Monday, May 21, 2018


انجم قدوائی 
(ایک خاکہ )
نسترن  فتیحی 
سادہ لوحی،منکسرالمزاجی،سادگی اور محبت کوجب ایک سانچے میں ڈھال دیا جائے تو جو رنگ روپ اور نقش ابھر کر آئینگے اس کا نام ہوگا انجم قدوائی۔ ان کی شخصیت کے ان ہی سارے رنگوں سے مل کر ان کا فن جلا پاتا ہے۔
یو پی کے ضلع سلطان پور کے گاﺅں بہار پورمیں ایک بھرے پرے گھر میں،جس نے بڑی شان و شوکت دیکھی تھی،جو رشتوں اور محبتوں کی دولت سے مالامال تھا۔جہاں تہذیب و تمدن کا رنگ پھیکا نہیں پڑا تھااور جہاں ادبی ذوق کی کمی نہیں تھی ایسے ہی ایک گھر اور ایک ماحول میں انجم کی پیدائش ہوئی ۔
ان کے والد محمد ضیغم علی خاں ایک بڑے زمیندارتھے اوراپنے وقت میں ان کا ایک  دبدبہ تھا زمینداری گئی مگر گھر کے ماحول کی وضع داری قائم رہی۔تین بھائی اور چھ بہنوں میں انجم آٹھویں نمبر پر تھیں اس لئے سارے بھائی بہنوں سے کافی چھوٹی تھیں،صرف نو سال کی عمر میں ماں کی دائمی جدائی کا دکھ جھیلا ۔۔ بھائی بہنوں کی محبت اور والد کی شفقت کے سائے میں بڑی ہوئیں ۔ انجم کے بھائی بہن اپنے اپنے گھر کے ہوئے اور وہ تنہائی ہوتی گئیں ۔۔بھائی بہنوں سے دوری اور ماں کی زندگی میں کمی کو پورا کرنے کے لئے انہوں نے فطرت سے دوستی کر لی۔۔ مضبوط ستونوں،محراب دار دالانوں۔ بڑے آنگن اور بوگن ویلیا کے خوشنما پھولوں کے درمیان ایک نازک اندام حسین لڑکی اپنی بڑی بڑی حیران نگاہوں سے ادھر ادھر تنہا ڈولتی، جگنووں کی روشنی کو مٹھی میں بند کرتی ،درختوں کے شاخوں کی تالیوں سے خوش ہوتی اپنی اداسی کو کہانی کے حوالے کرنے لگی۔ادبی ذوق رکھنے والے مہربان اور شفیق والد نے چودہ سال کی عمر میں لکھی ہوئی ان کی کہانی کھلونا میں شائع کروا دی اور ان کے لکھنے کے شوق کو جلا بخش دیا۔ مگر ابھی علیگڑھ میں زندگی ان کا انتظار کر رہی تھی وہ تعلیم کے سلسلے میں علیگڑھ آگئیں۔ جہاں سے ہائی اسکول کرکے پالیٹیکنک سے ڈپلوما حاصل کرنے کے لئے ہوسٹل میں رہنے لگیں۔ جہاں کبھی افسانوی مقابلے کا پہلا انعام جیتا تو کبھی فلاور ڈیکوریشن اور بیت بازی میں جیت کر اس وقت کے وی سی خسرو صاحب سے انعامات اور سرٹیفیکیٹ حاصل کرتی رہیں۔ وہاں قیام کے دوران اس خوبصورت اور نازک اندام لڑکی کو مس پالیٹیکنک کے خطاب سے بھی نوازا گیا ۔ پھر انجم کی تابناکیوں نے کسی وجیہ و شکیل کی نظر خیرہ کی اور ١٩٨٧ء  میں جناب مصاعد قدوائی صاحب نے جو کہ خود بھی شاعر اور افسانہ نگار تھے۔ انجم کو اپنی زندگی کا شریک سفر بنایا۔اور انجم ضیغم سے وہ انجم قدوائی بن گئیں۔ اپنے شریک سفر کی حوصلہ افزائی کے سبب شادی کے بعد کی ذمہ داریوں کے ساتھ گریجوایشن کر سکیں ۔ پھر گردش دوراں نے ان سے دنیا کی خاک چھنوائی اور وہ لندن، شکاگو ،دبئی اور سعودی عرب جیسی جگہوں پر رہیں ۔ مگر نئی ذمہ داریوں نے قلم کا ساتھ چھڑوا دیا ۔ اس لئے ایک طویل عرصے تک انہوں نے افسانے سے منھ موڑے رکھا ۔ ان کے گھرانے کے ادبی ذوق کا ہی نتیجہ تھا کہ انجم کی بڑی بہن شمع مہدی شاعرہ اور چھوٹی بہن غزال ضیغم ایک کامیاب افسانہ نگار کے طور پر ابھریں۔ وطن واپسی کے بعد بچیوں کی تعلیم اور شادی جیسی ساری ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوئیں.ان کی تین صاحب زادیاں ہیں جن میں بڑی سوفٹ ویئر انجنیئر، منجھلی نے ماس کمنکشن میں پی ایچ ڈی کی اور اب حیدرا باد میں ہے . تیسری بیٹی وائلڈ لائف میں ماسٹرز کرکے جونزبرگ میں ایک پروجکٹ کر رہی ہے . اس طرح انجم قدوائی بچیوں کو کامیابی کی منزل کی طرف گامزن کرکے ایک بار پھر تنہا ہو گئیں .تو اپنا بھولا ہوا مشغلہ یاد آیا. چند سال قبل انہوں نے پھرسے اپنے لکھنے کے شوق کی طرف رجوع کیا۔ ان کے پرانے مشاغل لوٹ آئے اور وہ اپنے افسانوں میں اپنے مشاہدے کا نچوڑ پیش کر نے لگیں۔افسانہ لکھ
 ٹائیپنگ  کی غلطیوں کے لئے پیشگی معذرت ۔

1] Azra baji iii: ہماری پیاری سیی خلوص محبت ۔ بہت اچھی فسانہ نگار ۔انجم  قدوائ نسترن نے بہت خوب تعارف کرایا ہے ۔اردو زبان پر ان کوعبور ہے وہ ان کی خاندانی میراث ہے ۔ " ایں ِسعادت بہ زوربازونیست " ان کی بڑی بہن شمع ظفر مہدی بہت با کمال مگر گوشہ نشین شاعرہ ہیں اورچھوٹی بہن غزال ضیغم ایک معروف افسانہ نگا ر ہیں ۔انجم کے افسانے بہت سادگی سے ۔مگر پر کاری سے قاری کو نے ساتھ لے کر چلتے ہیں ۔بہتreadableہوتے ہیں ۔ان کی پوری کتاب ریت کاماضی، میں نے پڑھی ہے ۔موضوعات جانے پہچانے ہیں لیکن کردار نگاری، مکالمے، منظر کشی اور بیان کی روانی ان کو بہت متاثر کن بنا دیتی ہے ۔ میں نے انجم سے کہا بھی تھا کہ تم کہیں کہیں کہانی جلدی سے ختم کردیتی ہو جب کہ تم میں اس کہانی کو اور بھی ڈیولپ کر سکتی ہو تم میں اس کہیں زیادہ صلاحیت اور خلاقیت ہے ۔لیکن انجم کی یہ کہانی جو نسترن نےپوسٹ،کی ہے اس سے مستثنی ہے ۔بھر پور کہانی ہے ۔تقسیم ہند کے موضوع پر بے شمار کہانیاں ہیں ۔جن کا،موضوع ہے ",ایسے ویسے کیسے کیسے ہو گئے " لیکن انجم نے اس میں ایک  نیا زاویہ پیش کیا ہے اور انسانی جذبات کے کئ شیڈس اس میں شامل کرکے اسے ایک منفرد کہانی بنا دیا  ہے ۔بیٹے نے جس طرح اس صورت حال کو موڑ دیا وہ بہت کمال کا ہے اس کہانی کی جان ہے ۔ !: نسترن صاحبہ بہت مبارک ہو
آپ کی تحریر کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے
] Nastarn 1: عذرا آپ نے اپنا نظریہ اختصار اور خوبی سے بیان کر دیا۔ انجم کے افسانے کا کہانی پن قاری کو اس ماحول میں انگلی پکڑ کر لے جاتا ہے۔اور بہنوں کی آرا آئیگی اس لئے میں مزید کچھ نہیں کہونگی۔ تعارف میں بھی بہت اختصار سے کام لیا ہے کیونکہ فن پر تبصرہ الگ سے لکھونگی۔018] Nastarn 1: شکریہ انجم کی شخصیت سے بھر پور ملاقات ہو سکی کہ نہیں ؟
8: جی ہاں انجم نے انجم سے ملاقات کرلی انکی شخصیت سے متاثر ہوئی ۔2238:
[3:56 PM, 1/30/2018] +91 98732 97860: ریت کا ماضی ایک اچھاافسانہ ہے...مصنفہ نے نئی نسل اور پرانی نسل کےجزبات کو بڑے فنکارانہ انداز میں بیان کیا ہے ...کہ کس طرح گھر میں بزرگ اپنی چھوٹی چھوٹی چیزوں کو یاد کرتے ہیں اور ان کے بچوں کو ان سب باتوں سے کتنی الجھن ہوتی ہے ...کہانی میں کہیں نہ کہیں تجسس کی کمی کا احساس ہوتا...یہ تجسس جب تک تو برقراررہتا جب اختر میاں ہندوستان جانے کی تیاری کرتے ہیں...لیکن بعد میں مصنفہ نے اختتام بہت جلدی کر دیا.افسانے کے اختتم پرقاری یہ سوچنے پر بھی مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا بزرگ اتنی مبالغہ آرائی سے کام لے سکتے ہیں.زبان بہت اچھی ہے اور روانی بھی ہے.منظر نگاری نے کہانی کو بہت موثربنا دیا ہے...  یہ میری ناقص سی رائے ہے کہانی پڑھنے پر فوراً جو محسوس ہوا لکھ دیا...
