نہ میں ہوتا تو کیا ہوتا ۔۔۔۔
دوستوں کا کہنا ہے کہ اپنے بارے میں کچھ لکھوں ۔اپنے بارے میں ؟ میں کون ہوں ؟ کیا ہوں ؟ ہوں بھی یا نہیں ؟
کئی سوال ذہن کے پر دے پر سر سراتے رہتے ہیں ۔۔۔۔۔
قلم اس لئے سنبھالا کہ متعدد سوالوں کے جواب ڈھونڈھنے تھے ۔
دل کی بے چینیاں رقم کرنی تھیں ۔
کہتے ہیں کہ جو کسی اور سے نہ کہہ سکو وہ خود سے کہہ لو ۔۔۔۔سو اپنے آپ سے کہتے ہوئے یہ نہ سوچا کہ جواب نہیں ملے گا ۔۔۔
اپنی تحریر سے کبھی دل مطمین نہ ہوا ۔۔۔ہمیشہ یہی محسوس ہوا کہ کہیں کچھ کم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اطمینان ہو جاتا تو شاید لکھنا چھوٹ جاتا ۔یہی عد م اطمینان لکھوائے جا رہا ہے ۔لکھنے کا موقف زندگی کے کچھ مشاہدات ،کچھ حاد ثات رہے ۔ہر قدم پر ایک نئی کہانی منتظر ملی وہ الگ بات کہ کئی کہا نیاں ہاتھ سے چھوٹ گئیں ۔۔۔۔کئی ادھورے قصّے ۔۔۔۔کئی نظمیں ،کئی واقعات اب بھی ذہن کے پر دے پر موجود ہیں ۔ان سب کو لکھنا ہے دوستوں کو سنا نا ہے ۔
ایسا نہیں کہ زندگی کے دامن میں ہمیشہ پھول رہے ،کانٹوں سے بھی واسطہ رہا ۔بیحد کڑا وقت بھی گزرا یوں لگتا تھا کہ خود پرسےاعتماد کھو جائے گا مگر قائم رہا ۔پیروں میں زمین بچھی رہی ۔۔۔سر پر آسمان کا سایہ رہا ۔وہی وقت ایسا تھا جب مکمل طور پر قلم سنبھالا ۔ چا ہا کہ وہ سب کاغز پر اتار دوں ۔۔جو کچھ ہوا وہ سب ،مگر اپنے رنج اپنے پاس رہیں تو معتبر رہتے ہیں ۔ دوسروں کی نظر میں قابلِ رحم ہوکر رہنا پسند نہیں ۔افسانے ،نظمیں ،مضامین و سفر نامے لکھے ۔خوش نصیبی یہ ہے کہ دوستوں اور اپنوں کا ساتھ قائم رہا ۔محبتّوں کا آسرا اور لکھنے کا عزم بر قرار ہے ۔
ہمارے لہجے میں یہ توازن بڑی صعو بت کے بعد آیا
کئی مزاجوں کے دشت دیکھے کئی رویوں کی خاک چھانی
۔غصّہ بھی آتا ہے اور بہت آتا ہے ۔جن پر اتُر تا ہے ان سے پوچھیئے ۔مگر
اپنے اپنوں پر بہت ناز ہے ۔وہی سر مایہ حیات ہیں میرے دوست ،میرے رہنماء ۔
قدم قدم پر محسوس ہوتا ہے کہ ماں کی دعا ؤں کے حصار میں ہوں ۔زندگی کی سب سے عظیم خوشی اپنوں کی محبّت اور قلم کا لمس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس اور کچھ نہیں ۔
دوستوں کا کہنا ہے کہ اپنے بارے میں کچھ لکھوں ۔اپنے بارے میں ؟ میں کون ہوں ؟ کیا ہوں ؟ ہوں بھی یا نہیں ؟
کئی سوال ذہن کے پر دے پر سر سراتے رہتے ہیں ۔۔۔۔۔
قلم اس لئے سنبھالا کہ متعدد سوالوں کے جواب ڈھونڈھنے تھے ۔
دل کی بے چینیاں رقم کرنی تھیں ۔
کہتے ہیں کہ جو کسی اور سے نہ کہہ سکو وہ خود سے کہہ لو ۔۔۔۔سو اپنے آپ سے کہتے ہوئے یہ نہ سوچا کہ جواب نہیں ملے گا ۔۔۔
اپنی تحریر سے کبھی دل مطمین نہ ہوا ۔۔۔ہمیشہ یہی محسوس ہوا کہ کہیں کچھ کم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اطمینان ہو جاتا تو شاید لکھنا چھوٹ جاتا ۔یہی عد م اطمینان لکھوائے جا رہا ہے ۔لکھنے کا موقف زندگی کے کچھ مشاہدات ،کچھ حاد ثات رہے ۔ہر قدم پر ایک نئی کہانی منتظر ملی وہ الگ بات کہ کئی کہا نیاں ہاتھ سے چھوٹ گئیں ۔۔۔۔کئی ادھورے قصّے ۔۔۔۔کئی نظمیں ،کئی واقعات اب بھی ذہن کے پر دے پر موجود ہیں ۔ان سب کو لکھنا ہے دوستوں کو سنا نا ہے ۔
ایسا نہیں کہ زندگی کے دامن میں ہمیشہ پھول رہے ،کانٹوں سے بھی واسطہ رہا ۔بیحد کڑا وقت بھی گزرا یوں لگتا تھا کہ خود پرسےاعتماد کھو جائے گا مگر قائم رہا ۔پیروں میں زمین بچھی رہی ۔۔۔سر پر آسمان کا سایہ رہا ۔وہی وقت ایسا تھا جب مکمل طور پر قلم سنبھالا ۔ چا ہا کہ وہ سب کاغز پر اتار دوں ۔۔جو کچھ ہوا وہ سب ،مگر اپنے رنج اپنے پاس رہیں تو معتبر رہتے ہیں ۔ دوسروں کی نظر میں قابلِ رحم ہوکر رہنا پسند نہیں ۔افسانے ،نظمیں ،مضامین و سفر نامے لکھے ۔خوش نصیبی یہ ہے کہ دوستوں اور اپنوں کا ساتھ قائم رہا ۔محبتّوں کا آسرا اور لکھنے کا عزم بر قرار ہے ۔
ہمارے لہجے میں یہ توازن بڑی صعو بت کے بعد آیا
کئی مزاجوں کے دشت دیکھے کئی رویوں کی خاک چھانی
۔غصّہ بھی آتا ہے اور بہت آتا ہے ۔جن پر اتُر تا ہے ان سے پوچھیئے ۔مگر
اپنے اپنوں پر بہت ناز ہے ۔وہی سر مایہ حیات ہیں میرے دوست ،میرے رہنماء ۔
قدم قدم پر محسوس ہوتا ہے کہ ماں کی دعا ؤں کے حصار میں ہوں ۔زندگی کی سب سے عظیم خوشی اپنوں کی محبّت اور قلم کا لمس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس اور کچھ نہیں ۔
No comments:
Post a Comment