھی بولے ہوئے کرسی کھینچ کر بیٹھ گئے اور پلیٹ میں کھا نا نکا لا اور جلدی جلدی کھانے لگے ان کی انگلیاں بے قراری سے کپکپا رہی تھیں ۔
سب لوگ ہکّا بکّا سے کھڑے تھے ۔ان کی شخصیت ایسی تھی  کسی میں بولنے کی ہمّت نہیں تھی کہ ان سے کچھ کہے یا گھر سے نکالے ۔
ایک طرف خالو کھڑے ان کو کھانا کھاتے دیکھ رہے تھے دوسری طرف امّاں مبہوت تھیں انھیں اس وقت پر دے کا بھی خیال نہیں تھا ۔
خالا اپنی دھن میں بولتی ہوئی باورچی خانے سے شاہی ٹکڑے کی قاب لئے چلی آرہی تھیں "اؤی اللہ " کہہ کر وہیں تھم گئیں ۔
کھا نا ختم کر کے ان صا حب نے جگ اپنی طرف کیا اور گلاس میں پانی انڈیلنے لگے ۔اس درمیان انھونے کسی کی طرف نظر نہیں ڈالی ۔
کئی گلا س پانی پی گئے ۔پھر انھوں نے سب کی طرف دیکھا ۔اور خالو کی طرف بڑھ کر انکے قدموں میں بیٹھ گئے ۔خالو گھبرا کر دو قدم پیچھے ہٹے تو انھو نے قدم تھام لئے ۔
اور آنسؤ ں سے بھری آواز میں بولے ۔
آپ چاہیں تو ہمیں سزا دیجئے یا پولیس کے حوالے کر دیجئے ۔یا پھر معاف کر دیجئے ۔۔۔آپ کے سامنے ہیں ،
ہم پانچ دن سے مارے مارے پھر رہے ہیں ،پہلے کچھ بھنے چنے تھے پھر وہ بھی ختم ہوگئے بھوک سے ہمارا برا حال تھا ۔
گدا گری ہمارا پیشہ نہیں اور محنت کرنا ہمیں آتا نہیں ۔۔۔اپنا نام بتا کر اپنے اجداد کی روحوں کو شرمندہ نہیں کر نا چاہتے ،         ہو سکے تو ہماری اس جسا رت کو معاف کر دیجئے ،"
ان کی زبان ان کا لہجہ ان کا انداز ،بے حد  رقت امیز تھا ،،
ہر ایک کی آنکھوں میں آنسو تھے ،امّاں نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ لیا تھا ۔اور چہرہ انسوؤں سے تر تھا ۔
آمنہ خالا کے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔۔خالو نے انھیں شانوں سے تھام کر اٹھایا او کر سی پر بٹھا دیا ۔
ان سے اور کچھ کھانے کی درخواست کی مگر وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور ایکدم ہی باہر نکل گئے ۔۔۔۔اور باہر کے اندھیروں میں گم ہوگئے ۔
سب لوگ چند منٹ تک سنّا ٹے میں گھرے کھڑے رہے ۔کسی کو کھانے کا ہوش نہیں تھا ۔سبھی کے ذہنوں میں معصوم صفت ،غریب لیکن بے حد شریف شخص کے دل پزیر الفاظ  گونج رہے تھے ۔۔۔رات آہستہ آہستہ گزر رہی تھی ۔
آج بھی جب گھر میں دعوت کا اہتمام ہوتا ہے تو میری نظریں اچا نک دروازے کی طرف اٹھ جاتی ہیں ۔۔۔۔۔نہ جانے کیو ں ۔۔۔؟
ختم شد



نہ میں ہوتا تو کیا ہوتا ۔۔۔۔
دوستوں کا کہنا ہے کہ اپنے بارے میں کچھ لکھوں ۔اپنے بارے میں ؟ میں کون ہوں ؟ کیا ہوں ؟ ہوں بھی یا نہیں ؟