.
[3:57 PM, 1/30/2018] +91 98732 97860: بیان میں روانی بھی ہے...
[4:00 PM, 1/30/2018] Farkhanda Lodi: Anjum kidwai ka tarruf aur Afsana padha .haqeeqat bayani mutassirkun he.pakistan ka ye almiya he.waahan logo ne tasannow aur banawat ka mukammal Chanda liyahe.shanoshokat ka fareb bada dil fareb hotahe.lekin.bete ne makiana ko majruh.na Hone diyaye eham he.isse pata chalta he ki.afsana nigar ikhlaqi qadron ki.pasban hain.
[4:01 PM, 1/30/2018] Farkhanda Lodi: Mulamma
[4:26 PM, 1/30/2018] نجمہ جعفری: انجم قدوائی کی کہانیاں اکثر بز م  ادب میں پڑ ھی تھیں لیکن اس افسانے ریت کا ماضی خصوصی طور پر متا ثر کیا خاص طور پر بیٹے نے جس طرح ماں  ماں کے جذبات کو مجروح ہونے سے بچا لیا ۔ افسانہ پڑھ کر شوکت تھانوی کا ناول یاد آگیا کہ پاکستان ہجرت کرنے والوں نے کس طرح اپنے ماضی کے ریت کے قلعے تعمیر کءے تھے ۔ انجم کی شخصیت نے پہلی ملاقات میں ہی اپنا گرویدہ بنا لیا تھا اب تعا رف پڑھ کر اور بھی اچھا لگا اور پھر نسترن کا اندا ز بیان ۔  ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں نسترن کا ۔
[4:31 PM, 1/30/2018] Kahkashan Tabassum: ریت کاماضی ۔مضوع نیا نہیں لیکن انجم قدوائی نےاسے نیا زاویہ عطا کیا ہے ۔بیان کی روانی تجسس کو برقرار رکھتی ہے ۔خاتمہ بھی پراثر ہے ۔مجھے اماں مبالغہ آرائی کرنے والا کردار نہیں لگا ۔بلکہ بچپن کی ناآسودہ خواہشوں کے حصار میں گھرا ایک معصوم وجود نظر آیا ۔کیا قلعی گر طبقے میں پیدا ہونے والی حویلی کے خواب نہیں دیکھ سکتی ؟ یہ خواہش اتنی شدید ہے کہ اس نےاپنی ایک دنیا گڑھ لی ہے جس میں وہ اپنے ابا کی حویلی میں موجود رہتی ہے ۔پاکستان خوابوں کاجزیرہ تھابھارت سے جانے والوں کے لۓ ۔کہ شاید ناآسودہ خواہشوں کی تکمیل ہوسکے ۔مگر ہاتھ آیا چار کمرے کامکان ۔قلعی کےکھپریل کےاعتبار سے تولاکھ درجہ بہتر تھا۔مگر اس عورت کی آرزو
 تو خواب جزیرہ میں بھی پوری نہیں ہوئی ۔اماں کاکردار اسی کامظہر ہے ۔بیٹے کاماں سے اصلیت چھپانا اس مٹتی ہوئی تہذیب کا ثبوت ہے جب رشتے دل سے جڑے ہوتے تھے اوردکھ بغیر احساس کراۓ چپکے سے سمیٹ لئے جاتے تھے۔خوب صورت کہانی کے لئے بہت مبارکباد انجم کو۔جتنی سادگی اورسچائی انجم کیشو شخصیت  میں ہے وہی حسن ان کے بیانیہ میں ۔نسترن نےبہت پیار سے بہت خوب تعارف کرایا ۔
 : معذرت ۔قلعی گر
] Azra baji iii: واہ کہکشاں آپ نے کہانی کے ایک اور پہلو کو اجاگر کیا ہے ۔
1] Nusrat Shamsi: بہت عمدہ اور اہم شخسیت سے آج ملاقات کرائی گئی.ابھی تعارف پڑھا لکھنے والے کی بھی تعریف بنتی ہے.بہت مبارک. اللہ ان ادب کے بگینوں کی حفاظت فرمائے اور مزید آب و تاِ پیدا کرے: شخصیت,] Nusrat Shamsi: ہجرت کا کرب بیان کرتا افسانہ
[5:05 PM, 1/30/2018] تبسم فاطمہ: نسترن آپا  نے جس خوبصورت اور شاعرانہ انداز میں انجم قدویی آپا  کا خاکہ لکھا ہے ، سب سے پہلے اس کی داد دیتی ہوں .. انہوں نے حق بھی ادا کیا اور انجم آپا   کی زندگی کے اتنے گوشے دریافت کیے جس سے ہم سب اب تک انجان تھے .. حویلیوں  کے  پرستان سے نکلی انجم آپا  کے پاس دیس  بدیس کے تجربوں کا ایک بڑا  ذخیرہ  موجود ہے .اب پرانی حویلیاں بھی   پرستان کے قصّے جیسی لگتی ہیں ..انجمآپا  کی کہانیاں اس پرستان کا حصّہ معلوم ہوتی ہیں .
خوابوں میں اکثر ماضی کے بھولے بسرے قصّے یادوں کی شکل میں محفوظ ہوتے ہیں .. ایک دن مٹھیوں سے ریت پھسل  جاتی ہے ..ایک دن نیی نسل کا کویی نوجوان ان خوابوں کے طلسمی دروازے کو کھول دیتا ہے ..تقسیم کی ہزار کہانیوں میں اب بھی ایسے واقعات کی سرد راکھ میں وہ چنگاری زندہ ہے ، جس کو کریدنے کی کوشش  انجم صاحبہ نے کی ہے ..پاکستان کے چھوٹے سے گھر میں پرانی حویلی کے قصے زندہ تھے ..لیکن کیا یادوں کی حویلی سچ مچ محفوظ تھی ؟ یا صرف ایک خیالی ڈنیا  تھی ؟ بیٹا ہندوستان آتا ہے مگر حقیقت ماں سے پوشیدہ رکھتا ہے ..یہ اس کہانی کا صرف ایک پہلو ہے ..دوسرا پہلو  بھی ہے . آج دونوں ملک کے درمیان ایک عجیب سی دیوار حائل ہے . سیاست نے دونوں ملکوں کا برا حال کر دیا ہے .دونوں ملکوں میں اب بھی ایک دوسرے کے عزیز اور رشتےدار رہتے ہیں .. سیاست جب شب خون مارتی ہے تو ایک اہ دونوں طرف سے نکلتی ہے ..بیٹے نے ایک بات پوشیدہ رکھی ..ایک بات ہمارے دلوں میں گھٹ کر دم توڑ  دیتی ہے کہ کیا دو قومی نظریے کی ضرورت تھی ؟ پاکستان کی بی بی ہندوستان کو فراموش نہ کر سکی . بیٹا ماں کے درد کو لئے واپس پاکستان لوٹ گیا ...یہ درد اب بھی آواز دیتا ہے کہ کیا تقسیم کی واقعی ضرورت تھی ...؟
عذرا آپا نے بھی کہانی کا خوبصورت جایزہ لیا ہے ... میں اب بھی تسلیم کرتی ہوں کہ  ایسی کہانیوں میں ماضی کا صرف ایک در کھلتا ہے ..لیکن اس ایک در میں ہزاروں کہانیوں کے نقوش چھپے ہوتے ہیں ...
نسترن آپا ، انجم آپا دونوں کو مبارکباد پیش کرتی ہوں .
[5:08 PM, 1/30/2018] Nusrat Shamsi: تبسم باجی کی تحریر بھی قابل.مبارک باد ہے.
[5:09 PM, 1/30/2018] Azra baji iii: اب بھئ تبسم تمہارے تبصرے کی تعریف کیسے نہ کی جائے تم ہی بتاو ? .یہ سب دل میں تو ہمارے بھی لیکن تم نوک قلم کی جنبش سے الفاظ کی قسمت کھولتی ہو
[5:11 PM, 1/30/2018] تبسم فاطمہ: Kahkshan aap ka tabsera Abhi pada . Baat se baat paida karne ka hunar koi aap se sikhe, kiya kiya pahlu nikale hain .
