Monday, May 21, 2018

انجم قدوائی ۔بقلم نسترن فتیحی



انجم قدوائی 
(ایک خاکہ )
نسترن  فتیحی 
سادہ لوحی،منکسرالمزاجی،سادگی اور محبت کوجب ایک سانچے میں ڈھال دیا جائے تو جو رنگ روپ اور نقش ابھر کر آئینگے اس کا نام ہوگا انجم قدوائی۔ ان کی شخصیت کے ان ہی سارے رنگوں سے مل کر ان کا فن جلا پاتا ہے۔
یو پی کے ضلع سلطان پور کے گاﺅں بہار پورمیں ایک بھرے پرے گھر میں،جس نے بڑی شان و شوکت دیکھی تھی،جو رشتوں اور محبتوں کی دولت سے مالامال تھا۔جہاں تہذیب و تمدن کا رنگ پھیکا نہیں پڑا تھااور جہاں ادبی ذوق کی کمی نہیں تھی ایسے ہی ایک گھر اور ایک ماحول میں انجم کی پیدائش ہوئی ۔
ان کے والد محمد ضیغم علی خاں ایک بڑے زمیندارتھے اوراپنے وقت میں ان کا ایک  دبدبہ تھا زمینداری گئی مگر گھر کے ماحول کی وضع داری قائم رہی۔تین بھائی اور چھ بہنوں میں انجم آٹھویں نمبر پر تھیں اس لئے سارے بھائی بہنوں سے کافی چھوٹی تھیں،صرف نو سال کی عمر میں ماں کی دائمی جدائی کا دکھ جھیلا ۔۔ بھائی بہنوں کی محبت اور والد کی شفقت کے سائے میں بڑی ہوئیں ۔ انجم کے بھائی بہن اپنے اپنے گھر کے ہوئے اور وہ تنہائی ہوتی گئیں ۔۔بھائی بہنوں سے دوری اور ماں کی زندگی میں کمی کو پورا کرنے کے لئے انہوں نے فطرت سے دوستی کر لی۔۔ مضبوط ستونوں،محراب دار دالانوں۔ بڑے آنگن اور بوگن ویلیا کے خوشنما پھولوں کے درمیان ایک نازک اندام حسین لڑکی اپنی بڑی بڑی حیران نگاہوں سے ادھر ادھر تنہا ڈولتی، جگنووں کی روشنی کو مٹھی میں بند کرتی ،درختوں کے شاخوں کی تالیوں سے خوش ہوتی اپنی اداسی کو کہانی کے حوالے کرنے لگی۔ادبی ذوق رکھنے والے مہربان اور شفیق والد نے چودہ سال کی عمر میں لکھی ہوئی ان کی کہانی کھلونا میں شائع کروا دی اور ان کے لکھنے کے شوق کو جلا بخش دیا۔ مگر ابھی علیگڑھ میں زندگی ان کا انتظار کر رہی تھی وہ تعلیم کے سلسلے میں علیگڑھ آگئیں۔ جہاں سے ہائی اسکول کرکے پالیٹیکنک سے ڈپلوما حاصل کرنے کے لئے ہوسٹل میں رہنے لگیں۔ جہاں کبھی افسانوی مقابلے کا پہلا انعام جیتا تو کبھی فلاور ڈیکوریشن اور بیت بازی میں جیت کر اس وقت کے وی سی خسرو صاحب سے انعامات اور سرٹیفیکیٹ حاصل کرتی رہیں۔ وہاں قیام کے دوران اس خوبصورت اور نازک اندام لڑکی کو مس پالیٹیکنک کے خطاب سے بھی نوازا گیا ۔ پھر انجم کی تابناکیوں نے کسی وجیہ و شکیل کی نظر خیرہ کی اور ١٩٨٧ء  میں جناب مصاعد قدوائی صاحب نے جو کہ خود بھی شاعر اور افسانہ نگار تھے۔ انجم کو اپنی زندگی کا شریک سفر بنایا۔اور انجم ضیغم سے وہ انجم قدوائی بن گئیں۔ اپنے شریک سفر کی حوصلہ افزائی کے سبب شادی کے بعد کی ذمہ داریوں کے ساتھ گریجوایشن کر سکیں ۔ پھر گردش دوراں نے ان سے دنیا کی خاک چھنوائی اور وہ لندن، شکاگو ،دبئی اور سعودی عرب جیسی جگہوں پر رہیں ۔ مگر نئی ذمہ داریوں نے قلم کا ساتھ چھڑوا دیا ۔ اس لئے ایک طویل عرصے تک انہوں نے افسانے سے منھ موڑے رکھا ۔ ان کے گھرانے کے ادبی ذوق کا ہی نتیجہ تھا کہ انجم کی بڑی بہن شمع مہدی شاعرہ اور چھوٹی بہن غزال ضیغم ایک کامیاب افسانہ نگار کے طور پر ابھریں۔ وطن واپسی کے بعد بچیوں کی تعلیم اور شادی جیسی ساری ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوئیں.ان کی تین صاحب زادیاں ہیں جن میں بڑی سوفٹ ویئر انجنیئر، منجھلی نے ماس کمنکشن میں پی ایچ ڈی کی اور اب حیدرا باد میں ہے . تیسری بیٹی وائلڈ لائف میں ماسٹرز کرکے جونزبرگ میں ایک پروجکٹ کر رہی ہے . اس طرح انجم قدوائی بچیوں کو کامیابی کی منزل کی طرف گامزن کرکے ایک بار پھر تنہا ہو گئیں .تو اپنا بھولا ہوا مشغلہ یاد آیا. چند سال قبل انہوں نے پھرسے اپنے لکھنے کے شوق کی طرف رجوع کیا۔ ان کے پرانے مشاغل لوٹ آئے اور وہ اپنے افسانوں کی طرف بے حد سنجیدگی کے ساتھ مصروف ہوگئی ہین ۔
٭٭٭٭٭


No comments:

Post a Comment