کئی سوال ذہن کے پر دے پر سر سراتے رہتے ہیں ۔۔۔۔۔
 قلم  اس لئے سنبھالا کہ متعدد سوالوں کے جواب ڈھونڈھنے تھے ۔
دل کی بے چینیاں رقم کرنی تھیں ۔
کہتے ہیں کہ جو کسی اور سے نہ کہہ سکو وہ خود سے کہہ لو ۔۔۔۔سو اپنے آپ سے کہتے ہوئے یہ نہ سوچا کہ جواب نہیں ملے گا ۔۔۔
اپنی تحریر سے کبھی دل مطمین نہ ہوا ۔۔۔ہمیشہ یہی محسوس ہوا کہ کہیں کچھ کم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اطمینان ہو جاتا تو شاید لکھنا چھوٹ جاتا ۔یہی عد م اطمینان لکھوائے جا رہا ہے ۔لکھنے کا موقف زندگی کے کچھ مشاہدات ،کچھ حاد ثات رہے ۔ہر قدم پر ایک نئی کہانی منتظر ملی وہ الگ بات کہ کئی کہا نیاں ہاتھ سے چھوٹ گئیں ۔۔۔۔کئی ادھورے قصّے ۔۔۔۔کئی نظمیں ،کئی واقعات اب بھی ذہن کے پر دے پر موجود ہیں ۔ان سب کو لکھنا ہے دوستوں کو سنا نا ہے ۔
 ایسا نہیں کہ زندگی کے دامن میں ہمیشہ پھول رہے ،کانٹوں سے بھی واسطہ رہا ۔بیحد کڑا وقت بھی گزرا یوں لگتا تھا کہ  خود پرسےاعتماد      کھو جائے گا مگر قائم رہا ۔پیروں میں زمین بچھی رہی ۔۔۔سر پر آسمان کا سایہ رہا ۔وہی وقت ایسا تھا جب مکمل طور پر قلم سنبھالا ۔ چا ہا کہ وہ سب کاغز پر اتار دوں ۔۔جو کچھ ہوا وہ سب ،مگر اپنے رنج اپنے پاس رہیں تو معتبر رہتے ہیں ۔ دوسروں کی نظر میں قابلِ رحم ہوکر رہنا پسند نہیں ۔افسانے ،نظمیں ،مضامین و سفر نامے  لکھے ۔خوش نصیبی یہ  ہے کہ دوستوں اور اپنوں کا ساتھ قائم رہا ۔محبتّوں کا آسرا اور لکھنے کا عزم بر قرار ہے ۔
ہمارے لہجے میں یہ توازن بڑی صعو بت کے بعد آیا
کئی مزاجوں کے دشت دیکھے کئی رویوں کی خاک چھانی

۔غصّہ بھی آتا ہے اور بہت آتا ہے ۔جن پر اتُر تا ہے ان سے پوچھیئے ۔مگر
اپنے اپنوں پر بہت ناز ہے ۔وہی سر مایہ حیات ہیں میرے دوست ،میرے رہنماء ۔
قدم قدم پر محسوس ہوتا ہے کہ ماں کی  دعا ؤں کے حصار میں ہوں ۔زندگی کی سب سے عظیم خوشی اپنوں کی محبّت اور قلم کا لمس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس اور کچھ نہیں ۔

Sunday, July 17, 2016

عرضی ۔
دور تم سے بہت دور امریکہ کے اس انجان سے شہر میں اپنے گاؤ ں کی یادوں سے زخمی میرا وجود اچانک جیسے میں بہت بوڑھا ہوگیا ہوں ۔جب میں اپنی جیب میں ہاتھ ڈالتا ہوں اور انگلیاں ایک تہہ کئے ہوئے کاغز سے ٹکراتی ہیں تو میں سہم کر اپنا ہاتھ باہر نکال لیتا ہوں ۔۔۔۔اس بے رنگ کا غذ کے ٹکڑے میں یادوں کے ناگ چھپے بیٹھے ہیں جو لمحہ لمحہ مجھے ڈستے رہتے ہیں ۔