[5:11 PM, 1/30/2018] نجمہ جعفری: تبسم کے تبصرے تو ہمیشہ گہرائی اور گیرائی لءے ہوے ہوتے ہیں
[5:13 PM, 1/30/2018] Azra baji iii: انجم ۔نسترن ۔اور تبسم کے کے ساتھ سب ہنر مند قلم کار بہنوں کے لئے اپنا یہ شعر نذر ہے ۔..................   ۔۔۔۔ہم حرف و صوت کے ساحر ہیں ۔مٹھی میں ہماری ایک جہاں... ۔۔۔۔۔۔ہم نوک ِ قلم کی جنبش سے الفاظ کی قسمت کھولتے ہیں
[5:14 PM, 1/30/2018] Nusrat Shamsi: وااااہ
[5:14 PM, 1/30/2018] نجمہ جعفری: واہ بہت خوب
[5:15 PM, 1/30/2018] Nusrat Shamsi: قلم.نہ ہوتا تو ہم.کس سے اپنا دکھ کہتے.یہ اک قلم ہے جو سب کے دکھوں کو سنتا ہے.سچائی یہ ہے کہ تقسیم.ہ.د سے پیدا مسائل دکھ اور درد ہمیشہ ہرے رہیں گے.
[5:16 PM, 1/30/2018] Nusrat Shamsi: قلم.نہ ہوتا تو ہم.کس سے اپنا دکھ کہتے.یہ اک قلم ہے جو سب کے دکھوں کو سنتا ہے.
[5:17 PM, 1/30/2018] Faiza Abbasi: انجم آپا کا بہترین تعارف پیش کرنے کے لیے نسترن آپا کو دلی مبارکباد. آپ دونوں ہی بزم ادب خواتین، علی گڑھ کی رونقیں ہیں. انجم آپا کی کہانیاں بہت عمدہ ہوتی ہیں. مختصر سا افسانہ بھی ایک بار سننے کے بعد بھولتا نہیں ہے. اودھ کی شاندار تہزیب کی کیا خوب اکاسی کرتی ہیں اور جب کردار علاقائی زبان میں گفتگو کرتے ہیں تو افسانے کا لطف دو گنا ہو جاتا ہے.

بجا فرمایا ہے نسترن آپا نے کہ ادبی صلاحیتوں کے ہمراہ انجم آپا معیاری شخصیت کی بھی مالک ہیں. انداز میں شفقت، لہجے میں پختگی اور متبسم صورت. مل کر ہمیشہ خوشی ہوتی ہے. کوئی دس برس قبل میں نے انکی چھوٹی بیٹی زارا قدوائی کو ایم ایس سی وائلڈ لائف میں پڑھایا تھا. وہ لیکچرار کے عہدے پر تقرری کا میرا پہلا سال تھا. زارا کلاس کی سب سے اچھی طالب علم تھی. اسکی بود و باش نشست و برخواست سے سب متاثر تھے. یقیناً یہ انجم آپا کی پرورش کا نتیجہ ہے کہ انکے بچے اخلاق مندی اور دیانت داری کی مثال پیش کرتے ہیں.

انکی صحت و سلامتی کے لیے دعا گو ہوں.
[5:19 PM, 1/30/2018] تبسم فاطمہ: Kiya khubsurat sher hai aapa .khud aap ke sher aur nasar me itni gahrai hoti hai ki fikr ke bahut se goshe khul jate hain .
[5:21 PM, 1/30/2018] Zakiya Mashadi: آج میں  بیحد مصروف ہوں ۔ کل انجم کا افسانہ پڑھوں گی۔ بس مسجز پر سرسری نظر ڈالی ہے۔ سب نہیں پڑھ سکی
[5:22 PM, 1/30/2018] Zakiya Mashadi: اسلیے کچھ کہنے سے قاصر ہوں۔ بداخلاقی کا مرتکب نہ سمجھا جایے
[5:24 PM, 1/30/2018] Kahkashan Tabassum: واہ۔ زبردست شعر۔بہت داد
[5:24 PM, 1/30/2018] +91 88267 64378: پیاری بہنوں۔۔۔انجم صاحبہ کا تعارف پڑھنے سے پہلے افسانہ پڑھ گئی۔۔۔۔حسب عادت ۔۔۔۔پر اس سے انجم صاحبہ کو سمجھنے میں آسانی ہوگئی۔۔۔۔نسترن صاحبہ نے اتنا بھر پور اور جامع تعارف پیش کیا ہے ۔۔۔کہ خود بخود ان سے محبت ہو جاتی ہے ۔۔۔تمام تر ذمہ داریوں کے باوجود بھی اگر کوئی اپنا تخلیقی سفر قائم رکھتا ہے تو وہ سمجھ لیجئے کہ بے حد حساس بھی ہے اور اسکی بے چین روح تب تک سکون نہیں پاتی جب تک وہ چار دیواری سے باہر کی دنیا نہ جھانک لے۔۔۔۔۔نسترن صاحبہ نے  ایک جادوگر کی طرح انکی ذات کے تمام طلسم دکھاۓ ہیں۔۔۔۔نسترن صاحبہ زندہ آباد۔۔۔افسانے پر بھی اپنی ناقص راۓ کا اظہار کرنا چاہتی تھی پر تھو ڑی غم روزگار سے فرصت مل جائے
[5:30 PM, 1/30/2018] Trannum Jhan shabnam: انجم قدوائی صاحبہ عالمی افسانہ فورم فیس بک پر بھی بحیثیت ایک ذمہ دار ایڈمن  پچھلے کئی برس سے اپنی خدمات انجام دیتی آ رہی ہیں۔
نسترن صاحبہ نے بہت ہی خوبصورت الفاظ میں انجم صاحبہ کا جو خاکہ پیش کیا ہے وہ انجم صاحبہ کی شخصیت کے عین مطابق  ہیں کم گو اور سادہ مزاج اور ایک حساس افسانہ نگار۔ آج ان کے بارے میں مزید تفصلات حاصل ہوئی تو تشنہ لبی کو کچھ قرار آیا۔ بہت بہت مبارکباد انجم صاحبہ کہ نسترن صاحبہ نے اپناخوب حق ادا کیا ہے۔
بنات پر ان دنوں سمندر منتھن جاری ہے ایک سے ایک نایاب گوہر کو بنات متعارف کرا رہی ہے ۔
 سمندر منتھن سے جو باہر آ رہا ہے وہ اردو ادب کا امرت ہے۔ ارکین بنات کے لے بھی دلی مبارکباد اور نیک خواہشات۔۔۔۔
[5:31 PM, 1/30/2018] تبسم فاطمہ: Zakia aapa aap ke mashvere ke bad ab qalamkar pe guftgu shuru ho gayi hai . Yeh ek bahut achhi shuruat karai aap ne .🙂
[5:43 PM, 1/30/2018] اثنا بدرAsna Badr: پارٹیشن پر بہت لکھا گیا ہے مگر یہ ایک بالکل نئے طرز کی کہانی ہے۔ ایک عورت کی یہ کس قسم کی نفسیات تھی  اس بات نے چونکا بھی دیا اور کچھ اداس بھی کر دیا۔
ماں نے جھوٹ کیوں بولا؟ کیا کسی ناآسودہ جذبے  یا خواہش کی تسکین کے لئے یا وطن سے بچھڑنے کا دکھ ایک خلش بن کر ان سے یہ ملمع سازی کرواتا رہا؟
مجھے ثانی الذکر بات پہ زیادہ یقین محسوس ہوتا ہے۔
بوڑھی ماں کے شریف بیٹے نے بھرم رکھ کے اپنا فرض پورا کیا ورنہ بہو کے سامنے کس قدر سبکی ہوتی۔

انجم آپا کو اس بے حد پیاری سی نفسیاتی کہانی پر دلی مبارک باد پیش کرتی ہوں ۔ کہانی ازخود تعارف ہے پھر بھی  نسترن آپا کا بے حد شکریہ جن کی وجہ سے انجم شناسی میں بہت بہت آسانی ہوئی۔
[5:55 PM, 1/30/2018] Azra baji iii: اسنی ماں نے جو کہانی گھڑی تھی اسے میں جھوٹ نہیں کہوں گی کہ تم نے اور کیکشاں نے کہا کہ نا آسودہ خواہشات اور ماضی کی یاد کو ایک خاص،رومانی انداز سے دیکھنے کآ رویہ بھی اس میں مضمر،ہے لیکن ہجرت کے حوالے سے یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ انجانی جگہ ۔نئے،لوگوں میں اپنی نااسودہ اپنی خواہشات کو اپنی شناخت بنانا آسان ہوتا،ہے ۔ماں اپنی بہو اور دوسرے،لوگوں کے سامنے اپنی تراشیدہ خوابوں کی دنیا پیش کرتی ہے ۔اپنے پرانے ملک میں وہ یہ نہیں کرسکتی تھی کیونکہ ۔سب آشنا تھے وہآں
[5:57 PM, 1/30/2018] +91 80992 50982: نسترن نے انجم آپا کا جو خاکہ پیش کیا اسکے لئے دلی مبارکباد! یہ ہم جیسے نئے ممبرس کے لئے تو ازحد ضروری تھا!  تاکہ سب کو جاننے اور سمجھنے کا موقع ملے! انجم آپا جیسی ہمہ جہت شخصیت کے بارے میں پڑھ کر بے انتہا خوشی ہوئی!  اللہ انہیں سلامت رکھے!

