Monday, May 21, 2018


سر مئی سڑک ۔
یہ کوئی افسانہ نہیں ہے ،کہانی بھی نہیں ۔۔بس تاثرات ہیں ۔
میرے چاروں طرف لہلہاتے ہرے بھرے درخت ،ان درختوں پر گاتے گنگناتے چہچہاتے خوش رنگ پرندے اور تیز ہواؤں کے دوش پر ناچتے سبز پتے جب میرے اوپر گرتے ہیں تو میں اپنی باہیں کھول دیتی ہوں ۔
میرے سینے پر سرخ اور ذرد گلاب اپنی پنکھڑیاں نچھاور کرتے ہیں تو مغرور سی ہوجاتی ہوں ۔ہرے پتّوں کی خوشبو سے مسحور و سر شار لہراتی ہوئی  نہ جانے کتنی صدیوں سے اسی جگہ بچھی ہوئی ہوں ۔
کئی قافلے آئے اور مجھ پر گزر گئے ۔ یہاں میں نے ہر طرح کا سرد و گرم دیکھا ۔سیاست ،محبت ،ہجرت ،اور شفقت بھی دیکھی ایک اس شخص کی شفقت جسکے قدموں کے نشان مجھ پر قرض ہیں ،جو سر جھکائے فکر مند  مجھ پر سے گزر ے ۔اپنی انا کو بالائے طاق رکھ کر  کبھی چندہ مانگا  کبھی درخواست کی اور اس درس گاہ کو اسکا فخر عطا کیا ۔
تب وہ مجھ پر فخر سے سر اٹھا کر گزرے انکے ہونٹوں پر دعائیں لرز رہی تھیں جو انھوں نے یہاں آنے والے اس درس گاہ میں تعلیم پانے والے ہر اس بچّے کو دیں جو تعلیم کی اہمیت کو سمجھ کر اپنے والدین کے لئے سکون کا باعث بنا ۔
مجھے لگتا ہے وہ آج بھی آسمانوں سے ادھر ضرور دیکھتے ہونگے  اپنی محنتوں اور ریاضتوں کا باغ اس طرح پھولتا پھلتا لہلہاتا دیکھ کر  مسکراتے تو ضرور ہونگے ۔
اور ایک دن میرے ماتھے پر باب ِ سیّد کا تاج رکھ دیا گیا ۔میں اور بھی زیادہ معتبر ہوگئی ۔
مگر اس بار جو کچھ میں نے دیکھا وہ ناقابل ِ یقین ہے ۔لوگ کہتے ہیں کہ زیرِ زمین قدرت کے خزانے پوشیدہ ہیں ۔قیمتی دھات ،ہیرے جواہرات اور بھی بہت کچھ ۔مگر میں اتنی خوش نصیب ہوں کہ میرے اندر ہی نہیں، میرے اوپرخزانوں کے ڈھیر لگے ہیں ۔آج کے معمار آج کے مسیحا ،قوم کے راہبر مجھ پر آرام کر رہے ہیں ۔۔رات کودیر تک ان سب کی خوشبودار باتوں کے بے انت سلسلے مجھے سکون بخشتے رہے اور اب یہ سب تھک کر میرے کنارے ارد گرد سورہے ہیں ۔کوئی نیند میں مسکرا رہا ہے کسی نے سسکی لی ہے ۔
میں انکے حوصلوں کی گواہ ہوں  انکی ہمتّ و شجاعت کی عینی شاہد ہوں ۔یہ بچّے ہزاروں گھروں کے چراغ ہیں ،جو میرے سینے پر آرام کر رہے ہیں ۔ظلم کے خلاف امن وامان کا پر چم  بلند کر کے یہ مجھے فخر کا احساس دلا  رہے ہیں ۔
دوسری جانب  سمجھدار باہمت  اور باشعور بچیاّ ں ہیں جو اپنے سا تھیوں پرظلم برداشت نہ کر سکیں اورمحفوظ و مامون چہار دیواری سے باہر نکل آئی ہیں ۔یہ سب اپنے لیئے کچھ نہیں کر رہے ہیں بلکہ  بس تاریخی لمحات کی حفاظت کے لیئے کوشاں ہیں ۔
وقت پر نیند نہیں ، پینے کے لیئے پانی کی قلت ،مناسب خوراک نہیں مگر ان سارے بچوّں کے پائے استقامت میں لرزش نہیں ۔
تیز دھوپ ،دھول بھری آندھیاں  بارش کی صعوبتیں  برداشت کرتے ہوئے  یہیں ڈٹے ہوئے ہیں ۔کوئی بارش  یا دھوپ انکے حوصلوں کو پست نہیں کر سکی ۔خوراک کم ہے ،پیاس کی شدت سے گلا سوکھ رہا ہے مگر مجال ہے کہ آہ نکل جائے ۔
لڑکیاں سروں پر آنچل ،ہاتھوں میں قران ِ پاک لیئے ہوئے ہیں لبون پر دعاؤں کا ورد ہے ۔نہ کاجل نہ سرخی نہ غازہ ،دھول سے اٹے چہرے صبر و ضبط  کی چمک سے چاند تاروں کی روشنی کو ماند کر رہے ہیں ۔
انکے ارادوں میں تیر اور تلوار سے زیادہ کاٹ ہے جو دشمنوں کے حوصلے  پست کر دینے کے لئے کافی ہے ۔
یہ بچّے اسُ مادرِ درسگاہ کے پالے ہیں  جو بڑی ہمتّ شجاعت اور معاملہ فہمی سے وجود میں آئی ہے ۔
یہ علم کے روشن چراغ جو دنیا کے ہر کونے میں روشن ہیں ،اسی جگہ سے اٹھکر گئے ہیں جہاں یہ بچّے میرے سینے پر سر رکھّے آرام کر رہے ہیں ۔انکو کوئی پچھتاوا کوئی پشیمانی یا خوف نہیں ہے ۔یہ ہر طرف اجالا پھیلائیں گے ، علم کا اجُالا ،انسانیت کا اجاُلا ،عمل کا اجاُلا ۔۔روشنی  ہی روشنی ہر طرف سمت نظر آئے گی ۔پورا جہاں ابھی صبح ہوتے ہی منوّر ہوجائے گا ۔
اجاُلا ہوگا ۔۔۔مجھے یقین ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭



No comments:

Post a Comment