پچھلی بار جب کافی مشکل سے چند دن کی چھٹیاں ملیں اور میں گھر آیا تو تم سے ملنے اور گاؤں ایک نظر دیکھنے کو دل مچل گیا اور گاؤں روانہ ہوگیا ۔راستے میں ہرے بھرے باغ اور لہلہاتے کھیتوں کو دیکھ کر میری آنکھوں کی روشنی بڑھ گئی تھی ۔۔اسٹیشن پر میری نظریں تمہیں ڈھونڈ رہی تھیں اور پھر تم مجھے نظر آئے ۔
تمہا را نرم سا چہرہ  ، تانبے کی رنگت ہوگیا تھا تمہاری کالی سیاہ جگمگا تی آنکھیں حلقوں میں آکر  بجھ سی گئی تھیں ۔گھنے سیاہ بال کہیں کہیں سے سفید ہو کر مجھے وقت گزر جانے کا پتہ دے رہے تھے ۔مگر پھر بھی تم ویسے ہی لمبے مضبوط اور خوش لباس تھے ۔ہاتھوں میں وہی چکنی سی لاٹھی جو تمہاری شخصیت کا خاصہ ہے چمک رہی تھی تم مجھے دیکھے جارہے تھے آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے ۔۔تمہارے وجود میں خوشی کی گنگنا ہٹ تھی ۔مجھ سے اس طرح لپٹ گئے جیسے اب کبھی جدا نہ ہوگے ۔
میں کبھی روتا نہیں ہوں مگر اسُ دن تمہاری محبّت مجھے رلاُ رہی تھی ۔۔۔نہ جانے کتنی دیر ہم ایک دوسرے سے لپٹے یوں ہی روتے رہے ۔مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ کوئی اب بھی مجھ سے اتنی محبّت کر سکتا ہے ۔
وہی بڑا سا چھپّر والا برامدہ  وہی کھُلا کھُلا کچّا آنگن وہی بان کی چوڑے چوڑے پلنگ جن پر چھینٹ کی نئی چادریں میرے اعزاز میں   بچھائی گئی تھیں ۔آنگن میں بنی ہوئی کیا ریوں میں  پھولوں کے  رنگ  بکھرے ہوئے تھے اور ایک کونے میں لگا ہوا وہی پرا نا نیم کا پیڑ تن کر کھڑا تھا جسکی شاخوں پر جھول کر ہم بڑے ہوئے ۔ایک خواب ناک سا ماحول تھا جہاں میں اپنے آپ کو بھول سا گیا تھا ۔
تمہاری سانولی سلونی سی بیوی مٹّی کے چولھے پر میرے لئے آلو کے پراٹھے بنا رہی تھی اور دونوں معصوم سی لڑکیاں تخت پردستر خوان لگا رہی تھیں ۔کونے میں رکھّے گھڑے سے ٹھنڈا پانی نکال کر جب میں نے اپنے ہونٹو ں سے لگا یا تو جیسے زندہ ہو گیا ۔
زندگی تو جیسے کہیں کھو چکی ہے ۔آج یہان آکر احساس ہوا کہ میں ہوں ۔
جب ہم دونوں سر سوں کا ساگ اور آلو کے پراٹھے اچار کے ساتھ کھا رہے تھے ،بھابی میری تعریفوں سے لال ہوئی جارہی تھیں تمہارے بلند وبانگ قہقے مجھے میرے ہونے کا احساس دلا رہے تھے تب تم میری واپسی کا سنکر اُداس ہو گئے ۔
"آج ہی کیوں ؟کچھ دن رک جاؤ میرے یار  ابھی تو تجھے جی بھر کے دیکھا بھی نہیں ۔۔۔۔"تمہاری آواز میں التجاء تھی ۔
"پرسوں واپسی کی فلایئٹ ہے یار ۔۔۔جا نا تو پڑے گا ۔آجکا یہ دن بڑی مشکل سے نکا لا ہے میں نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