افسانہ ریت کا ماضی تقسیم ہند کے موضوع پر جذبات کی بہترین عکاسی کرتا ہوا افسانہ ہے! 
اماں کا کردار بہت سارے بزرگ کرداروں سے میل کھاتا ہوا ہے!  جنہیں اپنے ماضی سے بے حد لگاؤ ہوتا ہے!  اور ماضی کے قصے سناتے وقت مبالغہ آرائی سے بھی کام، لیا جاتا ہے ! لیکن نئی نسل کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی! 
خاتمہ بہترین ہے جہاں بیٹے نے ماں، کی لاج رکھ لی!
منظر نگاری کمال کی ہے! 
اس بہترین افسانے کے لئے انجم آپا کو صمیم قلب سے مبارکباد پیش کرتی ہوں!  💐💐💐
[6:00 PM, 1/30/2018] Shabina Farshori: Mene sab messege  جس میں اپنے وطن سے بچھڑنے کا رنج  مضمر ہے۔ ہجرت کے دکھ نے انہیں ایک خیالی خود ساختہ دنیا کا حصہ بنا دیا۔
[7:31 PM, 1/30/2018] اثنا بدرAsna Badr: 😘
[7:52 PM, 1/30/2018] Azra baji iii: تقسیم ہند کے سلسلے میں اس قسم کی فرضی باتیں اور قصے بہت عام تھے ۔ جن پر اردو ادب میں بہت کچھ لکھا گیا ہے ۔جائداد کے کلیم کے سلسلے میں ۔ اولاد کی اچھی جگہ شادی کرنے کے سلسلے میں فرضی خاندانی ریاست اور نجابت قصے بہت نظر آتے،ہیں  ۔شوکت صدیقی کا تین جلدوں پر مشتمل ناول" جانگلوس" اس سے بھرا پڑاہے ۔ اینی آپا کے ناولٹ ہاوسنگ سوسائٹی کے کچھ کردار بھی اس،کی جھلک دکھاتے ہیں ۔انجم کی کہانی میں ایک عورت کی بے ضرر سی خواہش اپنے ماضی کو خوش رنگ بنانے کی نظر آتی ہے جسے انجم نے بہت ہی کمال سے پیش کیا ہے ۔اس کہانی میں بیٹے کی شرافت ۔ماں سے محبت مرکزی حیثیت رکھتی ہے ۔ میرے خیال میں ۔آگر یہ افسانہ وہیں ختم ہو جاتا جہاں بیٹا انڈیا میں ماں کے خاندان کی حقیقت جان جاتا ہے تو یہ ایک عام سا افسانہ ہوتا ۔دراصل کہانی کا اختتام ہی کہانی کی جان ہے کہ بیٹا کس قدر سمجھدار تھا compassionate تھا
[7:56 PM, 1/30/2018] Nigar Azim: بھیء کچھ انجم قدوائی صاحبہ بھی کہیں.. کسی کہانی کا ایک پیراگراف ہی پڑھ کر سنا دیں... آواز بہت میٹھی ہے ان کی.....
[ عذرا آپا مجھے بیٹے کے نیک قدم سے زیادہ ماں کی اس نفسیاتی کیفیت نے اپیل کیا۔ ان وقتوں میں بچے تو اس قدر فرمانبردار اور احساس والے مل جایا کرتے تھے۔[8:02 PM, 1/30/2018: Allah  رہیںقتوں کی سادہ لوح ماؤں سے یہ امید کم ہے۔
[8:36 PM, 1/30/2018] Waseem Begum: Sab se pehle Nastran l main rahti hain phir yadain ban kar bete bahu ke samne amman apne aap ko bari hawaili ka makeen batati hain take unko wo izzat mile jo zindgi main kabhi naseeb nahin hui bete ki apni soch aur nafsiat hai us ne  maan unki nazar main girne nahin dia bahut murakbad pesh karti is afsane ke lie Anjum Qidwai baji ko
[8:44 PM, 1/30/2018] نجمہ جعفری: جی وسیم
[8:49 PM, 1/30/2018] نجمہ جعفری: میرا بھی یہی خیال ہے یہ ہجرت کے ساے تلے ہونے والا مسلمانوں کا sanskritisation تھا احساسِ کمتری کی دین تھا
[8:49 PM, 1/30/2018] نجمہ جعفری: جو
[8:50 PM, 1/30/2018] Tasneem Kausar: دیکھئے افسانہ اور افسانہ نگار پہ بات تو شروع ھو گئ ھے۔ اچھا ھے ۔لیکن براہ مہربانی تنقید برائے تعمیر ملحوظ رھے۔بلاشںہ انجم قدوائ کی شخصیت بہت پیاری ھے ۔مس پالیٹکنک یونہی نہیں رہی ھونگی۔بنات کے حوالے سے انکے مزاج کی تنکی کا دو بار سامنا ہوا۔لیکن ہم بھی ہم ہی ٹھرے دونوں بار منا لائے۔یہ انکی محبت ھے۔اور ہمارا ڈھیٹ پن۔لیکن انجم خود کہاں ہیں؟
[8:55 PM, 1/30/2018] Tasneem Kausar: نسترن صاحبہ نے انجم صاحبہ کے خاندانی حالات تفصیل سے بتائے۔لیکن تصویروں میں کنجوسی کی۔
[9:07 PM, 1/30/2018] Nafeesa: Anjum qidwai Saheba ki kahani prhi . Ma  faulse satisfaction ka shikar thi. Bete ka kirdar achha lga. Mubarak baad💐💐💐💐💐
[9:09 PM, 1/30/2018] Tasneem Kausar: مجھے افسانے کے لئے بس یہ کہنا ھے کہ ماں آج کا پورا پاکستان ھے.قلعی شدہ ۔
۔  آبائ پیشے کی لاج تو ماں بیٹے نے رکھ لی یعنی ماں نے اپنے پیوند زدہ ماضی پہ جو قلعی چڑھائ اسے بیٹے نے اترنے نہ دیا۔اس ماں کی لاج تو اختر نے رکھ لی لیکن مملکت خداد پاکستان کا جو حال ھے اس سے صاف جھلکتا ھے کہ اب قلعی پوری طرح اتر گئ ھے اور کوئ اختر بھی نہیں بچا۔
[9:11 PM, 1/30/2018] +91 94116 80546: Nastaran sahiba! Bohat khoob, gulabi urdu isi ko kehte h'n. Anjum Qidwai sahiba ko eisi terjuman mili h'n ..mubarakbad.
[9:12 PM, 1/30/2018] Nastarn 1: یہ میری غلطی ہے میں بتانا بھول گئ کہ انجم کل سے اپنے شوہر کے آپریشن کے لئے ہاسپیٹل میں ہیں ۔
[9:14 PM, 1/30/2018] Nastarn 1: پھر بھی میں نے تعارف اس لئے لگانا مناسب سمجھا کہ جب تک وہ خیر خوبی سے فری ہو کر آئینگی سب کا تبصرہ اور آرا آ چکی ہوگی۔
[9:15 PM, 1/30/2018] Nastarn 1: تو انشااللہ وہ کل تک ضرور اس بزم کے لئے وقت نکالینگی ۔ دعا ہے مصاعد قدوائ صاحب جلد صحت یاب ہوں
[9:16 PM, 1/30/2018] Azra baji iii: قمر گلابی اردو یا گلابی اانگریزی کی اصطلاح عام طور پر زبان پر گرفت نہ ہونے کے لئے آستعمال ہوتی سنی ہے ۔جہاں تک میری یاد ساتھ دیتی ہے ۔ہو سکتا ہے کہ میں غلط ہوں
[9:16 PM, 1/30/2018] Nastarn 1: تسنیم تصویر میں کنجوسی اسی لئے ہوئ انجم فری ہوتیں تو ان سے اور تصویر لیتی
[9:16 PM, 1/30/2018] نجمہ جعفری: آمین ثم آمین
[9:17 PM, 1/30/2018] Tasneem Kausar: ارے بہنا تو جلدی کیا تھی
[9:17 PM, 1/30/2018] Tasneem Kausar: اور یہ تو تشویش کی خبر ھے
[9:18 PM, 1/30/2018] Tasneem Kausar: اللہ خیر رکھے۔آمین
[9:21 PM, 1/30/2018] Nastarn 1: ارے نہیں تشویش کی کوئ بات نہیں بس وقتی پریشانی ہے۔ ایک دو دن کی ۔ اگر ایسی تشویش کی بات ہوتی تو یقینا میں نگار آپا کو منع کرتی ۔مگر دنیا اپنا کام کر رہی ہے انجم کل تک ضرور نظر ائینگی۔
[9:22 PM, 1/30/2018] Tasneem Kausar: انشاءاللہ
[9:23 PM, 1/30/2018] Nastarn 1: دوسری وجہ مجھے نہیں پتہ تھا کہ کل پرسوں میں جہاں رہوں وہاں میرا لیپ ٹاپ بھی رہے۔ 🙂
[9:53 PM, 1/30/2018] Rizwana Perween: Aaj BANAT ki Bazm me Afsana "Ret ka maazi " pe  moqar or qeemti raye samne aayi ....parh kr Khurshid hui or mere naqis ilm me ezafa hua .....motazakkara Bala Afsane ka markaz /mozu meri nazar mein ye hai k ek insan jb apni asl se apni shenakht se door hota h to uske dil o dimag main  lashauri tor pe kuch dabi chupi khahishen angraiyan leti hain jise wo kuch haqiqat or kuch Afsane ki aamezish ke sath mila kr doosron ko sunata hai , or is tarha wo apna ghum ghalat kr thori Rahmat Masood krta hai .....yahi is Afsane main "Amma" ke kirdar  ke zarya Afsana nigar ne dikhane ki kosish ki hai.
Is mozu pe bht kuch likha ja chuka hai .lakin hr fankaar ke baat ko khne ka andaz juda hota hai is ka saboot Anjum kidwai Sahiba ne "Ret ka Maazi" likh kr pesh kia hai .is mokhtasar se Afsane me "Amma"k kirdar or uske nafseyar ki girahkushai  bht subuk andaz me ki gai hai .
Aaj main ne mosufa ka ek dusra Afsana "Sadyon ne saza pai " parha jisme aaj ke bigarte maholiyat ko pasmanzar me rakhte hue bht hi   khushaslubi k sath ek "darakht " ko bator rawi bna kr ek khandan k teen nasl ki dastan or anjaam ko bre husn aslubi k sath pesh kia hai.
Bht bht mubarak baad qabool farmayen.
[9:53 PM, 1/30/2018] Rizwana Perween: Bht hi khoobsurat shakshiat ki malka mohtarma Anjum kidwai or Nastaran Fatihi Sahiba ke sath guzre chand lamhe .......khoobsurat yaad bngaye .Anjum kidwai Sahiba ka bharpoor taruf or unka maroof Afsana "Ret ka maazi"  aaj ke Bazm me pesh krne k liye bht bht mubarak baad qabool kren.
[10:03 PM, 1/30/2018] Nastarn 1: واااہ بہت خوب ۔ بھر پور انداز میں اپنی رائے رکھی مبارک ہو تم جیسی نئ نسل کی اردو کی قاری اور لکھاری سے اردو کا مستقبل روشن نظر آتا ہے۔ اللہ بہت کامیابی دے۔تصویر دیکھ کر مجھے بھی بہت اچھا لگا چلو تم نے یہ کمی پوری کی۔ کس سے کہاں کتنی دیر کو ملاقات ہو پھر ہو نہ ہو تو یہ یادیں ۔اچھی باتیں اور محبتیں سمیٹ لینی چاہئے۔ کیونکہ گم ہوتے دیر نہیں لگتی۔
[10:05 PM, 1/30/2018] Nastarn 1: اور ہاں اپنے موبائیل پر اردو لینگویج ایکٹیویٹ کرو بہت آسان ہے۔
[10:06 PM, 1/30/2018] Azra baji iii: میں تائید کرتی ہوں نسترن ۔ان کی اتنی اچھی تحریر رومن میں جچتی نہیں
[10:08 PM, 1/30/2018] Nastarn 1: جی عذرا امید ہے جلد کر لینگی (موبائیل پر اردو) ایکٹیویٹ ۔ اب کل بات ہوگی سب سے۔۔۔  شب بخیر ۔
[10:11 PM, 1/30/2018] +91 99855 03977: Askm .nastaran sahibaka ta arruf beinteha khubsurat hai.inhen lafzon ki bud_o_baash ka pata hai ke kaun se lafz ko kis ghar mien bithana hai.itne shagufta andaz mien kisi ki shaksiyat ko sametna kamaal ki baat hai..ubarakbaad qubool karen.Afsane ka unwaan ekdam munasib hai .puri kahani ka nichode bete ka maako sharmindagi se bachana aur woh mubaligha arai jisse apni saakh samajh rahi theen use bache rakhna hai.qamar jamali hyderabad se
[10:12 PM, 1/30/2018] +91 99855 03977: Afsanaapne dar_o_bast mie mukammal hai bahut acha hai .Anjum sahiba qabile mubarakbad hai.qamar jamali hyderabad
[10:23 PM, 1/30/2018] Zakiya Mashadi: مجھے ایک تھکا​ دینے والے دن کے بعد ابھی موقع ملا کہ ۔کہانی پڑھوں اور دو ایک مسج بھی دیکھوں۔ میں نعیمہ بہن سے جاننا چاہتی ہوں کہ Sanskriti.sation سے مراد کیا ہے.
میری معمولی معلومات کے مطابق اسکا مطلب زبان میں سنسکرت کے الفاظ کی فراوانی ہے. یہاں ایسا کچھ تو دکھای نہیں دے رہا
[10:31 PM, 1/30/2018] Zakiya Mashadi: تسنیم، پہلے سختی سے ایک بات سن لو۔ گفتگو میں میرے ساتھ غیرضروری لحاظ و ادب مت برتنا۔ کھل کر مخالفت کرسکتی ہو۔
میں تم سے متفق نہیں ہوں۔ یہ کہانی علامتی نہیں ہے۔ رہا پاکستان تو وہ ایک failed state ہے اور اسپر کوی قلعی نہیں رہی کہ اترے یا رکھی جایے۔کہانی میں زبردستی سیاست مت دیکھو۔ میں نے ابھی کہانی پڑھی۔ ذرا جذب کرلوں تو کل بات کروں گی
[10:34 PM, 1/30/2018] Tasneem Kausar: کہانی تو کرسٹل ھوتی ھے
[10:37 PM, 1/30/2018] Tasneem Kausar: پہلا تاثر تو یہ ھے کہ۔۔۔۔۔۔شکر ھے بڑھیو کی لاج رکھ لی بیٹے نے۔۔۔۔۔۔جیسے ہم بھی یھی چاہتے تھے
[10:40 PM, 1/30/2018] Kahkashan Tabassum: بہت خوب رضوانہ ۔لکھو اورلکھتی رہو ۔
[10:43 PM, 1/30/2018] Zakiya Mashadi: میں نے بھی کم و بیش یہی کہا۔
[10:44 PM, 1/30/2018] اثنا بدرAsna Badr: جی ذکیہ آپا۔
[10:47 PM, 1/30/2018] Rizwana Perween: Nastaran Fatihi ,Azra Naqwi or Kahkashan Tabassum Sahiba or BANAT ke digar arakeen ki tahe dil se shukrguzar hoon.
Ye chaman unhi Aabad rahe or hr roz un gulbute khilte rahen bagia unhi mahakti rahe ....