 ہم گھر سے باہر آگئے ۔ سامنے یوکلپٹس کی قطار میں چلتے ہوئے ہم باتیں کر تے رہے پھر اچانک ہی تم نے میرا ہاتھ تھام لیا ۔
"میرے لئے بھی کوئی کام ڈھو نڈو یار وہاں ۔۔۔"
میری حیران نظروں کے جواب میں تم شر مندگی سے مسکرائے ۔
"دسیوں کلاس سے آگے تو پڑھ نہیں سکا تھا ۔۔تجھے تو سب معلوم ہی ہے ۔کوئی چھوٹا موٹا کام ۔۔کیسا بھی ہو ۔۔کر لوں گا یار  مجھے بھی وہیں بلا لے "
"لیکن تو نوکری کرے گا ؟ تجھے نوکری کی کیا ضرورت ہے دوست ؟ سب ٹھیک ٹھاک تو ہے "
"نہیں یار اب کچھ ٹھیک نہیں ہے زمینیں مقدموں کی نظر ہوگئیں اور تو تو جانتا ہے یہ کبھی ختم نہیں ہوتے ۔لڑکیاں بڑی ہوگئی ہیں گھر کے حالات کیا بتا ؤں تجھے ۔بس کام چل رہا ہے ۔میرے لئے کوئی کام دیکھ لے ادھر ۔۔بلا لے مجھے "
تمہاری آنکھوں میں ندامت کے آنسو تھے اسی لئے آواز بھّرا رہی تھی ۔مڑ کر بھا بی کی طرف دیکھا ان کے آنچل میں آس کا اُجا لا تھا ۔
بچپن کے ڈھیر سارے دن آگے بڑھے اور ایک ایک کر کے مجھے گلے لگا نے لگے ۔میں شروع ہی سے جسمانی طور سے  کمزور تھا ۔اور ہمّت بھی کم تھی مجھ میں ۔جلد ٹوٹ جا یا کر تا تھا تم ہی آگے بڑھ کر مجھے سہارا دیتے تھے ،میری طاقت بن جاتے تھے ۔دسیوں کلاس کے بعد تم نے پڑھنا چھوڑ دیا مگر میرا سایہ بنے رہے ۔ہاتھ میں یہی چمکتی لاٹھی اور چہرے پر بے پناہ حوصلہ ۔مجھے اپنے حصار میں لئے رہے تم ۔جب با با نے میرا داخلہ شہر کے اسکول میں کر وا دیا تو تم کتنا اُداس ہوئے تھے ۔مجھ سے چھپ کر روئے بھی تھے  اور جب میں شہر کے لئے روانہ ہوا ۔تم گاڑی کے ساتھ ساتھ بھاگتے ہوئے کتنی دور تک چلے آئے تھے ،تمہارے چہرے کی سر خی بتا رہی تھی کہ تم خود پر کتنا جبر کر کے مسکرا رہے ہو ۔گاؤن کے آخری موڑ تک ہاتھ ہلا یا تھا تم نے ۔
اور پھر زندگی سوکھے پتّے کی طرح  مجھکو یہاں وہاں اڑائے پھری ۔
اس اجنبی دیس میں  اپنے آپ کو  کتنا پرا یا لگتا ہوں میں۔۔۔
بھلا تمکو کیسے بلاُ سکتا ہوں جسکے پاس اپنا کہنے کو کچھ نہیں ۔بیوی  جسنے یہاں کی شہریت دلوائی اور ایک معمولی نوکری جسکا کوئی مستقبل نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم تو بے حد ریئس ہو ایک نیم کا پیڑ ایک چھپّپر تو تمہارا اپنا ہے نا ؟
میری جیب میں رکھّی ہوئی تمہاری وہ عرضی جو چلتے وقت تم نے مجھے دی تھی اسکا کاغز دن بدن پیلا ہو تا جا رہا ہے اور میں اس بے بسی کے بوجھ تلے بو ڑھا ہو تا جارہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
                                          ٭٭٭٭٭٭٭