Or main Nastaran Mam ki baat p jld aml krungi
بہت شکریہ😊
[10:48 PM, 1/30/2018] Zakiya Mashadi: قاری کہانی میں بہت سے پہلو ڈھوںڈ سکتا ہے لیکن کچھ پہلو تخیل کو غیر ضروری حد تک لیجاتے ہیں
[10:48 PM, 1/30/2018] Zakiya Mashadi: آگے
[10:48 PM, 1/30/2018] Tasneem Kausar: جنکے اظہار کی چنداں ضرورت نہیں
[10:49 PM, 1/30/2018] Rizwana Perween: کوشش کر رہی ہوں۔۔۔۔۔ٹھیک ہے ۔۔۔۔لےکن بہت وقت لگتا ہے
[11:06 PM, 1/30/2018] Afshan: انجم قدوائی میری بہت پیاری دوست ہیں ،ان کی فنکارانہ حیثیت مجھ پر یہی کوئی چار سال قبل فیسبک پر کھلی ۔ میں نے پہلی بار ان کو فیسبک پر ہی پڑھا تھا۔ آج تو وہ فیسبک کے ایک ادبی گروپ "عالمی اردو افسانہ " کے ایڈمنز میں سے ایک ہیں ۔
ان کی افسانہ نگاری کی بات کروں تو مجھے جو چیز ان کے ہاں سب سے زیادہ متائثر کرتی ہے وہ ہے ان کی زبان کی انفرادیت ۔
اپنے آبائی علاقے کی (پوربی زبان) میں  جس فنی چابکدستی سے وہ مکالمے لکھتی ہیں وہ کہانی کا لطف دوبالا کردیتے ہیں ۔ بظاہر عام سا موضوع لے کر وہ افسانہ بنتی ہیں اور اپنا مطمح نظر بڑی سادگی سے پیش کردیتی ہیں ۔ عذرا آپا کی بات سے مجھے بھی اتفاق ہے کہ وہ بہت مختصر افسانے لکھتی ہیں ، کبھی تو کہانی کے اختتام پر ایک کسک سی رہ جاتی ہے ۔ خیر یہ تو فنکار کی مرضی ہے کہ وہ اپنے موضوع کو کیسے برتتا ہے ۔۔۔۔۔
مزکورہ افسانہ "ریت کا ماضی " انجم قدوائی کا ایک بہترین افسانہ ہے ۔
تقسیم ہند کے بعد پاکستان ہجرت کرنے والے خاندان کی کہانی ہے ۔
کہانی میں اماں بی ایک ایسی کردار ہے جو  ہجرت کے بعد پاکستان جا پہنچی ہے اور اپنے بچوں کے ساتھ ایک آسودہ زندگی گزار رہی ہے ۔کہانی میں یہ بوڑھی عورت اٹھتے بیٹھتے  تقسیم سے پہلے کا اپنا ہندوستان کا گھر اور وہاں کی پر آسائش زندگی کو یاد کرتی ہے جب کہ سچائی یہ ہے کہ وہ ہندوستان میں  نچلے طبقے کی غریب نا آسودہ  عورت تھی ،کہانی میں یہ راز اس وقت کھلتا ہے جب بوڑھی اماں کا بیٹا ہندوستان آتا ہے اور اپنی ماں کے گاؤں میں اپنے چچازاد ماموں سے ملتا ہے اور ان کی حالت زار دیکھکر حیران سا واپس پاکستان لوٹ جاتا ہے ۔ لیکن واپس جاکر  اپنی ماں کو کچھ نہیں بتاتا ہے۔
کبھی کبھی ناآسودگی انسان کے اندر اس طرح گھر کر لیتی ہے کہ وقت اور حالات اگر اسے آسودگی سے ہمکنار کر بھی دیں تب بھی مزید آسودگی کی خواہش اس حد تک بےچین کرتی ہے کہ انسان نفسیاتی پیچیدگیوں کا شکار ہوجاتا ہے ۔ اماں ایک ایسا ہی کردار ہے ۔ کہانی میں جزیات نگاری بہت عمدہ ہے ۔ کہانی میں اختتام تک تجسس بنا رہتا ہے اور  قاری کے اندازے کو  بالکل الٹ کر رکھ دیتا ہے ۔
کہانی اصلاحی پہلو بھی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے ۔
واقعی اولاد کو چاہیے کہ وہ اپنے والدین کی کوتاہیوں کو جان بھی جائے تب بھی ظاہر کرکے انہیں شرمندہ نہ کرے ۔
افسانہ متاثر کرتا ہے ۔
انجم قدوائی کو بہت بہت داد اور مبارکباد ۔  بلا شبہ وہ بنات کی ٹیم کی ایک بہت اچھی قلمکار اور بہترین انسان ہیں ۔
[12:46 AM, 1/31/2018] Nigar Azim: بہت دیر سے خود کو روک رکھا تھا مصروف تھی کہیں...مجھے کہانی میں ابہام کا پہلو نظر آتا ہے ایک غریب ناآسودہ زندگی گزارنے والی عورت کہ جس کا گھر بھی چھپر کا تھا پاکستان جاکر چار کمروں کا گھر مکمل  خوشحالی بہو پوتا پوتی سب کچھ مل جاتا ہے تب اپنے پجھلے دنوں کو اس صورت الٹا بکھان کرنا عجیب لگتا ہے یا تو افسانہ نگار کو کہیں زرا سا اشارہ اسکی نفسیات کا کرنا تھا جو مجھے باوجود تلاش کے نہیں ملا ورنہ تو ہوتا یہ ہے کہ غریب آدمی کو جب خوشحالی ملتی ہے تو دو طرح کی صورتحال پیدا ہوتی ہے یا تو تکبر آجاتا ہے یا وہ اپنے برے دن نہ بھول کر انہیں میں جینا چاہتا ہے.. یہاں ایسا کچھ نہیں ہوتا.. دوسال کے اختر میاں اتنے بڑے ہوگےء کہ بہو آگیء لیکن اماں کا وطیرہ نہ بدلا اور اس کو اتنا طول دینا کہ بیٹے اور بہو کی دکھتی رگ بن جاےء عجیب لگا.. یہ اختتام تو اچھا ہوا کہ بیٹے نے اس غربت کی لاج رکھ لی لیکن اماں کی اس نفسیات کے پیچھے کویء واضح اشارہ ملتا تو کہانی کا تاثر بڑھ جاتا... یہاں بٹوارے کا کویء کرب واضح نہیں ہے قلعی گھر خاندان جو زبوں حالی کا شکار ہے وہ ضرور ٹیس بن کر ابھرتا ہے بہرحال زبان و بیان اچھا ہے بڑی سبک روی سے کہانی اپنے اختتام کو پہنچتی ہے.. بیٹے کا اپنی ماں کے جھوٹ پر پردہ ڈالنا اچھا لگتا ہے لیکن مجھے کہیں ایک آنچ کی کمی محسوس ہویء.. ابھی آگے دوسری آراء آئیں تو شاید کہانی کی پرتیں اور کھلیں.. ایک بج رہا ہے اب میں بھی رکھتی ہوں
8] Nigar Azim:
,18] Zakiya Mashadi: ابھی ایسا محسوس ہوا کہ کسی نے تو کہانی کے معروضی تجزیے کی کوشش کی۔ اب میں کچھ نہیں کہوں گی سوائے اسکے کہ نہایت عجلت میں اختتام تک پہوںچای گیء کہانی محس:54 AM, 1/31/2018] Zakiya Mashadi: ،میں ت.و 2018]r Azim:اور بھی کچھ تہ۔018] +91 98805 74785: ریت کا ماضی ایک اچھا افسانہ ہے ۔ افسانہ   پڑھتے کے بعد قاری تشنگی محسوس کرتا ہے۔ماں کاکردار واضع ہوکر بہی مکمل نہیں ہے۔ماں ایک گھر کی کاینات ہوتی ہے ۔سچھایی کی مورت ۔اس کے بغیر گھر گھر نہیں رہتا۔کیا مجبوری تہی اپنے ماضی کی سچایی کو زہر کا پیالہ سمجھکر اس کتاب کو  کسی اور کا عکس دینے پر مجبور ہوگیی۔
ماں کی کردار کا ایک پنا ان چھوا رہ گیا ہے۔ماں جو ہمیشہ اپنے میکے پر فخر کرتی ہے۔ وہ بتاتی ہے مجبوری میں بہی ہم نےشان سے زندگی گزاری ہے۔ہمارے اخلاق کردار سے میرا گھرانہ پھچانا جاتا ھے۔ قلعیگر ہوا توکیا ۔وہ اپنے خاندانی پیشے سے محبت کرتی ہے۔ماں کے کردار میں جہول ہے۔
لیکن بیٹے کا کردار کو جسطرح قلمبند کیا گیا ہے ۔
فریدہ رحمت اللہ بنگلور
5: بیٹے کا کردار بہت ہی خوبصورت  ہے ۔نیی نسل سے یہی امیدیں ہوتی ہیں۔
مبارکباد کی مستحق بہی ہیں ۔/31/2018] Shabina Farshori: Jab is mull se doosre mulk gaye to sab ke dimagh me yehi tha ki apni nayee pehchan banayege  zindagi me tabdili layenge   Suna tha chhoti zat walon ne apne aap ko sayyd aor badhi
Zat wala bade khandan wala hi zahir kiya tha ki ab kis ko pata chalega
Isiliye bete ke achanak fesle per maa bechen ho  jati he
[9:35 AM, 1/31/2018] نجمہ جعفری: ذکیہ آپا معذرت رات کو واٹس ایپ دیکھ نہیں پاءی اس لءے آپکی بات کا جواب تاخیر سے دے رہی ہوں ۔ sanskritisation کا تعلق سنسکرت زبان سے نہیں بلکہ سنسکرتی یعنی کلچر سے ہے ۔ مشہور Sociologist M.Srinivasan نے یہ ٹرم گڑھی تھی ۔ انیسوین صدی میں بہت سے نچلی ذات کے ہندوں نے اپنے ساتھ ہونے والی نابرابری اور ظلم و جبر سے تنگ آکر دور دراز علاقوں کو ہجرت کر لی  اور اونچی ذات والوں کا کلچر یا سنسکرتی اپنالی اور اسی کے مطابق اپنا ایک  ما ضی گڑھ لیا ۔اس طرح وہ سماج میں عزت و توقیر کے حقدار قرار پاءے ۔ مییرا اشارہ اس طرف تھا ۔t
[9:45 AM, 1/31/2018] Azra baji iii: شکریہ نعیمہ یہ ٹرم میری بھی سمجھ میں نہیں آئ تھی ۔
[9:47 AM, 1/31/2018] Shabina Farshori: Mene bhi yahi bat batane ki koshish ki he
[9:50 AM, 1/31/2018] Azra baji iii: شبینہ آپ بھی اردو،میں ٹائپ کرنے کی کوشش کریں رومن میں تحریرپوری سمجھ میں نہیں آتی ۔
[9:56 AM, 1/31/2018] Shabina Farshori: Ji Facebook par urdu me aor article bhi urdu me likh rahi hoon yeh iPhone he is par urdu mahi he lihaza WhatsApp par mushkil he
[10:09 AM, 1/31/2018] Nusrat Shamsi: Ho skta he hveli ma ki koe bdi hui khwahish ho jise usne tsvur me jia ho.
[10:16 AM, 1/31/2018] Nigar Azim: اگر تصور میں یا حقیقت میں حویلی اور اسی طرح کی زندگی جینا خواہش  تھی تو وہ تصوراتی دنیا خلق کی جاتی.... اور وہ تو ابتدا سے ہوتی تقسیم ملک کے بعد جب بہتر زندگی میسر آگیء ت  کیوں
[10:16 AM, 1/31/2018] Tasneem Kausar: انجم بھی اپنی کہانی کی تہیں دیکھ کر حیران ھونگی
[10:16 AM, 1/31/2018] Nigar Azim: 😊
[10:17 AM, 1/31/2018] Tasneem Kausar: اس مباحثے کا مثبت پہلو یہ ھے کہ ہم اپنی رائے کا اظہار کریں اور دلائل تیار رکھیں
[10:18 AM, 1/31/2018] Tasneem Kausar: یا تو مان لیں یا منوا لیں
8] Nigar Azim: ہااااں تسنیم کہتی تو آپ ٹھیک ہیں لیکن بھیء یہ راےء ہے کچھ منوانا نہیں ہے اس کہانی میں کچھ مسنگ ہے بچے تو اپنے ہمراز ہوتے ہیں ان پر یا اڑوس پڑوس پر رئیسانہ دھاگ جما کر کون سی تشفی مل جاےء گی... پہلے زمانے میں بلکہ آج بھی کچھ بوڑھیاں اس طرح کا کردار رکھتی ہیں لیکن وہ بھی یہاں مقصد نہیں ہے دراصل یہ کہانی ایک بڑے کینوس کی کہانی ہے جلد بازی کی نہیں
[] Azra baji iii: نگار یہ تو بہت عام بات تھی کہ پاکستان جا،کر لوگ اپنی خاندانی نجابت اور ریاست کے فرضی قصے گھڑتے تھے  ۔یہ ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا شمار سماجی طور پر نام نہاد اعلی طبقے سے ہو ۔اجبنی جگہ جاکر یہ فرضی ماضی پیش کرنا آسان ہوتا ہے۔یہ بات آپ کہ صحیح ہے کہ اماں کے کردار،کو کچھ اور تفصیل سے بیان کیا،جاتا تو تفہیم میں آسانی ہوتی ۔
8] Nigar Azim: آپ صحیح کہ رہی ہیں عزرا ایسے بہت سے قصے ہیں لوگوں نے وہاں جاکر آپنی اصلیت سے پردہ پوشی کی میں کچھ اور کہ رہی ہوں اماں کے سینے پر اس جھوٹ کا بوجھ بھی تو اجاگر ہوتا.... دیکھےء انجم قدوائی ایک اچھی زہین افسانہ نگار ہیں انکی اور کہانیاں میں نے ف ب  فورم پر پڑھی ہیں وہ اگر اس کہانی کو دوبارہ دیکھیں گی تو یقیناً یہ ایک بہترین کہانی ہو سکتی ہے ویسے ان کا خود ک: ج
ماہر سماجیات کے بارے میں اور پڑھنا چاہوں گی۔ یہ ضرور کہوں گی کہ اس اصطلاح کو قبول عام کا درجہ شاید حاصل نہیں ہوا کیونکہ زیادہ تو نہیں لیکن کچھ کتابیں سوشیالوجی کی ضرور پڑھی ہیں۔ کہیں اسے دیکھا نہیں۔ آپکی وضاحت سے اندازہ لگایا کہ یہ ایک اجتماعی موومنٹ تھا۔ انجم قدوائی کا فسانہ ایک انفرادی کردار کی کہانی ہے۔
اسمیں بیٹے کا کردار دل کو چھوتا ہے اور اسکی بنت بھی نسبتاً بہتر ہے۔
[11:13 AM, 1/31/2018] Nusrat Shamsi: Musanifa ne kya soch kr afsana likha he? Wo b apni raye ka izhar kren to shayd sb saf ho jaye.
[11:16 AM, 1/31/2018] Shama Afroz Zaidi: میری ناقص راے ہے لکھنے والے نے لکھ دیا اب سب اپنے اپنے انداز میں سوچیں لکھنے والا وضاحت دے مناسب نہیں لگتا
[11:17 AM, 1/31/2018] Nigar Azim: نہیں نصرت صاحبہ میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتی
[11:18 AM, 1/31/2018] Nigar Azim: شمع بھی ٹھیک کہ رہی ہیں افسانہ اپنی جگہ اہم ہے اس میں رتی بھر شبہ نہیں
[11:18 AM, 1/31/2018] Nigar Azim: اتنی گفتگو ہونا معنی رکھتا ہ
[11:24 AM, 1/31/2018] Zakiya Mashadi: لیکن اولاد واقف ہوتی ہے۔ اولاد مکمل اندھیرے میں نہیں رہ پا تی۔ یہ جھوٹ دوسروں کے لیے ہوتے ہیں۔ ذات کا جھوٹ بھی گھر کے لوگوں کو معلوم ہوتا ہے۔ میرے ایک بھائی اکثر مسخرے پن میں پوچھتے تھے" آپ کس سن میں سید ہوے تھے" ایک حاضر جواب صاحب نے جواب دیا" جس سن میں آپ ہوے اس سے پچاس سال پہلے] Zakiya Mashadi: مت2018] Zakiya Mashadi: بعض اوقات تو تخلیق کار سوچتا ہے کہ ارے میں نے ایسا سوچا تھا کیا۔یار لوگ اسقدر کلی پھندنے ٹانکتے ہیں کہ بیچارہ پریشان ہو جاتا ہے
[11:28 AM, 1/31/2018] Azra baji iii: 😊
[11:31 AM, 1/31/2018] Nusrat Shamsi: متفق
[11:32 AM, 1/31/2018] Nigar Azim: اسی لےء میں نے یہ بات کہی کہ ماں کے سینے پر اس جھوٹ کا بوجھ بھی تو نظر آتا کہیں... مان لیں بیٹا اس وقت صرف دو سال کا تھا لیکن ماں کتنی حقیقت چھپاےء گی...
[11:33 AM, 1/31/2018] Nigar Azim: ہوتا ہے ایسا.....
[11:33 AM, 1/31/2018] +9hu🙏🏻🙏🏻🙏🏻
[11:39 AM, 1/31/2018] +91 98972 02594: اسلام علیکم بنات کی بہنوں ۔
بہت معذرت خواہ ہوں کہ آپ لوگوں کی کسی بات کا جواب نہ دے سکی ۔نسترن کا شکریہ بےحد ممنون ہوں کہ انھوں نے تعارف اور افسانہ لگا یا اور آپ نے اس پر کچھ نہ کچھ لکھا ۔بےحد شکریہ نوازش ۔میرے شوہر کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس لئے کچھ دن نہیں آسکوں گی ۔آپ لوگوں نے تعارف اور افسانہ پسند کیا ممنون ہوں ۔جن لوگوں کو پسند نہیں آیا انکا بھی شکریہ کہ میرے لئیے وقت نکالا ۔۔۔سلامت رہیں ۔
[11:42 AM, 1/31/2018] Azra baji iiiبات ہوئ  اس کا فائدہ لکھنے والے کو پہنچتا ہی ہے ہمیں بھی خوب پہنچا نعیمہ جعفری آپا نے ایک نئے ٹرم سے آگاہ کروایا میں بالکل واقف نہ تھی۔ یہی ہوتا ہے بحث مباحثے سے نئے نئے دریافت کھلتے ہیں ۔
[11:51 AM, 1/31/2018] Rizwana Perween: Wallaikum Assalam
Bs ek baat khna chah unhi ,k takhliq koi v buri ya kharab hi blke darje k aitbar se Aam ya Aala hoti hai.waise mazkura Bala Afsana apne unwaan k aitbar se kharab utarta hai lehaza ye ek kaamyab Afsana mana jayega .
[11:51 AM, 1/31/2018] Rizwana Perween: 👆chahungi
[11:52 AM, 1/31/2018] Rizwana Perween: Takhliq buri ya kharab Nhi
[11:52 AM, 1/31/2018] Tasneem Kausar: کھرا
[11:53 AM, 1/31/2018] Tasneem Kausar: اردو میں لکھنے کی کوشش کریں۔اچھا رہے گا
[11:53 AM, 1/31/2018] Rizwana Perween: Composing ki ghaltion k liye mazrat 🙏
[11:53 AM, 1/31/2018] Rizwana Perween: Ji, Aapa zaroor
[11:54 AM, 1/31/2018] Tasneem Kausar: انجم ہم سب مصاعد ںھائ کی جلد صحتیابی کے لئے دعاگو ہیں
[11:54 AM, 1/31/2018] نجمہ جعفری: بچپن میں ایک مشہور کوی مجھے ہندی پڑھانے آتے تھے ۔ ایک دن کہنے لگے کہ جب آلوچک میری کویتاوں کی ویاکھیا کرتےہیں تو میں حیران رہ جا تا ہوں کہ میں نے تو کویتا کہتے سمے ایسا کچھ سوچا بھی نہیں تھا
[11:57 AM, 1/31/2018] Rizwana Perween: افسانہ عنوان کے اعتبار سےکھرا اترتا  ہے
[12:04 PM, 1/31/2018] Nigar Azim: نا پسندیدگی کی کویء بات نہیں یہ ڈسکشن ہے اور کسی افسانے پر گفتگو ہونا بڑی بات ہے... اللہ بھایء کو جلد صحتیابی دے آمین
[12:05 PM, 1/31/2018] Nigar Azim: یہ ایک مثبت پہلو ہے کسی بھی تخلیق کے لےء
[12:14 PM, 1/31/2018] Shahnaz Rahmat: اسلام علیکم
میں نے کل سے لیکر اب تک کے سارے مسجس پڑھے۔ کل مصروفیت کی وجہ سے واٹس ایپ نہیں دیکھ پائی۔ انجم قدوائی آپا کا مکمل اور جامع تعارف ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں سے روشناس کرواتا ہے۔ ان کا افسانہ اب تک نہیں پڑھ پائی ہوں لیکن افسانے پر جتنے تبصرے آئے ہیں اس سے جلد از جلد افسانہ پڑھنے کا اشتیاق طاری ہو گیا ہے۔ ساری باتوں کا نچوڑ ایک ہی ہے کی افسانہ بےحد کامیاب ہے کہ بہنوں نے اس سے بہتر تبصرہ اب تک کسی اور تخلیق پر نہیں کی۔ سب نے کھل کر اپنی بات کی۔ بہت اچھا لگا۔
انجم آپا کو ف بی پر دیکھتی اور پڑھتی آئی ہوں۔ ان کے اس خوبصورت خوابوں سے گھر کی تصاویریں دل کو بہت متاثر کرتی ہیں۔ نسترن آپا کا بہت شکریہ کہ انہوں نے بنات کی اس اہم شخصیت کا اتنا عمدہ تعارف پیش کیا۔ لگتا ہے جیسے کل ہی ملاقات ہوئی ہے اور ذہن و دل پر ایک خوبصورت یاد تازہ ہے۔ آپ دونوں کو دلی مبارکباد
[12:15 PM, 1/31/2018] Nastarn 1: تخلیق اپنی راہ خود متعین کرتی ہے ۔ کئ بار ہم کوئ موضوع سوچ کر افسانہ شروع کرتے ہیں ختم ہونے پر دیکھتے ہیں کہ یہ کوئ اور ہی کردار ہے جو کہیں لاشعور سے نکل کر آ کھڑا ہوا اور جو سوچا تھا اس کا دور دور تک پتہ نہیں ہوتا۔
[12:17 PM, 1/31/2018] Nusrat Shamsi: یہ لکل قیقت ہے تبصرے اور قارئین کی ارا کے بعد اکثر مصنفہ یہ سوچتا ہے کہ اس نے یہ سب سوچ کر.لکھا ہی نہیں.😊
[12:17 PM, 1/31/2018] Nastarn 1: شکریہ شہناز ۔ جب موقع ملے افسانہ پڑھئے اپنی سہولت سے ۔
[12:18 PM, 1/31/2018] Nusrat Shamsi: واقعی بنات بہت کچھ سکھا رہ ہے.
[12:18 PM, 1/31/2018] Shahnaz Rahmat: جی ہاں ضرور
[12:25 PM, 1/31/2018] Razia: پرسوں سے تیز بخار میں مبتلا ہوں ابھی تک کچھ نہیں پڑھ پائ ہوں ٹھیک سے .. افسانہ اور میسجز
[12:30 PM, 1/31/2018] Nastarn 1: Ap aram Karen Abhi woh zaruri hai he sab fursat aur itminan me kam hain Allah jald shafa de
[12:32 PM, 1/31/2018] Nusrat Shamsi: بالکل حقیقت *
[12:32 PM, 1/31/2018] Trannum Jhan shabnam: متفق
[12:47 PM, 1/31/2018] Tasneem Kausar: دلی۔۔۔۔ڈولی
[12:47 PM, 1/31/2018] +91 88267 64378: Jee...zalzala..kaafi mehsoos hua
[12:53 PM, 1/31/2018] نجمہ جعفری: Agar aap social change in india par koi bhi kitab utha kar dekhengi tao aapko bahut se  ization  milenge jaise islamization , westernization, industrialization waghera . In mein hi ek sanskritisation bhi tha .یہ ایک اجتماعی عمل بھی تھا اور انفرادی غمل بھی
[1:30 PM, 1/31/2018] نجمہ جعفری: دلی تو صبح ۷۔۔۱۰ پر ڈولی تھی کیا اب پھر آیا زلزلہ ؟
[1:43 PM, 1/31/2018] Azra baji iii: ہاں سنا،ہے
[1:43 PM, 1/31/2018] Azra baji iii: اللہ رحم کرے
[1:46 PM, 1/31/2018] +91 98805 74785: اللہ رحم کرے سنا دلی میں زلزلہ ۔
[1:50 PM, 1/31/2018] Shabina Farshori: Allah rehm kare
[1:51 PM, 1/31/2018] Nigar Azim: آکر چلا گیا.. بہت دیر ہوچکی شکر ہے اللہ کا
[2:55 PM, 1/31/2018] +91 98805 74785: اللہ کا شکریہ ۔
[3:41 PM, 1/31/2018] +91 98972 02594: ابھی آپ سب کے تبصرے  پڑھے ۔کئی چیزیں محسوس ہوئیں کہ واقعی کہانی کرسٹل کی طرح ہوتی ہے ۔ہر ایک نے اپنی طرح سے افسانے پر بات کی ۔مجھے بہت خوشی ہوئی کہ اس افسانے پر خوب بات ہوئی آپ سب نے بہت وقت دیا ۔محبت ہے آپ سب کی ۔اسنیٰ بدر نے کہا کہ کیا بزرگ جھوٹ بولتے ہیں ۔؟ اسنیٰ یہ جھوٹ نہیں بلکہ ایک خوب تھا جسے وہ عورت جینا چاہتی تھی ۔
مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی گئی جس سے میں خود بھی واقف نہ تھی ۔
ابھی تک میں لکھنا سیکھ ہی رہی ہوں ۔اور شاید انسان ساری عمر سیکھتا ہے ۔
آپ سب نے بہت محبت دی شکر گزار ہوں ۔
[3:42 PM, 1/31/2018] +91 98972 02594: خواب *
[3:45 PM, 1/31/2018] Nastarn 1: اللہ کا شکر ہے آپ نظر آئیں ۔ امید ہے مصاعد صاحب رو بہ صحت ہونگے ۔ سلامتی دعائیں ۔
[4:00 PM, 1/31/2018] +91 98972 02594: نسترن آپکی محبتوں کی خاص طور سے ممنون ہوں جس محبت اور خلوص سے آپ نے تعارف لکھا ہے میں حیران ہوں کہ یہ ساری باتیں آپکے ذہن میں محفوظ رہیں جو وقتا فوقتا آپ سے ہوئیں۔ ذکیہ آپا آپکا ایک جملہ بھی میرے لئیے بہت اہمیت رکھتا ہے ۔میں کوشش کروں گی کہ اپنے افسانوں کو ذیادہ وقت دوں اور بہتر کروں ۔
[4:06 PM, 1/31/2018] Shabina Farshori: Apka afsana kal se zehme goonj raha he
Itni khoobsoorti kisi afsane ki mehfil me hi guftagu mumkin thi magar  sab banat ke qalakar kal se ek hi afsane par baat kar rahe heen apko mubarak ho anjum sahba
[4:07 PM, 1/31/2018] Shabina Farshori: Qalamkar
[4:44 PM, 1/31/2018] Nigar Azim: رضیہ اپنا خیال رکھیں...
[4:53 PM, 1/31/2018] +91 92140 42528: ۔آج ریت کا ماضی پڑھا۔افسانہ اچھا ہے ۔ماں کا کردار تھوڑا ادھورا لگا۔ شاکر کے کردار میں راز پوشیدہ ہو سکتا ہے ۔ان کی  آواز میں ٹوٹے کانچ کی چبھن محسوس ہوئ۔ اختر میاں کا کردار متحرک کردار ہے  زبان اور بیان  دلنشیں ہیں ۔ مجموعی طور پر افسانہ معیاری ہے
[4:55 PM, 1/31/2018] +91 92140 42528: ناچیز کی ادنا راۓ ہے👏
[7:37 PM, 1/31/2018] Afshan: اسنیٰ بدر کے جواب میں کہہ رہی ہوں کہ  بزرگ جھوٹ  بولتے ہیں  ایک طرح کا فریب ہے ۔ ہاں ان کا جھوٹ شاطرانہ نہیں ہوتا ۔ مصلحتاً بھی بولتے ہیں ۔بھئی بزرگ بھی تو انسان ہی ہوتے ہیں ۔
[7:39 PM, 1/31/2018] Afshan: افسانے کی عورت کبھی تو جوان رہی ہی ہوگی ،ڈینگیں مارنے کی بھی عادت بھی رہی ہوگی ۔ بڑھاپا آنے تک عادت بجائے ختم ہونے کے پکی ہوگئی ۔😊😊
[7:41 PM, 1/31/2018] Afshan: مگر جھوٹی اماں کا بیٹا کیسا اچھا انسان نکلا کہ اصلیت جان کر بھی اماں کو شرمندہ نہیں کیا ۔۔۔۔!

No comments:

Post a Comment